Tuesday, 30 September 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر *

سردار ہائی اسکول کی طالبہ کو مقابلہ حمد خوانی میں دوم انعام 
کلچرل کمیٹی آف مالیگاؤں کے زیراہتمام منعقدہ آل مالیکاوں انٹر ہائی اسکول جماعت ہشتم کے طلباء و طالبات کے درمیان مقابلہ حمد خوانی (سلسلہ نمبر ٣) رکھا گیا جس میں شہر عزیز مالیگاؤں کی ہائی اسکولوں سے تقریباً ٢٢ حمد خواں طلباء و طالبات نے شرکت کی- الحمدللہ ثم الحمدللہ! مقام مسرت ہے کہ سردار ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کی جماعت ہشتم اے کی طالبہ "سارہ صدف وسیم احمد" نے اپنی بہترین پیشکش، عمدہ تلفظ اور خوبصورت کلام کی بدولت جج صاحبان کو متاثر کیا اور "دوم انعام" کی حقدار قرار پائی اور ٹرافی، سند، کتابیں اور ڈھیر سارے گفٹ ہیمپرس اپنے نام کیے- انچارج ٹیچر کو بھی تحائف پیش کیے گئے- اس شاندار کارکردگی پر، پرنسپل ایوبی شاہد اختر سر نے انعام یافتہ طالبہ اور اس کے والدین سمیت اسٹاف ممبران کو بھی مبارکباد پیش کی ہے اور دعاؤں سے نوازا ہے- 
ش ن الف سردار ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج مالیگاؤں
*طلبہ کی حفاظت پر مہاراشٹر حکومت کا آن لائن سروے*

*اسکولوں میں بچوں کو جنسی ہراسانی سے بچاؤ کی بیداری مہم تیز*

از قلم: رضوی سلیم شہزاد، مالیگاؤں 
موبائل: 9130142313 

مہاراشٹر اسٹیٹ اسکول ایجوکیشن اینڈ اسپورٹس ڈپارٹمنٹ کی جانب سے رواں تعلیمی سال میں کیے گئے اسکولی سروے کے نتائج نے واضح کیا ہے کہ طلبہ و طالبات کی حفاظت اور تحفظ کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔ سروے میں یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ بیشتر اسکولوں نے طلبہ کی جسمانی، ذہنی اور آن لائن حفاظت کے لیے مؤثر اقدامات کیے ہیں۔ سروے کے مطابق اسکولوں میں اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کو POCSO ایکٹ 2012 کے تحت بچوں کو جنسی جرائم سے بچانے سے متعلق قوانین سے واقف کرایا گیا ہے۔ اسی طرح طلبہ کو گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ کی تربیت دی جا رہی ہے تاکہ وہ بروقت کسی بھی غلط رویے کی نشاندہی کر سکیں۔
اس ضمن میں شکایت درج کرنے کے نئے راستے جیسے چائلڈ ہیلپ لائن نمبر 1098 سے رابطہ، پاکسو ای-باکس اور چِراگ ایپ کے علاوہ اسکولوں میں نصب شکایت بکس کے ذریعہ اپنی بات یا شکایات رکھ سکتے ہیں۔ ساتھ ہی اسکولی سطح پر سکھی ساوتری کمیٹی، خواتین شکایت کمیٹی، اور اسٹوڈنٹس سیفٹی اینڈ سیکیورٹی کمیٹی کو بھی فعال کیا جارہا ہے۔ ان کمیٹیوں کی ماہانہ میٹنگس اور رپورٹس سے شفافیت کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

*اسکولوں میں جدید حفاظتی انتظامات*
سروے کے مطابق اسکول کے احاطے میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جانا اور ان کی فوٹیج کا باقاعدہ معائنہ کئے جانے کو یقینی بنانے کی بات کہی گئی ہے۔ اسی طرح غیر مجاز افراد کے اسکولی احاطے، بلڈنگ یا برآمدے میں غیر ضروری داخلے پر مکمل پابندی عائد کرنا، طلبہ کی روزانہ حاضری کے سخت نظام کے تحت والدین کو غیر حاضری پر فوری طور پر مطلع کیا جانا شامل ہے۔لڑکیوں کے لیے سینیٹری نیپکن مشین کی تنصیب، نمائندہ طالبات کے ذریعہ بیت الخلاء کی نگرانی جیسے اقدامات شروع کرنے کی بابت اسکولوں کو ہدایات دی جارہی ہیں۔

