Monday, 31 August 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*


*🛑انعام الرحمٰن کی ایک اور نمایاں کامیابی، انگلش میڈیم میں پولیٹیکل سائنس سے نیٹ کوالیفائی کرنے والے شہر عزیز کے پہلے طالب علم*
شہر عزیز کے ہونہار نوجوان انعام الرحمٰن حفیظ الرحمٰن نے انگلش میڈیم میں پولیٹیکل سائنس مضمون سے نیٹ کوالیفائی کر کے ایک اور اعزاز اپنے نام کر لیا۔ وہ شہر عزیز کے پولیٹیکل سائنس میں انگلش میڈیم سے نیٹ کوالیفائی کرنے والے پہلے طالب علم (Male) جبکہ مجموعی طور پر شہر میں دوسرے پولیٹیکل سائنس میں انگلش میڈیم سے نیٹ کوالیفائیڈ امیدوار ہونے کا اعزاز رکھتے ہیں۔ ان کی اس شاندار کامیابی پر علمی، تعلیمی اور سماجی حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
انعام الرحمٰن معروف سماجی شخصیت حفیظ الرحمٰن المعروف پپو سیٹھ پھلکے والے کے فرزند ہیں۔ انعام الرحمٰن نے اپنی تعلیمی زندگی میں مسلسل محنت، لگن اور عزم کے ذریعے ایک کے بعد ایک کامیابی حاصل کی ہے، جو ان کے روشن مستقبل کی واضح علامت ہے۔
انعام الرحمٰن کی تعلیمی کامیابیوں کا سلسلہ خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ سال 2024 میں انعام الرحمٰن نے پہلی ہی کوشش میں پولیٹیکل سائنس میں انگلش میڈیم سے سیٹ کوالیفائی کیا اور شہر عزیز کے پہلے طالب علم ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ 
اسی تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے فروری 2026 میں انعام الرحمٰن نے پہلی ہی کوشش میں CTET سوشل اسٹڈیز انگلش میڈیم سے کامیاب کیا۔ اس کے بعد پولیٹیکل سائنس کے مضمون میں انگلش میڈیم سے نیٹ کوالیفائی کرنا انعام الرحمٰن کی علمی استعداد، مستقل مزاجی اور محنت کا واضح ثبوت ہے۔
انعام الرحمٰن کی یہ کامیابی صرف ایک فرد کی کامیابی نہیں بلکہ شہر عزیز کے تعلیمی منظرنامے کے لیے بھی ایک قابل فخر اور حوصلہ افزا لمحہ ہے۔
انعام الرحمٰن کی اس نمایاں کامیابی پر اہل خانہ، اساتذہ، دوست احباب اور شہر کے علمی و سماجی حلقوں کی جانب سے مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ 
دعا ہے کہ اللّه تعالیٰ انعام الرحمٰن کو مستقبل میں مزید کامیابیاں عطا فرمائے اور وہ اعلیٰ تعلیم و تحقیق کے میدان میں اپنے خاندان، اساتذہ اور شہر کا نام مزید روشن کریں۔







*🛑نشہ میں ملوث افراد کے اہل خانہ متوجہ ہوں*
*از قلم: شعیب احمد محمدی*

انسان کو اللہ تعالیٰ نے اشرف المخلوقات بنایا، اسے عقل، شعور اور اچھے برے میں تمیز کرنے کی صلاحیت دی۔ لیکن جب یہی انسان نشے کی اندھیری وادی میں قدم رکھتا ہے تو وہ اپنی اسی عقل اور انسانیت کو اپنے ہاتھوں سے دفن کر دیتا ہے۔

آج ہمارا مالیگاؤں شہر، جو علم و ادب اور محنت کشوں کا شہر کہلاتا تھا، نشے جیسی لعنت کی لپیٹ میں آتا جا رہا ہے۔ گانجا، چرس، شراب، گٹکا، اور اب تو خطرناک انجیکشن اور گولیاں تک عام ہوتی جا رہی ہیں۔ یہ صرف ایک نشہ نہیں، یہ پورے گھر کی بربادی کا سامان ہے۔

*نشہ کیا تباہ کرتا ہے؟*

1. *صحت کی تباہی:* نشہ سب سے پہلے انسان کے جسم کو کھوکھلا کرتا ہے۔ جگر، گردے، دل اور دماغ سب ختم ہو جاتے ہیں۔
2. *کردار کی تباہی:* نشئی انسان جھوٹا، چور اور بے بس بن جاتا ہے۔ وہ اپنی ماں کے زیور، بہن کے پیسے اور بچوں کا رزق بھی نشے میں اڑا دیتا ہے۔
3. *خاندان کی تباہی:* ایک نشئی کے ساتھ صرف وہ اکیلا نہیں روتا، اس کی ماں، اس کی بیوی، اس کے معصوم بچے سب روتے ہیں۔ گھر میں لڑائی، فاقہ اور ذلت آ جاتی ہے۔
4. *نوجوان نسل کی تباہی:* سب سے بڑا حملہ ہماری نوجوان نسل پر ہے۔ اسکول اور کالج جانے والا بچہ جب نشے میں پڑ جاتا ہے تو اس کی تعلیم، اس کا مستقبل اور اس کے والدین کے سارے خواب چکنا چور ہو جاتے ہیں۔

*ہماری ذمہ داری کیا ہے؟*

یہ کہہ دینا آسان ہے کہ "وہ نشئی ہے، اس سے دور رہو"۔ لیکن اسلام ہمیں یہ نہیں سکھاتا۔ اسلام نفرت سے نہیں، محبت سے اصلاح سکھاتا ہے۔

1. *والدین کا کردار:* اپنے بچوں پر نظر رکھیں۔ وہ کہاں جاتا ہے، کس کے ساتھ بیٹھتا ہے، اس کا موبائل اور اس کے دوست کیسے ہیں؟ اسے وقت دیں، اس سے محبت سے بات کریں۔ بچہ ڈانٹ سے نہیں، محبت سے سدھرتا ہے۔
2. *اساتذہ اور علماء کا کردار:* اسکول اور مسجد میں نشے کے نقصانات پر کھل کر بات کریں۔
3. *معاشرے کا کردار:* نشہ بیچنے والوں کا بائیکاٹ کریں۔ ان کی حوصلہ شکنی کریں۔

اور جو بھائی اس دلدل میں پھنس چکے ہیں، ان سے نفرت مت کریں۔ ان کو گلے لگائیں۔ انہیں سمجھائیں کہ یہ راستہ موت کا راستہ ہے۔ انہیں علاج کی طرف لائیں۔

*الحمدللہ، مالیگاؤں میں امید کی کرن باقی ہے*

اللہ کا شکر ہے کہ مالیگاؤں میں اب بھی ایسے درد مند دل رکھنے والے لوگ موجود ہیں جو اس فتنے کے خلاف دن رات کام کر رہے ہیں۔

• ایم رؤف ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی،
• میکس اسٹیپس فاؤنڈیشن (قدوائی روڈ، رضوان بیٹری والے کی آفس) 
• اور نیو لائف ہیلپ اینڈ کونسلنگ سینٹر (نمیرہ ہائٹس، شاپ نمبر 111، للے چوک) 
 الحمدللہ یہ ادارے خاموشی سے اس قوم کی خدمت کر رہے ہیں۔ آپ ایک مرتبہ انکے پاس ضرور تشریف لائیں انشاءاللہ یہ آپکے لیے اور آپکے اہل وعیال کے بہتر مستقبل کیلئے نشہ میں ملوث افراد کا نشہ چھڑانے میں بہت اچھا رول ادا کررہے ہیں آپکی آمد انکے لیے باعث فخر اور نشہ سے نجات کا ذریعہ بنے گی۔

*میری مالیگاؤں کی تمام ماؤں، بہنوں، اور بھائیوں سے ہاتھ جوڑ کر درخواست ہے:*

اگر آپ کے گھر میں، آپ کے محلے میں کوئی بھی نوجوان نشے کی لپیٹ میں ہے تو اسے اس کے حال پر مت چھوڑیں۔ یہ نہ سوچیں کہ لوگ کیا کہیں گے۔ آج شرمائیں گے تو کل ساری زندگی روئیں گے۔

اسے محبت سے سمجھائیں، اور فوراً ان نمبروں پر رابطہ کریں۔ آپ کا ایک فون، آپ کی ایک کوشش کسی کی جان بچا سکتی ہے، کسی کا گھر ٹوٹنے سے بچا سکتی ہے۔

نشہ چھڑوانے یا کسی بھی قسم کی طبی امداد کے لیے رابطہ کریں:


