Tuesday, 30 September 2025

*🔴سیف نیوز بلاگ*

"اگر پُرامن طریقے سے مان گئے تو ٹھیک ورنہ..." نیتن یاہو نے ایک مرتبہ پھر حماس کو دی دھمکی

اسرائیل اور حماس جنگ کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ بندی کے منصوبے کے بعد، اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اب حماس کو کھلے عام خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے امریکی ثالثی کے امن منصوبے کو مسترد کیا تو اسرائیل اسے نہیں بخشے گا۔ اسرائیل اپنے طور پر کارروائی کرے گا اور کام مکمل کرے گا۔ نیتن یاہو کے بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ حماس کے بارے میں کسی شکوک وشبہات میں مبتلاء نہیں ہیں اور اگر وہ اس منصوبے پر راضی نہیں ہوتا ہے تو اسرائیل کے پاس دوسرے آپشنز موجود ہیں۔ نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں اپنا موقف واضح طور پر بیان کرتے ہوئے کہا، “ہم سب کو پرامن طریقے سے ایسا کرنے کا موقع دے رہے ہیں۔ لیکن اگر حماس نے اس منصوبے کو مسترد کیا یا شرائط میں تبدیلی کی کوشش کی تو اسرائیل کارروائی کرے گا۔ چاہے یہ آسان ہو یا مشکل ذرائع سے، یہ ضرور ہوگا۔”

فلسطینی نائب صدر حسین الشیخ نے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ بندی منصوبے کا خیر مقدم کیا ہے۔ انہوں نے اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کا اپنا ورژن پیش کرتے ہوئے اسے خوش آئند قدم قرار دیا۔ اس سے قبل فلسطینی حکومت نے اس منصوبے کا مثبت جواب دیا تھا۔

اسرائیل نے ٹرمپ کے امن منصوبے کی منظوری دے دی
نیتن یاہو نے ٹرمپ کے امن اقدام کو ایک اہم قدم قرار دیا اور کہا کہ اس سے غزہ تنازع کے خاتمے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے میں کیا شامل ہوگا:

تمام یرغمالیوں کو واپس کیا جائے گا
حماس کی فوجی طاقت تباہ ہو جائے گی
اس کا سیاسی اثر و رسوخ ختم ہو جائے گا
اور غزہ کبھی بھی اسرائیل کے لیے خطرہ نہیں بنے گا

نیتن یاہو نے ایران کے خلاف حالیہ فوجی کارروائی کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ “آپریشن رائزنگ لائن اور آپریشن مڈ نائٹ ہیمر میں ہم نے ایران کے جوہری اور میزائل پروگراموں کو شدید دھچکا پہنچایا۔ صدر ٹرمپ کے جرات مندانہ فیصلوں نے دنیا کو محفوظ بنا دیا ہے۔”

اب غزہ کا مستقبل کیا ہوگا؟

نیتن یاہو نے یہ بھی بتایا کہ اس منصوبے پر عمل درآمد کے بعد غزہ پر کس طرح حکومت کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حماس کے ہتھیار چھین لیے جائیں گے، غزہ کو غیر فوجی بنا دیا جائے گا، اور ایک پرامن سول انتظامیہ ہو گی، جو نہ حماس کے ہاتھ میں ہو گی اور نہ ہی فلسطینی اتھارٹی کے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حماس اس منصوبے کو قبول کرتا ہے تو تمام یرغمالیوں کو 72 گھنٹوں کے اندر رہا کیا جائے گا۔ اس کے بعد ایک بین الاقوامی تنظیم قائم کی جائے گی جو حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح کرے گی اور غزہ کو غیر عسکری طور پر ختم کرے گی۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس موقع پر کہا کہ اسرائیل اب غزہ پر قبضہ نہیں کرے گا۔ ہم ایک معاہدے کے قریب ہیں جو غزہ کی جنگ کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دے گا۔ ان کا 20 نکاتی امن منصوبہ خطے میں امن لائے گا۔

پاکستان: کوئٹہ میں خودکش حملہ، 10 افراد ہلاک ، 30 سے زیادہ زخمی

بلوچستان کی راجدھانی کوئٹہ میں پیراملیٹری فرنٹیئرکورکے ہیڈکوارٹرکے نزدیک کیے گئے خودکش حملے میں کم سے کم 10 افراد ہلاک جبکہ 30 سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔خودکش حملے کے بعد گولیوں کا تبادلہ بھی ہوا۔

دھماکے بعد علاقےمیں افراتفری مچ گئی۔ زخمیوں کوقریب کےاسپتال میں داخل کرایا یا ہے۔زخمیوں میں کچھ کی حالت نازک بتائی جاتی ہے ۔

مقامی میڈیا کے مطابق ماڈل ٹاؤن کے علاقے میں ایف سی ہیڈکوارٹرز پر سفید سوزوکی وین کے ذریعے خودکش حملہ کیا گیا۔خودکش حملہ آور کے ساتھ دیگر دہشت گرد بھی تھے جنھوں نے دھماکے کے بعد، ایف سی ہیڈکوارٹرز میں داخل ہونے کی کوشش کی لیکن ان کی کوششوں کو ناکام بنادیا یا۔

سکیورٹی اہلکاروں کی جوابی کارروائی میں 5 دہشت گردوں کو مارگرایا گیا ہے۔دھماکہ اتناشدیدتھا کہ اس کی آواز دور تک سنی گئی ۔ خودکش دھماکے کے نتیجے میں آس پاس کے گھروں اور عمارتوں کی کھڑکیوں اور دروازوں کےشیشے ٹوٹ گئے۔

گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچاہے ۔ مقامی میڈیا کی سیکورٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کےمطابق حملہ آور ایف سی کی وردی میں ملبوس تھا اور اس کے ساتھ پانچ دیگر دہشت گرد بھی موجود تھے۔سکیورٹی اہلکاروں نے علاقے کا محاصرہ کرلیا ہے۔ جانچ ایجنسیاں ثبوت اکھٹا کرنے میں مصروف ہیں۔
بہار انتخابات : بی جے پی کا ’’گھس پٹیا‘‘ نعرہ سے جے ڈی یو کی دوری، کیا این ڈی اے میں اختلافات انتخابی نتائج پر اثر ڈالیں گے!
بہار انتخابات: NDA میں اختلافات نمایاں،کیا یہ حل ہونگے؟
بہار اسمبلی انتخابات کے قریب آنے کے ساتھ ہی این ڈی اے اتحاد میں ایک عدم اطمینان کی کیفیت دکھائی دینے لگی ہے۔ اس بار بی جے پی نے اپنے انتخابی بیانیے کو ’’گھس پٹیا‘‘(درانداز) اور ریاست میں مبینہ ڈیموگرافک بحران کے مسئلے پر مرکوز کیا ہے۔ تاہم، اس کے سب سے بڑے اتحادی جے ڈی یو نے اس ایجنڈے سے صاف دوری اختیار کی ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ بحث بھی ہے کہ اگر یہ اختلاف گہرا ہوا تو این ڈی اے کے اتحاد پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔
مودی اور شاہ کا نعرہ :
وزیر اعظم نریندر مودی نے 15 ستمبر کو پورنیا کی ریلی میں کہا کہ این ڈی اے ہر درانداز کو ملک سے باہر نکالنے کے لیے پرعزم ہے اور الزام لگایا کہ آر جے ڈی اور کانگریس ایسے افراد کو بچانے کا کام کر رہے ہیں۔ بعد میں وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی دہلی اور بہار کے پروگراموں میں کانگریس پر انتخاب جیتنے کے لیے دراندازوں کا استعمال کرنے کا الزام لگایا۔

راہل گاندھی کی مہم پر نشانہ :
امت شاہ نے کہا کہ بی جے پی انتخاب کمیشن کے خصوصی SIR مہم کی حمایت کرتی ہے تاکہ ووٹر لسٹ کو دراندازوں سے پاک کیا جا سکے۔ انہوں نے راہل گاندھی کی ووٹر رائٹس مہم پر بھی نشانہ لگاتے ہوئے کہا کہ یہ مہمیں تعلیم، روزگار یا سڑکوں کے لیے نہیں بلکہ بنگلہ دیش سے آئے دراندازوں کو بچانے کے لیے تھیں۔

اگرچہ الکشن کمیشن نے حالیہ ووٹر لسٹ اپ ڈیٹ کے دوران کسی بھی درانداز کی تصدیق نہیں کی، بی جے پی کا یہ بیانیہ خاص طور پر سیمانچل کے اریا، پورنیا، کتہیر اور کشن گنج جیسے مسلم اکثریتی علاقوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ پورے بہار میں نافذ کرنا مشکل ہوگا، خصوصاً جب این ڈی اے کے اتحادی اس کے حق میں نہیں ہیں۔

جے ڈی یو اور ایل جے پی کی دوری :
جے ڈی یو کی سیاسی بنیاد ہمیشہ سیکولر سوشلسٹ سیاست پر رہی ہے۔ پارٹی کے ایک سینئر لیڈر کے مطابق، ان کی طاقت ترقی کے ایجنڈے میں رہی ہے اور انہیں آر جے ڈی-کانگریس کے طویل انتظامی ناکامیوں کے مقابلے میں اپنی کامیابیاں پیش کرنی چاہئیں، نہ کہ درانداز(گھس پٹیا) جیسے مسائل کو نمایاں کرنا۔ لوجپا (رام ولاس) نے بھی اب تک اس مسئلے پر کوئی رائے نہیں دی۔
مخالفین کا ردعمل : 
مخالفین نے بی جے پی پر شدید تنقید کی۔ آر جے ڈی کے قومی ترجمان سبودھ کمار مہتا نے کہا کہ وزیر اعظم اور امت شاہ بہار میں 20 سال کی ناکامی چھپانے کے لیے ’’گھس پٹیا‘‘ کا لفظ استعمال کر رہے ہیں اور انتخاب کو فرقہ وارانہ تقسیم کی طرف لے جانا چاہتے ہیں، جبکہ الکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ دے کر کہا ہے کہ بہار میں کوئی ’’گھس پٹیا‘‘ نہیں ہے۔

کانگریس ترجمان اشیت ناتھ تیوری نے سوال کیا کہ SIR عمل کے تحت اب تک کسی بنگلہ دیشی یا بھوٹانی ووٹر کی شناخت کیوں نہیں ہوئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اعداد و شمار کے مطابق، یو پی اے حکومت کے دور میں 2005 سے 2014 کے درمیان 77,156 بنگلہ دیشیوں کو واپس بھیجا گیا، جبکہ این ڈی اے حکومت میں 2015 سے 2017 کے درمیان صرف 833 ہی واپس بھیجے گئے اور 2018 سے 2024 تک کا ڈیٹا دستیاب نہیں۔

ووٹ چوری بمقابلہ گھس پٹیا بیان بازی : 
سیاسی تجزیہ کار سجن کمار سنگھ کے مطابق، کانگریس نے اس بار ’’آئین خطرے میں‘‘ کے مسئلے سے توجہ ہٹاکر ’’ووٹ چوری‘‘کو اہم موضوع بنایا ہے اور بی جے پی پر دباؤ بڑھایا ہے۔ بی جے پی نے کانگریس کو ’’پرو۔گھس پٹیا‘‘ قرار دے کر ردعمل دیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ’’گھس پٹیا‘‘ کا مسئلہ سیمانچل میں جذباتی اثر ڈال سکتا ہے، لیکن پورے بہار میں اس کا اثر یکساں نہیں ہوگا، اور جے ڈی یو کے رویے سے بی جے پی کو مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

انتخابی صورت حال میں یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ بی جے پی کا ’’گھس پٹیا‘‘ نعرہ جہاں اس کے بنیادی ووٹروں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، وہیں جے ڈی یو کی دوری این ڈی اے کے اندر اختلافات کی نشاندہی کرتی ہے۔ اگر یہ اختلافات انتخاب سے پہلے حل نہ کیے گئے تو اتحاد کو انتخابی نتائج میں بھاری نقصان برداشت کرنا پڑ سکتا ہے

*🔴سیف نیوز بلاگر *

سردار ہائی اسکول کی طالبہ کو مقابلہ حمد خوانی میں دوم انعام 
کلچرل کمیٹی آف مالیگاؤں کے زیراہتمام منعقدہ آل مالیکاوں انٹر ہائی اسکول جماعت ہشتم کے طلباء و طالبات کے درمیان مقابلہ حمد خوانی (سلسلہ نمبر ٣) رکھا گیا جس میں شہر عزیز مالیگاؤں کی ہائی اسکولوں سے تقریباً ٢٢ حمد خواں طلباء و طالبات نے شرکت کی- الحمدللہ ثم الحمدللہ! مقام مسرت ہے کہ سردار ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کی جماعت ہشتم اے کی طالبہ "سارہ صدف وسیم احمد" نے اپنی بہترین پیشکش، عمدہ تلفظ اور خوبصورت کلام کی بدولت جج صاحبان کو متاثر کیا اور "دوم انعام" کی حقدار قرار پائی اور ٹرافی، سند، کتابیں اور ڈھیر سارے گفٹ ہیمپرس اپنے نام کیے- انچارج ٹیچر کو بھی تحائف پیش کیے گئے- اس شاندار کارکردگی پر، پرنسپل ایوبی شاہد اختر سر نے انعام یافتہ طالبہ اور اس کے والدین سمیت اسٹاف ممبران کو بھی مبارکباد پیش کی ہے اور دعاؤں سے نوازا ہے- 
ش ن الف سردار ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج مالیگاؤں
*طلبہ کی حفاظت پر مہاراشٹر حکومت کا آن لائن سروے*

*اسکولوں میں بچوں کو جنسی ہراسانی سے بچاؤ کی بیداری مہم تیز*

از قلم: رضوی سلیم شہزاد، مالیگاؤں 
موبائل: 9130142313 

مہاراشٹر اسٹیٹ اسکول ایجوکیشن اینڈ اسپورٹس ڈپارٹمنٹ کی جانب سے رواں تعلیمی سال میں کیے گئے اسکولی سروے کے نتائج نے واضح کیا ہے کہ طلبہ و طالبات کی حفاظت اور تحفظ کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔ سروے میں یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ بیشتر اسکولوں نے طلبہ کی جسمانی، ذہنی اور آن لائن حفاظت کے لیے مؤثر اقدامات کیے ہیں۔ سروے کے مطابق اسکولوں میں اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کو POCSO ایکٹ 2012 کے تحت بچوں کو جنسی جرائم سے بچانے سے متعلق قوانین سے واقف کرایا گیا ہے۔ اسی طرح طلبہ کو گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ کی تربیت دی جا رہی ہے تاکہ وہ بروقت کسی بھی غلط رویے کی نشاندہی کر سکیں۔
اس ضمن میں شکایت درج کرنے کے نئے راستے جیسے چائلڈ ہیلپ لائن نمبر 1098 سے رابطہ، پاکسو ای-باکس اور چِراگ ایپ کے علاوہ اسکولوں میں نصب شکایت بکس کے ذریعہ اپنی بات یا شکایات رکھ سکتے ہیں۔ ساتھ ہی اسکولی سطح پر سکھی ساوتری کمیٹی، خواتین شکایت کمیٹی، اور اسٹوڈنٹس سیفٹی اینڈ سیکیورٹی کمیٹی کو بھی فعال کیا جارہا ہے۔ ان کمیٹیوں کی ماہانہ میٹنگس اور رپورٹس سے شفافیت کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

*اسکولوں میں جدید حفاظتی انتظامات*
سروے کے مطابق اسکول کے احاطے میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جانا اور ان کی فوٹیج کا باقاعدہ معائنہ کئے جانے کو یقینی بنانے کی بات کہی گئی ہے۔ اسی طرح غیر مجاز افراد کے اسکولی احاطے، بلڈنگ یا برآمدے میں غیر ضروری داخلے پر مکمل پابندی عائد کرنا، طلبہ کی روزانہ حاضری کے سخت نظام کے تحت والدین کو غیر حاضری پر فوری طور پر مطلع کیا جانا شامل ہے۔لڑکیوں کے لیے سینیٹری نیپکن مشین کی تنصیب، نمائندہ طالبات کے ذریعہ بیت الخلاء کی نگرانی جیسے اقدامات شروع کرنے کی بابت اسکولوں کو ہدایات دی جارہی ہیں۔

*انٹرنیٹ اور آن لائن دنیا میں طلبہ کی حفاظت کو یقینی بنانا:*
چونکہ طلبہ کی بڑی تعداد اب انٹرنیٹ استعمال کرتی ہے اس لیے والدین اور طلبہ کو آن لائن فشنگ، پرائیویسی اور سوشل میڈیا خطرات سے آگاہ کرنے کے لیے بیداری سیشن منعقد کرنے کی ہدایات اسکولوں کو دی جارہی ہیں۔ اس کے لیے متعلقہ پولس اسٹیشن سے سائبر ایکسپرٹ کو مدعو کرکے طلباء و طالبات کو اس بات سے آگاہ کرایا جانا ہے کہ وہ کسی اجنبی کے ساتھ اپنی معلومات یا تصاویر شیئر نہ کریں۔

*طلبہ کی سیفٹی اور سیکیورٹی سے متعلق والدین اور اساتذہ کی مشترکہ ذمہ داری:*
ماہرین کے مطابق بچوں کی خاموشی سب سے بڑا اشارہ ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے رویے میں آنے والی تبدیلیوں پر نظر رکھیں اور انہیں یہ اعتماد دیں کہ وہ بلا جھجک اپنی بات والدین یا استاد سے کہہ سکیں۔ اساتذہ پر بھی لازم ہے کہ وہ محض پڑھانے تک محدود نہ رہیں بلکہ بچوں کے محافظ اور رہنما بھی بنیں۔
یہ حقیقت خوش آئند ہے کہ ریاستی حکومت نے بچوں کی حفاظت کو صرف رسمی کاروائی نہیں رہنے دیا بلکہ اس کو عملی اقدامات میں ڈھالا ہے۔ تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ بیداری کی یہ مہم صرف اسکولوں تک محدود نہ رہے بلکہ والدین، سماجی اداروں اور میڈیا کو بھی اس میں شراکت دار بنایا جائے۔ چائلڈ ابیوز ایک سنگین مسئلہ ہے جس سے صرف قانون نہیں بلکہ پورا سماج مل کر ہی نمٹ سکتا ہے۔ آج ضرورت ہے کہ بچوں کو محفوظ ماحول دینے کے لیے ہر شخص اپنی ذمہ داری محسوس کرے تاکہ آنے والی نسلیں خوف کے بجائے اعتماد کے ساتھ تعلیم و تربیت حاصل کر سکیں۔
***
*یورک ایسڈ کا بڑھ جانا ایک تکلیف دہ بیماری اور متبادل طریقہ علاج*


📌 *یورک ایسڈ کیا ہے؟*

یورک ایسڈ ایک کیمیائی مادہ ہے جو جسم میں Purines (جو کھانے پینے میں پائے جاتے ہیں) کے ٹوٹنے سے بنتا ہے۔

عام طور پر یہ گردوں کے ذریعے پیشاب کے ساتھ باہر نکل جاتا ہے۔

لیکن اگر یورک ایسڈ زیادہ بنے یا گردے اسے صحیح طریقے سے نہ نکال سکیں تو یہ خون میں بڑھ جاتا ہے، جسے Hyperuricemia کہتے ہیں۔

⚠️ *یورک ایسڈ بڑھنے کی وجوہات*

زیادہ گوشت، کلیجی، سمندری خوراک، دالیں، چنے، مٹر وغیرہ کا استعمال

الکحل اور کولڈ ڈرنکس

موٹاپا اور شوگر

گردوں کی کمزوری

کم پانی پینا

موروثی وجہ بھی ہو سکتی ہے۔

🤕 *علامات*

جوڑوں میں درد اور سوجن (خاص طور پر پاؤں کے انگوٹھے میں – گاؤٹ کی بیماری)

ہاتھ پاؤں میں اکڑاہٹ

ہلکی بخار جیسا احساس

گردوں میں پتھری بن جانا

🌿 *ہومیوپیتھی علاج*

ہومیوپیتھی میں علاج مریض کی علامات کے مطابق ہوتا ہے۔ چند مشہور اور مؤثر ادویات درج ذیل ہیں:

1. Colchicum 30 / 200

گاؤٹ (پاؤں کے انگوٹھے کا سوج جانا، سخت درد)

تھوڑا سا چھونے سے بھی تکلیف بڑھ جائے

2. Lycopodium 200

گردوں کی پتھری کے ساتھ یورک ایسڈ

شام کے وقت زیادہ تکلیف

گیس اور بدہضمی کے ساتھ

3. Benzoic Acid 30

یورک ایسڈ کی وجہ سے پیشاب میں شدید بدبو

گہرے رنگ کا پیشاب

جوڑوں میں درد

4. Urtica Urens Q (Mother Tincture)

یورک ایسڈ کے اخراج میں مددگار

گردے صاف کرنے والی دوا

5. Ledum Pal 200

اگر درد پاؤں کے نچلے حصے اور ٹخنوں میں زیادہ ہو

🥗 *گھریلو تدابیر*

زیادہ پانی پئیں 💧

سبزیاں، پھل (خاص طور پر چیری، سیب، اسٹرابیری، کیلا) استعمال کریں

گوشت، دالیں، کولڈ ڈرنکس، الکحل سے پرہیز

وزن کنٹرول کریں

ہلکی ورزش کریں 🚶

🩺 *روزانہ کا ہومیوپیتھک علاج*

(یہ عمومی رہنمائی ہے، علامات کے مطابق دوا بدلی بھی جا سکتی ہے دوا ہمیشہ اپنے قریبی ہومیوپیتھک ڈاکٹر کے مشورے سے لیں )

*صبح (ناشتہ سے پہلے)*

Urtica Urens Q (Mother Tincture) → 
10قطرے آدھے کپ پانی میں

مقصد: یورک ایسڈ کو گردوں کے ذریعے نکالنے میں مدد

*دوپہر*
Benzoic Acid 30 →
دو قطرے 

مقصد: یورک ایسڈ کے اخراج اور بدبو دار پیشاب میں بہتری


*شام*
Colchicum 30 → 
دو قطرہ 

مقصد: گاؤٹ / جوڑوں کے درد میں آرام

*رات (سونے سے پہلے)*

Lycopodium 200 →  
ہفتے میں دو بار دو قطرہ 

مقصد: گردوں کی کمزوری، گیس، اور یورک ایسڈ کا علاج

(اگر ٹخنوں یا پاؤں کے نچلے حصے میں زیادہ درد ہو تو Ledum Pal 200 ہفتے میں 2 بار دی جا سکتی ہے)

🥗 *غذائی پلان (Daily Diet Plan)*

*صبح (ناشتہ)*

✅ دلیہ (Oats / جو کا دلیہ)
✅ دودھ یا دہی
✅ سیب / کیلا

*دوپہر (Lunch)*

✅ سبز سبزیاں (توری، لوکی، بھنڈی، گوبھی وغیرہ)
✅ 2 چپاتی (گندم یا جو کے آٹے کی)
✅ سلاد (کھیرا، گاجر، مولی)
✅ دہی

*شام (Snack)*

✅ مٹھی بھر بادام یا اخروٹ (بھگو کر کھائیں)
✅ تازہ پھلوں کا رس (بغیر چینی کے)

*رات (Dinner)*

✅ ہلکی سبزی یا دالِ مونگ (چنے یا ماش کی دال منع ہے)
✅ 2 چپاتی
✅ سلاد

*سونے سے پہلے*

✅ نیم گرم دودھ (اگر ہضم ہو جائے تو)

❌ *پرہیز*

گوشت، کلیجی، سمندری خوراک

مٹر، چنے، راجما، بھنے چنے

کولڈ ڈرنکس، بازاری جوس

زیادہ چائے اور کافی

زیادہ تیل اور فرائی

✅ *اضافی ہدایات*

دن میں کم از کم 8 سے 10 گلاس پانی پئیں 💧

روزانہ 20–30 منٹ ہلکی ورزش یا واک 🚶

وزن قابو میں رکھیں

اگر درد زیادہ ہو تو affected حصہ گرم پانی کی بوتل یا نمک والے نیم گرم پانی سے سکائی کریں.

*حافظ انیس اظہر*
*9511767376*
منصورہ انجینئرنگ کالج میں نئے تعلیمی سال کے آغاز پر شاندار استقبالیہ تقریب

روزگار،تعمیرو ترقی اور خدمت خلق کابہترین ذریعہ ہے شعبہ انجینئرنگ:راشد مختار( سیکریٹری، جامعہ محمدیہ)

مالیگاؤں(پریس ریلیز)جامعہ محمدیہ ایجوکیشن سوسائٹی کے زیر اہتمام مولانا مختار احمد ندوی ٹیکنیکل کیمپس میں انجینئرنگ ڈگری کورسیس کے نئے تعلیمی سال کے آغاز پر سالِ اوّل میں داخل ہونے والے طلبہ کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب گزشتہ روز شاندار انداز میں منعقد کی گئی۔ اس موقع پر گزشتہ سال اول میں امتیازی نمبرات حاصل کرنے والے طلبہ کو ٹرافی اور توصیفی اسناد سے نوازا گیا۔ اس تقریب میں طلبہ کے والدین کو بھی خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا۔ پروگرام کا آغاز پروفیسر صدیقی محسن کی تلاوتِ قرآن مجید مع ترجمہ سے ہوا۔

جامعہ محمدیہ کے سکریٹری جناب راشد مختار نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج انسانی زندگی کے ہر شعبۂ حیات میں انجینئرنگ اپنی نمایاں خدمات انجام دے رہی ہے۔ اگر ہم میڈیکل سائنسز کو دیکھیں تو جدید مشینری، ڈائگنوسٹک آلات اور سرجیکل ٹیکنالوجیز سب انجینئرنگ کی دین ہیں۔ فارمیسی کے میدان میں دواؤں کی تیاری سے لے کر پیکجنگ تک انجینئرنگ کے مختلف پہلو کارفرما ہیں۔ ٹیکسٹائل انڈسٹری میں مشینوں کے ذریعے کپڑے کی تیاری اور پروسیسنگ انجینئرز کی محنت کا نتیجہ ہے۔اسی طرح ٹرانسپورٹیشن کے شعبے میں گاڑیوں، ہوائی جہازوں اور ریل گاڑیوں کی تیاری اور ان کے سسٹمز انجینئرز کی ایجاد ہیں۔ ٹیلی کمیونی کیشن اور کمپیوٹر ٹیکنالوجی کا تو ذکر ہی کیا، آج کی ڈیجیٹل دنیا میں انجینئرنگ کے بغیر رابطہ، ڈیٹا شیئرنگ، انٹرنیٹ اور مصنوعی ذہانت (AI) کا تصور بھی ممکن نہیں۔ انجینئرنگ نہ صرف روزگار کا ایک بہترین ذریعہ ہے بلکہ یہ معاشرے اور ملک کی ترقی کی بنیاد بھی ہے۔ ایک قابل اور ایماندار انجینئر اپنی مہارت اور دیانت داری کے ذریعے نئی ایجادات کرتا ہے، مسائل کے حل فراہم کرتا ہے اور عوامی سہولیات کو بہتر سے بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ باصلاحیت انجینئرز کی دنیا بھر میں قدر و قیمت ہے اور انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

اس موقع پر ڈگری کالج کے پرنسپل ڈاکٹر شاہ عقیل احمد نے طلبہ اور سرپرستوں کا استقبال کیا ۔ انھوں نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علم، مہارت(اسکل) اور رویہ( حسن سلوک) مل کر ان کی مجموعی شخصیت کو نکھارتے ہیں۔ طلبہ کو اچھا انجینئر بننے کے لیے علم حاصل کرنا، مہارتیں سیکھنا اور مثبت رویہ اپنانا ضروری ہے۔ یہ تینوں عناصر نہ صرف ان کی شخصیت سنوارتے ہیں بلکہ انہیں پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں بھی ممتاز بناتے ہیں۔ان مقاصد کو حاصل کرنے کیلئے ادارہ جامعہ محمدیہ طلبہ کو اسلامی ماحول میں اعلیٰ معیاری انجینئرنگ کی تعلیم فراہم کر رہا ہے۔جس کیلئے جامعہ محمدیہ کے چیئرمن محترم جناب ارشد مختارصاحب کی ایماء پر اور سیکریٹری جناب راشد مختارصاحب کی رہنمائی میں انجینئرنگ کالج کے تدریسی عملے میں آئی آئی ٹی، این آئی ٹی، اے ایم ایو، جے ایم آئی، سینٹرل یونیورسٹیز اور بیرونِ ملک سے تعلیم یافتہ ڈاکٹریٹ اساتذہ کی تقرری ہوئی۔نیزطلبہ کی عملی تربیت کے لیے پچاس سے زائد جدید لیبارٹریاں، اسمارٹ کلاس روم ، کمپیوٹر سینٹر، سنٹرل لائبریری اور دیگر سہولیات فراہم کی گئیں ۔اس کے علاوہ طلبہ کیلئے سیمینار، کانفرنس، اکسپرٹ لیکچرس، انڈسٹریل وزٹ اور ٹریننگ و پلیسمنٹ کا بھی اہتمام کیا جارہا ہے۔ 

ہیڈ آف ڈپارٹمنٹ ڈاکٹر آصف رسول نے سال اوّل کے اساتذہ کا تعارف پیش کیا اور کہا کہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ طلبہ سالِ اول میں سو فیصد کامیابی کے ساتھ بہترین نمبرات حاصل کریں، جس کے لیے اساتذہ بھرپور محنت کر رہے ہیں۔سال اول انجینئرنگ ڈگری کورسیس کے اساتذہ میں پروفیسر فہیم انصاری، پروفیسر فہد بلال، ڈاکٹر شمیم احمد، پروفیسر مومن شہباز، پروفیسر ضیا ء تنزیل اور پروفیسر اسامہ عبدالرب شامل ہیں۔ ڈپلومہ کالج کے پرنسپل ڈاکٹر یعقوب انصاری نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔اس تقریب کے اختتام پر ڈین اکیڈمکس ڈاکٹر سلمان بیگ نے رسمِ تشکر ادا کیا۔اس پروگرام کی کامیابی میں ناظم تقریب پروفیسر راغب ندیم، ڈاکٹر ہمایوں اختر، ڈاکٹر ساجد نعیم، پروفیسر عبدالواسع، پروفیسر شگفتہ پروین، پروفیسر نصرف رفیق اور دیگر اساتذہ نے اہم کردار ادا کیا۔

٭٭٭
ادارۂ سوئیس دھولیہ کی جانب سے مجلہ کا رسم اجراء 

دھولیہ :- آج مورخہ 25 ستمبر 2025 بروز جمعرات صدر و اراکین اسٹوڈنٹس ویلفیئر اینڈ ایجوکیشن سوسائٹی کی جانب سے نبیرۂ شیخ الکبیر شہزادۂ سلطان المشائخ بانئ دارالعلوم سلطانیہ چشتیہ دھولیہ حضرت علامہ مولانا الحاج الشاہ سید محمد فاروق میاں چشتی مصباحی دامت برکاتہم عالیہ کی صدارت میں تقریب رسمِ اجراء مجلّہ بنام سارے عالم کے معلم انسانیت حضرت محمّد ﷺ شہر عزیز کی معزز شخصیت و ادارۂ ہٰذا کے سیکرٹری محترم حاجی محمد عفان انصاری سر صاحب کے دستِ مبارک سے گولڈن ہال غفور نگر میں ہوا۔ اس پروگرام کا آغاز سوئیس ہائی اسکول جماعت نہم کے طالب علم حافظ ایمن جمیل احمد نے تلاوت قرآن مجید سے کیا تو بارگاہِ الہٰی میں حمدوثنا جماعت نہم کے طالب علم انصاری محمد سعد آصف اقبال نے پیش کرنے کی سعادت حاصل کی وہیں سرکارِ دوعالـــــــــم ، نورِ مجسم ، ساقئ کوثر ، شافع محشر ، شفیع المذنبین حضرت محمد ﷺ کی خدمت عالیہ میں نعت کا نذرانہ سوئیس اردو پرائمری اسکول کے طالب علم انصاری ایان نہال احمد نے پیش کیا۔ صدر موصوف کے انتخاب کے لئے تحریک صدارت محترم منظور سے نے پیش کیا جس کی تائید نوید سر نے پیش کیا۔ اراکین ادارۂ سوئیس کی جانب سے محترم الحاج اخلاق احمد چمڑے والے صاحب اور انیس احمد بھیّا نے صدر موصوف کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس کے بعد یکےبعد دیگرے تمام معزز مہمانان کا استقبال زاہد حسین صاحب ، ظفر مقصود اور خلیق الزماں سر کے دست مبارک سے کیا گیا۔ پروگرام کے اغراض و مقاصد و ادارۂ سوئیس کا اجمالی جائزہ ادارے کے جوائنٹ سیکریٹری و سوئیس اردو پرائمری اسکول کے چیئرمین حاجی زاہد حسین محمد یعقوب صاحب نے شریکانِ بزم کے گوش گزار کیا۔ وہیں اجراء شدہ مجلّہ بنام سارے عالم کے معلم انسانیت حضرت محمّد ﷺ کے ضمن میں جماعت چہارم کی طالبہ ظفیرہ جلیل احمد نے بڑے ہی موثر انداز اپنی تقریر کے ذریعے پورا خاکہ کہہ سنایا۔ خطبۂ صدارت میں نبیرۂ شیخ الکبیر شہزادۂ سلطان المشائخ بانئ دارالعلوم سلطانیہ چشتیہ دھولیہ حضرت علامہ مولانا الحاج الشاہ سید محمد فاروق میاں چشتی مصباحی دامت برکاتہم عالیہ نے کہا کی وقت کی قدر کرو وقت تمہاری قدر کروائے گا۔ ساتھ ہی علم حاصل کرو چاہے چین تک جانا پڑے ، ماں کی گود سے قبر تک علم حاصل کرو ، علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے کے ذریعے دینی اور عصری تعلیم پر سیر حاصل خطاب کیا اور طلباء و طالبات اور شریکانِ بزم کی بڑے ہی مشفقانہ انداز میں نصیحت آمیز رہنمائی فرمائی۔ اس وقت بطور مہمانِ خصوصی صدر جمیعت علماء ہند ارشد مدنی حافظ حفظ الرحمٰن صاحب ، صدر مدرس دارالعلوم سلطانیہ چشتیہ محترم محمد فاروق اشرفی صاحب ، محترم مفتی مکمل حسین سعدی مدرس دارالعلوم سلطانیہ ، محترم محمد رمضان اشرفی صاحب مدرس دارالعلوم سلطانیہ ، محترم متین انور صاحب ، محترم ساجد خنساء صاحب ، محترم عبدالرشید بھیّا صاحب بنفس نفیس موجود تھے۔ پروگرام کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے پروگرام کمیٹی کے ساتھ ادارۂ ہٰذا کے زیرِ انصرام جاری تمام ہی صدر مدرسین و جملہ اسٹاف نے محنت کی۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض شیخ اسماعیل سر اور خلیق الزمان سر نے بحسن خوبی انجام دیا۔ آصف سر کے رسم شکریہ ادا کرنے کے بعد پروگرام کا اختتام عمل میں آیا۔

*🛑سیف نیوز بلاگر*

قطر پر حملے کے لئے نیتن یاہو نے مانگی معافی ، وائٹ ہاؤس سے قطر کے پی ایم کو لگایا فون ، ٹرمپ بھی تھے موجود

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے قطری وزیراعظم محمد بن عبدالرحمن بن جسیم الثانی کو وائٹ ہاؤس سے ٹیلی فون کیا اور دوحہ میں ہونے والے حالیہ حملے پر معافی مانگی۔ اس ماہ کے شروع میں ہونے والی کارروائی میں حماس کے رہنما خلیل الحیا کے بیٹے اور اس کے ساتھی جہاد لباد سمیت پانچ افراد مارے گئے تھے۔ نیتن یاہو نے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد دیا۔

ادھر غزہ میں بموں اور گولیوں کی آوازیں تھمنے کو ہیں۔ کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بڑا بیان دیا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے ملاقات کے دوران صحافیوں نے ٹرمپ سے سوال کیا کہ کیا آپ کو یقین ہے کہ غزہ میں جلد امن قائم ہو جائے گا؟ ٹرمپ نے اعتماد کے ساتھ اعلان کیا، “میں مکمل طور پر پراعتماد ہوں، میں مکمل طور پر پُراعتماد ہوں۔” دونوں رہنما ملاقات کر رہے ہیں۔ ادھر قطر نے کہا ہے کہ حماس اپنے ہتھیار مکمل طور پر حوالے کرنے کے لیے تیار ہے۔ آئیے جانتے ہیں اس معاملے پر تازہ ترین اپ ڈیٹ…

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے قطری وزیراعظم محمد بن عبدالرحمن بن جسیم الثانی کو وائٹ ہاؤس سے ٹیلی فون کیا اور دوحہ میں ہونے والے حالیہ حملے پر معافی مانگی۔ اس ماہ کے شروع میں ہونے والی کارروائی میں حماس کے رہنما خلیل الحیا کے بیٹے اور اس کے ساتھی جہاد لباد سمیت پانچ افراد مارے گئے تھے۔ نیتن یاہو نے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد دیا۔

ادھر غزہ میں بموں اور گولیوں کی آوازیں تھمنے کو ہیں۔ کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بڑا بیان دیا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے ملاقات کے دوران صحافیوں نے ٹرمپ سے سوال کیا کہ کیا آپ کو یقین ہے کہ غزہ میں جلد امن قائم ہو جائے گا؟ ٹرمپ نے اعتماد کے ساتھ اعلان کیا، “میں مکمل طور پر پراعتماد ہوں، میں مکمل طور پر پُراعتماد ہوں۔” دونوں رہنما ملاقات کر رہے ہیں۔ ادھر قطر نے کہا ہے کہ حماس اپنے ہتھیار مکمل طور پر حوالے کرنے کے لیے تیار ہے۔ آئیے جانتے ہیں اس معاملے پر تازہ ترین اپ ڈیٹ…

امن منصوبے کے 21 نکاتی ایجنڈے کی جھلکیاں…
حماس فوری طور پر تمام اسرائیلی یرغمالیوں کو لوٹائے گا

لوگوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے انسانی امداد غزہ بھیجی جائے گی

اسرائیلی فوجی غزہ کی پٹی سے بتدریج انخلاء کریں گے

مغربی کنارے کو کبھی بھی الحاق نہ کرنے کا عہد

غزہ میں کسی بھی نئی بستیوں کی تعمیر کا خاتمہ

حماس کے بغیر نئی فلسطینی حکومت کا قیام

غزہ کے رہائشیوں کی جبری نقل مکانی نہ ہوا اور نہ ہی جنگ کے دوران فرار ہوئے لوگوں کی واپسی کو روکنے کی کوئی کوشش۔

قطر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یقین دلایا ہے کہ وہ حماس کو امن معاہدے پر راضی کرنے پر آمادہ کر سکتا ہے جس میں ہتھیار ڈالنے اور مسلح سرگرمیاں بند کرنے کی شرط شامل ہے۔ قطر کا کہنا ہے کہ اس کی ثالثی سے غزہ میں کشیدگی کم کرنے میں مدد ملے گی اور فلسطینی گروپوں کو مذاکرات کی ترغیب ملے گی۔ یہ اقدام مشرق وسطیٰ میں امن کی کوششوں میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔

امریکہ کے مشرق وسطیٰ کے خصوصی ایلچی ا سٹیو وٹ کوف نے کہا ہے کہ امریکہ نے غزہ کے لیے 21 نکاتی امن تجویز تیار کر لی ہے۔ اگرچہ اس کے مندرجات کو ظاہر نہیں کیا گیا ہے، ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ ہے کہ اس میں فلسطینی ریاست کے قیام کی تجویز شامل ہو سکتی ہے۔ نیتن یاہو نے اس تجویز کی سخت مخالفت کی۔ اس کے باوجود اگر ٹرمپ ڈٹے رہے تو تجویز منظور ہو سکتی ہے۔
غزہ امن منصوبہ پر ٹرمپ کو مودی کا ساتھ! اسرائیل۔حماس جنگ کے خاتمے کی امید

حماس اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ اب ختم ہونے کے قریب ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں امن قائم کرنے کے لیے ایک امن منصوبہ تجویز کیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے پر دنیا بھر میں رد عمل سامنے آیا ہے۔ اب پی ایم مودی نے بھی ٹرمپ کے غزہ پلان کی کھل کر حمایت کی ہے۔ پی ایم مودی نے ٹرمپ کے اقدام کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ ہندوستان ان کی مکمل حمایت کرتا ہے اور ٹرمپ کی پہل کے پیچھے تمام فریق متحد ہوں گے۔ اس سے امریکی منصوبے کے لیے ہندوستان کی حمایت حاصل ہو گئی ہے۔ اس سے قبل آٹھ دیگر ممالک ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کی حمایت کر چکے ہیں۔