*انٹرنیٹ اور آن لائن دنیا میں طلبہ کی حفاظت کو یقینی بنانا:*
چونکہ طلبہ کی بڑی تعداد اب انٹرنیٹ استعمال کرتی ہے اس لیے والدین اور طلبہ کو آن لائن فشنگ، پرائیویسی اور سوشل میڈیا خطرات سے آگاہ کرنے کے لیے بیداری سیشن منعقد کرنے کی ہدایات اسکولوں کو دی جارہی ہیں۔ اس کے لیے متعلقہ پولس اسٹیشن سے سائبر ایکسپرٹ کو مدعو کرکے طلباء و طالبات کو اس بات سے آگاہ کرایا جانا ہے کہ وہ کسی اجنبی کے ساتھ اپنی معلومات یا تصاویر شیئر نہ کریں۔

*طلبہ کی سیفٹی اور سیکیورٹی سے متعلق والدین اور اساتذہ کی مشترکہ ذمہ داری:*
ماہرین کے مطابق بچوں کی خاموشی سب سے بڑا اشارہ ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے رویے میں آنے والی تبدیلیوں پر نظر رکھیں اور انہیں یہ اعتماد دیں کہ وہ بلا جھجک اپنی بات والدین یا استاد سے کہہ سکیں۔ اساتذہ پر بھی لازم ہے کہ وہ محض پڑھانے تک محدود نہ رہیں بلکہ بچوں کے محافظ اور رہنما بھی بنیں۔
یہ حقیقت خوش آئند ہے کہ ریاستی حکومت نے بچوں کی حفاظت کو صرف رسمی کاروائی نہیں رہنے دیا بلکہ اس کو عملی اقدامات میں ڈھالا ہے۔ تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ بیداری کی یہ مہم صرف اسکولوں تک محدود نہ رہے بلکہ والدین، سماجی اداروں اور میڈیا کو بھی اس میں شراکت دار بنایا جائے۔ چائلڈ ابیوز ایک سنگین مسئلہ ہے جس سے صرف قانون نہیں بلکہ پورا سماج مل کر ہی نمٹ سکتا ہے۔ آج ضرورت ہے کہ بچوں کو محفوظ ماحول دینے کے لیے ہر شخص اپنی ذمہ داری محسوس کرے تاکہ آنے والی نسلیں خوف کے بجائے اعتماد کے ساتھ تعلیم و تربیت حاصل کر سکیں۔
***
*یورک ایسڈ کا بڑھ جانا ایک تکلیف دہ بیماری اور متبادل طریقہ علاج*


📌 *یورک ایسڈ کیا ہے؟*

یورک ایسڈ ایک کیمیائی مادہ ہے جو جسم میں Purines (جو کھانے پینے میں پائے جاتے ہیں) کے ٹوٹنے سے بنتا ہے۔

عام طور پر یہ گردوں کے ذریعے پیشاب کے ساتھ باہر نکل جاتا ہے۔

لیکن اگر یورک ایسڈ زیادہ بنے یا گردے اسے صحیح طریقے سے نہ نکال سکیں تو یہ خون میں بڑھ جاتا ہے، جسے Hyperuricemia کہتے ہیں۔

⚠️ *یورک ایسڈ بڑھنے کی وجوہات*

زیادہ گوشت، کلیجی، سمندری خوراک، دالیں، چنے، مٹر وغیرہ کا استعمال

الکحل اور کولڈ ڈرنکس

موٹاپا اور شوگر

گردوں کی کمزوری

کم پانی پینا

موروثی وجہ بھی ہو سکتی ہے۔

🤕 *علامات*

جوڑوں میں درد اور سوجن (خاص طور پر پاؤں کے انگوٹھے میں – گاؤٹ کی بیماری)