یاد رکھیں! آپ کی تھوڑی سی توجہ کسی کے لیے نئی زندگی بن سکتی ہے۔

آئیے عہد کریں کہ ہم اپنے شہر مالیگاؤں کو نشہ سے پاک، صاف اور روشن شہر بنائیں گے۔

نشے سے پاک نوجوان ہی قوم کا اصل سرمایہ ہیں۔

اللہ ان اداروں کو اس نیک عمل کا بہترین اجر عطا فرمائے اور ذخیرہ آخرت بناۓ آمین






*🛑بسم اللہ الرحمن الرحیم*
*شہر کے کاروباری حالات کے پیش نظر آیت کریمہ کا ورد اور دعائیہ مجلس*
 شہر کے کاروباری حالات کا سب لوگوں کو بخوبی علم ہے، کاروباری مندی سے اس وقت لوگ پریشان ہیں، ایسے وقت میں اللہ تعالی کی طرف رجوع، توبہ و استغفاراوردعا کا اہتمام کرنا چاہیے_
 آیت کریمہ کےورد سے بھی مشکلات دور ہوتی ہے اور رزق کی وسعت اور فراوانی حاصل ہوتی ہے، اسی کے پیش نظر خانقاہ رحمانیہ، مالیگاؤں کے زیر اہتمام بروز اتوار مورخہ 30/ اگست بعد نماز عشاء فورا مسجد ہدایت الاسلام( بسم اللہ باغ ) میں ایک دعائیہ مجلس کا اہتمام کیا گیا ہے جس میں آیت کریمہ کا ورد ہوگا اور شہری حالات کے پیش نظر شیخ طریقت حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب( سجادہ نشین خانقاہ رحمانیہ) خصوصی دعا فرمائیں گے_
 واضح رہے کہ آیت کریمہ کا ورد ٹھیک9:00 نو بجے سے شروع ہو جائے گا اس لیے وقت پر مسجد ہدایت الاسلام( بسم اللہ باغ ) پہونچ جائیں_

 منجانب: مریدین و متوسلین خانقاہ رحمانیہ، مالیگاؤں

*🛑سیف نیوز اُردو*


*🛑تصویروں کا سیاہ کھیل اور ٹھپ ہوتا ترقیاتی کام*
*آخر کب جاگے گی مالیگاؤں کی عوام؟*
✍️ *وسیم رضا خان*

مالیگاؤں کی تاریخ صرف کپڑے کے تانے بانے تک محدود نہیں رہی ہے، بلکہ یہ شہر جدوجہد اور صبر کی علامت رہا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے، آج یہ شہر سیاست کے اس خوفناک چوراہے پر کھڑا ہے جہاں اصل مسائل پر دھول جم چکی ہے اور فضول کے تنازعات کو چمکایا جا رہا ہے۔ ایک شہری اور صحافی ہونے کے ناطے میرا مقصد کسی سیاسی جماعت، رہنما، اقتدار میں شامل افراد یا اپوزیشن پر ذاتی حملہ کرنا بالکل نہیں ہے۔ میری دشمنی کسی سیاسی شخص یا لیڈر سے نہیں، بلکہ اس ناکارہ انتظامی نظام اور ان غلط پالیسیوں سے ہے جنہوں نے شہر کی ترقی راستے بند کر رکھے ہیں. جب جب سسٹم اپنی ذمہ داریوں سے بھٹکتا ہے، تب تب ایک غیر جانبدار آواز کا اٹھنا بے حد ضروری ہو جاتا ہے تاکہ عوام کو ان کے سوئے ہوئے شعور کا احساس دلایا جا سکے۔ آج مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن اور یہاں کی سیاست کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ عوامی سہولیات کی جگہ علامتی لڑائیوں نے لے لی ہے۔ دفاتر میں ٹیپو سلطان کی تصویر لگانے یا ہٹانے کا معاملہ نہ تو شہر کی ترقی کر سکتا ہے اور نہ ہی اس سے کسی غریب کے گھر کا چولہا جل سکتا ہے۔ صرف ایک تصویر کے ارد گرد پورے شہر کی ترقی کو روک دینا کسی دور اندیش عوامی نمائندے کی نشانی نہیں ہو سکتی۔ سچا رہنما وہ ہوتا ہے جو نفرت اور تقسیم کی بھدی سیاست کو بالائے طاق رکھ کر صرف سڑک، پانی، صحت، تعلیم اور انتظامی امور جیسے بنیادی مسائل پر بات کرتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس طرح کے کھوکھلے تنازعات کے ذریعے مالیگاؤں کے عکس کو خراب کرنے اور ایک مخصوص برادری کو اوروں کی نظر میں نشانہ بنانے کا راستہ اپنایا جا رہا ہے۔ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ اگر خود کو کسی فکر یا برادری کا رہبر کہتے ہیں، تو انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ دوسروں کے جذبات کو مجروح کر کے سیاست کرنا ہرگز قیادت نہیں ہے۔ کرسی ملنے کے بعد رہنما پورے شہر کا نمائندہ ہوتا ہے، نہ کہ کسی خاص گروہ کا۔ ایک بہترین منتظم اور سچا نمائندہ وہی ہے جو اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلے یا اس کے جائز اعتراضات کا مثبت جواب دے۔ اگر اپوزیشن تقسیم اور جذبات سے کھیلنے والی پالیسیوں پر سوال اٹھا رہی ہے، تو اقتدار میں بیٹھے لوگوں کو خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ اقتدار اور اپوزیشن کے درمیان بحث کا دائرہ اس بات پر ہونا چاہیے کہ میونسپل کارپوریشن کے نظام میں بہتری کیسے لائی جائے، ٹوٹاہوا انفراسٹرکچر کیسے ٹھیک ہو اور پینے کا صاف پانی ہر گھر تک کیسے پہنچے—نہ کہ اس بات پر کہ دفتر کی دیواروں پر کس کی تصویر رہے گی اور کس کی نہیں۔ گدی نشین نمائندے اگر اپنے مخالف گروہ کو سنبھال نہیں سکتے تو یقینا وہ انتظامی امور کے بھی لایق نہیں ہو سکتے. 
مالیگاؤں کی عوام کو اب یہ تلخ سچائی سمجھنی ہوگی۔ جب تک آپ اپنے رہنماؤں سے ترقی کا حساب نہیں مانگیں گے، تب تک وہ آپ کو جذبات کے جال میں الجھا کر اپنی کرسیاں بچاتے رہیں گے۔ میونسپل کارپوریشن آپ کی ہے، یہ شہر آپ کا ہے اور اس کی ترقی پر پہلا حق آپ کا ہے۔ تصویروں اور علامتوں کے فریب سے باہر نکلئے اور اپنے بنیادی حقوق کے لیے متحد ہو کر نظام اور انتظامیہ سے سوال کیجیے، کیونکہ جب عوام بیدار ہوتی ہے، تبھی نظام سدھرتا ہے۔








*🛑جمعیۃ علماء کے تربیتی اجلاس میں ہندو مسلم اتحاد اور باہمی اخوت کے فروغ پر زور*
 ملک کی مسموم فضا کو تبدیل کرنے کے لئے جمعیۃعلماء کے کارکنان آگے آئیں: مولانا سید اسجد مدنی
ممبئی: جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے زیر اہتمام منعقدہ تربیتی اجلاس میں باہمی اخوت، ہندو مسلم اتحاد، سماجی خدمت اور مقامی سطح پر جمعیۃ علماء کی سرگرمیوں کو مؤثر بنانے پر خصوصی زور دیا گیا۔ اجلاس میں ریاست بھر سے جمعیۃ علماء کے ذمہ داران، اراکین اور نمائندہ افراد نے شرکت کی۔
تلاوتِ کلامِ پاک اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ سے اجلاس کا آغاز ہوا۔ بعد ازاں ناظمِ تربیتی اجلاس مفتی محمد یوسف قاسمی، جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء مہاراشٹر، نے اجلاس کے اغراض و مقاصد اور اس کی ضرورت و اہمیت پر روشنی ڈالی۔
اجلاس کی صدارت جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر مولانا حلیم اللہ قاسمی نے کی۔ انہوں نے تربیتی پروگرام کی مزید تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے منعقد کیا جارہا ہے۔ صدرِ محترم مولانا سید ارشد مدنی مدظلہ کی ہدایت پر مرکزی مجلسِ عاملہ کے چار ارکان پر مشتمل کمیٹی برائے ہندو مسلم اتحاد و باہمی اخوت تشکیل دی گئی ہے، جس کے کنوینر مولانا سید اسجد مدنی مدظلہ نائب صدر جمعیۃ علماء ہند ہیں۔
مولاناسید اشہد رشیدی مدظلہ نے کمیٹی کے طریقۂ کار کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس فورم کے تحت منعقد ہونے والے پروگراموں میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کی مؤثر شرکت ضروری ہے۔ اگر کسی پروگرام میں سو افراد ہوں تو کم از کم پچاس افراد دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے بھی شریک ہوں، تاکہ باہمی تعارف، مکالمے اور اخوت کا ماحول پیدا ہو۔
انہوں نے کہا کہ ایسے پروگرام بڑے میدانوں یا وسیع اجتماعات کی شکل میں منعقد کرنے کے بجائے مقامی سطح پر ہندو مسلم اتفاقِ رائے سے منعقد کیے جائیں۔ پروگرام کے اسٹیج پر سیاسی شخصیات کو مدعو نہ کیا جائے، جبکہ برادرانِ وطن میں سنجیدہ، باشعور اور سماجی میدان میں فعال افراد کو خصوصی طور پر شرکت کی دعوت دی جائے۔
کمیٹی کے کنوینر مولانا سید اسجد مدنی مدظلہ نائب صدر جمعیۃعلماء ہند و کنوینر تحریک ہندو مسلم اتحاد نے جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر مولانا حلیم اللہ قاسمی اور جنرل سکریٹری مفتی محمد یوسف قاسمی کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ریاست کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے جمعیۃ علماء کے ذمہ داران اور نمائندہ افراد کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا۔
اپنے خطاب میں مولانا سید اسجد مدنی مدظلہ نے شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کے تاریخی موقف ’’قومیں اوطان سے بنتی ہیں، مذاہب سے نہیں‘‘ کو عصرِ حاضر کی اہم ترین ضرورت قرار دیتے ہوئے اس کی دلنشیں تشریح کی۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کی تمام مخلوق اللہ کا کنبہ ہے، اس لیے بلا تفریقِ مذہب و ملت مظلوموں، مجبوروں اور بے سہارا لوگوں کی مدد کرنا جمعیۃ علماء کا روزِ اول سے بنیادی مشن رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جمعیۃ علماء کے اسی مشن پر اخلاص کے ساتھ عمل کرتے ہوئے دلوں کو جیتا جاسکتا ہے اور ملک کی مسموم فضا کو محبت، اعتماد اور باہمی اخوت میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ اس سلسلے میں مقامی جمعیتوں کو بنیادی کردار ادا کرنا ہوگا، جبکہ ضلعی اور ریاستی سطح کی جمعیتوں کا کام نگرانی، رہنمائی اور سرپرستی فراہم کرنا ہے۔
مولانا مدنی نے جمعیۃ علماء کے دستورِ اساسی کی روشنی میں مقامی جمعیتوں کی اہمیت واضح کرتے ہوئے کہا کہ مقامی جمعیت کے علاوہ دیگر سطحوں کی جمعیتیں ایک مقررہ مدت کے لیے تشکیل دی جاتی ہیں، جبکہ مقامی جمعیۃ کی تشکیل کے لیے کوئی متعین مدت نہیں رکھی گئی۔ دستور میں ہر سال کم از کم دو مقامی جمعیتیں قائم کرنے کی تاکید بھی کی گئی ہے، جس سے مقامی سطح پر تنظیمی و سماجی کام کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
مولانامدنی کی ہدایت پر اجلاس کے صدر مولانا حلیم اللہ قاسمی نے تمام شرکائے اجلاس سے عہد لیا کہ وہ اپنی اپنی مقامی سطح پر جمعیۃ علماء کے بینر تلے برادرانہ اخوت، ہندو مسلم اتحاد، باہمی اعتماد اور خدمتِ خلق کے اس مشن کو آگے بڑھانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔
آخر میں مولانا سید اسجد مدنی مدظلہ کی دعا کے ساتھ تربیتی اجلاس اختتام پذیر ہوا۔ بعد ازاں شرکائے اجلاس نے نمازِ ظہر ادا کی اور ظہرانے میں شرکت کی۔








