Thursday, 25 September 2025

*مالیگاؤں کی بدحالی: جب جرم بے لگام ہو اور انتظامیہ بے پرواہ**وسیم رضا خان (ایڈیٹر ہیڈلائن پوسٹ)*________________________________________ مہاراشٹر کے ضلع ناسک میں واقع مالیگاؤں، جو اپنی کپڑا صنعت اور گنجان مسلم آبادی کے لیے جانا جاتا ہے، آج ایک سنگین بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ کبھی ایک صنعتی اور ثقافتی مرکز کے طور پر پہچانا جانے والا یہ شہر، اب جرم، سیاسی بے حسی اور انتظامی لاپرواہی کے جال میں پھنسا ہوا نظر آ رہا ہے۔ مالیگاؤں کا مرکزی حصہ، جسے اکثر مالیگاؤں سینٹرل بھی کہتے ہیں، مجرموں کا گڑھ بنتا جا رہا ہے۔ گزشتہ کچھ سالوں سے یہاں جان لیوا حملے اور قتل و غارت عام بات ہو گئی ہے۔ کوئی ایسا جرم نہیں جو یہاں نہ ہوتا ہو – چاہے وہ نشے کا کاروبار ہو، لوٹ مار ہو، یا پھر پرتشدد واقعات۔ کم تعلیم یافتہ اور بے روزگار نوجوان، جو بہتر مواقع کی تلاش میں ہیں، مایوسی میں مجرمانہ سرگرمیوں کی طرف مڑ رہے ہیں۔ نشہ کے سوداگر اور مجرم اس کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا شیطانی چکر ہے جہاں بے روزگاری اور غربت جرم کو جنم دیتی ہے، اور جرم سے صورتحال مزید خراب ہوتی جاتی ہے۔ مالیگاؤں سینٹرل سے ایک مسلم ایم ایل اے ہونے کے باوجود، یہاں کے لوگوں کو شکایت ہے کہ حکومت اس علاقے کو نظر انداز کرتی ہے۔ یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ یہاں کی مسلم سیاست صرف اپنے ذاتی مفادات تک محدود ہے، اور لیڈروں کو عوام کی پریشانیوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ لوگوں کی شکایت ہے کہ سیاسی پارٹیاں یا لیڈر جرم کو ختم کرنے کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھا رہے ہیں۔ عوام بھی ان ناکام لیڈروں کی جے جے کار کرتی نظر آتی ہے، جو صرف ایک دوسرے پر الزام تراشی میں مصروف ہیں۔ یہ سیاسی لڑائی عوام کے حقیقی مسائل کو پس پشت ڈال دیتی ہے۔ مالیگاؤں کی بدحالی کی ایک اور بڑی وجہ پولیس انتظامیہ کی مبینہ لاپرواہی ہے۔ گزشتہ کچھ برسوں سے پولیس سپرنٹنڈنٹ انیکیت بھارتی اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ تیگبیر سنگھ سندھو جیسے افسران یہاں تعینات ہیں، لیکن شہر کی حالت بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ شہر کے سمجھدار عوام کا الزام ہے کہ پولیس صرف گشت کرنے اور چھوٹے موٹے گھریلو معاملات کو سلجھانے میں لگی ہوئی ہے۔ سنگین جرائم پر قابو پانے میں پولیس ناکام رہی ہے۔ اس کے برعکس، جب پولیس سپرنٹنڈنٹ گجانن راجمانے اور سنیل کڈاسنے یہاں تعینات تھے، تب انہوں نے مالیگاؤں سے جرم کا صفایا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ یہ عمل یہ بتاتا ہے کہ صحیح قیادت اور مضبوط ارادے کے ساتھ صورتحال کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ مالیگاؤں کی موجودہ صورتحال ایک سنگین انتباہ ہے۔ اگر انتظامیہ، سیاستدان اور پولیس مل کر اس مسئلے کا حل نہیں نکالتے ہیں، تو یہ شہر مزید گہرے بحران میں ڈوب سکتا ہے۔ نوجوانوں کو جرم کے دلدل سے باہر نکالنے کے لیے تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا، پولیس نظام کو درست کرنا، اور سیاسی لیڈروں کو اپنی ذمہ داری نبھانے پر مجبور کرنا ہی واحد راستہ ہے۔ مالیگاؤں کے عوام کو بھی اس غیر فعالیت کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے اور تبدیلی کا مطالبہ کرنا چاہیے۔مالیگاؤں میں جرائم کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے، پولیس انتظامیہ کو اسے سنجیدگی سے لینا ہوگا اور صرف گشت یا چھوٹے موٹے معاملات تک محدود نہ رہتے ہوئے، ایک ٹھوس حکمت عملی بنانی ہوگی۔ پولیس کو کمیونٹی پولیسنگ (Community Policing) کو فروغ دینا ہوگا. پولیس کو عوام کے ساتھ براہ راست جڑنا ہوگا ۔ باقاعدہ میٹنگز کا اہتمام کیا جانا چاہیے جہاں لوگ بغیر ڈرے اپنی شکایات اور معلومات دے سکیں۔ ہر محلے میں مقامی لیڈروں، بزرگوں اور نوجوانوں کو ملا کر امن کمیٹیاں بنائی جانی چاہیے جو صحیح طریقے سے کام کریں۔ یہ کمیٹیاں پولیس اور عوام کے درمیان پل کا کام کریں گی۔ عوام میں اعتماد پیدا کرکے، پولیس ایک مضبوط اطلاعاتی نظام تیار کر سکتی ہے۔ اس سے انہیں جرم ہونے سے پہلے ہی اس کی جانکاری مل جائے گی۔ پولیس کو صرف چھوٹے موٹے نشہ کرنے والوں کو پکڑنے کے بجائے، ان بڑے اسمگلروں اور نیٹ ورک پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے جو شہر میں منشیات کی فراہمی کرتے ہیں۔ نشے کے عادی نوجوانوں کے لیے بحالی اور بیداری کے پروگرام شروع کرنے چاہیے۔ پولیس صرف مجرم کو پکڑنے کے بجائے، اسے سدھارنے کی سمت میں بھی کام کرے پولیس کو اسکولوں اور کالجوں میں جاکر طلباء کو جرم اور اس کے نتائج کے بارے میں بیدار کرنا ہوگا ۔مقامی پولیس اسٹیشنوں کو کھیلوں کے ٹورنامنٹ، ثقافتی پروگرام اور کیریئر گائیڈنس سیشن منعقد کرنے چاہیے۔ اس سے نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں شامل ہونے کا موقع ملے گا اور وہ جرائم سے دور رہیں گے۔جو مجرم ضمانت پر باہر ہیں یا جو پہلے جرم کر چکے ہیں، ان پر کڑی نظر رکھنی ہوگی. شہر میں چل رہے گینگ وار اور باہمی دشمنی کو ختم کرنے کے لیے سخت اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ بڑے مجرموں اور ان کے گروہوں کو فوراً گرفتار کرنا ہوگا. ہر علاقے کے لیے ایک مخصوص پولیس بیٹ ہو اور بیٹ انچارج ہو جسے اپنے علاقے کی مکمل جانکاری ہو۔ ان تمام اقدامات سے پولیس نہ صرف جرائم کو کم کر سکتی ہے، بلکہ عوام کا اعتماد بھی جیت سکتی ہے، جو کسی بھی شہر کی حفاظت کے لیے سب سے اہم ہے۔ شہر میں ان نکات پر سختی سے عمل کرنے کی ضرورت ہے۔