Saturday, 5 July 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*





غذا میں فائبر ہونا کتنا ضروری ہے؟

فائبر جسے ریشہ بھی کہا جاتا ہے، انسانی صحت کے لیے بہت ضروری ہے، یہ ہاضمے کے نظام کو بہتر بنانے، وزن کم کرنے، بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے اور مختلف بیماریوں سے بچاؤ میں مدد کرتا ہے۔

فائبر کی افادیت:
فائبر ہاضمے کے نظام کو بہتر بناتا ہے، آنتوں کی حرکت کو منظم کرتا ہے اور قبض سے بچاتا ہے۔ وزن کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔

اس کے علاوہ فائبر کھانے کے بعد پیٹ بھرا ہوا محسوس کراتا ہے، جس سے کم کھانے میں مدد ملتی ہے۔ بلڈ شوگر کو کنٹرول کرتا ہے۔

فائبر خون میں شوگر کی سطح کو مستحکم رکھنے میں مدد کرتا ہے، جو ذیابیطس کے شکار افراد کے لیے بہت ضروری ہے۔

فائبر کولیسٹرول کی سطح کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے، جو دل کی بیماریوں کے خطرے کو کم کرتا ہے۔
کچھ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ فائبر آنتوں کے کینسر اور چھاتی کے کینسر سے بھی بچا سکتا ہے۔

غذا میں یومیہ کتنا فائبر ضروری ہے؟
عام طور پر بالغوں کو روزانہ 25 سے 30 گرام فائبر لینا چاہیے۔ بچوں اور بوڑھوں کے لیے یہ مقدار مختلف ہو سکتی ہے۔ خواتین کو عام طور پر مردوں کی نسبت کم فائبر کی ضرورت ہوتی ہے۔

کن غذاؤں میں فائبر زیادہ پایا جاتا ہے؟
پھل اور سبزیاں (چھلکے سمیت)، اناج (خاص طور پر جو، گندم، اور چاول), دالیں (جیسے لوبیا، چنے، اور مسور), گری دار میوے اور بیج وغیرہ۔

فائبر کو اپنی غذا میں شامل کرنے کے طریقہ یہ ہے کہ پھلوں اور سبزیوں کو چھلکے سمیت کھائیں، اناج اور دالوں کا استعمال کریں۔

ناشتے میں فائبر سے بھرپور غذا کھائیں، جیسے کہ دلیا یا گندم کی روٹی، سلاد اور سبزیوں کا استعمال بڑھائیں۔
پھلوں اور سبزیوں کو سلاد، سوپ اور دیگر کھانوں میں شامل کریں ساتھ ہی میٹھے مشروبات کی بجائے پانی یا پھلوں کے جوس کا بھی استعمال کریں۔











چین اور ترکی نے جنگ میں پاکستان کا کتنا ساتھ دیا؟ کیا پاک کو مل رہی تھی خفیہ جانکاری، ڈپٹی آرمی چیف کا اہم بیان -
نئی دہلی: بھارتی فوج کے ڈپٹی چیف آف آرمی اسٹاف (کیپیبلیٹی ڈیولپمنٹ اینڈ سسٹینمنٹ) لیفٹیننٹ جنرل راہول آر سنگھ نے جمعہ کو نئی دہلی میں ایف آئی سی سی آئی کے زیر اہتمام 'نیو ایج ملٹری ٹیکنالوجیز' پروگرام میں پاکستان اور بھارت سرحدی کشیدگی اور آپریشن سندور کے دوران درپیش چیلنجوں پر کھل کر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ اس آپریشن میں نہ صرف پاکستان بلکہ چین اور ترکی نے بھی اہم کردار ادا کیا جس کی وجہ سے بھارت نے اپنے فضائی دفاعی نظام کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت محسوس کی ہے۔نائب آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل راہول آر سنگھ نے کہا کہ چین نے ہندوستان کو مصیبت میں ڈالنے کے لیے پاکستان کی مدد کی۔انہوں نے کہا کہ چین اپنے سدا بہار دوست ملک کے لئے ہر ممکن مدد فراہم کر رہا ہے۔

پاکستان کو مل رہی تھی خفیہ جانکاری

لیفٹیننٹ جنرل راہول آر سنگھ نے انکشاف کیا کہ بھارت پاکستان کی کشیدگی کے دوران پاکستان کو چین سے ریئل ٹائم انٹیلی جنس مل رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جب ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ڈی جی ایم او (ڈائریکٹر جنرل آف ملٹری آپریشنز) کی سطح پر بات چیت چل رہی تھی، پاکستان کو ہماری اہم فوجی سرگرمیوں کی براہ راست معلومات مل رہی تھیں۔ یہ معلومات چین سے آرہی تھیں۔ اتنا ہی نہیں لیفٹیننٹ جنرل راہول آر سنگھ نے مزید انکشاف کیا کہ پاکستان کے پاس موجود 81 فیصد فوجی سازوسامان چینی ہیں اور اس آپریشن نے چین کو اپنے ہتھیاروں کی جانچ کرنے کا ایک 'لائیو لیب' جیسا موقع فراہم کیا۔لیفٹیننٹ جنرل سنگھ نے چین کی "36 چالوں" کی قدیم فوجی حکمت عملی اور دشمن کو "ادھار کی چاقو" سے مارنے کی حکمت عملی کا حوالہ دیا۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بیجنگ نے ہندوستان کو نقصان پہنچانے کے لیے پاکستان کی ہر ممکن مدد کی۔ادھار کی چاقو سے مارنے' کا مطلب ہے دشمن کو شکست دینے کے لیے کسی تیسرے فریق کو استعمال کرنا، یعنی چین نے پاکستان کو بھارت کے خلاف استعمال کیا۔

ترکی کے کردار پر کیا بولے ڈپٹی چیف آف آرمی اسٹاف

اس دوران لیفٹیننٹ جنرل سنگھ نے کہا کہ بھارت تین دشمنوں کا سامنا کر رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے علاوہ ترکی بھی اسلام آباد کو فوجی ساز و سامان کی فراہمی میں اہم کردار ادا کر رہا تھا۔ لیفٹیننٹ جنرل راہول آر سنگھ نے کہا ہے کہ ترکی نے پاکستان کو ڈرون اور دیگر امداد بھی فراہم کی۔ لیفٹیننٹ جنرل سنگھ نے کہا - ترکی نے بایکتر جیسے ڈرون فراہم کیے اور جنگ کے دوران لوگوں کو تربیت دی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہندوستان کو اب بیک وقت تین محاذوں پاکستان، چین اور ترکی سے نمٹنے کے چیلنج کا سامنا ہے۔فضائی دفاع کی ضرورت پر زور

لیفٹیننٹ جنرل سنگھ نے ہندوستان کے فضائی دفاعی نظام کی طاقت کی تعریف کی لیکن ساتھ ہی خبردار کیا کہ مستقبل میں مزید چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بار ہمارے شہروں اور آبادی والے علاقوں پر حملہ نہیں کیا گیا لیکن اگلی بار ہمیں اس کے لیے تیار رہنا ہو گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کو پاکستان، چین اور ترکی جیسے ممالک سے آنے والے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک مضبوط اور کثیر الجہتی فضائی دفاعی نظام تیار کرنے کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ 22 اپریل کو پہلگام دہشت گردانہ حملہ ہوا تھا جس میں 26 لوگ مارے گئے تھے۔اس کے جواب میں بھارت نے 7 مئی کو 'آپریشن سندور' شروع کیا۔اس دوران پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (پی او کے) میں دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کے نتیجے میں چار دن تک شدید جھڑپیں ہوئیں جو 10 مئی کو فوجی کارروائی کو روکنے کے معاہدے کے ساتھ ختم ہوئیں۔










تلنگانہ کیمیکل فیکٹری دھماکہ: مرنے والوں کی تعداد 40 ہوگئی، لواحقین کیلئے ایک ایک کروڑ روپے معاوضے کا اعلان 
حیدرآباد: 30 جون کو تلنگانہ کے سنگاریڈی ضلع میں پشمیلارم میں سگاچی انڈسٹریز کے فارماسیوٹیکل پلانٹ میں دھماکے میں مرنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ کمپنی نے ایک سرکاری بیان جاری کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ اس المناک حادثے میں 40 مزدور ہلاک اور 33 زخمی ہوئے ہیں۔ کمپنی نے مرنے والوں کے لواحقین کے لیے معاوضے کا اعلان کیا ہے۔معاوضے کا اعلان

کمپنی سکریٹری وویک کمار نے اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ہر مرنے والوں کے لواحقین کو ایک ایک کروڑ روپے کے معاوضہ دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے زخمیوں کو مکمل طبی امداد اور ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔ری ایکٹر میں دھماکے کی بات مسترد

دھماکے کی وجہ جاننے کے لیے جانچ جاری ہے۔ ابتدائی قیاس آرائیاں یہ تھیں کہ ری ایکٹر میں دھماکہ ہوا ہے۔ کمپنی نے اس کی تردید کی۔ کمپنی کے سیکرٹری نے کہا کہ حادثہ ری ایکٹر میں دھماکے کی وجہ سے نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک تفصیلی جانچ نہیں ہو جاتی اس وقت تک پلانٹ کا آپریشن تین ماہ تک معطل رہے گا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ "ہم مزید کوئی نتیجہ اخذ کرنے سے پہلے حکومت کی جانچ رپورٹ کا انتظار کریں گے۔"لوگوں میں غم و غصہ

اس سانحے نے علاقے میں صنعتی یونٹس میں حفاظتی معیارات کے بارے میں غصہ اور تشویش پیدا کردی ہے۔ توقع ہے کہ حکومت جلد ہی سرکاری جانچ کے ساتھ مناسب کارروائی کرے گی۔ اس واقعہ پر وزیر اعظم نریندر مودی سمیت کئی لوگوں نے افسوس کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم نے ریلیف فنڈ سے مرنے والوں کے لواحقین کو دو لاکھ روپے اور زخمیوں کو 50،000 روپے کی مالی امداد دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔حادثے کے وقت 147 مزدور کام کر رہے تھے

سگاچی کمپنی میں مائکرو کرسٹل لائن سیلولوز نام کی دوا تیار کی جاتی ہے۔ یہ کمپنی گجرات کی ہے۔ تلنگانہ اور مہاراشٹرا میں بھی اس کی اکائیاں ہیں۔ یہ کمپنی تلنگانہ کے پشمیلارم انڈسٹریل اسٹیٹ میں تقریباً چار ایکڑ پر پھیلی ہوئی ہے۔ اس صنعت میں چار بلاکس ہیں۔ پروڈکشن ڈیپارٹمنٹ سیکورٹی بلاک کے پیچھے ہے۔ یہیں سے دوا بنتی ہے۔ کوالٹی کنٹرول اور ایڈمن ڈیپارٹمنٹ اوپری منزل پر ہیں۔ حادثے کے وقت پلانٹ میں کل 147 مزدور کام کر رہے تھے۔

*🔴سیف نیوز بلاگر*





اے آئی ایم آئی ایم نے انتخابات سے پہلے مہاگٹھ بندھن میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی، لالو یادو کو لکھا خط
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) پارٹی نے راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سربراہ لالو پرساد یادو کو لکھے گئے خط میں 2025 کے اسمبلی انتخابات سے قبل بہار میں مہاگٹھ بندھن میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی ہے۔

اے آئی ایم آئی ایم کے بہار کے ریاستی صدر اور ایم ایل اے اختر الایمان کا یادو کو لکھا گیا خط اے آئی ایم آئی ایم کے انتخابات میں سیکولر ووٹوں کی تقسیم کو روکنے اور فرقہ پرست طاقتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے عظیم اتحاد میں شامل ہونے کے ارادے کو اجاگر کرتا ہے۔خط میں کہا گیا۔