*🛑اف یہ موبائل!*
*ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت* 
*احساسِ مروّت کو کچل دیتے ہیں آلات*
از قلم: شعیب احمد محمدی - 9284434542

وہ زمانہ یاد کیجیے جب شام کو گھروں میں چراغ جلتے ہی قرآن کی تلاوت کی آوازیں آتی تھیں، مائیں بچوں کو سیرت النبی ﷺ کے قصے سناتی تھیں، ناول اور اصلاحی کتابیں پڑھی جاتی تھیں۔ آج اسی گھر میں ہر فرد کے ہاتھ میں ایک چمکتی ہوئی اسکرین ہے، اور ہر فرد تنہا ہے۔

موبائل نے سہولت تو دی، لیکن ہماری زندگی سے برکت، توجہ اور حیاء چھین لی ہے۔

1. تعلیم کی بربادی
آج نہ اسکول کے طالب علم کا دل پڑھائی میں لگتا ہے، نہ مدرسے کے طالب علم کا۔ استاد سبق پڑھا رہا ہے اور طالب علم کا دماغ موبائل کی خرافاتی ریلز میں الجھا ہوا ہے۔

2. نوجوان ہنر سیکھیں، وقت نہ گنوائیں
آج دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، آرٹیفیشل انٹیلیجنس، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، گرافک ڈیزائننگ اور نئے ہنر کا دور ہے۔ افسوس کہ ہمارا نوجوان اپنا قیمتی وقت ٹک ٹاک اور ریلز پر برباد کر رہا ہے، جبکہ دنیا کا نوجوان اسی موبائل سے ہزاروں کما رہا ہے۔ یاد رکھو! جس قوم کے نوجوان ہنر مند ہوتے ہیں وہ قوم ترقی کرتی ہے، اور جس قوم کے نوجوان صرف اسکرین کے غلام بن جائیں وہ پیچھے رہ جاتی ہے۔ اس لیے اے نوجوانو! اپنے وقت کی قدر کرو، کوئی ہنر سیکھو، اپنی تخلیقی صلاحیت کو جگاؤ، تاکہ تم خود بھی کما سکو، اپنے والدین کا سہارا بن سکو اور اس ملک و ملت کے لیے کچھ کر سکو۔

3. گھروں کا سکون برباد
کل تک جو خواتین پنج وقتہ نماز کے بعد قرآن کی تلاوت کرتی تھیں، آج وہی مائیں اور بہنیں سارا دن ڈراموں، ریلوں اور بے حیاء کلپس میں اپنا وقت ضائع کر رہی ہیں۔ بچے کی تربیت، شوہر کا خیال، گھر کی صفائی، سب اسکرین کی نذر ہو گئی۔

4. تربیت کا جنازہ
آج تربیت کی سب سے بڑی رکاوٹ یہی موبائل بن گیا ہے - نہ لڑکے محفوظ ہیں نہ لڑکیاں، نہ شوہر نہ بیوی۔ لڑکا مدرسے اور اسکول میں ہے تو اس کا ذہن کلاس میں نہیں بلکہ چیٹ میں ہے، لڑکی گھر میں ہے تو اس کی نظریں کتاب پر نہیں اسکرین پر ہیں، شوہر کما کر آتا ہے تو بیوی سے بات کرنے کے بجائے موبائل میں مصروف ہے، اور بیوی شوہر کی خدمت کے بجائے ڈراموں میں الجھی ہے۔ جب تربیت کا یہ رشتہ موبائل کی نظر ہو جائے تو حیا ختم ہو جاتی ہے، اعتماد ٹوٹ جاتا ہے، اور گھر میں رہ کر بھی سب اجنبی بن جاتے ہیں۔

5. بچپن کا قتل
آج ہر گھر میں معاشی تنگی کا رونا ہے، خرچہ پورا نہیں ہوتا، لیکن ہر بچے کے ہاتھ میں 10-15 ہزار کا موبائل اور ہر مہینے اس کا ریچارج وقت پر ہوتا ہے۔ اس موبائل نے بچوں کو ضدی اور چڑچڑا بنا دیا ہے۔ موبائل نہ ملے تو گھر سر پر اٹھا لیتے ہیں، ماں باپ کو آنکھیں دکھاتے ہیں۔

6. عزتوں کا جنازہ
اور اللہ خیر کرے! اس موبائل نے ہماری نوجوان نسل کو عشق بازی اور فحاشی میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہر موبائل پر سات تالے لگے ہوتے ہیں، جیسے اس میں ہیرے موتی چھپے ہوں۔

ہمارے یہاں ایک رسم ہے، شادی میں دلہن والے دولہے کا جوتا چراتے ہیں اور 2000-3000 مانگتے ہیں، لیکن دولہا ہنسی میں 500 روپے دے کر جوتا لے لیتا ہے۔ میں کہتا ہوں، اگر شادی والے دن دولہے کا جوتا نہیں بلکہ اس کا موبائل چھپا لیا جائے تو وہ منہ مانگی قیمت دینے کو تیار ہو جائے گا۔ اب اس سے آگے لکھنے کی ضرورت نہیں کہ وہ ایسا کیوں کرے گا۔!!