___________**انسان کا منتشر وجود: ایک فلسفیانہ جائزہابرار مجیب انسان کو زندگی کے آغاز ہی سے شاذونادر ہی اپنے لیے جینے کی اجازت ملتی ہے۔ اس کی حیات اپنی ذات کی تکمیل کا سفر نہیں، بلکہ فرائض، کرداروں اور رشتوں کا ایک سلسلہ ہے جو رفتہ رفتہ اس کی انفرادیت کو نگل لیتا ہے۔ پیدائش کے وقت وہ اپنے والدین کے لیے جیتا ہے۔ اس کے ابتدائی افکار، جذبات اور حرکات اپنی مرضی سے نہیں، بلکہ ان کی توقعات اور خواہشات سے تشکیل پاتے ہیں۔ جیسے جیسے وہ بڑا ہوتا ہے، اسے اپنے اساتذہ کے لیے جینا سکھایا جاتا ہے—اپنے تجسس کو مقررہ علوم، اصولوں اور نظاموں کے تابع کر دیتا ہے جو اکثر اس کے حقیقی ماہیت کو پروان نہیں چڑھنے دیتے۔ جوانی میں وہ محبت کے لیے جیتا ہے—کسی اور کی نظر میں اثبات، پیار اور معنی ڈھونڈتا ہے۔ یہ دور پھر زندگی کے ساتھی کے لیے جینے میں بدل جاتا ہے، جہاں خاندان کی ضروریات اور گھریلو زندگی کی استواری اس کے وجود کو مزید تحلیل کردیتی ہے۔ جب اولاد آتی ہے، تو وہ ان کے لیے جینے لگتا ہے۔ اس کے خواب، عزائم اور حتیٰ کہ اس کی شناخت بھی نگہداشت، تعلیم اور ورثے کے نام پر قربان ہو جاتی ہے۔ اس دوران دوستیاں بھی وفا، جذباتی مشقت اور وقت کا مطالبہ کرتی ہیں—ذات کا ایک اور حصہ دستبرداری پر مجبور ہو جاتا ہے۔ معاشرہ اپنے لامتناہی تعریفوں اور فرائض کے ساتھ اپنا حصہ وصول کرتا رہتا ہے۔ انسان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ محلے کے اصولوں، شہر کی غیرت، برادری کی بہبود اور قوم کے مفادات کے لیے جیے۔ اس تمام عرصے میں، اس کی ذات پس منظر میں دھندلاتی چلی جاتی ہے—ایک خاموش تماشائی جو سماجی کرداروں کے نقاب کے پیچھے قید ہو کر رہ جاتا ہے۔ مذہب بھی اس میں شامل ہوتا ہے—خواہ عقیدے کی صورت میں یا مزاحمت کی۔ انسان یا تو کسی بالاتر ہستی کے اصولوں کے مطابق جیتا ہے، یا ان کے خلاف بغاوت کرتا ہے۔ دونوں صورتوں میں، وہ کسی بیرونی شے کے لیے جی رہا ہوتا ہے، اپنی ذات کے لیے نہیں۔ بڑھاپے کے قریب، جب موت کا خیال گھر کر لیتا ہے، تو ایک آخری تبدیلی رونما ہوتی ہے۔ انسان خوف، احساسِ جرم یا نجات کی تمنا کے تحت خدا کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ وہ ذاتِ باری کے لیے جینے لگتا ہے، تاکہ انجام کار کچھ معنویت پا سکے۔ اور اس تمام جالِ وابستگیوں، قربانیوں اور شناختوں میں، اس کی اپنی ذات گم ہو کر رہ جاتی ہے—کبھی بھی مکمل طور پر جلوہ گر نہیں ہو پاتی۔ انسان دوسروں کے ذریعے، دوسروں کے لیے اور دوسروں کی وجہ سے جیتا ہے۔ لیکن اپنی ذات کے لیے، مکمل طور پر؟ تقریباً کبھی نہیں۔ یہی انسانی وجود کا المیہ ہے: کہ فرد، معنی اور تعلق کی تلاش میں، اپنے آپ کو رشتوں، اداروں اور اقدار میں منتشر کر دیتا ہے—اور ایک مکمل، غیر منقسم ذات کے امکان کے صرف چند ٹکڑے چھوڑ جاتا ہے۔ نوٹ :یہ تقریبا" چار ہزار الفاظ پر مشتمل مختلف وجودی فلسفیوں، ادیبوں اور شاعروں کے حوالے کے ساتھ تحریر کردہ مضمون، جو کچھ آپ نےنپڑھا ہے وہ محض ایک خاکہ ہے۔_______________⭕ڈاکٹر آصف فیضی مالیگاؤں ف ب س ے انڈے کا فنڈا آج ۔۔۔کھانے کے لئے انڈا تلنا تھا۔ فریج سے جیسے ہی انڈا نکالا انڈا مجھ سے گفتگو فرمانے لگا۔ روتے ہوئے کہنے لگا " صاحب آپ تو قلم کار ہیں دنیا جہان کے موضوعات کو تختہ مشق بناتے رہتے ہیں ، ہم سے آپ کو کیا بیر ہے ۔ مرنے سے پہلے میری آخری خواہش ہے کہ آپ ہمیں بھی اپنے ستم کا نشانہ بنائیں ، نوازش ہوگی۔" انڈے کی اس درد بھری آخری خواہش سن کر ہمیں بھی کھلکھلا کے رونا آگیا۔ہم نے انڈے سے وعدہ کرلیا۔ اب انڈے کی درخواست پر چند باتیں جو ذہین میں آ ٹپکیں ، انھیں نتیجے سے بے فکر ،حوالہ قرطاس کردیا ہے۔ آپ بھی انڈے کے غم شریک رہیں۔دنیا میں یہ بحث اب پرانی ہو گئی ہے کہ انڈا پہلے آیا یا مرغی ۔حتی کہ سائنس بھی یہ گتھی سلجھانے سے معذور ہے۔خیر انڈا پہلے آیا ہو یا مرغی ہمیں اس بحث سے کیا لینا ۔ہم تو انڈا کھانے کے شوقین ہیں بس ۔۔۔ بات ختم ۔۔۔دنیا میں سب زیادہ شاید انڈا ہی کھایا جاتا ہے۔ انڈے غذائیت سے بھر پور بہترین غذا ہیں۔ جسے انڈا کھانے کی عادت ہو جائے اس کی زندگی آسان ہو جاتی ہے۔ جتنی ڈشیں انڈوں سے بنتی ہیں دنیا میں شاید کسی اور چیز سے بنتی ہوگی۔انڈے کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں تازہ اور باسی کا مسئلہ نہیں رہتا۔ جب کھائیں تب تازہ۔ انڈے دو طرح کے ہوتے ہیں ایک اچھے اور دوسرے گندے ۔ اچھے انڈے کھانے کے کام آتے ہیں مگر گندے انڈے دوسرے کاموں میں مفید ہوتے ہیں ۔گندے انڈے بھی غیر اہم نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے گندے انڈے شاعر مشرق علامہ اقبال کی خصوصی توجہ مرکز رہے ہیں۔ علامہ نے کہا تھا اٹھاکر پھینک دو باہر گلی میں نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندےعلامہ کے اس شعر سے معلوم ہوتا ہے کہ گندے انڈوں سے علامہ کو بھی پالا پڑا تھا، جن سے پریشان ہوکر انھوں نے گندے انڈوں کا باہر گلی میں پھینکنے کا مشورہ دیا تھا ۔ علامہ کو تو نئی تہذیب کے گندے انڈوں سے پالا پڑا تھا۔ آج اگر علامہ بقید حیات ہوتے تو دیکھتے اب ہر میدان میں گندے انڈوں کی بھر مار ہے۔ اگر آج علامہ کا مشورہ مان کر گندے انڈوں کو گلی میں پھینک دیں تو بڑی مصیبت ہو سکتی ہے۔ کیوں کہ آج کل کے گندے انڈے بڑے فتنے کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ گندے انڈے گلی گلی آباد ہیں ۔ گلی کے باہر پھینکنے پر اگر یہ گندے انڈے کسی گندے انڈے کے اوپر گر گئے تو اس کے بھیانک نتائج سوچ کر ہی دل کانپ جاتا ہے ۔علامہ کے دور میں تو گندے انڈوں کو گلی میں پھینک کر نجات حاصل کی جا سکتی تھی مگر آج تو انھیں گلی میں بھی نہیں پھینک سکتے ۔ لہذا آج گنڈے بڑا مسئلہ بن گئے ہیں ۔