ہاتھ پاؤں میں اکڑاہٹ

ہلکی بخار جیسا احساس

گردوں میں پتھری بن جانا

🌿 *ہومیوپیتھی علاج*

ہومیوپیتھی میں علاج مریض کی علامات کے مطابق ہوتا ہے۔ چند مشہور اور مؤثر ادویات درج ذیل ہیں:

1. Colchicum 30 / 200

گاؤٹ (پاؤں کے انگوٹھے کا سوج جانا، سخت درد)

تھوڑا سا چھونے سے بھی تکلیف بڑھ جائے

2. Lycopodium 200

گردوں کی پتھری کے ساتھ یورک ایسڈ

شام کے وقت زیادہ تکلیف

گیس اور بدہضمی کے ساتھ

3. Benzoic Acid 30

یورک ایسڈ کی وجہ سے پیشاب میں شدید بدبو

گہرے رنگ کا پیشاب

جوڑوں میں درد

4. Urtica Urens Q (Mother Tincture)

یورک ایسڈ کے اخراج میں مددگار

گردے صاف کرنے والی دوا

5. Ledum Pal 200

اگر درد پاؤں کے نچلے حصے اور ٹخنوں میں زیادہ ہو

🥗 *گھریلو تدابیر*

زیادہ پانی پئیں 💧

سبزیاں، پھل (خاص طور پر چیری، سیب، اسٹرابیری، کیلا) استعمال کریں

گوشت، دالیں، کولڈ ڈرنکس، الکحل سے پرہیز

وزن کنٹرول کریں

ہلکی ورزش کریں 🚶

🩺 *روزانہ کا ہومیوپیتھک علاج*

(یہ عمومی رہنمائی ہے، علامات کے مطابق دوا بدلی بھی جا سکتی ہے دوا ہمیشہ اپنے قریبی ہومیوپیتھک ڈاکٹر کے مشورے سے لیں )

*صبح (ناشتہ سے پہلے)*

Urtica Urens Q (Mother Tincture) → 
10قطرے آدھے کپ پانی میں

مقصد: یورک ایسڈ کو گردوں کے ذریعے نکالنے میں مدد

*دوپہر*
Benzoic Acid 30 →
دو قطرے 

مقصد: یورک ایسڈ کے اخراج اور بدبو دار پیشاب میں بہتری


*شام*
Colchicum 30 → 
دو قطرہ 

مقصد: گاؤٹ / جوڑوں کے درد میں آرام

*رات (سونے سے پہلے)*

Lycopodium 200 →  
ہفتے میں دو بار دو قطرہ 

مقصد: گردوں کی کمزوری، گیس، اور یورک ایسڈ کا علاج

(اگر ٹخنوں یا پاؤں کے نچلے حصے میں زیادہ درد ہو تو Ledum Pal 200 ہفتے میں 2 بار دی جا سکتی ہے)

🥗 *غذائی پلان (Daily Diet Plan)*

*صبح (ناشتہ)*

✅ دلیہ (Oats / جو کا دلیہ)
✅ دودھ یا دہی
✅ سیب / کیلا

*دوپہر (Lunch)*

✅ سبز سبزیاں (توری، لوکی، بھنڈی، گوبھی وغیرہ)
✅ 2 چپاتی (گندم یا جو کے آٹے کی)
✅ سلاد (کھیرا، گاجر، مولی)
✅ دہی

*شام (Snack)*

✅ مٹھی بھر بادام یا اخروٹ (بھگو کر کھائیں)
✅ تازہ پھلوں کا رس (بغیر چینی کے)

*رات (Dinner)*

✅ ہلکی سبزی یا دالِ مونگ (چنے یا ماش کی دال منع ہے)
✅ 2 چپاتی
✅ سلاد

*سونے سے پہلے*

✅ نیم گرم دودھ (اگر ہضم ہو جائے تو)

❌ *پرہیز*

گوشت، کلیجی، سمندری خوراک

مٹر، چنے، راجما، بھنے چنے

کولڈ ڈرنکس، بازاری جوس

زیادہ چائے اور کافی

زیادہ تیل اور فرائی

✅ *اضافی ہدایات*

دن میں کم از کم 8 سے 10 گلاس پانی پئیں 💧

روزانہ 20–30 منٹ ہلکی ورزش یا واک 🚶

وزن قابو میں رکھیں

اگر درد زیادہ ہو تو affected حصہ گرم پانی کی بوتل یا نمک والے نیم گرم پانی سے سکائی کریں.