لہذا: اپنے اوقات کا سہی استعمال کریں، اسکول مدرسہ میں اچھے نمبرات حاصل کرنے کی اور ہنر مند بننے بنانے کی فکر کریں، رشتوں کو مضبوط کریں ہر ایک کو وقت اور عزت دیں۔

اللہ ہمیں اس فتنے سے محفوظ رکھے اور موبائل کو دین و دنیا کی بھلائی اور علماء کرام کے بیانات، نعت کے لیے استعمال کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔

Saturday, 29 August 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑ذیابیطس کے مریضوں کو کن پھلوں سے پرہیز کرنا چاہیے*
ذیابیطس کا مسئلہ ان دنوں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ وہ دن گئے جب ٹائپ 2 ذیابیطس صرف 40 سال سے زیادہ عمر والوں کو متاثر کرتی تھی۔ بھارت میں یہ بیماری اب 20 سے 30 سال کی عمر کے لوگوں کو تیزی سے متاثر کر رہی ہے۔ ذیابیطس ملک میں ایک بڑی وبا بننے کے دہانے پر ہے، موٹاپا اس بیماری کی بنیادی وجہ سمجھا جاتا ہے۔ مزید برآں ناقص طرز زندگی، غیر صحت بخش غذائی عادات، اور جسمانی ورزش کی کمی اہم خطرے کے عوامل ہیں۔

یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ ذیابیطس کا کوئی حتمی علاج نہیں ہے۔ اس کے انتظام کے لیے مختلف غذائی اور طرز زندگی کی احتیاطی تدابیر کی ضرورت ہوتی ہے۔ خون میں شکر کی سطح کو کنٹرول میں رکھنا مریضوں کے لیے بہت ضروری ہے، کیونکہ بلند سطح متعدد پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہے۔ اس وجہ سے ذیابیطس کے مریضوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ شوگر اور بعض مخصوص پھلوں سے پرہیز کریں۔ ذیابیطس کے مریضوں کو کن پھلوں سے پرہیز کرنا چاہیے، یہ جاننے کے لیے مکمل رپورٹ پڑھیں۔

آم

آم کو 'پھلوں کا بادشاہ' کہا جاتا ہے۔ بہت کم لوگ اسے ناپسند کرتے ہیں اور خاص طور پر بچے اسے کھانے سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ذائقے میں میٹھے، یہ پھل قدرتی شکر سے بھرپور ہوتے ہیں، ایک اندازے کے مطابق ایک درمیانے سائز کے آم میں تقریباً 45 گرام چینی ہوتی ہے۔ شوگر کی اس مقدار کا استعمال بلڈ شوگر کی سطح میں تیزی سے اضافے کا باعث بنتا ہے، جو صحت کے مختلف مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔ ان افراد کے لیے جو پہلے ہی ہائی بلڈ شوگر یا ذیابیطس میں مبتلا ہیں، آم کھانے سے اس حالت سے وابستہ خطرات بڑھ سکتے ہیں۔انگور بہت سے لوگوں کے لیے پسندیدہ پھل ہیں اور بڑے پیمانے پر کھائے جاتے ہیں۔ مزید یہ کہ یہ صحت کے لیے بہترین ہیں کیونکہ یہ وٹامنز اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرے ہوتے ہیں۔ یہ قوت مدافعت بڑھانے میں مدد کرتے ہیں اور خاص طور پر ہاضمے کو بہتر بنانے کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں۔تاہم اپنے بے شمار فوائد کے باوجود، انگور ذیابیطس کے مریضوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ ان میں فریکٹوز کی اعلی سطح ہوتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق انگور کے ایک کپ میں تقریباً 23 گرام چینی ہوتی ہے۔ ان کا استعمال خون میں شکر کی سطح کو بڑھاتا ہے، جو ذیابیطس کی علامات کو بڑھا سکتا ہے۔







*🛑UGC-NET جون 2026ء کے نتائج کا اعلان، تین مضامین کے لیے ستمبر میں ہوں گے دوبارہ امتحانات*
نئی دہلی: نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) نے UGC-NET جون 2026ء کے نتائج کا اعلان کر دیا ہے۔ این ٹی اے نے تین مضامین کو چھوڑ کر بقیہ 84 مضامین کے نتائج جاری کیے۔ این ٹی اے کے مطابق، 9 سے 10 ستمبر تک تین مضامین— انگلش (انگریزی)، کامرس اور سوشیالوجی (عمرانیات) کے لیے UGC-NET جون 2026ء کا امتحان دوبارہ منعقد کرایا جائے گا۔ ایجنسی نے بتایا کہ ان تینوں مضامین کے نتائج اور اسکور کارڈز دوبارہ امتحان کے بعد ہی جاری کیے جائیں گے۔

این ٹی اے نے جمعہ کے روز 84 مضامین کے لیے UGC-NET جون 2026ء کے نتائج کا اعلان کیا۔ امیدوار اپنے نتائج اور اسکور کارڈز UGC-NET کی آفیشل ویب سائٹ پر دیکھ سکتے ہیں۔ کینڈیڈیٹس لاگ ان کر کے اپنے اسکور کارڈز دیکھ، ڈاؤن لوڈ اور پرنٹ کر سکتے ہیں۔معاملے کی جانچ کے لیے کمیٹی تشکیل

اس سے پہلے، نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی نے جونیئر ریسرچ فیلوشپ (JRF) دینے، اسسٹنٹ پروفیسر کی اہلیت کا جائزہ لینے اور PhD پروگرام میں ایڈمیشن شروع کرنے کے لیے 22 سے 30 جون تک 87 مضامین میں UGC-NET جون 2026ء امتحان منعقد کیا تھا۔ لیکن، ان پیپرز میں غلطیوں کی کئی شکایات کے بعد، ایجنسی نے معاملے کی جانچ کے لیے ایک کمیٹی بنائی۔

سوالیہ پرچوں میں کئی طرح کی خامیاں و غلطیاں

نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) کے مطابق، کمیٹی نے پایا کہ تین مضامین کے سوالیہ پرچوں میں کئی تہذیبی/تکنیکی (تھیاٹمک)، ٹائپنگ اور ترجمے سے متعلق غلطیاں تھیں، جن میں نامور ماہرین (اسکالرز) کے ناموں کے غلط ہجے (اسپیلنگ)، کتابوں کے عنوانات (ٹائٹلز) میں گڑبڑ، سوال کے اصل الفاظ میں خامیاں، قواعد (گرامر) کی غلطیاں اور جنس/تعداد کی مطابقت کی غلطیاں شامل تھیں۔ ساتھ ہی پہلے سے پوچھے گئے کئی سوالات بھی دہرائے گئے تھے۔

تین مضامین کے لیے دوبارہ امتحان کرانے کا فیصلہ

کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر، نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) نے ان تین مضامین کے لیے دوبارہ امتحان کرانے کا فیصلہ لیا، جس میں انگلش (انگریزی)، کامرس اور سوشیالوجی (عمرانیات) شامل ہیں۔ دوبارہ امتحان کے لیے جاری کردہ شیڈول کے مطابق، انگلش کا پیپر 9 ستمبر کو شفٹ 1 (صبح 9:00 بجے سے دوپہر 12:00 بجے تک)، کامرس کا پیپر 9 ستمبر کو شفٹ 2 (دوپہر 3:00 بجے سے شام 6:00 بجے تک) اور سوشیالوجی کا پیپر 10 ستمبر کو شفٹ 1 (صبح 9:00 بجے سے دوپہر 12:00 بجے تک) میں ہوگا۔








*🛑جنگ سے ایران کی معیشت دباؤ کا شکار، امریکہ کی پابندیاں مزید سخت*
امریکہ کے ساتھ جنگ کے باعث ایران کی معیشت پر پڑنے والے اثرات نمایاں ہونے لگے ہیں جبکہ ایرانی قیادت نے بھی معاشی مشکلات کا اعتراف کر لیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی ’روئٹرز‘ کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے حکومت پر زور دیا ہے کہ ’مہنگائی، بے روزگاری اور اشیا و خدمات کی قیمتوں سمیت عوام کو درپیش معاشی مشکلات سے نمٹا جائے۔‘
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سرکاری میڈیا کو بتایا کہ ’امریکی پابندیوں اور ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کے باعث ایران کی برآمدات اور درآمدات میں قریباً 35 فیصد کمی آئی ہے۔‘ایرانی صدر کے مطابق ’جُون میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مختصر مدت کے مفاہمتی یادداشت کے دوران، جب واشنگٹن نے ایرانی تیل کی فروخت کی اجازت دی، ایران تقریباً نو کروڑ بیرل تیل فروخت کرنے میں کامیاب رہا۔‘
دوسری جانب امریکہ نے ایران پر معاشی دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔ واشنگٹن نے مختلف ممالک کو خبردار کیا ہے کہ ’وہ ایران کے ساتھ کاروباری روابط ختم کریں، بصورت دیگر انہیں ثانوی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘
تاہم امریکی محکمہ خزانہ نے چین اور انڈیا جیسے ایران کے بڑے تجارتی شراکت داروں کے خلاف تاحال پابندیاں عائد نہیں کیں، کیونکہ اس کے عالمی اور امریکی معیشت پر اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
امریکہ نے مصر کے ’بینک مصر‘ پر بھی ایران کے ساتھ کاروبار کرنے کے الزام میں پابندیاں عائد کی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ’بینک مصر‘ کی متحدہ عرب امارات میں موجود شاخوں کے ڈالر میں لین دین پر بھی پابندی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
مصر کے مرکزی بینک نے کہا ہے کہ ’وہ اور وزارت خارجہ اس معاملے پر امریکی حکام سے رابطے میں ہیں اور یہ اقدام صرف بینک مصر یو اے ای کے امریکی ڈالر میں متعلقہ بینکوں کے ساتھ لین دین تک محدود ہے۔‘
امریکی محکمہ خزانہ نے ہانگ کانگ میں قائم ایک ادارے اور ایران کے بینک ملی سے منسلک ایک شخص پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں۔
امریکی پابندیوں کے ساتھ جنگ نے ایران کی معیشت پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے، جہاں گذشتہ ماہ سالانہ مہنگائی کی شرح 66 فیصد تک پہنچ گئی۔
اُدھر امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کو چھ ماہ مکمل ہونے کے قریب ہے جبکہ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔ اسی دوران دیگر رہنماؤں کی جانب سے امریکہ کو فوجی کارروائی کے ذریعے جواب دینے کی دھمکیاں بھی سامنے آ رہی ہیں۔قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے جمعرات کو تہران میں ایرانی قیادت سے ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے آبنائے ہرمز میں جنگ سے قبل کی طرح بحری آمدورفت بحال کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعہ کو قطری وزیراعظم کے ساتھ مذاکرات کو ’تخلیقی‘ قرار دیا۔
امریکہ کے اتحادی اور ایران کے ہمسائہ ملک قطر نے پاکستان کے ساتھ مل کر جون کے مفاہمتی معاہدے میں ثالثی کی تھی، جس کے نتیجے میں مختصر جنگ بندی ہوئی تاہم آبنائے ہرمز پر اختلافات کے باعث یہ جنگ بندی ختم ہوگئی۔
امریکی فوجی کمانڈروں کا کہنا ہے کہ ’امریکی فورسز نے آبنائے ہرمز سے ان سمندری بارودی سرنگوں کو صاف کر دیا ہے جو کئی ماہ قبل ایران کے پاسداران انقلاب نے بچھائی تھیں۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل کہتے رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز کھلی ہے، تاہم پاسداران انقلاب کی بحریہ نے اپنے بیان میں ان دعوؤں کو ’کھلا جھوٹ‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی اجازت کے بغیر اس آبی گزرگاہ سے بحری جہازوں کی آمدورفت بدستور بند ہے۔
جمعے کو جاری ہونے والے ابتدائی بحری اعداد و شمار کے مطابق جمعرات کو صرف سات تجارتی بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ ایک روز قبل یہ تعداد 17 تھی اور گذشتہ 10 دن کی اوسط 15 جہاز روزانہ تھی۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑دہلی والوں کی جیب پرپھروار،امریکہ-ایران جنگ کے بعدCNGکی قیمت میں پانچویں مرتبہ اضافہ*
نئی دہلی: دہلی اور آس پاس کے علاقوں میں سی این جی کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اندرپرستھ گیس لمیٹڈ (IGL) نے ہفتہ کی صبح 6 بجے سے سی این جی کے نرخ میں 3.89 روپے فی کلو کا اضافہ نافذ کر دیا ہے۔ اس فیصلے کا براہ راست اثر دہلی-این سی آر میں سی این جی سے چلنے والی گاڑیوں کے لاکھوں مالکان، آٹو رکشا، ٹیکسی ڈرائیوروں اور مال بردار گاڑیوں پر پڑے گا۔