علامہ کو نئی تہذیب کے گندے انڈوں سے پریشانی تھی آج کے دور میں تو ہر میدان میں گندے انڈے پریشانی کا باعث ہیں ، پھر چاہے میدان تعلیم کا ہو ،ادب کا ہو ،سیاست کا ہو ، صحافت کا ہو موسیقی کا ہو یا سوشل میڈیا ۔۔۔کیا آپ جانتے ہیں دنیا میں سب زیادہ انڈے کون کھاتا ہے ؟" سبحان ۔۔۔!"" جی ہاں آپ نے صحیح سنا سبحان ۔۔۔!" میدان چاہے تعلیم کا ہو ، ادب کا ہو ، سیاست کا ہو ،صحافت کا ہو یا کوئی اور ہر جگہ انڈا سبحان ہی کھاتا ہے ۔اسی طرح کی ایک اور کہاوت سنی تھی "انڈے سیوے فاختہ کوے میوے کھائیں۔"انڈے سے ہمارا پہلا سابقہ کھانے کے علاوہ اسکول میں پڑا جب ہمیں استاد نے سونے کا انڈا دینے والی مرغی کی کہانی سنائی تھی۔سونے کا انڈا دینے والی مرغی ہر کسی نصیب میں نہیں ہوتی سونے کا انڈا دینے والی مرغی پانے کے لیے اچھا نصیب بھی ضروری ہے۔ایک کہانی جو ہمیں اسکول میں پڑھائی گئی تھی ، آج تک یاد ہے کٹ کٹ کرتے رہو کچھ نہ کچھ ہو ہی جاتا ہے۔اس کہانی سے معلوم ہوتا ہے کہ انڈے حرکت و عمل کی دعوت بھی دیتے ہیں اور انڈوں میں زندگی کا فلسفہ بھی موجود ہے ۔ایک بچے نے ملّا دو پیازہ سے پوچھا: جناب ایک بات تو بتائیں کہ انڈے میں سے چوزہ کیسے نکل آتا ہے؟ملّا دو پیازہ جواباً بولے: میاں، میں تو یہ سوچتا ہوں کہ انڈے کے اندر چوزہ گھس کیسے جاتا ہے؟ارے ہاں ۔۔۔ ! ملا دو پیازہ سے شیخ چلی کی انڈے والی کہانی بھی یاد آگئی۔ شاید آپ کو بھی یاد آگئی ہوگی۔خیر ان فضول بحثوں سے ہمیں کیا مطلب ہم تو" انڈے کے شہزادے "ہیں۔ ہمیں تو انڈے کھانے سے مطلب ۔آپ سے بھی وننتی ہے کہ "سنڈے ہو یا منڈے روز کھائیں انڈے ہی انڈے۔"______________⭕ندی، پہاڑ اور بازار⭕ (ایک ادبیاسی نکسلائٹ نظم) اردو میں پہلی بار ایک دریافت نظم نگار "حسنتا کیر کٹا" جھارکھنڈ 🎟️تعارف ادبیہ کا 👇🔴(ادبیاسی شاعرہ، ادبیہ اور صحافی "جسنتا کیرکٹا) ہندوستان میں دلت ادب یا ادبیاسی ادب وغیرہ وطن عزیز میں ادبیاسی طبقات کی آبادی لگ بھگ 9فیصد (104ملین) ہے کہ مگر اُن کی زندگی اُن کے مسائل اُن کی محرومیاں اور اُن کی خوشیاں اور غم ادب میں جگہ نہیں پاتے شاید اُس کی وجہ یہ ہو کہ یہ طبقات دور دراز علاقوں میں سکونت پذیر ہیں اور ملک کی غالب آبادی سے اُن کا رابطہ بہت کم ہے یا بالکل نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ دلت اور ادبیاسی قلمکاروں کو ہمیشہ یہ شیکایت رہی ہے کہ اُنہیں ادب میں مناسب نمائندگی نہیں ملتی یا اُن کے تخلیق کردہ ادب کی ویسی پزئرائی نہیں ہوتی جیسا کہ اُس کا حق ہے گزشتہ دنوں ایک ادبیاسی شاعرہ، ادبیہ اور صحافی جسنتا کیرکٹا نے "انڈیا ٹو ڈے" گروپ کا ایوارڈ لینے سے انکار کر دیا تو ان کا نام صحافتی حلقوں میں گونجے لگا اَُس کے باوجود قومی دھارا کے صحافتی اداروں، اخبارات اور ٹی وی چینلوں نے اس خبر کو اہمیت نہیں دی جسنتا کی بنیادی شیکایت یہی ہے کہ ادبیاسی، ادبیوں، شاعروں فنکاروں کو نظر انداز