ایم مودی نے ٹویٹر پر پوسٹ کیا، “ہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک جامع منصوبے کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ یہ فلسطینی اور اسرائیلی عوام کے ساتھ ساتھ وسیع تر مغربی ایشیائی خطے کے لیے طویل مدتی اور پائیدار امن، سلامتی اور ترقی کے لیے ایک قابل عمل راستہ پیش کرتا ہے۔

بھارت کے علاوہ کس نے حمایت کی؟
بھارت کے ساتھ ساتھ کئی مسلم ممالک نے ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کا خیر مقدم کیا ہے۔ قطر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم کیا گیا۔

غزہ امن منصوبہ کیا ہے؟
دراصل ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں جنگ ختم کرنے کے لیے 20 نکاتی غزہ پلان تیار کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت یہ واضح ہے کہ تمام یرغمالیوں کو 72 گھنٹوں کے اندر رہا کر دیا جائے گا اور غزہ میں ایک عارضی حکومت کو بحال کر دیا جائے گا۔

غزہ پر اسرائیل کا کنٹرول نہیں ہو گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ خود بورڈ آف پیس فار غزہ کی سربراہی کریں گے۔ اسرائیل نے اس پر رضامندی ظاہر کی ہے اور حماس کی رضامندی کا انتظار ہے۔ اگر حماس غزہ پلان پر راضی نہ ہوئی تو امریکا حماس کو ختم کرنے میں اسرائیل کا بھرپور ساتھ دے گا۔
برسات کا یہ پھل بہت سی بیماریوں کا علاج ہے، یہ آپ کی صحت کو بالکل تندرست رکھے گا

مانسون کا موسم آچکا ہے اور اب موسمی پھل بازاروں میں وافر مقدار میں نظر آرہے ہیں۔ مانسون کے دوران صحت مند رہنا بہت ضروری ہے اور اس کے لیے اپنی خوراک پر توجہ دینا بہت ضروری ہے۔ کیونکہ اس موسم میں کئی طرح کے انفیکشن اور بیماریاں بڑھنے لگتی ہیں۔

ایسے میں آپ کو اس موسم میں موسمی پھلوں کو اپنی خوراک میں شامل کرنا چاہیے جو آپ کو بارش کے دوران بیماریوں سے دور رکھیں گے۔ ان خاص پھلوں میں سے ایک ناشپاتی ہے۔ یہ پھل بہت سے غذائیت سے بھرپور ہے۔ اس میں وٹامن سی، پوٹاشیم، فولیٹ، کاپر اور مینگنیج بڑی مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ اس پھل کا استعمال ہمارے جسم کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔

سینئر آیورویدک ڈاکٹر چندر پرکاش ڈکشٹ کا کہنا ہے کہ اب موسم میں تبدیلی کے ساتھ ہی بازار میں موسمی پھل بڑی مقدار میں آنے لگے ہیں۔ یہ موسمی پھل جسم کے لیے بہت فائدہ مند ہیں۔ کیونکہ موسم کے مطابق ان پھلوں کو کھانا جسم کے لیے بہت اچھا ہے۔

اگر ہم ناشپاتی کی بات کریں تو یہ پھل بہت سے غذائی اجزاء سے بھرپور ہے جو کہ ہمارے جسم کے لیے بہت اچھا اور فائدہ مند ہے۔ اس میں بہت سے ایسے غذائی اجزاء پائے جاتے ہیں جو جسم کی مختلف بیماریوں کو ختم کرنے میں معاون ہوتے ہیں۔ اس لیے ہمیں اس پھل کا استعمال کرنا چاہیے

ہمیں اس پھل کو اپنی خوراک میں ضرور شامل کرنا چاہیے، اس کے علاوہ اگر ہم موسم میں یہ پھل کھاتے ہیں تو یہ ہمارے جسم کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔ ناشپاتی کے اس پھل کے استعمال سے جسم میں ہونے والی بیماریاں ٹھیک ہو جاتی ہیں۔

جسم کی سوجن کو کم کرنے، نظام انہضام کو صحت مند رکھنے، وزن کو کنٹرول کرنے کی طرح اس کے علاوہ یہ پھل ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بہت اچھا ہے۔ اس لیے ہمیں اس پھل کا استعمال کرنا چاہیے۔

Monday, 29 September 2025

*🛑سیف نیوز بلاگر*

دہلی۔ این سی آرمیں موسم نے لی کروٹ، بادلوں کا ڈیرہ اوربارش ، موسم ہوا خوشگوار

دہلی۔این سی آر میں آج موسم بدلا بدلا ہے۔ محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق، دہلی اور اس کے آس پاس آسمان پر سیاہ بادل چھائے ہوئے ہیں ۔ کئی جگہوں پرہلکی بارش بھی ہورہی ہے ۔ بارش وقفے وقفے سے ہورہی ہے ۔ دہلی کے موسم میں تبدیلی سے شدید گرمی اوراُمس سے عوام کوراحت ملی ہے ۔

محکمہ موسمیات نے منگل کو راجدھانی میں ہلکی بارش یا بوندا باندی کی پیش گوئی کی تھی۔ موسم ابرآلود رہے گا محکمے نے یہ امکان بھی ظاہر کیا تھا۔ پیر کو دہلی کا کم سے کم درجہ حرارت 28.7 ڈگری سیلسیس اور زیادہ سے زیادہ 35 ڈگری سیلسیس ریکارڈکیا گیاتھا۔ تاہم محکمہ موسمیات نے دو روز تک موسم خوشگوار رہنے کے باعث درجہ حرارت 4 سے 6 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرنے کی پیش گوئی کی ہے۔

دہلی بادل اوربارش
صبح 8:30 بجے تک دہلی میں کہیں بھی بارش ریکارڈ نہیں کی گئی تھی، صبح میں رطوبت کا تناسب 74 فیصد تھا۔ دہلی کی ہوا کا معیار صبح 8 بجے 114 کے ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) کے ساتھ ’اعتدال ‘ کے زمرے میں رہا، تاہم، صبح 10 بجے کے بعد موسم بدلنا شروع ہوا، اور 11 بجے تک، گھنے بادلوں نے پورے دہلی۔این سی آر خطے کو ڈھک لیا۔

ہوا کے رخ میں تبدیلی
مغربی ہوائیں گزشتہ کئی دنوں سے دہلی میں قہربرپا رہی تھیں۔ اس کی وجہ سے دہلی میں کم دباؤ کی صورتحال پیدا ہوگئی تھی، جس کی وجہ سے دہلی۔این سی آر میں شدید گرمی اور اُمس تھی۔ اس بیچ ، اتوار کو دہلی کے موسم نے گرمی کا دو سال کا ریکارڈ توڑ دیا۔

اتوار کو دہلی میں 36.6 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔ تاہم محکمہ موسمیات نے اتوار کو ہی دہلی کے موسم میں تبدیلی کی پیش گوئی کی تھی۔ محکمہ موسمیات نے کہا تھا کہ دہلی میں پیر سے آسمان ابر آلود رہنے کا امکان ہے۔ منگل کی صبح سے ہی دہلی کے موسم میں تبدیل آئی ہے۔
ٹرمپ نے کیا مجوزہ غزہ جنگ بندی منصوبے کا اعلان، نیتن یاہو نے کی حمایت، حماس نے کہافلسطینیوں کے مفادات کاتحفظ کسی معاہدے کا لازمی جُز

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے 20 نکاتی امن منصوبے کا اعلان کردیا ہے۔اس موقع پر ،وائٹ ہاؤس میں صدرٹرمپ کے ہمراہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو بھی تھے۔انھوں نے مجوزہ امن منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے اسے تاریخی دن قراردیا۔ٹرمپ نے بتایا کہ اس منصوبے کو تیارکرنے میں عرب اور دیگر ملکوں کی حمایت شامل رہی ہے ۔مزید ان کا دعویٰ ہے کہ اس منصوبے کو لوگوں نے پسند کیا ہے۔

اس منصوبے کے تحت اسرائیلی یرغمالیوں کی فوری رہائی،حماس کو غیرمسلح کرنا اور امن بورڈ کا قیام اہم ہیں ۔ٹرمپ کے مطابق،عرب اور مسلم ریاستیں غزہ کو غیر عسکری زون بنانے پر متفق ہو گئی ہیں اور ایک نیا عبوری انتظامی ڈھانچہ بنایا جائے گا۔امریکی صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ خود غزہ کی تعمیر نو اور بین الاقوامی نگرانی کے نگران ’بورڈ آف پیس‘ کے سربراہ ہوں گے، اور اس ذمہ داری کو انہوں نے قبول کرلیا ہے کیونکہ فریقین نے ان کو اس کا اہل قرار دیا ہے۔

امریکی صدرڈنلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ، عرب اور مسلم ممالک غزہ کو ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ مسلم ممالک حماس سے اس بارے میں بات چیت کریں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کے ساتھ ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ نے مشترکہ پریس کانفرنس میں غزہ جنگ بندی کے حوالے سے یہ اعلانات کیے۔

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ان کے غزہ امن منصوبے کو قبول کرنے کی آمادگی ظاہر کر دی ہے اور اگر حماس بھی اس کو تسلیم کر لیتی ہے تو تمام اسرائیلی یرغمالی 72 گھنٹے کے اندر رہا ہوں گے۔امریکی صدرٹرمپ نے حماس کو دھمکی بھی دی۔انھوں نے کہا کہ ، حماس نے اس معاہدے کو تسلیم نہیں کیا تو اسرائیل کو اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے کا حق حاصل ہے۔اس کارروائی میں امریکہ،اسرائیل کی مددتک کرے گا۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق حماس کو جنگ بندی کی تجویز موصول نہیں ہوئی ہے۔تاہم اس کا کہنا ہے کہ کسی بھی معاہدے میں فلسطینیوں کے مفادات کا تحفظ ہونا چاہیے۔مزید،حماس غزہ میں جنگ بندی کا خاتمہ کرنے والی کسی بھی تجویز کا مطالبہ کرنے کو تیار ہے۔اس نے غزہ سے اسرائیلی فوج کے انخلاء کو یقینی بنانے کی بھی بات کہی ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق،حماس کے عہدیدارنے بتایا کہ جہاں تک حماس کوغیرمسلح کرنے کا سوال ہے تو اس بارے میں اس کا واضح موقف ہے۔ اسرائیل کا قبضہ جب تک جاری رہے گا،مزاحمت کے ہتھیارسُرخ لکیرہیں۔
الجزیرہ کی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کے مطابق، حماس،صدر ٹرمپ کے اس منصوبے کا مطالعہ کررہی ہے ۔امریکی صدر ٹرمپ نے مجوزہ امن منصوبے کوایک سنگ میل قرار دیا، جس کا مقصد غزہ میں دیرپا امن قائم کرنا اور خطے کو مزید عدم استحکام سے بچانا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے ٹرمپ کے مجوزہ امن منصوبے کی حمایت کی ہے۔انھوں نے کہا کہ تمام یرغمالیوں کو زندہ یا مردہ72 گھنٹوں کے اندررہا کردیا جانا چاہیے۔بنیامن نیتن یاہو کے مطابق،یہ امن منصوبہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ اسرائیل کو دوبارہ حماس کی جانب سے کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔

انھوں نے بھی حماس کومتنبہ کیا کہ،اگر وہ اس امن منصوبے کومسترد کرتی ہے یا منصوبے کوماننے کے بعداس پر عمل نہیں کرتی ہے تو اس صورت میں اسرائیل کو اس سے نمٹنے کا اختیار حاصل ہوگا۔نیتن یاہو کا ماننا ہے کہ مجوزہ امن معاہدہ غزہ اور پورے مشرق وسطیٰ کے خطے کے لیے ’ایک نئی شروعات‘ ہو سکتا ہے ۔
ہریانہ : ایک اور پاکستانی جاسوس گرفتار ،تفتیش جاری، ہوسکتے ہیں انکشافات

پولیس نے ہریانہ سے ایک اور شخص کو پاکستان کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ ملزم پلول کا رہنے والا ہے اور وہ پاکستان کا سفر کرچکا ہے ۔ انٹیلی جنس ایجنسیاں اس وقت ملزم سے پوچھ تاچھ کر رہی ہیں۔ تفتیش میں اہم انکشافات ہوسکتے ہیں ۔

اطلاعات کے مطابق مرکزی تفتیشی ایجنسیوں کے ان پٹ پرپلول پولیس کی سی آئی اے نے یہ کارروائی کی۔ ملزم کی شناخت توفیق کے طور پر کی گئی ہے اور اس کے خلاف کئی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم بھارتی فوج کی سرگرمیوں سے متعلق انٹیلی جنس معلومات پاکستانی ہائی کمیشن کو بھیجتا تھا، اس کے موبائل فون سے غداری کے شواہد برآمد ہوئے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ ملزم توفیق کو 2022 میں پاکستان گیا تھااور تب ہی سے جاسوسی کا سلسلہ شروع ہوا

پہلے بھی ہوچکی ہیں گرفتاریاں
قابل غور بات ہے کہ ،ہریانہ میں اس سے پہلے جاسوسی کیس کے سلسلے میں گرفتاریاں ہو چکی ہیں۔ہسارکی مقبول یوٹیوبر جیوتی ملہوترا کو بھی گرفتار کیا گیا اور وہ جیل میں ہے۔ اس کے علاوہ ، پولیس نے کیتھل، پانی پت اور نوح میں لوگوں کو جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ اسی طرح کے جاسوسی معاملےمیں پنجاب میں بھی گرفتاریاں ہو چکی ہیں

Sunday, 28 September 2025

*مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکادمی ایوارڈ کا اعلان۔ برائےسال ۲۰۲۱ء،۲۰۲۲اور ۲۰۲۳ء کا اعلان ۔* ممبئی : (پریس ریلیز) مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکادمی کی جانب سے اردو زبان و ادب میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کی حوصلہ افزائی کے لیے ہر سال قومی و ریاستی سطح پرمختلف ایوارڈز اور اعزازات دیے جاتے ہیں۔اس روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اکادمی نے سال 2021ء، 2022ء اور 2023ء کے ایوارڈز کا اعلان کیا ہے۔ان ایوارڈز میں مرزا غالب ایوارڈ، ولی دکنی ایوارڈ، خصوصی ایوارڈ، صحافتی ایوارڈ، نیو ٹیلنٹ ایوارڈ، لے آؤٹ ایوارڈ اور مثالی معلم ایوارڈ شامل ہیں۔ہر سال یہ اعزازات ان افراد کو دیے جاتے ہیں جنہوں نے اردو زبان، ادب، صحافت اور تدریس کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دی ہوں یا نئی تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہو۔ان ایوارڈز کیلئے امیدواروں کے انتخاب کی غرض سے وزیر برائے اقلیتی امور کی منظوری سے ایک تحقیق و انتخاب کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔اردو اکادمی کے دفتر میں منعقدہ ایوارڈ کمیٹی میٹنگ میں تحقیق و انتخاب کمیٹی کے صدر اورممبران نےتینوں سال کے ایوارڈ کیلئےموزوں شخصیات کے ناموں پر غور و خوض کے بعد سفارشات مرتب کیں اور انہیں حکومت کی منظوری کیلئےمحکمہ اقلیتی ترقیات محکمہ کے سپرد کیا۔ وزیر برائے اقلیتی امور اور وزیر اعلیٰ مہاراشٹر نے تحقیق و انتخاب کمیٹی کی جانب سےتین سال کے ایوارڈ کیلئے کی گئی سفارشات کی جانچ کے بعداسے منظوری دےدی۔اردو اکادمی کے پچاس سال مکمل ہونے کی مناسبت سے ممبئی میں تین روزہ گولڈن جوبلی پروگرام 6 اکتوبر تا 8 اکتوبر منعقد کیا جارہا ہے۔ اس پُروقار تقریب میں ۲۰۱۹ ءسے ۲۰۲۳ءان ۵ سالوں کے تمام ایوارڈز تقسیم کئے جائیں گے۔گزشتہ تین سال کے ایوارڈز کی تفصیل حسب ذیل ہے۔فہرست برائےانعامات ۲۰۲۱ء مرزا غالب لائف ٹائم اچیومنٹ قومی ایوارڈ( ایک لاکھ رو پے): شمیم طارق ،ممبئی ولی دکنی ریاستی ایوارڈ:(اکیاون ہزار روپے) ڈاکٹرعظیم راہی،سی ایس نگر(اورنگ آباد( نیو ٹیلنٹ ایوارڈ( ریاستی انعام) انعام کی رقم پچیس ہزار روپے ۱۔صدیقی صائم الدین، سی ایس نگر (اورنگ آباد(۲۔ شیخ محسن شیخ الیاس(محسن ساحل)،عمر کھیڑ لے آؤٹ ڈیزائن ایوارڈ: انعام کی رقم پندرہ ہزار روپے ۱ٍ ۔ عبدالکریم قاسم علی ،ممبئی صحافتی ایوارڈ انعام کی رقم پندرہ ہزار روپے ۱۔ہارون افروز،ممبئی ۲۔ڈاکٹر شیخ علاؤالدین ،ممبئی ۳۔ محمد یوسف جیلانی،مالیگاؤں۴۔محمد صادق، ناندیڑخصوصی ایوار ڈ (اردو کے فرغ کیلئےہمہ جہت خدمات پر) (انعام کی رقم پندرہ ہزار روپئے (۱۔رؤف صادق،ممبئی۲۔مریم مرز اعبدالقیوم، سی ایس نگر (اورنگ آباد(۳۔انجم ضیاالدین تاجی،بلڈانہ۴۔ ڈاکٹر شاہین فاطمہ، سی ایس نگر (اورنگ آباد(۵۔وسیم عقیل شاہ، جلگاؤں۶۔ فرید احمد خان،(اردو کارواں)ممبئی۷۔سید سعید احمد،پونے۸۔انصاری اشفاق عمر ،مالیگاؤں۹۔ عامر پٹیل،مہابلیشور۱۰۔قاضی عامر الدین،دھاروا مثالی ٹیچر ایوارڈ : (انعام کی رقم پندرہ ہزار روپئے(یونیورسٹی اورڈگری کالج کی سطح پر ایوارڈ : ۱۔ڈاکٹر محمد تابش خان، ممبئی۲۔ہما کوثر احمد علی شیخ، ناندیڑ۳۔ڈاکٹر خالد احمد خان، ملکاپور۴۔ڈاکٹر عبدالماجد انصاری،مالیگاؤں۵۔ سید فرید احمد نہری، بیڑ۶۔ڈاکٹر عبدالواحد نظامی،اکولہاسکولی سطح پر ایوارڈ۱۔خان محمد اسرائیل، ممبرا۲۔قدیر سلیم خان، بھیونڈی۳۔جمیلہ خاتون شریف الحسن، ناگپور۴۔پٹھان شریف خان،جالنہ۵۔ریئس احمد خان،سانگلی۶۔ نسرین کوثر، پربھنی۷۔خواجہ کوثر جبین،سی ایس نگر( اورنگ آباد(۸۔سراج انور، ناندیڑ۹۔انصاری کلثوم بانو، تھانے۱۰۔احتشام نداف، شولاپور۱۱۔سید غزالہ تبسم، جلگاؤں۱۲۔محمد معین، واشم۱۳۔واثق اللہ خان، بلڈانہ۱۴۔ممتاز قمر الدین شیخ،ممبئی۱۵۔خان ترنم عباس، احمد نگرفہرست برائے انعامات ۲۰۲۲ء مرزا غالب لائف ٹائم اچیومنٹ قومی ایوارڈ ( ایک لاکھ رو پے):قاضی مشتاق احمد ،پونے ولی دکنی ریاستی ایوارڈ : (اکیاون ہزار روپے) نذیر فتح پوری،پونے نیو ٹیلنٹ ایوارڈ : انعام کی رقم پچیس ہزار روپے ۔۱۔متین احمدخان، بلڈانہ۲۔ محمد عامر آفاق،کامٹی لے آؤٹ ڈیزائن ایوارڈ: انعام کی رقم پندرہ ہزار روپے ۱ٍ ۔ انیس احمد،کامٹی صحافتی ایوارڈ انعام کی رقم پندرہ ہزار روپے ۱۔ انصاری ریئس احمد، ممبئی ۲۔عبدالواحد فاروقی، سی ایس نگر (اورنگ آباد)۳۔ملا محمد غالب، رتناگیری۴۔شرجیل قریشی ، جلگاؤں خصوصی ایوار ڈ (اردو کے فرغ کیلئےہمہ جہت خدمات پر) (انعام کی رقم پندرہ ہزار روپئے )۱۔زاہدہ اقبال صدیقی،میرا روڈ۲۔محمدمشتاق کریمی، جلگاؤں۳۔راجا باغبان، شولاپور۴۔ رفیق قاضی، پونے۵۔کمال احمد بلیاوی، ممبئی۶۔شیخ بشریٰ عبدالحسیب،سنگم نیر۷۔تاج الدین شاہد، رتناگیری۸۔بابر شریف، ناگپور۹۔سلطان اختر، شولاپور۱۰۔صدیقی محمد مبین، سی ایس نگر (اورنگ آباد) مثالی ٹیچر ایوارڈ : (انعام کی رقم پندرہ ہزار روپئے)یونیورسٹی اورڈگری کالج کی سطح پر ایوارڈ ۱۔ ڈاکٹر نور الامین،پربھنی۲۔مومن فہیم عبدالباری، بھیونڈی۳۔عائشہ عبدالعزیز پٹھان، شولاپور۴۔ڈاکٹر سید اصفیہ مدنی،بیڑ۵۔ڈاکٹر قاضی محمد کلیم الدین،پربھنی۶۔ امینہ فاروقی انعام الدین،نیک نوراسکولی سطح پر ایوارڈ۱۔قاضی محمد شمس الدین،پنویل۲۔محمد جاوید عبدالرحمان خان، گنگا کھیڑ۳۔فیروز خان عبداللہ خان،ملکاپور۴۔ریحان احمد ہمدانی،مالیگاؤں۵۔فرزانہ محمد شاہد،ممبئی۶۔محمد عمران امین،مالیگاؤں۷۔ساجد سلیم صدیقی،بھیونڈی۸۔شیخ نجمہ رفیق،ناسک۹۔خان نزہت کبیر،ممبئی۱۰۔ندیم اختر انصاری،دھولیہ۱۱۔مولا قاسم مدیل،شولاپور۱۲۔شریف خان ایوب خان،جلگاؤں۱۳۔رفیعہ شہناز محمد شریف،کامٹی۱۴۔نکہت احمد ناظم الدین،اکولہ۱۵۔ڈاکٹر یاسمین بانو،ملکاپور فہرست برائے انعامات ۲۰۲۳ء مرزا غالب لائف ٹائم اچیومنٹ قومی ایوارڈ( ایک لاکھ رو پے):سلیم شہزاد،مالیگاوں ولی دکنی ریاستی ایوارڈ:(اکیاون ہزار روپے) ایم مبین،بھیونڈی نیو ٹیلنٹ ایوارڈ : انعام کی رقم پچیس ہزار روپے ۱۔محمود اشرف،مالیگاؤں۲۔ فردوس انجم،بلڈانہ لے آؤٹ ڈیزائن ایوارڈ: انعام کی رقم پندرہ ہزار روپے ۱ٍ ۔عبدالقوی احمد،سی ایس نگر (اورنگ آباد) صحافتی انعام : انعام کی رقم پندرہ ہزار روپے ۱۔شیخ امتیاز نور محمد، ممبئی ۲۔الطاف احمد ثانی،ناندیڑ۳۔جمیل احمدشیخ عبدالقدیر،اکولہ۴۔سید علی انجم راشد علی، دھولیہ خصوصی ایوار ڈ (اردو کے فرغ کیلئےہمہ جہت خدمات پر) (انعام کی رقم پندرہ ہزار روپئے(۱۔پردیپ نپھاڈکر، پونے۲۔دوست محمد خان، سی ایس نگر (اورنگ آباد)۳۔اظہر حیات، ناگپور۴۔ڈاکٹر لکشمن شرما واحد،ممبئی۵۔شکیل ابن شرف، دھولیہ۶۔خان عبداللہ عبدالکریم،ممبئی۷۔قاضی سید لائق علی پٹیل،دیگلور۸۔سید مقصود علی ،ایوت محل۹۔عبدالرحیم ارمان، جالنہ۱۰۔شیخ محمد اقبال،ممبئی مثالی ٹیچر ایوارڈ : (انعام کی رقم پندرہ ہزار روپئے)یونیورسٹی اورڈگری کالج کی سطح پر ایوارڈ ۱۔ ڈاکٹر سیما ناہیدانصاری، مروڈ جنجیرہ۲۔ڈاکٹرشیخ محبوب شیخ نذیر، اودگیر۳۔ڈاکٹر شیخ احرار احمد،ممبئی۴۔عتیق احمد قریشی۵۔نازیہ پرویز نقوی،ممبئی۶۔ انیسہ بانو حبیب اللہ انصاری،ممبئیاسکولی سطح پر ایوارڈ۱۔ محمد غوث غلام مرتضیٰ،سی ایس نگر (اورنگ آباد)۲۔شیخ نعیم محمد اقبال، بھیونڈی۳۔شعیب مختار ابجی،رائے گڑھ۴۔انصاری شاہدہ محمد سعید، مالیگاؤں۵۔شاہجہاںفرحت آرا بیگم،رائے گڑھ۶۔صدیقی حنا کوثر،بیڑ۷۔انصاری محمد رمضان مکی،مالیگاؤں۸۔قریشی سلطان صلاح الدین،اودگیر۹۔قاضی زین العابدین،بیڑ۱۰۔شاکر عبدالشکور،مالیگاؤں۱۱۔نعیم فراز،اکولہ۱۲۔محمد مقیم جامعی،بھیونڈی۱۳۔خان شبنم ایوب،احمد نگر۱۴۔عائشہ بانو سکندر علی،جالنہ۱۵۔ محمد علیم اسماعیل،ناندورہ