*حافظ انیس اظہر*
*9511767376*
منصورہ انجینئرنگ کالج میں نئے تعلیمی سال کے آغاز پر شاندار استقبالیہ تقریب

روزگار،تعمیرو ترقی اور خدمت خلق کابہترین ذریعہ ہے شعبہ انجینئرنگ:راشد مختار( سیکریٹری، جامعہ محمدیہ)

مالیگاؤں(پریس ریلیز)جامعہ محمدیہ ایجوکیشن سوسائٹی کے زیر اہتمام مولانا مختار احمد ندوی ٹیکنیکل کیمپس میں انجینئرنگ ڈگری کورسیس کے نئے تعلیمی سال کے آغاز پر سالِ اوّل میں داخل ہونے والے طلبہ کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب گزشتہ روز شاندار انداز میں منعقد کی گئی۔ اس موقع پر گزشتہ سال اول میں امتیازی نمبرات حاصل کرنے والے طلبہ کو ٹرافی اور توصیفی اسناد سے نوازا گیا۔ اس تقریب میں طلبہ کے والدین کو بھی خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا۔ پروگرام کا آغاز پروفیسر صدیقی محسن کی تلاوتِ قرآن مجید مع ترجمہ سے ہوا۔

جامعہ محمدیہ کے سکریٹری جناب راشد مختار نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج انسانی زندگی کے ہر شعبۂ حیات میں انجینئرنگ اپنی نمایاں خدمات انجام دے رہی ہے۔ اگر ہم میڈیکل سائنسز کو دیکھیں تو جدید مشینری، ڈائگنوسٹک آلات اور سرجیکل ٹیکنالوجیز سب انجینئرنگ کی دین ہیں۔ فارمیسی کے میدان میں دواؤں کی تیاری سے لے کر پیکجنگ تک انجینئرنگ کے مختلف پہلو کارفرما ہیں۔ ٹیکسٹائل انڈسٹری میں مشینوں کے ذریعے کپڑے کی تیاری اور پروسیسنگ انجینئرز کی محنت کا نتیجہ ہے۔اسی طرح ٹرانسپورٹیشن کے شعبے میں گاڑیوں، ہوائی جہازوں اور ریل گاڑیوں کی تیاری اور ان کے سسٹمز انجینئرز کی ایجاد ہیں۔ ٹیلی کمیونی کیشن اور کمپیوٹر ٹیکنالوجی کا تو ذکر ہی کیا، آج کی ڈیجیٹل دنیا میں انجینئرنگ کے بغیر رابطہ، ڈیٹا شیئرنگ، انٹرنیٹ اور مصنوعی ذہانت (AI) کا تصور بھی ممکن نہیں۔ انجینئرنگ نہ صرف روزگار کا ایک بہترین ذریعہ ہے بلکہ یہ معاشرے اور ملک کی ترقی کی بنیاد بھی ہے۔ ایک قابل اور ایماندار انجینئر اپنی مہارت اور دیانت داری کے ذریعے نئی ایجادات کرتا ہے، مسائل کے حل فراہم کرتا ہے اور عوامی سہولیات کو بہتر سے بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ باصلاحیت انجینئرز کی دنیا بھر میں قدر و قیمت ہے اور انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