خط میں لکھا گیا ہے کہ، “شروع سے ہی، پارٹی نے یہ یقینی بنانے کی کوشش کی ہے کہ انتخابات کے دوران سیکولر ووٹ تقسیم نہ ہوں۔ اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ سیکولر ووٹوں کی تقسیم سے فرقہ پرست طاقتوں کو اقتدار میں آنے کا موقع ملتا ہے۔ اس مقصد کے ساتھ، گزشتہ اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات کے دوران، ہم نے مہاگٹھ بندھن میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی تھی، لیکن ہماری کوششیں کامیاب نہیں ہوئیں۔اس میں مزید کہا گیا ہے، “اب، ہمارے سامنے 2025 کے اسمبلی انتخابات کے ساتھ، ہم ایک بار پھر مہاگٹھ بندھن میں اے آئی ایم آئی ایم پارٹی کو شامل کرنے کی درخواست کرتے ہیں۔ ہماری پارٹی اس سلسلے میں متفقہ طور پر ایک قرارداد پاس کر چکی ہے۔”

اے آئی ایم آئی ایم نے خط میں یہ بھی بتایا ہے کہ پارٹی نے آر جے ڈی کے دیگر سینئر لیڈروں کو اس سے آگاہ کیا ہے، بشمول سابق ڈپٹی سی ایم تیجسوی یادو، بہار اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر۔

خط کا اختتام اس امید کے ساتھ ہوا کہ “بہار اسمبلی انتخابات ایک ساتھ لڑیں گے۔”“یہ سیکولر ووٹوں کی تقسیم کو روکنے میں آپ اور ہم دونوں کی مدد کرے گا، اور مہاگٹھ بندھن کے ذریعہ ایک مضبوط بہار اور مستقبل کی حکومت تشکیل دی جائے گی۔ مجھے امید ہے کہ آپ اس تجویز پر مثبت فیصلہ کریں گے اور ہمیں جلد از جلد مطلع کریں گے۔”










رامبن میں بس حادثہ، امرناتھ یاتریوں کی بسیں آپس میں ٹکرا گئیں
جموں و کشمیر کے رامبن ضلع میں امرناتھ یاترا کے راستے پر ہفتہ کو ایک بڑا حادثہ پیش آیا۔ عقیدت مندوں کے قافلے میں شامل 3 بسیں آپس میں ٹکرا گئیں۔ اس حادثے میں کم از کم 36 عقیدت مند زخمی ہو گئے۔ حکام نے بتایا کہ حادثہ چندرکوٹ لنگر اسٹال کے قریب اس وقت پیش آیا جب بسوں کی بریکیں فیل ہو گئیں اور وہ ایک دوسرے سے ٹکرا گئیں۔واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور محکمہ صحت کی ریسکیو ٹیم موقع پر پہنچ گئی اور زخمیوں کو فوری طور پر ابتدائی طبی امداد کے لیے ضلع اسپتال رامبن پہنچایا گیا۔ امدادی کاموں میں تیزی لائی گئی اور جلد ہی صورتحال پر قابو پالیا گیا۔مقدس امرناتھ غار کی یاترا 3 جولائی کو ہی شروع ہوئی تھی۔ یہ 39 دن طویل یاترا 9 اگست کو شراون پورنیما اور رکشا بندھن کے ساتھ اختتام پذیر ہوگی۔ 3,888 میٹر کی بلندی پر واقع مقدس غار تک پہنچنے کے لیے عقیدت مند دو راستوں میں سے ایک کا انتخاب کرتے ہیں، پہلگام اور بالتل کا راستہ۔ پہلگام کے راستے سے سفر کرنے والے عقیدت مند چندن واڑی، شیش ناگ اور پنچترنی کے راستے کل 46 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتے ہیں۔













’دشمن کو ڈرانے کے لیے‘ امریکہ کے بعد دنیا میں کن ممالک نے جوہری ہتھیار حاصل کیے اور کون اس دوڑ سے دستبردار ہوا
امریکہ کی جانب سے پہلے ایٹمی دھماکے کے 80 سال بعد ایران کا جوہری پروگرام مشرق وسطیٰ میں تناؤ کی وجہ بن گیا ہے۔

جون میں امریکہ کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کے بعد دو جولائی کو ایرانی صدر نے اقوام متحدہ کے جوہری نگرانی کے ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ساتھ تعاون کو معطل کرنے والے ایک قانون پر دستخط کیے۔

اسرائیل اور امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ حملے ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے یہ حملہ ضروری تھا۔

یہ ابھی تک واضح نہیں کہ ان حملوں سے ایران کی جوہری تنصیبات کو کتنا نقصان ہوا اور اس کا خطے اور اقوام متحدہ کے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) پر کیا اثر ہو سکتا ہے۔

جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کا یہ معاہدہ 55 سال پہلے نافذ العمل ہوا تھا اور اس سے جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو محدود کرنے میں مدد ملی تھی۔دنیا میں اس وقت نو ممالک کے پاس جوہری ہتھیار ہیں۔ ان ممالک نے انھیں کیسے حاصل کیا اور کیا اب دوسرے ممالک بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں؟کن ممالک کے پاس جوہری ہتھیار ہیں؟
اس وقت دنیا میں امریکہ، چین، برطانیہ، فرانس، روس، انڈیا، پاکستان اور شمالی کوریا جوہری ہتھیار رکھتے ہیں جبکہ اسرائیل کے بارے میں یہی خیال ہے کہ اس کے پاس بھی جوہری ہتھیار موجود ہیں تاہم سرکاری طور پر اس کی تصدیق یا تردید نہیں کی جاتی۔
دوسری عالمی جنگ کے دوران مین ہٹن پروجیکٹ کے ذریعے خفیہ طور پر جوہری ہتھیار تیار کرنے کے بعد امریکہ پہلی ایٹمی طاقت بن گیا۔

امریکہ نے سنہ 1945 میں ان تباہ کن ہتھیاروں کو استعمال کیا اور جاپان کے شہر ہیروشیما اور ناگاساکی میں ایٹم بم گرائے۔

ان بم دھماکوں میں کم از کم دو لاکھ افراد مارے گئے تاہم یہ واحد موقع ہے جب کسی تنازعے میں جوہری ہتھیاروں کو استعمال کیا گیا۔

ہتھیاروں کی ماہر ڈاکٹر پیٹریشیا لیوس کا کہنا ہے کہ یہ ’جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کا اصل آغاز تھا‘ جس سے دوسرے ممالک خاص طور پر سوویت یونین نے فوری طور پر اپنے جوہری ہتھیار بنانے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ اپنے ملک پر حملہ کرنے والے کسی بھی ملک کو ڈرا سکیں اور خطے اور عالمی سطح پر اپنی طاقت کا مظاہرہ کر سکیں۔

آگے کیا ہوا؟
دوسری عالمی جنگ ختم ہونے کے دو سال سے بھی کم عرصے بعد سرد جنگ کا آغاز ہوا: امریکہ اور سوویت یونین اور ان دونوں کے اتحادیوں کے درمیان کشمکش جو 40 سال سے زیادہ جاری رہی اور اس دوران بعض مواقع پر اس کشیدگی کے جوہری تنازعے میں تبدیل ہونے کا خطرہ بھی پیدا ہوا۔

سوویت یونین نے دوسری عالمی جنگ کے دوران ایٹم بم بنانے کی کوششیں شروع کر دی تھیں اور سنہ 1949 میں انھوں نے اس کا کامیاب تجربہ کیا، جس سے ایٹمی ہتھیاروں پر امریکہ کی اجارہ داری کا خاتمہ ہوا۔

اس کے بعد دونوں ملکوں نے ایسے جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش شروع کر دی جو اس سے بھی زیادہ تباہ کن تھے۔

اگلے 15 برس میں تین اور ملک ایٹمی طاقت بن گئے۔

برطانیہ نے دوسری عالمی جنگ کے دوران جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں امریکہ کے ساتھ تعاون کیا تھا اور سنہ 1952 میں وہ دنیا کی تیسری ایٹمی طاقت بن گیا، جس کے بعد سنہ 1960 میں فرانس اور 1964 میں چین بھی جوہری طاقت بن گیا۔

دیگر ممالک نے کب جوہری ہتھیار حاصل کیے؟
 کی دہائی تک دنیا میں پانچ ایٹمی طاقتیں تھیں: امریکہ، سوویت یونین، برطانیہ، فرانس اور چین۔۔۔ اور اس بارے میں خدشات بڑھنے لگے کہ ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ممالک کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو گا۔

اس خدشے کے پیش نظر اقوام متحدہ نے جوہری ہتھیاروں کے مزید پھیلاؤ کو روکنے، تخفیف اسلحہ کو فروغ دینے، اور جوہری توانائی کے پرامن استعمال میں سہولت فراہم کرنے کے لیے عدم پھیلاؤ کا معاہدہ (این پی ٹی) متعارف کروایا۔

یہ معاہدہ 1970 میں نافذ العمل ہوا لیکن تمام ممالک نے اس پر دستخط نہ کیے اور جوہری ہتھیار پھیل گئے۔

انڈیا 1974 میں جبکہ پاکستان 1998 میں جوہری طاقت بنا۔ ان دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے بارے میں سکیورٹی خدشات کی وجہ سے اس معاہدے پر دستخط نہیں کیے تھے۔

اسرائیل نے بھی کبھی اس معاہدے پر دستخط نہیں کیے۔

اسرائیلی حکام علاقائی خطرات اور تناؤ اور اپنے پڑوسی ممالک کی دشمنی کو اس معاہدے پر دستخط نہ کرنے کی وجوہات کے طور پر بیان کرتے ہیں۔

جوہری ہتھیاروں کے بارے میں اسرائیل کی سرکاری پالیسی کو ’دانستہ ابہام‘ کہا جاتا ہے اور یہ ملک ایسے ہتھیار رکھنے کی تصدیق کرتا ہے اور نہ ہی تردید۔

شمالی کوریا نے اس معاہدے پر دستحظ کیے تھے تاہم سنہ 2003 میں وہ جنوبی کوریا اور امریکہ کی مشترکہ فوجی مشقوں کو جواز بنا کر اس معاہدے سے باہر نکل آیا۔

سنہ 2006 میں شمالی کوریا نے نیوکلیئر ہتھیاروں کا کامیاب تجربہ کیا۔

سنہ 2011 میں وجود میں آنے والا جنوبی سوڈان اقوام متحدہ کا وہ واحد رکن ملک ہے، جس نے اس معاہدے پر دستحظ نہیں کیے۔

کیا ایران کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں؟
برطانیہ کی یونیورسٹی آف لیسٹر میں انٹرنیشنل پولیٹکس کے پروفیسر اینڈریو فٹر کہتے ہیں کہ جہاں تک انھیں معلوم ہے ’ایران نے ابھی تک ایٹم بم نہیں بنایا‘ لیکن تکنیکی طور پر ایسی کوئی وجہ نہیں کہ وہ ایسا کیوں نہیں کر سکتے۔

واضح رہے کہ ایران اقوام متحدہ کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط کر چکا ہے تاہم اس کا بارہا یہ کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے اور اس نے کبھی بھی جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کی۔

تاہم اقوام متحدہ کے جوہری نگرانی کے ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی ایک دہائی پر محیط تحقیقات میں یہ شواہد ملے کہ ’ایران نے 1980 کی دہائی کے آخر سے لے کر سنہ 2003 تک ایک جوہری دھماکہ خیز ڈیوائس کی تیاری سے متعلقہ سرگرمیاں کیں‘ جب ’پروجیکٹ عماد‘ کے نام سے مشہور منصوبوں کو روک دیا گیا تھا۔سنہ 2015 میں ایران نے چھ بڑی عالمی طاقتوں کے ساتھ ایک معاہدے پر دستحظ کیے، جس کے تحت اس نے اپنی جوہری سرگرمیاں محدود کرنے پر اتفاق کیا اور آئی اے ای اے کو مانیٹرنگ کی اجازت بھی دی گئی۔ ایران نے ایسا خود پر عائد بین الاقوامی پابندیوں میں نرمی کے بدلے کیا۔

لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سنہ 2018 میں اپنے پہلے دور حکومت کے دوران اس معاہدے سے یہ کہتے ہوئے دستبردار ہو گئے کہ اس سے ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے میں بہت کم مدد ملی۔ ٹرمپ نے اس کے بعد ایران پر پابندیاں بھی بحال کر دیں۔