درآمد شدہ گیس بنی قیمت بڑھنے کی وجہ

آئی جی ایل کے مطابق سی این جی کی تیاری میں استعمال ہونے والی گیس کا ایک بڑا حصہ بیرون ملک سے درآمد کیا جاتا ہے۔ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں ایل این جی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں کمپنی کی ان پٹ لاگت بڑھ گئی ہے، جس کا کچھ بوجھ اب صارفین پر منتقل کیا گیا ہے۔

اس سال پانچویں بار مہنگی ہوئی سی این جی

سی این جی کی قیمتوں میں اضافے کا یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ رواں سال اب تک سی این جی کی قیمت میں پانچ مرتبہ اضافہ کیا جا چکا ہے۔ مئی میں صرف 10 دن کے اندر چار مرتبہ نرخ بڑھائے گئے تھے، جس کے بعد مجموعی طور پر 6 روپے فی کلو کا اضافہ ہوا تھا۔ اب اگست کے آخر میں ایک مرتبہ پھر قیمت بڑھنے سے صارفین کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔ نئے نرخ کے بعد نوئیڈا اور غازی آباد میں سی این جی 95.59 روپے فی کلو ہو گئی ہے۔ میرٹھ میں اس کی قیمت 95.47 روپے فی کلو جبکہ گڑگاؤں میں 92.01 روپے فی کلو پہنچ گئی ہے۔ مختلف ریاستوں میں VAT کی شرح الگ ہونے کی وجہ سے سی این جی کی قیمتوں میں بھی فرق برقرار ہے۔آٹو، ٹیکسی اور مال برداری مہنگی ہونے کا خدشہ

دہلی-این سی آر میں بڑی تعداد میں آٹو رکشا اور ٹیکسیاں سی این جی پر چلتی ہیں۔ اس کے علاوہ چھوٹے مال بردار ٹرک بھی اسی ایندھن پر انحصار کرتے ہیں۔ ایسے میں سی این جی کی قیمت بڑھنے سے ڈرائیوروں کے اخراجات میں اضافہ ہوگا اور اس کا اثر مسافروں کے کرایوں اور مال برداری کی لاگت پر بھی پڑ سکتا ہے۔ بالآخر اس کا بوجھ عام صارفین اور تاجروں کو برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جولائی سے اب تک عالمی سطح پر ایل این جی کی قیمتیں تقریباً دوگنی ہو چکی ہیں۔ مغربی ایشیا میں کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے مال برداری متاثر ہوئی ہے، جس سے عالمی سپلائی چین پر دباؤ بڑھا ہے۔ اس کے نتیجے میں ایشیا اور یورپ دونوں میں گیس کی قیمتیں تیزی سے بڑھی ہیں۔

یورپ کر رہا ہے ایل این جی کا ذخیرہ

سردیوں کے موسم سے پہلے یورپ بڑے پیمانے پر ایل این جی کا ذخیرہ کر رہا ہے۔ فروری میں ایشیا کا جے کے ایم بینچ مارک تقریباً 11 ڈالر فی MMBTU تھا، جو اگست میں بڑھ کر 23.4 ڈالر تک پہنچ گیا۔ اسی طرح یورپ کا ٹی ٹی ایف گیس بینچ مارک بھی 11.3 ڈالر سے بڑھ کر 23.3 ڈالر فی MMBTU ہو گیا ہے۔ آئی جی ایل کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی لاگت کا پورا بوجھ کمپنی خود برداشت نہیں کر سکتی، اس لیے قیمتوں میں اضافہ ضروری ہو گیا تھا۔ اب دہلی-این سی آر میں سی این جی استعمال کرنے والے صارفین کو ہر کلو گیس پر تقریباً 4 روپے اضافی ادا کرنا ہوں گے، جس سے روزانہ گاڑی استعمال کرنے والوں کا ماہانہ بجٹ مزید متاثر ہو سکتا ہے۔






*🛑ٹرمپ کی بڑی چال،وینزویلا کے65ارب بیرل تیل کے ذخیرے پرامریکہ کا کنٹرول،کیا پٹرول سستا ہوگا؟*
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 28 اگست کو وینزویلا کے ساتھ ایک تاریخی تیل معاہدے کا اعلان کیا۔ ٹرمپ کے مطابق اس معاہدے سے امریکہ کی خام تیل تک رسائی میں اضافہ ہوگا، سپلائی مزید مضبوط ہوگی اور پٹرول کی قیمتوں میں کمی آئے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت اور نجی کمپنیوں کی شراکت داری کے ذریعے امریکہ نے وینزویلا کے 65 ارب بیرل سے زیادہ تیل کے ذخائر پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

امریکی ٹیکس دہندگان پر نہیں پڑا بوجھ

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر بتایا کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو اور سیکریٹری آف وار پیٹ ہیگستھ نے وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز اور نجی کمپنیوں کے ساتھ مل کر یہ معاہدہ طے کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے لیے امریکی ٹیکس دہندگان کی جیب سے ایک ڈالر بھی خرچ نہیں کیا گیا۔ ٹرمپ نے معاہدے کو امریکہ کے لیے توانائی کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے ملک کو وینزویلا کے بڑے تیل کے ذخائر تک رسائی حاصل ہوگی۔

توانائی کی سپلائی کو ملے گا فروغ

امریکی صدر کا کہنا ہے کہ معاہدے کے نتیجے میں امریکہ کے تیل کے ذخائر میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ ان کے مطابق اس سے ملک کی توانائی سلامتی مزید مضبوط ہوگی اور خام تیل کی سپلائی بہتر ہونے کے باعث صارفین کو پٹرول کی کم قیمتوں کی صورت میں فائدہ مل سکتا ہے۔ تاہم پٹرول کی قیمتوں پر اس معاہدے کا حقیقی اثر عالمی خام تیل کی قیمتوں، پیداوار کی رفتار، ریفائننگ صلاحیت اور مارکیٹ میں سپلائی جیسے عوامل پر بھی منحصر ہوگا۔

وینزویلا کو بھی ہوگا بڑا فائدہ

وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز نے بھی معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان کے مطابق اس معاہدے سے ملکی خزانے کو بڑی آمدنی حاصل ہوگی اور وینزویلا کی تیل کی صنعت کو دوبارہ مضبوط بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری آنے کی امید ہے۔ روڈریگز کے مطابق معاہدے میں 17 بڑے تیل کے شعبوں کی ترقی شامل ہے، جہاں تقریباً 65 ارب بیرل کے مصدقہ تیل کے ذخائر موجود ہیں۔ وینزویلا کی حکومت کو امید ہے کہ ان منصوبوں کے ذریعے 100 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری حاصل ہوگی۔ اس کے علاوہ ان منصوبوں سے حکومت کو 209 ارب ڈالر سے زیادہ ٹیکس آمدنی ہونے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ یہ سرمایہ کاری وینزویلا کی تیل کی پیداوار، بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے شعبے کو دوبارہ فعال کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

