Sunday, 14 September 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*


برمنگھم کامن ویلتھ گیمز کی تمغہ جیتنے والی جیسمین لیمبوریا (۵۷؍ کلوگرام وزن کے زمرے ) اور نوپور (۸۰+ کلوگرام وزن کے زمرے ) ورلڈ باکسنگ چمپئن شپ کے فائنل میں پہنچ گئیں۔ جیسمین نے سیمی فائنل میں وینزویلا کی کیرولینا الکالا کو۰۔۵؍کے اسکور سے شکست دی۔ فائنل میں ان کا مقابلہ پولینڈ کی جولیا سے ہوگا۔ لیجنڈری حوا سنگھ کی پوتی نوپور نے ترکی کی سیما کو۰۔۵؍ سے شکست دی۔ اس سے قبل میناکشی ہڈا نے ہندوستان کے چوتھے تمغے کی تصدیق کی۔ وہ خواتین کے۴۸؍ کلوگرام وزن کے زمرے کے سیمی فائنل میں پہنچ گئی ہیں۔ میناکشی نے کوارٹر فائنل میں انڈر۱۹؍ ورلڈ چمپئن انگلینڈ کی ایلس پمپری کو شکست دی۔

میناکشی کا سفر سخت جدوجہد سے بھرا ہوا ہے 
ہریانہ کے روہتک ضلع کے راورکی گاؤں کی۲۴؍ سالہ میناکشی چار بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی ہے۔ اس کے والد آٹو رکشا چلاتے ہیں اور ماں گھریلو خاتون ہیں۔ ان کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کرنا پڑی۔ ذاتی کوچ وجے ہڈا نے ابتدائی طور پر خوراک، کٹ اور سفر کے اخراجات میں مدد کی۔ وہ اپنی اکیڈمی میں مفت تربیت دیتے ہیں۔ یہ میناکشی کے لیے پہلی عالمی چمپئن شپ ہے، جنہوں نے۲۰۲۲ء میں ایشیائی چمپئن شپ میں چاندی کا تمغہ جیتا تھا۔
۱۲؍برسوں میں پہلی بار مردوں کے زمرے میں ہاتھ خالی
۱۲؍برسوں میں یہ پہلا موقع ہے جب ہندوستانی مکے بازوں کو مردوں کے زمرے میں خالی ہاتھ لوٹنا پڑے گا۔ جادومنی سنگھ کا مقابلہ دفاعی عالمی چمپئن قزاخستان کے سنجیر تاشکنبے سے تھا، جس کے خلاف وہ۰۔۴؍ سے ہار گئے۔ جادومنی کی شکست کے ساتھ ہی یہ طے ہوگیا کہ ہندوستان کی۱۰؍ رکنی مردوں کی ٹیم کو اس بار کوئی تمغہ نہیں ملے گا۔ ایسا۲۰۱۳ء کے بعد پہلی بار ہوگا۔ لپ ٠ نے۲۰۲۳ء میں تاشقند میں ۳؍ کانسہ کے تمغے جیتے تھے۔ 
ہریانہ کے روہتک ضلع کے راورکی گاؤں کی۲۴؍ سالہ میناکشی چار بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی ہے۔ اس کے والد آٹو رکشا چلاتے ہیں اور ماں گھریلو خاتون ہیں۔ ان کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کرنا پڑی۔ ذاتی کوچ وجے ہڈا نے ابتدائی طور پر خوراک، کٹ اور سفر کے اخراجات میں مدد کی۔ وہ اپنی اکیڈمی میں مفت تربیت دیتے ہیں۔ یہ میناکشی کے لیے پہلی عالمی چمپئن شپ ہے، جنہوں نے۲۰۲۲ء میں ایشیائی چمپئن شپ میں چاندی کا تمغہ جیتا تھا۔
۱۲؍برسوں میں پہلی بار مردوں کے زمرے میں ہاتھ خالی
۱۲؍برسوں میں یہ پہلا موقع ہے جب ہندوستانی مکے بازوں کو مردوں کے زمرے میں خالی ہاتھ لوٹنا پڑے گا۔ جادومنی سنگھ کا مقابلہ دفاعی عالمی چمپئن قزاخستان کے سنجیر تاشکنبے سے تھا، جس کے خلاف وہ۰۔۴؍ سے ہار گئے۔ جادومنی کی شکست کے ساتھ ہی یہ طے ہوگیا کہ ہندوستان کی۱۰؍ رکنی مردوں کی ٹیم کو اس بار کوئی تمغہ نہیں ملے گا۔ ایسا۲۰۱۳ء کے بعد پہلی بار ہوگا۔ ہندوستان نے۲۰۲۳ء میں تاشقند میں ۳؍ کانسہ کے تمغے جیتے تھے۔
________:::🔴🔴
ساگر سرحدی ملک اور اردو کے قابل ڈرامہ نگار تھے:جاوید صدیقی
انھوں نے اِپٹا کے لیے ’بھگت سنگھ دی واپسی‘ اور’تنہائی‘جیسے ڈرامے لکھے 

