Friday, 26 December 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*




*میڈیا کا گرتا ہوا معیار اور نظریاتی پولرائزیشن: ایک سنگین بحران*
✍️*وسیم رضا خان*✍️
حال ہی میں 'للن ٹاپ' پر سوربھ دویدی کی جانب سے پیش کردہ پروگرام "Does God Exist?" نے ڈیجیٹل میڈیا کی اخلاقیات اور اس کے پیچھے چھپے مبینہ ایجنڈے پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ جاوید اختر اور مفتی شمائل ندوی کے درمیان ہونے والی اس بحث کو کئی تجزیہ نگار محض ایک 'فلسفیانہ گفتگو' نہیں، بلکہ معاشرے میں دراڑیں پیدا کرنے کی ایک گہری سازش کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ناقدین کا استدلال ہے کہ جب موضوع 'خدا کا وجود' تھا، تو منطقی طور پر جاوید اختر (جو کہ ایک اعلانیہ ملحد ہیں) کے سامنے کسی سناتنی عالم یا اکثریتی سماج کے فلسفی کو ہونا چاہیے تھا۔ لیکن جان بوجھ کر ایک 'مفتی' کا انتخاب کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ مقصد سچ کی تلاش نہیں، بلکہ ایک خاص طبقے کے اندر نظریاتی تصادم پیدا کرنا تھا۔ یہ حکمت عملی اکثر آر ایس ایس (RSS) اور دائیں بازو کے نظریات سے متاثر ٹی وی چینلز کے ذریعے اپنائی جاتی ہے، جہاں گفتگو کو جان بوجھ کر فرقہ وارانہ رنگ دیا جاتا ہے۔

سوربھ دویدی جیسے صحافیوں پر یہ الزام اکثر لگتا رہا ہے کہ وہ اپنے دیسی اور سادہ انداز کی آڑ میں ان مسائل کو ہوا دیتے ہیں جو معاشرے کو جوڑنے کے بجائے تقسیم کرتے ہیں۔ جب میڈیا ادارے کسی خاص نظریے (جیسے آر ایس ایس) کے ترجمان کے طور پر کام کرنے لگتے ہیں، تو صحافت 'جمہوریت کے چوتھے ستون' سے گر کر 'اقتدار کے ہاتھ کی کٹھ پتلی' میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ ہوا میں زہر گھولنے کا کام صرف براہِ راست نفرت پھیلا کر نہیں، بلکہ ایسے فکری معرکے چھیڑ کر بھی کیا جاتا ہے جس کا حتمی نتیجہ سماجی تناؤ ہی ہوتا ہے۔

اس مضمون کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اگر اس بحث میں جاوید اختر کی باتیں موثر ثابت ہوتیں، تو اسے 'اسلام بمقابلہ جدیدیت' کے طور پر پیش کیا جاتا۔ اور چونکہ یہاں مفتی صاحب نے اپنے دلائل مضبوطی سے رکھے، تو اسے ایک الگ طرح کی پولرائزیشن (تقطیب) کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہ کھیل دوہرا ہے۔ اگر ملحد جیتتا ہے تو مذہب کو خطرے میں بتایا جاتا ہے، اور اگر مذہبی عالم جیتتا ہے تو اسے انتہا پسندی کے چشمے سے پیش کرنے کی زمین تیار کی جاتی ہے۔ اس طرح کے پروگراموں کا سب سے برا اثر 'نیوٹرل' یا سیکولر سماجی ڈھانچے پر پڑتا ہے۔ میڈیا کا کام عوامی مفاد کے مسائل (تعلیم، صحت، بے روزگاری) پر بات کرنا ہے، لیکن موجودہ دور میں آر ایس ایس نواز میڈیا نیٹ ورک عوام کی توجہ بھٹکانے کے لیے خدا، مذہب اور شناخت کی سیاست کو مرکزی دھارے میں بنائے رکھتا ہے۔ آج کا میڈیا جمہوریت کا پاسبان ہونے کے بجائے تنازعات کا بیوپاری بن گیا ہے۔ سوربھ دویدی جیسے صحافیوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ صحافت کا اصل مذہب معاشرے میں مکالمہ قائم کرنا ہے، نہ کہ اسے میدانِ جنگ میں بدلنا۔ اگر میڈیا اداروں نے اپنے نظریاتی جھکاؤ کو قومی مفاد سے اوپر رکھا، تو وہ معاشرے میں صرف نفرت اور زہر ہی بانٹیں گے، جس کا ازالہ آنے والی نسلیں بھی نہیں کر پائیں گی۔