روزگار اور ترقی کا نیا دور؟

روڈریگز نے کہا کہ وینزویلا اپنے وسیع تیل کے ذخائر کو توانائی کی پیداوار بڑھانے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور عوام کی آمدنی میں اضافے کے لیے استعمال کرے گا۔ ان کے مطابق معاہدے سے ملک میں اقتصادی ترقی، سلامتی اور خوشحالی کا ایک نیا دور شروع ہونے کی امید ہے۔ یوں یہ معاہدہ صرف امریکہ کی توانائی ضروریات تک محدود نہیں بلکہ وینزویلا کے لیے بھی اپنی تباہ حال تیل کی صنعت کو دوبارہ کھڑا کرنے اور معیشت کو مضبوط بنانے کا ایک بڑا موقع سمجھا جا رہا ہے۔









*🛑چلتی ٹرین سے ہونے لگی پیسوں کی بارش، 500-500 کے نوٹ دیکھ کر لوٹنے کیلئے دوڑ پڑے لوگ، پھر جو ہوا...*
گورکھپور: اتر پردیش سے اکثر ایسی خبریں سامنے آتی ہیں، جن پر یقین کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اب گورکھپور کے ایک ریلوے اسٹیشن پر اچانک ٹرین سے روپے ہوا میں اڑنے لگے، جنہیں سمیٹنے کے لیے لوگوں میں دوڑ مچ گئی۔ معاملہ گورکھپور سے پنویل (ممبئی) جانے والی ایکسپریس ٹرین کا پیپی گنج ریلوے اسٹیشن سے گزرنے کے دوران پیش آیا۔ یہاں جمعہ کی صبح اچانک لوگوں نے پانچ پانچ سو روپے کے نوٹ ہوا میں اڑتے دیکھے تو پہلے انہیں یقین ہی نہیں ہوا۔ لیکن کچھ ہی دیر بعد نوٹ سمیٹنے کے لیے لوگ دوڑ پڑے۔ جسے جہاں جتنے نوٹ ملے، وہ انہیں لے کر چلتا بنا۔ تاہم رقم کتنی تھی اور اسے کس نے پھینکا، اس کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ صبح تقریباً چھ بجے پیش آیا۔ گورکھپور سے پنویل جانے والی ایکسپریس ٹرین پیپی گنج ریلوے اسٹیشن کی لائن نمبر دو سے گزر رہی تھی۔ اس ٹرین کا پیپی گنج اسٹیشن پر کوئی اسٹاپ نہیں ہے۔ اسی دوران ٹرین میں سوار کسی مسافر نے پانچ پانچ سو روپے کے نوٹوں سے بھری ہوئی ایک پولی تھین نیچے پھینک دی۔ پولی تھین کھل جانے کے باعث نوٹ ہوا میں اڑنے لگے۔ نوٹوں کو ہوا میں اڑتا دیکھ کر اسٹیشن پر موجود درجنوں لوگ انہیں پکڑنے کے لیے دوڑ پڑے۔ کچھ ہی دیر میں لوگوں نے ہوا میں اڑتے ہوئے نوٹ سمیٹ لیے اور وہاں سے چلے گئے۔ریلوے اسٹیشن ذرائع نے بتایا کہ ٹرین کے اسٹیشن پر نہ رکنے کی وجہ سے اندر بیٹھے کسی مسافر نے اپنے کسی جاننے والے کو رقم دینے کے لیے اسے پولی تھین میں باندھ کر چلتی ٹرین سے نیچے پھینکا تھا۔ اسی دوران پیکٹ کھل گیا اور نوٹ ہوا میں اڑنے لگے۔تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ رقم کس کی تھی اور اسے لینے کے لیے کون سا شخص اسٹیشن پر پہنچا تھا۔ پولیس یا ریلوے کی جانب سے بھی اس معاملے کی آفیشیل طور پر تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

Friday, 28 August 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑’چونی سے روپیہ‘ والے بیان پر سنگیت سوم کا اکھلیش یادو پر سخت حملہ، بولے- ’ایکنی کا بھی نہیں چھوڑیں گے‘*
سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو کی جانب سے راشٹریہ لوک دل کے سربراہ جینت چودھری پر کیے گئے ’چونی سے روپیہ‘ والے تبصرے پر بی جے پی کے سابق رکن اسمبلی سنگیت سوم نے سخت جواب دیا ہے۔ سر دھنا سے سابق رکن اسمبلی سوم ان دنوں راشٹریہ لوک دل کے ساتھ کھل کر نظر آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جسے اکھلیش یادو ’چونی سے روپیہ‘ بتا رہے ہیں، وہی انہیں ’ایکنی کا بھی نہیں چھوڑیں گے‘۔

اکھلیش یادو پر نشانہ
سنگیت سوم نے کہا کہ اکھلیش یادو کے بیانات ان کی سمجھ سے باہر ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اکھلیش مسلسل لوگوں اور ذاتوں کی توہین کرنے والی باتیں کر رہے ہیں۔ سوم کا دعویٰ ہے کہ اس بار مغربی اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی کا کھاتہ بھی نہیں کھلے گا۔

جینت چودھری کے کردار کا ذکر
سابق رکن اسمبلی نے یاد دلایا کہ گزشتہ انتخابات میں سماج وادی پارٹی کو مغربی اتر پردیش میں جو نشستیں حاصل ہوئی تھیں، ان میں جینت چودھری کا اہم کردار تھا۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے اس بار اپنا ذہن بنا لیا ہے اور جس شخص کو اکھلیش یادو ’چونی سے روپیہ‘ کہہ رہے ہیں، وہی انہیں ’ایکنی کا بھی نہیں چھوڑیں گے‘۔

پوسٹر تنازع پر ردعمل
میرٹھ اور آس پاس لگائے گئے متنازع پوسٹروں پر سنگیت سوم نے کہا کہ لوگ اپنی بات رکھ رہے ہیں اور جمہوریت میں ہر شخص کو ایسا کرنے کا حق ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر لوگ سچائی سامنے لا رہے ہیں تو سماج وادی پارٹی کو اس سے پریشانی کیوں ہو رہی ہے۔

ریزرویشن پر خاموشی
ریزرویشن ختم کرنے کے مطالبے پر پوچھے گئے سوال کا سنگیت سوم نے کوئی جواب نہیں دیا۔







*🛑چائے سے مٹھائی تک سب کچھ مہنگا، یکم ستمبر سے ممبئی میں دودھ کی قیمتوں میں ہوگا بڑا اضافہ*
ممبئی میں تہواروں کا آغاز عام لوگوں کے لیے مہنگائی کے ایک بڑے جھٹکے کے ساتھ ہونے جا رہا ہے۔ مسلسل بڑھتی مہنگائی کے درمیان اب دودھ کی قیمتوں میں بھی بھاری اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کا براہِ راست اثر ہر خاندان کے ماہانہ بجٹ پر پڑے گا۔ تہواروں کی تیاریوں کے دوران باورچی خانے کا خرچ مزید بڑھنے والا ہے۔

کب سے نئی قیمتیں نافذ ہوں گی؟

یکم ستمبر 2026 سے ممبئی میں دودھ کی قیمت میں براہِ راست 9 روپے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ پہلے جہاں دودھ 93 روپے فی لیٹر مل رہا تھا، اب صارفین کو اس کے لیے 102 روپے فی لیٹر ادا کرنے ہوں گے۔ دودھ پیدا کرنے والوں نے واضح کیا ہے کہ نئی قیمتیں 28 فروری 2027 تک نافذ رہیں گی۔ یعنی تہواروں اور سردیوں کے پورے موسم میں ممبئی کے لوگوں کو مہنگے دودھ کا بوجھ برداشت کرنا ہوگا۔

چارے کی قیمتوں میں اضافے سے بڑھا بحران

دودھ مہنگا ہونے کی سب سے بڑی وجہ مویشیوں کے چارے کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ بتایا جا رہا ہے۔ ڈیری مویشیوں کی پرورش کی لاگت مسلسل بڑھ رہی ہے، جبکہ اناج، تور چھنی اور چنے کی چھنی جیسے چارے کی قیمتوں میں 25 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں دودھ کی پیداوار کی مجموعی لاگت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

دودھ پیدا کرنے والوں کی مجبوری

دودھ پیدا کرنے والوں کا کہنا ہے کہ مسلسل بڑھتی ہوئی لاگت نے انہیں مالی مشکلات میں مبتلا کر دیا تھا۔ کھل اور دیگر مویشیوں کی خوراک مہنگی ہونے سے ان کے روزانہ کے اخراجات میں اضافہ ہو گیا۔ ایسے حالات میں مارکیٹ میں برقرار رہنے کے لیے دودھ کی قیمت بڑھانا ان کے لیے مجبوری بن گیا۔ تاہم اس فیصلے کا براہِ راست اثر عام لوگوں کی جیب پر پڑے گا۔

عام لوگوں پر کیا ہوگا اثر؟

تہواروں کے موسم میں دودھ جیسی بنیادی ضرورت کی قیمت بڑھنے سے ہر گھر کا بجٹ متاثر ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی مٹھائیوں اور دیگر پکوانوں کی تیاری کی لاگت بھی بڑھ جائے گی۔ ممبئی کے لوگوں کو اب تہواروں کی خوشیوں کے ساتھ مہنگائی کا اضافی بوجھ بھی اٹھانا پڑے گا۔









*🛑کیا آپ بھی روزانہ اُبلے ہوئے انڈے کھاتے ہیں؟ پھرآپ کو یقینی طور پر یہ جاننے کی ضرورت ہے*
حیدرآباد: انڈے ان غذاؤں میں شامل ہیں جو کم قیمت پر اعلیٰ غذائیت فراہم کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک انڈے میں عام طور پر 5 گرام چکنائی، 6-7 گرام پروٹین اور وٹامن اے، بی 12، بی6، ڈی اور ای جیسے غذائی اجزاء فولیٹ، سیلینیم، فاسفورس، کولین، زیکسینتھین اور لیوٹین ہوتے ہیں۔ لیوٹین آنکھوں کی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔ جانتے ہیں روزانہ انڈے کھانے کے فوائد...