یوگی کی زبان !اتواریہ : شکیل رشیدبریلی میں ’ آئی لو محمد ﷺ ‘ کی ریلی پر پولیس کی لاٹھیاں کیوں برسیں ؟ اس سوال کا جواب پانے کے لیے ’ راکٹ سائنس ‘ سے واقفیت ضروری نہیں ہے ۔ اترپردیش ( یو پی ) کی یوگی آدتیہ ناتھ کی سرکار مسلمانوں کو ’ سبق ‘ سکھانا چاہتی تھی ، لہذا پولیس کو کھلی چھوٹ دے دی گئی تھی کہ ’ جم کر لاٹھیاں بھانجو ‘ ، اور پولیس نے چھوٹ پر مکمل طور پر عمل کیا ۔ کوئی یہ سوال بھی دریافت کر سکتا ہے کہ ’ سبق ‘ کیسا اور کس لیے ؟ اس سوال کا جواب بھی مشکل نہیں ہے ۔ ’ سبق ‘ پٹائی کا ، کارروائی کا ، جیل بھیجے جانے کا ، اور خوف اور ڈر کی نفسیات میں مبتلا کرنے کا ۔ یہ ذہن نشین کرانے کے لیے کہ ’ ہم تمہیں اُس شخصیت کا نام تک نہیں لینے دیں گے جو تمہارے لیے پاک ہے ، اور جسے تم سب سے عظیم سمجھتے ہو ۔‘ یو پی کے وزیراعلیٰ یوگی کے دماغ پر ’ اقتدار ‘ کا نشہ کس قدر چڑھ گیا ہے ، اس کا اندازہ ان کے روزمرہ کے ’ اعمال ‘ اور ’ بیانات ‘ سے خوب ظاہر ہو جاتا ہے ۔ اُن کی زبان کھلتی ہے تو مسلمانوں کے خلاف نفرت کے بول سے بھری ہوتی ہے ۔ یوگی چاہ کر بھی اپنی زبان کو نفرت کی بھاشا بولنے سے روک نہیں سکتے ، کیونکہ نفرت کا عنصر ان کے خمیر کا حصہ بن چکا ہے ۔ اور ان کا ضمیر اس قدر آلودہ ہو چکا ہے کہ مسلمانوں کو ’ سبق ‘ سکھانے کے لیے وہ ہر وہ کام کر سکتے ہیں جس کی کسی بھلے آدمی سے توقع نہیں کی جا سکتی ہے ۔ جمعہ کے روز بریلی میں جو کچھ ہوا اُس کا سارا الزام مولانا توقیر رضا خاں پر عائد کر کے انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ اور لگتا ہے کہ مولانا توقیر رضا خاں کو جلد رہائی نہیں مل پائے گی ۔ اس لیے کہ یوگی انہیں بھی اس بار ’ سبق ‘ سکھانے کا تہیہ کیے ہوئے ہیں ۔ یوگی کے بول دیکھیں : ’’ مولانا بھول گیا تھا کہ کِس کی حکومت ہے ، ایسا سبق سکھائیں گے کہ نسلیں فساد کرنا بھول جائیں گی ۔‘‘ یوگی پارلیمنٹ میں ایک بزدل کی طرح رونا بھولے نہیں ہوں گے ، ان کا رونا اس لیے تھا ، کہ اس وقت کی ملائم سنگھ یادو کی حکومت نے ’ غیر قانونی اور غیر آئینی حرکتوں ‘ پر اُن کی بندش کی تھی ، اور یو پی کی پولیس ہی تھی جو ان کے پیچھے لگائی گئی تھی ۔ ان دنوں یوگی رکن پارلیمنٹ تھے ، اس کے باوجود پولیس کی چند معمولی قسم کی کارروائیوں کو جھیل نہیں سکے تھے ۔ لیکن آج جب اقتدار پر متمکن ہیں تو مسلمانوں اور اپنے سیاسی حریفوں کے پیچھے اپنی پولیس لگا کر یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ بڑے بہادر ہیں ! اللہ رب العزت کا قانون ہے کہ زمانہ بدلتا رہتا ہے ، بادشاہ ہمیشہ بادشاہ نہیں رہتا ، ایک دن -- بھلے وہ دن دیر سے آئے -- بادشاہ کو اپنا تخت خالی کرنا پڑتا ہے ۔ اور یوگی کا جانا تو یقینی ہے ، کیونکہ معاملہ حضرت محمد ﷺ کا اور نبی ﷺ سے محبت کرنے والوں کا ہے ۔ کوئی ڈرنے والا نہیں ہے ، توقیر رضا خاں کو گرفتار کرلیا ، لیکن دوسروں کی زبانیں بند نہیں کر سکتے ۔ منوّر رانا کی صاحب زادی سمیّہ رانا نے سخت لہجے میں یوگی کو للکارا ہے ، کہا ہے ’ یوگی کی زبان ہی ان کی پہچان ہے ۔ ‘ اور یہ سچ بھی ہے ، ہر انسان اپنی زبان سے پہچانا جا سکتا ہے کہ وہ کیسا ہے ۔ مزید ایک بات ؛ ’ آئی لو محمد ﷺ ‘ کو مسلمان سڑکوں پر اُسی وقت لائیں جب انہیں یہ یقین ہو کہ ظالم حکمراں ’ سبق ‘ سکھانے کی کوشش نہیں کریں گے ، کیونکہ ہوتا یہ ہے کہ لوگ سڑکوں پر اترتے ہیں ، پولیس کی لاٹھیاں کھاتے ہیں ، زخمی ہوتے ہیں ، اور اگر گولیاں چلیں تو شہید ہوتے ہیں ، ایف آئی آر بنتی ہے ، اور نوجوان برسوں کے لیے سلاخوں کے پیچھے ڈھکیل دیے جاتے ہیں ، اور عدالت سے انہیں انصاف اسی وقت ملتا ہے جب ان کی عمریں ڈھل چکی ہوتی ہیں ۔ نوجوانوں کو ان مصائب سے محفوظ رکھنا ہوگا ، لہذا یہ ضروری ہے کہ سڑکوں پر اسی وقت اترا جائے جب یہ مکمل یقین ہو کہ ریلی یا مظاہرہ اور احتجاج پُر امن رہے گا ، کسی طرح کی شرانگیزی نہیں ہوگی ۔ ویسے یہ ممکن نہیں ہے ، بہت احتیاط کی ضرورت ہے ، کیونکہ شرانگیزی ’ کرائے کے غنڈوں ‘ اور ’ منافقوں ‘ سے کروائی جاتی ہے ۔ پِستا ہے عام انسان ۔______________________ 🔴وسیم عقیل شاہ جل گاؤں (مقیم ممبئی) مہاراشٹر ٗ انڈیا🌹رنگِ گِل🌹جیسے ہی میرے حواس پر کسی شئے نے آج سنیچر ہونے کی دستک دی ،میں خود کو کو ستی ہوئی کچن میں داخل ہو گئی۔جہاں بلا غرض قمقمو ں کی بھر پور روشنی کے طفیل شیلف میں سجا ہر ایک برتن چمچما رہا تھا ۔یوں لگ رہا تھا جیسے یہ سب میری حماقت پر کھلکھلا رہے ہوں۔ میں نے دیوار پر ٹنگی گھڑی کو ایک لمبی نظر سے نانپا اور بڑی پھرتی سے کام میں جُٹ گئی۔کانٹنے چھلنے کے مرحلے سے گزر کر آٹا گوندھا ،چکن چڑھایااور جلدی جلدی اس میں حسب ضرورت اشیاء کو مناسب مقدار سے ڈالنا شروع کیا۔یکایک عجلت میں کسی شئے کے ضرورت سے زائد حل ہو جانے کا خدشہ ہوا ۔ ۔ ۔۔۔! لمحہ بھر اپنے ذمہ دار ذہن سے گفتگو کرنے کے بعد میں نے یک لخت چمچے کی مدد سے شوربہ کے چند قطرے ہتھیلی پر اتارے اورایک چسکی لی۔’’ سی سی۔۔ ہاں ۔۔ سی ۔۔ہاں۔!‘‘ انہیں درد آگین آوازوں سے منہ کھُل اٹھا ۔ میں نے سر پیٹ لیا ۔یا خدا! کیا قیامت آن پڑی۔ اضافی مرچ نے تو قورمے کو خاصہ تیکھا بنا دیا ۔۔۔!تیز۔ ۔ ۔۔! شاکرکے مزاج کی طرح، بھولی بھالی معصوم صورت پر تیکھے تیور کی چھپی ہوئی تلوار ،جو مجھ کمزور کے مقابل ہی بے نیام ہوتی ہے۔کبھی کوئی چیز وقت پر میسر نہ آئے تو بس تہلکہ مچ جاتا ہے ۔میرے ہر فعل میں جناب کی عیب جوئی آپ ہی کا فطری فن ہے۔خواہ کام کتنا ہی حسن و خوبی سے انجا م پایا ہو۔ اور تو اور آفس کا سارا ٹینشن بھی شکا یتو ں کی شکل میں مجھ پر ہی برستا رہتا ہے۔’’ثنا ۔۔۔تمہیں یہ نہیں آتا،وہ نہیں آتا۔‘‘’’اس کا ڈھنگ نہیں اس کا سلیقہ نہیں۔۔۔‘‘یا پھر۔ ۔۔۔’’ایسا کھا نا تو قیدیوں کو بھی نہیں دیا جاتا ،اتنا نمک!اس قدر بد ذائقہ! ۔‘‘ کھانے کے معاملے میں تو شاکر حد درجہ بد اخلاقی پر اتر آتے۔کبھی کھانے سے منہ پھیر لیے تو کبھی ٹھکرا کر چل دیے۔یوں تو میں اُنھیں زندگی کے ہر گوشے میں پورے خلوص کیساتھ تسکین پہچانے کے لیے کمر بستہ ہوں ۔اور اپنے وجود کا سبب بھی یہی سمجھتی ہوں۔ لیکن وہ کونسی کوتا ہیاں ا ور مجبوریاں ہیں جن کے سبب میں بَلاکش بنی ہوئی ہوں؟۱۴ سالہ بیاہتا تجربہ بھی اس سوال کو حل کرنے سے قاصر ہے۔یہ میری کم فہمی ہے ،یا مظلومی ؟ یہ بھی ایک اورچبھتا ہوا سوال ہے ۔۔۔۔بہر کیف ہفتہ والے دن آفس کے معمولاََ ہا ف ڈے ہونے کی صورت میں جناب بہت جلد ہی تشریف لے آتے ۔جس کی وجہ سے دیگر خانگی سرگرمیاں اتھل پتھل تو ہوتی ہی ہیں ، ساتھ ساتھ کھانا بنانا اور کھانے کا وقت بھی قبل از وقت واقع ہوجاتا ہے ۔اِس دن مجھے وقت کا خاص خیال رکھنا ہوتا ہے۔ یوں کہہ لو کہ سنیچر میرے لیے امتحان کا دن ہے۔ لیکن آج۔۔۔۔! اس سانحہ کے سبب درپیش آنے والے حالات نے میرے نا تواں وجود میں قربانی کے جانور کی سی کیفیت طاری کردی تھی۔لیکن پھر ہمیشہ کی طرح میں نے خود سے صلح کر لی اور ستیہ گرہی کی طرح سزا بھگتنے کیلیے تیار ہوگئی۔ویسے بھی یہ آئے دن کی ’ سر مغزی ‘ہے ۔ مجھے سنبھلنے میں زیادہ دیر نہیں لگی۔میں محو فکر تھی تو اپنی بیٹی میں جو بڑا سابیگ لٹکائے ،خالی پیٹ ،بجھے بجھے قدموں سے گھر آئے گی۔اور ہر چیز کو پرے رکھکرپہلے کچن کا رُخ کرے گی۔فاطمہ کا خیال مجھے کئی سوالوں کے ساتھ جھنجھوڑ نے لگاکہ آج وہ جس بلند وبالا، معیاری اور تکنیکی تعلیم کہلانے والے علم سے خود کو سینچ رہی ہے ،کیا اُسکا نصاب اخلاقیات کے محور پر ہے؟اگر ہے تو فاطمہ ان کسوٹیوں پر کس درجہ کی شاگردہ ہے ؟مگر سوال یہ بھی ہے کہ’’ کیا حقیقتاََصبرو تحمل،متانت و سنجیدگی، عا جزی اورصلہ رحمی وغیرہ کے اخلاقی باب کتابوں کے اوراق سے ہی میدان عمل میں آتے ہیں ؟‘‘شور بہ کو چمچہ سے مخصوص اندازمیں ہِلاتے ہِلاتے میں اِنہی سوالوں کے ماخذات پانے، اپنے اسی چمچہ کو ساتھ لیے ماضی کے اُس گھر میں داخل ہو گئی جہاں میں صرف ۱۳ سال کی تھی ۔رسوئی کے ہنر سے ناواقف ،لیکن پیاری دادی کے حکم پرچولھا پھونک رہی تھی۔اُس گھر کی چھت پُٹھوں ،ٹنٹیلوں‘ سے اور دیواریں ’مٹی ‘سے بنی ہوئی تھیں۔ محدود ضرورت سامان ہی اس کی زینت تھا۔ ا و ر دھوپ کی تپن و بارش کا قہر برداشت کرنے کے عوض ملے چند سِکّوں سے خریدی ہوئی جائداد بھی یہی تھی۔ دو کمروں پر مشتمل اُس سکون خانے کی پچھلی کھڑکی سے لہلہاتے کھیتوں کا نظارہ دل کو موہ لیتا ، گھر کے آزو بازو بڑی سی خلاء چھوڑے اِسی طرز کے اور بھی مکانات کا دراز سلسلہ چلا جاتا تھا،وہاں میری ہم جولیا ں رہا کرتی تھیں۔ سوکھی ندی میں جگہ جگہ پگڈنڈیاں نکل آئی تھیں ۔ گاؤں کی سڑکیں کچی نہیں تھیں البتہ خودداری و ایمانداری کے ثمروں سے لدے انسانوں کے قوی بوجھ کو جھیل جھیل کر اوبڑ کھا بڑ ہو گئی تھیں۔ سڑکیں اپنی دونوں طرف نباتاتی زندگیاں لیے بس اسٹاپ سے ہو تی ہوئی چھوٹی شاہراہ سے مل جاتی تھیں۔یہ ہمارے گاؤں کا کنارہ کہلا تا تھا۔لیکن رونق بھی سب سے زیادہ یہیں تھی۔شام ہوتے ہی یہاں بازار سج جاتے،عورتیں کھیتوں سے لوٹ کردکانیں لگاتیں،بس ا سٹاپ کی دیواروں سے چائے،ناشتے کی ہوٹلوں اور پان تمباکو کی دکانوں پر زندگیاں منڈلانے لگتیں،ا سٹاپ کے عین مقابل چبوترے نمامیدان میں گرام سبھا کی مجلس لگتی۔جہاں سرپنچ محترمہ شاردہ تائی اپنی موثر تقاریر اور حِکمتِ عملی کے زیرِ اثر مسلسل۲۰ سالوں سے عوام کے دلوں پر راج کرتی آرہی تھیں۔ دکانوں کی قطار ایک خستہ حال عمارت کی بوسیدہ دیوار پر ختم ہوجاتی تھی۔یہ خستہ حال عمارت سرکاری اِسکول کی تھی جو ریاستی سرکار کی بد حالی بیان کر تی تھی، مگرپختہ تعلیم سے آراستہ یا تعلیمی صحت مند اسکول تھا۔ یہ کمال صنف نازک کی دسترس میں تھا۔’’ ہیڈ مسٹریس سلمہ میڈم اورمدرسہ کی دیگر استانیوں نے اسکو ل کو تعلیمی معنویت بخشی تھیں‘‘۔ دو مرد ا سا تذہ بھی تھے۔ گاؤں میں یہ اکلوتا اسکول تھا جہاں میں ہفتم اور عائشہ پنجم جماعت کی طالبہ تھی۔عائشہ اور میں دونوں بہنیں دادی کے ذمہ تھیں۔جسے دادی نے اپنی بچی کھچی زند گی کا مقصد سمجھا تھا۔ہمارے پیٹ اور زندگیاں پالنے کے لیے وہ شیرنی جیسی صِفات رکھتی تھیں۔اُن کے ایثار نے ہمارے دل میں اُ نھیں والدین کی جگہ عطا کر دی تھی۔ابّو معاشی بدحالی کا شکار،امّی کو لیے خانہ بدوشوں کی زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔وہ قریب کے کسی شہر میں محنت مزدوری کرتے تھے۔مہینہ دو مہینہ کے درمیان اِس سرائے میں آتے او ر ضروریات زندگی مہیا کر کے واپس اپنی منزل کو کو کوچ کر جاتے۔ ہر چند کے عورتوں کی تعلیم و ترقی کے وافر مواقع شہر میں موجود تھے۔لیکن شہر کی زندگی کو جانے ابّو کن زاویوں میں رکھتے تھے ؟شہرمیں ہماری پرورش اور بزرگ دادی کا سایہ بھی ان کے تصوّر میں نہیں تھا۔۔ ۔۔خیر پتہ نہیں کن وجوہات کی بنا پر میری جوانی نے شہر کے رنگ و بہار دیکھا اور کب شاکِر کی امّی مجھے دلہن بناکر اپنے مہذب گھرانے میں لے آئی۔۔۔ پتہ ہی نہ چلا۔۔۔۔ کیا کیا سپنے پرو لیے تھے میں نے خو شیوں کی اِس کچی ڈور میں۔۔۔۔ہم دونوں دختروں سے جدائی میں امّی کے جذبہء مادر کا باندھ اُس وقت ٹوٹ پڑتا جب وہ’ شہر واس‘ گزار کر گھر آتیں تووالہانہ اندازمیں ہمیں چومنے چِمٹا نے لگتیں۔’’امّی کی پوری زندگی کسمساہٹ،جدوجہد ،پریشانیوں اور قربانیوں کا مَسکن تھی۔لیکن ایک حرفِ شکوہ بھی اپنے خاوند سے نہ تھا۔سوکھی روٹی بمشکل دانتوں سے توڑتی مگر آسانی سے چلنے والی زبان کو بطور احتجاج کبھی حرکت نہ دیتیں۔امّی زندگی بھر ابّو کی مجبوری اور بے بسی کو صبر و شکر کا لبادہ پہناتی رہیں۔فاقوں میں بھی امّی ہی تھیں جن کے دِ لاسوں سے ابّو شِکم سیر ہوجایا کرتے تھے۔‘‘اُس دن راشن کی اُس واحد سرکاری دکان پر میں اپنی دادی کا ہاتھ تھامے قطار میں کھڑی اپنی باری کا انتظار کر رہی تھی۔ شاید ضعیف عورت کے کمزور کاندھوں نے مجھے یہاں لا کھڑاکیا تھا۔دن کے گیا رہ بج چکے تھے سورج کی شعاعوں میں حرارتِ تپش تیز سے تیزتر ہوتی جا رہی تھی۔ قطار میں کھڑی دوسری عورتیں اس ظالم آگ سے بچنے کی حتی الامکان کوشش کر رہی تھیں ۔ میں ننگے پاؤں تھی ۔ میرا وجود چڑھتی دھوپ میں ڈھول کی مانِند دونوں سمتوں سے چٹکے ،پھٹکے کھا رہا تھا۔قطار چیونٹی کی رفتار کے موافق آگے کو بڑھتی جا رہی تھی۔اسی اثنا میں دادی نے مجھے گھر جاکر کھانا بنانے اور عائشہ کو ساتھ لے کر اسکول جانے کو کہا۔ یہ جانتے ہوئے کہ مجھ میں ا بھی کچن کی ذمہ داریوں کو انجام دینے کی خاص صلاحیت نہیں ہے۔دادی خود درد سہہ کراوروں کورا حت پہچانے کے جذبہ سے سرشار تھیں،اور وہ زندگی بھر سے اٹھاتی آئی خودداری کے بوجھ کو بھلا کیسے میرے معصوم شانوں پر رکھتیں؟’’یا یہ ہو سکتاہے کہ دادی میرے پیروں کے تلوؤں پر سُلگتی زمین کی تپِش کو اپنے کلیجہ میں محسوس کر رہی تھیں۔‘‘ میں چوکڑیاں بھرتی ہوئی گھر کی چوکھٹ تک آ پہنچی۔جلدی جلدی چولھا جلا کر کھانا بنانے کی ہلکی پھلکی مشق کا امتحان دینے بیٹھ گئی۔’ ’ سِرکہ‘‘ بنانے میں آ سانی تھی اور کچھ کچھ میری واقفیت بھی، لیکن تکمیلی سرگرمیاں انجام دیتے ہوئے میری ناقص عقل نے ضرورت سے زیادہ مرچ پاؤڈر ڈال دیا۔ حالانکہ ہانڈی سے اٹھتی تیکھی بھانپ سے میری کھانسی رکنے کا نام نہ لیتی تھی۔لیکن تجرباتی لا شعور ی نے اس کے تیکھے پن کو میری نو مولود فہم سے بالا تر رکھا۔وقت کا ادراک رکھنے میں مجھے یہ بھی فرصت نہ تھی کہ اسے ایک بار چَکھ لوں۔۔۔۔یا یہ بھی میری کم عقلی تھی ،یاد نہیں ۔ہمارے یہاں اسکولوں میں طلبہ کو ’ مڈ ڈے میل‘ کے طور پر خام اناج تقسیم کیا جاتا تھا۔تب بد مزہ اور نہ ہی ضائع شدہ اناج سے بنے کھانے کا معاملہ سر اٹھاتا ۔بلکہ یہ خام اناج غریب بچوں کے ساتھ ساتھ گھر کے دوسرے افراد کے پیٹ پر بھی پتھر باندھنے جیسا تھا۔ خیر میں نے دادی کے لیے ہانڈی میں کچھ رکھ چھوڑااورہم دونوں کے ٹفن کوسیر کر کے عائشہ کا ہاتھ پکڑ ے ا سکول کو روانہ ہوگئی۔درمیانی وقفہ میں حسب معمول ہم تمام سہیلیاں اسکول کی ہر دِل عزیز ’مِس نغمہ‘کے پاس اپنا اپنا ٹِفن ٹیسٹ کروانے پہنچیں۔لیکن اتفاق سے مِس آج صاحب ٹِفن تھیں۔دراصل محترمہ کا روزانہ ٹِفن نہ لانے کا معمول تھا۔وہ ہر روز ہم پینتیس ،چالیس طالبات کے لنچ باکس سے ایک دو لقمے بنام ذائقہ لیا کرتی تھیں۔مطلب کل مِلاکر ’بھوک فِنش‘۔مگر آج ہم بھی بضد ہوگئے،اور اپنااپنا ٹِفن بیک وقت مِس کے منہ کے سامنے لے آئے۔ اور۔۔بالآخر ۔۔۔۔۔’’ واو ،گُڈ ‘‘’’ہا ں یہ بھی سُپر ہے!‘‘’’بس بابا۔‘‘’’ اچھا! تم بنائی؟‘‘میں نے بھی اپنا باکس مِس کے منہ پر داغہ۔’’گُڈثنا ‘‘ کہتے ہوئے آپ نے جیسے ہی چمچہ منہ میں ڈالا چہرہ سپاٹ ہو گیا،نظریں چھت ٹٹولنے لگیں اور چلتا منہ رک گیا۔ ہم تمام اس طِلسماتی تغیّر کے معنی سمجھ نہ پائے ۔اور نہ ہی یہ سمجھ سکے کہ مِس نغمہ نے اپنا ٹفن میرے ٹِفن سے کیوں تبدیل کر دیا۔سلیقے سے سجے ٹِفن میں کھانا نہایت نفاست سے بنایا گیا تھا۔ اور ذائقہ دار اتنا کہ جی چاہتا تھا کہ کسی کو بھی نہ دوں ۔ لیکن مِس کا لذیذ کھانا میں نے بطور تبرک سب سہیلیوں سے شیئر کیا۔کھانے سے فراغت کے بعد کچھ بچّے دالان میں اور باقی اسکول کے وسیع میدان میں تتر بتتر ہوگئے ۔ تقریباََسبھی جماعتیںَ طلبہ کے شور و غل سے خالی ہو چکی تھیں۔ میں نے مِس کا ٹِفن نہایت احتیاط سے دھویااور مدرسہ کے اس کمرہ میں داخل ہوئی جہاں طلبہ کا داخلہ ممنوع تھا۔ مِس کمرے کی پر سکون فضا ء میں خاموش بیٹھی پتا نہیں کن خیالوں میں گم تھیں۔میں نے قریب جاکر خالی ٹِفن مِس کے سُپرد کیا۔لیکن اُس وقت آپ کے چہرے پر لیپے ہلکے پاؤڈر کے پا ر سُرخ پڑ چکی رنگت ،لال سوجی ناک ا ور خون بھری آنکھوں کے دل سوز منظر نے مجھے بغیر حرکت دیے اُسی جگہ ٹھہرنے پر مجبور کر دیا‘میرا شک بھرا مَن کچھ جاننے کی چاہ میں تھا کہ مِس نغمہ اپنے شگُفتہ لہجہ میں گویا ہوئیں۔’’کھانا تم نے بنایا تھا؟‘‘یہ سنتے ہی میرے بدن میں جھر جھری سی لہراگئی۔ بغیر کچھ کہے میں اپنے وجود کے پورے بل سے صرف ہاں میں سَر ہلا پائی۔ مِس نے مسکراتے ہوئے دستِ شفقت میرے سر پہ پھیرا۔ انجانی شرمندگی اور اس درد کے ساتھ میں اپنا ٹِفن باکس لیے وہاں سے نکلی کہ’’ اپنی نا معلوم مگر اہم شئے کو کھو چکی ہوں۔۔۔۔!‘‘میری سوالیہ نظروں کا مرکز میرا ٹِفن تھا جس میں مِس نغمہ کا جھوٹا ابھی بھی ریل رہا تھا۔ جسے خود میں نے بنا یا تھا لیکن اس کا مزہ اب تک میری زبان نے چکھا نہ تھا۔ میں نے شک کے گڑھے کو بھسم کرنیکی غرض سے ایک لقمہ اپنے منہ میں کیا ڈالا میرے پیروں تلے جیسے زمین سرک گئی !اس قدر تیکھا کہ زبان پر رکھتے ہی منہ کے صوبے میںآگ کا دریا بہہ گیا اور زبان پانی پانی کرنے لگی۔میں حیرت و سوال کی ملی جلی نظروں سے اُ س کمرے کی طرف دیکھنے لگی جہاں میری مشفقہ اُستانی مِس نغمہ بیٹھی تھیں۔ فی ا لواقعہ عائشہ کے حال نے بھی مجھے مضطرب کر دیا۔ جانے اس پر کیا بیتی ہوگی!میں ہوا پر سوار ہوئے کمرۂ جماعت پنجم کی طرف دوڑی۔کمرہ خالی تھا،لیکن آخری دَری پر ایک معصوم نسوانی سایہ دھیرے دھیرے پور ے انہماک کے ساتھ ایک پہاڑ کو عبور کرنے کی زد پر تھا۔ وہ لقمہ منہ میں رکھتی اور پانی کے گھونٹ سے اسے حلق کے نیچے اتارتی جاتی ۔ایسا کرنے میں وہ بد حال نظر آرہی تھی ۔ اُسکی بہتی ناک بار بار سڑکنے رگڑنے سے لال پڑ چکی تھی، چہرہ پسینہ میں شرابور تھا اور آنکھیں بھی برسے برسے سُرخ پڑ چکی تھیں ۔یہ وہ موقع تھا جب میں پہلی بار رسوائیت سے متعارف ہوئی تھی،جسم کربناک ولولوں سے متحرک ہو اٹھا اور ضمیر سوکھی لکڑی کی طرح چَر چَر جل گیا تھا۔ اوّل غصہ تو مجھے عائشہ کی سہیلیوں پر آیا کہ جو ہر روز اُس کو ساتھ لیے ایک حلقہ کی شکل میں ہم نوالہ ہوا کرتیں اوربتیاتی ہوئیں اپنا اپنا لنچ باکس پورے دائرے میں گر گر گھمایا کرتیں تھیں ۔پھر آج وہ سب میری بہن کو اکیلا کیسے چھوڑ گئیں؟ لیکن اِس اِمکانی خیال نے میری کَسی ہوئی مٹھیوں کو ڈھیلا کر دیاکہ شاید عائشہ اپنا ٹِفن پہلے ہی کھول چکی ہوگی۔چھُٹّی کی صدا کانوں میں پڑتے ہی ایک شور کے ساتھ اسکول خالی ہوگیا۔میں بھی عائشہ کو لیے بھاری بھاری قدموں سے گھر کی جانب چل پڑی ۔سایے لمبے ہو چلے تھے۔ٹھنڈی ہوتی زمین پر میرا ہر قدم جیسے جسم کے اَنگ اَنگ سے ٹپکتی شرمندگی کا نشان بنائے چلتا تھا۔ باطن میں مچے تلا طُم نے میری زبان کو مقفل کر دیا تھا ۔اور وہ ہے کہ میری اس کیفیت سے متضاد، پر مسرّت کھیلتی کودتی چلی جا رہی تھی۔اُس کی آنکھیں بھی شکایتی بصیرت سے عاری تھیں۔’’بلکہ آج اُس کا رویہ میرے ساتھ کافی حد تک دوستانہ تھا۔حالانکہُ اس نے ہمیشہ کی طرح مجھ سے جھگڑنا چاہیے تھا۔یا وہ میری غلطی پر خفا ہوجاتی اور اپنے مخصوص لہجے میں ڈانٹتی بھی۔’’لیکن جانے آج اُسے کیا ہوگیا تھا،اُس کے دل میں صَبراو رُ شکرِ خدا وندی کے جذبات ٹھاٹیں مارنے لگے تھے!‘‘ جنھیں دیکھ میرا دل بھر آیا۔اور یہی کیفیت رات میں سونے سے قبل تک رہی جب دادی نے میری ناکام کوشش کو خوب سراہا اور ماتھے پر حوصلہ افزائی کی سَندثبت کی تھی ۔ وہ الفاظ مجھے آج بھی یاد ہے جنہیں سنتے ہی میں دادی کے تھر تھراتے وجود میں اس طرح چمٹی تھی جیسے خوف زدہ بچے اپنی ماں کی چھاتی میں خود کو سمونے کی کوشش کر تے ہیں ۔ دل نے چاہا کہ دادی کے دل کے کسی عمیق گوشہ میں اپنے معصوم وجود کو چھپا لوں ۔ایک کُنکُنے آنسو نے میرے رُخسار پر دستک دی۔میں اپنے وجود میں اچانک مچے اِس سرد انقلاب کے سہارے ہوش میں آچکی تھی۔ نگاہیں اب بھی پَکتے چِکن کے سالن پر گڑی ہوئی تھیں اورچمچہ بھی اپنی پہلی والی حالت میں گول گول گھومے جا رہا تھا۔لیکن خیال غروب ہو چکے سورج کے بعد روشن ہونے وا لے ستاروں میں کھویا ہوا تھا۔ میں ہانڈی کو کافی دیر تک متلاشی نظروں سے دیکھتی رہی،پھر بغیر کمی بیشی کیے ، ایک فیصلہ کُن انداز میں اُسے پتلی رکابی سے ڈھانک دیا ۔گھر کی فضا میں چھایا ہواہولناک سناٹا یہاں ڈھائے گئے مظالم کی داستان سنا رہا تھا۔ میں سب کچھ سہہ گئی ۔۔! اس خیال سے کہ یہ میرے خون کا خاصہ ہے۔ شاکر کے نا شکر ے مزاج اورغیر فطری اصولوں نے وہ ریکھائیں پا رکی تھیں جس کی توقع کم از کم اُن کے جیسے اعلیٰ تعلیم یافتہ مردوں سے تو نہیں کی جا سکتی تھی۔ بھلے ہی بہتے ہوئے اشکوں کی روانی میں جَبرکے ٹھہرے ہوئے منا ظر نہا یت شفاف دِکھائی دے رہے تھے،اور چہرے پر کچھ تازہ نشان اس ا لمیہ پہ احتجاج گزارتھے ، لیکن نہ میں رنجیدہ تھی اور نہ ہی اپنی بکھری ہوئی ہستی کو سمیٹنا چاہتی تھی۔ فقط بے چین تھی اورپھڑپھڑاتی ہوئی چڑیاکی طرح اپنی بیٹی فاطمہ کی منتظر تھی۔ تبھی دور سے آتی ہوئی اُس کے جوتوں کی آوازنے میری سانسوں کو تیز کر دیا ۔ د ھڑکنوں کی رفتار روانی سے دوڑتی ہوئی ٹرین کی مانندہوگئی۔فاطِمہ ہاتھ منہ دھوئے دسترخوان پر سوار ہو چکی تھی۔شدید بھوک سے اس کا چہرہ مُرجھا گیا تھااورپیٹ اندر کو جھول بنائے ہوئے تھا۔بھوک کی اِسی شدّت نے اُسے اسکول یونیفارم تبدیل کرنے کا بھی صبر نہ دیا ۔۔۔۔ !میں نے کسی داسی کی طرح اسے کھانا پروسنا شروع کیا ۔’’اُس نے دو پٹّہ سلیقے سے اوڑھا ، بسمہ اللہ پڑھ کر لقمہ اپنے منہ میں ڈالااور یکسر ساکت ہوگئی ، سر کو جُنبش دیے بغیر اپنے طِفلانہ انداز میںآنکھوں کو دائیں بائیں گھمانے لگی۔ پھراس نے منہ کھولے اپنی تکلیف کو مخصوص سُروں کی آواز دینا شروع کیا۔‘‘ چہرے پر آتے جاتے عجیب رنگ اُس کے اندرکے پوشیدہ کرب کو ظاہر کرنے لگے تھے ۔چند لمحے اسی طرح گزارنے کے بعداُس نے پانی کے چند گھونٹ حَلق میں اُنڈیلے اور نظریں برتن پر مرکوزکیے اطمینان کے ساتھ کھانے میں منہمک ہوگئی۔’’ پھر بڑی دیر تک سُرسُراتی ہوئی کھاتی رہی ۔‘‘اورمیں ۔۔۔۔کِچن کے دروازے میں کھڑی تھی ۔جہاں سے فتح کی وہ ساعتیں ڈبڈباتی آنکھوں سے صاف دکھائی دے رہی تھیں، جس نے مجھے اپنے ذہنی اِنتشار سے نجات دلائی ۔یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے گھر کی فضاء اُس مٹّی کی بھینی خوشبو سے معطّر ہوگئی ہے جس مٹّی سے میرے پُرکھوں کی نَسلوں کو گوندھا گیا تھا۔____________🔴🔴🔴غزل زخم دل کے کریدنے والے ہیں یہی اشک پوچھنے والے اس کی آنکھوں کے دو سمندر میں اور کتنے ہیں ڈوبنے والےمیں بھی اس انجمن کا حصہ ہوںدیکھ مجھ کو بھی دیکھنے والےمیری آواز کون اٹھائے گابک گئے سارے بولنے والےمیرا ہر خواب میرا ہی ہوگامیری آنکھوں کو نوچنے والےسبھی آوارہ تو نہیں ہوتےرات سڑکوں پہ کانٹے والےصـــادق اســــدصاحب مالیگاؤں (افسانوی مجموعہ "سفید پرچم")___________-_-____🔴🔴🔴غزلضبط کو آزما رہا ہوں میںدرد خود ہی بڑھا رہا ہوں میںتیری یادیں بھی اب اذِیّت ہیںآنسؤوں میں نہا رہا ہوں میںدوستی کیاہے اس زمانے میںبس تعلق نبھا رہا مالیگاؤں

Thursday, 25 September 2025

*مالیگاؤں کی بدحالی: جب جرم بے لگام ہو اور انتظامیہ بے پرواہ**وسیم رضا خان (ایڈیٹر ہیڈلائن پوسٹ)*________________________________________ مہاراشٹر کے ضلع ناسک میں واقع مالیگاؤں، جو اپنی کپڑا صنعت اور گنجان مسلم آبادی کے لیے جانا جاتا ہے، آج ایک سنگین بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ کبھی ایک صنعتی اور ثقافتی مرکز کے طور پر پہچانا جانے والا یہ شہر، اب جرم، سیاسی بے حسی اور انتظامی لاپرواہی کے جال میں پھنسا ہوا نظر آ رہا ہے۔ مالیگاؤں کا مرکزی حصہ، جسے اکثر مالیگاؤں سینٹرل بھی کہتے ہیں، مجرموں کا گڑھ بنتا جا رہا ہے۔ گزشتہ کچھ سالوں سے یہاں جان لیوا حملے اور قتل و غارت عام بات ہو گئی ہے۔ کوئی ایسا جرم نہیں جو یہاں نہ ہوتا ہو – چاہے وہ نشے کا کاروبار ہو، لوٹ مار ہو، یا پھر پرتشدد واقعات۔ کم تعلیم یافتہ اور بے روزگار نوجوان، جو بہتر مواقع کی تلاش میں ہیں، مایوسی میں مجرمانہ سرگرمیوں کی طرف مڑ رہے ہیں۔ نشہ کے سوداگر اور مجرم اس کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا شیطانی چکر ہے جہاں بے روزگاری اور غربت جرم کو جنم دیتی ہے، اور جرم سے صورتحال مزید خراب ہوتی جاتی ہے۔ مالیگاؤں سینٹرل سے ایک مسلم ایم ایل اے ہونے کے باوجود، یہاں کے لوگوں کو شکایت ہے کہ حکومت اس علاقے کو نظر انداز کرتی ہے۔ یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ یہاں کی مسلم سیاست صرف اپنے ذاتی مفادات تک محدود ہے، اور لیڈروں کو عوام کی پریشانیوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ لوگوں کی شکایت ہے کہ سیاسی پارٹیاں یا لیڈر جرم کو ختم کرنے کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھا رہے ہیں۔ عوام بھی ان ناکام لیڈروں کی جے جے کار کرتی نظر آتی ہے، جو صرف ایک دوسرے پر الزام تراشی میں مصروف ہیں۔ یہ سیاسی لڑائی عوام کے حقیقی مسائل کو پس پشت ڈال دیتی ہے۔ مالیگاؤں کی بدحالی کی ایک اور بڑی وجہ پولیس انتظامیہ کی مبینہ لاپرواہی ہے۔ گزشتہ کچھ برسوں سے پولیس سپرنٹنڈنٹ انیکیت بھارتی اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ تیگبیر سنگھ سندھو جیسے افسران یہاں تعینات ہیں، لیکن شہر کی حالت بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ شہر کے سمجھدار عوام کا الزام ہے کہ پولیس صرف گشت کرنے اور چھوٹے موٹے گھریلو معاملات کو سلجھانے میں لگی ہوئی ہے۔ سنگین جرائم پر قابو پانے میں پولیس ناکام رہی ہے۔ اس کے برعکس، جب پولیس سپرنٹنڈنٹ گجانن راجمانے اور سنیل کڈاسنے یہاں تعینات تھے، تب انہوں نے مالیگاؤں سے جرم کا صفایا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ یہ عمل یہ بتاتا ہے کہ صحیح قیادت اور مضبوط ارادے کے ساتھ صورتحال کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ مالیگاؤں کی موجودہ صورتحال ایک سنگین انتباہ ہے۔ اگر انتظامیہ، سیاستدان اور پولیس مل کر اس مسئلے کا حل نہیں نکالتے ہیں، تو یہ شہر مزید گہرے بحران میں ڈوب سکتا ہے۔ نوجوانوں کو جرم کے دلدل سے باہر نکالنے کے لیے تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا، پولیس نظام کو درست کرنا، اور سیاسی لیڈروں کو اپنی ذمہ داری نبھانے پر مجبور کرنا ہی واحد راستہ ہے۔ مالیگاؤں کے عوام کو بھی اس غیر فعالیت کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے اور تبدیلی کا مطالبہ کرنا چاہیے۔مالیگاؤں میں جرائم کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے، پولیس انتظامیہ کو اسے سنجیدگی سے لینا ہوگا اور صرف گشت یا چھوٹے موٹے معاملات تک محدود نہ رہتے ہوئے، ایک ٹھوس حکمت عملی بنانی ہوگی۔ پولیس کو کمیونٹی پولیسنگ (Community Policing) کو فروغ دینا ہوگا. پولیس کو عوام کے ساتھ براہ راست جڑنا ہوگا ۔ باقاعدہ میٹنگز کا اہتمام کیا جانا چاہیے جہاں لوگ بغیر ڈرے اپنی شکایات اور معلومات دے سکیں۔ ہر محلے میں مقامی لیڈروں، بزرگوں اور نوجوانوں کو ملا کر امن کمیٹیاں بنائی جانی چاہیے جو صحیح طریقے سے کام کریں۔ یہ کمیٹیاں پولیس اور عوام کے درمیان پل کا کام کریں گی۔ عوام میں اعتماد پیدا کرکے، پولیس ایک مضبوط اطلاعاتی نظام تیار کر سکتی ہے۔ اس سے انہیں جرم ہونے سے پہلے ہی اس کی جانکاری مل جائے گی۔ پولیس کو صرف چھوٹے موٹے نشہ کرنے والوں کو پکڑنے کے بجائے، ان بڑے اسمگلروں اور نیٹ ورک پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے جو شہر میں منشیات کی فراہمی کرتے ہیں۔ نشے کے عادی نوجوانوں کے لیے بحالی اور بیداری کے پروگرام شروع کرنے چاہیے۔ پولیس صرف مجرم کو پکڑنے کے بجائے، اسے سدھارنے کی سمت میں بھی کام کرے پولیس کو اسکولوں اور کالجوں میں جاکر طلباء کو جرم اور اس کے نتائج کے بارے میں بیدار کرنا ہوگا ۔مقامی پولیس اسٹیشنوں کو کھیلوں کے ٹورنامنٹ، ثقافتی پروگرام اور کیریئر گائیڈنس سیشن منعقد کرنے چاہیے۔ اس سے نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں شامل ہونے کا موقع ملے گا اور وہ جرائم سے دور رہیں گے۔جو مجرم ضمانت پر باہر ہیں یا جو پہلے جرم کر چکے ہیں، ان پر کڑی نظر رکھنی ہوگی. شہر میں چل رہے گینگ وار اور باہمی دشمنی کو ختم کرنے کے لیے سخت اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ بڑے مجرموں اور ان کے گروہوں کو فوراً گرفتار کرنا ہوگا. ہر علاقے کے لیے ایک مخصوص پولیس بیٹ ہو اور بیٹ انچارج ہو جسے اپنے علاقے کی مکمل جانکاری ہو۔ ان تمام اقدامات سے پولیس نہ صرف جرائم کو کم کر سکتی ہے، بلکہ عوام کا اعتماد بھی جیت سکتی ہے، جو کسی بھی شہر کی حفاظت کے لیے سب سے اہم ہے۔ شہر میں ان نکات پر سختی سے عمل کرنے کی ضرورت ہے۔___________**انسان کا منتشر وجود: ایک فلسفیانہ جائزہابرار مجیب انسان کو زندگی کے آغاز ہی سے شاذونادر ہی اپنے لیے جینے کی اجازت ملتی ہے۔ اس کی حیات اپنی ذات کی تکمیل کا سفر نہیں، بلکہ فرائض، کرداروں اور رشتوں کا ایک سلسلہ ہے جو رفتہ رفتہ اس کی انفرادیت کو نگل لیتا ہے۔ پیدائش کے وقت وہ اپنے والدین کے لیے جیتا ہے۔ اس کے ابتدائی افکار، جذبات اور حرکات اپنی مرضی سے نہیں، بلکہ ان کی توقعات اور خواہشات سے تشکیل پاتے ہیں۔ جیسے جیسے وہ بڑا ہوتا ہے، اسے اپنے اساتذہ کے لیے جینا سکھایا جاتا ہے—اپنے تجسس کو مقررہ علوم، اصولوں اور نظاموں کے تابع کر دیتا ہے جو اکثر اس کے حقیقی ماہیت کو پروان نہیں چڑھنے دیتے۔ جوانی میں وہ محبت کے لیے جیتا ہے—کسی اور کی نظر میں اثبات، پیار اور معنی ڈھونڈتا ہے۔ یہ دور پھر زندگی کے ساتھی کے لیے جینے میں بدل جاتا ہے، جہاں خاندان کی ضروریات اور گھریلو زندگی کی استواری اس کے وجود کو مزید تحلیل کردیتی ہے۔ جب اولاد آتی ہے، تو وہ ان کے لیے جینے لگتا ہے۔ اس کے خواب، عزائم اور حتیٰ کہ اس کی شناخت بھی نگہداشت، تعلیم اور ورثے کے نام پر قربان ہو جاتی ہے۔ اس دوران دوستیاں بھی وفا، جذباتی مشقت اور وقت کا مطالبہ کرتی ہیں—ذات کا ایک اور حصہ دستبرداری پر مجبور ہو جاتا ہے۔ معاشرہ اپنے لامتناہی تعریفوں اور فرائض کے ساتھ اپنا حصہ وصول کرتا رہتا ہے۔ انسان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ محلے کے اصولوں، شہر کی غیرت، برادری کی بہبود اور قوم کے مفادات کے لیے جیے۔ اس تمام عرصے میں، اس کی ذات پس منظر میں دھندلاتی چلی جاتی ہے—ایک خاموش تماشائی جو سماجی کرداروں کے نقاب کے پیچھے قید ہو کر رہ جاتا ہے۔ مذہب بھی اس میں شامل ہوتا ہے—خواہ عقیدے کی صورت میں یا مزاحمت کی۔ انسان یا تو کسی بالاتر ہستی کے اصولوں کے مطابق جیتا ہے، یا ان کے خلاف بغاوت کرتا ہے۔ دونوں صورتوں میں، وہ کسی بیرونی شے کے لیے جی رہا ہوتا ہے، اپنی ذات کے لیے نہیں۔ بڑھاپے کے قریب، جب موت کا خیال گھر کر لیتا ہے، تو ایک آخری تبدیلی رونما ہوتی ہے۔ انسان خوف، احساسِ جرم یا نجات کی تمنا کے تحت خدا کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ وہ ذاتِ باری کے لیے جینے لگتا ہے، تاکہ انجام کار کچھ معنویت پا سکے۔ اور اس تمام جالِ وابستگیوں، قربانیوں اور شناختوں میں، اس کی اپنی ذات گم ہو کر رہ جاتی ہے—کبھی بھی مکمل طور پر جلوہ گر نہیں ہو پاتی۔ انسان دوسروں کے ذریعے، دوسروں کے لیے اور دوسروں کی وجہ سے جیتا ہے۔ لیکن اپنی ذات کے لیے، مکمل طور پر؟ تقریباً کبھی نہیں۔ یہی انسانی وجود کا المیہ ہے: کہ فرد، معنی اور تعلق کی تلاش میں، اپنے آپ کو رشتوں، اداروں اور اقدار میں منتشر کر دیتا ہے—اور ایک مکمل، غیر منقسم ذات کے امکان کے صرف چند ٹکڑے چھوڑ جاتا ہے۔ نوٹ :یہ تقریبا" چار ہزار الفاظ پر مشتمل مختلف وجودی فلسفیوں، ادیبوں اور شاعروں کے حوالے کے ساتھ تحریر کردہ مضمون، جو کچھ آپ نےنپڑھا ہے وہ محض ایک خاکہ ہے۔_______________⭕ڈاکٹر آصف فیضی مالیگاؤں ف ب س ے انڈے کا فنڈا آج ۔۔۔کھانے کے لئے انڈا تلنا تھا۔ فریج سے جیسے ہی انڈا نکالا انڈا مجھ سے گفتگو فرمانے لگا۔ روتے ہوئے کہنے لگا " صاحب آپ تو قلم کار ہیں دنیا جہان کے موضوعات کو تختہ مشق بناتے رہتے ہیں ، ہم سے آپ کو کیا بیر ہے ۔ مرنے سے پہلے میری آخری خواہش ہے کہ آپ ہمیں بھی اپنے ستم کا نشانہ بنائیں ، نوازش ہوگی۔" انڈے کی اس درد بھری آخری خواہش سن کر ہمیں بھی کھلکھلا کے رونا آگیا۔ہم نے انڈے سے وعدہ کرلیا۔ اب انڈے کی درخواست پر چند باتیں جو ذہین میں آ ٹپکیں ، انھیں نتیجے سے بے فکر ،حوالہ قرطاس کردیا ہے۔ آپ بھی انڈے کے غم شریک رہیں۔دنیا میں یہ بحث اب پرانی ہو گئی ہے کہ انڈا پہلے آیا یا مرغی ۔حتی کہ سائنس بھی یہ گتھی سلجھانے سے معذور ہے۔خیر انڈا پہلے آیا ہو یا مرغی ہمیں اس بحث سے کیا لینا ۔ہم تو انڈا کھانے کے شوقین ہیں بس ۔۔۔ بات ختم ۔۔۔دنیا میں سب زیادہ شاید انڈا ہی کھایا جاتا ہے۔ انڈے غذائیت سے بھر پور بہترین غذا ہیں۔ جسے انڈا کھانے کی عادت ہو جائے اس کی زندگی آسان ہو جاتی ہے۔ جتنی ڈشیں انڈوں سے بنتی ہیں دنیا میں شاید کسی اور چیز سے بنتی ہوگی۔انڈے کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں تازہ اور باسی کا مسئلہ نہیں رہتا۔ جب کھائیں تب تازہ۔ انڈے دو طرح کے ہوتے ہیں ایک اچھے اور دوسرے گندے ۔ اچھے انڈے کھانے کے کام آتے ہیں مگر گندے انڈے دوسرے کاموں میں مفید ہوتے ہیں ۔گندے انڈے بھی غیر اہم نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے گندے انڈے شاعر مشرق علامہ اقبال کی خصوصی توجہ مرکز رہے ہیں۔ علامہ نے کہا تھا اٹھاکر پھینک دو باہر گلی میں نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندےعلامہ کے اس شعر سے معلوم ہوتا ہے کہ گندے انڈوں سے علامہ کو بھی پالا پڑا تھا، جن سے پریشان ہوکر انھوں نے گندے انڈوں کا باہر گلی میں پھینکنے کا مشورہ دیا تھا ۔ علامہ کو تو نئی تہذیب کے گندے انڈوں سے پالا پڑا تھا۔ آج اگر علامہ بقید حیات ہوتے تو دیکھتے اب ہر میدان میں گندے انڈوں کی بھر مار ہے۔ اگر آج علامہ کا مشورہ مان کر گندے انڈوں کو گلی میں پھینک دیں تو بڑی مصیبت ہو سکتی ہے۔ کیوں کہ آج کل کے گندے انڈے بڑے فتنے کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ گندے انڈے گلی گلی آباد ہیں ۔ گلی کے باہر پھینکنے پر اگر یہ گندے انڈے کسی گندے انڈے کے اوپر گر گئے تو اس کے بھیانک نتائج سوچ کر ہی دل کانپ جاتا ہے ۔علامہ کے دور میں تو گندے انڈوں کو گلی میں پھینک کر نجات حاصل کی جا سکتی تھی مگر آج تو انھیں گلی میں بھی نہیں پھینک سکتے ۔ لہذا آج گنڈے بڑا مسئلہ بن گئے ہیں ۔علامہ کو نئی تہذیب کے گندے انڈوں سے پریشانی تھی آج کے دور میں تو ہر میدان میں گندے انڈے پریشانی کا باعث ہیں ، پھر چاہے میدان تعلیم کا ہو ،ادب کا ہو ،سیاست کا ہو ، صحافت کا ہو موسیقی کا ہو یا سوشل میڈیا ۔۔۔کیا آپ جانتے ہیں دنیا میں سب زیادہ انڈے کون کھاتا ہے ؟" سبحان ۔۔۔!"" جی ہاں آپ نے صحیح سنا سبحان ۔۔۔!" میدان چاہے تعلیم کا ہو ، ادب کا ہو ، سیاست کا ہو ،صحافت کا ہو یا کوئی اور ہر جگہ انڈا سبحان ہی کھاتا ہے ۔اسی طرح کی ایک اور کہاوت سنی تھی "انڈے سیوے فاختہ کوے میوے کھائیں۔"انڈے سے ہمارا پہلا سابقہ کھانے کے علاوہ اسکول میں پڑا جب ہمیں استاد نے سونے کا انڈا دینے والی مرغی کی کہانی سنائی تھی۔سونے کا انڈا دینے والی مرغی ہر کسی نصیب میں نہیں ہوتی سونے کا انڈا دینے والی مرغی پانے کے لیے اچھا نصیب بھی ضروری ہے۔ایک کہانی جو ہمیں اسکول میں پڑھائی گئی تھی ، آج تک یاد ہے کٹ کٹ کرتے رہو کچھ نہ کچھ ہو ہی جاتا ہے۔اس کہانی سے معلوم ہوتا ہے کہ انڈے حرکت و عمل کی دعوت بھی دیتے ہیں اور انڈوں میں زندگی کا فلسفہ بھی موجود ہے ۔ایک بچے نے ملّا دو پیازہ سے پوچھا: جناب ایک بات تو بتائیں کہ انڈے میں سے چوزہ کیسے نکل آتا ہے؟ملّا دو پیازہ جواباً بولے: میاں، میں تو یہ سوچتا ہوں کہ انڈے کے اندر چوزہ گھس کیسے جاتا ہے؟ارے ہاں ۔۔۔ ! ملا دو پیازہ سے شیخ چلی کی انڈے والی کہانی بھی یاد آگئی۔ شاید آپ کو بھی یاد آگئی ہوگی۔خیر ان فضول بحثوں سے ہمیں کیا مطلب ہم تو" انڈے کے شہزادے "ہیں۔ ہمیں تو انڈے کھانے سے مطلب ۔آپ سے بھی وننتی ہے کہ "سنڈے ہو یا منڈے روز کھائیں انڈے ہی انڈے۔"______________⭕ندی، پہاڑ اور بازار⭕ (ایک ادبیاسی نکسلائٹ نظم) اردو میں پہلی بار ایک دریافت نظم نگار "حسنتا کیر کٹا" جھارکھنڈ 🎟️تعارف ادبیہ کا 👇🔴(ادبیاسی شاعرہ، ادبیہ اور صحافی "جسنتا کیرکٹا) ہندوستان میں دلت ادب یا ادبیاسی ادب وغیرہ وطن عزیز میں ادبیاسی طبقات کی آبادی لگ بھگ 9فیصد (104ملین) ہے کہ مگر اُن کی زندگی اُن کے مسائل اُن کی محرومیاں اور اُن کی خوشیاں اور غم ادب میں جگہ نہیں پاتے شاید اُس کی وجہ یہ ہو کہ یہ طبقات دور دراز علاقوں میں سکونت پذیر ہیں اور ملک کی غالب آبادی سے اُن کا رابطہ بہت کم ہے یا بالکل نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ دلت اور ادبیاسی قلمکاروں کو ہمیشہ یہ شیکایت رہی ہے کہ اُنہیں ادب میں مناسب نمائندگی نہیں ملتی یا اُن کے تخلیق کردہ ادب کی ویسی پزئرائی نہیں ہوتی جیسا کہ اُس کا حق ہے گزشتہ دنوں ایک ادبیاسی شاعرہ، ادبیہ اور صحافی جسنتا کیرکٹا نے "انڈیا ٹو ڈے" گروپ کا ایوارڈ لینے سے انکار کر دیا تو ان کا نام صحافتی حلقوں میں گونجے لگا اَُس کے باوجود قومی دھارا کے صحافتی اداروں، اخبارات اور ٹی وی چینلوں نے اس خبر کو اہمیت نہیں دی جسنتا کی بنیادی شیکایت یہی ہے کہ ادبیاسی، ادبیوں، شاعروں فنکاروں کو نظر انداز کیا جاتا ہے - اُنہیں اُن کی کتاب "ایشور اور بازار" کیلئے آج تک ساہتیہ جاگرتی اُدیمان پرتبھا سمان "دیا جانا تھا اس سلسلہ میں دئیے گئے اپنے انٹرویو میں اُنہوں نے کہا کہ" یہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب منی پور میں قبائلیوں کے تئیں احترام ختم ہو رہا ہے - وسطی ہندوستان میں بھی اب اُن کے تئیں احترام کا جذبہ باقی نہیں رہا، دیگر فرقوں اور طبقوں کے ساتھ یہی ہو رہا ہے اِن پر حملہ ہو رہے ہیں اسی باعث میرا ذہن پریشان رہتا ہے جس کے سبب یہ اعتراف (ایوارڈ کی شکل میں) میرے لیے باعث مسرت نہیں بن سکا جسنتا کیر کٹا کو یہ بھی شیکایت ہے کہ مین اسڑیم میڈیا ادیباسیوں کے مسائل و مصائب کے ساتھ انصاف نہیں کرتا جسنتا کیرکٹا، جو 3اگست 1983 کو جھارکھنڈ کے ضلع مغربی سنگھ بھوم کے ایک گاؤں (کھداپوش) میں پیدا ہوئی جسنتا کیر کٹا کی دو کتابیں "انگور" (جو انگار یعنی آگ سے مشتق ہے) اور "جڑؤں کی زمین" منظر عام پر آچکی ہیں جبکہ جس کتاب (ایشور اور بازار) کیلئے اُنہیں ایوارڈ دیا جانے والا تھا وہ اُن کی تیسری تصنیف ہے اُن کی نظموں میں احساس محرومی تو ہے ہی شہروں اور دیہاتوں کی زندگی کا تضاد بھی موجود ہے جو دولت احساس اور بےحسی کے درمیان خط تفرق کھنچتا ہے ذلیل میں ان کی ایک نظم بہ شکریہ "🔴انقلاب ممبئی 26نومبر کے سنڈے میگزین کے ادبی صفحہ سے انتخاب و ٹائپنگ احمد نعیم ⭕ندی، پہاڑ اور بازار⭕"گاوں میں وہ دن تھا اتوارمیں ننھی پیڑھی کا ہاتھ تھام کرنکل گی بازارسوکھے درختوں کے بیج دیکھاایک پتلی پگڈنڈیمیں نے ننھی پیڑھی سے کہادیکھو یہی تھی کبھی گاؤں کی ندیآگے دیکھ زمین پر بڑی سی دراڑمیں نے کہا، اسی میں سما گے سارے پہاڑاچانک وہ سہم کر لپٹ گئی مجھ سےسامنے دور تک پھیلا ہوا تھا بھیاوہیہ ( خوفناک) قبرستانمیں نے کہا دیکھ رہی ہو اُسےیہی تھے کبھی تہمارے پرُوجوں (آباء اجداد) کے کھلیانننھی پیڑھی دوڑی : ہم آگے بازارکیا کیا لینا ہے پوچھنے لگا دُکانداربھیاّ تھوڑی سی بارش،تھوڑی گیلی مٹیایک بوتل ندیدو ڈبہ پہاڑاِدھر دیوار پر ٹنگی ایک پرکرتی بھی دے دواور یہ بارش اتنی مہنگی کیوں؟؟دُکاندار بولا : یہ نمی یہاں کی نہیں،دوسرے گرہ سے آئی ہےمندی ہے چھٹانک بھر منگوائی ہےپیسے نکالنے ساڑی کی کور ٹٹولیچونکی دیکھاآنچل کی گانٹھ میں روپے کی جگہپورا وجود مُڑا پڑا تھا___________غزل. اس کی آنکھوں کے اک اشارے پرلوگ بیٹھے رہے کنارے پر اس کی کوئی تو مصلحت ہوگیباندھ رکھّے ہیں جو ہمارے پراس کے قدموں کی آہٹیں سن کرمچھلیاں آگئیں کنارے پررقص کرتی ہے روشنی گھر میںچاند کیا آگیا دُوارے پرزیست کے آسماں پہ اڑنے کوکتنے بے تاب ہیں کنوارے پرہنس کے جیتے ہیں لوگ دنیا میںایک تنکے کے بھی سہارے پرجتنا لکھا ہے اتنا ملنا ہےچاہے جتنا ندیم مارے پرعرفان ندیم

