Sunday, 14 September 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*

منیش پاٹل کا اکولہ کے ای سی پی کی حیثیت سے تبادلہ 
پرویز خان (پی کے )،طفیل فاروقی اور دوستوں نے مبارکباد پیش کی
بھیونڈی : (ڈیلی نیوز ):۲۰۱۹؍ میں بھیونڈی پولس میں ٹرانسفر ہو کر آئے منیش پاٹل گزشتہ دنوں اے سی پی کے عہدے پر ترقی پاکر اکولہ ٹرانسفر ہوئے۔اس خوشی کے موقع پر ان کے دوست احباب نے ان کو مبارکباد پیش کی اور ان کے بہتر مستقبل کے لئے دعائیں کی ۔
اس موقع پر اے سی پی منیش پاٹل نے کہا کہ ۲۰۱۹ تا ۲۰۲۵؁ء بھیونڈی کی عوام اور دوستوں سے انھیں جو پیار ملا وہ کبھی بھلایا نہیں جا سکتا ۔انھوں نے طفیل فاروقی اور پرویزخان (پی کے ) اور ان کے ساتھیوں کے پیار اور تعاون کا خصوصی طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کا پیار اور تعاون کبھی بھلایا نہیں جا سکتا ،وہ جہاں بھی ڈیوٹی پر رہیں اپنے دوستوں کو ضرور یا د رکھیں گے۔ساتھ ہی انھوں نے بھیونڈی کی عوام سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ اپنے فرض کی ادائیگی میں ان سے ہوسکتا ہے کہیں کوتاہی ہوئی ہو تو انھیں معاف کریں۔
 اس موقع پر طفیل فاروقی اور جناب پرویز خان (پی کے ) نے بھی اے سی پی شری منیش پاٹل کو ان کی ترقی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آپ جہاں بھی جائیں ،ایشور اللہ آپ کے ذریعے لوگوں کو حق اور انصاف دلانے کا کام کروائے اور لوگوں سے پیار اور میل ملاپ کے آپ کے جذبے اور کام کرنے کے طریقے کو مزید تقویت اور زندگی کے ہر مرحلے اور آزمائش میں آپ کامیاب رہیں یہی ہماری دعا ہے۔اس موقع پر پرویز خان (پی کے ) اور طفیل فاروقی نے شال اور گلدستہ پیش کیا ۔
اے سی پی شری منیش پاٹل نے سبھی کا شکریہ ادا کیا

حماس قیادت کا خاتمہ ضروری،نیتن یاہونے دی دھمکی، کہا یرغمالیوں کی رہائی کی راہ میں حماس بڑی رکاوٹ

قطرپراسرائیلی حملے ،حماس قیادت کوراہ سے ہٹانے کی کوشش میں ناکامی، عالمی برداری کی مذمت،دوحہ میں موساد کی زمینی کاروائی سے انکارکے انکشافات کے باوجود اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو پرکوئی اثرنہیں ہورہاہے۔ نیتن یاہو اپنے ایجنڈے پرقائم ہیں۔ وہ ہے حماس قیادت کا خاتمہ!

نیتن یاہونے سوشل میڈیا ایکس پراپنے پوسٹ میں لکھا ہے کہ قطر میں مقیم حماس قیادت کا خاتمہ یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ جنگ روکنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ کو دور کر دے گا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ قطر میں موجود حماس قیادت ،غزہ میں جنگ بندی کی کوششوں میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے۔

حملے کی عالمی برداری اورسلامتی کونسل نے شدید مذمت بھی کی۔حالانکہ سلامتی کونسل نے اسرائیل کا نام نہیں لیا ۔ ادھر، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے دوحہ میں حماس قیادت پرحملے کا موازنہ 11ستمبرحملے کے بعدامریکہ کے ردعمل سے کیا تھا ۔اسرائیل ٹائمز کے مطابق، ایک ویڈیو پیغام میں،نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل حماس کے لیڈروں کے خلاف کارروائی کرے گا وہ چاہے جہاں بھی ہوں۔

