Monday, 22 September 2025
بات بھگوا ملزمین کی !اتواریہ : شکیل رشیدتفتیشی ایجنسی این آئی اے نے کہا ہے کہ مالیگاؤں بم بلاسٹ ۲۰۰۸ء کے ’ بھگوا ملزمین ‘ کے بری کیے جانے کے فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا ، بس ذرا عدالتی فیصلے کا جائزہ لے لیں ۔ کیا واقعی این آئی اے ہائی کورٹ جائے گی ؟ شاید نہیں ، کیونکہ ریاستی وزیراعلیٰ دیویندر فڈنویس سے لے کر آر ایس ایس کے کارکنان اور بھگوا تنظیموں کے ذمہ داران تک چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ ’ ہندو دہشت گرد ہو ہی نہیں سکتا ‘ ، یعنی ہندو قوم پر دہشت گردی کے جو الزام لگائے جاتے ہیں یا لگائے گیے ہیں وہ بے بنیاد ہیں ، ان کے پسِ پشت کوئی نہ کوئی سازش ہوتی ہے ۔ ان سب کے کہنے کا مطلب یہی نکلتا ہے کہ یہ سادھوی اور کرنل جو دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیے گیے تھے ، سب بے قصور تھے ۔ ظاہر ہے کہ جب ریاستی وزیراعلیٰ اپنے بیانات میں سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر اور کرنل پروہت اینڈ کمپنی کو ’ کلین چِٹ ‘ دے رہے ہیں ، تو این آئی اے کیسے بری ہونے والوں کو دوبارہ عدالت کے کٹگھرے میں کھینچنے کی جرأت کر سکتی ہے ! اسی لیے اندازہ یہی ہے کہ ہوگا کچھ نہیں ۔ ویسے بھی این آئی اے تو ابھی فیصلہ کا ’ جائزہ ‘ لے گی ، اور اس کے بعد ہی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا فیصلہ کرے گی ، پتا نہیں جائزے کا عمل کب تک جاری رہے ! سارے بھگوا ملزمین جیل سے باہر آگیے ہیں ، باہر آنے کے بعد جشن منا رہے ہیں ، بلکہ جشن کا سلسلہ تو عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد ہی سے شروع ہے ۔ مالیگاؤں کے بھکو چوک پر ، جہاں ۲۰۰۶ء میں بم بلاسٹ ہوا تھا ، اور بے قصور افراد دہشت گردی کی بھینٹ چڑھے تھے ، وہاں بھگوا عناصر نے فیصلے والے دن ہی زوردار جشن منایا تھا ۔ سچ تو یہ ہے کہ جس دن اے ٹی ایس کے سربراہ ہیمنت کرکرے دہشت گردی کی بھینٹ چڑھے تھے ، اس دن بھی جشن منایا گیا تھا ۔ اور اسی دن سے اس مقدمے کا رُخ پلٹ گیا تھا ۔ ویسے خصوصی عدالت نے ان ’ بھگوا ملزمین ‘ کو باعزت بری نہیں کیا ہے ، ان کو شک کا فائدہ دیا ہے ، کیونکہ جو ثبوت این آئی اے نے پیش کیے تھے ، اُن کی کڑیاں درمیان سے غائب ہیں ، کوئی بھی عدالت نامکمل کڑیوں کی بنا پر ملزمین کو بری ہی کرتی ۔ اس مقدمے کی ایک سرکاری وکیل روہنی سالیان ، جو بہت پہلے اس مقدمہ سے علاحدہ ہوچکی ہیں ، کا بیان آیا ہے کہ انہیں پتا تھا یہی فیصلہ آنے والا ہے ! ایسا انہوں نے کیوں کہا یہ وہی جانیں ، لیکن ان کے پرانے بیانات کچھ کچھ اشارہ دیتے ہیں کہ اُن کے کہنے کا مطلب کیا ہے ۔ وہ یہ کہتے ہوئے اس مقدمہ سے الگ ہوئی تھیں کہ ایجنسی کی طرف سے اُن پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ اس معاملہ میں نرمی برتیں ۔ اب تو سادھوی پرگیہ یہ دعویٰ کرتی نظر آ رہی ہیں کہ انہیں ٹارچر کیا گیا تھا کہ وہ مودی ، بھاگوت اور دیگر لیڈروں کے نام لیں تاکہ ان کو بھی جھوٹے معاملے میں ملوث کیا جا سکے ! یہ جو دس دنوں کے اندر دہشت گردی کے دو معاملات کے جو فیصلے آئے ہیں ان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مسلم ملزمین کے لیے الگ پیمانہ ہے ، اور ہندو ملزمین کے لیے الگ ۔ 11/7 کے مسلم ملزمین بری ہوئے ، تو دوسرے ہی دن حکومت مہاراشٹر سپریم کورٹ چلی گئی اور فیصلے پر اسٹے لے لیا ۔ لیکن ’ بھگوا ملزمین ‘ کے معاملہ میں اس کا رویہ بالکل برعکس ہے ۔ یہ ہے آج کے ہندوستان کی حقیقی تصویر !_______"تیری میری کہانی" نمبر 34" خدا کے نام ایک باپ کا خط(جس کے بچے اس کی آنکھوں کے سامنے سیلاب میں بہہ گئے)"مصنف،عمار نعیمی (لاہور، پاکستان).......................................................................اے خداوندِ کائنات! یہ خط تیرے جلالی دربار میں ایک ایسے بندے کی لرزتی انگلیوں سے لکھا جا رہا ہے جس کا دل غم کی ضربوں سے چُور ہو چکا ہے اور جس کی امیدیں شبِ فراق کے اندھیروں میں راکھ ہو گئی ہیں۔ ہر لفظ ایک آنسو ہے اور ہر جملہ ایک آہ، جو تیری رحمت کے دریا میں پناہ چاہتی ہے۔ وہ دل جو اب خونِ جگر سے لتھڑا ہے۔ میری آواز شاید تیری رحمت کے تخت تک نہ پہنچے مگر یہ چیخیں، یہ سسکیاں، یہ دہائیاں جو میرے سینے سے نکل رہی ہیں کیا وہ تیری سماعت سے محروم رہیں گی؟ اے آسمانوں کے مالک! تو نے میری آنکھوں کے سامنے میری دنیا کو پانی کے وحشی ریلے میں یوں بہا دیا جیسے فرعون کی فوجیں غرقاب ہوئیں ہوں۔ میرے بچوں کے چہرے (جن پر کبھی بہاروں کی خوشبو مہکتی تھی) اب یاد کی ریت میں دفن ہو چکے ہیں۔ ان کی ہنسی، جیسے کسی نخلستان میں چشمہ چھم چھم بہتا ہو، سیلاب کے شوریدہ تھپیڑوں میں ہمیشہ کے لیے گم ہو گئی۔ ان کی چھوٹی چھوٹی خواہشیں ؛ چاند کے ساتھ ریس لگانا ، تتلی پکڑنے کی خواہش، مسکراتی ہوئی گڑیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سب اس بے رحم پانی کی بھوکی لہروں نے نگل لیں جیسے ہاتھی کے قدموں تلے پھول کچلے جائیں۔میں چیخا، جیسے یعقوب نے یوسف کے غم میں آنکھیں سفید کر لیں۔ پکارا، جیسے کربلا کے خیموں میں زینب کی صدا گونجی ہو۔ مگر میری ہر صدا پانی کے غضب ناک طوفان میں یوں گم ہوئی جیسے تاریکی میں جگنو کا نور۔ میری فریاد آسمان سے ٹکرا کر لوٹ آئی۔ میری بے بسی عرش کو ہلا نہ سکی اور میں اُس پیالے کی طرح رہ گیا جو چھلک چکا ہو مگر لب تک نہ پہنچ سکا۔اے ربِ کائنات ! میرا دل اب وہ تنور بن چکا ہے جس میں آگ کی لپٹیں ہر لمحہ میری روح کو جلا رہی ہیں۔ میری راتیں اب خوابوں کی آغوش سے محروم ہو چکی ہیں۔ وہ خواب جن میں میرے بچوں کی ہنسی گونجتی تھی، ماں کی لوری سانس لیتی تھی اور امید کا چراغ لرزتا تھا۔ اب ان راتوں میں صرف ایک بے رحم سناٹا بسیرا کیے بیٹھا ہے۔ ایسا سناٹا جو قبر کی مٹی جیسا ٹھنڈا اور کفن کی شکنوں جیسا خاموش ہے۔ یہ سناٹا میری ہڈیوں کو چھیدتا نہیں، جیسے کوئی برف کی سوئی روح کے ریشے ریشے میں اترتی ہو، جیسے چیخ دب جائے اور درد صدا بن کر سینے میں گونجتا رہے۔رات آتی ہے تو اندھیرے میری چارپائی کے گرد یزید کے گھوڑوں کی طرح دندنانے لگتے ہیں اور نیند میری آنکھوں سے یوں روٹھ گئی ہے جیسے کربلا کے بعد سکینہ کی مسکراہٹ۔ میرے بچے پانی کی موجوں میں گم ہو گئے اور میں ہر لمحہ اسی پانی میں خود کو ڈوبا ہوا تصور کرتا ہوں جہاں میرے بچوں کی لاشیں تیرتی ہوئی گئیں۔ اے خدا ! تو نے کیوں میری دنیا اجاڑ دی؟ کیا میرا گناہ اتنا بڑا تھا کہ تو نے میری اولاد کو اپنے رحم سے محروم کر دیا؟ میں نے تو بس تیری مخلوق سے محبت کی اپنے بچوں کو سینے سے لگایا، ان کی ہنسی کو اپنی زندگی کا سہارا بنایا۔ مگر تو نے ایک پل میں سب کچھ چھین لیا۔ کیا تیرا دل نہیں پسیجا جب میرے بچوں کی چیخیں پانی کے شور میں دب گئیں؟ کیا تیری رحمت کا دریا اس وقت سوکھ گیا تھا؟ معذرت میرے خدا ! تُو تو "لم یلد ولم یلد" ہے۔ تو اولاد کا درد کیا جانے! تیرے لیے تو یہ سب ایک تماشا ہے مگر میرے لیے یہ میری جان کا بہتا ہوا لہو ہے۔ میں ہر روز مرتا ہوں ۔ ہر سانس کے ساتھ میری روح پگھلتی ہے جیسے کسی موم بتی کو دونوں طرف سے جلا دیا جائے۔ میری روح کو دیمک چاٹ رہی ہے ، میرا وجود کھوکھلا ہو چکا ہے۔ میرا وجود اب وہ صحرا ہے جہاں نہ پانی کی ایک بوند ہے نہ رحمت کا کوئی سایہ حتیٰ کہ کوئی سراب تک نہیں ۔ اے ربِ ذوالجلال ! اگر تیری رحمت اتنی عظیم ہے تو پھر میری دعاؤں کو کیوں نظر انداز کیا؟ جب میں اپنے بچوں کو بچانے کے لیے پانی سے لڑ رہا تھا تو کیا تُو اپنے تخت پر بیٹھا یہ سب دیکھ رہا تھا؟ کیا تیرے لیے میری چیخیں محض ایک آواز تھیں؟ میں تو موت مانگتا ہوں کیونکہ جینا اب میرے لیے عذاب بن چکا ہے۔ ہر سانس مجھے اس لمحے کی یاد دلاتی ہے جب میرے بچوں کے ہاتھ میرے ہاتھوں سے چھوٹ گئے۔ کیا تُو اس درد کو سمجھ سکتا ہے؟ نہیں ، تُو نہیں سمجھ سکتا کیونکہ تو نہ کسی کا باپ ہے اور نہ کسی کی اولاد۔اے ہمیشہ رہنے والے رب ! معذرت خواہ ہوں کہ میں بھول گیا تھا کہ تو "بے نیاز" ہے۔ تجھے کسی کی پروا نہیں ، بچوں کی بھی نہیں ۔ بچوں کی بھی نہیں ، بچوں کی بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہائے !!!!!!! اے رحمان ! میرے بچے بہہ گئے۔ میرے بچے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تیرا عاجز بندہایک باپ، جس کی دنیا اب پانی کی موجوں میں گم ہے۔