Tuesday, 23 September 2025

پی ایم مودی کا عوام کے نام کھلا خط۔ عوام کے نام ایک کھلے خط میں وزیر اعظم مودی نے کہا کہ جی ایس ٹی اصلاحات سے بچت میں اضافہ ہوگا اور سماج کے ہر طبقے کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔ پی ایم مودی نے کہا کہ `ترقی یافتہ ہندوستان کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے خود انحصاری کی راہ پر گامزن ہونے کی ضرورت ہے نریندر مودی۔ تصویر:پی ٹی آئیوزیر اعظم نریندر مودی نے گڈز اینڈ سروسیز ٹیکس (جی ایس ٹی )کی شرحوں کو کم کرنے پر کہا کہ جی ایس ٹی بچت اتسو نے ہر گھر میں تہوار کا ماحول لایا ہے۔ عوام کے نام ایک کھلے خط میں وزیر اعظم مودی نے کہا کہ جی ایس ٹی اصلاحات سے بچت میں اضافہ ہوگا اور سماج کے ہر طبقے کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔ پی ایم مودی نے کہا کہ `ترقی یافتہ ہندوستان کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے خود انحصاری کی راہ پر گامزن ہونا ضروری ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ جی ایس ٹی کی نئی اصلاحات ہمیں آگے لے جائیں گی، نظام کو آسان بنانے، شرحوں کو کم کرنے اور لوگوں کی بچت میں اضافہ کریں گے۔پی ایم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لیٹر کو شیئر کرتے ہوئے لکھاکہ ’’آئیے اس تہوار کے سیزن کو `جی ایس ٹی سیونگ فیسٹیول کے ساتھ نئے جوش اور جوش سے بھریں! نئی جی ایس ٹی شرحوں کا مطلب ہر گھر کے لیے زیادہ بچت کے ساتھ ساتھ تجارت اور کاروبار کے لیے بڑی راحت ہے۔‘‘جی ایس ٹی اصلاحات سے سماج کے ہر طبقے کو براہ راست فائدہ پہنچے گاپی ایم مودی کا عوام کے نام کھلا خط۔ عوام کے نام ایک کھلے خط میں وزیر اعظم مودی نے کہا کہ جی ایس ٹی اصلاحات سے بچت میں اضافہ ہوگا اور سماج کے ہر طبقے کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔ پی ایم مودی نے کہا کہ `ترقی یافتہ ہندوستان کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے خود انحصاری کی راہ پر گامزن ہونے کی ضرورت ہے۔نریندر مودی۔ تصویر:پی ٹی آئیوزیر اعظم نریندر مودی نے گڈز اینڈ سروسیز ٹیکس (جی ایس ٹی )کی شرحوں کو کم کرنے پر کہا کہ جی ایس ٹی بچت اتسو نے ہر گھر میں تہوار کا ماحول لایا ہے۔ عوام کے نام ایک کھلے خط میں وزیر اعظم مودی نے کہا کہ جی ایس ٹی اصلاحات سے بچت میں اضافہ ہوگا اور سماج کے ہر طبقے کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔ پی ایم مودی نے کہا کہ `ترقی یافتہ ہندوستان کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے خود انحصاری کی راہ پر گامزن ہونا ضروری ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ جی ایس ٹی کی نئی اصلاحات ہمیں آگے لے جائیں گی، نظام کو آسان بنانے، شرحوں کو کم کرنے اور لوگوں کی بچت میں اضافہ کریں گے۔ پی ایم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لیٹر کو شیئر کرتے ہوئے لکھاکہ ’’آئیے اس تہوار کے سیزن کو `جی ایس ٹی سیونگ فیسٹیول کے ساتھ نئے جوش اور جوش سے بھریں! نئی جی ایس ٹی شرحوں کا مطلب ہر گھر کے لیے زیادہ بچت کے ساتھ ساتھ تجارت اور کاروبار کے لیے بڑی راحت ہے۔‘‘وزیر اعظم مودی نے کہا کہ جی ایس ٹی اصلاحات ترقی اور سرمایہ کاری کو فروغ دیں گی، ہر ریاست اور خطے کی ترقی کو تیز کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگلی نسل کی جی ایس ٹی اصلاحات نے اپنی موجودگی کا احساس دلانا شروع کر دیا ہے، جس سے ملک بھر میں `جی ایس ٹی بچت فیسٹیول کا آغاز ہو رہا ہے۔ اس سے پہلے پیر کو اروناچل پردیش کے اپنے دورے کے دوران پی ایم مودی نے تاجروں اور دکانداروں سے بات چیت کی۔ حکمران اتحاد کے دیگر اراکین نے بھی ایسا ہی کیا۔ حکومت کو امید ہے کہ روزمرہ کے استعمال سے لے کر کاروں اور ٹیلی ویژن تک مختلف اشیاء کی قیمتوں میں کمی سے اس وقت ماحول میں مثبت تبدیلی آئے گی اور معیشت کو فروغ ملے گا۔ وزیر اعظم مودی نے جی ایس ٹی کی شرحوں میں کمی کے سلسلے میں پیر کو اخبارات میں شائع ہونے والی وسیع سرخیوں کا حوالہ دیا۔ بڑے ہندی اور انگریزی اخبارات کے صفحہ اول کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے پی ایم مودی نے ایکس پر لکھا کہ ’’مارکیٹ سے لے کر گھروں تک، جی ایس ٹی سیونگ فیسٹیول نے تہواروں میں خوشی لائی ہے۔ اس سے قیمتیں کم ہوں گی اور ہر گھر میں مسکراہٹ آئے گی۔‘‘ وزیر اعظم نے اتوار کو، نوراتری کے پہلے دن جی ایس ٹی کی نئی شرحوں کے نفاذ کے موقع پر قوم سے خطاب کیا۔_____________برائے عالمی افسانہ فورم ۲۰۲۴ءتعارف نام : عظمت اقبال محمد عثمان نام : عظمت اقبال رہائش : مالیگاؤں ، مہاراشٹر (انڈیا)پیشہ۔ مدرس تعلیمی لیاقت : ایم اے بی ایڈ (انگریزی)موبائیل نمبر : 9970666785ادبی سفر :مقامی و بیرونی اخبارات میں پچھلے چند برسوں سے مختلف موضوعات پر کالم شائع ہو رہے ہیں ۔ روزنامہ انقلاب ممبئی و دیگر اخبارات و رسائل میں اب تک ایک درجن سے زائد افسانے شائع ہو چکے ہیں۔ پریس فار پیس پبلیکین کے زیر نگرانی عالمی افسانہ نویسی مقابلہ ۲۰۲۳ء میں عالمی سطح پر افسانہ “ادھوری تخلیق” کو سوم مقام حاصل ہوا۔ شہر میں منعقد ہونے والی افسانوی نشستوں میں اپنی تخلیقات کے ساتھ متواتر شرکت رہتی ہے۔ قومی و بین الاقوامی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ادبی فورم مکی سرگرمیوں میں شمولیت جاری ہے۔ افسانہ مایا مائی لائف ! ۶-جنوری ۱۹۹۲ء -چند روز قبل خود کو نیند کی آغوش کے حوالے کرنے کےلئے رات دیر گئے جب پلکوں کو بند کئے بستر پر لیٹا تو کھڑکی سے کمرے میں جھانکتی چاند کی روشنی آنکھوں میں چبھنے لگی- کمرے کو مکمل اندھیرے میں ڈھک دیا- پلکیں بند کئے بستر پر لیٹا توکچھ ہی پلوں میں الگ الگ چہرے روشنی کے ہیولوں کی شکل میں سامنے آنے لگے- کچھ خوبصورت ،کچھ بہت خوبصورت تو کچھ انتہائی کریہہ ، بدصورت - یہ چہرے دیر تک میری صحبت کا حصہ رہے- اور تب سے یہ چہرے شب کی تنہائی میں میرے اردگرد جمگھٹ کی شکل میں اکٹھا ہوجاتے ہیں- اب تو ہمارے درمیاں شناسائی ہو گئی ہے- ہر شب ایک چہرہ مجھے اپنی داستاں سناتا ہے- خوبصورت چہروں کی داستاں بڑی کربناک ہوتی ہے- خوف زدہ کردینے والے چہروں کی کہانیاں نانی اماں کی کہانیوں کی طرح ہوتی ہے- کہانی ختم ہونے سے قبل ہی کسی پل میں اپنے وجود سے بے خبر ہو جاتا ہوں- ۱۲ جنوری۱۹۹۲ء۔ آج اس سے الگ ہوئے پورا ایک برس گزر گیا ہے۔ اس کے بغیر جینے کی ناکام کوشش کر رہا ہوں۔ ماضی کی ان کربناک یادوں کو لاشعور کی گہرائی میں دفن کر چکا ہوں۔ گزرتے وقت کے ساتھ روح پر لگے زخم ناسور ہوئے جا رہے ہیں۔۱۵جنوری ۱۹۹۲ء۔ آج ڈاکٹر نے آخری وارننگ دے دی۔ نشہ کرنا چھوڑ دو یا دوائی لینا بند کردو۔ ڈاکٹر جب کبھی ڈانٹنے کے انداز میں تنبیہ کرتا ہے تو مجھے ماں یاد آجاتی ہے۔ ایک ماں ہی تھی جو مجھے سمجھتی تھی۔ وہ بھی بچپن میں مجھے سخت دل باپ کے حوالے کر چلی گئی۔ دوسری ماں کا سلوک مجھ سے اچھا ہی رہا لیکن نا جانے کیوں وہ میرے لئے ہمیشہ سوتیلی ہی رہی۔ ۲۲ جنوری۔ ۱۹۹۲ء - روزانہ شام ہائی وے کے اس پار ٹیلے پر بیٹھا کرتا ہوں ۔ ٹیلے کے پچھلے حصے کو سوسائیڈ پوائنٹ کہا جاتا ہے۔ ٹیلے کے اس حصے میں سیدھی ڈھلان ہے جو گہرے تالاب میں جا کر ختم ہوتی ہے۔ زندگی سے مایوس لوگوں کو تالاب کا پرسکون پانی اپنی گہرائی میں سمو لیتا ہے۔ اکثر روح سے آزاد جسم تالاب میں موجود مچھلییوں کی غذا بن جاتے ہیں۔چند روز پہلے میں بھی اسی مقصد سے اس جگہ آیا تھا۔ جانے کونسی طاقت ہے جو انسان کو اپنے فیصلے بدلنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ مگر یہ طے ہے کہ میرا جسم کبھی نا کبھی ان آدم خور مچھلیوں کی غذا بنے گا۔پچھلے چند دنوں سے میں اس جگہ پابندی سے جاتا ہوں۔ ٹیلے کے مشرقی سمت میں رکھے بینچ پر بیٹھ کر نیچے شاہراہ پر آتی جاتی گاڑیوں کو دیکھنا اچھا لگتا ہے ۔ پھر جب سورج اپنی بوجھل کرنوں کو سمیٹ کر پلک بند کرلیتا ہے ۔ اور منظر سیاہی اوڑھنے لگتا ہے تو لوٹ آتا ہوں۔۲۷ جنوری -۱۹۹۲ء - آج شام ایک واقعہ پیش آیا ۔ آجج تھوڑی فاصلے پر رکھی بینچ پر ایک عورت کو بیٹھا پایا۔اکثر میری طرح تنہائی پسند لوگ وہاں آکر بیٹھا کرتے ہیں۔ مگر نا جانے کیوں اس عورت نے میرا دھیان اپنی جانب کھینچ لیا۔ مجھے محسوس ہوا وہ رو رہی ہے۔ پھر وہ اٹھی اور ٹیلے کے کنارے مشرقی حصے میں جا کر کھڑی ہوگئی۔ شاید وہ فیصلہ کر چکی ہے۔ زندگی کے کرب سے نجات کا، اپنی روح کو آزاد کرنے کا۔ میں اٹھ کر تیز قدموں سے چلتا ہوا اس کی جانب بڑھا۔ قدموں کی آہٹ سن کر وہ پیچھے مڑی۔ میں اس کے قریب جا کر کھڑا ہو گیا۔ اسے ہیلو کہا۔ وہیں کھڑے رہ کر کافی دیر ادھر ادھر کی باتیں کر کے اس کے ذہنی اضطراب کو پرسکون کرنے کی کوشش کی ۔ اپنی اس کوشش میں میں کامیاب رہا۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں اگر میں وہاں نا ہوتا تو وہ اس کی زندگی کی آخری شام ہوتی۔۳۰ جنوری ۱۹۹۲ء اس جگہ ہم روزانہ ملنے لگے ہیں۔ جب میں وہاں پہنچتا ہوں تو اسے بینچ پر بیٹھا ہوا پاتا ہوں۔ اس بیچ اس نے اپنے متعلق بہت کچھ نہیں بتایا۔ شاید اسے میری باتیں سننا اچھا لگتا ہے۔آج میں نےاسے والٹ وہائٹ مین اور ولیم ورڈس ورتھ کی پویٹری سنائی۔ وہ بڑے انہماک سے سنتی رہی۔۲- فروری ۱۹۹۲ء ۔ پچھلے دو روز سے وہ نہیں آئی۔ حالانکہ مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑنا چاہئے ۔ لیکن جانے کیوں عجب سی بے چینی محسوس ہو رہی ہے۔ مجھے خود پر غصہ آرہا ہے۔ مجھے اس سے کچھ تو بات کرنی چاہئے تھی۔ اس کے بارے میں جان لینا چاہئے تھا ۔ اس کانام ، پتہ ۔ شاید وہ کسی دوسرے شہر سے ہو ۔ وقتی طور پر یہاں آئی ہو اور اب واپس چلی گئی ہو۔۵ فروری -۱۹۹۲ء- آج جب میں ٹیلے پر پہنچا تو اسے بیٹھا ہوا پایا ۔ اسے دیکھ کر نہ جانے کیوں آنکھوں میں ٹھنڈک سے محسوس ہوئی۔ آج میں نے پہلی دفعہ اس سے دیر تک باتیں کی۔ اس کا نام مایا ہے۔اس کی پسند نا پسند مجھ سے بہت ملتی ہے۔ وہ بھی میری طرح تنہائی پسند ہے۔ اسے شاعری کے ساتھ مصوری کا بھی شغل ہے۔۷ فروری ۱۹۹۲ء-ہم میں قربت سی ہو گئی ہے۔ شام میں پابندی سے ملتے ہیں۔ میں نے اپنے اندر بہت سی تبدیلیاں محسوس کی ہیں۔ میری زندگی میں آنے والے یہ خوشگوار لمحے ماضی کے کرب پر حاوی ہو گئے ہیں۔ پرانے زخم بھرنے لگے ہیں۔ کافی عرصے بعد گہری نیند سونے لگا ہوں ۔ اب صحت میں کافی سدھار محسوس ہو رہا ہے۔ کاش وہ مجھ سے بہت پہلے ملی ہوتی۔ ہم اچھے دوست بن چکے ہیں ۔ کیا دوستی سے آگے بڑھ کر اس رشتے کو کوئی اور شکل دی جا سکتی ہے۔ فیصلہ حالات پر چھوڑ دیتے ہیں۔۱۰فروری- ۱۹۹۲ء-آج اس کی مسحور کن آنکھوں کی گہرائی میں خود کو مقید پایا ۔ آسمان ابر آلود تھا۔پراسرا ر ، کئی گہرے راز سے بھرا ہوا۔ ہوا سرگوشی کر رہی تھی۔ اس کے نازک لبوں کی کھنک میرے کانوں میں رس گھولتی رہی۔ میں اسے نیہارتا رہا ، نیہارتا رہا۔خیال آیا کہ اس دلفریب منظر کو قید کرلوں۔ عرصے بعد دل میں ایک تصویر بنانے کی خواہش جاگی۔ یہ میری جانب سے اس کے لئے ایک خوبصورت سا تحفہ ہوگا۔ اظہار محبت کا ماخذ ۔۱۲ فروری -۱۹۹۲ء۔ دو روز اس تصویر کو بنانے میں اپنے پورے ہنر کا استعمال کیا ۔ آج تصویر مکمل ہوگئی ہے ۔ مجھے صحیح وقت کا انتظار ہے جب میں اس تصویر کو اسے گفٹ کرونگا۔ مجھے یقین ہے وہ میر ے فن مصوری کی قائل ہو جائےگی۔ ڈیوڈ کی پرسنل ڈائری کا یہ آخری صفحہ تھا ۔ پچھلے ہفتے شام ڈھلے ، چہل قدمی سے واپس لوٹتے وقت ایک کار نے اسے پیچھے سے ٹکر ماردی ۔ ہاسپیٹل پہنچنے سے قبل ہی اس کی موت ہوگئی تھی۔ ڈیوڈ کمپنی میں میرا ہمعصر تھا۔ میں کمپنی کی تین رکنی اس کمیٹی کو لیڈ کر رہا تھا جو کمپنی کے ضروری کاغذات کی تلاش میں اس کے گھر آئی ہوئی تھی۔اس کا دور کا ایک رشتہ دار ہمارے ساتھ تھا اسی نے اس کی آخری رسومات ادا کی تھی۔ میں نے بے دلی سے ڈائری سوٹ کیس میں رکھی۔ اور دوسرے سامان کی طرف متوجہ ہوا ۔دراز کھول کر فائیلیں نکالنی شروع کی۔آخری فائیل دراز سے نکالی تو اس کے نیچے ایک اسکیچ نظر آیا ۔ اسکیچ میں ڈیویڈ کا چہرہ بڑا پرسکون نظر آرہا تھا ۔ ہاں مگر اس کی نیلی گہری آنکھوں میں غور سے دیکھنے پر میں نے کرب کی ایک لہر سی محسوس کی۔ زیر تصویرتحریر تھا “ مایا مائی لائف۔”۱۲ فروری ۱۹۹۲ء__________*مالیگاؤں کا درخشاں ستارہ سید خالد سید اکبر علی ممبئی میئر ایوارڈ سے سرفراز* ممبئی(راست) ۵ ستمبر یومِ اساتذہ کے موقع پر ہمارے ملک میں مقام سے لے کر مرکز تک درس و تدریس سے وابستہ اساتذۂ کرام کو ان کی منفرد و مثالی تعلیمی و تدریسی کوششوں کے اعتراف میں مثالی مدرس کا اعزاز دیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن کی روایت مستحکم رہی ہے۔ ہر سال بی ایم سی کی مختلف میڈیم کی پرائمری و سیکنڈری اسکولوں کے منتخب اساتذہ کو ایوارڈ دینے کا سلسلہ دراز ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق بی ایم سی کے محکمۂ تعلیم کی جانب سے ۲۰۲۵ کے میئر ایوارڈ کا اعلان ۲۵ اگست ۲۰۲۵ کو ایک پریس ریلیز کے ذریعے ظاہر کیا کیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں اعزازی تقریب کا انعقاد ۱۷ ستمبر ۲۰۲۵ کو پینگوئن (ہمبولٹ) ہال، بائیکلہ، ممبئی میں کیا گیا۔ جہاں منتخب ۵۰ اساتذہ کو ان خصوصی منفرد و مثالی کارکردگی کی بنیاد پر ایڈیشنل میونسپل کمشنر امیت سینی اور ڈپٹی میونسپل (ایجوکیشن ) کمشنر پراچی جامبیکر کے ہاتھوں میئر ایوارڈ، گیارہ ہزار روپئے، اعزازی میڈل، توصیفی نشان، سند، شال، ناریل اور فیتہ سے نوازا گیا۔ اس موقع پر ایجوکیشن آفیسر سجاتا کھرے، ڈپٹی ایجوکیشن آفیسر (سینٹرل) آفیسر کرتیوردھن کرت کڑوے، ڈپٹی ایجوکیشن آفیسر ممتا راؤ، ڈپٹی ایجوکیشن آفیسر مختار شاہ اور ڈپٹی ایجوکیشن آفیسر (سٹی) نثار خان موجود رہے۔ واضح رہے کہ امسال اردو کے چھ اساتذہ کو میئر ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا جن میں ایک اہم نام شہر عزیز مالیگاؤں کے سید خالد سید اکبر علی (میٹھا نگر میونسپل اردو اسکول) کا بھی ہے۔مالیگاؤں نیا آزادنگر کے ساکن سید خالد اپنی مٹی سونا ہے کے مصداق اپنی جڑوں سے منسلک رہتے ہوئے اپنی دیرینہ روایات کے مطابق ممبئی میں تدریسی خدمات کے ساتھ اساتذہ کے مختلف تربیتی کورسز میں ریاستی سطح تک رہنمایانہ کردار ادا کیا ہے نیز بال بھارتی پونہ کی اردو لسانی کمیٹی کے مجلس مشاورت کے رکن کی حیثیت سے بھی نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ تعلیمی شعبے میں متحرک اور فعال رہنے کے ساتھ آپ ممبئی کے معروف ادرہ کاوش سے بھی منسلک ہیں، شہر عزیز میں آل مالیگاؤں اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن(امسا) سے بھی منسلک رہے۔ سید خالد صاحب کو ممبئی میئر ایوارڈ ملنے پر مبارکباد پیش کی جاتی ہے۔____________ایک گلی کی بات تھی، اور گلی گلی گئی - غزلِ جون ایلیاحالتِ حال کے سبب، حالتِ حال ہی گئیشوق میں کچھ نہیں گیا، شوق کی زندگی گئیایک ہی حادثہ تو ہے، اور وہ یہ کہ آج تکبات نہیں کہی گئی، بات نہیں سنی گئیبعد بھی تیرے جانِ جاں، دل میں رہا عجب سماںیاد رہی تری یہاں، پھر تری یاد بھی گئیصحنِ خیالِ یار میں، کی نہ بسر شبِ فراقجب سے وہ چاندنہ گیا، جب سے وہ چاندنی گئیاس کے بدن کو دی نمود، ہم نے سخن میں اور پھراس کے بدن کے واسطے، ایک قبا بھی سی گئیاس کی امیدِ ناز کا، ہم سے یہ مان تھا کہ آپعمر گزار دیجیے، عمر گزار دی گئیاس کے وصال کے لیے، اپنے کمال کے لیےحالتِ دل کہ تھی خراب، اور خراب کی گئاس کی گلی سے اٹھ کے میں، آن پڑا تھا اپنے گھرایک گلی کی بات تھی، اور گلی گلی گئی______تمام اہلِ جنوں کے لبوں پہ جملہ ہےفقط تمہی نہیں بدلے زمانہ بدلا ہےجنہیں سمجھتی ہے آنسو وہ آنسو نہیں مرے جنازے پہ تیرا غرور پگھلا ہےعیاں ہوا ہے سرِ بام چاند سے پہلےتمہارا چہرہ! دوانوں کا بخت اُجلا ہےتمہارے ظلم و ستم کا کلیدِ جود و کرمزبانِ اہلِ خِرد پر عظیم ہَلّا ہےلئے ہوئے تھا جو تسبیح ہاتھ میں اپنےتمہاری دیکھ اداؤں کو وہ بھی پھسلا ہےتمہارے قدموں سے مہکا فراق کا موسم"نہ جانے آج کا سورج کدھر سے نکلا ہے"نیا سمجھتے ہیں انیٓس میرا وہ لہو ٹپکتا ہوا زخم سارا پچھلا ہے*~انیس عاصی مالیگانوی~*8055601835

Monday, 22 September 2025

بات بھگوا ملزمین کی !اتواریہ : شکیل رشیدتفتیشی ایجنسی این آئی اے نے کہا ہے کہ مالیگاؤں بم بلاسٹ ۲۰۰۸ء کے ’ بھگوا ملزمین ‘ کے بری کیے جانے کے فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا ، بس ذرا عدالتی فیصلے کا جائزہ لے لیں ۔ کیا واقعی این آئی اے ہائی کورٹ جائے گی ؟ شاید نہیں ، کیونکہ ریاستی وزیراعلیٰ دیویندر فڈنویس سے لے کر آر ایس ایس کے کارکنان اور بھگوا تنظیموں کے ذمہ داران تک چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ ’ ہندو دہشت گرد ہو ہی نہیں سکتا ‘ ، یعنی ہندو قوم پر دہشت گردی کے جو الزام لگائے جاتے ہیں یا لگائے گیے ہیں وہ بے بنیاد ہیں ، ان کے پسِ پشت کوئی نہ کوئی سازش ہوتی ہے ۔ ان سب کے کہنے کا مطلب یہی نکلتا ہے کہ یہ سادھوی اور کرنل جو دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیے گیے تھے ، سب بے قصور تھے ۔ ظاہر ہے کہ جب ریاستی وزیراعلیٰ اپنے بیانات میں سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر اور کرنل پروہت اینڈ کمپنی کو ’ کلین چِٹ ‘ دے رہے ہیں ، تو این آئی اے کیسے بری ہونے والوں کو دوبارہ عدالت کے کٹگھرے میں کھینچنے کی جرأت کر سکتی ہے ! اسی لیے اندازہ یہی ہے کہ ہوگا کچھ نہیں ۔ ویسے بھی این آئی اے تو ابھی فیصلہ کا ’ جائزہ ‘ لے گی ، اور اس کے بعد ہی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا فیصلہ کرے گی ، پتا نہیں جائزے کا عمل کب تک جاری رہے ! سارے بھگوا ملزمین جیل سے باہر آگیے ہیں ، باہر آنے کے بعد جشن منا رہے ہیں ، بلکہ جشن کا سلسلہ تو عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد ہی سے شروع ہے ۔ مالیگاؤں کے بھکو چوک پر ، جہاں ۲۰۰۶ء میں بم بلاسٹ ہوا تھا ، اور بے قصور افراد دہشت گردی کی بھینٹ چڑھے تھے ، وہاں بھگوا عناصر نے فیصلے والے دن ہی زوردار جشن منایا تھا ۔ سچ تو یہ ہے کہ جس دن اے ٹی ایس کے سربراہ ہیمنت کرکرے دہشت گردی کی بھینٹ چڑھے تھے ، اس دن بھی جشن منایا گیا تھا ۔ اور اسی دن سے اس مقدمے کا رُخ پلٹ گیا تھا ۔ ویسے خصوصی عدالت نے ان ’ بھگوا ملزمین ‘ کو باعزت بری نہیں کیا ہے ، ان کو شک کا فائدہ دیا ہے ، کیونکہ جو ثبوت این آئی اے نے پیش کیے تھے ، اُن کی کڑیاں درمیان سے غائب ہیں ، کوئی بھی عدالت نامکمل کڑیوں کی بنا پر ملزمین کو بری ہی کرتی ۔ اس مقدمے کی ایک سرکاری وکیل روہنی سالیان ، جو بہت پہلے اس مقدمہ سے علاحدہ ہوچکی ہیں ، کا بیان آیا ہے کہ انہیں پتا تھا یہی فیصلہ آنے والا ہے ! ایسا انہوں نے کیوں کہا یہ وہی جانیں ، لیکن ان کے پرانے بیانات کچھ کچھ اشارہ دیتے ہیں کہ اُن کے کہنے کا مطلب کیا ہے ۔ وہ یہ کہتے ہوئے اس مقدمہ سے الگ ہوئی تھیں کہ ایجنسی کی طرف سے اُن پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ اس معاملہ میں نرمی برتیں ۔ اب تو سادھوی پرگیہ یہ دعویٰ کرتی نظر آ رہی ہیں کہ انہیں ٹارچر کیا گیا تھا کہ وہ مودی ، بھاگوت اور دیگر لیڈروں کے نام لیں تاکہ ان کو بھی جھوٹے معاملے میں ملوث کیا جا سکے ! یہ جو دس دنوں کے اندر دہشت گردی کے دو معاملات کے جو فیصلے آئے ہیں ان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مسلم ملزمین کے لیے الگ پیمانہ ہے ، اور ہندو ملزمین کے لیے الگ ۔ 11/7 کے مسلم ملزمین بری ہوئے ، تو دوسرے ہی دن حکومت مہاراشٹر سپریم کورٹ چلی گئی اور فیصلے پر اسٹے لے لیا ۔ لیکن ’ بھگوا ملزمین ‘ کے معاملہ میں اس کا رویہ بالکل برعکس ہے ۔ یہ ہے آج کے ہندوستان کی حقیقی تصویر !_______"تیری میری کہانی" نمبر 34" خدا کے نام ایک باپ کا خط(جس کے بچے اس کی آنکھوں کے سامنے سیلاب میں بہہ گئے)"مصنف،عمار نعیمی (لاہور، پاکستان).......................................................................اے خداوندِ کائنات! یہ خط تیرے جلالی دربار میں ایک ایسے بندے کی لرزتی انگلیوں سے لکھا جا رہا ہے جس کا دل غم کی ضربوں سے چُور ہو چکا ہے اور جس کی امیدیں شبِ فراق کے اندھیروں میں راکھ ہو گئی ہیں۔ ہر لفظ ایک آنسو ہے اور ہر جملہ ایک آہ، جو تیری رحمت کے دریا میں پناہ چاہتی ہے۔ وہ دل جو اب خونِ جگر سے لتھڑا ہے۔ میری آواز شاید تیری رحمت کے تخت تک نہ پہنچے مگر یہ چیخیں، یہ سسکیاں، یہ دہائیاں جو میرے سینے سے نکل رہی ہیں کیا وہ تیری سماعت سے محروم رہیں گی؟ اے آسمانوں کے مالک! تو نے میری آنکھوں کے سامنے میری دنیا کو پانی کے وحشی ریلے میں یوں بہا دیا جیسے فرعون کی فوجیں غرقاب ہوئیں ہوں۔ میرے بچوں کے چہرے (جن پر کبھی بہاروں کی خوشبو مہکتی تھی) اب یاد کی ریت میں دفن ہو چکے ہیں۔ ان کی ہنسی، جیسے کسی نخلستان میں چشمہ چھم چھم بہتا ہو، سیلاب کے شوریدہ تھپیڑوں میں ہمیشہ کے لیے گم ہو گئی۔ ان کی چھوٹی چھوٹی خواہشیں ؛ چاند کے ساتھ ریس لگانا ، تتلی پکڑنے کی خواہش، مسکراتی ہوئی گڑیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سب اس بے رحم پانی کی بھوکی لہروں نے نگل لیں جیسے ہاتھی کے قدموں تلے پھول کچلے جائیں۔میں چیخا، جیسے یعقوب نے یوسف کے غم میں آنکھیں سفید کر لیں۔ پکارا، جیسے کربلا کے خیموں میں زینب کی صدا گونجی ہو۔ مگر میری ہر صدا پانی کے غضب ناک طوفان میں یوں گم ہوئی جیسے تاریکی میں جگنو کا نور۔ میری فریاد آسمان سے ٹکرا کر لوٹ آئی۔ میری بے بسی عرش کو ہلا نہ سکی اور میں اُس پیالے کی طرح رہ گیا جو چھلک چکا ہو مگر لب تک نہ پہنچ سکا۔اے ربِ کائنات ! میرا دل اب وہ تنور بن چکا ہے جس میں آگ کی لپٹیں ہر لمحہ میری روح کو جلا رہی ہیں۔ میری راتیں اب خوابوں کی آغوش سے محروم ہو چکی ہیں۔ وہ خواب جن میں میرے بچوں کی ہنسی گونجتی تھی، ماں کی لوری سانس لیتی تھی اور امید کا چراغ لرزتا تھا۔ اب ان راتوں میں صرف ایک بے رحم سناٹا بسیرا کیے بیٹھا ہے۔ ایسا سناٹا جو قبر کی مٹی جیسا ٹھنڈا اور کفن کی شکنوں جیسا خاموش ہے۔ یہ سناٹا میری ہڈیوں کو چھیدتا نہیں، جیسے کوئی برف کی سوئی روح کے ریشے ریشے میں اترتی ہو، جیسے چیخ دب جائے اور درد صدا بن کر سینے میں گونجتا رہے۔رات آتی ہے تو اندھیرے میری چارپائی کے گرد یزید کے گھوڑوں کی طرح دندنانے لگتے ہیں اور نیند میری آنکھوں سے یوں روٹھ گئی ہے جیسے کربلا کے بعد سکینہ کی مسکراہٹ۔ میرے بچے پانی کی موجوں میں گم ہو گئے اور میں ہر لمحہ اسی پانی میں خود کو ڈوبا ہوا تصور کرتا ہوں جہاں میرے بچوں کی لاشیں تیرتی ہوئی گئیں۔ اے خدا ! تو نے کیوں میری دنیا اجاڑ دی؟ کیا میرا گناہ اتنا بڑا تھا کہ تو نے میری اولاد کو اپنے رحم سے محروم کر دیا؟ میں نے تو بس تیری مخلوق سے محبت کی اپنے بچوں کو سینے سے لگایا، ان کی ہنسی کو اپنی زندگی کا سہارا بنایا۔ مگر تو نے ایک پل میں سب کچھ چھین لیا۔ کیا تیرا دل نہیں پسیجا جب میرے بچوں کی چیخیں پانی کے شور میں دب گئیں؟ کیا تیری رحمت کا دریا اس وقت سوکھ گیا تھا؟ معذرت میرے خدا ! تُو تو "لم یلد ولم یلد" ہے۔ تو اولاد کا درد کیا جانے! تیرے لیے تو یہ سب ایک تماشا ہے مگر میرے لیے یہ میری جان کا بہتا ہوا لہو ہے۔ میں ہر روز مرتا ہوں ۔ ہر سانس کے ساتھ میری روح پگھلتی ہے جیسے کسی موم بتی کو دونوں طرف سے جلا دیا جائے۔ میری روح کو دیمک چاٹ رہی ہے ، میرا وجود کھوکھلا ہو چکا ہے۔ میرا وجود اب وہ صحرا ہے جہاں نہ پانی کی ایک بوند ہے نہ رحمت کا کوئی سایہ حتیٰ کہ کوئی سراب تک نہیں ۔ اے ربِ ذوالجلال ! اگر تیری رحمت اتنی عظیم ہے تو پھر میری دعاؤں کو کیوں نظر انداز کیا؟ جب میں اپنے بچوں کو بچانے کے لیے پانی سے لڑ رہا تھا تو کیا تُو اپنے تخت پر بیٹھا یہ سب دیکھ رہا تھا؟ کیا تیرے لیے میری چیخیں محض ایک آواز تھیں؟ میں تو موت مانگتا ہوں کیونکہ جینا اب میرے لیے عذاب بن چکا ہے۔ ہر سانس مجھے اس لمحے کی یاد دلاتی ہے جب میرے بچوں کے ہاتھ میرے ہاتھوں سے چھوٹ گئے۔ کیا تُو اس درد کو سمجھ سکتا ہے؟ نہیں ، تُو نہیں سمجھ سکتا کیونکہ تو نہ کسی کا باپ ہے اور نہ کسی کی اولاد۔اے ہمیشہ رہنے والے رب ! معذرت خواہ ہوں کہ میں بھول گیا تھا کہ تو "بے نیاز" ہے۔ تجھے کسی کی پروا نہیں ، بچوں کی بھی نہیں ۔ بچوں کی بھی نہیں ، بچوں کی بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہائے !!!!!!! اے رحمان ! میرے بچے بہہ گئے۔ میرے بچے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تیرا عاجز بندہایک باپ، جس کی دنیا اب پانی کی موجوں میں گم ہے۔___________-_________*خاندانی نظام اور ہم* (حادثوں سے بچئے...) *شگفتہ سبحانی*گڈ ایوننگ ناظرین موسم باراں کے شروع ہوتے ہیجانوں کے ڈوبنے کی خبریں ملنا موصول ہوگئی ہیںپوچھنا یہ تھا کہ سرکار کی طرف سے کہا گیا تھا، کہ گرنا ندی میں نہانے والوں پر کاروائی ہوگیپچھلے برس تو ہیلی کاپٹر بھی آۓ تھے،اس برس تو وردی والے نظر نہیں آرہے نہ ندی پہ نہ پل پہنہ چالیس گاؤں پھاٹے پہنہ سواند پھاٹے پہسرکار سے درخواست ہےکہ پولس آفییسران /ہوم گارڈز کی ڈیوٹی گرنا ندی، موسم پل (ٹریفک) آگرہ روڈ، چالیس گاؤں پھاٹے پہ مستقل رکھی جاۓندیوں کی سیلابی صورت حال کو دیکھتے ہوۓ، ہر وقت وہاں کڑی نگرانی ہونوجوان بچوں کو اور عمر دراز حضرات کو وہاں ٹہلنے سے روکا جاۓ.اور سب سے بڑی درخواست خاندانوں سے ہےہر سال یاتری کروں/سیاح /مداحندی کی سیلابی کیفیات کا شکار ہوتے ہیںندی، جھیل، آبشار، جھرنےایسے ہل اسٹیشن جہاں پہ راستےدشوار ہوںگھاٹ، جہاں جھیج کی کیفیات پائی جائیںوہاں گھر کے مرد کس طرح اپنے گھر کی خواتین اور چھوٹے بچوں کو ٹہلانے لے جاتے ہیںیہ کوئی عقلمندی نہیںیہ نری بے وقوفی اور جاہلیت ہےلوگ محض ندی میں، ڈیم میں نہانے کیلئے کیسی کیسی جان کی قیمتیں چکا رہے ہیں کمال یہ کہ بھرے پرے خاندان والے، پورے پورے خاندانوں کے ساتھ، مع ننھے بچوں کے حادثوں کو دعوت دیتے ہیںموت برحق ہے لیکن.. ٹھہرئے *سوات ندی ٹریجڈی* نے آج پوری دنیا کو ہلا دیا ہے لوگوں کے دل دھڑکنا بند ہوگئے تھے جب وہ ویڈیو وائرل ہوۓ تھے، لوگ افسوس کررہے تھے، لیکن سوال یہ بھی ہے کہ پانی کی سیلابی کیفیات کو دیکھتے ہوۓ وہاں جا کر "فوٹو سیشن" کرنے سے خود کو روکا جاسکتا تھا پوچھنا یہ ہےکہ کیا وجہ ہے گھر کے بڑے جو ذمہ دار ہوتے ہیں انہیں یہ بے تکی اور نہایت غیر ذمہ دارانہ حرکت پہ شرم آنی چاہئے کیا ان سے نہیں پوچھا جاۓ گا کہ انہوں نے جانتے بوجھتے گھر والوں کو موت کہ منہ میں کیسے ڈھکیل دیا؟ وہ ڈھال کیوں نہیں بنتے وہ خواتین بچوں کو سمجھا سکتے ہیں کہ اتنا فونت استعمال کرو نہ کہ خود ہی فون پہ لگے رہیں پہلے بارش نہیں بھی ہوتی تھی تو ہمارے گھر کے ذمہ دار، چھتری بیگ میں رکھ دیتے تھے، رین کوٹ اور گم بوٹ دلواتے تھے کہ سر نہ بھگانا، سر میں درد ہوگااور دیکھنے میں یہ آرہا ہے کہ بائیک پہ خواتین ننھے بچوں کو ایک ہاتھ میں پکڑ کر دوسرے ہاتھ سے موبائل فون چلاتی رہتی ہیں اور بچہ سرد موسم میں بنا لحاف کے اکڑا بیٹھا ہوتا ہےاور مرد حضرت، گردن ٹیڑھی کر کے فون پہ باتیں کرتے بائیک چلاتے ہیںسڑک کے کنارے دو منٹ رُک کربات کی جاسکتی ہے، تاکہ کوئی حادثہ نہ ہوڈرائیونگ کے وقت بار بارفون اٹھانا اتنا ضروری نہیںفیمیلی کے ساتھ وقت گزارتے ہوۓہر کسی کو چاہئے کہ فون کا مختصر اور کم استعمال کرےیہ فون ہی ہے جس نے لوگوں کے خاندانی نظام کو تباہ کر دیا ہےسب کے موبائل فون میں ہیوی ہیوی ایسے ایسے لاک لگے ہوتے ہیںایک ذرا بیوی لاک اوپن کرنے کو کہہ دے تو وہ مرد کھانے کو آجاتا ہے بالکل پاگل ہوجاتا ہے گھر بسیں گے ایسے؟؟بیوی کے لاک کھولنے میں شوہر شک کر کے ادھ مرا ہوجاتا ہے، یہ فونوں نے سب سے زیادہ طلاق کرواۓ ہیں اب کہاں ہے سرکار، اور تین طلاق پہ بین کرنے والوں کو پہلے فون بنانے والی کمپنیوں پہ بین لگانا چاہئے اور کچھ جگہ تو ماں باپ کو پتہ بھی نہیں ہوتا کہ بچے فون میں کیا کرتے ہیں، لوگ انہیں طعنے مارتے ہیں، کوئی یہ نہیں سوچتا کہ ان بچاروں کا کیا قصور ہے انہیں تو فون چلاتے بھج نہیں آتا، ماں باپ کو ٹارگٹ کرنا بند کیجئے اس معاشرہ کو اب دینی اور دنیوی اعتبار سے مسیحاؤں اور راہ نماؤں کی سخت ضرورت ہے*فون کی بجاۓ رشتوں کو اہمیت دیں*جس فون پہ میاں بیوی ایک دوسرے کو گالی گلوچ اور نا زیبا الفاظ کہتے ہیں ناں، اسی موبائل سے ایک دوسرے سے " سوری، غلطی کی تلافی،" احساس ذمہ داری اورحقوق ادا کرنے میں پیشی کی بات کریں" ، *گھر جنت کیوں نہ بنیں گے*بچے جس فون سے اپنے ایکس(Ex) اور نیکسٹ(Next) کو جلانے کی کوششیں کرتے ہیںاسی فون سے اپنے ماں باپ کو اچھے میسج اور پھولوں کی تصاویر بھیجیں، انہیں چھوٹی چھوٹی پیاری یادیں دیں سب سے زیادہ ہماری محبت کے مستحق ہمارے ماں باپ ہیں اور وہ شرک سفر جس نے آپ کو تھاما ہوا ہے. خاندانی نظام کو مضبوط رکھیںاور ایسی جگہوں پہ بالکل نہ جائیں جہاں پہ رسک ہوجانا ہی ہے تو خوبصورت پھولوں کے باغات، سبز کھیت سڑکوں کے آس پاس موسم باراں کے دلکش مناظر گھر کے لان، دالان، باغیچےمسجدیں جہاں سکون اترتے ہیں ایسی قدرتی جگہوں پہ جائیںیاد رکھئے.. اپنی اور اپنے خاندان کی حفاظت سب سے اوپر رکھیں.*آج کے کمیونٹی رئیل فیس سپورٹس آف کمیونٹی*▪️محترم شکیل تیراک صاحب، ▪️قلعہ تیراک گروپ، اور تیراک و رسکیو مالیگاؤں ٹیم،▪️ مالیگاؤں سنگھرش سماچار جنہوں نے نشے کے خلاف پہلا قدم اٹھایا ہے، ▪️شفیق اینٹی کرپشن اینڈ ٹیم جو خودکشی کو لے کر بہت سترک ہے ▪️مولانا امین القادری صاحب، اصلاح معاشرہ کے کامیاب پروگرام کے لئے مبارکباد کے لائق ہیں ▪️خواتین میں دینی درس اور اصلاحی درس کیلئے محترمہ رقیہ صاحبہ جن کی اصلاحی تقاریر.، درس اور سماجی و دینی والنٹریس کی تیاری بے مثال ہے، ▪️حج ٹریننگ کروانے والے تمام اداروں کا خصوصی شکریہ ▪️ثقافتی چہروں میں ادب سے وابستہ و مزاح سے وابستہ تمام ادبی انجمنوں کے سربراہ قابل مبارکباد ہیں ▪️ ساتھ ہی ان تمام خواتین والنٹرز کا پوری شہر کی جانب سے شکریہ ادا کیا جاتا ہے جن کی نشاندہی سے غیر سماجی یا بے حیائی پہ فوری روک لگا کر مرکزی تنظیمیں ایک جٹ ہوکر برائی کے خلاف متحد ہوتی ہیں▪️اسی کے ساتھ ہندو مسلم ایکتا کی مثال قائم رکھنے والے وہ تمام دینی بھائی جنہوں نے گڑھ یاترا میں پانی پلانے کے فرائض ادا کر کے، بھوکوں کو کھانا کھلا کے انسانیت کی عظیم مثال قائم کی ہیں.. ان تمام کا پورے سماج کی جانب سے شکریہ شکریہ شکریہ *ویلکم زندگی*ایک نئی شروعات....آئیے برائیوں کے خلاف پُر امن احتجاج درج کرتے ہیں - - - کمیونٹی انفلوئنزر----- *Shagufta Subhani*_______________⭕🚩🚩نیلسن منڈیلا کی پسندیدہ نظمرانا محمد آصفجب اس کی عمر چودہ برس ہوئی تو معالجوں نے بتایا کہ اسے ہڈیوں کی ٹی بی ہے اور زندگی بچانے کے لیے اس کی ٹانگ کاٹنا ضروری ہے۔ سترہ برس کی عمر میں اس کی ٹانگ کاٹ دی گئی۔ کرب و ملال کی اس کیفیت میں اس نے ایک نظم کہی جو آج برسوں بعد بھی زندہ ہے۔ یہ تذکرہ ہے، انگریز شاعر ولیم ارنسٹ ہینلے (William Ernest Henley) اور ان کی مشہور زمانہ نظم Invictus کا! لیکن اس نظم کا ایک اور حوالہ بھی ہے۔ اپنی کرب ناک بیماری سے لڑتے ہوئے مایوسی میں گھرے ہینلے نے خود کو حوصلہ دینے کے لیے یہ اشعار کہے تھے اور افریقا کے ایک سپوت نے، جو انسانیت کے جسم میں زہر کی طرح سرائیت کرنے والے "نسلی تعصب" کے خلاف لڑرہا تھا، اسی نظم کو اپنی جدوجہد کا ترانہ بنا لیا۔ یہ باہمت نیلسن منڈیلا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اپنے دورِ اسیری میں وہ یہ نظم اپنے جیل کے ساتھیوں کو پڑھ کر سنایا کرتے تھے۔ ان کی زندگی میں لندن کے ایک اوپیرا گروپ نے ان کی آواز میں یہ نظم ریکارڈ کرکے اس کی باقاعدہ دُھن تیار کی اور منڈیلا کی زندگی پر بننے والی ہالی ووڈ کی ایک فلم کا نام بھی اسی نظم کے عنوان پر رکھا گیا۔ اس عظیم لیڈر کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے اس نظم کا آزاد اور تاثراتی ترجمہ پیش خدمت ہے۔ منڈیلا کی یہ پسندیدہ نظم ان کی جدوجہد سے بھرپور زندگی کی تصویر کشی کرتی ہے اور ساتھ ہی ان کی یادوں سے جڑی ایک یاد ہے، ملاحظہ فرمائیں!ناقابلِ شکستاس رات سے پرے، جو مجھے گھیرے ہوئے ہےاور ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک، کسی کھائی کی مانند سیاہ ہےمیں خداوندانِ دہر کا شکر گزار ہوں، ان سب عطاؤں کے لیےجو میری ناقابلِ تسخیر روح پر کی گئیںجب بھی مجھے حالات نے اپنی گرفت میں جکڑانہ تو میں گھبرایا اور نہ بَین کیامقدر کی پیہم ضربوں تلےمیرا سر خون آلود ہے مگر جُھکا نہیںاس جائے قہر و ملال سے بھی سِواخوف کے دھندلے سائےاور زِیاں کاری کی نذر ہوتے برسوں نے مجھےبے خوف پایا اور آئندہ بھی ایسا ہی پائیں گےاب اس کی کیا پروا کہ راستے کتنے دشوار ہیںیا راہیں کتنی پُر پیچ ہیںمیں اپنی قسمت کا خود مختار ہوںمیں اپنی کشتیِ روح کا آپ ملاح ہوں*مشمولہ: سہ ماہی 'اجرا'، کتابی سلسلہ نمبر 16، اکتوبر تا دسمبر