اس کے ردعمل میں ایران نے آئی اے ای اے کی پابندیوں کی متعدد بار خلاف ورزی کی، خاص طور پر ان پابندیوں کی جو یورینیئم کی افزودگی سے متعلق تھیں۔

12 جون 2025 کو 35 ممالک پر مشتمل آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز نے کہا کہ ایران نے جوہری عدم پھیلاؤ کے اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کی اور اپنی ذمہ داریوں پر عمل نہیں کیا۔

اس سے اگلے ہی روز اسرائیل نے ایران کی جوہری تنصیبات اور فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔ اس کے بعد اسرائیل کے انتہائی قریبی اتحادی امریکہ نے ایران کے فردو جوہری مقام سمیت تین جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

کیا اسرائیل کے پاس جوہری ہتھیار ہیں؟اسرائیل نہ تو سرکاری طور پر جوہری ہتھیار رکھنے کا اعتراف کرتا ہے اور نہ ہی انکار کرتا ہے لیکن بین الاقوامی دُنیا کا ماننا ہے کہ اس کے پاس ایسے ہتھیار موجود ہیں۔

اکتوبر 1986 میں سنڈے ٹائمز نے برطانوی صحافت کی تاریخ میں ایک اہم تحقیقاتی مضمون شائع کیا، جس کا عنوان تھا ’راز افشا: اسرائیل کا جوہری اسلحہ۔‘

اس معلومات کا منبع اسرائیلی نیوکلیئر ٹیکنیشن موردیچائی وانونو تھے، جن کے بیانات نے اسرائیل کی جوہری صلاحیتوں کے بارے میں شکوک و شبہات کی تصدیق کی، جس سے ہتھیاروں کے پروگرام کی موجودگی کی نشاندہی ہوتی ہے۔

اسرائیل کے جوہری پروگرام کا راز افشا کرنے پر موردیچائی وانونو کو 18 برس جیل میں گزارنا پڑے اور سنہ 2004 میں انھیں رہائی ملی۔

تھنک ٹینک سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (سپری) کے مطابق اسرائیل اپنے جوہری ہتھیاروں کو جدید بنا رہا ہے۔

سپری کے مطابق سنہ 2024 میں اسرائیل نے ایک میزائل سسٹم کا تجربہ کیا تھا جو کہ جوہری بیلیسٹک میزائل جیریکو سے متعلق تھا اور بظاہر یہ کہ اسرائیل ڈیمونا سائٹ میں پلوٹینیئم کی پیداوار کو بڑھا رہا ہے۔

اس کے علاوہ اسرائیل نے اپنے علاقائی حریفوں کو جوہری صلاحیتوں کے حصول سے روکنے کے لیے فوجی کارروائیاں بھی کی ہیں۔

ایران پر حملے کے علاوہ اسرائیل نے سنہ 1981 میں عراق میں ایک نیوکلیئر ری ایکٹر اور سنہ 2007 میں شام میں ایک مشتبہ جوہری سائٹ کو نشانہ بنایا۔

جوہری پروگراموں کو ترک کرنے والے ممالک کون سے ہیں؟
برازیل، سویڈن اور سوئٹزرلینڈ نے جوہری ہتھیار تیار کرنے پر کام شروع تو کیا تاہم بعد میں اپنی مرضی یا بیرونی دباؤ پر اپنے جوہری منصوبوں کو ترک کر دیا گیا۔

جنوبی افریقہ دنیا کا واحد ملک ہے جس نے کامیابی سے جوہری ہتھیار تیار کیے تاہم بعد میں انھیں ںاکارہ بناتے ہوئے اپنے جوہری پروگرام کو بھی ترک کر دیا۔

اینڈریو فٹر کہتے ہیں کہ جوہری دور میں یہ انتہائی منفرد عمل تھا کہ ایک ملک نے جوہری ہتھیار تیار کیے اور پھر انھیں ناکارہ بنا دیا۔

یہ فیصلہ مختلف عوامل کی بدولت ممکن ہوا، جس میں نسل پرستانہ نظام پر قائم حکومت کا خاتمہ، علاقائی تنازعات میں کمی اور عالمی سیاست میں تبدیلی شامل تھے۔

سنہ 1991 میں سوویت یونین کی تقسیم کے نتیجے میں معرض وجود میں آنے والے ممالک یوکرین، بیلا روس اور قازقستان کے حصے میں جوہری ہتھیار آئے تاہم ان ممالک نے انھیں ترک کر دیا۔

یوکرین نے سنہ 1994 کے بداپسٹ میمورنڈم کے تحت امریکہ، برطانیہ اور روس کی جانب سے سکیورٹی ضمانتوں کے بدلے میں اپنے ہتھیار ترک کیے۔

لیکن یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ ان کا ملک جو ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے روسی افواج کے ساتھ تنازعہ میں ہے، نے ان ہتھیاروں کو ترک کر کے بہت کم فائدہ حاصل کیا۔دنیا میں کتنے جوہری ہتھیار موجود ہیں؟
چونکہ دنیا بھر کی حکومتیں اپنے جوہری ہتھیاروں سے متعلق مکمل تفصیلات شاذ و نادر ہی ظاہر کرتی ہیں، اس لیے یہ جاننا مشکل ہے کہ ہر ملک کے پاس کتنے ہتھیار موجود ہیں۔

سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سپری) نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ جنوری 2025 میں عالمی سطح پر مجموعی طور 12,241 وار ہیڈز میں سے تقریباً 9,614 ممکنہ استعمال کے لیے فوجی ذخیرے میں رکھے گئے ہیں۔

سپری کے مطابق عالمی ذخیرے کا تقریباً 90 فیصد حصہ روس اور امریکہ کے پاس ہے۔

تھنک ٹینک کے مطابق پرانے وار ہیڈز کو ناکارہ بنانے کا عمل نئے وار ہیڈز کی تیاری کے مقابلے میں زیادہ ہوتا رہا ہے تاہم آنے والے برسوں میں یہ رجحان ’پلٹنے کا امکان ہے۔‘

کیا مزید ممالک جوہری ہتھیار تیار کر رہے ہیں؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے ساتھ کیا ہوتا ہے، اس کا اثر ان ممالک پر پڑ سکتا ہے جو جوہری ہتھیار تیار کرنے پر غور کرتے ہیں۔

جون میں ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایران کے جوہری پروگرام کو ’دہائیوں‘ پیچھے دھکیل دیا گیا۔

پھر جولائی میں پینٹاگون نے کہا کہ امریکی حملوں نے ایران کے جوہری پروگرام کو صرف دو سال پیچھے کر دیا۔

اینڈرو فٹر کہتے ہیں کہ اگر ایران جوہری ہتھیار تیار کر لیتا ہے تو مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک خاص طور پر سعودی عرب بھی یہ ہتھیار تیار کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میرے خیال میں سعودی عرب اس بارے میں کافی واضح ہے کہ انھیں جوہری صلاحیت نہیں چاہیے لیکن جوہری ہتھیاروں سے لیس ایران اس کھیل کو مکمل طور پر تبدیل کر دے گا۔‘

’لیکن یہ کتنی جلدی اور آسانی سے ہو گا، یہ ایک اور سوال ہے۔‘

ڈاکٹر پیٹریشیا لیوس کہتی ہیں کہ ایران کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی سے) سے دستبرداری کا ’خطرہ بڑا‘ ہے، جس کے نتیجے میں دوسرے ممالک کے بھی اس معاہدے سے نکل جانے کے امکان بڑھ جائیں گے۔

وہ کہتی ہیں کہ یہ معاہدے کے لیے ’دھچکہ‘ ضرور ہو گا لیکن ضروری نہیں کہ یہ مہلک بھی ثابت ہو۔

لیکن اگر دوسرے ممالک بھی جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کرتے ہیں تو ڈاکٹر لیوس کا کہنا ہے کہ اس متعلق اہم چیلنجز ہوں گے، خاص طور پر افزودہ یورینیئم یا جوہری ہتھیاروں میں استعمال ہونے والے اضافی پلوٹونیم کو حاصل کرنا۔

وہ اس بارے میں معاشی یا مالی بوجھ کی نشاندہی بھی کرتی ہیں۔

’یہ مہنگا منصوبہ ہے اور اس میں برسوں لگتے ہیں اور خاص طور پر اگر اسے خفیہ طور پر کیا جائے لیکن دوسری جانب شمالی کوریا اور پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک بھی نہیں رکے تھے۔‘

Friday, 4 July 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*





کراچی میں 6 منزلہ رہائشی عمارت گرگئی ، 9 افراد جاں بحق ، متعدد زخمی
کراچی: لیاری بغدادی میں 6 منزلہ رہائشی عمارت گرگئی ، جس کے نتیجے میں 9 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے لیاری بغدادی میں 6 منزلہ عمارت گرگئی، واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئی۔

ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ ملبے میں مکینوں کے دبے ہوئے ہیں تاہم موقع پرامدادی سرگرمیاں شروع کردی گئی ہیں۔


حکام نے بتایا کہ عمارت گرنے سے 9 افراد دب کر جاں بحق اور 3 خواتین سمیت 8 افراد زخمی ہوئے تاہم مزید لوگ اب بھی عمارت کے ملبے تلے دبے ہیں ، جن کو نکالنے کی کوششیں کی جارہی ہے۔حکام کے مطابق متاثرہ عمارت سے متصل عمارت کوبھی نقصان پہنچا، جس سے ان عمارتوں کے گرنے کا بھی خدشہ ہے۔
ترجمان چھیپا ویلفیئر کی جانب سے کہا گیا کہ علاقہ مکینوں کے مطابق عمارت کے ملبےمیں اب بھی 20 سے 25 لوگ دبے ہیں، عمارت گرنے کے واقعے میں 3 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہیں۔

وزیر بلدیات سندھ سعید غنی کا عمارت گرنے کا نوٹس
وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے لیاری بغدادی میں عمارت گرنے کا نوٹس لیتے ہوئے تمام متعلقہ محکموں کے اعلٰی افسران سے رابطہ کیا اور فوری طور پر ریسکیو کام سرانجام دینے کی ہدایات دی۔

سعید غنی کا کہنا ہے کہ عمارت میں پھنسے ہوئے تمام لوگوں کو جلد از جلد ریسکیو کیا جائے، عمارت کے اطراف رکاوٹوں کو دور کرکے ریسکیو آپریشن کو تیز سے تیز کیا جائے۔

انھوں نے کہا کہ ایس بی سی اےاوردیگراداروں کےافسران اپنی نگرانی میں ریسکیو کام سرانجام دیں ساتھ ہی عمارت گرنے کی وجوہات اور اس کے تمام اسباب کی فوری رپورٹ پیش کی جائے۔یاد رہے 4 روز قبل کھارادر میں 6 منزلہ رہائشی عمارت کی چھت گرگئی تھی، تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے کھارادر عمارتوں کے درمیان بنے کوریڈور کی چھت گری تو متعدد فلورز کی سیڑھیاں بھی گر گئیں تھیں ۔

چھ منزلہ عمارت کی ٹنکی گرنے سے زینوں اور کوریڈور کو نقصان پہنچا، حادثے کے بعد بلڈنگ کی تیسری، چوتھی اور پانچویں منزل پرلوگ پھنس گئے تھے ، جنہیں ریسکیو حکام ںے اسنارکل اورکرین کی مدد سے باہر نکالا گیا تھا۔











غزہ جنگ بندی کے لیے ٹرمپ کی ڈیڈ لائن، کہا، اگلے 24 گھنٹوں میں حماس کا آئے گا رد عمل -
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز کہا کہ غزہ میں اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کی تجویز پر حماس کا جوابی ردِ عمل اگلے 24 گھنٹوں میں معلوم ہو جائے گا۔

حماس نے غزہ جنگ بندی تجویز پر مشاورت کے بعد ثالثین کو اپنا حتمی فیصلہ پیش کرنے کی بات کہی تھی۔ جس کے بعد ٹرمپ کا یہ ردعمل سامنے آیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیلی گرام پر ایک بیان میں مزاحمتی تنظیم حماس نے کہا کہ، وہ ثالثین کی جانب سے موصولہ تجویز کے حوالے سے فلسطینی افواج اور دھڑوں کے رہنماؤں سے مشاورت کر رہی ہے۔ اس کے بعد حتمی فیصلے کا باضابطہ اعلان کرے گی۔حماس جنگ بندی کی ضمانت چاہتی ہے:

تنظیم کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ حماس واضح ضمانتوں کی تلاش میں ہے کہ جنگ بندی معاہدہ بالآخر جنگ کے خاتمے کا باعث بنے گا۔ دو اسرائیلی حکام نے کہا کہ ان تفصیلات پر ابھی کام کیا جا رہا ہے۔

جمعہ کے اوائل میں ایک بیان میں حماس نے کہا کہ وہ دوسرے فلسطینی دھڑوں کے ساتھ جنگ ​​بندی کی تجویز پر بات کر رہی ہے اور مذاکرات کے اختتام پر اپنا ردعمل ثالثوں کو پیش کرے گی۔

جامع جنگ بندی کو محفوظ بنانے کا مطالبہ:
غزہ کے شہری دفاع کے ترجمان، محمود بسال نے فوری جامع جنگ بندی کی اپیل کی۔ انھوں نے تمام ثالثوں سے فوری اور جامع انسانی جنگ بندی قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انھوں نے حتمی معاہدہ ہونے تک جنگ بندی پر عمل کی اپیل کی۔بسال نے مزید کہا، میں آپ سے ابھی عمل کرنے کی درخواست کرتا ہوں۔

واضح رہے حماس اور اسرائیل نے گذشتہ مہینوں کے دوران بالواسطہ مذاکرات کے کئی ادوار منعقد کیے لیکن جنگ بندی کے حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔ حماس نے جنگ کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کیا تھا جبکہ اسرائیل نے عارضی جنگ بندی پر اصرار کیا تھا۔ نومبر 2023 میں پہلی جنگ بندی کے دوران درجنوں فلسطینی قیدیوں کے بدلے غزہ سے 105 مغویوں کو رہا کیا گیا تھا۔

دوسری جنگ بندی کے دوران حماس نے 33 اسرائیلی قیدیوں کو جبکہ اسرائیل نے ہر ایک قیدی کے بدلے تقریباً 50 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا تھا۔











وہ غذائیں جو وزن کم کرنے کی کوششوں کے دوران جسم کو متوازن رکھتا ہے
اگر آپ کی روزمرہ خوراک میں شامل ہوں تو بعض غذائیں وزن میں نمایاں طور پر کمی میں مدد کر سکتی ہیں۔ ان کھانوں میں عام طور پر کیلوریز کم ہوتی ہیں لیکن فائبر، پروٹین یا صحت مند چکنائی زیادہ ہوتی ہے، جو آپ کو زیادہ دیر تک پیٹ بھرے رہنے اور مجموعی کیلوری کی مقدار کو کم کرنے میں مدد کرتی ہے۔
این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق ایسی غذائیں خون میں شکر کی سطح کو بھی مستحکم رکتھی ہیں، نظام ہضم کو بہتر بناتی اور میٹابولزم کو بڑھاتی ہیں۔
یہ غذائیں اضافی کیلوریز کے بغیر جسم کو ضروری وٹامنز اور منرلز فراہم کرتی ہیں۔ یہ ان کھانوں کی فہرست ہے جو آپ کو وزن کم کرنے کی کوشش میں اپنی روزمرہ کی خوراک میں شامل کرنی چاہییں۔
سبز پتے
ان میں سے پہلے نمبر پر سلاد کے پتے ہیں۔ ان میں کیلوریز کم ہوتی ہیں اور فائبر زیادہ جبکہ وٹامنز اور منرلز سے بھی بھرپور ہوتے ہیں۔
ناشتے میں اوٹس
اوٹس کا استعمال اب عام ہوتا جا رہا ہے اور اگر اس کو ناشتے میں شامل کیا جائے تو معدے کو بھر دیتے ہیں۔ یہ توانائی سے بھرپور ہیں مگر جسم کے لیے نقصان دہ نہیں۔
دن کا آغاز اوٹس کے پیالے سے کریں تو دن بھر بھوک کا احساس میں کم رہے گا۔ اور خون میں شوگر کی مقدار متوازن رہے گی۔
دہی کا استعمال
اسی طرح گریک یوگرٹ یا یونانی دہی کا استعمال بھی وزن میں کمی کرنے والوں کے لیے ضروری ہے کیونکہ یہ اس دوران جسم کے مسلز کو اپنی جگہ برقرار رکھنے میں معاون ہے۔
یہ سینے یا معدے میں جلن کا بھی سدباب کرتا ہے۔اُبلے ہوئے انڈے
اگر آپ اُبلے ہوئے انڈے کھاتے ہیں تو کیا ہی بات ہے۔ انڈوں میں اعلٰی معیار کی پروٹین اور صحت کے اچھی چربی اور ضروری وٹامنز پائے جاتے ہیں۔
چیا سیڈز
اب چیا سیڈز ہر چھوٹے بڑے سٹور سے بآسانی مل جاتے ہیں۔ عموما ان سیاہ دانوں یا بیج کو لوگ تخمِ بالنگوہ کے ساتھ گڈ مڈ کر دیتے ہیں۔ چیا سیڈز الگ ہیں اور تخمِ بالنگوہ الگ۔ ایک گلاس پانی میں شامل کر کے پینے سے یہ بیج آپ کے معدے کو بھرا ہوا محسوس کراتے ہیں۔
اواکاڈو سے چربی میں کمی
اواکاڈو پھل پہلے صرف چند ممالک میں دستیاب تھا مگر اب یہ ہر جگہ مل جاتا ہے۔ اس میں فائبر زیادہ مقدار میں پایا جاتا ہے۔ اور یہ پیٹ کی چربی کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
دیگر جن چیزوں کے استعمال سے وزن میں کمی کی جا سکتی ہے ان میں بیریز اور خشک میوہ جات نمایاں ہیں۔

*🔴سیف نیوز بلاگر*






متھرا کی شاہی عیدگاہ مسجد کومتنازع ڈھانچہ قراردینے سے الہ آبادہائی کورٹ کا انکار،ہندو فریق کولگاجھٹکا
متھرا کے کرشن جنم بھومی اور شاہی عید گاہ مسجد تنازع سے جڑی بڑی خبر ہے۔الہ آباد ہائی کورٹ سے ہندو فریق کو جھٹکا لگاہے۔ عدالت نے شاہی عیدگاہ مسجد کو متنازع ڈھانچہ قراردینے سے انکار کردیا ہے۔جسٹس رام منوہر نارائن مشرا کی سنگل بینچ نے فیصلہ سنایا ہے۔ اس فیصلے سے ہندو فریق کو بڑا جھٹکا لگا ہے جبکہ تاہم شاہی عیدگاہ مسجد کا فریق اسے اپنی بڑی جیت کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

خیال رہے کہ ، ہائی کورٹ نے گزشتہ سماعت میں بحث مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ رکھاتھا۔ جسٹس رام منوہر نارائن مشرا کی سنگل بنچ نے یہ فیصلہ سنایا ہے۔ تاہم، چونکہ ہائی کورٹ نے شاہی عیدگاہ مسجد کو متنازع ڈھانچہ قرار نہیں دیا ہے، اس لیے اس فیصلے کا دیگر عرضیوں پر راست طور پرکوئی اثر نہیں پڑے گا۔

دراصل ہندو فریق کے مدعی ایڈوکیٹ مہندر پرتاپ سنگھ نے یہ عرضی داحل کی تھی۔ انھوں نے عدالت میں مسارے عالم گری کی لکھی کتاب سے لے کرمتھرا کے کلکٹر ایف ایس گروس تک کے وقت کی تصنیف کردہ کتب کا حوالہ عدالت میں دیا تھا۔

آج ہندو فریق نے بھی ہندو چیتنا یاتراؤں کے حوالے سے ہائی کورٹ میں جواب داخل کیا۔ مسلم فریق نے شری کرشن جنم بھومی مکتی نیاس کی طرف سے نکالی جانے والی ہندو چیتنا یاترا پر اعتراض جتایا تھا۔

الہ آباد ہائی کورٹ گھگوان کرشن وراجمان کٹرا کیشو دیو سمیت دیگر معاملات کی سماعت کر رہی ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ ایودھیا تنازع کی طرزپر ایک ساتھ کیس سے متعلق ڈیڑھ درجن عرضیوں کی سماعت کر رہی ہے۔مقدمات میں شاہی عیدگاہ پر سے قبضہ ہٹانے اور کٹرا کیشو دیو کے نام پر درج اراضی کو شری کرشنا مندر کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ہندو فریق کا دعویٰ ہے کہ شاہی عیدگاہ مسجد کی ڈھائی ایکڑ اراضی بھگوان شری کرشن کی جائے پیدائش یعنی گربھ گرہ ہے، جب کہ مسلم فریق کا دعویٰ ہے کہ یہ مسجد ایک جائز مذہبی مقام ہے۔














روس نے طالبان حکومت کو باضابطہ تسلیم کرلیا – افغان سفارتکاری میں نیا باب
روس کی جانب سے طالبان حکومت کو تسلیم کرنا: افغان سفارتکاری کا نیا باب
روس نے 3 جولائی 2025 کو طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا، یوں وہ ایسا کرنے والا پہلا ملک بن گیا اور اس اقدام سے خطے میں ایک بڑی سفارتی تبدیلی کا اشارہ ملا ہے۔ یہ اعلان کابل میں روسی سفیر دمتری ژرینوف اور افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد کیا گیا۔ افغان حکام نے اسے ایک “تاریخی قدم” اور دو طرفہ تعلقات کے ایک نئے دور کی شروعات قرار دیا ہے۔ تاہم، اس تسلیم کی اہمیت ابھی بھی پیچیدہ ہے کیونکہ طالبان کو عالمی سطح پر باضابطہ قبولیت اقوام متحدہ اور عالمی رائے عامہ پر منحصر ہے۔نیوز 18 کے ذرائع کے مطابق روس کی جانب سے طالبان حکومت کو تسلیم کرنا ایک مثبت قدم ضرور ہے، مگر یہ اب بھی مکمل بین الاقوامی قانونی حیثیت سے کم تر ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے پروٹوکول ڈویژن سے باقاعدہ منظوری ضروری ہے، اور جب تک ایسا نہیں ہوتا، طالبان حکومت کو سفارتی تنہائی کا سامنا رہے گا۔ یہ پیش رفت ایک وسیع تر رجحان کا حصہ ہے، جس میں بیشتر ممالک اپنے مفادات کے تحفظ اور علاقائی استحکام کے لیے طالبان کے ساتھ مختلف سطحوں پر رابطے میں ہیں۔
بھارت کی محتاط مگر حقیقت پسندانہ پالیسی:
بھارت نے طالبان حکومت کے حوالے سے ایک محتاط لیکن حقیقت پسندانہ حکمت عملی اختیار کی ہے۔ اگرچہ نئی دہلی نے طالبان حکومت کو رسمی طور پر تسلیم نہیں کیا ہے، لیکن اس نے کابل میں اپنا سفارتی مشن دوبارہ فعال کیا ہے اور طالبان کو ممبئی میں قونصل جنرل بھیجنے کی اجازت دی ہے۔ حال ہی میں بھارتی خارجہ سکریٹری وکرم مصری نے طالبان نمائندوں سے بات چیت کی، جو کہ طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد اب تک کی سب سے اعلیٰ سطح کی ملاقات تھی۔ بھارت کی یہ سفارتکاری سکیورٹی خدشات، چین سے علاقائی اثر و رسوخ کی مسابقت اور افغانستان پر کنٹرول برقرار رکھنے کی خواہش سے تحریک پاتی ہے۔

پس منظر: طالبان کی اقتدار میں واپسی
طالبان نے 15 اگست 2021 کو افغانستان کا کنٹرول سنبھال لیا، جب امریکہ اور نیٹو افواج نے ملک سے انخلا کیا۔ اس کے بعد سے طالبان بین الاقوامی سطح پر قبولیت کے خواہاں رہے ہیں، جبکہ ملک میں سخت اسلامی قوانین نافذ کیے گئے ہیں۔ ان کی تمام تر کوششوں کے باوجود کوئی بھی ملک طالبان حکومت کو رسمی طور پر تسلیم نہیں کر رہا تھا، یہاں تک کہ روس نے حالیہ قدم اٹھایا۔ البتہ چین، بھارت، اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک مختلف سطحوں پر طالبان کے ساتھ سفارتی روابط میں ہیں۔