میڈیا کے ذریعے معاشرے میں دراڑ پیدا کرنے کے طریقے:
جہاد کی اصطلاحات کا غلط استعمال: کئی چینلز نے 'لینڈ جہاد'، 'لو جہاد'، 'یو پی ایس سی جہاد' اور 'معاشی جہاد' جیسی اصطلاحات گھڑی ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ لغت آر ایس ایس کے اس نظریے کی توسیع ہے جو ایک خاص طبقے کو 'اندرونی دشمن' کے طور پر پیش کرتی ہے۔

غیر متوازن پینل ڈسکشن: چینلز کی یہ پرانی حکمت عملی رہی ہے کہ وہ ایک طرف انتہائی لبرل (آزاد خیال) شخص کو رکھتے ہیں اور دوسری طرف کسی انتہا پسند تصویر والے شخص کو۔ اس کا مقصد کسی بامعنی نتیجے پر پہنچنا نہیں، بلکہ ناظرین کے ذہنوں میں یہ بٹھانا ہوتا ہے کہ دوسرا فریق غیر منطقی یا متعصب ہے۔

حقیقی مسائل سے توجہ بھٹکانا: جب بھی ملک میں بے روزگاری، مہنگائی یا معاشی مندی جیسے سنگین سوالات اٹھتے ہیں، تو اکثر یہ چینلز مندر-مسجد، ہندو-مسلم یا 'خدا ہے یا نہیں' جیسے جذباتی مسائل پر بحث شروع کر دیتے ہیں۔ اسے 'ایجنڈا سیٹنگ' کہا جاتا ہے، جس کا براہِ راست فائدہ حکمراں نظریے کو ملتا ہے۔

ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا 'سافٹ پروپیگنڈا': للن ٹاپ جیسے پلیٹ فارمز اپنی زبان کو بہت غیر رسمی اور 'دوستانہ' رکھتے ہیں۔ لیکن ان کے موضوعات کا انتخاب (جیسے جاوید اختر بمقابلہ مفتی) اکثر اسی سماجی تقسیم کو گہرا کرتا ہے جسے ٹی وی چینل چیخ چلا کر کرتے ہیں۔ یہ 'سافٹ پروپیگنڈا' زیادہ خطرناک سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ غیر جانبداری کے لبادے میں آتا ہے۔

معاشرے پر اس کے طویل مدتی اثرات:
رواداری میں کمی: جب لوگ دن رات اسکرین پر مذہب اور شناخت کی لڑائی دیکھتے ہیں، تو ان کے اندر دوسری برادریوں کے تئیں بے اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔

صحافت کی ساکھ کا خاتمہ: جب صحافی سوال پوچھنے کے بجائے کسی نظریے (جیسے آر ایس ایس) کے ایجنٹ کے طور پر کام کرتے ہیں، تو عام آدمی کا میڈیا سے بھروسہ اٹھ جاتا ہے۔ سوربھ دویدی جیسے صحافی نوجوانوں میں مقبول ہیں۔ اگر وہ متنازع اور اشتعال انگیز موضوعات کو 'کول' (Cool) انداز میں پیش کریں گے، تو نوجوان نسل منطقی سوچ کے بجائے نظریاتی نفرت کی طرف بڑھ سکتی ہے۔

میڈیا، کارپوریٹ اور سیاست: 'کرونی جرنلزم' کا جال
آج بھارت کے بیشتر بڑے میڈیا ادارے چند گنے چنے ارب پتیوں کے ہاتھوں میں ہیں۔ ان کا مقصد صحافت سے منافع کمانا کم اور اپنے دیگر کاروباری منصوبوں کے لیے حکومت سے سازگار پالیسیاں بنوانا زیادہ ہوتا ہے۔