___________-_________*خاندانی نظام اور ہم* (حادثوں سے بچئے...) *شگفتہ سبحانی*گڈ ایوننگ ناظرین موسم باراں کے شروع ہوتے ہیجانوں کے ڈوبنے کی خبریں ملنا موصول ہوگئی ہیںپوچھنا یہ تھا کہ سرکار کی طرف سے کہا گیا تھا، کہ گرنا ندی میں نہانے والوں پر کاروائی ہوگیپچھلے برس تو ہیلی کاپٹر بھی آۓ تھے،اس برس تو وردی والے نظر نہیں آرہے نہ ندی پہ نہ پل پہنہ چالیس گاؤں پھاٹے پہنہ سواند پھاٹے پہسرکار سے درخواست ہےکہ پولس آفییسران /ہوم گارڈز کی ڈیوٹی گرنا ندی، موسم پل (ٹریفک) آگرہ روڈ، چالیس گاؤں پھاٹے پہ مستقل رکھی جاۓندیوں کی سیلابی صورت حال کو دیکھتے ہوۓ، ہر وقت وہاں کڑی نگرانی ہونوجوان بچوں کو اور عمر دراز حضرات کو وہاں ٹہلنے سے روکا جاۓ.اور سب سے بڑی درخواست خاندانوں سے ہےہر سال یاتری کروں/سیاح /مداحندی کی سیلابی کیفیات کا شکار ہوتے ہیںندی، جھیل، آبشار، جھرنےایسے ہل اسٹیشن جہاں پہ راستےدشوار ہوںگھاٹ، جہاں جھیج کی کیفیات پائی جائیںوہاں گھر کے مرد کس طرح اپنے گھر کی خواتین اور چھوٹے بچوں کو ٹہلانے لے جاتے ہیںیہ کوئی عقلمندی نہیںیہ نری بے وقوفی اور جاہلیت ہےلوگ محض ندی میں، ڈیم میں نہانے کیلئے کیسی کیسی جان کی قیمتیں چکا رہے ہیں کمال یہ کہ بھرے پرے خاندان والے، پورے پورے خاندانوں کے ساتھ، مع ننھے بچوں کے حادثوں کو دعوت دیتے ہیںموت برحق ہے لیکن.. ٹھہرئے *سوات ندی ٹریجڈی* نے آج پوری دنیا کو ہلا دیا ہے لوگوں کے دل دھڑکنا بند ہوگئے تھے جب وہ ویڈیو وائرل ہوۓ تھے، لوگ افسوس کررہے تھے، لیکن سوال یہ بھی ہے کہ پانی کی سیلابی کیفیات کو دیکھتے ہوۓ وہاں جا کر "فوٹو سیشن" کرنے سے خود کو روکا جاسکتا تھا پوچھنا یہ ہےکہ کیا وجہ ہے گھر کے بڑے جو ذمہ دار ہوتے ہیں انہیں یہ بے تکی اور نہایت غیر ذمہ دارانہ حرکت پہ شرم آنی چاہئے کیا ان سے نہیں پوچھا جاۓ گا کہ انہوں نے جانتے بوجھتے گھر والوں کو موت کہ منہ میں کیسے ڈھکیل دیا؟ وہ ڈھال کیوں نہیں بنتے وہ خواتین بچوں کو سمجھا سکتے ہیں کہ اتنا فونت استعمال کرو نہ کہ خود ہی فون پہ لگے رہیں پہلے بارش نہیں بھی ہوتی تھی تو ہمارے گھر کے ذمہ دار، چھتری بیگ میں رکھ دیتے تھے، رین کوٹ اور گم بوٹ دلواتے تھے کہ سر نہ بھگانا، سر میں درد ہوگااور دیکھنے میں یہ آرہا ہے کہ بائیک پہ خواتین ننھے بچوں کو ایک ہاتھ میں پکڑ کر دوسرے ہاتھ سے موبائل فون چلاتی رہتی ہیں اور بچہ سرد موسم میں بنا لحاف کے اکڑا بیٹھا ہوتا ہےاور مرد حضرت، گردن ٹیڑھی کر کے فون پہ باتیں کرتے بائیک چلاتے ہیںسڑک کے کنارے دو منٹ رُک کربات کی جاسکتی ہے، تاکہ کوئی حادثہ نہ ہوڈرائیونگ کے وقت بار بارفون اٹھانا اتنا ضروری نہیںفیمیلی کے ساتھ وقت گزارتے ہوۓہر کسی کو چاہئے کہ فون کا مختصر اور کم استعمال کرےیہ فون ہی ہے جس نے لوگوں کے خاندانی نظام کو تباہ کر دیا ہےسب کے موبائل فون میں ہیوی ہیوی ایسے ایسے لاک لگے ہوتے ہیںایک ذرا بیوی لاک اوپن کرنے کو کہہ دے تو وہ مرد کھانے کو آجاتا ہے بالکل پاگل ہوجاتا ہے گھر بسیں گے ایسے؟؟