Sunday, 21 September 2025

ممبئی کی ادبی وراثت اوردعوت افطار مختارخانممبئی اپنی تیز رفتار زندگی اور معاشی سرگرمیوں کے لیے جانا جاتا ہے۔ اس گہما گہمی کے باوجود بھی شہر میں ادبی اور ثقافتی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔ ممبئی کے ادیبوں شا عروں نے شہر کی اس خوبصورت روایت کو اب تک جلائے رکھا ہے۔ ممبئی شہر کے مزاج اورتضادات کوعلی سردار جعفری نے اپنی نظم’بمبئی‘ میں کچھ اس انداز میں پیش کیا تھا تھا، یہ ہے ہندوستاں کی عروس البلادسرزمین دکن کی دلہن بمبئیایک جنت جہنم کی آغوش میںیا اسے یوں کہوںایک دوزخ ہے فردوس کی گود میںان دنوں شہر میں رمضان کا پاک مہینہ چل رہا ہے رونق ہے۔ رمضان المبارک کی وجہ سے ثقافتی اور ادبی سرگرمیاں کچھ دنوں کے لیے رکی ہوئی ہیں۔ اس کے با وجود اس عرصے کے دوران منعقد کی جانے والی دعوت افطار لوگوں کو میل ملاقات کا موقع فراہم کروا ہی دیتی ہیں۔ اسی سلسلے میں بھنڈی بازار, محمد علی روڈ پر واقع 'مکتبہ جامعہ‘ میں خاص طور پر اہل قلم کے لیےدعوت افطار کا اہتمام کیا گیا تھا۔ یہ دعوت ’کتاب دار پبلی کیشن‘ کے بیس سال مکمل ہونے کے جشن میں منعقد کی گئی تھی۔ اردو، ہندی اورمراٹھی کے کئی ادیبوں نے بڑے جوش و خروش سے اس تقریب میں شرکت کی۔کتاب دار پبلی کیشنز کی بنیاد 28 مارچ 2004 کو رسالہ نیا ورق کے مدیر،ادیب وصحافی، ساجد رشید نے رکھی تھی، اسی لیگسی کو ان کے صاحبزادے شاداب رشید کامیابی سے سنبھالے ہویے ہیں۔مکتبہ جامعہ جنوبی ممبئی کے بھنڈی بازارعلاقہ میں ادبی کتابوں کا ایک تاریخی مرکز ہے۔ ’’مکتبہ جامعہ‘‘ کو اردو ادب کی تاریخ میں ایک اہم مقام حاصل رہا ہے۔ یہ ادارہ 1922 میں دہلی میں قائم کیا گیا تھا۔ تاکہ اردوادوب کی معیاری کتابیں کم قیمت میں آسانی سے دستیاب ہوسکے۔ ڈاکٹر ذاکر حسین نے اس ادارے کے قیام میں اہم کردارادا کیا تھا۔ بعد کے دنوں میں ممبئی اور کئی دیگر شہروں میں اس کی شاخیں کھولی گئیں۔ مبئی شہرتحریک آزادی سے ہی اردو ادیبوں کا ایک بڑا مرکز رہا ہے۔ ان ادیبوں کوجوڑے رکھنے میں مکتبہ جامعہ کا اہم کرداررہا۔ ایک زمانے تک ’مکتبہ‘ ممبئی میں ادبی سرگرمیوں کا اہم مرکز ہوا کرتا تھا۔ کہتے ہیں ان دنوں یہاں اکثرادیبوں کی آواجاہی بنی رہتی۔ ہفتہ کی شام کو باقاعدگی سے شہر کے تمام ادیب اور شاعرجمع ہوتے۔ محفلیں پروان چڑھتیں۔ کیفی اعظمی، شوکت کیفی،علی سردار جعفری، ظ انصاری، عصمت چغتائی، کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، ساحر لدھیانوی، جان نثار اختر، باقر مہدی، عنایت اختر، سریندر پرکاش جیسے ادیب یہاں جڑتے ۔ بعد کے دنوں میں اس روایت کی پاسداری یوسف ناظم، ساگرسرحدی، شفیق عباس، ندا فضلی، ساجد رشید، انورخان، علی امام نقوی، انورقمر، عبدالاحد ساز، میم ناگ، محی الدین رضا، پرویزمہدی، محمودایوبی، حسن کمال، محبوب عالم غازی، عزیزخان، ڈاکٹرآدم شیخ، اطہر عزیز، شمیم عباس، شمیم طارق، یعقوب راہی، سلام بن رزاق ، جاوید صدیقی، الیاس شوقی، اقبال نیازی، قاسم امام، انورمرزا، اشتیاق سعید، اسلم پرویز، سید ریاض رحیم، مجیب خان، اقبال حمید، وقارقادری، شیرین دلوی ، عبید اعظمی، مشرف شمسی جیسے ادیبوں نے ادارہ کی رونقیں بناے رکھیں ۔ خوش قسمتی سے اردوکتابوں کا یہ اہم مرکز تاریخ کی ان سنہری یادوں کو سمیٹے ہوےآج بھی قایم ہے۔ اسی تاریخی مقام یعنی مکتبہ جامعہ میں’کتاب دار پبلیکیشن کی جانب سے دعوت افطار کا اہتمام کیا گیا تھا۔ مشہورڈرامہ نویس افسانہ نگار اصغروجاہت، مراٹھی ادیب سبودھ مورے، نوجوان فلم آرٹسٹ شاہنواز کے ہمراہ ہم بھی اس تقریب میں شامل ہونے مکتبہ پہنچے ۔ قریبی اسٹیشن گرانٹ روڈ سے ہم نے ٹیکسی لی اور بھنڈی بازار، محمد علی روڈ کے لیے روانہ ہو ئے۔ افطارکا وقت قریب تھا۔ رمضان کے دنوں میں بھنڈی بازارکا نظارہ دیکھتے ہی بنتا ہے ۔ شام ہوتے ہی مختلف اقسام کے کھانے پینے کی دکانیں سڑک کے دونوں طرف سج جاتی ہیں۔ جدھرنظرڈالیں مختلف قسم کے پھل، مٹھائیاں، کھجوریں، شربت پھرنی، اور مال پوا، تھالوں میں سجے ہوئے ہیں۔ دکاندار جہاں اپنا سامان فروخت کرنے کی جلدی میں ہیں وہیں خریدار بھی مغرب کی اذان سے پہلےپہلے اپنی خریداری پوری کر لیناچاہتے ہیں۔ لیکن جناب وضع داری تو دیکھیئے۔۔۔۔ روزدار کے صبرکا دامن نہیں چھوٹتا ہرکوئی اپنےعلاوہ دوسرے روزدارکا بھی اتنا ہی خیال رکھےہوئے ہے۔ ٹریفک کے سبب ہم نے ٹیکسی ترک کی اور پیدل ہی چلنے کو ترجیح دی۔رمضان میں ممبئی اورمضافات کے دور دراز کےعلاقوں سے لوگ یہاں کے مخصوص کھانوں سے لطف اندوز ہونے کے لیے رمضان میں ایک بار ضرور یہاں تشریف لاتےہیں۔ فلمی ستارے بھی ان دنوں یہاں آنے سے نہیں چوکتے۔ لوگوں کے درمیان سے راستہ بناتے ہویے ہم منزل کی طرف گامزن تھے ۔ فضا میں چارسوں کباب، تندوراور طرح طرح کے پکوانوں کی مہک پسری ہوئی تھی۔ جے جے سگنل کراس کرتے ہی محمد علی روڈ پر ہمیں پرنسس بلڈنگ نظر آئی۔ اسی قدیم عمارت میں مکتبہ جامعہ کا دفتر موجود ہے۔ مکتبہ کے دفترمیں ناول نگار رحمان عباس، فرحان حنیف، انور مرزا، شکیل رشید، ڈاکٹر قمر صدیقی، فاروق سید، وسیم عقیل شاہ، عرفی اختر، التمش رشید اورعالمگیرپہنچ چکے تھے۔ مراٹھی ادیب سواتی لاوند اور پردیپ پاٹل کی حیرت اور تجسس آمیز نظروں سے ظاہرہو رہا تھا کہ وہ پہلی بار دعوت افطار میں شریک ہو رہے ہیں۔کئی دنوں بعدمکتبہ جامعہ کی اس دکان میں گہما گہمی نظر آرہی تھی۔ برسوں بعد اچانک اتنے قلمکاروں کو دیکھ کر شیلف میں سجی اردو کتابیں مشتاق نظروں سے ہمیں تاک رہی تھیں۔ مکتبہ پہنچ کر ہمیں لگا کہ ہم بھی تاریخ کے اس خوبصورت دور میں پہنچ گئے ہیں۔ ماضی میں کبھی انہیں نشستوں سے استاد شاعر و ادیب عالمی ادبی رجحانات پر سنجیدہ گفتگو کیا کرتے تھے۔ ہم اسی خیالات میں کھوئے ہوئے تھے،تبھی ڈاکٹر قمر صدیقی نے اس دور کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ماضی میں ’’مکتبہ جامعہ‘‘ کی دعوت افطار کی خوبصورت روایت رہی ہے۔ اب وہ رمضان گزرگئے، جن میں ایک روزہ ایسا بھی آتا تھا جب مکتبہ کی زمین پر ادیبوں کی پوری کہکشاں اتر تی تھی۔’’کتاب دار پبلی کیشنز‘‘ کے اس جشن سے وہی خوبصورت روایت زندہ ہوگئی۔ افسانہ نگار اصغر وجاہت نوجوان افسانہ نگاروں سے گھرے ہوئے تھے۔ انہوں نے نئے لکھنے والوں سے اردو کہانیوں کے موجودہ رجحان کے بارے میں دریافت کیا۔ ساتھ ہی وہ اپنی کچھ کہانیوں کا بھی تذکرہ کر رہے تھے۔ اسی دوران اردو صحافی اور شاعر فرحان حنیف نے اصغر وجاہت کو اپنی نظموں کی کتاب’ہینگر میں ٹنگی نظمیں ‘پیش کی۔افطار کے بعد'عوامی ادارہ' لائبریری جانے کا منصوبہ بنایا گیا۔ اصغر وجاہت، سبودھ مور ے کے ساتھ چند اور ساتھی یہاں سے بائیکلہ کے لیے روانہ ہوئے۔ اس سال عوامی ادارہ جانے کا یہ میرا دوسرا موقع تھا۔ اس سے پہلے جنوری کے مہینے میں ادیب، صحافی زاہد خان کے ساتھ یہاں آنا ہوا تھا۔ گھنی آبادی کے درمیان 1952 میں تعمیر کی گئی عوامی ادارہ کی دو منزلہ عمارت آج بھی ویسے ہی کھڑی ہے۔ عوامی ادارہ کبھی ترقی پسند ادیبوں کا مرکز ہوا کرتا تھا۔ کیفی اعظمی، سردار جعفری، ساحر لدھیانوی جیسے عظیم ادیب اپنا زیادہ تر وقت یہیں گزاراکرتے تھے۔ اس زمانے میں یہاں بڑی بڑی کپڑا ملیں ہوا کرتی تھیں۔ انہی مل مزدوروں نے ایک ایک پائی جوڑ کر 'عوامی ادارہ لائبریری بنائی تھی ۔ بھونڈی اور مالیگاوں کے مزدوروں نے بھی اس اس ادارہ کے لیے تعاون کیا تھا۔ عوامی ادارہ محض ایک لائبریری ہی نہیں بلکہ یہ ایک ثقافتی مرکز بھی ہوا کرتا تھا۔ ادارہ کا اپنا میوزک اور ڈرامہ گروپ ہوا کرتا تھا۔ جو مزدوروں کے لیے ڈرامے بھی کھیلا کرتے تھے۔عوامی ادارہ کی نچلی منزل پر لائبریری تودوسری منزل پر ثقافتی مرکز ہوا کرتا تھا۔ سبودھ مورے نے بتایا کہ اس زمانے میں عوامی ادارہ میں ہی کئی اہم انقلابی فلمی گانوں کی شروعا تی دھنیں تیار کی گئی تھیں۔ مثلاً فیض احمد فیض کی مشہور نظم ’ ہم محنت کش اس دنیا سے، جب اپنا حصہ مانگیں گے، ایک باغ نہیں، ایک کھیت نہیں ، پوری دنیا مانگیں گے‘۔ ’عورت نے جنم دیامردوں کو، مردوں نے انہیں بازار دیا...‘(ساحر لدھیانوی)’شیر ہیں، چلتے ہیں دراتے ہوئے/بادلوں کی طرح منڈلاتے ہوئے/زندگی کی راگنی گاتے ہوئے ‘(مجاز) اور’ہم ہوں گے کامیاب‘ جیسے ان گنت انقلابی گانوں کی ابتدائی دھنیں اسی عوامی ادارہ کی دین ہیں۔ پریم دھون اور اندیور جیسے ہندی گیت کار بھی اس مرکز سے وابستہ تھے۔یوم مزدور کے موقع پرعوامی ادارہ کے میدان میں ہونے والے مشاعرے کو پرانے لوگ آج بھی یاد کرتے ہیں۔ ہربرس 31 مئی کو دیر رات تک یہاں عوامی مشاعرہ ہوا کرتا تھا۔ جسےسننے کے لیے ہزاروں مزدور جمع ہوتے۔ علی سردار جعفری، مخدوم، کیفی گرج دار آواز میں اپنا کلام پیش کیا کرتے ۔ اس طرح ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کے ذرئعے شعوری ستح پر محنت کش عوام میں بیداری لانے کی کی کوشش کی جاتی ۔ بدلتے وقت نے اس انقلابی دور کو آج تاریخ کا حصہ بنا دیا ہے۔ ملوں کی جگہ اب یہاں آسمان کو چھوتی فلک بوس عمارتیں کھڑی ہو گئی ہیں۔ عوامی ادارہ کے موجودہ منتظم محمد ابراہیم صاحب نے ہمیں بتایا کہ عوامی ادارہ کی یہ تاریخی عمارت بھی بہت جلد ٹوٹ نے والی ہے۔ یہ سن کر ہمیں زور کا جھٹکا لگا لیکن جب انہوں نے بتایا کہ عوامی ادارہ کو اس جگہ تعمیر ہونے والی نئی عمارت میں مناسب حصہ ملے گا تو دل نے ایک راحت کی سانس لی۔ مستقبل میں بھلے ہی عوامی ادارہ موجود ہ صورت میں قایم نہ رہے لیکن اس کے نقش تو ضرور باقی رہیں گے۔ یہ تاریخی ادارہ نئی نسل کے لیے علم و تحقیق کا موجود بنا ر ہیگا۔ ہمارے لیے یہ خوشی کا باعث تھا کہ عوامی ادارہ کی لائبریری میں آج بھی تقریباً دس ہزار کتابیں، نایاب تصاویر اور وزٹنگ بُک محفوظ ہیں۔ادرے کی خصوصی وزیٹنگ بک میں ہم نے بھی اپنے تاثرات لکھے۔ رات کافی ہو چکی تھی۔ ہمیں شاعر علی سردار جعفری کی ممبئی کے بارے میں لکھی گئی نظم 'بمبئی' کی سطریں رہ رہ کر یاد آ رہی تھیں۔ شامیں نیلی ہوا کی نمی میں نہائی ہوئیراتیں آنکھوں میں جادوکا کاجل لگائے ہوئے...بہر حال، اسی جادوکے سحر میں ڈوبے ہوئے ہم سب نےبجھے دل سےاپنی رخصتی لی۔(ممبئی)muktarmumbai@gmail.com9867210054_______--عالمی افسانہ میلہ 2024 افسانہ نمبر 21 "یاسمین" ڈاکٹر کوثر جمال سڈنی، آسٹریلیا (1)اکیسویں صدی پالنے میں انگوٹھا چوستی ہے۔ گھر میں ایک سے زیادہ عورتیں ہیں اور دو ملازمائیں، پھر بھی گھر کے کاموں کا پھیلاو کسی کی پکڑ میں نہیں آ رہا۔ نسیماں کپڑے دھونے لگتی ہے تو صبح سے شام کر دیتی ہے۔ اور پھر اونچی تیکھی آواز میں پکارتی ہے: "یاسمین ۔۔۔۔ کپڑے کوٹھے پر ڈال آو۔" یاسمین اسے منہ بسور کر دیکھتی ہے، جیسے کہہ رہی ہو، یہ کام تو میرا نہیں ہے، نسیماں کے ذرا پیار سے پچکارنے پر وہ چپکے سے نچڑے ہوئے کپڑوں کی ٹوکری اٹھا کر سیڑھیاں چڑھنے لگتی ہے۔ باورچی خانے سے آواز آتی ہے: "یاسمین پیاز چھل گئے ہیں تو لا دو۔ یاسمین کچن سے باہر پیڑھی پر بیٹھی، پیازوں کی جلن سے لگاتار آنسو بہاتی اور پیاز چھیلتی جاتی ہے۔ پیاز چھیلنے اور کاٹنے کے بعد وہ ادرک اور لہسن چھیلے گی، پھر انھیں پیس کر باورچی خانے میں پہنچائے گی، سبزی دھو کر کاٹے گی۔ اور پھر جب کھانا بن جائے گا تو گھر کی کوئی عورت کہے گی، 'آج ہانڈی میں نے بنائی۔' کچن میں گندے برتنوں کا ڈھیر پھر سے بننا شروع ہو گیا ہے۔ایک آواز گونجی:"یاسمین ابھی ٹی وی روم کی صفائی تو رہتی ہے۔"یاسمین سب کمروں کی صفائی کرتی ہے۔ "ماما، یاسمین سے کہو نا میرے ساتھ کھیلے۔" دوپہر دو بجے کے بعد حمزہ تواتر سے یہ مطالبہ کرتا ہے۔ ماں اسے کہتی ہے: "جب وہ کام ختم کر لے گی تو پھر تمھارے ساتھ کھیلے گی۔" لیکن ۔۔۔۔ یاسمین کے کام ختم ہوں تو ۔۔۔۔ یاسمین کے مصروف دن میں سے سہ پہر کے ایک دو گھنٹے نکال کر حمزہ کو دیے جاتے ہیں۔ یہ یاسمین کے دن کا بہترین وقت ہے۔ وہ اب ویکیوم کلینر، ڈش واشر، پیلر، چاپر یا کسی اور طرح کی مشین نہیں بلکہ ایک کھلونا ہے، حمزہ کا کھلونا۔ حمزہ اپنے کھلونوں کی بڑی سی ٹوکری اٹھا کے لایا اور ٹی وی روم کے قالین پر کھلونے ڈھیر کر دیے۔ پھر اس نے یاسمین کے ساتھ مل کر قلعہ بنانے کا کام شروع کیا۔ کچھ دیر بعد میرا اتفاقا" وہاں سے گزر ہوا تو ایک شاندار قلعہ دونوں بچے تیار کر چکے تھے۔ فوجی گاڑیاں، ٹرک، توپیں، طیارے اور جانے کیا کیا تباہی کے سامان، اب یہ سب کھلونے ایک ترتیب سے قلعہ کی صورت مجھے بہت کچھ سمجھا رہے تھے۔ حمزہ کے پاس یہ سارے ہتھیار اور فوجی ساز و سامان کے کھلونے کہاں سے آئے۔ پھر مجھے کسی یاد نے شرمسار کیا۔ ابھی پچھلے مہینے کچھ کھلونے تو میں حمزہ کے لیے بدیس سے لے کر آئی تھی۔ میرے اندر کسی نے مجھے ہی تنبیہ کی: "بچوں کو تم لوگ کس لاپرواہی سے ہتھیاروں کے کھلونے دیتے ہو اور یہ بھی نہیں سوچتے کہ بچے ان کھلونوں کے ساتھ کھلیتے کھیلتے اور کیا کچھ سیکھ جاتے ہیں۔"کھیلتے کھیلتے اچانک حمزہ کو یاد آیا کہ یہ تو کارٹون دیکھنے کا وقت ہے۔ وہ اپنے قلعہ کو وہیں چھوڑ ٹی وی آن کرکے صوفے میں دھنس کے بیٹھ گیا۔"اُف، یہ ٹی وی روم میں تو پاوں رکھنے کی جگہ نہیں رہی۔ ہر طرف کھلونے" حمزہ کی ماہم باجی نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔"یاسمین چلو، کھلونوں کو ٹوکری میں ڈال کے واپس اس کے کمرے میں رکھ کے آو۔"یاسمین اب پھر حمزہ کا کھلونا نہیں رہی۔ وہ کھلونوں کو واپس ٹوکری میں رکھ رہی ہے۔دن کا ہنگامہ اب سرد ہو چکا ہے۔ کمروں کی صفائی ہو چکنے کے بعد وہ پھر سے زندگی کے عمل دخل سے گندے ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ کپڑے دھل چکے ہیں۔ الگنی پر ڈالے جا چکے ہیں۔ دوپہر کا کھانا کھایا جا چکا ہے۔ کچن میں جھوٹے برتنوں کا ایک جم غفیر ہے جس میں چائے کی پیالیوں نے مزید اضافہ کر دیا ہے۔ کچن سے پانی کی دھار گرنے اور برتن دھلنے کی آوازوں کے ساتھ ساتھ ایک دلگداز گیت کی دھن سنائی دے رہی ہے۔ میں نے کچن میں پہنچ کر دیکھا کہ یہ یاسمین کی آواز تھی، اور اس کے چہرے پر مسکراہٹ اپنے زاویے بدل رہی تھی۔"یاسمین؟" میں نے اسے چونکا دیا۔"آنٹی آپ؟ " اس نے استفہامیہ نگاہوں سے مجھے دیکھا۔"یہ تم کیا گنگنا رہی تھیں؟""آنٹی جی یہ گیت میری ماں گایا کرتی ہے۔ مجھے بہت پسند ہے۔۔""تو پھر گاو نا، رک کیوں گئیں؟""سچ آنٹی جی؟ آپ کتنی اچھی ہیں۔"میں نے پینے کے لیے ابلے ہوئے ٹھنڈے پانی کی بوتل سے اپنا گلاس بھرا تو یاسمین کو اچانک کچھ یاد آ گیا۔"آنٹی جی آپ پانی لینے خود کیوں کچن میں آتی ہیں۔ مجھے کہنا تھا میں آپ کو پانی لا دیتی۔"مجھے تب یاد آیا۔ وقفے وقفے سے گھر کے کونے کھدروں سے یہ آواز آتی رہتی ہے:"یاسمین، پانی کا ایک گلاس تو لانا۔" میں نے یاسمین کو بتایا کہ مجھے اپنے سب کام خود کرنے کی عادت ہے۔ میں نے اسے گھر کے وہ تمام کام بتائے جو میں بدیس میں اپنی ملازمت کے علاوہ کرتی ہوں۔ اور جو یہاں ان گھروں کی عورتیں نہیں کرتیں جن گھروں میں یاسمین جیسے بچے کام کرتے ہیں۔ "آنٹی جی آپ مجھے اپنے ملک بلا لیں۔ میں آپ کے سارے کام کر دیا کروں گی۔" مغربی ملک میں کل وقتی ذاتی نوکر؟ میں نے اسے خاموش مسکراہٹ سے دیکھا اور ایک لمحے میں خود کلامی اور گہری سوچ کی صدیاں مجھ پر سے بیت گئیں۔"مغربی ملک ۔۔۔۔ وہاں میں تمھیں بھلا کیسے لے جا سکتی ہوں۔ وہاں اگر یاسمین پیدا ہوتی تو سکول جایا کرتی۔ اور اگر اس کے ماں باپ تنگ دست ہوتے، تو حکومت ان کی مدد کرتی۔ وہاں بھی سکولوں کے بچے کام کرتے ہیں لیکن تجربے کی دولت سمیٹنے کے لیے۔ خود سے کمانے اور اپنے پاوں پر کھڑا ہونے کا چلن سیکھنے کے لیے۔ وہاں کے بچے یہاں کے بچوں جیسے نہیں ہیں۔ یہاں تو امیر والدین کی اولاد کبھی کبھی زندگی بھر کمائی نہیں کرتی اور ماں باپ کی دولت اڑاتی ہے یا پھر ان سے مانگ کر کھاتی ہے۔ اور جو غریب ہیں ان کے بچے کیڑے مکوڑوں کی طرح بڑھتے چلے جاتے ہیں اور ہوش آتے ہی اپنے ماں باپ کو پالنے لگتے ہیں تاکہ وہ اور بچے پیدا کریں اور خوشحال گھرانوں کو 'آل-اِن-ون' مشینیں فراہم کریں۔ ۔۔۔۔۔ وہاں میں تمھیں نہیں لیجا سکتی یاسمین۔ وہاں کے معاشرے آزادیوں اور پابندیوں کا نادر تانا بانا ہیں۔ تم وہاں ہوتیں اور تمھارے باپ نے تمھیں چھ مہینوں کی مزدوری کے واسطے فروخت کر دیا ہوتا تو وہ عدالت کے کٹہرے میں کھڑا ہوتا اور تم ریاست کی تحویل میں ۔۔۔۔۔ " "آپ کیا سوچنے لگیں آنٹی؟"۔۔۔۔ یاسمین نے مجھے لمحہ موجود سے پکارا۔۔۔۔۔۔ میں پانی کا گلاس لے کر کچن سے باہر آ گئی۔ اور یاسمین اپنی ماں کے گیت کے سرور میں ڈوبی تیز تیز برتن دھونے لگی۔ رات کے کھانے سے پہلے، جب پلیٹوں، گلاسوں اور چمچوں کو دسترخوان پر رکھنے کے لیے اکٹھا کیا جانے لگا تو ایک بار پھر ملا جلا شور اٹھا:"یاسمین برتن اچھی طرح نہیں دھوتی۔""جانے کن خیالوں میں ڈوب کر برتن دھوتی ہے۔ یہ دیکھو، پلیٹ پر جمی چکنائی، یہ دیکھو کانٹے کے اندر جمے ہوئے انڈے کے ذرات۔""اور اب تو برتن توڑنے بھی بہت لگی ہے۔"میں نے یہ آوازیں اپنے آس پاس سنیں تو ایک زہر خند میرے لبوں پر پھیل گیا۔ ٹھیک ہے یاسمین ، اور توڑو برتن۔ غریب گدھے پر جب بہت زیادہ بوجھ لادا جائے گا تو وہ پانی میں بیٹھ کر نمک کی بوری کا بوجھ کم تو کرے گا ہی۔ رات: زندگی سوپ اوپیرا کے طویل، مجہول، نشہ آور سحر سے نکل کر اپنے اپنے کمروں میں آرام کرنے کو جا چکی ہے۔ اب یاسمین کچھ نیکیاں اور کمائے گی۔ گھر کی خواتین جو دن بھر اس سے اور نسیماں سے لامتناہی کام کرواتے کرواتے تھک چکی تھیں، یاسمین ان کے پاوں اور ٹانگیں اور بازو دبا کر ان کے کام نہ کرنے کی تھکن اتارے گی۔ یہ سب ہوتے ہوتے جب رات ڈوبنے لگے گی تو وہ سٹور روم میں سے لحاف، کمبل اٹھا کر سب کمروں تک پہنچائے گی۔ پھر وہ کمروں میں رات کی چائے کے جھوٹے برتن اٹھا کر کچن میں واپس جائے گی۔ اور ۔۔۔۔ جب رات سو جائے گی تو یاسمین بھی سونے کو چلے گی، بےسدھ ہو کر سونے کے لیے، اُس سپاہی کی شان کے ساتھ جو دن بھر مصروفِ جدل رہا۔ اُس کا تھکن سے چور بدن گہری نیند کا مزہ لوٹے گا۔ پاوں تلے کچلی ہوئی گھاس رات بھر میں نیند کی اوس پی کر، اگلے دن سے کہے گی، دیکھو میں روندھے جانے کے باوجود ابھی سرسبز و شاداب ہوں، کیونکہ میں ۔۔۔۔ بہت سخت جان ہوں۔ (2) یہ ہفتے کا دن تھا۔ فروری کی طویل بارشوں کے بعد ایک اجلا دن جس میں آتی بہار کی مہک اور کھلے دنوں کا اجالا تھا۔ ہفتہ اور اتوار دونوں دن حمزہ کا سکول بند رہتا ہے۔ اس نے حال ہی میں سکول جانا شروع کیا ہے۔ ۔۔۔۔ اس روز صبح کے دس یا گیارہ کا وقت تھا جب حمزہ اور یاسمین کی لڑائی ہوئی۔ دونوں ایک دوسرے پر جسمانی تشدد کا الزام لگا رہے تھے۔ یاسمین نے مجھے اپنی کلائی دکھائی جس پر حمزہ کے دانتوں کے نشان تھے۔ حمزہ کو اس کی ماں کی طرف سے ہلکی سی ڈانٹ پڑ چکی تھی۔ لیکن جب یاسمین روتی ہوئی اپنی فریاد مجھ تک لے کر آئی تو مجھے شدت سے یاسمین کی تنہائی اور بیچارگی کا احساس ہوا۔ مجھے حمزہ ان والدین کی بگڑی ہوئی اولاد لگا جو اپنے بچوں کو بے پناہ پیار دیتے ہیں اور پھر ان کی زیادتیوں پر ہلکی سی تنبیہ کرکے سمجھتے ہیں کہ انصاف ہو گیا۔ خصوصا" ایسی حالت میں کہ ان کے بچے کی زیادتی کا نشانہ بننے والا گھر کا نوکر ہو۔ اس احساس سے غصہ میرے دماغ کو چڑھ گیا۔ میں نے سوچا کہ حمزہ کی بدترین سزا یہ ہو گی کہ اس سے یاسمین نامی کھلونا چھین لیا جائے۔ تو میں نے تیسری دنیا کے کسی تھانیدار کی طرح حمزہ کو دھمکی دی: "اب اگر تم یاسمین کے ساتھ کھیلے تو مجھ سے برا کوئی نہ ہو گا۔ آخر تمھارا تعلق کیا ہے اس کے ساتھ؟" یہ تو معلوم نہیں کہ حمزہ پر اس دھمکی کا کیا اثر ہوا لیکن وہ دم دبا کر وہاں سے چل دیا۔ "اور تم یاسمین ۔۔۔ " اب میں نے یاسمین کو مخاطب کیا: "اگر حمزہ تم سے دوبارہ کھیلنے کو کہے تو مت کھیلنا اس کے ساتھ۔ "یاسمین نے اپنے بڑے سے سر کو تائید میں ہلایا۔ اس کا چہرہ بتا رہا تھا کہ حمزہ کو اتنی زبردست ڈانٹ پلائے جانے پر وہ بہت خوش تھی۔ سہ پہر کا وہ وقت جب حمزہ یاسمین کے ساتھ کھیلا کرتا تھا، وہ وقت اس نے کارٹون دیکھ کر خاموشی سے گزارا۔آج گھر میں کپڑے دھونے کا دن بھر لمبا ہنگامہ بھی نہیں تھا۔ یاسمین کچھ فارغ تھی۔ میں نے اسے اپنے کمرے میں بلایا۔ میرا جی چاہتا تھا کہ اس کی کہانی سنوں۔ اس کی کہانی میں کوئی نئی بات نہیں تھی۔ اس بار وطنِ عزیز میں گزارے کچھ عرصے میں میں نے اس جیسے بچوں کو اپنے عزیزوں، دوستوں، کامریڈوں، این جی او والے انسان دوستوں کے ہاں کثرت سے دیکھا تھا۔ یہ بچے جو ایک سال یا چھ ماہ کے معاہدے پر خرید لیے جاتے ہیں۔ بچوں کے کھانے، لباس اور رہائش کی ذمہ داری کے علاوہ ان کے والدین کو کچھ ہزار ماہانہ دیے جاتے ہیں۔ بچے فراہم کرنے والے ایجنٹ اپنی سروس کی قیمت علیحدہ وصول کرتے ہیں۔لیکن جب یاسمین نے اپنی کہانی سنانا شروع کی تو وہ گھریلو کام کرنے والی مشین کی بجائے ایک جیتا جاگتا حقیقی بچہ بن گئی۔ اس کے چہرے پر متضاد کیفیات کے رنگ آنکھ مچولی کھیلنے لگے۔ اس کی آواز احساسات کے زیر و بم سے بھر گئی۔ اس کی باتوں میں ایک بات ایسی تھی جو اس کی یاد میں روزِ اول کی طرح تازہ تھی۔"وہ شام کا وقت تھا آنٹی۔ اور میرے ابو مجھے کہیں لے کر جا رہے تھے۔ اور میں بار بار پوچھتی تھی کہ آپ مجھے کہاں لے کر جا رہے ہیں ۔۔۔۔ لیکن ۔۔۔۔ لیکن میرے ابو چپ تھے۔ اور مجھے بہت ڈر لگ رہا تھا۔ پھر ہم کھیتوں میں سے گزر کر پکی سڑک پر آ گئے تھے۔ وہاں ایک کار کھڑی تھی۔ ہمیں دیکھ کر وہ جو آدمی تھا نا کار چلانے والا۔ وہ کار میں سے باہر نکلا۔ اس کے ساتھ والی سیٹ پر بیگم صاحبہ بھی بیٹھی ہوئی تھی۔ اس آدمی نے کار کا پچھلا دروازہ کھولا تھا۔ میرے ابو نے کہا، بیٹھو۔ میں سمجھی ابو بھی میرے ساتھ جائیں گے، تو میں بیٹھ گئی۔ ابو پیچھے ہٹ گئے اور اس آدمی نے دروازہ بند کر دیا۔ میں رونے لگی تو ابو نے کہا: "روو مت، یہ بہت اچھے لوگ ہیں۔ تمھیں اچھا کھانے کو دیں گے اور ہمیں بھی پیسے دیں گے۔ تمھاری ماں بیمار ہے۔ اس کی دوائی لانی ہے۔ " ۔۔۔۔۔ پھر ۔۔۔۔ وہ کار چل پڑی۔ ابو پیچھے رہ گئے۔ میں بہت ڈر رہی تھی۔۔۔""پھر کیا ہوا؟""پھر ۔۔۔۔ ان کے گھر میں بھی میں بہت ڈرتی تھی۔ اتنا بڑا گھر تھا۔ اور وہ دونوں جب کام پر چلے جاتے تھے تو گھر کو باہر سے تالا لگا دیتے تھے اور میں گھر میں اکیلی ہوتی تھی۔ تو ۔۔۔۔ مجھے بہت ڈر لگتا تھا۔ مجھے لگتا تھا اس گھر میں بہت سارے بھوت ہیں۔ میں سارا دن روتی رہتی تھی۔ "تو یہ تھی یاسمین کے بچپن کی ایک یاد ۔۔۔۔ تنہائی اور بھوتوں کے خوف سے سہما ہوا بچپن ۔۔۔۔ بچپن جسے ہم اور آپ "حسین" کہتے ہیں۔لیکن اس وقت جو یاسمین میرے سامنے تھی اسے اپنی موجودہ زندگی کو جینا آ چکا تھا۔ کیونکہ وہ زیادہ تر وقت چہکتی رہتی تھی۔ گانے گنگناتی۔ ٹی وی شوق سے دیکھتی اور ہر وقت کام اور خدمت کرنے پر تیار رہتی۔ وہ اس سانچے میں ڈھل چکی تھی جو اس کے والدین، معاشرے اور ریاست نے مل جل کر اس کے لیے تیار کیا تھا۔سہ پہر ڈھلنے کو تھی۔ صحن میں لگے آم کے ایک بڑے درخت پر چڑیوں نےغضب کا شور مچا رکھا تھا۔ میں آم کے ان پتوں کو تشویش سے دیکھنے لگی جو منہ سڑی کی بیماری کی وجہ سے سیاہ پڑ چکے تھے۔ اچانک کسی نے پیچھے سے آ کر میری کمر کے گرد اپنی بانہیں حمائل کر دیں۔ میں نے مڑ کر دیکھا۔ یہ یاسمین تھی۔ میں اس کی بے تکلفی پر حیران ہوئی تو اس نے میرے چہرے کو فورا" پڑھ لیا:"سوری آنٹی، آپ پیچھے سے بالکل میری امی کی طرح لگتی ہیں۔ مجھے لگا میری امی ہیں۔"یاسمین ابھی اچھی طرح اپنی ماں سے مل بھی نہ پائی تھی کہ میں نے پیچھے مڑ کر اس کا حسین واہمہ توڑ دیا تھا۔ میں نے ایک نرم ہاتھ اس کے سر پر رکھا۔ بس یہی تھا جو میں اسے دے سکتی تھی۔شام کے سائے طویل ہو رہے تھے۔ گھر میں بتیاں روشن ہوئیں۔ میں نے آج کے اخبار کو پڑھنے کے لیے اٹھایا۔ تازہ اخبار میں اب ایسا کچھ نہیں ہوتا کہ اسے صبح صبح شوق سے پڑھا جائے۔ پہلا صفحہ ہمیشہ کی طرح ان خبروں سے بھرا ہوتا ہے جنھیں "خبر" ہونا ہی نہیں چاہیے۔ حکومتیں اپنی کارکردگیوں سے متعلق کتنا جھوٹ بولتی ہیں۔ دوسرا صفحہ مصلحت آمیز اداریے کے علاوہ کچھ چیختے، بلبلاتے یا مکھن لگاتے کالموں کا صفحہ ہے۔ یہ سب بھی محض ایک تکرارِ مسلسل ہے اور بس ۔۔۔۔ تیسرے صفحے کا ایک چوتھائی حصہ ایک اشتہار نے سیاہ کر رکھا ہے۔ "بچوں کو بچاو" نامی غیر سرکاری تنظیم کو کچھ ماہرین اور ورکرز کی ضرورت ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے بے پناہ کام کرتے ہیں۔ اف اتنا بڑا اشتہار ۔۔۔۔ کتنا پیسہ ہے ان کے پاس ۔۔۔ رپورٹیں، تجزیے، سیمینار، بچوں کو بچانے کے منصوبے۔ یہ کن بچوں کو بچا رہے ہیں؟ اور ایک بچہ جو صبح سے خاموش تھا۔ میرے عین سامنے آ کر للکارا:"میرا اور یاسمین کا تعلق ہے۔" حمزہ نے میرے سامنے جیسے کوئی اہم اعلان کیا۔میں نے اخبار سے نظریں ہٹا کر اسے دیکھا۔ وہ سنجیدہ بلکہ جنگجوانہ انداز سے دونوں ہاتھ اپنی کمر پر رکھے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑا تھا۔ تو گویا موصوف نے یہ تمام دن لفظ "تعلق" کی باریکیاں سمجھنے میں گزار دیا تھا۔ اور اب وہ مجھے میرے صبح کے سوال کا جواب دے رہا تھا۔"میرا اور یاسمین کا تعلق ہے۔ اور وہ یہ کہ میں نے اس سے پانی مانگا تو اس نے مجھے پانی لا کر دیا۔"حمزہ نے اچھی طرح ایک ایک لفظ پر زور دے کر مجھے اپنے اور یاسمین کے تعلق کی نوعیت سمجھانے کی کوشش کی۔ میں نے دیکھا کہ یاسمین پانی کا گلاس پکڑے کمرے کے دروازے پر چور سی بنی کھڑی تھی۔میں نے اس صورتحال میں موجود مضحکہ خیزی پر اپنی ہنسی کو دباتے ہوئے اسے کہا:"تو پھر؟""تو پھر یہ کہ وہ میرے ساتھ اب کھیلے گی۔" حمزہ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا۔ قریب کھڑی یاسمین کی آنکھیں میری اجازت کی منتظر تھیں۔"ٹھیک ہے کھیلو، لیکن یاسمین پر اپنا ہاتھ نہ اٹھانا۔" میں نے انھیں کھیلنے کی اجازت دیتے ہوئے کہا۔دونوں بچے باہم کھیلنے پر لگائی گئی ایک روزہ پابندی کے ختم ہونے سے بے پناہ خوش ہوئے۔اب وہ کھیل رہے ہیں۔ وہ صرف بچے ہیں۔ بچے جو کھیل سے حد درجہ پیار کرتے ہیں۔ بچے جنھیں ہم جولیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ بچے جو باہمی رنجشیں جلد ہی بھول جاتے ہیں۔ ۔۔۔۔ تعلق؟ ۔۔۔۔ بچوں کو اس لفظ سے کیا لینا دینا۔ یہ تو ہم بڑوں کا مسئلہ ہے۔لیکن زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ یاسمین کو ایک اور بے رحم حقیقت کا سامنا کرنا پڑا۔ حمزہ کے دوست سچل اور ماریہ اپنے نئے جوگرز پہنے دھپ دھپ کرتے گھر میں داخل ہوئے۔ حمزہ چشمِ زدن میں کسی بے کار کھلونے کی طرح یاسمین کو بھول گیا۔ اس کے کھیل کے ساتھی اب بدل چکے تھے۔ اسے اب یاسمین کی قطعا" کوئی ضرورت نہیں تھی۔ یاسمین دروازے کی چوکھٹ میں کھڑی ایک حسرت ناک تصویر کی مانند تینوں بچوں کو کھیلتے دیکھتی رہی۔ پھر یہ تصویر چوکھٹ کے فریم سے نکل کر کہیں دور چلی گئی۔ کہاں؟ ۔۔۔۔۔ یہ گھر زیادہ بڑا نہیں ہے۔ یاسمین یہیں کہیں ہو گی۔ ہاں وہ قریب ہی ہے۔ خالی اور ٹھنڈے ڈرائنگ روم کے قالین پر لیٹی وہ اپنی ماں کا گیت گنگنا رہی ہے۔ اس کی ساری توانائی اور زندگی کی حرارت شاید اسی گیت میں ہے۔(3)تین برس بعد جب میں نے دوبارہ وطن کا سفر کیا تو اس گھر کے حالات تقریبا" ویسے ہی تھے۔ البتہ یاسمین کچھ بدلی بدلی سی تھی۔ دراصل وہ یاسمین نہیں شاہین تھی، یاسمین کی چھوٹی بہن۔ گھر والے شاہین سے بہت تنگ تھے۔ ان کے بقول وہ ڈھیٹ اور کام چور تھی اور موقع غنیمت جان کر کبھی کبھی حمزہ کی پٹائی بھی کر دیتی تھی۔ جواب میں اس پر بھی کسی نہ کسی بڑے کا ہاتھ اٹھ جاتا تھا لیکن شاہین ایسی درگت کو خاطر میں نہیں لاتی تھی۔ اس سب کے باوجود وہ شاہین کے ساتھ گزارا کر رہے تھے کیونکہ وہ انھیں کم اجرت پر دستیاب تھی۔ میرے پوچھنے پر مجھے بتایا گیا کہ یاسمین کی پچھلے برس جنوری میں اس کے والدین نے شادی کر دی تھی۔ اب تو وہ ایک بیٹی کی ماں بھی بن چکی تھی۔ پندرہ برس کی ماں ۔۔۔۔ میں نے اپنے تصور میں پرانی یاسمین کو دیکھنا چاہا تو میرے ذہن کے کمپیوٹر نے اس کی کتنی ہی ڈوپلیکیٹس تیار کر دیں۔--------------------------🔴🔴ایک غزل احبابِ گراں قدر کی اعلیٰ بصارتوں کے حوالےاس درد کا کسی سے بھی چارہ نہ ہو سکا ہم اس کے ہو گئے جو ہمارا نہ ہو سکادنیا نے معتبر بھی پکارا ہمیں تو کیاہم پر جو اعتبار تمہارا نہ ہوسکاپتھرا گئی ہے آنکھ جسے دیکھتے ہوئےدل کے نصیب میں وہ ستارہ نہ ہو سکارشتہ تھا یا معاہدہ کوئی ہمارے بیچٹوٹا تو پھر بحال دوبارہ نہ ہو سکاسینے میں اس کے دل نہیں پتھر ہے دوستوجس کی پلک پہ اشک ستارہ نہ ہو سکامیں جانتا ہوں کوئی بھی حق میں نہیں مرےپھر بھی تو دوستوں سے کنارا نہ ہو سکامیں کھل کے خرچ کرنے کا عادی ہوں اسلیےیادوں پہ تیری دل کا گزارا نہ ہو سکاسیکھا ہے دل نے درد کو شعروں میں ڈھالنادنیا کو یہ ہنر بھی گوارا نہ ہو سکا🖋 فرحان دِل ـ مالیگاؤں ـ📞 9226169933___________کچھ اشعاراحباب کی نذر لوگ رکھیں گےبھلا اپنی نظرمیں کیا کیا درد اوڑھے ہوئے نکلا ہےسفرمیں کیا کیا مجھ سمندرسےکبھی آ کے یہ پوچھے کوئیمیں چھپائےہوۓبیٹھاہوں جگرمیں کیاکیا لے گئی برف بہاریں تو کوئی بات نہیںحسن باقی ہےابھی خشک شجر میں کیا کیا تیری یادوں کےدمکتےہوۓرنگوں سےپرےرنگ اترتے ہیں میرےطرزِہنر میں کیاکیا ذرد موسم ہے بہاریں ہیں کہ ایّامِ وفاآؤدیکھو تمہیں ملتاہےکھنڈر میں کیا کیا گھرسے نکلےتو چمٹنےلگی پیروں سےہوادیکھیے اور ملے راہ گذر میں کیا کیا ستار عظیم________🔴

