*تیری رحمتوں کا دریا سرعام چل رہا ہے*
ایک بار پھر اللہ پاک کی نوازش کا شکریہ ادا کرتے یہ خبر دیتے ہوئے بڑی مسرت ہورہی ہے ہزل خوانی کے مقابلے میں بھی اللہ پاک نے سرخروئی عطا کی ہے
آج بروز جمعرات 25 دسمبر 2025 کو *خاتون حجن اسکول* کے زیر اہتمام *آل مالیگاؤں ہزل خوانی مقابلے* میں *شیخ امام پرائمری اسکول* مالیگاؤں ضلع ناسک مہاراشٹر نے شرکت کرتے ہوئے *دوم اعزازی انعام* سے سرفراز ہوئی۔
جماعت سوم۔کے طالب علم *محمد احتشام شیخ اختر* نے اسکول ہذا کے اساتذہ *آصف اقبال سر* اور *زاہد امین سر* کی نگرانی و رہنمائی میں اپنی بہترین فنی صلاحیت کو پیش کرکے حاضرین، ناظرین، سامعین اور منصفین کو گدگدانے مسکرانے اور قہقمے لگانے پر مجبور کیا اور 31 امیداوروں کے درمیان دوسرا اعزازی انعام حاصل کیا۔اس اہم کامیابی پر شیخ امام پرائمری اسکول کے ہیڈ ماسٹر شیخ تنویر سر، آصف اقبال سر ،زاہد امین سر ،طالب علم محمد احتشام اور دیگر اسٹاف کو مبارکباد پیش کرتے ہیں اور اللہ پاک سے دعا گو ہیں کہ اللہ پاک اپنی رحمتوں کا نزول یونہی جاری رکھے ۔۔آمین ثم آمین یارب العالمین ۔
جنتا دل امیدواروں نے امیدواری فارم بھرنے کی تیاری شروع کردیں۔ A/B فارم آگئے ہیں۔عبدالخالق صدیقی صدر JDS مالیگاؤں
جن جن افراد نے جنتادل سیکولر مالیگاؤں سے امیدواری کرنے کی خواہش کیئے تھےایسے تمام افراد امیدواری فارم بھرنے کی تیاری شرروع کردیں کیونکہ پارٹی کا A/B فارم آگیا امیدواری کرنے کی خاص شرطذیل کے مطابق ہے
تاریخ 19 جنوری سے شروع ہونے والی جنتادل تحریک میں آپ بھی حصہ لوگے۔۔۔۔تحریک یہ ہوگی (1) مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن میں آبادی کی مناسبت سے نوکر بھرتی کیجائے (2) جنم داخلہ معاملہ میں قید افراد کی رہائی کرکے مقدمات کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائے اور مقدمات کو واپس لیا جائے(3) جن کی عمر 20 سال سے زائد ہے اور انکے پاس اسکول خارجہ سرٹیفیکیٹ ہے انکے جنم داخلہ بنانے کا کام جاری کیا جائے۔۔۔تحصیلدار کو جنم داخلہ۔ آدیس دینے کا حکم سرکار دے یا کسی بھی سرکاری محکمہ۔۔عدالت کو ذمہ داری دیجائے۔ان تحریکوں میں جنکو ساتھ رہنا ہے وہی جنتادل سیکولر سے امیدواری کرسکتا ہے۔۔فقط عبدالخالق صدیقی صدر JDS نائب صدور۔۔عبدالغفار عبدالستار۔عبدالودود سالکی اشرفی۔۔شبیر احمد محمد حنیف۔سکریٹری ایڈوکیٹ عبدالرحمان انصاری
*سچ کی آواز، عوام کی امید — مشتاق محاذ سر*
کچھ لوگ سیاست میں صرف عہدے کے حصول کے لیے آتے ہیں، اور کچھ لوگ عہدے کو خدمت کا ذریعہ بناتے ہیں۔ *مشتاق محاذ سر انہی لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے قلم کو طاقت بنایا، سچ کو اپنا ہتھیار بنایا اور ہر دور میں مظلوم کی آواز بن کر حق کا ساتھ دیا۔*