بیوی کے لاک کھولنے میں شوہر شک کر کے ادھ مرا ہوجاتا ہے، یہ فونوں نے سب سے زیادہ طلاق کرواۓ ہیں اب کہاں ہے سرکار، اور تین طلاق پہ بین کرنے والوں کو پہلے فون بنانے والی کمپنیوں پہ بین لگانا چاہئے اور کچھ جگہ تو ماں باپ کو پتہ بھی نہیں ہوتا کہ بچے فون میں کیا کرتے ہیں، لوگ انہیں طعنے مارتے ہیں، کوئی یہ نہیں سوچتا کہ ان بچاروں کا کیا قصور ہے انہیں تو فون چلاتے بھج نہیں آتا، ماں باپ کو ٹارگٹ کرنا بند کیجئے اس معاشرہ کو اب دینی اور دنیوی اعتبار سے مسیحاؤں اور راہ نماؤں کی سخت ضرورت ہے*فون کی بجاۓ رشتوں کو اہمیت دیں*جس فون پہ میاں بیوی ایک دوسرے کو گالی گلوچ اور نا زیبا الفاظ کہتے ہیں ناں، اسی موبائل سے ایک دوسرے سے " سوری، غلطی کی تلافی،" احساس ذمہ داری اورحقوق ادا کرنے میں پیشی کی بات کریں" ، *گھر جنت کیوں نہ بنیں گے*بچے جس فون سے اپنے ایکس(Ex) اور نیکسٹ(Next) کو جلانے کی کوششیں کرتے ہیںاسی فون سے اپنے ماں باپ کو اچھے میسج اور پھولوں کی تصاویر بھیجیں، انہیں چھوٹی چھوٹی پیاری یادیں دیں سب سے زیادہ ہماری محبت کے مستحق ہمارے ماں باپ ہیں اور وہ شرک سفر جس نے آپ کو تھاما ہوا ہے. خاندانی نظام کو مضبوط رکھیںاور ایسی جگہوں پہ بالکل نہ جائیں جہاں پہ رسک ہوجانا ہی ہے تو خوبصورت پھولوں کے باغات، سبز کھیت سڑکوں کے آس پاس موسم باراں کے دلکش مناظر گھر کے لان، دالان، باغیچےمسجدیں جہاں سکون اترتے ہیں ایسی قدرتی جگہوں پہ جائیںیاد رکھئے.. اپنی اور اپنے خاندان کی حفاظت سب سے اوپر رکھیں.*آج کے کمیونٹی رئیل فیس سپورٹس آف کمیونٹی*▪️محترم شکیل تیراک صاحب، ▪️قلعہ تیراک گروپ، اور تیراک و رسکیو مالیگاؤں ٹیم،▪️ مالیگاؤں سنگھرش سماچار جنہوں نے نشے کے خلاف پہلا قدم اٹھایا ہے، ▪️شفیق اینٹی کرپشن اینڈ ٹیم جو خودکشی کو لے کر بہت سترک ہے ▪️مولانا امین القادری صاحب، اصلاح معاشرہ کے کامیاب پروگرام کے لئے مبارکباد کے لائق ہیں ▪️خواتین میں دینی درس اور اصلاحی درس کیلئے محترمہ رقیہ صاحبہ جن کی اصلاحی تقاریر.، درس اور سماجی و دینی والنٹریس کی تیاری بے مثال ہے، ▪️حج ٹریننگ کروانے والے تمام اداروں کا خصوصی شکریہ ▪️ثقافتی چہروں میں ادب سے وابستہ و مزاح سے وابستہ تمام ادبی انجمنوں کے سربراہ قابل مبارکباد ہیں ▪️ ساتھ ہی ان تمام خواتین والنٹرز کا پوری شہر کی جانب سے شکریہ ادا کیا جاتا ہے جن کی نشاندہی سے غیر سماجی یا بے حیائی پہ فوری روک لگا کر مرکزی تنظیمیں ایک جٹ ہوکر برائی کے خلاف متحد ہوتی ہیں▪️اسی کے ساتھ ہندو مسلم ایکتا کی مثال قائم رکھنے والے وہ تمام دینی بھائی جنہوں نے گڑھ یاترا میں پانی پلانے کے فرائض ادا کر کے، بھوکوں کو کھانا کھلا کے انسانیت کی عظیم مثال قائم کی ہیں.. ان تمام کا پورے سماج کی جانب سے شکریہ شکریہ شکریہ *ویلکم زندگی*ایک نئی شروعات....