Sunday, 14 September 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*

مسجدوں میں سرکاری سولار سسٹم لگا کر سیاسی استقبال کروایا جارہا ہے.


مسجدوں میں سولار کا سیزن آیا ہے 

شہر میر سچ میں الیکشن آیا ہے 

اب گھر سے ٹوپی پہن کر پھر نکلیں گے 
اب ہوگا مسجدوں ممبر کے پاس سیاسی استقبال ( کیا یہ مذہبی سہارا نہیں ) 

دوسروں پر مذہب کا سہارا اور اسکا الزام لگانے والے خود ایک بار پھر مسجدوں ،مدرسوں میں سیاسی استقبال کروائینگے.
یہ خود مسجدوں ،مدرسوں سے سولار کے نام پر پھر ایکبار سیاست کرینگے۔حالانکہ اسمبلی کی تاریخ رقم کرنے والی ہار کے بعد مساجدوں سے سولار نکلواکر واپس کروایا گیا تھا۔ مگر صحیح میں پھر سے الیکشن کی آمد آمد ہے اسی لئے سولار کے نام پر مسجدوں ،مدرسوں سے سیاست کی جائے گی۔ کیا یہ سیاست میں مذہبی سہارا نہیں ؟ 

ایکبار پھر سولار کے نام پر مسجدوں میں ممبر کے پاس دعائیہ مجلس ہوگی۔


اب بات آتی ہے جمعیت علماء سید ارشد مدنی کی ایماء پر وہ وقت یاد کرو کہ ماہ مبارک کے ایام میں شہریان سے اپیل کررہے تھے کہ چندہ جمعیت کو نہ دیں۔ یہاں دیں وہاں دیں مگر مدنی روڈ کو نہ دیں۔ مگر ایک بات یاد رکھیں جس شخص یا جس ادارہ کی جتنی مخالفت ہوتی ہے۔ حقیقت میں اسکی رقابت عوام میں بڑھتی ہے۔ 

ابھی تاریخی دن جو گذشتہ جمعہ 12ستمبر کا وہ دن جو سید ارشد مدنی کی ایماء پر جمعیت علماء مدنی روڈ کی جانب سے پنجاب ہریانہ کے بھیانک سیلاب کے متاثرین کی مالی امداد کیلئے مفتی صاحب کی آواز پر جمعیت علماء مدنی روڈ کی جانب سے پورے شہر بھر کی اکثریت مساجد میں اور دیگر سماجی گروپ ادارہ و نوجوانوں کی دلچشپی سے شہر بھر سے ریکارڈ توڑ ریلیف جمع ہوئی۔ جو پچھلے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ اور یہ بھی ایسے وقت میں ہوا جب سیاسی مخالفین جمعیت علماء کا کھل کر بائیکاٹ اور چندہ نہ دینے کی اپیل کرچکے ہیں۔ انہیں شہری جمعیت مدنی روڈ سے بیر ہے مگر آئے دن جمعیت کے خبری بن کر ممبئی جمعیت کے دفتر پر حاضری بھی لگاتے ہیں۔ 


اور آج اسی جمعیت پر بوگس ووٹ کا الزام اور جمعیت مدنی روڈ کے صدر پر بوگس ووٹ کا الزام لگاکر FIR درج کرانے کی مانگ کررہے ہیں جس جمعیت کے ممبئی کے صدر دفتر پر خبری بن کر ماتھا رگڑنے گئے ۔
انہیں شائد جمعیت کی تاریخی کارکردگی کا مطالعہ نہیں ہے۔ اسی لئے وہ نیند سے اٹھتے ہی روزآنہ ہار تازہ ہوجاتی اور اسے برداشت نہ کرنے کیلئے یہ کند ذہن بن جاتے ہیں ۔  
مسجد و مدرسوں میں سرکاری سولار لگواکر کہہ رہے ہیں کہ ہم سیاست میں مذہب استعمال نہیں کررہے ہیں
 بلکہ مذہب میں سیاست کا استعمال کررہے ہیں 
یاد رکھنا جس شخص نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے 2014 میں اسمبلی الیکشن سے پہلے مسلم ریزرویشن کے نام پر ملک کے مایا ناز علماء کا استعمال کیا 
یہ بول کر کہ یہ غیر سیاسی تحریک ہے 
اسمبلی الیکشن کے وقت مسلم ریزرویشن کی پد یاترا کی خوب ویڈیو اور تصویریں بتاکر ووٹ بٹوری گئی 
یاد رکھنا دوستوں 2014 سے پہلے جن لوگوں نے سابق آم۔۔۔ کو دیکھا ہونگا 
کہ پھولے ہوئے گال 
باہر نکلا ہوا پیٹ اور توند 
بھاری بھرکم جسم 
موٹے موٹے ہاتھ پیر 
اب وہ جسم کہاں گیا ؟
ہم بتاتے ہیں آپ لوگوں کو !
موٹاپا کم کرنے لئے ڈاکٹروں نے زیادہ سے زیادہ پیدل چلنے کے لئے کہا 
 