روس کی سفارتی پالیسی کی تبدیلی:
روس اور طالبان کے تعلقات گزشتہ دو دہائیوں میں بڑی تبدیلیوں سے گزرے ہیں۔ 2003 میں روس نے طالبان کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا کیونکہ وہ شمالی قفقاز میں علیحدگی پسندوں کی حمایت کرتے تھے۔ تاہم، 2021 میں طالبان کے دوبارہ ابھرنے اور عالمی طاقتوں کے بدلتے رویوں نے ماسکو کو اپنے مؤقف پر نظر ثانی پر مجبور کر دیا۔ اپریل 2025 میں روس کی سپریم کورٹ نے طالبان کو ممنوعہ تنظیموں کی فہرست سے نکال دیا، جس سے باضابطہ تسلیم کی راہ ہموار ہوئی۔

اعلان اور اس کا مفہوم:
روسی وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ افغانستان کے نئے مقرر کردہ سفیر گل حسن حسن کی اسناد قبول کر لی گئی ہیں، اور اس کے ساتھ “بامعنی دو طرفہ تعاون” کا آغاز ہو گیا ہے۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ قدم توانائی، زراعت اور انسداد دہشت گردی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دے گا۔ افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا اور اسے دیگر ممالک کے لیے “ایک اچھا نمونہ” قرار دیا، اور امید ظاہر کی کہ اس سے عالمی سطح پر مزید شمولیت کی راہ ہموار ہو گی۔روس نے طالبان کو کیوں اپنایا؟
دفائی مفادات

روس کا یہ قدم عملی حکمت عملی پر مبنی ہے۔ ماسکو طالبان کو ایک زمینی حقیقت تسلیم کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ ان سے بات چیت ضروری ہے تاکہ وسطی ایشیا میں اپنے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔ کریملن کو داعش خراسان (ISKP) سے شدید خطرہ لاحق ہے، جس نے افغانستان اور روس دونوں میں حملے کیے ہیں۔ طالبان کو تسلیم کر کے، روس امید رکھتا ہے کہ سکیورٹی اور انسداد دہشت گردی کے میدان میں تعاون بڑھے گا۔

معاشی مواقع

روس افغانستان میں توانائی، ٹرانسپورٹ اور زراعت جیسے شعبوں میں معاشی مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ روسی وزارت خارجہ نے تجارتی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی جانب اشارہ کیا جو دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہو سکتے ہیں۔ یہی معاشی امکانات روس کو طالبان کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے تیار کر رہے ہیں۔

علاقائی اثر و رسوخ

طالبان کو سب سے پہلے تسلیم کر کے روس افغانستان کے مستقبل میں ایک مرکزی کھلاڑی بننے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ فیصلہ دیگر ممالک کے لیے نظیر قائم کرنے کے ساتھ ساتھ، روس کے سفارتی اثر و رسوخ کو بڑھانے کی کوشش بھی ہے۔ یہ قدم روس کی اس وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے جس میں وہ مغرب کی جانب سے تنہا کیے گئے حکومتوں سے تعلقات قائم کرتا ہے۔

تسلیم کیے بغیر روابط: عالمی سفارتی حکمت عملی
چین کی محتاط سفارتکاری

چین بھی طالبان سے مختلف سطحوں پر روابط رکھتا ہے۔ بیجنگ نے طالبان سفیروں کو قبول کیا ہے اور انہیں چین میں افغان سفارت خانے کا کنٹرول دیا ہے، مگر ابھی رسمی تسلیم سے گریز کر رہا ہے۔ چین کی یہ پالیسی معاشی مفادات، سکیورٹی خدشات اور اس تاثر سے بچاؤ پر مبنی ہے کہ وہ طالبان کی متنازعہ پالیسیوں کو تسلیم کرنے والا پہلا بڑا ملک نہ بنے۔

دیگر ممالک کا رویہ

ترکی، ایران اور پاکستان جیسے ممالک نے طالبان کے ساتھ سفارتی روابط قائم کیے ہیں، لیکن باضابطہ تسلیم سے گریز کیا ہے۔ ان کے یہ روابط اکثر علاقائی، سکیورٹی یا معاشی مفادات پر مبنی ہوتے ہیں، مگر ابھی تک مکمل سفارتی حمایت نہیں دیتے۔












احمد آباد طیارہ حادثہ:معاوضے کولے کردھمکا رہا ایئرانڈیا...،متاثرین کاسنگین الزام ، کیا ہے کمپنی کا موقف؟
پچھلے مہینے 12 جون کو احمد آباد میں ایئر انڈیا کا طیارہ گر کر تباہ ہوگیا تھا۔طیارہ حادثے کی جانچ ابھی جارہی ہے ۔ اس بیچ اس حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ نے ایئر انڈیا پر سنگین الزامات لگائے ہیں۔ اہل خانہ نے ایئر انڈیا پرالزام لگایا ہے کہ ایئر لائنز انہیں مالی انحصار سے متعلق دستاویزات پر دستخط کرنے کے لیے مجبور کر رہا ہے تاکہ معاوضے کی رقم کو کم کیا جا سکے۔

وہیں ، ایئر لائنز نے مہلوکین کے لواحقین کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ ایئر لائنز صرف معاوضے سے متعلق عمل پر عمل درآمد کررہا ہے۔ ایئر انڈیا کے ذرائع کے مطابق، ان کی طرف سے بھیجے گئے سوال نامے کا مقصد صرف خاندانی تعلقات کی تصدیق کرنا ہے، تاکہ مستحقین میں معاوضے کی تقسیم کو یقینی بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک رسمی عمل ہے، جس پر عمل کرنا ضروری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایئر لائنز متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ سوال نامہ بذریعہ ای میل یا ذاتی طور پر جمع کیا جا سکتا ہے اور بغیر اجازت متاثرہ کے گھر یا ان کے رشتہ داروں کی رہائش گاہ کا دورہ نہیں کیا جائے گا۔ ایئر انڈیا کے ذرائع کے مطابق اس کے لیے الگ الگ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو آخری رسومات، رہائش اور دیگر انتظامات میں اہل خانہ کی مدد کر رہی ہیں۔

برطانیہ کی ایک لیگل فرم نے لگائے الزامات
ایئرلائنز کے مطابق اب تک 47 خاندانوں کو پیشگی ادائیگی کی جا چکی ہے اور 55 خاندانوں کو ادائیگی کا عمل جاری ہے۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ 40 سے زیادہ متاثرہ خاندانوں کی نمائندگی کرنے والی برطانیہ کی ایک قانونی فرم نے ایئر انڈیا پر الزام لگایا ہے کہ ایئر لائنز اس سوالنامے کے ذریعے خاندانوں پر مالی معلومات ظاہر کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے۔ فرم نے کہا ہے کہ سوالنامے میں کئی قانونی اصطلاحات ہیں جن کی کوئی وضاحت نہیں کی جا سکتی۔سوال نامے میں اہل خانہ سے مانگی گئی ہیں یہ معلومات

ان کا دعویٰ ہے کہ ان سوالات سے حاصل ہونے والی معلومات کو بعد میں اہل خانہ کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔ وکلاء کا یہ بھی کہنا ہے کہ اہل خانہ کو شدید گرمی میں قانونی مشورے کے بغیر فارم بھرنے پر مجبور کیا گیا، جس میں ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ مالی طور پر متوفی پر منحصر ہیں؟ یہ سوال معاوضے کی رقم کو متاثر کر سکتا ہے۔ خیال رہے کہ 12 جون 2025 کوایئر انڈیا کا طیارہ گر کر تباہ ہو گیا تھا جس میں ایک مسافر کے علاوہ تمام 241 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ٹاٹا گروپ نے مہلوکین کے لواحقین کو ایک کروڑ روپے کے معاوضے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے علاوہ تعلیم، صحت اور بازآبادکاری کے لیے 500 کروڑ روپے کا ٹرسٹ قائم کرنے کا بھی اعلان کیا گیا۔

Thursday, 3 July 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*








*اسلام جمخانہ مالیگاؤں: جدید دور کا معیاری فٹنس مرکز*

*پروفیشنلس کے لیے رات 2 بجے تک ٹریننگ کی سہولت*
 
*مالیگاؤں: شہر کے مشہور و قدیم *اسلام جمخانہ* نے نیا ٹائم ٹیبل جاری کر دیا ہے، جس کے تحت اب صبح 7:00 بجے سے 9:30 بجے تک اور شام 4:00 بجے سے رات 2:00 بجے تک جم کی سہولت دستیاب ہوگی۔*
 
*رات دیر تک کھلے رہنے کی سہولت خاص طور پر ان کاروباری حضرات، ڈاکٹرز، اور پروفیشنلس کیلئے رکھی گئی ہے جو دن کے وقت مصروف ہوتے ہیں۔*
 
*اسلام جمخانہ میں جدید سہولیات جیسے ویٹ ٹریننگ، کارڈیو، پرسنل ٹریننگ، ڈائٹ پلاننگ، فیٹ لاس، اور مسل بلڈنگ کی خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔*
 
*جدید ایڈوانس مشینری میں فنکشنل ٹرینر، چیسٹ فلائی، ملٹی چیسٹ پریس، فنکشنل ٹاور، اولمپک راڈ، لیگ پریس، ملٹی شولڈر پریس شامل ہیں۔ چینجنگ روم، صاف پینے کا پانی، پر سکون ماحول اور پارکنگ کی سہولیات بھی دستیاب ہیں۔*
 
*انتظامیہ کی جانب سے واضح طور پر موزیک اور خرافات کو مکمل طور پر ممنوع قرار دیا گیا ہے تاکہ ایک باوقار اور صحت مند ماحول قائم رکھا جا سکے۔*
 
*اسلام جمخانہ کا قیام سن 1987 میں عمل میں آیا، جو آج بھی حاجی افتخار پہلون کی سرپرستی میں کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے۔*

*فیس کی تفصیلات:*
 ماہانہ فیس: ₹300
 ایڈمیشن فیس: ₹500
 ویٹ لوس ( کارڈیو) : ₹700

**رابطہ کیلئے:* 
آفتاب ماسٹر (جنتا نمبر 1)، اسسٹنٹ ڈائریکٹر: 7820808362












دعوتِ اسلامی انڈیا کے فلاحی ادارے GNRF کی شجرکاری مہم کا شاندار آغاز

7 جولائی تا 15 جولائی 2025
ماحولیاتی آلودگی، گلوبل وارمنگ اور بڑھتے درجہ حرارت کے پیشِ نظر دعوتِ اسلامی انڈیا کے فلاحی ادارے غریب نواز ریلیف فاؤنڈیشن (GNRF) نے "پودا لگانا ہے، درخت بنانا ہے" کے عزم کے ساتھ ایک عظیم الشان شجرکاری مہم کا آغاز کیا ہے، جو ملک بھر میں 7 جولائی سے 15 جولائی 2025 تک جاری رہے گی۔

اس مہم کے تحت مختلف جگہوں پر اسکولوں، دینی مدارس، کالجوں، مساجد اور عوامی مقامات پر لاکھوں پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس مہم کا مقصد صرف پودے لگانا نہیں بلکہ انہیں درخت بنانا اور ان کی نگہداشت کے ذریعے ایک سرسبز اور محفوظ ہندوستان کی بنیاد رکھنا ہے۔

نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: "جو درخت لگائے، اور اس سے انسان یا جانور فائدہ اٹھائیں، تو یہ اس کے لیے صدقہ جاریہ ہے" تفسیر کبیر،ج6، ص367

یہ مہم ایک طرف سنتِ نبوی ﷺ پر عمل کا ذریعہ ہے تو دوسری طرف آنے والی نسلوں کے لیے صاف فضا اور سایہ دار ماحول کی تیاری بھی ہے۔ GNRF کے کارکنان "Save Nature" کے عنوان سے مختلف تعلیمی و مذہبی اداروں میں عوامی بیداری پروگرام بھی کر رہے ہیں۔

 آپ بھی اس مہم میں شریک ہوں!