اس موقع پر ڈگری کالج کے پرنسپل ڈاکٹر شاہ عقیل احمد نے طلبہ اور سرپرستوں کا استقبال کیا ۔ انھوں نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علم، مہارت(اسکل) اور رویہ( حسن سلوک) مل کر ان کی مجموعی شخصیت کو نکھارتے ہیں۔ طلبہ کو اچھا انجینئر بننے کے لیے علم حاصل کرنا، مہارتیں سیکھنا اور مثبت رویہ اپنانا ضروری ہے۔ یہ تینوں عناصر نہ صرف ان کی شخصیت سنوارتے ہیں بلکہ انہیں پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں بھی ممتاز بناتے ہیں۔ان مقاصد کو حاصل کرنے کیلئے ادارہ جامعہ محمدیہ طلبہ کو اسلامی ماحول میں اعلیٰ معیاری انجینئرنگ کی تعلیم فراہم کر رہا ہے۔جس کیلئے جامعہ محمدیہ کے چیئرمن محترم جناب ارشد مختارصاحب کی ایماء پر اور سیکریٹری جناب راشد مختارصاحب کی رہنمائی میں انجینئرنگ کالج کے تدریسی عملے میں آئی آئی ٹی، این آئی ٹی، اے ایم ایو، جے ایم آئی، سینٹرل یونیورسٹیز اور بیرونِ ملک سے تعلیم یافتہ ڈاکٹریٹ اساتذہ کی تقرری ہوئی۔نیزطلبہ کی عملی تربیت کے لیے پچاس سے زائد جدید لیبارٹریاں، اسمارٹ کلاس روم ، کمپیوٹر سینٹر، سنٹرل لائبریری اور دیگر سہولیات فراہم کی گئیں ۔اس کے علاوہ طلبہ کیلئے سیمینار، کانفرنس، اکسپرٹ لیکچرس، انڈسٹریل وزٹ اور ٹریننگ و پلیسمنٹ کا بھی اہتمام کیا جارہا ہے۔ 

ہیڈ آف ڈپارٹمنٹ ڈاکٹر آصف رسول نے سال اوّل کے اساتذہ کا تعارف پیش کیا اور کہا کہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ طلبہ سالِ اول میں سو فیصد کامیابی کے ساتھ بہترین نمبرات حاصل کریں، جس کے لیے اساتذہ بھرپور محنت کر رہے ہیں۔سال اول انجینئرنگ ڈگری کورسیس کے اساتذہ میں پروفیسر فہیم انصاری، پروفیسر فہد بلال، ڈاکٹر شمیم احمد، پروفیسر مومن شہباز، پروفیسر ضیا ء تنزیل اور پروفیسر اسامہ عبدالرب شامل ہیں۔ ڈپلومہ کالج کے پرنسپل ڈاکٹر یعقوب انصاری نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔اس تقریب کے اختتام پر ڈین اکیڈمکس ڈاکٹر سلمان بیگ نے رسمِ تشکر ادا کیا۔اس پروگرام کی کامیابی میں ناظم تقریب پروفیسر راغب ندیم، ڈاکٹر ہمایوں اختر، ڈاکٹر ساجد نعیم، پروفیسر عبدالواسع، پروفیسر شگفتہ پروین، پروفیسر نصرف رفیق اور دیگر اساتذہ نے اہم کردار ادا کیا۔