Friday, 19 September 2025

صنعتی شہر میں ڈوب کر ہلاک ہونیوالوں کی تعداد میں اضافے سے افسوس اور خوف کا عالم ہے۔ گزشتہ ۳۰؍ دنوں کے دوران ۲۱؍ افراد غرقاب ہوئے ہیں۔صنعتی شہر میں ڈوب کر ہلاک ہونیوالوں کی تعداد میں اضافے سے افسوس اور خوف کا عالم ہے۔ گزشتہ ۳۰؍ دنوں کے دوران ۲۱؍ افراد غرقاب ہوئے ہیں۔ ڈوبنے کے واقعات موسم ندی ، گرنا ندی، گرنا ڈیم، کنویں ، تالاب اور اطراف واکناف کے چھوٹے بڑے آبی ذخائر میں پیش آئے ہیں۔اس صورتحال کے پیش نظر شہر میں والدین اور سرپرستوں کوبیدار اور محتاط رہنے کی ضرورت پہلے سے زیادہ ہوگئی ہے۔سماجی تنظیمیں ، ملّی ادارے اور حقوقِ انسانی کیلئے سرگرم شخصیات بھی اِس جانب توجہ مرکوز کریں تاکہ ناگہانی اموات کے اِس سلسلے کی روک تھام ممکن ہوسکے۔۱۴؍اگست سے ۱۴؍ستمبرکے درمیان کے اعدادوشمار یہ نام اور دیگر تفصیلات مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن فائر بریگیڈ ڈپارٹمنٹ سے موصول ہوئی ہے۔اس میں دیکھ سکتے ہیں کہ مہلوکین کی اوسط عمر ۱۵؍سے ۳۵؍سال کے درمیان ہیں۔ ان سب کا تعلق مالیگاؤں اور مضافات کے علاقے سے ہے۔چند ناموں کو چھوڑدیں تو بیشتر مہلوکین مسلم طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔(۱)سہیل احمد شکیل احمد چودھری۔ عمر نہیں معلوم (۲)نلیش واگھ(۳)محمد فیضان ۔عمر:۱۷؍سال،مالیگاؤں(۴)معاذ انصاری۔ عمر:۱۸؍سال ،مالیگاؤں(۵)جاوید اختر۔عمر:۱۸؍سال عبداللہ نگر(۶)کومل جتیندر واگھ۔ عمر:۲۸؍سال۔کیمپ (۷)محمد حسن ۔عمر:۲۲؍سال۔حسن پورہ(۸)ببلو مقادم۔عمر:۳۰؍سال۔دیوی کا ملّہ (۹)روپالی پوار۔عمر:۱۷؍سال۔سوئیگاؤں(۱۰)روہن پنجاری۔ عمر:۲۲؍سال۔سوئیگاؤں(۱۱)ہرشالی راہل آہیرے۔عمر:۲۴؍سال(۱۲)آروہی آہیرے۔عمر:۸؍سال(۱۳)سنکیت آہیرے،۴؍سال،مالیگاؤں تعلقہ(۱۴)بجرنگ گوساوی۔عمر:۴۵؍سال(۱۵)مادھوی گوساوی(۴۵)،مالیگاؤں تعلقہ(۱۶)محمد تسلیم ۔۶؍سال۔ہیرا پورہ(۱۷)محمد ریحان ۔عمر ۱۴؍سال۔ہیرا پورہ(۱۸)محمد شہزاد۔ عمر : ۱۷؍سال۔حسن پورہ(۱۹)سنبھاجی ماڑی۔عمر:۲۶؍سال۔شری رام نگر(۲۰)وکاس پوار ۔ عمر ۳۰؍سال۔ٹیہرے شیوار(۲۱)محمد اسحاق عبدالملک ( ۱۶؍سال)داتار نگر میونسپل لائف گارڈنےیہ وجہ بتائی اس ضمن میں انقلاب کے استفسار پر شکیل احمد (لائف گارڈ،مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن فائر بریگیڈ ڈپارٹمنٹ ) نے کہا کہ غرقاب ہونے والے تیراکی سے بالکل واقف نہیں تھے۔بہت سارے اِس لئے موت کے منہ میں چلے گئے کہ وہ ریٖل یا ویڈیوبنانے یا پھر فوٹوگرافی کررہے تھے۔ اپنے دوستوں اہل خانہ کو بتانے کیلئے موبائل میں شُوٹ کررہے تھے کہ گہرے پانی میں ڈوبتے چلے گئے۔مرنے والوں میں وہ بھی شامل ہیں جو محض تفریح کیلئے گئے اور پانی دیکھ کر مَن مچل گیا اور نہانے اُترگئے تو واپس ہی نہیں آئے۔ شکیل احمد نے کہا کہ گزرے ایک ماہ میں جتنی اموات اس نوعیت کی ہوئی ان کی لاشیں نکالنے کا کام مَیں نے کیا ہے۔بار بار والدین ، سرپرستوں سے گزارش کئے جانے کے بعد بھی کوئی خاص توجہ اِس جانب نہیں دی جاتی۔____________🔴🔴سعادت حسن منٹو ۔پھوجا حرام داٹی ہاؤس میں حرامیوں کی باتیں شروع ہوئیں تو یہ سلسلہ بہت دیر تک جاری رہا۔ ہر ایک نے کم از کم ایک حرامی کے متعلق اپنے تاثرات بیان کیے جس سے اس کو اپنی زندگی میں واسطہ پڑ چکا تھا۔ کوئی جالندھر کا تھا۔ کوئی لدھیانے کا اور کوئی لاہور کا۔ مگر سب کے سب اسکول یا کالج کی زندگی کے متعلق تھے۔ مہر فیروز صاحب سب سے آخر میں بولے۔ آپ نے کہ۔ امرت سر میں شاید ہی کوئی ایسا آدمی ہو جو پھوجے حرامدے کے نام سے ناواقف ہو۔ یوں تو اس شہر میں اور بھی کئی حرام زادے تھے مگر اس کے پلے کے نہیں تھے۔ وہ نمبر ایک حرام زادہ تھا۔ اسکول میں اُس نے تمام ماسٹروں کا ناک میں دم کر رکھا تھا ہیڈ ماسٹر جس کو دیکھتے ہی بڑے بڑے شیطان لڑکوں کا پیشاب خطا ہو جاتا پھوجے سے بہت گھبراتا تھا اس لیے کہ اس پر اُن کے مشہور بید کا کوئی اثر نہیں ہوتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ تنگ آکر انھوں نے اُس کو مارنا چھوڑ دیا تھا۔ یہ دسویں جماعت کی بات ہے۔ ایک دن یار لوگوں نے اُس سے کہا دیکھو پھوجے ! اگر تم کپڑے اتار کر ننگ دھڑنگ اسکول کا ایک چکر لگاؤ تو ہم تمھیں ایک روپیہ دیں گے۔ پھوجے نے روپیہ لے کر کان میں اڑسا کپڑے اُتار کر بستے میں باندھے اور سب کے سامنے چلنا شروع کر دیا، جس کلاس کے پاس سے گزرتا وہ زعفران زار بن جاتا۔ چلتے چلتے وہ ہیڈماسٹر صاحب کے دفتر کے پاس پہنچ گیا پتی اُٹھائی اور غڑاپ سے اندر۔ معلوم نہیں کیا ہوا ہیڈ ماسٹر صاحب سخت بوکھلائے ہوئے باہر نکلے اور چپڑاسی کو بُلا کر اُس سے کہا جاؤ بھاگ کے جاؤ پھوجے حرامدے کے گھر، وہاں سے کپڑے لاؤ اُس کے لیے۔ کہتا ہے میں مسجدکے سقاوے میں نہا رہا تھا کہ میرے کپڑے کوئی چور اُٹھا کر لے گیا۔ دینیات کے ماسٹر مولوی پوٹیٹو تھے۔ معلوم نہیں انھیں پوٹیٹو کس رعایت سے کہتے تھے، کیونکہ آلوؤں کے تو داڑھی نہیں ہوتی۔ ان سے پھوجا ذرا دبتا تھا مگر ایک دن ایسا آیا کہ انجمن کے ممبروں کے سامنے مولوی صاحب نے غلطی سے اس سے ایک آیت کا ترجمہ پوچھ لیا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ خاموش رہتا مگر پھوجا حرامدا کیسے پہچانا جاتا۔ جو منہ میں آیا اول جلول بک دیا۔ مولوی پوٹیٹو کے پسینے چھوٹ گئے ممبر باہر نکلے تو انھوں نے غصہ میں تھر تھر کانپتے ہوئے اپنا عصا اٹھایا اور پھوجے کو دو چار چور کی مار دی کہ بلبلا اُٹھا مگر بڑے ادب سے کہتا رہا کہ مولوی صاحب میرا قصور نہیں مجھے کلمہ ٹھیک سے نہیں آتا اور آپ نے ایک پوری آیت کا مطلب پوچھ لیا۔ مارنے سے بھی مولوی پوٹیٹو صاحب کا جی ہلکا نہ ہوا۔ چنانچہ وہ پھوجے کے باپ کے پاس گئے اور اس سے شکایت کی پھوجے کے باپ نے اُن کی سب باتیں سنیں اور بڑے رحم ناک لہجے میں کہا’’مولوی صاحب ! میں خود اس سے عاجز آگیا ہوں میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اس کی اصلاح کیسے ہوسکتی ہے۔ ابھی کل کی بات ہے میں پاخانے گیا تو اس نے باہر سے کنڈی چڑھا دی میں بہت گرجا بے شمار گالیاں دیں مگر اُس نے کہا’’اٹھنی دینے کا وعدہ کرتے ہو تو دروازہ کھلے گا اور دیکھو اگر وعدہ کر کے پھر گئے تو دوسری مرتبہ کنڈی میں تالا بھی ہو گا‘‘ناچار اٹھنی دینی پڑی اب بتائیے میں ایسے نابکار لڑکے کا کیا کروں۔ ‘‘اللہ ہی بہتر جانتا تھا کہ اس کا کیا ہو گا۔ پڑھتا وڑھتا خاک بھی نہیں تھا انٹرنس کے امتحان ہوئے تو سب کو یقین تھا کہ بہت بری طرح فیل ہو گا مگر نتیجہ نکلا تو سکول میں اس کے سب سے زیادہ نمبر تھے۔ وہ چاہتا تھا کہ کالج میں داخل ہو مگر باپ کی خواہش تھی کہ کوئی ہنر سیکھے، چنانچہ یہ نتیجہ نکلا کہ وہ دو برس تک آوارہ پھرتا رہا اس دوران اُس نے جو حرامزدگیاں کیں ان کی فہرست بہت لمبی ہے۔ تنگ آ کر اُس کے باپ نے بالآخر اُسے کالج میں داخل کروا دیا پہلے دن ہی اُس نے یہ شرارت کی کہ میتھے میٹکس کے پروفیسر کی سائیکل اُٹھا کر درخت کی سب سے اونچی ٹہنی پر لٹکا دی۔ سب حیران کہ سائیکل وہاں پہنچی کیونکر۔ مگر وہ لڑکے جو اسکول میں پھوجے کے ساتھ پڑھ چکے تھے۔ اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ کارستانی اس کے سوا کسی کی نہیں ہوسکتی، چنانچہ اس ایک شرارت ہی سے اُس کا پورے کالج سے تعارف ہو گیا۔ اسکول میں اُس کی سرگرمیوں کا میدان محدود تھا۔ مگر کالج میں یہ بہت وسیع ہو گیا۔ پڑھائی میں کھیلوں میں مشاعروں میں اور مباحثوں میں ہر جگہ پھوجے کا نام روشن تھا اور تھوڑی دیر میں اتنا روشن ہوا کہ شہر میں اس کے گنڈپنے کی دھاک بیٹھ گئی۔ بڑے بڑے جگادری بد معاشوں کے کان کاٹنے لگا۔ ناٹا قد مگر بدن کستری تھا اُس کی بھیڈ و ٹکر بہت مشہور تھی۔ ایسے زور سے مد مقابل کے سینے میں یا پیٹ میں اپنے سر ٹکر مارتا کہ اُس کے سارے وجود میں زلزلہ سا آجاتا۔ ایف۔ اے کے دوسرے سال میں اُس نے تفریحاً پرنسپل کی نئی موٹر کے پٹرول ٹینک میں چار آنے کی شکر ڈال دی جس نے کاربن بن کر سارے انجن کو غارت کر دیا پرنسپل کو کسی نہ کسی طریقے سے معلوم ہو گیا کہ یہ خطرناک شرارت پھوجے کی ہے مگر حیرت ہے کہ اُنھوں نے اس کو معاف کر دیا بعد میں معلوم ہوا کہ پھوجے کو اُن کے بہت سے راز معلوم تھے۔ ویسے وہ قسمیں کھاتا کہ اس نے ان کو دھمکی وغیرہ بالکل نہیں دی تھی کہ انھوں نے سزا دی تو وہ انھیں فاش کر دے گا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کانگریس کا بہت زور تھا۔ انگریزوں کے خلاف کھلم کھلا جلسے ہوتے تھے۔ حکومت کا تختہ اُلٹنے کی کئی ناکام سازشیں ہو چکی تھی۔ گرفتاریوں کی بھرمار تھی۔ سب جیل باغیوں سے پُر تھے۔ آئے دن ریل کی پٹڑیاں اُکھاڑی جاتی تھیں۔ خطوں کے بھبکوں میں آتش گیر مادہ ڈالا جاتا تھا۔ بم بنائے جارہے تھے پستول برآمد ہوتے تھے غرض کہ ایک ہنگامہ برپا تھا اور اس میں اسکول اور کالجوں کے طالب علم بھی شامل تھے۔ پھوجا سیاسی آدمی بالکل نہیں تھا۔ میرا خیال ہے اُس کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ مہاتما گاندھی کون ہے۔ لیکن جب اچانک ایک روز اُسے پولیس نے گرفتار کیا اور وہ بھی ایک سازش کے سلسلے میں تو سب کو بڑی حیرت ہوئی۔ اس سے پہلے کئی سازشیں پکڑی جا چکی تھیں۔ سانڈرس کے قتل کے سلسلے میں بھگت سنگھ اور دت کو پھانسی بھی ہو چکی تھی اس لیے یہ نیا معاملہ بھی کچھ سنگین ہی معلوم ہوتا تھا الزام یہ تھا کہ مختلف کالجوں کے لڑکوں نے مل کر ایک خفیہ جماعت بنا لی تھی جس کا مقصد ملک معظم کی سلطنت کا تختہ اُلٹنا تھا۔ ان میں سے کچھ لڑکوں نے کالج کی لیبارٹری سے پکرک ایسڈ چرایا تھا جو بم بنانے کے کام آتا ہے۔ پھوجے کے بارے میں شُبہ تھا کہ وہ ان کا سرغنہ تھا اور اس کو تمام خفیہ باتوں کا علم تھا۔ ! اس کے ساتھ کالج کے دو اور لڑکے بھی پکڑے گئے تھے ان میں ایک مشہور بیرسٹر کا لڑکا تھا اور دوسرا رئیس زادہ۔ ان کا ڈاکٹری معائنہ کرایا گیا تھا اس لیے پولیس کی مار پیٹ سے بچ گئے مگر شامت غریب پھوجے حرامدے کی آئی۔ تھانے میں اُس کو الٹا لٹکا کر پیٹا گیا۔ برف کی سلوں پرکھڑا کیاگیا۔ غرض کہ ہر قسم کی جسمانی اذّیت اُسے پہنچائی گئی کہ راز کی باتیں اُگل دے مگر وہ بھی ایک کتے کی ہڈی تھا، ٹس سے مس نہ ہوا۔ بلکہ یہاں بھی کم بخت اپنی شرارتوں سے باز نہ آیا۔ ایک مرتبہ جب وہ مار برداشت نہ کرسکتا اُس نے تھانے دار سے ہاتھ روک لینے کی در خواست کی اور وعدہ کیا کہ وہ سب کچھ بتا دے گا۔ بالکل نڈھال تھا اس کے لیے اُس نے گرم گرم دُودھ اور جلیبیاں مانگیں۔ طبیعت قدرے بحال ہوئی تو تھانیدار نے کاغذ قلم سنبھالا اور اُس سے کہا لو بھئی بتاؤ۔ پھوجے نے اپنے مار کھائے ہوے اعضاء کا جائزہ انگڑائی لے کر کیا اور جواب دیا’’اب کیا بتاؤں طاقت آگئی ہے چڑھالو پھر مجھے اپنی ٹکٹکی پر۔ ‘‘ایسے اور بھی کئی قصے ہیں جو مجھے یاد نہیں رہے مگر وہ بہت پُرلطف تھے۔ ملک حفیظ ہمارا ہم جماعت تھا، اُس کی زبان سے آپ سُنتے تو اور ہی مزا آتا۔ ایک دن پولیس کے دوسپاہی پھوجے کو عدالت میں پیش کرنے کے لیے لے جارہے تھے۔ ضلع کچہری میں اُس کی نظر ملک حفیظ پر پڑی، جو معلوم نہیں کس کام سے وہاں آیا تھا۔ اُس کو دیکھتے ہی وہ پکارا۔’’السلام علیکم ملک صاحب۔ ‘‘ملک صاحب چونکے۔ پھوجا ہتھکڑیوں میں اُن کے سامنے کھڑا مسکرا رہا تھا۔’’ملک صاحب بہت اُداس ہو گیا ہوں، جی چاہتا ہے آپ بھی آجائیں میرے پاس۔ بس میرا نام لے دینا کافی ہے۔ ‘‘ملک حفیظ نے جب یہ سُنا تو اُس کی رُوح قبض ہو گئی۔ پھوجے نے اُس کو ڈھارس دی۔’’گھبراؤ نہیں ملک، میں تو مذاق کر رہا ہوں۔ ویسے میرے لائق کوئی خدمت ہو تو بتاؤ۔ ‘‘اب آپ ہی بتائیے کہ وہ کس لائق تھا۔ ملک حفیظ گھبرا رہا تھا۔ کنی کتراکے بھاگنے ہی والا تھا کہ پھوجے نے کہا’’بھئی اور تو ہم سے کچھ نہیں ہوسکتا کہو تو تمہارے بدبودار کنویں کی گار نکلوادیں۔ ‘‘ملک حفیظ ہی آپ کو بتا سکتا ہے کہ پھوجے کو اس کنوئیں سے کتنی نفرت تھی۔ اس کے پانی سے ایسی بساند آتی تھی جیسے مرنے ہوئے چوہے سے۔ معلوم نہیں لوگ اسے صاف کیوں نہیں کراتے تھے۔ ایک ہفتے کے بعد جیساکے ملک حفیظ کا بیان ہے وہ باہر نہانے کے لیے نکلا تو کیا دیکھتا ہے کہ دو تین ٹوبے کنوئیں کی گندگی نکالنے میں مصروف ہیں۔ بہت حیران ہوا کہ ماجرا کیا ہے۔ اُنھیں بلایا کس نے ہے؟ پڑوسیوں کا یہ خیال تھا کہ بڑے ملک صاحب کو بیٹھے بیٹھے خیال آگیا ہو گا کہ چلو کنوئیں کی صفائی ہو جائے، یہ لوگ بھی کیا یاد رکھیں گے لیکن جب اُنھیں معلوم ہوا کہ چھوٹے ملک کو اس بارے میں کچھ علم نہیں اور یہ کہ بڑے تو شکار پر گئے ہوئے ہیں تو انھیں حیرت ہوئی۔ پولیس کے بے وردی سپا ہی دیکھے تو معلوم ہوا کہ پھوجے حرامدے کی نشاندہی پر وہ کنویں میں سے بم نکال رہے ہیں۔ بہت دیر تک گندگی نکلتی رہی۔ پانی صاف شفاف ہو گیا مگر بم کیا ایک چھوٹا سا پٹاخہ بھی برآمد نہ ہو گا۔ پولیس بہت بھنائی چنانچہ پھوجے سے باز پُرس ہوئی۔ اُس نے مسکراکر تھانیدار سے کہا’’بھولے بادشاہو! ہمیں تو اپنے یار کا کنواں صاف کرانا تھا سو کرالیا۔ ‘‘بڑی معصوم سی شرارت تھی مگر پولیس نے اسے وہ مارا وہ مارا کہ مار مار کر ادھ موا کردیا۔ اور ایک دن یہ خبر آئی کہ پھوجا سلطانی گواہ بن گیا ہے اُس نے وعدہ کر لیا ہے کہ سب کچھ بک دے گا۔ کہتے ہیں اس پر بڑی لعن طعن ہوئی اُس کے دوست ملک حفیظ نے بھی جو حکومت سے بہت ڈرتا تھا اُس کو بہت گالیاں دیں کہ حرام زادہ ڈر کے غدار بن گیا ہے معلوم نہیں اب کس کس کو پھنسائے گا۔ بات اصل میں یہ تھی کہ وہ مار کھا کھا کے تھگ گیا۔ جیل میں اُس سے کسی کو ملنے نہیں دیا جاتا تھا، مرغن غذائیں کھانے کو دی جاتی تھیں مگر سونے نہیں دیا جاتا تھا۔ کم بخت کو نیند بہت پیاری تھی اس لیے تنگ آ کر اُس نے سچے دل سے وعدہ کر لیا کہ بم بنانے کی سازش کے جملہ حالات بتا دے گا۔ یوں تو وہ جیل ہی میں تھا مگر اب اس پر کوئی سختی نہ تھی کئی دن تو اُس نے آرام کیا کہ اُس کے بند بند ڈھیلے ہو چکے تھے اچھی خوراک ملی بدن پر مالشیں ہوئیں تو وہ بیان لکھوانے کے قابل ہو گیا۔ صبح لسی کے دو گلاس پی کر وہ اپنی داستان شروع کر دیتا تھوڑی دیر کے بعد ناشتا آتا۔ اس سے فارغ ہو کر پندرہ بیس منٹ آرام کرتا اور کڑی سے کڑی ملا کر اپنا بیان جاری رکھتا۔ آپ محمد حسین اسٹینو گرافر سے پوچھیے جس نے اس کا بیان ٹائپ کیا تھا۔ اُس کا کہنا ہے کہ پھوجے حرامدے نے پورا ایک مہینہ لیا اور وہ سارا جال کھول کر رکھ دیا جو سازشیوں نے ملک کے اس کونے سے اُس کونے تک بچھایا تھا یا بچھانے کا ارادہ رکھتے تھے اس نے سینکڑوں آدمیوں کے نام لیے۔ ایسی ہزاروں جگہوں کا پتا بتایا جہاں سازشی لوگ چھپ کے ملتے تھے اور حکومت کا تختہ اُلٹنے کی ترکیبیں سوچتے تھے۔ یہ بیان محمد حسین اسٹینو گرافر کہتا ہے فل اسکیپ کے ڈھائی سو صفحوں پر پھیلا ہوا تھا جب یہ ختم ہوا تھا تو پولیس نے اُسے سامنے رکھ کر پلان بنایا۔ چنانچہ فوراً نئی گرفتاریاں عمل میں آئیں اور ایک بار پھر پھوجے کی ماں بہن پُنی جانے لگی۔ اخباروں نے بھی دبی زبان میں پھوجے کے خلاف کافی زہر اُگلا۔ اکثر حکام کے خلاف تھی اس لیے اُس کی غداری کی ہر جگہ مذمت ہوتی تھی۔ وہ جیل میں تھا جہاں اُس کی خوب خاطر تواضح ہو رہی تھی۔ بڑی طرّے والی کلف لگی پگڑی سر پر باندھے دوگھوڑے بوسکی کی قمیص اور چالیس ہزار لٹھے کی گھیرے دار شلوار پہنے وہ جیل میں یوں ٹہلتا تھا جیسے کوئی افسر معائنہ کررہا ہے۔ جب ساری گرفتاریاں عمل میں آگئیں اور پولیس نے اپنی کارروائی مکمل کر لی تو، سازش کا یہ معرکہ انگیز کیس عدالت میں پیش ہوا۔ لوگوں کی بھیڑ جمع ہو گئی۔ پولیس کی حفاظت میں جب پھوجا نمودار ہوا تو غصے سے بھرے ہوئے نعرے بلند ہوئے۔’’پھوجا حرام دا امردہ باد۔ پھوجا غدار مردہ باد۔ ‘‘ہجوم بہت مشتعل تھا خطرہ تھا کہ پھوجے پر نہ ٹُوٹ پڑے اس لیے پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا جس کے باعث کئی آدمی زخمی ہو گئے۔ عدالت میں مقدمہ پیش ہوا۔ پھوجے سے جب یہ پوچھا گیا کہ وہ اس بیان کے متعلق کیا کہنا چاہتا ہے جو اُس نے پولیس کو دیا تھا تو اُس نے لا علمی کا اظہار کیا۔’’جناب میں نے کوئی بیان ویان نہیں دیا۔ ان لوگوں نے ایک پلندہ سا تیار کیا تھا جس پر میرے دستخط کروا لیے تھے۔ ‘‘یہ سُن کر انسپکٹر پولیس کی بقول پھوجے کے’’بھنبھیری بھول گئی‘‘اور جب یہ خبر اخباروں میں چھپی تو سب چکرا گئے کہ پھوجے حرامدے نے یہ کیا نیا چکر چلایا ہے۔ چکر نیا ہی تھا کیونکہ عدالت میں اُس نے ایک نیا بیان لکھوانا شروع کیا جو پہلے بیان سے بالکل مختلف تھا یہ قریب قریب پندرہ دن جاری رہا جب ختم ہوا۔ تو فل اسکیپ کے ۱۵۸ صفحے کالے ہو چکے تھے۔ پھوجے کا کہنا ہے کہ اس بیان سے جو حالت پولیس والوں کی ہوئی ناقابلِ بیان ہے۔ انھوں نے جو عمارت کھڑی کی تھی کم بخت نے اُس کی ایک ایک اینٹ اکھاڑ کر رکھ دی۔ سارا کیس چوپٹ ہو گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اس سازش میں جتنے گرفتار ہوئے تھے ان میں سے اکثر بری ہو گئے۔ دو تین کو تین تین برس کی اور چار پانچ کو چھے چھے مہینے کی سزائے قید ہوئی۔ جو سُن رہے تھے ان میں سے ایک نے پوچھا۔’’اور پھوجے کو؟‘‘مہر فیروز نے کہا۔’’پھوجے کو کیا ہونا تھا وہ تو وعدہ معاف یعنی سلطانی گواہ تھا‘‘سب نے پھوجے کی حیرت انگیز ذہانت کو سراہا کہ اُس نے پولیس کو کس صفائی سے غچہ دیا۔ ایک نے جس کے دل و دماغ کو اس کی شخصیت نے بہت زیادہ متاثر کیا تھا مہر فیروز سے پوچھا’’آج کل کہاں ہوتا ہے؟‘‘’’یہیں لاہور میں۔ آڑھت کی دُکان ہے‘‘اتنے میں بیرہ بل لے کر آیا اور پلیٹ بھر فیروز کے سامنے رکھ دی، کیونکہ چائے وغیرہ کا آرڈر اُسی نے دیا تھا۔ پھوجے کی شخصیت سے متاثر شدہ صاحب نے بل دیکھا اور اُن کا آگے بڑھنے والا ہاتھ رُک گیا کیونکہ رقم زیادہ تھی چنانچہ ایسے ہی مہر فیروز سے مخاطب ہوئے۔’’آپ کے اس پھوجے حرامدے سے کبھی ملنا چاہیے‘‘مہر فیروز اُٹھا’’آپ اس سے مل چکے ہیں۔ یہ خاکسار ہی پھوجا حرامدا ہے۔ بل آپ ادا کر دیجیے گا۔ السلام علیکم‘‘یہ کہہ کر وہ تیزی سے باہر نکل گیا۔_________کچھ تو ہوا بھی سرد تھی، کچھ تھا تیرا خیال بھیدل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھیبات وہ آدھی رات کی، رات وہ پورے چاند کیچاند بھی عین چیت کا اس پہ ترا جمال بھیسب سے نظر بچا کے وہ مجھ کو کچھ ایسے دیکھتاایک دفعہ تو رک گئی گردش ماہ و سال بھیدل کو چمک سکے گا کیا، پھر بھی ترش کے دیکھ لیںشیشہ گران شہر کے ہاتھ کا یہ کمال بھیاس کو نہ پا سکے تھے جب دل کا عجیب حال تھااب جو پلٹ کے دیکھئیے، بات تھی کچہ محال بھیمری طلب تھا ایک شخص وہ جو نہیں ملا تو پھرہاتھ دعا سے یوں گرا، بھول گیا سوال بھیاس کی سخن طرازیاں مرے لئے بھی ڈھال تھیںاس کی ہنسی میں چھپ گیا اپنے غموں کا حال بھیگاہ قریب شاہ رگ، گاہ امید دائم و خواباس کی رفاقتوں میں رات، ہجر بھی تھا وصال بھیاس کے بازوؤں میں اور اس کو ہی سوچتے رہےجسم کی خواہش پہ تھے روح کے اور جال بھیشام کی نا سمجھ ہوا پوچھ رہی ہے اک پتاموج ہوائے کوئے یار، کچھ تو مرا خیال بھی#پروین________________🔴🔴درد کا دیا ، جلتا رہا رات بھر مرادل سنگ ، جلتارہارات بھر میں بھی جلتی رہی اورسُلگتیرہی درد دل بھی سُلگتا رہا رات بھر جب اندھیراچھٹادرددل مرگیا وہ جوجلتارہاتھا، دیا رات بھر بُجھ گیاجلتے،جلتےکہ لونہ رہیتھک گیاجلتے،جلتےدیارات بھرمیں بھی جلتی رہی اورسُلگتی رہی تھک گئ میں بھی جلتے ہوئے رات بھرچاندبھی چھُپ گیا، تارے بھی سوگئے چاند،تارے بھی جگتے رہے راتبھر رات گُزری صُبح ، سیمی ہونے لگی میں بھی مرنےلگی،جاگ کے رات بھرسیمی علی امریکہ