رReliance Industries (مکیش امبانی): 'Network18' گروپ (جس میں News18، CNN-News18 اور کئی علاقائی چینلز شامل ہیں) کی ملکیت ریلائنس کے پاس ہے۔ امبانی کے اقتدار کے ساتھ قریبی تعلقات کی وجہ سے ان چینلز کا جھکاؤ اکثر دائیں بازو کے ایجنڈے کی طرف رہتا ہے۔

Adani Group (گوتم اڈانی): حال ہی میں اڈانی گروپ نے NDTV حاصل کیا۔ اس کے بعد NDTV کی ادارتی پالیسی میں بڑی تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں، جسے ناقدین آزاد صحافت کا خاتمہ قرار دیتے ہیں۔

Aditya Birla Group: انڈیا ٹوڈے گروپ (جس کا حصہ للن ٹاپ اور آج تک ہیں) میں آدتیہ برلا گروپ کا بڑا حصہ ہے۔

میڈیا اداروں کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ سرکاری اشتہارات ہوتے ہیں۔ مرکز اور ریاستی حکومتوں کے پاس اربوں روپے کا اشتہاری بجٹ ہوتا ہے۔ جو چینل حکومت یا اس کے نظریے (آر ایس ایس) کے خلاف رپورٹنگ کرتے ہیں، ان کے اشتہارات کاٹ دیے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس، جو چینل 'ہندو-مسلم' بحث یا سرکاری منصوبوں کی قصیدہ خوانی کرتے ہیں، انہیں بھاری فنڈنگ ملتی ہے۔ یہ معاشی دباؤ ایڈیٹرز کو 'گودی میڈیا' بننے پر مجبور کر دیتا ہے۔

سوربھ دویدی کا پلیٹ فارم 'للن ٹاپ'، 'انڈیا ٹوڈے گروپ' کا حصہ ہے جس کے چیئرمین ارون پوری ہیں۔ انڈیا ٹوڈے گروپ اکثر 'بیلنسنگ ایکٹ' کے لیے جانا جاتا تھا، لیکن پچھلے چند برسوں میں اس کے پروگراموں (جیسے 'ایجنڈا آج تک') میں دائیں بازو کے رہنماؤں اور نظریات کو جتنا اسٹیج ملا ہے، اس سے اس کے جھکاؤ کا پتہ چلتا ہے۔ للن ٹاپ جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو اشتہارات کے علاوہ 'ویورشپ' سے پیسہ ملتا ہے۔ 'خدا بمقابلہ مفتی' جیسے متنازع تھمب نیلز اور موضوعات زیادہ کلکس اور شیئر لاتے ہیں، جس سے یوٹیوب ایڈ ریونیو بڑھتا ہے۔ یہاں تجارت اور فرقہ وارانہ پولرائزیشن ایک دوسرے کے مددگار بن جاتے ہیں۔

کئی میڈیا ہاؤسز کے مالکان براہِ راست سیاست سے وابستہ ہیں:

Zee News: اس کے سابق مالک سبھاش چندرا بی جے پی کی حمایت سے راجیہ سبھا کے رکن رہے۔

Republic TV: ارنب گوسوامی کے چینل کو ابتدائی فنڈنگ دینے والوں میں راجیو چندر شیکھر شامل تھے، جو بی جے پی حکومت میں وزیر رہے۔












وارڈ نمبر 15 کی ایک اہم مشاورتی میٹنگ
وارڈ نمبر 15 سے احتشام بیکری والا کس پارٹی سے امیدواری کریں اور آگے کس پارٹی سے امیدوار ہونا چاہیے—
اسی اہم فیصلے کے لیے ایک اہم مشاورتی میٹنگ آج رات 9 بجے
مسجد سعیدہ، حجن کے پاس منعقد کی گئی ہے۔
وارڈ نمبر 15 کے تمام نوجوانوں، ووٹروں اور ذمہ دار شہریوں سے گزارش ہے کہ اس میٹنگ میں ضرور شرکت کریں اور اپنے قیمتی و مفید مشوروں سے نوازیں۔
میٹنگ میں اس بات پر بھی غور کیا جائے گا کہ
وارڈ کے رکے ہوئے کاموں کو کس طرح آگے بڑھایا جائے
اور کس طرح وارڈ نمبر 15 کو ایک مثالی اور بے مثال وارڈ بنایا جائے۔
یہ تمام فیصلے آنے والے کارپوریشن الیکشن میں نہایت اہم ثابت ہوں گے،
کیونکہ یہی فیصلے عوام کے ووٹ کے رخ کا تعین کریں گے۔
آپ کی شرکت، وارڈ کے مستقبل کی ضمانت ہے۔