٭٭٭
ادارۂ سوئیس دھولیہ کی جانب سے مجلہ کا رسم اجراء 

دھولیہ :- آج مورخہ 25 ستمبر 2025 بروز جمعرات صدر و اراکین اسٹوڈنٹس ویلفیئر اینڈ ایجوکیشن سوسائٹی کی جانب سے نبیرۂ شیخ الکبیر شہزادۂ سلطان المشائخ بانئ دارالعلوم سلطانیہ چشتیہ دھولیہ حضرت علامہ مولانا الحاج الشاہ سید محمد فاروق میاں چشتی مصباحی دامت برکاتہم عالیہ کی صدارت میں تقریب رسمِ اجراء مجلّہ بنام سارے عالم کے معلم انسانیت حضرت محمّد ﷺ شہر عزیز کی معزز شخصیت و ادارۂ ہٰذا کے سیکرٹری محترم حاجی محمد عفان انصاری سر صاحب کے دستِ مبارک سے گولڈن ہال غفور نگر میں ہوا۔ اس پروگرام کا آغاز سوئیس ہائی اسکول جماعت نہم کے طالب علم حافظ ایمن جمیل احمد نے تلاوت قرآن مجید سے کیا تو بارگاہِ الہٰی میں حمدوثنا جماعت نہم کے طالب علم انصاری محمد سعد آصف اقبال نے پیش کرنے کی سعادت حاصل کی وہیں سرکارِ دوعالـــــــــم ، نورِ مجسم ، ساقئ کوثر ، شافع محشر ، شفیع المذنبین حضرت محمد ﷺ کی خدمت عالیہ میں نعت کا نذرانہ سوئیس اردو پرائمری اسکول کے طالب علم انصاری ایان نہال احمد نے پیش کیا۔ صدر موصوف کے انتخاب کے لئے تحریک صدارت محترم منظور سے نے پیش کیا جس کی تائید نوید سر نے پیش کیا۔ اراکین ادارۂ سوئیس کی جانب سے محترم الحاج اخلاق احمد چمڑے والے صاحب اور انیس احمد بھیّا نے صدر موصوف کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس کے بعد یکےبعد دیگرے تمام معزز مہمانان کا استقبال زاہد حسین صاحب ، ظفر مقصود اور خلیق الزماں سر کے دست مبارک سے کیا گیا۔ پروگرام کے اغراض و مقاصد و ادارۂ سوئیس کا اجمالی جائزہ ادارے کے جوائنٹ سیکریٹری و سوئیس اردو پرائمری اسکول کے چیئرمین حاجی زاہد حسین محمد یعقوب صاحب نے شریکانِ بزم کے گوش گزار کیا۔ وہیں اجراء شدہ مجلّہ بنام سارے عالم کے معلم انسانیت حضرت محمّد ﷺ کے ضمن میں جماعت چہارم کی طالبہ ظفیرہ جلیل احمد نے بڑے ہی موثر انداز اپنی تقریر کے ذریعے پورا خاکہ کہہ سنایا۔ خطبۂ صدارت میں نبیرۂ شیخ الکبیر شہزادۂ سلطان المشائخ بانئ دارالعلوم سلطانیہ چشتیہ دھولیہ حضرت علامہ مولانا الحاج الشاہ سید محمد فاروق میاں چشتی مصباحی دامت برکاتہم عالیہ نے کہا کی وقت کی قدر کرو وقت تمہاری قدر کروائے گا۔ ساتھ ہی علم حاصل کرو چاہے چین تک جانا پڑے ، ماں کی گود سے قبر تک علم حاصل کرو ، علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے کے ذریعے دینی اور عصری تعلیم پر سیر حاصل خطاب کیا اور طلباء و طالبات اور شریکانِ بزم کی بڑے ہی مشفقانہ انداز میں نصیحت آمیز رہنمائی فرمائی۔ اس وقت بطور مہمانِ خصوصی صدر جمیعت علماء ہند ارشد مدنی حافظ حفظ الرحمٰن صاحب ، صدر مدرس دارالعلوم سلطانیہ چشتیہ محترم محمد فاروق اشرفی صاحب ، محترم مفتی مکمل حسین سعدی مدرس دارالعلوم سلطانیہ ، محترم محمد رمضان اشرفی صاحب مدرس دارالعلوم سلطانیہ ، محترم متین انور صاحب ، محترم ساجد خنساء صاحب ، محترم عبدالرشید بھیّا صاحب بنفس نفیس موجود تھے۔ پروگرام کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے پروگرام کمیٹی کے ساتھ ادارۂ ہٰذا کے زیرِ انصرام جاری تمام ہی صدر مدرسین و جملہ اسٹاف نے محنت کی۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض شیخ اسماعیل سر اور خلیق الزمان سر نے بحسن خوبی انجام دیا۔ آصف سر کے رسم شکریہ ادا کرنے کے بعد پروگرام کا اختتام عمل میں آیا۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...