آئیے برائیوں کے خلاف پُر امن احتجاج درج کرتے ہیں - - - کمیونٹی انفلوئنزر----- *Shagufta Subhani*_______________⭕🚩🚩نیلسن منڈیلا کی پسندیدہ نظمرانا محمد آصفجب اس کی عمر چودہ برس ہوئی تو معالجوں نے بتایا کہ اسے ہڈیوں کی ٹی بی ہے اور زندگی بچانے کے لیے اس کی ٹانگ کاٹنا ضروری ہے۔ سترہ برس کی عمر میں اس کی ٹانگ کاٹ دی گئی۔ کرب و ملال کی اس کیفیت میں اس نے ایک نظم کہی جو آج برسوں بعد بھی زندہ ہے۔ یہ تذکرہ ہے، انگریز شاعر ولیم ارنسٹ ہینلے (William Ernest Henley) اور ان کی مشہور زمانہ نظم Invictus کا! لیکن اس نظم کا ایک اور حوالہ بھی ہے۔ اپنی کرب ناک بیماری سے لڑتے ہوئے مایوسی میں گھرے ہینلے نے خود کو حوصلہ دینے کے لیے یہ اشعار کہے تھے اور افریقا کے ایک سپوت نے، جو انسانیت کے جسم میں زہر کی طرح سرائیت کرنے والے "نسلی تعصب" کے خلاف لڑرہا تھا، اسی نظم کو اپنی جدوجہد کا ترانہ بنا لیا۔ یہ باہمت نیلسن منڈیلا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اپنے دورِ اسیری میں وہ یہ نظم اپنے جیل کے ساتھیوں کو پڑھ کر سنایا کرتے تھے۔ ان کی زندگی میں لندن کے ایک اوپیرا گروپ نے ان کی آواز میں یہ نظم ریکارڈ کرکے اس کی باقاعدہ دُھن تیار کی اور منڈیلا کی زندگی پر بننے والی ہالی ووڈ کی ایک فلم کا نام بھی اسی نظم کے عنوان پر رکھا گیا۔ اس عظیم لیڈر کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے اس نظم کا آزاد اور تاثراتی ترجمہ پیش خدمت ہے۔ منڈیلا کی یہ پسندیدہ نظم ان کی جدوجہد سے بھرپور زندگی کی تصویر کشی کرتی ہے اور ساتھ ہی ان کی یادوں سے جڑی ایک یاد ہے، ملاحظہ فرمائیں!ناقابلِ شکستاس رات سے پرے، جو مجھے گھیرے ہوئے ہےاور ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک، کسی کھائی کی مانند سیاہ ہےمیں خداوندانِ دہر کا شکر گزار ہوں، ان سب عطاؤں کے لیےجو میری ناقابلِ تسخیر روح پر کی گئیںجب بھی مجھے حالات نے اپنی گرفت میں جکڑانہ تو میں گھبرایا اور نہ بَین کیامقدر کی پیہم ضربوں تلےمیرا سر خون آلود ہے مگر جُھکا نہیںاس جائے قہر و ملال سے بھی سِواخوف کے دھندلے سائےاور زِیاں کاری کی نذر ہوتے برسوں نے مجھےبے خوف پایا اور آئندہ بھی ایسا ہی پائیں گےاب اس کی کیا پروا کہ راستے کتنے دشوار ہیںیا راہیں کتنی پُر پیچ ہیںمیں اپنی قسمت کا خود مختار ہوںمیں اپنی کشتیِ روح کا آپ ملاح ہوں*مشمولہ: سہ ماہی 'اجرا'، کتابی سلسلہ نمبر 16، اکتوبر تا دسمبر
*🛑سیف نیوز اُردو*
’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...
-
مالیگاؤں کارپوریشن الیکشن 2017 میں تمام امیدواروں کو اپنے وارڈ میں کتنی ووٹ ملی مکمل تفصیل