پھر کیا ہوگیا ڈرامہ شروع 

ملک کے اکابر علماء کرام کو مسلم ریزرویشن کے نام پر مالیگاؤں شہر بلایا گیا 
کہا گیا کہ یہ غیر سیاسی تحریک ہے ( یہ الگ بات ہے اسمبلی الیکشن کے وقت اپنی اوقات بتادی )
ڈاکٹروں کے مشورے سے موٹاپا کم کرنے کے لیے 
مالیگاؤں سے ممبئی پیدل یاترا نکالی گئی 
تھوڑا موٹاپا کم 
پھر مالیگاؤں سے ناشک تک 
اور کم
پھر اسکے بعد جامعتہ الصالحات سے شہیدوں کی یاد گار تک 
پورا کم
۔۔۔۔
مسجدوں مدرسوں کا بی جے پی سرکار سے سودا کرنے والے سابق آم۔۔۔ کو اسمبلی کے جیسا بتایا جائے گا۔ انشاء اللہ۔ وقت تو آنے دو عوام اب اولڈ ورجن میں نہیں جی رہی ہے۔ بلکہ نئی جنریشن نئی نسل نئے ورجن میں جی رہی ہے۔ 

انشا اللہ کارپوریشن الیکشن میں بھی عوام تمہیں سبق سکھائے گی ۔
کیا پاکستان بنے گا اسرائیل کا اگلا نشانہ؟ یو این میں ایسا کیا ہوا، عاصم منیر کے ملک کی بڑھ گئی پریشانی، جانئے

کیا اسرائیل اب پاکستان کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے؟ یہ سوال اس لیے اٹھایا جا رہا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں دونوں ممالک کے نمائندوں کے درمیان گرما گرم بحث ہوئی۔ اگرچہ اسرائیل اور پاکستان دونوں امریکہ کے قریب ہیں اور عام طور پر براہ راست محاذ آرائی سے گریز کرتے ہیں لیکن اس بار پاکستان نے خود ہی ایک تنازع کھڑا کر دیا۔ یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب قطر میں حماس کے رہنماؤں پر اسرائیلی حملے پر اقوام متحدہ میں بحث ہو رہی تھی۔

پاکستان کے نمائندے عاصم افتخار احمد نے اسرائیل پر “غیر قانونی اور جارحانہ اقدام” کا الزام لگایا اور کہا کہ یہ اس کے “ہمیشہ جارحانہ رویہ” کا حصہ ہے۔ انہوں نے اسرائیل پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی، غزہ میں وحشیانہ حملے اور شام، لبنان، ایران اور یمن میں حملے کرنے کا الزام لگایا۔

اسرائیل نے بھی دیا جواب
اس پر اسرائیلی نمائندے ڈینی ڈینن نے پاکستان کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ میرا مقصد آپ کو تکلیف پہنچانا نہیں بلکہ حقیقت بتانا ہے۔ مت بھولئے کہ القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن پاکستانی سرزمین پر چھپا تھا اور وہیں مارا گیا تھا ۔ سوال یہ نہیں تھا کہ امریکہ نے بیرونی سرزمین پر حملہ کیوں کیا بلکہ سوال یہ تھا کہ ایک دہشت گرد کو پناہ کیوں دی گئی؟