Thursday, 18 September 2025

مسلم قیادت ہمیشہ قوم کو موردِ الزام ٹھہراتی ہے کہ قوم متحد نہیں ہے،مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ اتحاد کا فقدان سب سے زیادہ قیادت ہی میں پایا جاتا ہے۔جب بھی کسی خطّے میں کوئی مضبوط قیادت اُبھرنے لگتی ہے،وہاں دوسری قیادتیں فوراً ٹانگ کھینچنے اور راستہ روکنے پہنچ جاتی ہیں۔یوں لگتا ہے کہ قیادت کا مقصد قوم کی خدمت نہیں بلکہ اپنی دوکان بچانا اوراپنی چمک دکھانا ہے۔یہی وجہ ہے کہ قوم ایک جھنڈے تلے جمع ہونے کے بجائے مزید ٹکڑوں میں بٹتی جا رہی ہے۔قیادت کی انا پرستی اور ذاتی مفادات نے قوم کو کمزور کر دیا ہے۔اگر قیادت واقعی قوم و ملّت کی خیرخواہ ہوتی تو ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے کے بجائےایک دوسرے کا ہاتھ تھامتی،اپنی ذات کے بجائے ملّت کے مستقبل کو مقدم رکھتی،اور اپنی سیاست کے بجائے قوم کی خدمت کو اصل ہدف بناتی۔جب تک مسلم قیادت خود متحد نہیں ہوگی،قوم سے اتحاد کی توقع محض ایک نعرہ اور فریب ہے۔قیادت اگر ایک صف میں کھڑی ہو جائے تو قوم خود بخود ایک پرچم تلے جمع ہو جائے گی۔آپ سب کی کیا رائے ہے_________عالمی افسانہ میلہ 2023افسانہ نمبر 9دُوسری حَوَّا بُش احمد , آسٹریلیا ’’شروع شروع میں میرے زخمی ہاتھوں پاؤں کی مالش کرنے کے بعد وہ میری ہتھیلیاں اور تلوے چاٹتی تھی۔ تب مُجھے نہیں معلوم تھا وہ ایسا کیوں کرتی ہے۔ اس کی زعفرانی رنگت گٹھیلی ہتھیلیاں نرم اور ریشم کی مانند ملائم تھیں لیکن لمبی نوکیلی زبان کسی بِلّی کی زبان جیسی کُھردری تھی۔ چند دنوں کے اندر اندر اس ریگ مال کی رگڑ سے میرے ہاتھوں پاؤں کی کھال چِھلنے لگی، پھر ان سے ذرا ذرا خون بہنا شروع ہوا۔ خُون چاٹتے اس کے لب رنگین ہو جاتے۔ میڈوسا جیسی بِکھری زُلفوں کے گُنجلک سانپوں سے بھرپُور اپنا بھاری سَر اُٹھا کر وہ میری طرف دیکھتی۔ اس کے عجیب و غریب انسان نما چہرے کے اثرات سے مَیں بتا نہ سکتا کہ وہ مُسکرا رہی ہے یا دانت کچکچا رہی ہے۔ اُس کا مُنہ اور نوکیلے دانت خونخوار لگتے تو سہی لیکن مُجھے کچا چبا جانے کی بجائے اس کی نیت میں کوئی اور فتور لگتا۔ آہستہ آہستہ وہ وقت بھی آیا جب میری ہتھیلیاں، پاؤں کے تلوے اور ایڑیاں اتنی نرم اور زُودحِسّ ہو گئیں کہ مَیں مضبوطی سے نہ کوئی سخت چیز تھام سکتا نہ اپنے پاؤں پر وزن ڈال کر کھڑا ہو سکتا۔‘‘’’آپ مُجھ سے پُوچھ رہے ہیں مَیں کون ہوں اور اس حالت تک کیسے پُہنچا؟ میرا نام مُراد خان ہے۔ میرا باپ بہرام خان آسٹریلیا میں لیجائے گئے افغان اونٹ بانوں کے ساتھ یہیں سے گیا تھا۔ میری ماں آسٹریلین ایبوریجنل تھی۔ بچپن سے ہی میرے باپ نے مُجھے اونٹوں اور گھوڑوں کی تربیت کرنا سکھایا تھا۔ ابھی پچھلے سال کی بات ہے۔ مَیں آسٹریلیا کی ریاست نیو ساؤتھ ویلز میں نو دس مختلف نسلوں کے مخلوطہ گھوڑوں کی افزائشِ نسل اور تربیت میں مصروف تھا ۔ حُکم ملا تو برٹش راج کے لیے مختص کیے گئے ویلر گھوڑوں کے ساتھ جہاز میں کلکتہ پہنچا جہاں ان گھوڑوں کو فوجی مقاصد کے لیے شمال مغربی محاذ پر استعمال کیا جانا تھا۔ انگریزی کے علاوہ ایک دو انڈین زبانیں بھی بول لینے کی وجہ سے مُجھے بنیادی تربیت کے بعد فوج میں بحیثیت پرائیویٹ افسر بھرتی کر دیا گیا۔ میری ذمہ داریوں میں نئے گھوڑوں کو سدھانا اور سپاہیوں کو گُھڑ سواری سکھاناشامل تھا۔ اس کام میں میری مہارت کی وجہ سے انگریز افسروں نے خوش ہو کر مُجھے ’’ہارس وِھسپَرَر‘‘ کا خطاب دے دیا۔ وحشی سرکش گھوڑے کی گردن کے گرد رسّے کا پھندا ڈالنا، اُسے دائروی حصار میں گھمانا، تھپ تھپانا، ورزش کرانے کے بعد اس کے اکڑے عُضلات کی مالش کرنا،اُس کی کھال کا کھریرا کرنا، گردن کے گرد جَپھی ڈال کر سر جوڑ کر سرگوشیاں کرنا، اس کے ماتھے سے ماتھا ٹیک کر اسے بہت جلد رام کر لینا انڈین سپاہیوں کے نزدیک کسی جادو سے کم نہیں تھا۔ مَیں انکی حیرانی نوٹ کرتا، مُسکراتا، اپنا کام جاری رکھتا۔کچھ ہفتوں کے بعد ہمارے دستے کو افغانستان کی سرحد کی طرف بھیج دیا گیا جہاں گھوڑ سواری، باربرادری کے علاوہ توپیں کھینچنے کا کام بھی میرے زیرِ نگرانی گھوڑوں اور اونٹوں کا تھا۔ کوہِ سفید کی برفانی ہواؤں سے ٹھٹھرتی قُرّم وادی سے جنرل رابرٹس کے ساتھ پیوار کوتل گُزرنے کی تفصیل کیا بتاؤں؟ مَیں ایک پرائیویٹ تھا۔ لڑائی میں مَیں نے کیا حصہ لینا تھا!جنرل رابرٹس کی ذاتی کمانڈ میں پہاڑ پر پیچھے سے چڑھ کر افغان مورچوں پر شبخون مارنا میرا نہیں گورکھے اور سِکھ سپاہیوں کا کام تھا۔ گھمسان کا رن پڑا۔ مُجھے نہیں معلوم کون جیتا۔ مَیں نیچےگھاٹی میں اپنے گھوڑے پر سوار تھا۔ بھٹکی ہوئی گولی ران میں لگ جانے سے میرے گھوڑے کا بدکنا، اسکی گردن سے میرابے اختیار لپٹنا، پہاڑی ڈھلوانوں پر اُگے گھنے درختوں سے گزرنا، میرے سَر اور سینے پر زخم لگنا، میلوں میل بے تاب گھوڑے کا دوڑنا، میرا بے ہوش ہو کر گر جانا، پتھریلی زمین پر بِکھری نرم برف میں نیم بےہوشی کا عالم، ہوش آنا کچھ کچھ یاد ہے۔ اگلے چند ہفتوں میں برف باری سےبوجھل پہاڑی گھاٹیوں پر اترنا چڑھنا، بیابان میں میلوں چلنا، جنگلی پھلوں سے بُھوک بہلانا، میری اُنگلیوں کے ناخن اور میرے پاؤں کی انگلیاں یخ اور سُن ہو کر جھڑ جانا پھر تھک کر میرا بار بار گِر جانا مُجھے کسی خواب کی طرح یادہے۔ کہ ایک رات شفاف اوبسیڈین آسمان میں ان گنت تاروں تلے برفیلی رات کسی نے مُجھے بہت آسانی سے اُٹھا کر بھری بوری کی طرح اپنے کندھے پر لادا تھا۔ کہ میرے زخموں سے شدید ٹیسیں اور مُنہ سے سسکیاں نکلی تھیں۔ لیکن رات کے اندھیرے میں وہ میلوں دُور مُجھے کیسے لے کر آئی اور پھر پہاڑ کی عمودی ڈھلوان پر کیسے چڑھی، یہ یاد نہ تھا۔مُجھے جب ہوش آیا تو اپنے آپ کو چاروں شانے چِت برہنہ حالت میں لیکن اُونی کھالوں سے ڈھکا پایا۔ اوپر کسی سوراخ سے آتی ہلکی روشنی سے غار میں ملگجا اندھیرا تھا۔ غار کے سنگی فرش پر میرے نیچے بھی بدبو دار اُونی کھالیں بِچھی تھیں۔ اِدھر اُدھر نیم تاریکی میں دیکھنے کی کچھ قوت بحال ہوئی۔ ایک طرف غار کے فرش پر اکٹھے ڈھیر کئے چند انسانی ڈھانچوں کی سفید ہڈیاں نمایاں ہوئیں تو میرا خون خُشک ہو گیا۔ مَیں نے ڈرتے ڈرتے اپنی آنکھیں اُٹھائیں۔ زمانۂ قدیم کے بن مانس اور جدید انسان کے درمیان کسی گمشدہ کڑی کی مانند وہ میرے سامنے کھڑی تھی۔ چہرے کے سوا اس کا سارا جسم سُرخی مائل بُھورے بالوں سے ڈھکا تھا۔ چہرے کے گرد پیچ در پیچ گھنے بالوں کا ہالا۔ اس کا قد زیادہ اُونچا نہیں تھا لیکن اس کی رُوئیں دار رانوں اور بازوؤں کی مچھلیوں سے اس کی بے پناہ طاقت اور چوڑی چکلی چھاتی پر نوکیلے تکونی اُبھاروں سے اس کے مادہ ہونے کا اندازہ لگایا جا سکتا تھا۔ مَیں اپنے صیاد کے رحم و کرم پر زندہ تھا۔ کہ وہ مُجھے زندہ رکھنا چاہتی تھی یہ تو مَیں سمجھ گیا جب اس نے میری بغلوں میں اپنے ہاتھ دے کر بآسانی مُجھے اُٹھا کر میرے پیچھے دیوار سے ٹیک لگا کر بٹھایا۔ غار کے اندر بہتے ایک گُنگُناتے چشمے سے لے کر اپنے ہاتھوں کے پیالے کے ذریعے میرے مُنہ میں پانی اُنڈیلا۔ چند جنگلی پھل کھلائے۔ لیکن کیوں مُجھے زندہ رکھ رہی ہے یہ سوال مُجھے بار بار تنگ کرتا۔ جب اس نے میرے زخموں کو چاٹنا شروع کیا تو مَیں سمجھا موت آ گئی، کہ خون پینے کے بعد اب وہ مُجھے کچا کھا جائے گی۔ لیکن اس کے چاٹنے سے جو مُجھے تسکین ملی، درد سے چُھٹکارا ہوا اس سے انکار مشکل تھا۔ میرے زخموں اور جسم کو صاف کرتی، اپنے دبیز ہونٹوں کو حرکت دیتے وہ کچھ نہ کچھ زیرِ لب بولتی جیسے کسی بچے سے بات کر رہی ہو لیکن لفظ آگے پیچھے ہوتے۔توتلا تلفظ ایسا جیسے اس کی مادری زبان غیر مُلکی ہو۔ کبھی ہسپانوی لفظ، کبھی اطالوی، کبھی یونانی، کبھی تُرکی کبھی فارسی لیکن بے ربط۔میرے ساتھ اس کا مجموعی سلوک خاصا مشفقانہ تھا۔ مُجھے اکیلا چھوڑ کر رات کو غار سے وہ نکل جاتی۔ صُبح سے پہلے واپس آتی تو اس کے ساتھ ایک تھیلا نما گٹھڑی میں مختلف پھل، جڑی بُوٹیاں ہوتیں۔ لیکن مُجھے فرار ہونے کا موقع نہ دینے کے علاوہ وہ چاہتی کیا تھی اس راز کی آگہی مُجھے کچھ ہفتوں کی قید کے بعد ہوئی جب میرے سر اور سینے کے زخم مندمل ہونے شروع ہوئے۔ اس نے غار کے سوراخ پر ایک بہت بھاری پتھر رکھا ہوا تھا جسے مَیں ہلا نہ سکتا۔ مُجھے بعد میں معلوم ہوا کہ پہاڑ کی عمودی ڈھلوان سے باہر نکلےایک چٹانی چھجے نے جھاڑیوں کے پیچھے پوشیدہ غار کے تنگ دہانے پر سایہ کیا ہوا تھا۔ اس سوراخ سے صرف رینگ کر گُزرا جا سکتا تھا۔ پتھر نہ بھی رکھتی تو غار سے نکل کر پہاڑ کی عمودی چٹان پر اترنا چڑھنا میرے بس کی بات نہ تھی۔ ٹُنڈ مُنڈ ہاتھوں پَیروں سے اپاہج، ویسے بھی مَیں کھڑا نہ ہو سکتا۔ اندر سے غار خاصا کشادہ تھا۔ غار کے فرش پر گُھٹنوں کُہنیوں کے بل رینگتا مَیں چشمے تک پہنچتا، پانی پیتا، اپنے آپ کو حتی الوسع صاف کرتا پھر واپس آ کر کھالوں کے اُسی بستر پر لیٹ جاتا۔ میری داڑھی مُونچھیں اور سر کے بال بے تحاشا بڑھ گئے۔ غار کے اندر بتدریج کم ہوتی سردی سے مَیں نے اندازہ لگایا کہ باہر بہار کا موسم آ گیا ہو گا۔اُس کی نرم ہتھیلیوں کی مالش اور پھر کھردری زبان سے تلوے چاٹنے سے میرے جسم میں عجیب وغریب سنسنی پیدا ہوتی۔ میرے پٹھے اور اعضا اینٹھتے۔ رگ رگ نس نس میں وحشت کا بارود مچلتا، پھٹنے کے لیے تیار ہو جاتا۔ میرا خودکار رَدِّعمل دیکھ کر اس کی باچھیں کِھلتیں۔ ملگجی تاریکی میں اس کے متوازی متناسب نوکیلے دانت چمکتے۔ آہستہ آہستہ میرے جسم کو چاٹتی وہ میرے سَر کی طرف آتی۔ میرے اوپر چھا جاتی۔ اس کی جلد پر اُگے گھنے رُوئیں میرے برہنہ جسم کا کھریرا کرتے۔ اس کی عجیب اجنبی بُو میرے احساسات کو آمادگی پر برانگیختہ کرتی۔ اس کا سانس تیز تیز چلنے لگتا۔ وہ غُراتی، کسی شکم پُر بِلّی کی طرح خُرخُر کرتی۔ کچھ اُس پر کچھ مُجھ پر وحشت طاری ہوتی۔ اس کے بڑھے ہوئے ناخن مُجھے نوچتے۔ خراشوں سے اُٹھتی ٹِیسیں خارش پیدا کرتیں۔ مَیں اس کُھجلی کو کُھجانا چاہتا مگر میرے بے اختیار ہاتھوں کی ٹُنڈ مُنڈ اُنگلیاں اسکی زُلفوں اور گردن کی پُشت پر اُگی گھنی ایّال میں اُلجھ کر رہ جاتیں۔ مَیں اُسے بھینچتا چاہتا۔ اس کے میڈوسا سَر کے لہراتے ریشمی سانپ کبھی ڈستے کبھی میری انگلیوں کو چُومتے۔اپنے تصور میں مَیں ایک سرکش بے لگام گھوڑا بن جاتا۔ اگلے پاؤں اُٹھا کر نتھنے پھیلا کر بتیسی نکال کر ہنہناتا۔ پچھاڑی مارتا۔ میرے سر اور دونوں گالوں جبڑوں پر بے تحاشہ اُگے بال اکڑ کر ایّال کی صورت کھڑے ہو جاتے۔ وہ میرے سُموں کو ایک ایک کر کے اُٹھاتی، اپنے لبوں کی آتشی میخوں سے ان پر آہنی نعل ٹھوکتی۔ جا بجا میری جِلد کو سُلگتے ہونٹوں سے داغتی۔ گھوڑے کے مُنہ میں اپنی روئیں دار تکونی لگاموں کا باری باری ایک پھر دوسرا نوکیلا بے خار دہانہ ٹھونس کر میری وحشت کو بھڑکاتی۔ اندھیرے میں اس کی آنکھیں انگاروں کی مانند دہکتیں۔ جب مَیں سیدھی سڑک پر سرپٹ دوڑنے کے لیے تیار ہو جاتا تو میری ایّال کو اپنے دونوں ہاتھوں کی گرفت میں باگ کی مانند کھینچ کر چھلانگ لگا کر مُجھ پر حاوی ہو جاتی۔ اُچھلتے کُودتے وحشی گھوڑے پر روڈیو سواری کرتی۔ بے چَین کلبلاتے سرسراتے لہراتے اژدہوں سے پُر اپنا میڈوسا سَر جھکا کر دہانہ چباتے مُنہ سے جھاگ بہاتے گھوڑے کے ماتھے سے ماتھا ٹیک کر اجنبی زبانوں میں سرگوشیاں کرتی۔ میری سرین کی رکابوں میں اپنے پاؤں کے پنجے پھنساتی۔ میری رانوں کے نیچے اپنی ایڑیوں سے میری بے چَینی کو مہمیز لگاتی۔ تیزی سے دھڑکتے میرے دل کے گرد پسلیوں کو اپنے گُھٹنوں کے درمیان زور سے دباتی۔ میری بے صبری کی باگ کو کھینچ کر رکھتی۔ لگام سے منسلک گھوڑا اور سوار دونوں ایک مشترکہ احساس کے دائرے میں گھومتے۔ بے خار دہانے باری باری چباتا ہنہناتا الف گھوڑا آزادی مانگتا، کُھلے میدان میں کُھلے آسمان کے نیچے کُھلی سیدھی دوڑ لگانا چاہتا۔ وہ بار بار ڈھیل دیتی پھر کھینچتی، سدھاتی۔ دُلکی چال چلنے پر رام کرتی۔ گھوڑے کی بے تابی کو اپنی ذات کے حصار میں محدود رکھتی۔ بالآخر اس دائروی دوڑ میں وحشت کا بارود پھٹ کر چنگاریوں کی صُورت پُھس ہو جاتا۔ پٹھا پٹھا مضطرب پھڑکتا ماس شانت ہو جاتا۔ پسینہ پسینہ پسلیاں ہانپتا گھوڑا اور پسینہ پسینہ سوار دونوں اکٹھے جیت جاتے!لیکن آخر کب تک یہ کھیل جاری رہتا؟ جب اس کے مَن کی مُراد پُوری ہو گئی تو اُس کا جنون بھی ختم ہو گیا۔ تب مُجھے سمجھ آئی کہ غار میں بکھرے انسانی ڈھانچے مجھ سے بھی زیادہ بدقسمت تھے۔ ایک ڈھلتی سہ پہر اس نے غار کے مُنہ سے پتھر ہٹایا اور مُجھے پیچھے آنے کا اشارہ کیا۔ مَیں رینگتا ہوا باہر نکلا۔ نیچے عمودی گہرائی دیکھی تو ڈر کر پیچھے ہٹا۔ اس نے مُجھے پیچھے اپنی کمر پر سوار کیا اورپہاڑ کی ڈھلوان سے نکلے کگر کناروں کنگنیوں کا سہارا لے کر نیچے اترنے لگی۔ چند ایک نشیب و فراز اُترنے چڑھنے کے بعد مُجھے ایک اونچے ٹیلے پر بٹھایا۔ وادی کے دوسری طرف ایک اور پہاڑ کے پیچھے غروب ہوتے سُورج کےبڑھتے سائے کے نیچے تاریک ہوتی جاتی وادی میں کسی بستی کے ٹمٹماتے چراغوں کی طرف اشارہ کیا۔ شفق کی روشنی میں پہلی بار مَیں نے اس کا چہرہ نظر بھر کر دیکھا۔ مَیں نے گھوڑے پالے ہیں۔ جاذب نظر یا خوبصورتی کا معیار کیسے بیان کروں! سُنا تھا کہ آنکھیں رُوح کا آئینہ ہوتی ہیں۔ شاید اُسے میری ذات سے اُنس ہو گیا تھا۔ کیوں کہ گھنی بھنوؤں کے چَھجے تلے غار نما اُن سُنہری آئینوں میں لبریز آنسو ایسے جھلملا رہے تھے جیسے کسی چِتا کی راکھ میں حُزن کے چٹختے کَھنگَر ۔ کیا آپ نے کسی گھوڑے کی آنکھوں پر لمبی خمیدہ پلکیں دیکھی ہیں؟ مَیں نے اس کی بُھوری پلکوں کے نیچے خُفتہ آتش فشانی عنبریں پُتلیوں پر گہری سوچ کےگھنیرے بادل اُمنڈ آئے دیکھے۔اُس نے جُھک کر میرےکندھوں پر اپنے دونوں ہاتھ رکھے۔ میرے ماتھے پر اپنا ماتھا ٹیک کر کسی اجنبی زبان میں الوداعی سرگوشی کی۔ اپنے یخ ہونٹوں سے میری پیشانی کو داغا اور مُڑ کر پہاڑ پر چڑھنا شروع کر دیا۔ جُوں جُوں وہ اوپر چڑھتی گئی، ڈوبتے سورج کی کرنیں اسکے بُھورے سُرخ جسم کا نُور افشاں تعاقب کرتی گئیں۔ مَیں اس کی ذات کے حصار سے نکل تو آیا تھا مگر نہ جانے کیوں میرے اردگرد لمبے ہوتے جاتے سایوں کے ساتھ ساتھ کسی بھاری پتھر سے دبتے جاتے میرے سِینےکے اندر بھی غار جیسی تاریکی پھیلتی گئی۔ کوہِ مُردار کی چوٹی پر پہنچ کر اس نےرُک کر چاروں اور گھوم کر ایک آخری نظر ڈالی۔ وہ اپنی نسل کی آخری مادہ تھی۔ کُجلاتے سورج کی نارنجی کِرنوں سے منور کسی ریگستانی سراب کی مانندلرزتے ہیولے کے پاؤں میرے بچے سے بھاری تھے۔ اس نے ایک لمحہ میری طرف آخری بار رُخ کیا، اپنا بازو اُٹھا کر دُور دراز شمالی اُفق پر برف پوش کوہِ سفید کی چوٹی کی سمت اشارہ کیا اور اُدھر اُتر گئی! شاید وہ مُجھے میرے بچے کے پیچھے آنے کی دعوت دے رہی تھی۔ لیکن مَیں کن پاؤں سے چل کر جاتا؟ کچھ باپ ایسے بدنصیب بھی ہوتے ہیں‘‘کمبل کے نیچے ہاتھوں پاؤں بازوؤں گُھٹنوں ٹانگوں پر بے شمار خون آلود پٹیاں بندھے آسٹریلین افغانی نے فوجی ڈاکٹر کے خَیمے میں ہنگامی کھاٹ پر لیٹے لیٹے ایک لمبی آہ بھری، ’’وہ جنگلی تھی، وحشی تھی لیکن مہربان بھی۔ اسے اپنی نوع کو برقرار رکھنے اور ماں بننے کا جنون تھا۔ مُجھے اُمید ہے، مستقبل کے انسان اُسے مَم کے نام سے یاد رکھیں گے!‘‘________🔴🔴غزل سیماں صوفی امریکہ سے سیف نیوز ادبی پوسٹ مالیگاؤں کے لیے بطور تحفہ _____قابل احترام نقاد حضرات کے نام کہ ہر تخلیق کار کے لیے اُس کی تخلیق اپنے بچے کی طرح پیاری ہوتی ہے مرے بگڑے ہوئے بچے کو بنالیں ناصحنشتر و تیغ و سِناں سے بھی بچالیں ناصحمیرا معصوم سا بچہ ہے بڑا نازک ساسخت لہجہ ،کڑی نظریں بھی ہٹالیں ناصحگر آپ اونچی ، کبھی آواز میں جو بات کریں وہ تو لرزے گا، ذرا پیار سے پالیں ناصحناسمجھ بھی ہے وہ بھولا سا، سراپا غافلنرم گفتار سے اس کو یوں سُدھاریں ناصحکہ سُدھر جائے ، آپ کی چاہت و نرمی سے وہاور زخمی بھی نہ ہو ، ایسے سنبھالیں ناصح *(سیماں صوفی) امریکہ*__________🔴غزل وزیر آغا ہم نے بھی ساری عمر کیا خود کو تار تاراپنے بدن میں صورتِ تلوار ہم بھی تھےدامن دریدہ تم ہی نہیں تھے فقط وہاںبے آبرو کھڑے سرِ بازار ہم بھی تھےاک لفظِ بے صدا کے رہے ہم بھی منتظرہاں اک نئے جنم کے طلبگار ہم بھی تھےکوہِ ندا کے سحر میں گم سارا شہر تھااور شہر کے فسوں میں گرفتار ہم بھی تھےکوزوں کے ساتھ بکھرے پڑے ہم بھی تھے وہاںاس شہرِ بے مثال کے آثار ہم بھی تھےڈاکٹر وزیر آغا

پنجاب کے سیلاب زدگان کے لیۓشہر بھر میں ریلیف کا نظم

*پنجاب کے سیلاب زدگان کے لیۓ
*شہر بھر میں ریلیف کا نظم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*آل انڈیا سنی جمیعتہ الاسلام ریلیف کمیٹی کی عوام الناس سے تعاون کی خصوصی اپیل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 *مالیگاؤں (پریس ریلیز) ریاست پنجاب اور اطراف کے علاقوں میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے آپ بخوبی واقف ہیں۔ اس موقع پر انسانیت کی خدمت ہم سب کا فرض اولین ہے۔

چنانچہ آل انڈیا سنی جمیعتہ الاسلام ریلیف کمیٹی کی جانب سے بروز جمعہ مورخہ 19 ،ستمبر 2025 کو شہر بھر کی مساجد نیز شہر کے مرکزی و نمایاں مقامات پر ریلیف کی وصولیابی کے مراکز ہوں گے۔*

*عامتہ المسلمین سے مودبانہ التماس ہے اس ریلیف میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ ایسی اپیل جانشینِ صوفئ ملّت صوفی نورالعین صابری ،الحاج عبد المجید نوری بکھار والا، ایڈوکیٹ خلیل احمد اشرفی کی جانب سے جاری کی گئی ہے۔**

*شہر کے مختلف مقامات پر مراکز ذیل کے مطابق ہوں گے۔*


1۔شبیر نگر سیلانی چوک۔ 
2۔۔ اگرہ روڈ ۔بس اسٹیشن کے سامنے
3۔۔ حاجی مصطفیٰ چوک ۔ رمضان پورہ 
4۔۔ رضا پورہ ۔ مفتی اعظم چوک
5۔۔60 فٹی روڈ انڈین ہوٹل 
6۔۔گاندھی نگر کپڑا مارکیٹ
7۔۔کسمباروڈ ، امدادی دواخانہ

Monday, 15 September 2025

مالیگاؤں کارپوریشن الیکشن 2017 میں تمام امیدواروں کو اپنے وارڈ میں کتنی ووٹ ملی مکمل تفصیل

مالیگاؤں کارپوریشن الیکشن 2017 میں تمام امیدواروں کو اپنے وارڈ میں کتنی ووٹ ملی مکمل تفصیل

Sunday, 14 September 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*

مسجدوں میں سرکاری سولار سسٹم لگا کر سیاسی استقبال کروایا جارہا ہے.


مسجدوں میں سولار کا سیزن آیا ہے 

شہر میر سچ میں الیکشن آیا ہے 

اب گھر سے ٹوپی پہن کر پھر نکلیں گے 
اب ہوگا مسجدوں ممبر کے پاس سیاسی استقبال ( کیا یہ مذہبی سہارا نہیں ) 

دوسروں پر مذہب کا سہارا اور اسکا الزام لگانے والے خود ایک بار پھر مسجدوں ،مدرسوں میں سیاسی استقبال کروائینگے.
یہ خود مسجدوں ،مدرسوں سے سولار کے نام پر پھر ایکبار سیاست کرینگے۔حالانکہ اسمبلی کی تاریخ رقم کرنے والی ہار کے بعد مساجدوں سے سولار نکلواکر واپس کروایا گیا تھا۔ مگر صحیح میں پھر سے الیکشن کی آمد آمد ہے اسی لئے سولار کے نام پر مسجدوں ،مدرسوں سے سیاست کی جائے گی۔ کیا یہ سیاست میں مذہبی سہارا نہیں ؟ 

ایکبار پھر سولار کے نام پر مسجدوں میں ممبر کے پاس دعائیہ مجلس ہوگی۔


اب بات آتی ہے جمعیت علماء سید ارشد مدنی کی ایماء پر وہ وقت یاد کرو کہ ماہ مبارک کے ایام میں شہریان سے اپیل کررہے تھے کہ چندہ جمعیت کو نہ دیں۔ یہاں دیں وہاں دیں مگر مدنی روڈ کو نہ دیں۔ مگر ایک بات یاد رکھیں جس شخص یا جس ادارہ کی جتنی مخالفت ہوتی ہے۔ حقیقت میں اسکی رقابت عوام میں بڑھتی ہے۔ 

ابھی تاریخی دن جو گذشتہ جمعہ 12ستمبر کا وہ دن جو سید ارشد مدنی کی ایماء پر جمعیت علماء مدنی روڈ کی جانب سے پنجاب ہریانہ کے بھیانک سیلاب کے متاثرین کی مالی امداد کیلئے مفتی صاحب کی آواز پر جمعیت علماء مدنی روڈ کی جانب سے پورے شہر بھر کی اکثریت مساجد میں اور دیگر سماجی گروپ ادارہ و نوجوانوں کی دلچشپی سے شہر بھر سے ریکارڈ توڑ ریلیف جمع ہوئی۔ جو پچھلے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ اور یہ بھی ایسے وقت میں ہوا جب سیاسی مخالفین جمعیت علماء کا کھل کر بائیکاٹ اور چندہ نہ دینے کی اپیل کرچکے ہیں۔ انہیں شہری جمعیت مدنی روڈ سے بیر ہے مگر آئے دن جمعیت کے خبری بن کر ممبئی جمعیت کے دفتر پر حاضری بھی لگاتے ہیں۔ 


اور آج اسی جمعیت پر بوگس ووٹ کا الزام اور جمعیت مدنی روڈ کے صدر پر بوگس ووٹ کا الزام لگاکر FIR درج کرانے کی مانگ کررہے ہیں جس جمعیت کے ممبئی کے صدر دفتر پر خبری بن کر ماتھا رگڑنے گئے ۔
انہیں شائد جمعیت کی تاریخی کارکردگی کا مطالعہ نہیں ہے۔ اسی لئے وہ نیند سے اٹھتے ہی روزآنہ ہار تازہ ہوجاتی اور اسے برداشت نہ کرنے کیلئے یہ کند ذہن بن جاتے ہیں ۔  
مسجد و مدرسوں میں سرکاری سولار لگواکر کہہ رہے ہیں کہ ہم سیاست میں مذہب استعمال نہیں کررہے ہیں
 بلکہ مذہب میں سیاست کا استعمال کررہے ہیں 
یاد رکھنا جس شخص نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے 2014 میں اسمبلی الیکشن سے پہلے مسلم ریزرویشن کے نام پر ملک کے مایا ناز علماء کا استعمال کیا 
یہ بول کر کہ یہ غیر سیاسی تحریک ہے 
اسمبلی الیکشن کے وقت مسلم ریزرویشن کی پد یاترا کی خوب ویڈیو اور تصویریں بتاکر ووٹ بٹوری گئی 
یاد رکھنا دوستوں 2014 سے پہلے جن لوگوں نے سابق آم۔۔۔ کو دیکھا ہونگا 
کہ پھولے ہوئے گال 
باہر نکلا ہوا پیٹ اور توند 
بھاری بھرکم جسم 
موٹے موٹے ہاتھ پیر 
اب وہ جسم کہاں گیا ؟
ہم بتاتے ہیں آپ لوگوں کو !
موٹاپا کم کرنے لئے ڈاکٹروں نے زیادہ سے زیادہ پیدل چلنے کے لئے کہا 
 
پھر کیا ہوگیا ڈرامہ شروع 

ملک کے اکابر علماء کرام کو مسلم ریزرویشن کے نام پر مالیگاؤں شہر بلایا گیا 
کہا گیا کہ یہ غیر سیاسی تحریک ہے ( یہ الگ بات ہے اسمبلی الیکشن کے وقت اپنی اوقات بتادی )
ڈاکٹروں کے مشورے سے موٹاپا کم کرنے کے لیے 
مالیگاؤں سے ممبئی پیدل یاترا نکالی گئی 
تھوڑا موٹاپا کم 
پھر مالیگاؤں سے ناشک تک 
اور کم
پھر اسکے بعد جامعتہ الصالحات سے شہیدوں کی یاد گار تک 
پورا کم
۔۔۔۔
مسجدوں مدرسوں کا بی جے پی سرکار سے سودا کرنے والے سابق آم۔۔۔ کو اسمبلی کے جیسا بتایا جائے گا۔ انشاء اللہ۔ وقت تو آنے دو عوام اب اولڈ ورجن میں نہیں جی رہی ہے۔ بلکہ نئی جنریشن نئی نسل نئے ورجن میں جی رہی ہے۔ 

انشا اللہ کارپوریشن الیکشن میں بھی عوام تمہیں سبق سکھائے گی ۔
کیا پاکستان بنے گا اسرائیل کا اگلا نشانہ؟ یو این میں ایسا کیا ہوا، عاصم منیر کے ملک کی بڑھ گئی پریشانی، جانئے

کیا اسرائیل اب پاکستان کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے؟ یہ سوال اس لیے اٹھایا جا رہا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں دونوں ممالک کے نمائندوں کے درمیان گرما گرم بحث ہوئی۔ اگرچہ اسرائیل اور پاکستان دونوں امریکہ کے قریب ہیں اور عام طور پر براہ راست محاذ آرائی سے گریز کرتے ہیں لیکن اس بار پاکستان نے خود ہی ایک تنازع کھڑا کر دیا۔ یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب قطر میں حماس کے رہنماؤں پر اسرائیلی حملے پر اقوام متحدہ میں بحث ہو رہی تھی۔

پاکستان کے نمائندے عاصم افتخار احمد نے اسرائیل پر “غیر قانونی اور جارحانہ اقدام” کا الزام لگایا اور کہا کہ یہ اس کے “ہمیشہ جارحانہ رویہ” کا حصہ ہے۔ انہوں نے اسرائیل پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی، غزہ میں وحشیانہ حملے اور شام، لبنان، ایران اور یمن میں حملے کرنے کا الزام لگایا۔

اسرائیل نے بھی دیا جواب
اس پر اسرائیلی نمائندے ڈینی ڈینن نے پاکستان کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ میرا مقصد آپ کو تکلیف پہنچانا نہیں بلکہ حقیقت بتانا ہے۔ مت بھولئے کہ القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن پاکستانی سرزمین پر چھپا تھا اور وہیں مارا گیا تھا ۔ سوال یہ نہیں تھا کہ امریکہ نے بیرونی سرزمین پر حملہ کیوں کیا بلکہ سوال یہ تھا کہ ایک دہشت گرد کو پناہ کیوں دی گئی؟

ڈینن نے مزید کہا کہ پاکستان تاریخ نہیں بدل سکتا۔ نائن الیون پاکستان میں نہیں ہوا لیکن اسامہ وہاں چھپا ہوا پایا گیا۔ جب امریکہ نے اسے مارا تو کسی نے احتجاج نہیں کیا۔ پھر اسرائیل پر الزام کیوں لگایا جاتا ہے