مسجد الحرام میں خودکشی کی کوشش، سیکیورٹی اہلکار نے جان بچائی، ڈرامائی ویڈیو وائرل
شخص نے مسجد الحرام کی بالائی منزل سے لگائی چھلانگ :
ایک ڈرامائی ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص نے سعودی عرب کے مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام کی بالائی منزل سے کود کر اپنی زندگی ختم کرنے کی کوشش کی، لیکن ایک سیکیورٹی افسر نے فوری مداخلت کی اور شخص کے گرنے سے پہلے اسے پکڑ کر بچایا، جس کے دوران دونوں زخمی ہوگئے۔

امارت مکہ المکرمہ نے بتایا کہ مسجد الحرام کی سیکیورٹی کے لیے تعینات خصوصی فورس نے فوری کارروائی کی جب شخص نے بالائی منزل سے چھلانگ لگائی۔ ایک افسر زخمی ہوا، جب اس نے شخص کو زمین سے ٹکرانے سے روکا؛ حکام کے مطابق افسر کو ہلکی چوٹیں آئیں اور یہ صرف فریکچر تک محدود رہی۔

حرمین شریفین کی سیکیورٹی فورسز نے ایک بیان میں کہا، ’’ایک شخص نے مسجد الحرام کی بالائی منزل سے اپنی زندگی ختم کرنے کی کوشش کی۔‘‘بیان میں مزید کہا گیا، ’’ایک سیکیورٹی افسر زخمی ہوا جب اس نے شخص کو زمین سے ٹکرانے سے روکا۔ دونوں افراد کو فوری طبی امداد کے لیے منتقل کیا گیا اور تمام قانونی کارروائی مکمل کی گئی۔‘‘آن لائن گردش کرنے والے فوٹیج میں دکھایا گیا کہ شخص بالائی منزل کی جانب بڑھ رہا تھا اور کود گیا، جس پر سیکیورٹی افسران نے فوری طور پر اسے روکنے کی کوشش کی۔ نیچے کھڑے ایک گارڈ نے شخص کے گرنے سے بچانے کی کوشش کی، جس کے دوران دونوں زخمی ہوئے۔

مسجد الحرام کے چیف امام، شیخ ڈاکٹر عبد الرحمن السدیس نے واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے زائرین پر زور دیا کہ وہ قواعد و ضوابط کی پابندی کریں، مقدس مقام کی حرمت کا احترام کریں، اسلامی آداب کا خیال رکھیں اور عبادت و اطاعت میں مشغول رہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ چند افراد، اگرچہ تعداد میں بہت کم، بالائی منزل سے کود کر خودکشی کی کوشش کرتے ہیں، جو کہ شریعت اسلامی کے تحت سختی سے ممنوع ہے۔

مکہ المکرمہ کے حکام نے بتایا کہ قانونی کارروائی متعلقہ قوانین کے مطابق مکمل کی جا رہی ہے۔ 2017 میں بھی ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا تھا، جب ایک شخص کعبہ کے قریب بالائی منزل سے کود کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا، جبکہ ہزاروں زائرین نماز ادا کر رہے تھے۔

خودکشی کے واقعات مکہ مکرمہ میں بہت کم ہوتے ہیں، لیکن مسجد الحرام کی ہجوم بھری بالائی منزلیں خطرہ بھی پیدا کر سکتی ہیں۔ سیکیورٹی فورسز نے اپنے تربیت یافتہ عملے کے ذریعے ایسے کسی بھی واقعے کو فوری روکنے کے لیے ہنگامی کارروائی کی۔ اسلام میں خودکشی کو حرام قرار دیا گیا ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...