ڈینن نے مزید کہا کہ پاکستان تاریخ نہیں بدل سکتا۔ نائن الیون پاکستان میں نہیں ہوا لیکن اسامہ وہاں چھپا ہوا پایا گیا۔ جب امریکہ نے اسے مارا تو کسی نے احتجاج نہیں کیا۔ پھر اسرائیل پر الزام کیوں لگایا جاتا ہے

پھر پاکستان نے اسرائیل کو ‘قابض’ اور ‘جارح ملک’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم کا غلط استعمال کر رہا ہے۔ احمد نے کہا کہ “اسرائیل اپنی غیر قانونی سرگرمیوں کو چھپانے کے لیے دوسروں پر انگلیاں اٹھاتا ہے۔” اقوام متحدہ میں اس طرح کی بحث کے بعد پاکستان پر سفارتی دباؤ ضرور بڑھ گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اسرائیل براہ راست پاکستان کو نشانہ بنا سکتا ہے؟ ابھی اس کا امکان کافی کم ہے لیکن کبھی کسی نے قطر پر اسرائیل کے حملے کا سوچا بھی نہیں تھا۔
عمرخالد کی گرفتاری کے 5 سال مکمل ، ضمانت اورٹرائل کا دراز ہوتا انتظار

جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی اسٹوڈنٹ یونین کے سابق لیڈر عمر خالد کی گرفتاری کو پانچ برس پورے ہوگئے ہیں۔ انھیں 13ستمبر2020 کو دہلی فساد کے معاملے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ان کی گرفتاری انسداد دہشت گردی قانون(UAPA) کے تحت عمل میں آئی تھی۔

عمرخالدپر آئی پی سی کی مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کئے گئے ہیں ۔ ان کی ضمانت کی عرضی کو ٹرائل اور اپیل عدالتوں نے کم از کم چار بار مسترد کیا۔ ان میں حالیہ سماعت2 ستمبر کو تھی۔

سپریم کورٹ میں عمرخالد کی عرضی کو14بار ملتوی کیا گیاہے جس کے بعدانھوں نے اپنی عرضی واپس لے لی۔گزشتہ جمعے کے روز، سپریم کورٹ نے عمر خالد، شرجیل امام، گل فشاں فاطمہ، اور میران حیدر کی ضمانت کی درخواستوں کی سماعت19 ستمبر تک ملتوی کر دی

15 اپریل 2021 کودہلی کی ایک عدالت نے خالد کی ضمانت منظور کی تھی لیکن چونکہ ان پر دیگرالزامات ہیں لہذا وہ جیل میں ہی ہیں ۔12دسمبر2022کو، دہلی کی ایک عدالت نے خالد کو ان کی بہن کی شادی میں شرکت کے لیے23 دسمبر سے30 دسمبر تک عارضی ضمانت دی گئی تھی۔

خالد کی گرفتاری کی پانچ سال مکمل ہونے پر مشترکہ بیان میں، ایمنسٹی انٹرنیشنل، CIVICUS، انٹرنیشنل کمیشن آف جسٹس، انٹرنیشنل فیڈریشن فار ہیومن رائٹس، فورم ایشیا، فرنٹ لائن ڈیفنڈرز اور ورلڈ آرگنائزیشن اگینسٹ ٹارچر نے کہا کہ عمر خالد کی حراست ہندوستان میں انصاف کے پٹری سے اترنے کی ایک مثال ہے۔اس سے قبل، عمر خالد کی والدہ ڈاکٹر صبیحہ خانم نے کہا تھا کہ ان کا بیٹا اپنے لیے نہیں بلکہ قوم کے لیے جیل میں ہے۔

عمرخالد کی گرفتاری کے پانچ سال مکمل ہونے پر جے این یو اسٹوڈنٹس یونین کی طرف سے منعقدہ تقریب میں قاسم رسول الیاس نے شرکت کی۔اس موقع پرانھوں نے کہا کہ طویل قید نے ان کے بیٹے کی روح کو نہیں توڑا ہے۔انھوں نے کہا کہ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ عمر کو کوئی پچھتاوا نہیں ہے اور نہ ہی برسوں کی جیل نے اس کی روح کو توڑا ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...