Tuesday, 23 September 2025
پی ایم مودی کا عوام کے نام کھلا خط۔ عوام کے نام ایک کھلے خط میں وزیر اعظم مودی نے کہا کہ جی ایس ٹی اصلاحات سے بچت میں اضافہ ہوگا اور سماج کے ہر طبقے کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔ پی ایم مودی نے کہا کہ `ترقی یافتہ ہندوستان کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے خود انحصاری کی راہ پر گامزن ہونے کی ضرورت ہے نریندر مودی۔ تصویر:پی ٹی آئیوزیر اعظم نریندر مودی نے گڈز اینڈ سروسیز ٹیکس (جی ایس ٹی )کی شرحوں کو کم کرنے پر کہا کہ جی ایس ٹی بچت اتسو نے ہر گھر میں تہوار کا ماحول لایا ہے۔ عوام کے نام ایک کھلے خط میں وزیر اعظم مودی نے کہا کہ جی ایس ٹی اصلاحات سے بچت میں اضافہ ہوگا اور سماج کے ہر طبقے کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔ پی ایم مودی نے کہا کہ `ترقی یافتہ ہندوستان کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے خود انحصاری کی راہ پر گامزن ہونا ضروری ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ جی ایس ٹی کی نئی اصلاحات ہمیں آگے لے جائیں گی، نظام کو آسان بنانے، شرحوں کو کم کرنے اور لوگوں کی بچت میں اضافہ کریں گے۔پی ایم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لیٹر کو شیئر کرتے ہوئے لکھاکہ ’’آئیے اس تہوار کے سیزن کو `جی ایس ٹی سیونگ فیسٹیول کے ساتھ نئے جوش اور جوش سے بھریں! نئی جی ایس ٹی شرحوں کا مطلب ہر گھر کے لیے زیادہ بچت کے ساتھ ساتھ تجارت اور کاروبار کے لیے بڑی راحت ہے۔‘‘جی ایس ٹی اصلاحات سے سماج کے ہر طبقے کو براہ راست فائدہ پہنچے گاپی ایم مودی کا عوام کے نام کھلا خط۔ عوام کے نام ایک کھلے خط میں وزیر اعظم مودی نے کہا کہ جی ایس ٹی اصلاحات سے بچت میں اضافہ ہوگا اور سماج کے ہر طبقے کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔ پی ایم مودی نے کہا کہ `ترقی یافتہ ہندوستان کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے خود انحصاری کی راہ پر گامزن ہونے کی ضرورت ہے۔نریندر مودی۔ تصویر:پی ٹی آئیوزیر اعظم نریندر مودی نے گڈز اینڈ سروسیز ٹیکس (جی ایس ٹی )کی شرحوں کو کم کرنے پر کہا کہ جی ایس ٹی بچت اتسو نے ہر گھر میں تہوار کا ماحول لایا ہے۔ عوام کے نام ایک کھلے خط میں وزیر اعظم مودی نے کہا کہ جی ایس ٹی اصلاحات سے بچت میں اضافہ ہوگا اور سماج کے ہر طبقے کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔ پی ایم مودی نے کہا کہ `ترقی یافتہ ہندوستان کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے خود انحصاری کی راہ پر گامزن ہونا ضروری ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ جی ایس ٹی کی نئی اصلاحات ہمیں آگے لے جائیں گی، نظام کو آسان بنانے، شرحوں کو کم کرنے اور لوگوں کی بچت میں اضافہ کریں گے۔ پی ایم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لیٹر کو شیئر کرتے ہوئے لکھاکہ ’’آئیے اس تہوار کے سیزن کو `جی ایس ٹی سیونگ فیسٹیول کے ساتھ نئے جوش اور جوش سے بھریں! نئی جی ایس ٹی شرحوں کا مطلب ہر گھر کے لیے زیادہ بچت کے ساتھ ساتھ تجارت اور کاروبار کے لیے بڑی راحت ہے۔‘‘وزیر اعظم مودی نے کہا کہ جی ایس ٹی اصلاحات ترقی اور سرمایہ کاری کو فروغ دیں گی، ہر ریاست اور خطے کی ترقی کو تیز کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگلی نسل کی جی ایس ٹی اصلاحات نے اپنی موجودگی کا احساس دلانا شروع کر دیا ہے، جس سے ملک بھر میں `جی ایس ٹی بچت فیسٹیول کا آغاز ہو رہا ہے۔ اس سے پہلے پیر کو اروناچل پردیش کے اپنے دورے کے دوران پی ایم مودی نے تاجروں اور دکانداروں سے بات چیت کی۔ حکمران اتحاد کے دیگر اراکین نے بھی ایسا ہی کیا۔ حکومت کو امید ہے کہ روزمرہ کے استعمال سے لے کر کاروں اور ٹیلی ویژن تک مختلف اشیاء کی قیمتوں میں کمی سے اس وقت ماحول میں مثبت تبدیلی آئے گی اور معیشت کو فروغ ملے گا۔ وزیر اعظم مودی نے جی ایس ٹی کی شرحوں میں کمی کے سلسلے میں پیر کو اخبارات میں شائع ہونے والی وسیع سرخیوں کا حوالہ دیا۔ بڑے ہندی اور انگریزی اخبارات کے صفحہ اول کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے پی ایم مودی نے ایکس پر لکھا کہ ’’مارکیٹ سے لے کر گھروں تک، جی ایس ٹی سیونگ فیسٹیول نے تہواروں میں خوشی لائی ہے۔ اس سے قیمتیں کم ہوں گی اور ہر گھر میں مسکراہٹ آئے گی۔‘‘ وزیر اعظم نے اتوار کو، نوراتری کے پہلے دن جی ایس ٹی کی نئی شرحوں کے نفاذ کے موقع پر قوم سے خطاب کیا۔_____________برائے عالمی افسانہ فورم ۲۰۲۴ءتعارف نام : عظمت اقبال محمد عثمان نام : عظمت اقبال رہائش : مالیگاؤں ، مہاراشٹر (انڈیا)پیشہ۔ مدرس تعلیمی لیاقت : ایم اے بی ایڈ (انگریزی)موبائیل نمبر : 9970666785ادبی سفر :مقامی و بیرونی اخبارات میں پچھلے چند برسوں سے مختلف موضوعات پر کالم شائع ہو رہے ہیں ۔ روزنامہ انقلاب ممبئی و دیگر اخبارات و رسائل میں اب تک ایک درجن سے زائد افسانے شائع ہو چکے ہیں۔ پریس فار پیس پبلیکین کے زیر نگرانی عالمی افسانہ نویسی مقابلہ ۲۰۲۳ء میں عالمی سطح پر افسانہ “ادھوری تخلیق” کو سوم مقام حاصل ہوا۔ شہر میں منعقد ہونے والی افسانوی نشستوں میں اپنی تخلیقات کے ساتھ متواتر شرکت رہتی ہے۔ قومی و بین الاقوامی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ادبی فورم مکی سرگرمیوں میں شمولیت جاری ہے۔ افسانہ مایا مائی لائف ! ۶-جنوری ۱۹۹۲ء -چند روز قبل خود کو نیند کی آغوش کے حوالے کرنے کےلئے رات دیر گئے جب پلکوں کو بند کئے بستر پر لیٹا تو کھڑکی سے کمرے میں جھانکتی چاند کی روشنی آنکھوں میں چبھنے لگی- کمرے کو مکمل اندھیرے میں ڈھک دیا- پلکیں بند کئے بستر پر لیٹا توکچھ ہی پلوں میں الگ الگ چہرے روشنی کے ہیولوں کی شکل میں سامنے آنے لگے- کچھ خوبصورت ،کچھ بہت خوبصورت تو کچھ انتہائی کریہہ ، بدصورت - یہ چہرے دیر تک میری صحبت کا حصہ رہے- اور تب سے یہ چہرے شب کی تنہائی میں میرے اردگرد جمگھٹ کی شکل میں اکٹھا ہوجاتے ہیں- اب تو ہمارے درمیاں شناسائی ہو گئی ہے- ہر شب ایک چہرہ مجھے اپنی داستاں سناتا ہے- خوبصورت چہروں کی داستاں بڑی کربناک ہوتی ہے- خوف زدہ کردینے والے چہروں کی کہانیاں نانی اماں کی کہانیوں کی طرح ہوتی ہے- کہانی ختم ہونے سے قبل ہی کسی پل میں اپنے وجود سے بے خبر ہو جاتا ہوں- ۱۲ جنوری۱۹۹۲ء۔ آج اس سے الگ ہوئے پورا ایک برس گزر گیا ہے۔ اس کے بغیر جینے کی ناکام کوشش کر رہا ہوں۔ ماضی کی ان کربناک یادوں کو لاشعور کی گہرائی میں دفن کر چکا ہوں۔ گزرتے وقت کے ساتھ روح پر لگے زخم ناسور ہوئے جا رہے ہیں۔۱۵جنوری ۱۹۹۲ء۔ آج ڈاکٹر نے آخری وارننگ دے دی۔ نشہ کرنا چھوڑ دو یا دوائی لینا بند کردو۔ ڈاکٹر جب کبھی ڈانٹنے کے انداز میں تنبیہ کرتا ہے تو مجھے ماں یاد آجاتی ہے۔ ایک ماں ہی تھی جو مجھے سمجھتی تھی۔ وہ بھی بچپن میں مجھے سخت دل باپ کے حوالے کر چلی گئی۔ دوسری ماں کا سلوک مجھ سے اچھا ہی رہا لیکن نا جانے کیوں وہ میرے لئے ہمیشہ سوتیلی ہی رہی۔ ۲۲ جنوری۔ ۱۹۹۲ء - روزانہ شام ہائی وے کے اس پار ٹیلے پر بیٹھا کرتا ہوں ۔ ٹیلے کے پچھلے حصے کو سوسائیڈ پوائنٹ کہا جاتا ہے۔ ٹیلے کے اس حصے میں سیدھی ڈھلان ہے جو گہرے تالاب میں جا کر ختم ہوتی ہے۔ زندگی سے مایوس لوگوں کو تالاب کا پرسکون پانی اپنی گہرائی میں سمو لیتا ہے۔ اکثر روح سے آزاد جسم تالاب میں موجود مچھلییوں کی غذا بن جاتے ہیں۔چند روز پہلے میں بھی اسی مقصد سے اس جگہ آیا تھا۔ جانے کونسی طاقت ہے جو انسان کو اپنے فیصلے بدلنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ مگر یہ طے ہے کہ میرا جسم کبھی نا کبھی ان آدم خور مچھلیوں کی غذا بنے گا۔پچھلے چند دنوں سے میں اس جگہ پابندی سے جاتا ہوں۔ ٹیلے کے مشرقی سمت میں رکھے بینچ پر بیٹھ کر نیچے شاہراہ پر آتی جاتی گاڑیوں کو دیکھنا اچھا لگتا ہے ۔ پھر جب سورج اپنی بوجھل کرنوں کو سمیٹ کر پلک بند کرلیتا ہے ۔ اور منظر سیاہی اوڑھنے لگتا ہے تو لوٹ آتا ہوں۔۲۷ جنوری -۱۹۹۲ء - آج شام ایک واقعہ پیش آیا ۔ آجج تھوڑی فاصلے پر رکھی بینچ پر ایک عورت کو بیٹھا پایا۔اکثر میری طرح تنہائی پسند لوگ وہاں آکر بیٹھا کرتے ہیں۔ مگر نا جانے کیوں اس عورت نے میرا دھیان اپنی جانب کھینچ لیا۔ مجھے محسوس ہوا وہ رو رہی ہے۔ پھر وہ اٹھی اور ٹیلے کے کنارے مشرقی حصے میں جا کر کھڑی ہوگئی۔ شاید وہ فیصلہ کر چکی ہے۔ زندگی کے کرب سے نجات کا، اپنی روح کو آزاد کرنے کا۔ میں اٹھ کر تیز قدموں سے چلتا ہوا اس کی جانب بڑھا۔ قدموں کی آہٹ سن کر وہ پیچھے مڑی۔ میں اس کے قریب جا کر کھڑا ہو گیا۔ اسے ہیلو کہا۔ وہیں کھڑے رہ کر کافی دیر ادھر ادھر کی باتیں کر کے اس کے ذہنی اضطراب کو پرسکون کرنے کی کوشش کی ۔ اپنی اس کوشش میں میں کامیاب رہا۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں اگر میں وہاں نا ہوتا تو وہ اس کی زندگی کی آخری شام ہوتی۔۳۰ جنوری ۱۹۹۲ء اس جگہ ہم روزانہ ملنے لگے ہیں۔ جب میں وہاں پہنچتا ہوں تو اسے بینچ پر بیٹھا ہوا پاتا ہوں۔ اس بیچ اس نے اپنے متعلق بہت کچھ نہیں بتایا۔ شاید اسے میری باتیں سننا اچھا لگتا ہے۔آج میں نےاسے والٹ وہائٹ مین اور ولیم ورڈس ورتھ کی پویٹری سنائی۔ وہ بڑے انہماک سے سنتی رہی۔۲- فروری ۱۹۹۲ء ۔ پچھلے دو روز سے وہ نہیں آئی۔ حالانکہ مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑنا چاہئے ۔ لیکن جانے کیوں عجب سی بے چینی محسوس ہو رہی ہے۔ مجھے خود پر غصہ آرہا ہے۔ مجھے اس سے کچھ تو بات کرنی چاہئے تھی۔ اس کے بارے میں جان لینا چاہئے تھا ۔ اس کانام ، پتہ ۔ شاید وہ کسی دوسرے شہر سے ہو ۔ وقتی طور پر یہاں آئی ہو اور اب واپس چلی گئی ہو۔۵ فروری -۱۹۹۲ء- آج جب میں ٹیلے پر پہنچا تو اسے بیٹھا ہوا پایا ۔ اسے دیکھ کر نہ جانے کیوں آنکھوں میں ٹھنڈک سے محسوس ہوئی۔ آج میں نے پہلی دفعہ اس سے دیر تک باتیں کی۔ اس کا نام مایا ہے۔اس کی پسند نا پسند مجھ سے بہت ملتی ہے۔ وہ بھی میری طرح تنہائی پسند ہے۔ اسے شاعری کے ساتھ مصوری کا بھی شغل ہے۔۷ فروری ۱۹۹۲ء-ہم میں قربت سی ہو گئی ہے۔ شام میں پابندی سے ملتے ہیں۔ میں نے اپنے اندر بہت سی تبدیلیاں محسوس کی ہیں۔ میری زندگی میں آنے والے یہ خوشگوار لمحے ماضی کے کرب پر حاوی ہو گئے ہیں۔ پرانے زخم بھرنے لگے ہیں۔ کافی عرصے بعد گہری نیند سونے لگا ہوں ۔ اب صحت میں کافی سدھار محسوس ہو رہا ہے۔ کاش وہ مجھ سے بہت پہلے ملی ہوتی۔ ہم اچھے دوست بن چکے ہیں ۔ کیا دوستی سے آگے بڑھ کر اس رشتے کو کوئی اور شکل دی جا سکتی ہے۔ فیصلہ حالات پر چھوڑ دیتے ہیں۔۱۰فروری- ۱۹۹۲ء-آج اس کی مسحور کن آنکھوں کی گہرائی میں خود کو مقید پایا ۔ آسمان ابر آلود تھا۔پراسرا ر ، کئی گہرے راز سے بھرا ہوا۔ ہوا سرگوشی کر رہی تھی۔ اس کے نازک لبوں کی کھنک میرے کانوں میں رس گھولتی رہی۔ میں اسے نیہارتا رہا ، نیہارتا رہا۔خیال آیا کہ اس دلفریب منظر کو قید کرلوں۔ عرصے بعد دل میں ایک تصویر بنانے کی خواہش جاگی۔ یہ میری جانب سے اس کے لئے ایک خوبصورت سا تحفہ ہوگا۔ اظہار محبت کا ماخذ ۔۱۲ فروری -۱۹۹۲ء۔ دو روز اس تصویر کو بنانے میں اپنے پورے ہنر کا استعمال کیا ۔ آج تصویر مکمل ہوگئی ہے ۔ مجھے صحیح وقت کا انتظار ہے جب میں اس تصویر کو اسے گفٹ کرونگا۔ مجھے یقین ہے وہ میر ے فن مصوری کی قائل ہو جائےگی۔ ڈیوڈ کی پرسنل ڈائری کا یہ آخری صفحہ تھا ۔ پچھلے ہفتے شام ڈھلے ، چہل قدمی سے واپس لوٹتے وقت ایک کار نے اسے پیچھے سے ٹکر ماردی ۔ ہاسپیٹل پہنچنے سے قبل ہی اس کی موت ہوگئی تھی۔ ڈیوڈ کمپنی میں میرا ہمعصر تھا۔ میں کمپنی کی تین رکنی اس کمیٹی کو لیڈ کر رہا تھا جو کمپنی کے ضروری کاغذات کی تلاش میں اس کے گھر آئی ہوئی تھی۔اس کا دور کا ایک رشتہ دار ہمارے ساتھ تھا اسی نے اس کی آخری رسومات ادا کی تھی۔ میں نے بے دلی سے ڈائری سوٹ کیس میں رکھی۔ اور دوسرے سامان کی طرف متوجہ ہوا ۔دراز کھول کر فائیلیں نکالنی شروع کی۔آخری فائیل دراز سے نکالی تو اس کے نیچے ایک اسکیچ نظر آیا ۔ اسکیچ میں ڈیویڈ کا چہرہ بڑا پرسکون نظر آرہا تھا ۔ ہاں مگر اس کی نیلی گہری آنکھوں میں غور سے دیکھنے پر میں نے کرب کی ایک لہر سی محسوس کی۔ زیر تصویرتحریر تھا “ مایا مائی لائف۔”۱۲ فروری ۱۹۹۲ء__________*مالیگاؤں کا درخشاں ستارہ سید خالد سید اکبر علی ممبئی میئر ایوارڈ سے سرفراز* ممبئی(راست) ۵ ستمبر یومِ اساتذہ کے موقع پر ہمارے ملک میں مقام سے لے کر مرکز تک درس و تدریس سے وابستہ اساتذۂ کرام کو ان کی منفرد و مثالی تعلیمی و تدریسی کوششوں کے اعتراف میں مثالی مدرس کا اعزاز دیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن کی روایت مستحکم رہی ہے۔ ہر سال بی ایم سی کی مختلف میڈیم کی پرائمری و سیکنڈری اسکولوں کے منتخب اساتذہ کو ایوارڈ دینے کا سلسلہ دراز ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق بی ایم سی کے محکمۂ تعلیم کی جانب سے ۲۰۲۵ کے میئر ایوارڈ کا اعلان ۲۵ اگست ۲۰۲۵ کو ایک پریس ریلیز کے ذریعے ظاہر کیا کیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں اعزازی تقریب کا انعقاد ۱۷ ستمبر ۲۰۲۵ کو پینگوئن (ہمبولٹ) ہال، بائیکلہ، ممبئی میں کیا گیا۔ جہاں منتخب ۵۰ اساتذہ کو ان خصوصی منفرد و مثالی کارکردگی کی بنیاد پر ایڈیشنل میونسپل کمشنر امیت سینی اور ڈپٹی میونسپل (ایجوکیشن ) کمشنر پراچی جامبیکر کے ہاتھوں میئر ایوارڈ، گیارہ ہزار روپئے، اعزازی میڈل، توصیفی نشان، سند، شال، ناریل اور فیتہ سے نوازا گیا۔ اس موقع پر ایجوکیشن آفیسر سجاتا کھرے، ڈپٹی ایجوکیشن آفیسر (سینٹرل) آفیسر کرتیوردھن کرت کڑوے، ڈپٹی ایجوکیشن آفیسر ممتا راؤ، ڈپٹی ایجوکیشن آفیسر مختار شاہ اور ڈپٹی ایجوکیشن آفیسر (سٹی) نثار خان موجود رہے۔ واضح رہے کہ امسال اردو کے چھ اساتذہ کو میئر ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا جن میں ایک اہم نام شہر عزیز مالیگاؤں کے سید خالد سید اکبر علی (میٹھا نگر میونسپل اردو اسکول) کا بھی ہے۔مالیگاؤں نیا آزادنگر کے ساکن سید خالد اپنی مٹی سونا ہے کے مصداق اپنی جڑوں سے منسلک رہتے ہوئے اپنی دیرینہ روایات کے مطابق ممبئی میں تدریسی خدمات کے ساتھ اساتذہ کے مختلف تربیتی کورسز میں ریاستی سطح تک رہنمایانہ کردار ادا کیا ہے نیز بال بھارتی پونہ کی اردو لسانی کمیٹی کے مجلس مشاورت کے رکن کی حیثیت سے بھی نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ تعلیمی شعبے میں متحرک اور فعال رہنے کے ساتھ آپ ممبئی کے معروف ادرہ کاوش سے بھی منسلک ہیں، شہر عزیز میں آل مالیگاؤں اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن(امسا) سے بھی منسلک رہے۔ سید خالد صاحب کو ممبئی میئر ایوارڈ ملنے پر مبارکباد پیش کی جاتی ہے۔____________ایک گلی کی بات تھی، اور گلی گلی گئی - غزلِ جون ایلیاحالتِ حال کے سبب، حالتِ حال ہی گئیشوق میں کچھ نہیں گیا، شوق کی زندگی گئیایک ہی حادثہ تو ہے، اور وہ یہ کہ آج تکبات نہیں کہی گئی، بات نہیں سنی گئیبعد بھی تیرے جانِ جاں، دل میں رہا عجب سماںیاد رہی تری یہاں، پھر تری یاد بھی گئیصحنِ خیالِ یار میں، کی نہ بسر شبِ فراقجب سے وہ چاندنہ گیا، جب سے وہ چاندنی گئیاس کے بدن کو دی نمود، ہم نے سخن میں اور پھراس کے بدن کے واسطے، ایک قبا بھی سی گئیاس کی امیدِ ناز کا، ہم سے یہ مان تھا کہ آپعمر گزار دیجیے، عمر گزار دی گئیاس کے وصال کے لیے، اپنے کمال کے لیےحالتِ دل کہ تھی خراب، اور خراب کی گئاس کی گلی سے اٹھ کے میں، آن پڑا تھا اپنے گھرایک گلی کی بات تھی، اور گلی گلی گئی______تمام اہلِ جنوں کے لبوں پہ جملہ ہےفقط تمہی نہیں بدلے زمانہ بدلا ہےجنہیں سمجھتی ہے آنسو وہ آنسو نہیں مرے جنازے پہ تیرا غرور پگھلا ہےعیاں ہوا ہے سرِ بام چاند سے پہلےتمہارا چہرہ! دوانوں کا بخت اُجلا ہےتمہارے ظلم و ستم کا کلیدِ جود و کرمزبانِ اہلِ خِرد پر عظیم ہَلّا ہےلئے ہوئے تھا جو تسبیح ہاتھ میں اپنےتمہاری دیکھ اداؤں کو وہ بھی پھسلا ہےتمہارے قدموں سے مہکا فراق کا موسم"نہ جانے آج کا سورج کدھر سے نکلا ہے"نیا سمجھتے ہیں انیٓس میرا وہ لہو ٹپکتا ہوا زخم سارا پچھلا ہے*~انیس عاصی مالیگانوی~*8055601835
*🛑سیف نیوز اُردو*
’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...
-
مالیگاؤں کارپوریشن الیکشن 2017 میں تمام امیدواروں کو اپنے وارڈ میں کتنی ووٹ ملی مکمل تفصیل