کیا اس سے دل کی بیماری کا خطرہ کم ہوتا ہے؟

دل کی صحت کو بہتر بنانے کے لیے، ماہرین عام طور پر س سیچوریسٹ چکنائی کی مقدار کو کم کرنے اور غیر سیر شدہ چکنائیوں کا استعمال بڑھانے کی تجویز کرتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ روزانہ انڈے کھانے سے جسم میں ’’اچھے‘‘ کولیسٹرول کی سطح بڑھ جاتی ہے جس سے دل کی صحت کو فائدہ ہوتا ہے۔ دل کی صحت کے حوالے سے میو کلینک کا کہنا ہے کہ زیادہ تر صحت مند افراد ہفتے میں سات انڈے محفوظ طریقے سے کھا سکتے ہیں۔

پروٹین کا ایک بہترین ذریعہ

پروٹین صحت کے لیے ضروری ہے جو کہ پٹھوں اور ہڈیوں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ ہارمونز پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ انڈوں میں مکمل پروٹین ہوتا ہے، جو انہیں تمام ضروری امینو ایسڈز کا پاور ہاؤس بناتا ہے۔ تاہم بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ پروٹین صرف انڈے کی سفیدی میں پایا جاتا ہے۔ حقیقت میں ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈے میں کل پروٹین کا تقریباً نصف زردی سے آتا ہے۔ نیشنل لائبریری آف میڈیسن کے مطابق، انڈے پروٹین، مونو سیچوریٹڈ فیٹی ایسڈ، وٹامن ڈی، وٹامن بی 12، بایوٹین، ربوفلاوین، سیلینیم اور آیوڈین سے بھرپور ہوتے ہیں۔

وٹامن کی دستیابی کو بڑھاتا ہے: انڈے وٹامنز اور معدنیات سے بھرپور ہوتے ہیں جو جسم کو بہت سے ضروری غذائی اجزاء فراہم کرتے ہیں۔ ہارورڈ ہیلتھ پبلشنگ کے مطابق انڈوں میں لیوٹین اور زیکسینتھین ہوتے ہیں جو آنکھوں کی صحت کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں، ساتھ ہی کولین دماغ اور اعصابی افعال کو سہارا دیتے ہیں۔

سیلینیم: تولیدی اور تھائیرائیڈ صحت کے لیے ضروری ہے۔

کولین: میٹابولزم اور سیل صحت کے لیے ضروری ہے۔

وٹامن B6: جسم کو سیل کی صحت اور میٹابولزم کے لیے اس کی ضرورت ہوتی ہے۔

وٹامن بی 12: صحت مند اعصابی خلیات اور خون کی صحت کو سپورٹ کرتا ہے۔

پینٹوتھینک ایسڈ: جسم کی چربی جلانے میں مدد کرتا ہے۔

وٹامن اے: ٹشوز، جلد، آنکھوں، مدافعتی نظام، اور تولیدی صحت کے لیے ضروری ہے۔

فاسفورس: ہڈیوں اور دانتوں کو مضبوط بنانے میں مدد کرتا ہے۔

فولیٹ: سیل کی صحت اور ڈی این اے اور دیگر جینیاتی مواد کی تشکیل کے لیے ضروری ہے۔
ابلے ہوئے انڈے کیسے کھائیں؟

اس طرح کھائیں: ابلے ہوئے انڈے کو آدھا کاٹ لیں، اس پر تھوڑا سا نمک، کالی مرچ پاؤڈر، یا لال مرچ پاؤڈر چھڑکیں، اور اسنیک کے طور پر اس کا مزہ لیں۔

انڈے کا سلاد: آپ انڈوں کے ٹکڑوں کو پیاز، دھنیا، ٹماٹر اور لیموں کے رس یا زیتون کے تیل میں ملا کر صحت بخش ناشتہ بنا سکتے ہیں۔

بریڈ ٹوسٹ یا سینڈوچ: ناشتے میں ابلے ہوئے انڈے کے ٹکڑے ٹوسٹ شدہ بریڈ پر رکھیں اور تھوڑا سا پنیر یا مکھن ڈالیں۔

کری: آپ اُبلے ہوئے انڈے کاٹ کر مصالحے کے ساتھ بھون سکتے ہیں، یا چاول یا روٹی کے ساتھ پیش کرنے کے لیے انڈے کا سالن تیار کر سکتے ہیں۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑مڈ ڈے میل میں 14 لاکھ کا گھوٹالہ ، Gen-Z نے گوگل سے DM کا پتہ کھوج کر کی شکایت*
اترپردیش کے بلیہ میں ایک کونسل اور انٹر کالج کے چھوٹے بچوں نے مڈ ڈے میل اسکیم میں گھپلے کا پردہ فاش کیا ہے۔ انہوں نے گوگل پر ضلع مجسٹریٹ کا پتہ تلاش کیا اور اس کی شکایت کی، جس کے بعد تحقیقات میں اسکیم کے تحت بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی کا پردہ فاش ہوا۔ بچوں نے خود ہی انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا پتہ تلاش کیا اور ایک خط لکھا جس میں 14 لاکھ روپے کے گھپلے کا پردہ فاش کیا۔

یہ معاملہ بلیا کے بانسڈیہ میں تاج پور مداری انٹر کالج سے متعلق ہے۔ یہاں 6ویں سے 12ویں تک کی کلاسز ہوتی ہیں ۔ حکومت اسکول کے بچوں کو غذائیت سے بھرپور کھانا فراہم کرنے کے لیے دوپہر کے کھانے کی اسکیم چلاتی ہے۔ تاہم، اس کالج میں حقیقت بالکل مختلف تھی ۔ پچھلے دو سالوں سے طلباء کو ایک بار بھی دوپہر کا کھانا نہیں مل رہا تھا ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ بچوں کی پلیٹوں میں کھانا نہ پہنچنے کے باوجود اس اسکیم کے لیے ہر ماہ لاکھوں روپے نکالے جا رہے تھے۔بچوں نے گوگل پر ڈی ایم کا پتہ تلاش کیا
اسکول میں ہونے والی اس ناانصافی سے طلباء پریشان تھے۔ وہ اس بدعنوانی کی شکایت ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سے کرنا چاہتے تھے، لیکن ان کے پاس براہ راست چینل یا ڈی ایم کا صحیح پتہ نہیں تھا۔ بے خوف، طلباء نے ٹیکنالوجی کا سہارا لیا۔ انہوں نے گوگل پر بلیا ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا پتہ تلاش کیا۔ اس کے بعد انہوں نے ایک خفیہ خط تیار کیا اور اسے ڈی ایم کو بھیج دیا۔ خط میں طلباء نے مطالبہ کیا کہ ان کے نام عام نہ کیے جائیں اور پورے معاملے کی خفیہ تحقیقات کرائی جائیں۔

تحقیقات میں 14 لاکھ روپے کے گھپلے کا انکشاف ہوا
جب ضلع مجسٹریٹ منگلا پرساد سنگھ نے بچوں کے خط کو سنجیدگی سے لیا تو انہوں نے فوری طور پر اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دیا۔ ڈی ایم کی ہدایات کے بعد بلیا کے بنیادی تعلیم افسر منیش کمار سنگھ اور ضلع ترقیاتی افسر پر مشتمل ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دی گئی۔ اس ٹیم نے جب کالج کی مالی حالت کا جائزہ لیا تو انتظامی اہلکار بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر رہ گئے۔ تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسکول میں گزشتہ دو سالوں سے مڈ ڈے میل تیار نہیں کیا گیا تھا، اور اس فرضی اسکیم سے تقریباً 14 لاکھ روپے کا گھپلہ ہوا تھا۔

بی ایس اے منیش کمار سنگھ نے بتایا کہ ضلع مجسٹریٹ کی ہدایات کے مطابق اب اس پورے گھوٹالے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اگر ان معصوم بچوں نے پہل نہ کی ہوتی اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو خط نہ لکھا ہوتا تو یہ بہت بڑا گھپلہ فائلوں میں دھنستا رہتا۔ بچوں کے اس جرات مندانہ عمل کی اب ضلع بھر میں ستائش ہو رہی ہے۔