پھر پاکستان نے اسرائیل کو ‘قابض’ اور ‘جارح ملک’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم کا غلط استعمال کر رہا ہے۔ احمد نے کہا کہ “اسرائیل اپنی غیر قانونی سرگرمیوں کو چھپانے کے لیے دوسروں پر انگلیاں اٹھاتا ہے۔” اقوام متحدہ میں اس طرح کی بحث کے بعد پاکستان پر سفارتی دباؤ ضرور بڑھ گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اسرائیل براہ راست پاکستان کو نشانہ بنا سکتا ہے؟ ابھی اس کا امکان کافی کم ہے لیکن کبھی کسی نے قطر پر اسرائیل کے حملے کا سوچا بھی نہیں تھا۔
عمرخالد کی گرفتاری کے 5 سال مکمل ، ضمانت اورٹرائل کا دراز ہوتا انتظار

جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی اسٹوڈنٹ یونین کے سابق لیڈر عمر خالد کی گرفتاری کو پانچ برس پورے ہوگئے ہیں۔ انھیں 13ستمبر2020 کو دہلی فساد کے معاملے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ان کی گرفتاری انسداد دہشت گردی قانون(UAPA) کے تحت عمل میں آئی تھی۔

عمرخالدپر آئی پی سی کی مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کئے گئے ہیں ۔ ان کی ضمانت کی عرضی کو ٹرائل اور اپیل عدالتوں نے کم از کم چار بار مسترد کیا۔ ان میں حالیہ سماعت2 ستمبر کو تھی۔

سپریم کورٹ میں عمرخالد کی عرضی کو14بار ملتوی کیا گیاہے جس کے بعدانھوں نے اپنی عرضی واپس لے لی۔گزشتہ جمعے کے روز، سپریم کورٹ نے عمر خالد، شرجیل امام، گل فشاں فاطمہ، اور میران حیدر کی ضمانت کی درخواستوں کی سماعت19 ستمبر تک ملتوی کر دی

15 اپریل 2021 کودہلی کی ایک عدالت نے خالد کی ضمانت منظور کی تھی لیکن چونکہ ان پر دیگرالزامات ہیں لہذا وہ جیل میں ہی ہیں ۔12دسمبر2022کو، دہلی کی ایک عدالت نے خالد کو ان کی بہن کی شادی میں شرکت کے لیے23 دسمبر سے30 دسمبر تک عارضی ضمانت دی گئی تھی۔

خالد کی گرفتاری کی پانچ سال مکمل ہونے پر مشترکہ بیان میں، ایمنسٹی انٹرنیشنل، CIVICUS، انٹرنیشنل کمیشن آف جسٹس، انٹرنیشنل فیڈریشن فار ہیومن رائٹس، فورم ایشیا، فرنٹ لائن ڈیفنڈرز اور ورلڈ آرگنائزیشن اگینسٹ ٹارچر نے کہا کہ عمر خالد کی حراست ہندوستان میں انصاف کے پٹری سے اترنے کی ایک مثال ہے۔اس سے قبل، عمر خالد کی والدہ ڈاکٹر صبیحہ خانم نے کہا تھا کہ ان کا بیٹا اپنے لیے نہیں بلکہ قوم کے لیے جیل میں ہے۔

عمرخالد کی گرفتاری کے پانچ سال مکمل ہونے پر جے این یو اسٹوڈنٹس یونین کی طرف سے منعقدہ تقریب میں قاسم رسول الیاس نے شرکت کی۔اس موقع پرانھوں نے کہا کہ طویل قید نے ان کے بیٹے کی روح کو نہیں توڑا ہے۔انھوں نے کہا کہ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ عمر کو کوئی پچھتاوا نہیں ہے اور نہ ہی برسوں کی جیل نے اس کی روح کو توڑا ہے۔

*🔴سیف نیوز بلاگر*


برمنگھم کامن ویلتھ گیمز کی تمغہ جیتنے والی جیسمین لیمبوریا (۵۷؍ کلوگرام وزن کے زمرے ) اور نوپور (۸۰+ کلوگرام وزن کے زمرے ) ورلڈ باکسنگ چمپئن شپ کے فائنل میں پہنچ گئیں۔ جیسمین نے سیمی فائنل میں وینزویلا کی کیرولینا الکالا کو۰۔۵؍کے اسکور سے شکست دی۔ فائنل میں ان کا مقابلہ پولینڈ کی جولیا سے ہوگا۔ لیجنڈری حوا سنگھ کی پوتی نوپور نے ترکی کی سیما کو۰۔۵؍ سے شکست دی۔ اس سے قبل میناکشی ہڈا نے ہندوستان کے چوتھے تمغے کی تصدیق کی۔ وہ خواتین کے۴۸؍ کلوگرام وزن کے زمرے کے سیمی فائنل میں پہنچ گئی ہیں۔ میناکشی نے کوارٹر فائنل میں انڈر۱۹؍ ورلڈ چمپئن انگلینڈ کی ایلس پمپری کو شکست دی۔

میناکشی کا سفر سخت جدوجہد سے بھرا ہوا ہے 
ہریانہ کے روہتک ضلع کے راورکی گاؤں کی۲۴؍ سالہ میناکشی چار بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی ہے۔ اس کے والد آٹو رکشا چلاتے ہیں اور ماں گھریلو خاتون ہیں۔ ان کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کرنا پڑی۔ ذاتی کوچ وجے ہڈا نے ابتدائی طور پر خوراک، کٹ اور سفر کے اخراجات میں مدد کی۔ وہ اپنی اکیڈمی میں مفت تربیت دیتے ہیں۔ یہ میناکشی کے لیے پہلی عالمی چمپئن شپ ہے، جنہوں نے۲۰۲۲ء میں ایشیائی چمپئن شپ میں چاندی کا تمغہ جیتا تھا۔
۱۲؍برسوں میں پہلی بار مردوں کے زمرے میں ہاتھ خالی
۱۲؍برسوں میں یہ پہلا موقع ہے جب ہندوستانی مکے بازوں کو مردوں کے زمرے میں خالی ہاتھ لوٹنا پڑے گا۔ جادومنی سنگھ کا مقابلہ دفاعی عالمی چمپئن قزاخستان کے سنجیر تاشکنبے سے تھا، جس کے خلاف وہ۰۔۴؍ سے ہار گئے۔ جادومنی کی شکست کے ساتھ ہی یہ طے ہوگیا کہ ہندوستان کی۱۰؍ رکنی مردوں کی ٹیم کو اس بار کوئی تمغہ نہیں ملے گا۔ ایسا۲۰۱۳ء کے بعد پہلی بار ہوگا۔ لپ ٠ نے۲۰۲۳ء میں تاشقند میں ۳؍ کانسہ کے تمغے جیتے تھے۔ 
ہریانہ کے روہتک ضلع کے راورکی گاؤں کی۲۴؍ سالہ میناکشی چار بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی ہے۔ اس کے والد آٹو رکشا چلاتے ہیں اور ماں گھریلو خاتون ہیں۔ ان کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کرنا پڑی۔ ذاتی کوچ وجے ہڈا نے ابتدائی طور پر خوراک، کٹ اور سفر کے اخراجات میں مدد کی۔ وہ اپنی اکیڈمی میں مفت تربیت دیتے ہیں۔ یہ میناکشی کے لیے پہلی عالمی چمپئن شپ ہے، جنہوں نے۲۰۲۲ء میں ایشیائی چمپئن شپ میں چاندی کا تمغہ جیتا تھا۔
۱۲؍برسوں میں پہلی بار مردوں کے زمرے میں ہاتھ خالی
۱۲؍برسوں میں یہ پہلا موقع ہے جب ہندوستانی مکے بازوں کو مردوں کے زمرے میں خالی ہاتھ لوٹنا پڑے گا۔ جادومنی سنگھ کا مقابلہ دفاعی عالمی چمپئن قزاخستان کے سنجیر تاشکنبے سے تھا، جس کے خلاف وہ۰۔۴؍ سے ہار گئے۔ جادومنی کی شکست کے ساتھ ہی یہ طے ہوگیا کہ ہندوستان کی۱۰؍ رکنی مردوں کی ٹیم کو اس بار کوئی تمغہ نہیں ملے گا۔ ایسا۲۰۱۳ء کے بعد پہلی بار ہوگا۔ ہندوستان نے۲۰۲۳ء میں تاشقند میں ۳؍ کانسہ کے تمغے جیتے تھے۔
________:::🔴🔴
ساگر سرحدی ملک اور اردو کے قابل ڈرامہ نگار تھے:جاوید صدیقی
انھوں نے اِپٹا کے لیے ’بھگت سنگھ دی واپسی‘ اور’تنہائی‘جیسے ڈرامے لکھے 

ممبئی ۲۳ مارچ:(فرحان حنیف وارثی)ادب اور فلموں کے معروف قلمکار ساگر سرحدی کے سانحہ ارتحال پر ادبی اور فلمی حلقہ سوگوار ہے۔پرنٹ اور سوشل میڈیا میں انھیں تعزیت پیش کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔بالی ووڈ کے کامیاب مصنف،مکالمہ ،ڈرامہ اور خاکہ نویس جاوید صدیقی نے ساگر سرحدی سے وابستہ یادوں کو بیان کرتے ہوئے کہا:’ساگر سرحدی سے میں 1960ء میں ملا تھا ۔ہم دنوں میں ایک بات مشترک تھی ،وہ یہ کہ ہم دونوں کی فلموں اور ڈراموں سے وابستگی تھی۔دونوں ہی فلموں کی کہانیوں کے ساتھ ساتھ مکالمہ اور ڈرامہ نویسی میں متحرک تھے۔ بلاشبہ وہ ملک اور اردوزبان کے ایک بہترین اور قابل ڈرامہ نگار تھے۔میں اور وہ انڈین پیوپلس تھیئٹرایسوسی ایشن ( اِپٹا) سے بھی منسلک تھے۔‘
جاویدصدیقی بتاتے ہیں:’ سال 2008 ءمیں انھیں ڈراموں کے لیے ’غالب ایوارڈ‘ تفویض کیا گیا تھا۔’تنہائی‘ اور ’ بھگت سنگھ دی واپسی‘کا شمار اِپٹا کے کلاسیک ڈراموں میں ہوتا ہے۔جوہو میں واقع کیفی اعظمی صاحب کی رہائش گاہ جانکی کٹیر میں ساگر صاحب،میں اور فلم اندسٹری میں قدم جمانے کی کوششوں میں مصروف دیگر قلمکارجمع ہوتے تھے۔کیفی صاحب اور شوکت(اعظمی) آپاایک طرح سے ہمارے استاد تھے اور اپنے قیمتی مشوروں سے نواز کرتے تھے۔ان محفلوں میں ساگر صاحب کے بھانجےرمیش تلوار،بھرت کپور،میک موہن اور شمع زیدی بھی شریک ہوتی تھیں۔ادب اور شاعری پر گفتگو ہوتی تھی۔ساگر صاحب سے میں آخری مرتبہ 
لاک ڈاؤن سے پہلے ملا تھا۔وہ ڈپریشن میں تھے۔ان کی بینائی کمزور ہوگئی تھی۔‘
ساگر سرحدی نے اتوار21مارچ کوخاموشی سے اس دارِفانی کو الوداع کہا تھا۔وہ11مئی 1933ء کو پاکستان کے صوبے پختونخواہ(سابقہ صوبہ سرحد)کے شہر ایبٹ آباد کے بفا نامی قصبے میں تولد ہوئے تھے۔ملک کے بٹوارے کے بعدانھوں نے 12سال کی عمر میں اپنے خاندان کے ساتھ ہجرت کی اور دہلی میں سکونت اختیار کی۔بعد ازاں اپنے بڑے بھائی کے ساتھ ممبئی منتقل ہوگئے اورسائن کولی واڑہ کے سردار رفیوجی کیمپ میں پناہ گزیں ہوئے۔ان کا پیدائشی نام گنگا ساگر تلوار تھا۔وہ خالصہ کالج اور سینٹ زیویئرس کالج میں زیر تعلیم رہے۔پیر کی صبح انھیں سائن کی شمشان بھومی میں سپرد آتش کیا گیا۔ان کی پہچان افسانہ نگار،ڈرامہ نویس ،فلم ساز،ہدایت کار،مکالمہ نویس اور اسکرین پلے رائٹر کی تھی۔انھوں نے کبھی کبھی(1976)انکار( 1977)،دوسرا آدمی(1977)،نوری(1979)،سلسلہ(1981)،بازار(1982)،چاندنی(1989)،رنگ(11 1993)،فاصلے    
(1995)،زندگی(1996)،کرم یوگی(1998)،دیوانہ(1992)،کہو نا پیار ہے(2000)، ’کاروبار‘(2000) اورچوسر(2018)جیسی فلمیں لکھی ہیں۔وہ ’ بازار‘ (1982)اور ’ تیرے شہر میں ‘(1986)نامی فلموں کے ہدایت کار بھی تھے۔ان کے افسانوں کا مجموعہ’جیون جانور‘ کے نام سے چھپ چکا ہے۔ان کے تحریر کرددہ ڈراموں:بھگت سنگھ دی واپسی،بھوکا بھجن نہ ہوئے گوپالا،خیال کی دستک اور’راج دربار‘ کو کافی مقبولیت ملی تھی۔
___________🔴🔴🔴
“گھر اور مکان “
مالک کامکان ہو
یابھاڑےکامکان 
گھرنہ ہوتاسائیں 
مٹی گارےکامکان
لوگ جہاں 
بس جائیں سائیں 
 رشتے، پیار  
نبھائیں سائیں 
محل ہو یا جھونپڑا 
یا خالی مکان 
گھر نہ ہوتا سائیں 
مٹی گارے کا مکان 

گھر ہوتا ہے سائیں 
گھر میں بسنے 
والوں سے ، پیار 
اور ،سلوک سے ناکہ
دولت والوں سے 
سونے ، چاندی کے 
دروازے ہوں یا 
ہیرے موتی کے 
شیشےاور فانوس 
نلکے،ہینڈل باہر کے 
کھڑکیاں ، چھت اور 
دیواریں ،اونچی 
قسموں کی
پر بسنے والے موم ، مٹی 
اور گارے کے ہوں 
اونچے ، اونچے محل ہوں 
یا گارے ، مٹی کے مکان
گھر نئی بنتے سائیں 
مٹی ، گاڑے کے مکان 

کھڑکیوں ، درو ازوں سے 
شور، اور شرابوں ، سے 
چیخوں اور آوازوں سے
 پیار بناء گھر نہ ہوتا سائیں 
وہ تو ہوتا ہے مکان 
گھر نہ ہوتا سائیں 
مٹی گارے کا مکان 
🌷 سیماں صوفی امریکہ 🌷
__________
🌼غزل 🌼ورن آنند 
چاند، ستارے، پھول، پرندے، شام، سویرا ایک طرف
ساری دنیا اُس کا چربہ اُس کا چہرہ ایک طرف

وہ لڑ کر بھی سو جائے تو اُس کا ماتھا چوموں میں
اُس سے محبت ایک طرف ہے اُس سے جھگڑا ایک طرف

جس شے پر وہ اُنگلی رکھ دے اُس کو وہ دِلوانی ہے
اُس کی خوشیاں سب سے اوّل سستہ مہنگا ایک طرف

زخموں پر مرہم لگواؤ لیکن اُس کے ہاتھوں سے
چارہ سازی ایک طرف ہے اُس کا چُھونا ایک طرف

ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابہ ہے
سب کا کہنا ایک طرف ہے اُس کا کہنا ایک طرف

اُس نے ساری دنیا مانگی میں نے اُس کو مانگا ہے
اُس کے سپنے ایک طرف ہیں میرا سپنا ایک طرف

وَرُن آنند

*🔴سیف نیوز بلاگر*

دبئی اسٹیڈیم چھاونی میں تبدیل، ہند-پاک میچ میں ہائی سیکورٹی الرٹ، کس بات کا ہے اندیشہ، چپے چپے پر لگائی گئی ہائی ٹیک مشینیں
نئی دہلی : یہ پہلا موقع ہوگا جب شائقین کو ہندوستان – پاکستان میچ کے دوران اسٹیڈیم میں پوسٹر یا جھنڈے لے جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ سیلفی اسٹکس، بڑے کیمرے یا کسی بھی قسم کی آتش بازی کے بارے میں تو بھول ہی جائیے ۔ پولیس اور سیکورٹی اہلکار جانتے ہیں کہ کچھ بھی ہو سکتا ہے اور وہ کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتے۔ صبح سے ہی اسٹیڈیم کے اطراف میں سیکورٹی چوکیاں فعال کر دی گئی ہیں۔ تعینات سیکورٹی اہلکاروں کی تعداد کسی بھی دوسرے کھیل کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہوگی اور کوئی بھی خطرہ مول لینے کو تیار نہیں ہے۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک مقامی شخص نے اس کی وضاحت میں مدد کی، “دبئی کھیلوں کا ایک بین الاقوامی مقام ہے، ہم نے بہت سے ہائی پروفائل ایونٹس کی میزبانی کی ہے اور ہر تماشائی اور ہر کھلاڑی کی حفاظت کو یقینی بنانا ہمارا فرض ہے اور ہم ایسا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔”

جرمانہ بھی اور ضمانت بھی نہیں
پولیس نے پہلے ہی سیکورٹی بڑھا دی ہے۔ جرمانہ 5000 سے 30000 AED تک ہو سکتا ہے اور کسی بھی خلاف ورزی پر ملک بدری یا ایک سے تین ماہ تک قید ہو سکتی ہے۔ مختصراً، دبئی اسٹیڈیم کو آج رات کے میچ کے لیے ایک چھاونی میں تبدیل کر دیا جائے گا جس میں اضافی چیکنگ اور چھان بین کی جائے گی۔ تعینات پولیس علاقے میں گشت کرے گی اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

ہر طرف صرف سوال ہی سوال
میڈیا کے لیے بھی بہت سخت قوانین ہیں۔ کئی چیزیں نہیں کر سکتے ہیں اور خلاف ورزیوں کے نتیجے میں منظوری کی منسوخی ہو سکتی ہے۔ کئی سالوں سے ہندوستان اور پاکستان میچ ہوتے رہے ہیں، لیکن اس بار ماحول ایسا نہیں ہے کیونکہ تقریباً ہر کوئی تناؤ کا شکار ہے۔ کوئی کھل کر بات کرنے کو تیار نہیں اور یہی پریشانی اور تناؤ کی وجہ ہے
کھلاڑی جانتے ہیں کہ یہ ایک ایسا کھیل ہے جس میں کوئی شکست قبول نہیں کرے گا اور وہ اب تک خاموشی سے اپنا کام کرتے رہے ہیں۔ بس امید ہے کہ وہ آج رات بغیر کسی جذبات کے اپنا کام مکمل کر لیں گے۔ یہ کرکٹ میچ نہیں ہے، اس میں اور بھی بہت کچھ ہے اور یہ ہم میں سے ہر کوئی جانتا ہے۔
پاکستان میں سیلاب نے مچائی بھاری تباہی 97 لوگوں کی موت، 44 لاکھ سے زائد افراد متاثر

اسلام آباد: پاکستان کے مشرقی پنجاب صوبے میں سیلاب سے تقریباً 97 افراد ہلاک اور 44 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں ۔صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) نے یہ اطلاع دی ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے راوی، ستلج اور چناب میں پانی کی سطح بلند ہونے سے آنے والے سیلاب نے صوبے بھر کے ساڑھے چار ہزار سے زائد دیہات کو نقصان پہنچایا ہے۔ اتھارٹی نے کہا کہ جاری بچاؤ اور ریلیف آپریشنز کے تحت اب تک تقریباً 24.5 لاکھ لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ ژنہوا خبر رساں ایجنسی نے پی ڈی ایم اے کے حوالے سے بتایا کہ متاثرہ اضلاع میں کل 396 ریلیف کیمپ قائم کیے گئے ہیں، جبکہ تقریباً 1.9 ملین مویشیوں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 26 جون سے ملک بھر میں موسمی بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے کم از کم 956 افراد ہلاک اور 1,060 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ ملک بھر میں 8,400 سے زیادہ مکانات تباہ ہوئے ہیں یا انہیں نقصان پہنچا ہے۔ ساتھ ہی 6,500 سے زیادہ مویشی مر چکے ہیں۔ امدادی کارروائیاں جاری ہیں ۔حکام بے گھر کمیونٹیز کو پناہ گاہ، خوراک اور طبی امداد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ مزید نقصانات کو روکنے کے لیے کام کررہے ہیں۔
شہباز حکومت کا کیا ہے آنکڑا؟
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے جمعہ کو کہا کہ اس سال 26 جون سے شروع ہونے والی طوفانی بارشوں اور سیلاب سے کم از کم 884 افراد ہلاک، 1182 زخمی، 9،363 مکانات تباہ اور 6180 مویشی ہلاک ہو چکے ہیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے سیلاب کے بحران، مواصلاتی نظام میں شدید خلل اور انفراسٹرکچر کو بڑے پیمانے پر نقصان کے باعث پنجاب کے 9 حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات ملتوی کر دیے ہیں۔ حکام نے مزید بارشوں کی وارننگ جاری کر دی ہے جبکہ امدادی ٹیمیں چوکس ہیں اور متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔

ڈوبنے سے 10 افراد جاں بحق ہو گئے
اس سے قبل پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ریسکیو آپریشن کے دوران تین کشتیاں الٹنے سے بچوں سمیت کم از کم 10 سیلاب متاثرین ہلاک ہو گئے تھے۔ ایک عہدیدار نے جمعہ کو یہ اطلاع دی۔ پنجاب ایمرجنسی سروسز ریسکیو 1122 کے اہلکار کے مطابق جنوبی پنجاب میں بڑے پیمانے پر انخلاء کی کارروائیاں جاری ہیں کیونکہ سینکڑوں دیہات سیلابی پانی میں ڈوب گئے ہیں۔
اہلکار نے بتایا، ‘انخلا کے آپریشن کے دوران ملتان اور بہاولنگر کے قریب تین کشتیاں الٹ گئیں، جس کے نتیجے میں بچوں سمیت 10 سیلاب متاثرین ہلاک ہو گئے۔ تاہم، امدادی کارکنوں نے 40 دیگر کو ڈوبنے سے بچا لیا۔’
دہلی کے بعد بامبے ہائی کورٹ کوبھی بم سے اڑانے کی دھمکی، پولیس حرکت میں آئی


Back
وطن نامہ
FOLLOW US
SHARE
INSTALL APP
دہلی کے بعد بامبے ہائی کورٹ کوبھی بم سے اڑانے کی دھمکی، پولیس حرکت میں آئی
Bombay High Court Bomb Threat:بامبے ہائی کورٹ کو بھی بم سےاڑانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ جس کے بعد عدالت کےاحاطے کو خالی کرا لیا گیاہے۔
اشتہار

Last Updated : September 12, 2025, 2:11 pm IST
Published by : md abidreyaz
 بامبے ہائی کورٹ کو بم سے اڑانے کی دھمکیبامبے ہائی کورٹ کو بم سے اڑانے کی دھمکی
اشتہار

متعلقہ ویڈیو
Maharashtra News: نونیت رانا کی ضمانت عرضی پر 29 اپریل کو ہوگی سماعت
Maharashtra News: نونیت رانا کی ضمانت عرضی پر 29 اپریل کو ہوگی سماعت

Delhi News: جہانگیر پوری میں اسدالدین اویسی کو داخل ہونے سے روکا گیا
Delhi News: جہانگیر پوری میں اسدالدین اویسی کو داخل ہونے سے روکا گیا

دہلی ہائی کورٹ نے ایم پی انجینئر رشید کو پارلیمنٹ میں حاضری کے لیے حراستی پیرول دے دیا
دہلی ہائی کورٹ نے ایم پی انجینئر رشید کو پارلیمنٹ میں حاضری کے لیے حراستی پیرول دے دیا

Delhi-Noida School Bomb Threat : دہلی-نوئیڈا کےاسکولوں کو پھر سے بم سے نشانہ بنانے کی دھمکی
Delhi-Noida School Bomb Threat : دہلی-نوئیڈا کےاسکولوں کو پھر سے بم سے نشانہ بنانے کی دھمکی

Mumbai News: انل دیشمکھ اور نواب ملک کو نہیں ملی راحت، یہاں جانیں پورا معاملہ
Mumbai News: انل دیشمکھ اور نواب ملک کو نہیں ملی راحت، یہاں جانیں پورا معاملہ

Delhi High Court نے نظام الدین مرکز میں بنگلے والی مسجد کو کھولنے کی دی اجازت
Delhi High Court نے نظام الدین مرکز میں بنگلے والی مسجد کو کھولنے کی دی اجازت

Maharashtra News: نونیت رانا کی ضمانت عرضی پر 29 اپریل کو ہوگی سماعت
Maharashtra News: نونیت رانا کی ضمانت عرضی پر 29 اپریل کو ہوگی سماعت

Delhi News: جہانگیر پوری میں اسدالدین اویسی کو داخل ہونے سے روکا گیا
Delhi News: جہانگیر پوری میں اسدالدین اویسی کو داخل ہونے سے روکا گیا

دہلی ہائی کورٹ نے ایم پی انجینئر رشید کو پارلیمنٹ میں حاضری کے لیے حراستی پیرول دے دیا
دہلی ہائی کورٹ نے ایم پی انجینئر رشید کو پارلیمنٹ میں حاضری کے لیے حراستی پیرول دے دیا

Delhi-Noida School Bomb Threat : دہلی-نوئیڈا کےاسکولوں کو پھر سے بم سے نشانہ بنانے کی دھمکی
Delhi-Noida School Bomb Threat : دہلی-نوئیڈا کےاسکولوں کو پھر سے بم سے نشانہ بنانے کی دھمکی

دہلی ہائی کورٹ کے بعد اب بامبے ہائی کورٹ کو بھی بم سے اڑانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ دھمکی آمیز ای میل موصول ہونے کے بعد عدالت کے احاطے کو فوری طور پر خالی کرا لیا گیاہے۔ یہ اطلاع ملنے کے بعد پولیس کے ساتھ ساتھ دیگر سیکورٹی ایجنسیاں بھی الرٹ ہوگئیں۔ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور سرچ آپریشن شروع کردیا گیا۔ اس سے سماعت میں بھی خلل پڑا ہے۔

بامبے ہائی کورٹ کو بم سے اڑانے کی دھمکی بھی ای میل کے ذریعے دی گئی ۔ اس کے بعد احتیاط کے طور پر عدالت کے احاطے کو خالی کرا لیا گیا ۔ ججوں سے لے کر وکلاء اور شکایت کنندگان تک سب کو کورٹ کمپلیکس سے باہر لے جایا گیا ۔ عموماً بامبے ہائی کورٹ کی سیکورٹی بہت سخت ہوتی ہے۔ کسی بھی قسم کی مشکوک سرگرمی پر فوری کارروائی کی جاتی ہے۔ اس بار بھی ایسا ہی کیا گیا۔ پولیس کو ہائی کورٹ میں بم کی اطلاع ملتے ہی عدالت کے احاطے کو حفاظتی گھیرےمیں لے کر تلاشی شروع کر دی گئی

دہلی ہائی کورٹ کوبھی بم سے اڑانے کی دی گئی دھمکی
اس سے پہلے دہلی ہائی کورٹ میں تین بم نصب کیے جانے کے بارے میں دھمکی آمیز ای میل موصول ہوا۔ جس کے بعد سکیورٹی ادارے الرٹ ہوگئے۔ بم اسکواڈ بھی موقع پر پہنچ گیا۔ وہاں موجود ہر فرد کو عدالت کے احاطے کو سینیٹائز کرنے کے لیے نکلنے کی ہدایت کی گئی۔

عدالت کے احاطے میں بم نصب کیے جانے کی دھمکی آمیز ای میل موصول ہونے کے بعد جج، وکلاء، مدعی سبھی عدالتی احاطے سے باہر نکل گئے۔ اس سے سماعت کا عمل بھی متاثر ہوئی۔ اس کے ساتھ ہی عدالت کے اطراف سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ۔

سکیورٹی اہلکار حرکت میں آئے
دہلی ہائی کورٹ کو بم کی دھمکی ملنے کے بعد سیکورٹی ایجنسیاں اور پولیس حرکت میں آگئی۔ بم اسکواڈ اور فائر بریگیڈ کی ٹیم نے عدالت کے احاطے کے ہر کونے کی تلاشی لی۔ تاہم تحقیقات کے دوران دہلی ہائی کورٹ کے اندر کوئی مشکوک چیز یا کوئی دھماکہ خیز مواد نہیں ملا۔ ای میل کے ذریعے دی گئی دھمکی جعلی ثابت ہوئی۔ دہلی پولیس کی کئی ٹیمیں موقع پر موجود تھیں۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ اس سے قبل دہلی۔این سی آر کے کئی اسکولوں کو بم دھماکوں کی دھمکیاں بھی دی گئی تھیں، جو بعد میں فرضی ثابت ہوئیں۔ دہلی ہائی کورٹ کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہوا ہے۔

*🔴سیف نیوز بلاگر*

منیش پاٹل کا اکولہ کے ای سی پی کی حیثیت سے تبادلہ 
پرویز خان (پی کے )،طفیل فاروقی اور دوستوں نے مبارکباد پیش کی
بھیونڈی : (ڈیلی نیوز ):۲۰۱۹؍ میں بھیونڈی پولس میں ٹرانسفر ہو کر آئے منیش پاٹل گزشتہ دنوں اے سی پی کے عہدے پر ترقی پاکر اکولہ ٹرانسفر ہوئے۔اس خوشی کے موقع پر ان کے دوست احباب نے ان کو مبارکباد پیش کی اور ان کے بہتر مستقبل کے لئے دعائیں کی ۔
اس موقع پر اے سی پی منیش پاٹل نے کہا کہ ۲۰۱۹ تا ۲۰۲۵؁ء بھیونڈی کی عوام اور دوستوں سے انھیں جو پیار ملا وہ کبھی بھلایا نہیں جا سکتا ۔انھوں نے طفیل فاروقی اور پرویزخان (پی کے ) اور ان کے ساتھیوں کے پیار اور تعاون کا خصوصی طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کا پیار اور تعاون کبھی بھلایا نہیں جا سکتا ،وہ جہاں بھی ڈیوٹی پر رہیں اپنے دوستوں کو ضرور یا د رکھیں گے۔ساتھ ہی انھوں نے بھیونڈی کی عوام سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ اپنے فرض کی ادائیگی میں ان سے ہوسکتا ہے کہیں کوتاہی ہوئی ہو تو انھیں معاف کریں۔
 اس موقع پر طفیل فاروقی اور جناب پرویز خان (پی کے ) نے بھی اے سی پی شری منیش پاٹل کو ان کی ترقی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آپ جہاں بھی جائیں ،ایشور اللہ آپ کے ذریعے لوگوں کو حق اور انصاف دلانے کا کام کروائے اور لوگوں سے پیار اور میل ملاپ کے آپ کے جذبے اور کام کرنے کے طریقے کو مزید تقویت اور زندگی کے ہر مرحلے اور آزمائش میں آپ کامیاب رہیں یہی ہماری دعا ہے۔اس موقع پر پرویز خان (پی کے ) اور طفیل فاروقی نے شال اور گلدستہ پیش کیا ۔
اے سی پی شری منیش پاٹل نے سبھی کا شکریہ ادا کیا

حماس قیادت کا خاتمہ ضروری،نیتن یاہونے دی دھمکی، کہا یرغمالیوں کی رہائی کی راہ میں حماس بڑی رکاوٹ

قطرپراسرائیلی حملے ،حماس قیادت کوراہ سے ہٹانے کی کوشش میں ناکامی، عالمی برداری کی مذمت،دوحہ میں موساد کی زمینی کاروائی سے انکارکے انکشافات کے باوجود اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو پرکوئی اثرنہیں ہورہاہے۔ نیتن یاہو اپنے ایجنڈے پرقائم ہیں۔ وہ ہے حماس قیادت کا خاتمہ!

نیتن یاہونے سوشل میڈیا ایکس پراپنے پوسٹ میں لکھا ہے کہ قطر میں مقیم حماس قیادت کا خاتمہ یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ جنگ روکنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ کو دور کر دے گا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ قطر میں موجود حماس قیادت ،غزہ میں جنگ بندی کی کوششوں میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے۔

حملے کی عالمی برداری اورسلامتی کونسل نے شدید مذمت بھی کی۔حالانکہ سلامتی کونسل نے اسرائیل کا نام نہیں لیا ۔ ادھر، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے دوحہ میں حماس قیادت پرحملے کا موازنہ 11ستمبرحملے کے بعدامریکہ کے ردعمل سے کیا تھا ۔اسرائیل ٹائمز کے مطابق، ایک ویڈیو پیغام میں،نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل حماس کے لیڈروں کے خلاف کارروائی کرے گا وہ چاہے جہاں بھی ہوں۔

واضح رہے کہ 9 ستمبر کو،اسرائیلی فضائیہ نے قطر کی راجدھانی دوحہ میں حماس قیادت کونشانہ بنا کرحملہ کیا تھا۔ اسرائیل کے حملے میں6 افراد ہلاک ہوگئےتھے۔حماس کا دعوی ہے کہ اعلی قیادت محفوظ ہے ۔

موساد اورنیتن یاہو کے بھی اختلاف طشت از بام

اس بیچ امریکی روزنامے نے دعویٰ کیا ہے کہ دوحہ مں اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد نے حماس قیادت پر زمینی کارروائی کی مخالفت کی تھی جس کے بعدنیتن یاہو نے فضائی آپریشن کا فیصلہ کیا۔ رپورٹ میں عویٰ کیا گیا ہے کہ موساد، اسرائیلی آرمی چیف اور دیگر حکام نے دوحہ میں کارروائی کو قطر کے ساتھ تعلقات اور جنگ بندی مذاکرات کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔

موساد کے ڈائریکٹر ڈیوڈ بارنیا کا موقف تھا کہ اس طرح کی کارروائی سے قطر کے ساتھ تعلقات خراب ہو سکتے ہیں کیونکہ وہ حماس قیادت کی میزبانی کرنے کےساتھ ساتھ مصراورامریکہ کے ساتھ ثالث کا کردارادا کررہا ہے ۔جس پراسرائیلی وزیر دفاع یوآو کاٹز نے فضائی حملے کی تائید کیاور شین بیت کے تعاون سے آپریشن کو انجام دیا گیا۔
مارکو روبیو کا اسرائیل دورہ

قطرپرحملے کے بعد امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیواسرائیل دورے پر ہیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق،مارکو روبیو پیر کو یروشلم میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔نیتن یاہو سے ملاقات میں دوحہ پر حملے سے متعلق بات متوقع ہے۔ قطرپر حملے کے معاملے پرامریکی صدرٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے بیچ اختلافا ت پائے جاتے ہیں۔روبیو کایہ دورہ اسرائیل کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تنہائی کے تناظر میں حمایت کا مظہر ہے
امن اولین ترجیح ہے‘‘وزیراعظم مودی نے منی پورکی عوام سےآگے بڑھنے کی اپیل کی

امن اولین ترجیح ہے‘‘: وزیراعظم مودی نے منی پورکی عوام سےآگے بڑھنے کی اپیل کی
وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز منی پور کے لوگوں سے امن اور اتحاد کی اپیل کی اور زور دیا کہ ترقی استحکام، انصاف اور سچائی کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتی۔

 بیانات اس موقع پر دیے گئے جب وزیراعظم مودی نے 2023 میں شروع ہونے والی بدامنی کے بعد دو سال کے وقفے کے بعد منی پور کا اپنا پہلا دورہ کیا۔ انہوں نے چُراچند پور میں ایک عوامی تقریب سے خطاب کیا، جہاں انہوں نے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا۔

مودی نے منی پور کے لوگوں کو یقین دلایا کہ مرکز ان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے اور کہاکہ ’’میں تمام تنظیموں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ امن کے ساتھ آگے بڑھیں، اپنے خواب پورے کریں اور اپنے بچوں کے لیے بہتر مستقبل کو یقینی بنائیں۔‘‘ ریاست کے ماضی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا، “منی پور ، یہ سرزمین کبھی امید و آرزو کی علامت تھی، مگر یہاں تشدد نے بھی جگہ لی ہوئی تھی۔ کہیں بھی ترقی کے لیے امن ضروری ہے، ساتھ ہی سچائی اور انصاف بھی ضروری ہیں۔
وزیراعظم نے امپھال میں بھی ایک عوامی ریلی سے خطاب کیا اور کہا کہ منی پور وہ ریاست ہے جہاں مائیں اور بہنیں معاشی سرگرمیوں میں ہمیشہ آگے رہی ہیں۔ “میں خواتین کی طاقت کو بھارت کی ترقی اور خود انحصاری کی محرک قوت سمجھتا ہوں اور یہاں منی پور میں ہمیں اس کی حقیقی مثال ملتی ہے،”۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی حکومت نے خواتین کے لیے خصوصی ہاٹ بازار اور ‘ایما مارکیٹس’ کی تعمیر شروع کی’ اور وہ خوش ہیں کہ آج چار نئے ایما مارکیٹس کا افتتاح ہوا۔

وزیراعظم کا متاثرین سے ملاقات
دورے کے پہلے حصّے میں، انہوں نے چُراچند پور میں نسلی تشدد کے متاثرین سے ملاقات کی۔ متاثرین میں وہ اندرونِ ملک بے گھر خاندان شامل تھے جنہوں نے جھڑپوں میں اپنے گھروں کو کھو دیا تھا۔ چُراچند پور کے ‘پیس گراؤنڈ’ میں اپنی تقریر سے پہلے، انہوں نے بچوں سے ملاقات کی اور بچوں کی طرف سے دیے گئے گلدستے اور ایک پینٹنگ قبول کی۔ اسی ملاقات کے دوران ایک بچے کی طرف سے انہیں بطور تحفہ دی گئی روایتی پروں والی ٹوپی پہنائی بھی گئی۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ جو لوگ ریلیف کیمپوں میں رہ رہے ہیں، اُن سے مل کر انہیں یقین حاصل ہوا کہ منی پور میں امید اور اعتماد کی نئی کرن اب ابھرتی دکھائی دیتی ہے اور ترقی کے لیے امن ناگزیر ہے۔

یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا جب مئی 2023 سے شروع ہونے والی نسلی کشیدگی خصوصاً مییتی اور کُکی کمیونٹیز کے درمیان جھڑپوں کے دوران متعدد جانیں ضائع ہو چکی ہیں اور ہزاروں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ بین الاقوامی اور مقامی رپورٹس کے مطابق اس تنازعے میں سیکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں بے گھر ہوئے ہیں۔

وزیراعظم نے سڑکوں، بنیادی ڈھانچے اور خواتین کی فلاح و بہبود کے اسکیموں سمیت کل کروڑوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کے سنگِ بنیاد رکھے اور افتتاح کیے ، جن کی کُل مالیت کہا جا رہا ہے کہ کروڑوں روپے ( 7,300 کروڑ روپے کی بنیادیں اور اضافی منصوبے) کے برابر ہے۔ ان منصوبوں میں علاقائی کنیکٹیویٹی، روزگار اور کمیونٹی فلاح کے پروگرام شامل ہیں۔

منی پور کی موجودہ کشیدگی 3 مئی 2023 کے بعد سے جاری نسلی تصادم کا تسلسل ہے، جس میں بنیادی طور پر ویلی (وادی) کے اکثریتی مییتی برادری اور پہاڑی علاقوں کی کُکی-زو قبائل کے درمیان شدید جھڑپیں دیکھنے میں آئیں۔ تنازعے کی بنیادی وجوہات میں شناختی حقوق، مخصوص سماجی اور سیاسی مطالبات، اور بعض عدالتی فیصلوں کے خلاف ردِ عمل شامل رہے۔ رپورٹس میں یہ بھی شامل ہے کہ بعض مقامی رضاکارانہ یا عسکری گروپوں نے ہتھیار اور تشدد میں ملوث عناصر کے ذریعے تناؤ کو بھڑکانے میں کردار ادا کیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے واقعات کی نوعیت پر تشویش ظاہر کی ہے اور قتل، آتش زنی، جنسی تشدد اور بڑے پیمانے پر تباہی کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ اس بحران کے نتیجے میں سیکڑوں ہلاک اور دس ہزاروں لوگوں کی بے دخلی رپورٹ ہوئی ہے؛ مختلف ذرائع میں متاثرین کی تعداد اور ہلاکتوں کے اعدادشمارمیں تضادہے۔

*🔴سیف نیوز بلاگر*

آنکھوں میں اچانک سرخی آنے کی کیا وجوہات ہو سکتی ہیں؟ آنکھوں کو انسان کی شخصیت کا ہی نہیں بلکہ جسم کا بھی آئینہ کہ...