اپنے گھر، محلے، گاؤں یا ادارے میں ایک پودا لگائیں، اور نیچر کو بچائیں۔
کیونکہ صرف پودا لگانا کافی نہیں، اسے درخت بنانا اور سنبھالنا بھی ضروری ہے۔

















دارالعلوم غوث اعظم میں 4 روزہ یادِ شہیدان کربلا

اشرف الحفاظ الحاج حافظ ساجد حسین اشرفی علیہ الرحمہ کی قائم کردہ علم دین و عشق رسول کی عظیم درسگاہ دارالعلوم اہلسنت غوث اعظم، مالدہ شیوار میں نواسۂ رسول، جگر گوشۂ بتول، شہزادۂ گلگوں قبا، راکب دوشِ پیغمبر حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ اور جملہ شہیدان کربلا و اسیران کربلا رضوان اللہ علیہم اجمعین کی بارگاہ میں ارمغانِ عقیدت پیش کرنے کے لیے 4 روزہ پروگرامات بنام ذکر شہدائے کربلا ذیل کے مطابق ہونگے۔ 7 محرم الحرام 1447ھ بروز جمعرات صبح 10 بجے سے اجتماعی قرآن خوانی، محفل نعت، منقبت و تقاریر اور بعدہ قل شریف و فاتحہ خوانی اور نقطہ اختتام سبیل و لنگر کا بھی نظم رہے گا۔ 8، 9 محرم الحرام 1447ھ بروز جمعہ، سنیچر بعد نماز عشاء فوراً، اور 10 محرم الحرام 1447ھ بروز اتوار بعد نماز ظہر فوراً (اس تقریب کے اختتام پر دعائے عاشورہ پڑھائی جائے گی اور پورے عالم اسلام کے مسلمانوں کے لیے خصوصی دعا کی جائیگی) فضائل صحابہ واہلبیت اور واقعات کربلا پر فرزند اشرف الحفاظ قاری عبید الرحمن اشرفی صاحب (ناظم اعلیٰ دارالعلوم غوث اعظم) اپنے مخصوص و دلنشین انداز میں خطاب فرمائیں گے، ذہن نشین رہے یہ تمام تقریبات مردوں کے لیے دارالعلوم ہذا سے متصل مرکزی مسجد جامع اہلسنت زیتون حجن میں منعقد ہوگی اور خواتین اسلام کے لئے دارالعلوم ہذا کے سید مختار اشرف ہال میں نظم رہے گا۔ لہٰذا عاشقان صحابہ و اہلبیت سے مع دوست و احباب پر خلوص استدعا ہے کہ شرکت فرما کر شہیدان کربلا کی بارگاہ میں ارمغانِ عقیدت پیش کریں۔ المعلن: عرس کمیٹی، دارالعلوم غوث اعظم، مالدہ










طنز و مزاح کی محفل کامیاب رہی


مورخہ یکم جولائی بروز منگل شب دس بجکر دس منٹ پر اسکس لائبریری ہال میں محفل طنز و مزاح سلسلہ نمبر بارہ کا انعقاد، محترم جاوید انصاری ( جلگاؤں آکاش وانی) کی صدارت میں ہوا زندہ دلان مالیگاؤں کے زیراہتمام اسکس لائبریری اور MACA کے اشتراک سے یہ تقریب کامیابی سے ہمکنار ہوئی ۔

رضوان زبانی کی قرآت سے پروگرام کا آغاز ہوا۔ سب سے پہلے محترم مختار یوسفی صاحب نے اسٹارٹر میں پُر لطف ادبی لطائف پیش کئے۔ بعده عثمان غنی اسکس نے تبرک میں پاگل پرتاب گڑھی کا مختصر تعارف اور ان کا نعتیہ کلام اور ایک ہزل بذریعہ آڈیو پیش کی ہزل گوئی میں منصور اکبر (سیف نیوز) اور سراج دلار صاحبان نے سامعین کو محظوظ کیا۔ بعد ازاں مزاحیہ نثر میں محترم ہارون سر نے " گدھا " عنوان سے اپنا انشائیہ پیش کیا ۔ مبین نذیر سے سٹی کالج نے " بادشاہ بھائی " اور عجیب انصاری نے "رکشہ" کے عنوان سے اپنی مزاحہ تخلیق پیش کی گذشتہ دنوں نہرو آڈیٹوریم ممبئی میں۔ عمران جمیل سر نے اپنا افسانہ پیش کیا تھا اور آصف سبحانی کے چار فن پارے انڈونیشیا کی نمائش کیلئے منتخب کئے گئے اس ضمن میں اِن دونوں صاحبان کا اعزاز و استقبال اسکس لائبریری اور سیف نیوز کیجانب سے صدر لائبریری مومن آصف ہارون کے ہاتھوں کیا گیا ۔

خطبہ صدارت میں جاوید انصاری صاحب نے منتظمین کی سراہنا کرتے ہوئے ایسی طنز و مزاح کی محفل کے انعقاد پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے اپنے مفید مشوروں سے نوازا ۔ پروگرام کی نظامت طارق اسلم سرنے بحسن و خوبی انجام دی۔ آصف سبحانی کے شکریہ کیسا تھ اس قہقہہ زار محفل کا اختتام ہوا ۔

*🔴سیف نیوز بلاگر*






غزہ ایک بار پھر فضائی حملوں سے لرز اٹھا، 94 افراد جاں بحق، اسرائیلی فوج نے خاموشی اختیار کر لی
غزہ، فلسطین: غزہ میں ایک بار پھر اسرائیل کی جانب سے وحشیانہ فضائی حملہ کیا گیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق غزہ کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ فضائی حملے جمعرات کی رات بھر ہوئے۔ غزہ میں راتوں رات ہونے والے حملوں اور فائرنگ کے نتیجے میں 94 فلسطینی جاں بحق ہو گئے، جن میں 45 ایسے تھے جو انتہائی ضروری انسانی امداد پہنچانے کی کوشش کر رہے تھے، اسپتالوں اور وزارت صحت نے یہ اطلاع دی۔اسرائیلی فوج نے فوری طور پر حملوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا

اس دوران اس سے قبل کم از کم 94 فلسطینی شہید ہوئے ہیں۔ اس میں 38 لوگ امداد کے منتظر تھے۔ تاہم اس حملے کے حوالے سے اسرائیلی فوج کی جانب سے تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ اس سے قبل اتوار کو بھی غزہ کی پٹی کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس دوران کئی لوگ مارے گئے۔ غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن کے ساتھ منسلک سائٹس کے باہر پانچ افراد ہلاک ہو گئے۔بے گھر فلسطینی پناہ گزین خیموں پر بمباری

بدھ کی رات اور جمعرات کی صبح پٹی پر بمباری کرنے والے فضائی حملوں میں درجنوں افراد مارے گئے، جن میں 15 افراد بھی شامل ہیں جنہوں نے وسیع و عریض مواسی زون میں خیموں کو نشانہ بنایا، جہاں بہت سے بے گھر فلسطینی پناہ لیے ہوئے ہیں۔ غزہ شہر میں بے گھر افراد کو پناہ دینے والے ایک اسکول پر الگ حملے میں بھی 15 افراد ہلاک ہوئے۔ کی پٹی میں فضائی حملے میں غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن سے وابستہ مقامات پر بھی پانچ افراد مارے گئے ہیں۔ جب کہ دیگر مقامات پر خوراک اور دیگر امدادی اشیاء کے منتظر 33 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ غزہ کی پٹی میں ٹرکوں کے ذریعے لوگوں تک امدادی سامان پہنچایا جاتا ہے۔ اس میں خوراک اور تمام ضروری اشیاء شامل ہیں۔شہری دفاع کے افسر المغیار نے حملے کے بارے میں معلومات دی

شہری دفاع کے افسر محمد المغیار نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "مغربی غزہ کے علاقے الرمل میں واقع مصطفیٰ حافظ اسکول پر اسرائیلی فضائی حملے میں 12 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جن میں زیادہ تر بچے اور خواتین ہیں۔ حملے کے دوران بڑی تعداد میں لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔" اسرائیل نے غزہ پر حملہ کیا تھا۔اسرائیل نے اس سے قبل اتوار کو غزہ کی پٹی پر حملہ کیا تھا۔ اس دوران کم از کم 21 فلسطینی مارے گئے۔ اسرائیلی فوج نے غزہ شہر اور شمالی علاقوں میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیوں میں شدت کے درمیان ان علاقوں کو خالی کرنے کا حکم دیا تھا۔ غزہ میں شہری دفاع کے ترجمان محمود بسال کے مطابق اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے انکلیو کے مختلف علاقوں میں بے گھر افراد کے گھروں اور خیموں پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 17 افراد ہلاک ہوگئے۔ اطلاعات کے مطابق درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔











مومن خان مومن: وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو -
وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہی یعنی وعدہ نباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

وہ جو لطف مجھ پہ تھے پیش تر وہ کرم کہ تھا میرے حال پر
مجھے سب یاد ہے ذرا ذرا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

وہ نئے گلے وہ شکایتیں، وہ مزے مزے کی حکایتیں

وہ ہر ایک بات پہ روٹھنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو


کبھی بیٹھے جو سب میں روبرو تو اشاروں ہی میں گفتگو
وہ بیان شوق کا برملا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

ہوئے اتفاق سے گر بہم تو وفا جتانے کو دم بہ دم
گلہ ملامتِ اقرباء تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
کوئی ایسی بات ہوئی اگر کہ تمہارے جی کو بری لگی
تو بیاں سے پہلے ہی بھولنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

کبھی ہم میں تم میں بھی چاہ تھی کبھی ہم میں تم میں بھی راہ تھی
کبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

کہا میں نے بات وہ کوٹھے کی مرے دل سے صاف اتر گئی

تو کہا کہ جانے مری بلا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

سنو ذکر ہے کئی سال کا کہ کیا اک آپ نے وعدہ تھا

سو نباہنے کا تو ذکر کیا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

وہ بگڑنا وصل کی رات کا وہ نہ ماننا کسی بات کا

وہ نہیں نہیں کی ہر آن ادا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو


جسے آپ گنتے تھے آشنا جسے آپ کہتے تھے باوفا
میں وہی ہوں مومنِ مبتلا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو











’کانٹا لگا گرل‘: شیفالی کی اچانک موت کے بعد بڑھتی عمر کے اثرات کو کم کرنے والے طریقہ علاج پر بحث
سنہ 2002 میں بالی وڈ کے معروف گیت ’کانٹا لگا‘ کے ری مکس سے معروف ہونے والی ماڈل اور اداکارہ شیفالی زریوالا کی محض 42 سال کی عمر میں اچانک موت کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی ہے تاہم اس کے بار ے میں بہت سی باتیں کی جا رہی ہیں۔

اُن کی موت کی تحقیقات کرنے والے کچھ پولیس افسران نے کہا ہے کہ شیفالی بہت سی دوائیں لے رہی تھیں جس میں اینٹی ایجنگ گولیاں (بڑھتی عمر کے اثرات کو کم کرنے والی ادویات) بھی شامل تھیں اور غالباً یہ دوائیں خالی پیٹ لینے کی وجہ سے ان کا بلڈ پریشر اچانک گِر گیا۔انڈین خبر رساں ادارے ’پریس ٹرسٹ آف انڈیا‘ نے ایک پولیس افسر کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ 27 جون کی دوپہر کو شیفالی نے ایک اینٹی ایجنگ انجکشن لگوایا تھا۔

پولیس افسر نے ابتدائی تفتیش کے حوالے سے پی ٹی آئی کو بتایا کہ اِس کے بعد ’اُن کا بلڈ پریشر تیزی سے کم ہوا اور وہ کانپنے لگیں جس کے بعد اہلخانہ انھیں ہسپتال لے گئے۔‘شیفالی کو 27 جون کو ’اندھیری‘ کے بیلیوو ملٹی سپیشلٹی ہسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے انھیں مردہ قرار دیا۔ پولیس کو دیر رات ایک بجے ان کی موت کی اطلاع دی گئی اور اس کے بعد ان کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ممبئی کے ہسپتال بھیج دیا گیا۔