ممبئی ۲۳ مارچ:(فرحان حنیف وارثی)ادب اور فلموں کے معروف قلمکار ساگر سرحدی کے سانحہ ارتحال پر ادبی اور فلمی حلقہ سوگوار ہے۔پرنٹ اور سوشل میڈیا میں انھیں تعزیت پیش کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔بالی ووڈ کے کامیاب مصنف،مکالمہ ،ڈرامہ اور خاکہ نویس جاوید صدیقی نے ساگر سرحدی سے وابستہ یادوں کو بیان کرتے ہوئے کہا:’ساگر سرحدی سے میں 1960ء میں ملا تھا ۔ہم دنوں میں ایک بات مشترک تھی ،وہ یہ کہ ہم دونوں کی فلموں اور ڈراموں سے وابستگی تھی۔دونوں ہی فلموں کی کہانیوں کے ساتھ ساتھ مکالمہ اور ڈرامہ نویسی میں متحرک تھے۔ بلاشبہ وہ ملک اور اردوزبان کے ایک بہترین اور قابل ڈرامہ نگار تھے۔میں اور وہ انڈین پیوپلس تھیئٹرایسوسی ایشن ( اِپٹا) سے بھی منسلک تھے۔‘
جاویدصدیقی بتاتے ہیں:’ سال 2008 ءمیں انھیں ڈراموں کے لیے ’غالب ایوارڈ‘ تفویض کیا گیا تھا۔’تنہائی‘ اور ’ بھگت سنگھ دی واپسی‘کا شمار اِپٹا کے کلاسیک ڈراموں میں ہوتا ہے۔جوہو میں واقع کیفی اعظمی صاحب کی رہائش گاہ جانکی کٹیر میں ساگر صاحب،میں اور فلم اندسٹری میں قدم جمانے کی کوششوں میں مصروف دیگر قلمکارجمع ہوتے تھے۔کیفی صاحب اور شوکت(اعظمی) آپاایک طرح سے ہمارے استاد تھے اور اپنے قیمتی مشوروں سے نواز کرتے تھے۔ان محفلوں میں ساگر صاحب کے بھانجےرمیش تلوار،بھرت کپور،میک موہن اور شمع زیدی بھی شریک ہوتی تھیں۔ادب اور شاعری پر گفتگو ہوتی تھی۔ساگر صاحب سے میں آخری مرتبہ 
لاک ڈاؤن سے پہلے ملا تھا۔وہ ڈپریشن میں تھے۔ان کی بینائی کمزور ہوگئی تھی۔‘
ساگر سرحدی نے اتوار21مارچ کوخاموشی سے اس دارِفانی کو الوداع کہا تھا۔وہ11مئی 1933ء کو پاکستان کے صوبے پختونخواہ(سابقہ صوبہ سرحد)کے شہر ایبٹ آباد کے بفا نامی قصبے میں تولد ہوئے تھے۔ملک کے بٹوارے کے بعدانھوں نے 12سال کی عمر میں اپنے خاندان کے ساتھ ہجرت کی اور دہلی میں سکونت اختیار کی۔بعد ازاں اپنے بڑے بھائی کے ساتھ ممبئی منتقل ہوگئے اورسائن کولی واڑہ کے سردار رفیوجی کیمپ میں پناہ گزیں ہوئے۔ان کا پیدائشی نام گنگا ساگر تلوار تھا۔وہ خالصہ کالج اور سینٹ زیویئرس کالج میں زیر تعلیم رہے۔پیر کی صبح انھیں سائن کی شمشان بھومی میں سپرد آتش کیا گیا۔ان کی پہچان افسانہ نگار،ڈرامہ نویس ،فلم ساز،ہدایت کار،مکالمہ نویس اور اسکرین پلے رائٹر کی تھی۔انھوں نے کبھی کبھی(1976)انکار( 1977)،دوسرا آدمی(1977)،نوری(1979)،سلسلہ(1981)،بازار(1982)،چاندنی(1989)،رنگ(11 1993)،فاصلے    
(1995)،زندگی(1996)،کرم یوگی(1998)،دیوانہ(1992)،کہو نا پیار ہے(2000)، ’کاروبار‘(2000) اورچوسر(2018)جیسی فلمیں لکھی ہیں۔وہ ’ بازار‘ (1982)اور ’ تیرے شہر میں ‘(1986)نامی فلموں کے ہدایت کار بھی تھے۔ان کے افسانوں کا مجموعہ’جیون جانور‘ کے نام سے چھپ چکا ہے۔ان کے تحریر کرددہ ڈراموں:بھگت سنگھ دی واپسی،بھوکا بھجن نہ ہوئے گوپالا،خیال کی دستک اور’راج دربار‘ کو کافی مقبولیت ملی تھی۔
___________🔴🔴🔴
“گھر اور مکان “
مالک کامکان ہو
یابھاڑےکامکان 
گھرنہ ہوتاسائیں 
مٹی گارےکامکان
لوگ جہاں 
بس جائیں سائیں 
 رشتے، پیار  
نبھائیں سائیں 
محل ہو یا جھونپڑا 
یا خالی مکان 
گھر نہ ہوتا سائیں 
مٹی گارے کا مکان 