کیا جاتا ہے - اُنہیں اُن کی کتاب "ایشور اور بازار" کیلئے آج تک ساہتیہ جاگرتی اُدیمان پرتبھا سمان "دیا جانا تھا اس سلسلہ میں دئیے گئے اپنے انٹرویو میں اُنہوں نے کہا کہ" یہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب منی پور میں قبائلیوں کے تئیں احترام ختم ہو رہا ہے - وسطی ہندوستان میں بھی اب اُن کے تئیں احترام کا جذبہ باقی نہیں رہا، دیگر فرقوں اور طبقوں کے ساتھ یہی ہو رہا ہے اِن پر حملہ ہو رہے ہیں اسی باعث میرا ذہن پریشان رہتا ہے جس کے سبب یہ اعتراف (ایوارڈ کی شکل میں) میرے لیے باعث مسرت نہیں بن سکا جسنتا کیر کٹا کو یہ بھی شیکایت ہے کہ مین اسڑیم میڈیا ادیباسیوں کے مسائل و مصائب کے ساتھ انصاف نہیں کرتا جسنتا کیرکٹا، جو 3اگست 1983 کو جھارکھنڈ کے ضلع مغربی سنگھ بھوم کے ایک گاؤں (کھداپوش) میں پیدا ہوئی جسنتا کیر کٹا کی دو کتابیں "انگور" (جو انگار یعنی آگ سے مشتق ہے) اور "جڑؤں کی زمین" منظر عام پر آچکی ہیں جبکہ جس کتاب (ایشور اور بازار) کیلئے اُنہیں ایوارڈ دیا جانے والا تھا وہ اُن کی تیسری تصنیف ہے اُن کی نظموں میں احساس محرومی تو ہے ہی شہروں اور دیہاتوں کی زندگی کا تضاد بھی موجود ہے جو دولت احساس اور بےحسی کے درمیان خط تفرق کھنچتا ہے ذلیل میں ان کی ایک نظم بہ شکریہ "🔴انقلاب ممبئی 26نومبر کے سنڈے میگزین کے ادبی صفحہ سے انتخاب و ٹائپنگ احمد نعیم ⭕ندی، پہاڑ اور بازار⭕"گاوں میں وہ دن تھا اتوارمیں ننھی پیڑھی کا ہاتھ تھام کرنکل گی بازارسوکھے درختوں کے بیج دیکھاایک پتلی پگڈنڈیمیں نے ننھی پیڑھی سے کہادیکھو یہی تھی کبھی گاؤں کی ندیآگے دیکھ زمین پر بڑی سی دراڑمیں نے کہا، اسی میں سما گے سارے پہاڑاچانک وہ سہم کر لپٹ گئی مجھ سےسامنے دور تک پھیلا ہوا تھا بھیاوہیہ ( خوفناک) قبرستانمیں نے کہا دیکھ رہی ہو اُسےیہی تھے کبھی تہمارے پرُوجوں (آباء اجداد) کے کھلیانننھی پیڑھی دوڑی : ہم آگے بازارکیا کیا لینا ہے پوچھنے لگا دُکانداربھیاّ تھوڑی سی بارش،تھوڑی گیلی مٹیایک بوتل ندیدو ڈبہ پہاڑاِدھر دیوار پر ٹنگی ایک پرکرتی بھی دے دواور یہ بارش اتنی مہنگی کیوں؟؟دُکاندار بولا : یہ نمی یہاں کی نہیں،دوسرے گرہ سے آئی ہےمندی ہے چھٹانک بھر منگوائی ہےپیسے نکالنے ساڑی کی کور ٹٹولیچونکی دیکھاآنچل کی گانٹھ میں روپے کی جگہپورا وجود مُڑا پڑا تھا___________غزل. اس کی آنکھوں کے اک اشارے پرلوگ بیٹھے رہے کنارے پر اس کی کوئی تو مصلحت ہوگیباندھ رکھّے ہیں جو ہمارے پراس کے قدموں کی آہٹیں سن کرمچھلیاں آگئیں کنارے پررقص کرتی ہے روشنی گھر میںچاند کیا آگیا دُوارے پرزیست کے آسماں پہ اڑنے کوکتنے بے تاب ہیں کنوارے پرہنس کے جیتے ہیں لوگ دنیا میںایک تنکے کے بھی سہارے پرجتنا لکھا ہے اتنا ملنا ہےچاہے جتنا ندیم مارے پرعرفان ندیم

*🛑سیف نیوز اُردو*

’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...