پولیس کے مطابق: ’پولیس نے اب تک ان کی موت کے متعلق 10 لوگوں کے بیانات قلمبند کیے ہیں، جن میں شیفالی کے شوہر اور والدین کے ساتھ ساتھ گھر میں کام کرنے والے ملازمین بھی شامل ہیں۔ وہ سب اُس وقت گھر پر تھے۔ تاہم اب تک کچھ بھی مشتبہ نہیں ملا ہے۔ تحقیقات کے سلسلے میں پولیس کی ایک ٹیم فرانزک ماہرین کے ساتھ اُن کے گھر گئی اور بہت سی چیزوں کے نمونے اکٹھے کیے۔ اس میں شیفالی کی دوائیاں اور انجیکشن بھی شامل ہیں۔‘

اگرچہ شیفالی کی موت کا تعین ہونا ابھی باقی ہے مگر اسی کے بیچ انڈیا اور پاکستان میں یہ بحث تیز ہو گئی ہے کہ اینٹی ایجنگ ٹریٹمنٹ سے کون سے خطرات وابستہ ہو سکتے ہیں۔

معروف اداکاراؤں نے کیا کہا؟شیفالی کی موت کے بعد اداکارہ ملیکا شیراوت نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے اپنے مداحوں کو ’صحت مند طرز زندگی‘ اپنانے کا مشورہ دیا۔

انھوں نے کہا: ’میں نے کوئی فلٹر استعمال نہیں کیا، کوئی میک اپ نہیں کیا۔ میں نے اپنے بال بھی نہیں سنوارے۔ میں یہ ویڈیو آپ سب کے ساتھ شیئر کر رہی ہوں تاکہ ہم سب مل کر بوٹوکس، مصنوعی کاسمیٹک فلرز کو ناں اور ایک صحت مند طرز زندگی کو ہاں کہہ سکیں۔‘

دوسری جانب ایک انٹرویو میں اداکارہ کرینہ کپور نے کہا کہ ’میں بوٹوکس کے خلاف ہوں۔‘

تاہم وہ صرف اداکاراؤں کے لیے بڑھتی عمر کے ساتھ بڑھتے ہوئے چیلنجز پر بات کر رہی تھیں اور ان سے پوچھا گیا تھا کہ کیا وہ بھی جھریوں اور بڑھاپے سے ڈرتی ہیں؟

اس کے جواب میں کرینہ نے کہا کہ ’میں بوٹوکس کے خلاف ہوں، مگر میں اپنی صحت کی حفاظت کے حق میں ہوں، جس کا مطلب ہے صحت مند رہنا، اچھا محسوس کرنا اور قدرتی علاج۔۔۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ چھٹیاں منائیں، فیملی اور دوستوں کے ساتھ وقت گزاریں، سیٹ پر آپ جو کچھ کرتے ہیں اس سے مختلف کریں نہ کہ انجیکشنوں اور سرجریوں میں الجھیں۔‘

تاہم ان دونوں اداکاراؤں نے اپنے بیان میں شیفالی کا ذکر نہیں کیا تاہم اُن کی موت کے بعد ان دونوں اداکاراؤں کے بیانات کو ان کی موت سے جوڑا جا رہا ہے۔

اینٹی ایجنگ ٹریٹمنٹ کیا ہے؟
جیسے جیسے ہماری عمر بڑھتی ہے چہرے پر ناصرف جُھریاں نمودار ہونے لگتی ہیں بلکہ چہرے کی جلد بھی آہستہ آہستہ ڈھلکنے لگتی ہے۔ لیکن بڑھتی عمر کے ان اثرات کو کم کرنے کے لیے آج کل کاسمیٹک سرجری، انجیکٹیبل فلرز، بوٹوکس وغیرہ کا رجحان بڑھ گیا ہے۔

اینٹی ایجنگ ٹریٹمنٹ کچھ ادویات یا دواؤں اور مرکبات کے امتزاج سے کیا جاتا ہے جو بڑھاپے کے اثرات کو کم کرنے میں مدد کرتے ہیں۔

ان میں سب سے زیادہ مقبول بوٹوکس ہے جو کہ ایک طاقتور انجکشن ہے جو ہمارے پٹھوں کے بہت چھوٹے حصے کو ریلیکس کرتا ہے۔ بوٹوکس کا استعمال پیشانی کی لکیروں یا آنکھوں کے گرد حلقوں، ناک کے گرد جھریوں کو کم کرنے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔

انڈیا میں فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے 20 سال سے زیادہ عرصہ پہلے ہی کاسمیٹک طریقہ کار میں اس کے استعمال کی منظوری دی تھی۔

دی ایستھیٹک کلینک کے سینیئر کاسمیٹک سرجن ڈاکٹر دیبراج شوم نے ایک ہندی نیوز ویب سائٹ ’دی للن ٹاپ‘ کو بتایا کہ ڈرمل فلرز ایسے انجیکشن ہیں جو جلد کے اندر لگائے جاتے ہیں۔ یہ اسی مادے سے بنتے ہیں جس سے ہماری جلد کے خُلیات بنتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ عمر کے ساتھ جلد میں کولیجن کم ہونے لگتا ہے لیکن فلرز کی مدد سے کولیجن واپس آ جاتا ہے اور چہرہ جوان نظر آنے لگتا ہے۔بہت سے لوگ اینٹی ایجنگ کے لیے گلوٹاتھیون انجیکشن بھی استعمال کرتے ہیں۔ یہ ایک اینٹی آکسیڈنٹ ہے جو ہمارے جسم کے خلیوں کو عمر کے ساتھ پہنچنے والے نقصان کو روکنے میں مدد کرتا ہے۔ گلوٹاتھیون اکثر نسوں کے انجیکشن اور گولیوں کے ذریعے لیا جاتا ہے۔

ڈرمیٹالوجی کی سینیئر کنسلٹنٹ ڈاکٹر انجو جھا کا کہنا ہے کہ ’گلوٹاتھیون ہمارے جسم میں پہلے سے موجود ہے، لیکن عمر کے ساتھ جسم گلوٹاتھیون کی پیداوار کو کم کرتا ہے، اس لیے اسے بیرونی ذرائع سے لیا جاتا ہے۔ یہ بھی مانا جاتا ہے کہ گلوٹاتھیون لینے والوں کی جلد کی رنگت کچھ بہتر ہوتی ہے۔ لیکن اگر نس کے ذریعے اسے لیا جائے تو اس کے نتائج اور بھی بہتر ہوتے ہیں۔ لیکن اس کے ضمنی اثارت بھی ہیں اور اسے ایف ڈی اے سے منظوری بھی حاصل نہیں ہے۔‘

یہ علاج کتنا محفوظ ہے؟کیا یہ فلرز یا گلوٹاتھیون انجیکشن اتنے خطرناک ہو سکتے ہیں کہ کسی کی جان لے سکتے ہیں؟

’انڈین ایکسپریس‘ سے بات کرتے ہوئے دہلی کے سر گنگا رام ہسپتال میں جلد کے امراض کے شعبے کے چیئرمین ڈاکٹر رشی پراشر کہتے ہیں کہ ’کچھ مستثنیات کو چھوڑ کر، ایسے انجیکشن اب تک محفوظ ثابت ہوئے ہیں۔ لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ انھیں رجسٹرڈ ڈرمیٹولوجسٹ کی تشخیص اور نگرانی میں لیا جانا چاہیے۔‘

اس کے ساتھ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بوٹوکس کے خطرات پر بحث اپریل 2024 میں اس وقت تیز ہوئی جب یو ایس سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن (سی ڈی سی) نے ایک وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا کہ 25 سے 59 سال کی عمر کی 22 خواتین میں بوٹوکس کے نقصان دہ رد عمل دیکھے گئے جن میں سے 11 کو ہسپتال میں داخل کرانا پڑا اور چھ افراد میں یہ دیکھا گیا کہ بوٹوکس کے لیے دیے گئے ٹاکسنز پھیل کر ان کے نروس سسٹم تک پہنچ گئے۔ یہ ایسی حالت ہے جو موت کا باعث بھی بن سکتی ہے۔

اس پر ڈاکٹر پراشر نے کہا کہ بعدازاں یہ ثابت ہوا کہ ان تمام خواتین نے بغیر لائسنس یا غیر تربیت یافتہ لوگوں سے انجکشن ایسے مقامات پر لگوائے جہاں صحت کے مراکز تک نہیں تھے۔ان ادویات کے خطرات پر ڈاکٹر انجو جھا کہتی ہیں کہ ’ایف ڈی اے نے گلوٹاتھیون کو اس لیے منظور نہیں کیا کیونکہ اس کے کچھ مضر اثرات دیکھے گئے ہیں۔ کچھ مریض اس کی وجہ سے انفیلیکشن کا شکار ہو سکتے ہیں۔ انجیکشن لگانے والی دوائیں سٹیون جانسن جیسی بیماریاں پیدا کر سکتی ہیں۔ یہ ایسی حالتیں ہیں جو دواؤں کے ردعمل سے پیدا ہوتی ہیں، جن میں موت کا خدشہ تو ہے لیکن یہ شاذو نادر کے زمرے میں آتا ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ جو لوگ جلد کو چمکدار بنانے یا جلد کو صاف ستھرا بنانے کے لیے ان ادویات کا استعمال کرتے ہیں، ان پر اس کا اثر تب ہی پڑتا ہے جب تک وہ اسے لے رہے ہوں۔ اس کا اثر ہمیشہ نہیں رہتا۔

ڈاکٹر انجو کہتی ہیں: ’یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ آپ کتنی دوائیاں لے رہے ہیں، آپ کو اسے لینا چاہیے یا نہیں۔ کیا آپ کو کوئی موجودہ مسئلہ ہے جو ان دوائیوں سے بڑھ سکتا ہے؟ اس سب کے لیے کسی اچھے ماہر امراضِ جلد کے مشورے کی ضرورت ہے۔‘

تاہم وہ کہتی ہیں کہ ایسے شواہد فی الحال نہیں ہیں کہ ’یہ (دوائیاں) ہارٹ اٹیک (دل کے دورے) کا باعث نہیں بن سکتیں۔ لیکن بعض اوقات زیادہ خوراک لینے سے جگر اور گردے متاثر ہو سکتے ہیں، اور اس طرح کے دیگر بالواسطہ اثرات ہوتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ یہ علاج کسی ماہر ڈاکٹر کی نگرانی میں کروایا جائے جو یہ جانتا ہو کہ کس پٹھے میں انجیکشن لگانا ہے اور کتنی مقدار میں۔ یہ خود نہ کریں، پارلر میں نہ کروائیں، اور کسی ایسے ڈاکٹر سے بھی نہ کروائيں جو اس طریقہ علاج کا ماہر نہ ہو۔‘









*🔴سیف نیوز بلاگر*







کیا کورونا ویکسین سے ہوتا ہے ہارٹ اٹیک ؟ ایمس کے ڈاکٹر نے بتا ئی بڑی بات، جلدی جان لیجئے
Covid Vaccine & Heart Attack Cases:کورونا کی وباء کے بعد ہارٹ اٹیک کے کیسز میں اضافہ ہوا ہے۔ پچھلے کئی سالوں میں مشہور شخصیات سے لے کر عام لوگ چلتے پھرتے ہارٹ اٹیک کا شکار ہو کر جان کی بازی ہار رہے ہیں۔ کرناٹک کے ہاسن ضلع میں گزشتہ 40 دنوں میں دل کا دورہ پڑنے سے 22 لوگوں کی موت ہو گئی۔ مرنے والوں میں زیادہ تر نوجوان ہیں۔ ایسے میں یہ بحث شروع ہو گئی کہ کیا کورونا ویکسین ہارٹ اٹیک کی وجہ ہے؟ یہ معاملہ سوشل میڈیا سے لے کر سیاسی گلیاروں تک زیر بحث آنے لگا۔ تاہم اب دہلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) کے ڈاکٹر ایس نارنگ نے پوری طرح واضح کر دیا ہے کہ ہاسن میں ہونے والی اموات کی وجہ کووڈ ویکسین نہیں ہے۔
ڈاکٹر ایس نارنگ نے کہا کہ کورونا ویکسین لینے کے بعد اچانک موت کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔ اگر آپ نے کووڈ ویکسین لی ہے تو آپ کا دل زیادہ محفوظ ہے۔ کووڈ ویکسین لینے کے بہت سے فائدے ہیں اور لوگوں کو افواہوں پر یقین نہیں کرنا چاہیے۔ ہاسن، کرناٹک میں دل کا دورہ پڑنے سے ہونے والی اموات کی وجہ طرز زندگی کی خرابی اور دیگر وجوہات ہیں۔ اسے کووِڈ ویکسین سے نہیں جوڑا جانا چاہیے۔ڈاکٹر ایس نارنگ نے مزید کہا کہ کووڈ ویکسین کی 2 خوراکیں لینے والے لوگوں میں اچانک موت کا خطرہ 49 فیصد تک کم ہو گیا ہے۔