واضح رہے کہ 9 ستمبر کو،اسرائیلی فضائیہ نے قطر کی راجدھانی دوحہ میں حماس قیادت کونشانہ بنا کرحملہ کیا تھا۔ اسرائیل کے حملے میں6 افراد ہلاک ہوگئےتھے۔حماس کا دعوی ہے کہ اعلی قیادت محفوظ ہے ۔

موساد اورنیتن یاہو کے بھی اختلاف طشت از بام

اس بیچ امریکی روزنامے نے دعویٰ کیا ہے کہ دوحہ مں اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد نے حماس قیادت پر زمینی کارروائی کی مخالفت کی تھی جس کے بعدنیتن یاہو نے فضائی آپریشن کا فیصلہ کیا۔ رپورٹ میں عویٰ کیا گیا ہے کہ موساد، اسرائیلی آرمی چیف اور دیگر حکام نے دوحہ میں کارروائی کو قطر کے ساتھ تعلقات اور جنگ بندی مذاکرات کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔

موساد کے ڈائریکٹر ڈیوڈ بارنیا کا موقف تھا کہ اس طرح کی کارروائی سے قطر کے ساتھ تعلقات خراب ہو سکتے ہیں کیونکہ وہ حماس قیادت کی میزبانی کرنے کےساتھ ساتھ مصراورامریکہ کے ساتھ ثالث کا کردارادا کررہا ہے ۔جس پراسرائیلی وزیر دفاع یوآو کاٹز نے فضائی حملے کی تائید کیاور شین بیت کے تعاون سے آپریشن کو انجام دیا گیا۔
مارکو روبیو کا اسرائیل دورہ

قطرپرحملے کے بعد امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیواسرائیل دورے پر ہیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق،مارکو روبیو پیر کو یروشلم میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔نیتن یاہو سے ملاقات میں دوحہ پر حملے سے متعلق بات متوقع ہے۔ قطرپر حملے کے معاملے پرامریکی صدرٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے بیچ اختلافا ت پائے جاتے ہیں۔روبیو کایہ دورہ اسرائیل کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تنہائی کے تناظر میں حمایت کا مظہر ہے
امن اولین ترجیح ہے‘‘وزیراعظم مودی نے منی پورکی عوام سےآگے بڑھنے کی اپیل کی

امن اولین ترجیح ہے‘‘: وزیراعظم مودی نے منی پورکی عوام سےآگے بڑھنے کی اپیل کی
وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز منی پور کے لوگوں سے امن اور اتحاد کی اپیل کی اور زور دیا کہ ترقی استحکام، انصاف اور سچائی کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتی۔

 بیانات اس موقع پر دیے گئے جب وزیراعظم مودی نے 2023 میں شروع ہونے والی بدامنی کے بعد دو سال کے وقفے کے بعد منی پور کا اپنا پہلا دورہ کیا۔ انہوں نے چُراچند پور میں ایک عوامی تقریب سے خطاب کیا، جہاں انہوں نے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا۔

مودی نے منی پور کے لوگوں کو یقین دلایا کہ مرکز ان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے اور کہاکہ ’’میں تمام تنظیموں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ امن کے ساتھ آگے بڑھیں، اپنے خواب پورے کریں اور اپنے بچوں کے لیے بہتر مستقبل کو یقینی بنائیں۔‘‘ ریاست کے ماضی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا، “منی پور ، یہ سرزمین کبھی امید و آرزو کی علامت تھی، مگر یہاں تشدد نے بھی جگہ لی ہوئی تھی۔ کہیں بھی ترقی کے لیے امن ضروری ہے، ساتھ ہی سچائی اور انصاف بھی ضروری ہیں۔
وزیراعظم نے امپھال میں بھی ایک عوامی ریلی سے خطاب کیا اور کہا کہ منی پور وہ ریاست ہے جہاں مائیں اور بہنیں معاشی سرگرمیوں میں ہمیشہ آگے رہی ہیں۔ “میں خواتین کی طاقت کو بھارت کی ترقی اور خود انحصاری کی محرک قوت سمجھتا ہوں اور یہاں منی پور میں ہمیں اس کی حقیقی مثال ملتی ہے،”۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی حکومت نے خواتین کے لیے خصوصی ہاٹ بازار اور ‘ایما مارکیٹس’ کی تعمیر شروع کی’ اور وہ خوش ہیں کہ آج چار نئے ایما مارکیٹس کا افتتاح ہوا۔