گھر ہوتا ہے سائیں 
گھر میں بسنے 
والوں سے ، پیار 
اور ،سلوک سے ناکہ
دولت والوں سے 
سونے ، چاندی کے 
دروازے ہوں یا 
ہیرے موتی کے 
شیشےاور فانوس 
نلکے،ہینڈل باہر کے 
کھڑکیاں ، چھت اور 
دیواریں ،اونچی 
قسموں کی
پر بسنے والے موم ، مٹی 
اور گارے کے ہوں 
اونچے ، اونچے محل ہوں 
یا گارے ، مٹی کے مکان
گھر نئی بنتے سائیں 
مٹی ، گاڑے کے مکان 

کھڑکیوں ، درو ازوں سے 
شور، اور شرابوں ، سے 
چیخوں اور آوازوں سے
 پیار بناء گھر نہ ہوتا سائیں 
وہ تو ہوتا ہے مکان 
گھر نہ ہوتا سائیں 
مٹی گارے کا مکان 
🌷 سیماں صوفی امریکہ 🌷
__________
🌼غزل 🌼ورن آنند 
چاند، ستارے، پھول، پرندے، شام، سویرا ایک طرف
ساری دنیا اُس کا چربہ اُس کا چہرہ ایک طرف

وہ لڑ کر بھی سو جائے تو اُس کا ماتھا چوموں میں
اُس سے محبت ایک طرف ہے اُس سے جھگڑا ایک طرف

جس شے پر وہ اُنگلی رکھ دے اُس کو وہ دِلوانی ہے
اُس کی خوشیاں سب سے اوّل سستہ مہنگا ایک طرف

زخموں پر مرہم لگواؤ لیکن اُس کے ہاتھوں سے
چارہ سازی ایک طرف ہے اُس کا چُھونا ایک طرف

ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابہ ہے
سب کا کہنا ایک طرف ہے اُس کا کہنا ایک طرف

اُس نے ساری دنیا مانگی میں نے اُس کو مانگا ہے
اُس کے سپنے ایک طرف ہیں میرا سپنا ایک طرف

وَرُن آنند

*🛑سیف نیوز اُردو*

’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...