واضح رہے کہ 2019 میں میں پھیلےکورونا کی وباء نے پوری دنیا میں تباہی مچائی تھی۔ ہندوستان میں بھی لاکھوں لوگ اس وباء میں زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ اس وباء سے بچاؤ کے لئے لوگوں نے کووڈ ویکسین کی دو ڈوز لی تھیں۔ اس کے بعد سے ہی یہ افواہ گاہے بگاہے پھیلتی رہتی ہے کہ ویکسین لگانے کے بعد ہارٹ اٹیک کے شرح میں اضافہ ہوا ہے اور لوگ اچانک موت کے آغوش میں چلے جارہے ہیں۔ایسے میں ایمس کے ڈاکٹروں کے ذریعہ اس تھیوری کو یکسر خارج کرنے کےبعد امید ہے کہ لوگ باشعور ہوں گے اور اس طرح کی افواہوں پر دھیان نہیں دیں گے۔












پاکستان کے گودام میں وہ کون سے خطرناک ہتھیار ، جن کا توڑ اب بھی نہیں بھارت کے پاس ، ایک تو ہے امریکہ سے بھی تیز ؟
بھارت اور پاکستان کے درمیان جب سے تب سے کشیدگی چل رہی ہے جب سے یہ ملک وجود میں آیا ہے ۔ آزادی کے اتنے سالوں کے بعد جہاں بھارت نے عالمی سطح پر اپنی پہچان بنائی ہے۔ وہیں پاکستان نے خود کو ایک ایسے ملک کے طور پر پیش کیا ہے جو اپنا سارا پیسہ اور وقت دہشت گردی کو پروان چڑھانے میں صرف کرتا ہے۔ وہاں کے لوگوں کے پاس کھانے کے لیے اناج نہ ہو، لیکن گودام میں بہت سے ہتھیار موجود ہوتے ہیں۔

اگر ہم ہندوستان اور پاکستان کی فوجی اور جوہری صلاحیتوں کا موازنہ کریں تو دونوں ممالک کے پاس جدید ہتھیاروں کے نظام اور جوہری ہتھیار موجود ہیں۔ اگرچہ پاکستان بھارت کی عسکری صلاحیت کے سامنے کہیں کھڑا نہیں ہوتا لیکن کچھ ایسے ہتھیار ہیں جن کے جواب کے لیے بھارت ابھی تک تلاش کر رہا ہے۔ بھارت کی فوجی صلاحیت، خاص طور پر روایتی اور جوہری ہتھیاروں میں، پاکستان کے مقابلہ کافی بہتر ہے لیکن پاکستان کے پاس کچھ ایسے ہتھیار ہیں جو بھارت کے لیے چیلنج بن سکتے ہیں۔ آئیے جانتے ہیں ان ہتھیاروں کے بارے میں۔ٹیکٹیکل نیوکلیئر ہتھیار
پاکستان کے پاس نصر (حتف 9) جیسے کم فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل ہیں، جن کی رینج 70 کلومیٹر ہے اور یہ ٹیکٹیکل ایٹمی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ ہتھیار بھارت کی کولڈ اسٹارٹ حکمت عملی یعنی سرحد پار سے تیز رفتار حملے کا جواب دینے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ ہندوستان کے پاس ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں کا کوئی جواب نہیں ہے کیونکہ ہندوستان کی جوہری پالیسی پہلے استعمال نہیں (NFU) اور بڑے پیمانے پر جوابی حملوں پر مرکوز ہے۔ پاکستان کی یہ صلاحیت بھارت کے لیے ایک چیلنج ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ بھارت کا S-400 میزائل دفاعی نظام کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کو روکنے میں پوری طرح کارگر ثابت نہیں ہو سکتا۔J-10C لڑاکا طیارہ اور PL-15 میزائل
پاکستان نے گزشتہ چند سالوں میں چین سے J-10C لڑاکا طیارے حاصل کیے ہیں جو جدید ریڈار اور PL-15 فضا سے فضاء میں مار کرنے والے میزائلوں سے لیس ہیں۔ PL-15 کی رینج 90 میل یعنی تقریباً 145 کلومیٹر یا اس سے زیادہ ہے، جو ہندوستان کے پاس موجود AIM-120 AMRAAM میزائلوں سے زیادہ لمبی رینج فراہم کرتی ہے۔ مئی 2025 کے ہندوستان پاکستان فوجی تنازعہ کے دوران، J-10C نے ہندوستانی رافیل طیاروں کو نشانہ بنایا۔ بھارت کے پاس Rafale اور Mirage-2000 جیسے بہترین لڑاکا طیارے ہیں لیکن PL-15 کی لمبی رینج بھارت کی فضائی دفاعی حکمت عملی کو چیلنج کر سکتی ہے۔

HQ-9P اور HQ-16 ایئر ڈیفنس سسٹم
پاکستان نے چین سے HQ-9P اور HQ-16 زمین سے فضاء میں مار کرنے والے میزائل سسٹم حاصل کر لیے ہیں۔ تاہم، مئی 2025 کے تنازعے میں ہندوستانی حملوں نے ان نظاموں کو تباہ کر دیا، جس سے ان کی افادیت پر سوالات اٹھے۔ اس کے باوجود وہ ہندوستان کے لیے ایک عارضی چیلنج ہیں۔ بھارت کا S-400 سسٹم ان سے زیادہ جدید ہے، لیکن ان کی تعیناتی بھارت کے فضائی حملے کے لیے ایک چیلنج بن سکتی ہے۔J-35A چین سے ملے گا
پاکستان کو چین سے J-35A فائفتھ جنریشن کا اسٹیلتھ لڑاکا طیارہ ملنے کا امکان ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان نے 40 J-35A جیٹ طیاروں کی خریداری کی منظوری دے دی ہے جن کی ترسیل 2025 کے آخر یا 2026 کے اوائل تک شروع ہونے کا امکان ہے۔یہ ڈیل چین کی جانب سے پانچویں جنریشن کے لڑاکا جیٹ کی پہلی برآمد ہوگی جو بھارت کے لیے ایک چیلنج ثابت ہوگی۔ بھارت کے پاس اب تک 4.5 جنریشن کے رافیل طیارے ہیں، لیکن پانچویں جنریشن کا لڑاکا جیٹ نہیں ہے۔ بھارت اس ٹیکنالوجی پر مارک-1 اور مارک-2 بنا رہا ہے لیکن اس میں وقت لگے گا۔

بیدو نیویگیشن سسٹم
پاکستانی فوج کی ‘آنکھیں’ سمجھی جانے والی چین کا بیڈو نیوی گیشن سسٹم دنیا کی بہترین نیوی گیشن ٹیکنالوجی ہے۔ Beidou نیویگیشن سسٹم چین کا مقامی GPS ہے، جو امریکہ کے GPS، روس کے GLONASS اور یورپ کے Galileo کی طرح کام کرتا ہے۔ یہ سسٹم 2020 میں مکمل طور پر فعال ہو گیا اور کہا جاتا ہے کہ یہ 100 گنا زیادہ درست معلومات فراہم کرتا ہے۔ پاکستان دنیا کا پہلا ملک ہے جس کو بیدو سسٹم تک فوجی سطح تک رسائی حاصل ہے۔ Beidou نیویگیشن سسٹم تین مداروں GEO، IGSO، MEO میں کام کرتا ہے۔ اس سے ہتھیاروں کو درست نشانہ بنانے اور معلومات کے تبادلے میں مدد ملتی ہے۔ یہ نظام امریکی GPS پر پاکستان کا انحصار ختم کرتا ہے، جس سے ڈیٹا میں ہیرا پھیری کا خطرہ کم ہوتا ہے۔بھارت کی جوابی صلاحیت
پاکستان کے ان ہتھیاروں کا مقابلہ کرنے کے لیے بھارت کے پاس طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل جیسے اگنی-V (8000 کلومیٹر رینج)، رافیل جیٹ طیارے اور S-400 ایئر ڈیفنس سسٹم ہیں، جو پاکستان کے شاہین III (2750 کلومیٹر) اور دیگر سسٹمز سے بہتر ہیں۔ بھارت کی تینوں فوجیں اور 180 ایٹمی ہتھیاروں کا ذخیرہ پاکستان کے 170 ہتھیاروں سے بہت بہتر ہے۔











زیلنسکی کو ایک اور جھٹکا، امریکا نے یوکرین کو ہتھیاروں کی سپلائی روک دی!
روس اور یوکرین کے درمیان تین سال سے جنگ جاری ہے۔ ادھر امریکہ سے ایسی خبر آئی ہے جس نے پیوٹن کو خوش کر دیا ہے۔ امریکی وزارت دفاع نے اپنے ہتھیاروں کے ذخیرے کی کمی کے باعث یوکرین کو بھیجے جانے والے میزائلوں اور ہتھیاروں کی کھیپ اچانک روک دی ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روس نے جون میں یوکرین پر ریکارڈ 5,337 ڈرون فائر کیے ہیں۔ یہ ایک ماہ میں اب تک کا سب سے بڑا فضائی حملہ ہے۔ امریکہ کی اس ‘اسٹاک چیک’ پالیسی کی وجہ سے یوکرین کو فی الوقت پیٹریاٹ میزائل، اسٹنگر سسٹم، ہیل فائر میزائل اور F-16 سے لانچ کیے جانے والے AIM میزائل نہیں ملیں گے۔ کریملن نے بدھ کو اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ڈپٹی پریس سیکریٹری اینا کیلی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ‘یہ فیصلہ امریکا کی ترجیحات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ ہماری فوج کی طاقت اب بھی غیر متزلزل ہے۔ یقین نہیں آتا تو ایران سے پوچھ لیں۔ لیکن دوسری طرف یوکرین میں حالات بہت نازک ہو چکے ہیں۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ ‘ہم امریکہ سے ہر سطح پر بات کر رہے ہیں، کیونکہ ہمیں فضائی دفاع کی اشد ضرورت ہے۔’یوکرین کو دوسرا دھچکا
ایک طرف امریکا نے ہتھیاروں کی سپلائی روک دی ہے تو دوسری جانب یوکرین کو بھی دوسرا دھچکا لگا ہے۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا اب مزید 30 ہزار فوجی روس بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ تعداد پچھلے سال بھیجے گئے فوجیوں سے تین گنا زیادہ ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شمالی کوریا کے فوجی یوکرین کے مقبوضہ علاقوں میں بڑے حملوں میں حصہ لیں گے۔اس سارے واقعے میں سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ امریکہ اور یوکرین کے درمیان اعتماد میں دراڑ نظر آنے لگی ہے۔ یوکرین کی وزارت خارجہ نے امریکی سفارت کار کو طلب کرکے سخت پیغام دیا کہ ‘ہتھیاروں کی فراہمی میں تاخیر سے روس کی مزید حوصلہ افزائی ہوگی۔’ یوکرین نے کہا کہ اس نے کیف میں قائم مقام امریکی ایلچی کو طلب کیا ہے۔ نیٹو کے سربراہ مارک روٹے نے یہ بھی کہا کہ وہ امریکہ کے تحفظات کو سمجھتے ہیں تاہم واضح طور پر کہا کہ ‘یوکرین کو اس وقت مکمل مدد کی ضرورت ہے۔’





*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑جھارکھنڈ پیپر لیک احتجاج: رانچی میں کئی طلباء کو حراست میں لیا گیا، مظاہرین کو روکنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال* ...