وزیراعظم کا متاثرین سے ملاقات
دورے کے پہلے حصّے میں، انہوں نے چُراچند پور میں نسلی تشدد کے متاثرین سے ملاقات کی۔ متاثرین میں وہ اندرونِ ملک بے گھر خاندان شامل تھے جنہوں نے جھڑپوں میں اپنے گھروں کو کھو دیا تھا۔ چُراچند پور کے ‘پیس گراؤنڈ’ میں اپنی تقریر سے پہلے، انہوں نے بچوں سے ملاقات کی اور بچوں کی طرف سے دیے گئے گلدستے اور ایک پینٹنگ قبول کی۔ اسی ملاقات کے دوران ایک بچے کی طرف سے انہیں بطور تحفہ دی گئی روایتی پروں والی ٹوپی پہنائی بھی گئی۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ جو لوگ ریلیف کیمپوں میں رہ رہے ہیں، اُن سے مل کر انہیں یقین حاصل ہوا کہ منی پور میں امید اور اعتماد کی نئی کرن اب ابھرتی دکھائی دیتی ہے اور ترقی کے لیے امن ناگزیر ہے۔

یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا جب مئی 2023 سے شروع ہونے والی نسلی کشیدگی خصوصاً مییتی اور کُکی کمیونٹیز کے درمیان جھڑپوں کے دوران متعدد جانیں ضائع ہو چکی ہیں اور ہزاروں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ بین الاقوامی اور مقامی رپورٹس کے مطابق اس تنازعے میں سیکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں بے گھر ہوئے ہیں۔

وزیراعظم نے سڑکوں، بنیادی ڈھانچے اور خواتین کی فلاح و بہبود کے اسکیموں سمیت کل کروڑوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کے سنگِ بنیاد رکھے اور افتتاح کیے ، جن کی کُل مالیت کہا جا رہا ہے کہ کروڑوں روپے ( 7,300 کروڑ روپے کی بنیادیں اور اضافی منصوبے) کے برابر ہے۔ ان منصوبوں میں علاقائی کنیکٹیویٹی، روزگار اور کمیونٹی فلاح کے پروگرام شامل ہیں۔

منی پور کی موجودہ کشیدگی 3 مئی 2023 کے بعد سے جاری نسلی تصادم کا تسلسل ہے، جس میں بنیادی طور پر ویلی (وادی) کے اکثریتی مییتی برادری اور پہاڑی علاقوں کی کُکی-زو قبائل کے درمیان شدید جھڑپیں دیکھنے میں آئیں۔ تنازعے کی بنیادی وجوہات میں شناختی حقوق، مخصوص سماجی اور سیاسی مطالبات، اور بعض عدالتی فیصلوں کے خلاف ردِ عمل شامل رہے۔ رپورٹس میں یہ بھی شامل ہے کہ بعض مقامی رضاکارانہ یا عسکری گروپوں نے ہتھیار اور تشدد میں ملوث عناصر کے ذریعے تناؤ کو بھڑکانے میں کردار ادا کیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے واقعات کی نوعیت پر تشویش ظاہر کی ہے اور قتل، آتش زنی، جنسی تشدد اور بڑے پیمانے پر تباہی کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ اس بحران کے نتیجے میں سیکڑوں ہلاک اور دس ہزاروں لوگوں کی بے دخلی رپورٹ ہوئی ہے؛ مختلف ذرائع میں متاثرین کی تعداد اور ہلاکتوں کے اعدادشمارمیں تضادہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...