مشتاق محاذ سر نہ صرف سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والی ایک باشعور شخصیت ہیں بلکہ ایک بہترین اور بااصول صحافی بھی ہیں۔ تقریباً ۲۰ برسوں سے وہ شہرِ مالیگاؤں کی مظلوم عوام کی آواز کو ایوانِ اقتدار، سرکاری دفاتر اور انتظامیہ تک پہنچاتے رہے ہیں۔ بطور صحافی انہوں نے ہمیشہ طاقت کے مراکز سے سوال کیے، ناانصافی کے خلاف ڈٹ کر کھڑے رہے اور وہ بات کہی جسے کہنے کی ہمت بہت کم لوگ کرتے ہیں۔
ان کی تحریر میں سچ کی گرمی، آواز میں درد کی گونج اور موقف میں اصولوں کی مضبوطی صاف جھلکتی ہے۔ *صحافت کے ساتھ ساتھ مشتاق محاذ سر گزشتہ ۱۵ برسوں سے تدریس و تعلیم کے شعبے سے بھی وابستہ ہیں۔ وہ M.A، B.Ed کے ساتھ ساتھ مختلف ڈگریوں کے حامل ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخصیت ہیں، جنہوں نے بطور معلم نسلِ نو کی فکری، اخلاقی اور تعلیمی تربیت میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اسی وجہ سے وہ شہر میں ایک سنجیدہ، باوقار اور ذمہ دار شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔*
آج جب مشتاق محاذ سر ایس ڈی پی آئی کے ریاستی کمیٹی رکن کی حیثیت سے عملی سیاست میں سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں، تو یہ محض ایک عہدہ نہیں بلکہ عوام کے اعتماد، پارٹی کے نظریے اور انصاف و برابری کی جدوجہد کی ایک بڑی ذمہ داری ہے۔
مشتاق محاذ سر کی سیاست موقع پرستی پر نہیں بلکہ نظریے اور اصولوں پر مبنی ہے۔ وہ اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ خاموشی بھی ایک جرم ہوتی ہے، اسی لیے وہ خاموش نہیں رہتے۔ چاہے مسئلہ غریب کا ہو، نوجوانوں کا ہو یا سماج میں پھیلتی ناانصافی کا—وہ ہر محاذ پر عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے ڈٹ کر کھڑے نظر آتے ہیں۔
*ان میں نہ صرف ایک بہترین لیڈر کی صلاحیت موجود ہے بلکہ وہ ایک کامیاب صحافی، مؤثر سماجی کارکن اور عوامی مسائل کو حل کرنے کی عملی صلاحیت رکھنے والی شخصیت بھی ہیں۔ مشتاق محاذ سر جب بھی کسی مسئلے کو دیکھتے ہیں، اسے سنجیدگی سے سمجھتے ہیں اور پوری قوت کے ساتھ اس پر آواز بلند کرتے ہیں۔*
ایس ڈی پی آئی کا پیغام “Power to People” محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک عہد ہے، اور مشتاق محاذ سر اس عہد کی زندہ مثال ہیں۔ وہ سیاست کو کاروبار نہیں بلکہ عبادت سمجھتے ہیں، اقتدار کو مقصد نہیں بلکہ عوامی خدمت کا ذریعہ مانتے ہیں۔
*آج وارڈ نمبر 04 کے عوام کو ایک ایسے رہنما کی ضرورت ہے جو بولے تو سچ بولے، چلے تو عوام کے ساتھ چلے، اور لڑے تو حق کے لیے لڑے۔*
*مشتاق محاذ سر اسی امید، اسی یقین اور اسی حوصلے کا نام ہیں۔*
یہ انتخاب صرف ووٹ ڈالنے کا نہیں،
یہ سچ کے ساتھ کھڑے ہونے
کا انتخاب ہے۔