*🛑تبت میں ٹوٹ گیا ڈیم ، چین نے روکا ریسکیو آپریشن، نیپال میں ہائی الرٹ*
نیپال۔ تبت سرحد پر بدھ کے اچانک سیلاب کے بعد، ایک اور بڑا خطرہ سامنے آیا ہے۔ گلیشیئر کی وجہ سے پہاڑو ں سے آئے ملبے نے دریا کا راستہ رو ک دیا تھا جس سے ایک جھیل بن گئی تھی ۔ پانی کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے اور اب اس کے بہہ جانے کی اطلاع ہے۔ تبت کی جانب ملبے سے بننے والا ڈیم بھی ٹوٹ گیا ہے۔ خطرہ اس قدر شدید ہو گیا ہے کہ چین نے تبت میں امدادی کارروائیاں روک دی ہیں اور اپنے امدادی کارکنوں اور گاڑیوں کو متاثرہ علاقے سے محفوظ مقام پر منتقل کر دیا ہے۔ پانی اگلے کچھ گھنٹوں کے اندر نیپال پہنچ جائے گا، جس سے نیپال میں دریا کے کنارے والے علاقوں کو بھی خالی کر دیا جائے گا۔ چند گھنٹے قبل صوبہ سیچوان میں 5.1 شدت کا زلزلہ آیا تھا۔ نیپال پولیس نے تبت کی جانب ایک اور ڈیم کے ٹوٹنے کی اطلاع ملنے کے بعد رہائشیوں اور امدادی ٹیموں سے فوری طور پر انخلاء کی اپیل کی ہے۔

سیلاب کا ملبہ نیا خطرہ
26 اگست کو، پانی، برف، چٹانوں اور ملبے کا ایک اچانک، طاقتور طوفان نیپال-چین سرحد سے گزرا۔ اس عمل میں سڑکیں، پل، عمارتیں اور بستیاں بہہ گئیں۔ سینکڑوں لوگ مارے گئے، اور بڑی تعداد لاپتہ ہے۔ سیلاب کے بعد، بڑے پیمانے پر پہاڑی ملبہ دریا کے راستے میں جمع ہو گیا، جس سے پانی کے پیچھے ایک بڑی جھیل بن گئی۔ یہ جھیل اب ایک نئی تشویش کا باعث بن گئی ہے۔ چینی انجینئرنگ ٹیم کے مطابق جمعرات کو جھیل میں تقریباً 1.5 سے 2 ملین کیوبک میٹر پانی موجود تھا۔ اب، یہ 2.5 ملین کیوبک میٹر سے زیادہ بڑھ گیا ہے، اور پانی اوور فلو ہونے لگا ہے۔چین نے ریسکیو ٹیم کو واپس بلا لیا
جھیل پر بڑھتے ہوئے دباؤ نے حکام میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ اگر ملبے کا قدرتی بند اچانک ٹوٹ گیا تو جمع پانی نیچے کی طرف بہہ جائے گا۔ مزید یہ کہ آس پاس کی پہاڑیوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودے گرنے کا خطرہ ہے۔ اس لیے چین نے اپنے تمام ریسکیو اہلکاروں اور گاڑیوں کو خطرے کے علاقے سے نکال کر محفوظ مقام پر اسٹینڈ بائی پر رکھ دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو ٹیمیں پہلے سیلاب میں پھنسے لوگوں کو بچانا چاہتی تھیں اب انہیں خود سیلاب سے بچنے کے لیے پیچھے ہٹنا پڑا ہے۔

جھیل کی نکاسی کی تیاریاں
چین نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے آٹھ رکنی انجینئرنگ ٹیم تعینات کی ہے۔ ٹیم یہ سمجھنے کے لیے فضائی سروے اور 3D ماڈلنگ کا استعمال کر رہی ہے کہ جھیل کتنی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور قدرتی ملبے کی دیوار کتنی مضبوط ہے۔ انجینئرز کا اس وقت سب سے اہم آپشن پانی کی نکاسی کے لیے ایک ڈرینیج چینل بنانا ہے۔ اس سے جھیل کا پانی آہستہ آہستہ نکل جائے گا اور اچانک سیلاب کا خطرہ کم ہو جائے گا۔

نیپال ایک بار پھر علاقہ خالی کر رہا ہے
تبت کی طرف ڈیم کی خلاف ورزی کی اطلاعات کے بعد، نیپال پولیس نے جمعہ کو ترشولی کے علاقے میں لوگوں کو نکالنا شروع کیا۔ پولیس نے سیکورٹی اہلکاروں، کارکنوں اور راحت اور بچاؤ کاموں میں مصروف عوام کو بھی چوکس رہنے کا مشورہ دیا۔ ایک پولیس افسر کے مطابق پانی کی سطح بڑھنے کے امکان کے پیش نظر علاقے میں جاری کام روک دیا گیا اور گاڑیوں کو واپس بھیج دیا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سڑک کی تعمیر سے لے کر امدادی کارروائیوں تک بہت سی سرگرمیاں روک دی گئی ہیں۔

سیچوان میں زلزلے کے بعد تشویش میں اضافہ
دریں اثنا، چین کے جنوب مغربی صوبہ سیچوان کے لونگ چانگ شہر میں 5.1 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے بعد نیپال میں بھی الرٹ جاری کر دیا گیا۔ اگرچہ زلزلہ سیلاب زدہ علاقے میں آیا، لیکن پہلے سے ہی غیر مستحکم پہاڑی علاقے اور پانی کی بڑھتی ہوئی سطح نے خدشات کو جنم دیا ہے۔








*🛑پی ایم مودی اور پوتن پھر آئیں گے ساتھ ...شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر نظر آئے گی ہندوستان روس کی اٹوٹ دوستی ، MEA کا اعلان*
جہاں بڑی طاقتیں عالمی سیاسی نقشے پر اپنی اپنی چالیں چل رہی ہیں، وسطی ایشیا سے آنے والی خبروں نے مغربی کیمپ میں ہلچل مچا دی ہے۔ وزارت خارجہ (MEA) نے اعلان کیا ہے کہ PM نریندر مودی اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان 26ویں SCO چوٹی کانفرنس کے دوران ایک انتہائی اہم دو طرفہ میٹنگ ہوگی۔ ایسے ماحول میں ان دو سرکردہ لیڈروں کے درمیان مصافحہ محض رسمی نہیں بلکہ عالمی طاقت کے توازن کا ایک نیا باب ہے۔ پی ایم مودی 29 اگست سے یکم ستمبر کے درمیان ازبکستان اور کرغز جمہوریہ کا دورہ کریں گے۔

طاقتور کیمسٹری اور جیو پولیٹیکل ماسٹر اسٹروک
اس پورے سفر کی خاص بات پی ایم نریندر مودی اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان دو طرفہ ملاقات ہوگی۔ عالمی دباؤ اور پابندیوں کے درمیان ہندوستان اور روس کے درمیان ہونے والی یہ ملاقات ثابت کرتی ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد اگلی سطح پر پہنچ گیا ہے۔ اس اجلاس میں تجارت، توانائی کی سلامتی، دفاع اور عالمی امن پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ وزیر اعظم نریندر مودی 6 ویں عالمی خانہ بدوش کھیلوں کی افتتاحی تقریب میں بھی شرکت کریں گے جو وسطی ایشیائی ثقافت کا ایک بڑا تہوار ہے۔تاشقند میں سجے گا ہندوستان-ازبکستان شراکت داری کا اسٹیج
پی ایم نریندر مودی کا وسطی ایشیا کا دورہ 29 اگست کو ازبکستان سے شروع ہوگا۔ صدر شوکت مرزیوئیف کی دعوت پر تاشقند پہنچنا، پی ایم مودی کا ازبکستان کا یہ چوتھا دورہ ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، ڈیجیٹل رابطے اور توانائی جیسے اہم موضوعات پر اعلیٰ سطحی بات چیت ہوگی۔ “ترقی یافتہ ہندوستان @ 2047” اور “ازبکستان 2030” کے تصورات کو ہم آہنگ کرتے ہوئے دونوں ممالک اپنے اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے لیے تیار ہیں۔

تاشقند میں شاستری جی اور باپو کو خراج عقیدت
سفارتی ملاقاتوں کے علاوہ تاشقند ہندوستان کی وراثت اور اقدار کو بھی خراج تحسین پیش کرے گا۔ اپنے سرکاری دورے کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی سابق وزیر اعظم لال بہادر شاستری کی یادگار پر جا کر انہیں خراج عقیدت پیش کریں گے۔ مزید برآں، وہ تاشقند اسٹیٹ یونیورسٹی میں مہاتما گاندھی سنٹر کا دورہ کریں گے تاکہ ہندوستان اور ازبکستان کے درمیان عوام سے عوام کے روابط کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔

شنگھائی تعاون تنظیم میں سلامتی اور پیشرفت پر ہندوستان کی توجہ
31 اگست کو، اپنے دورے کے دوسرے مرحلے میں، پی ایم نریندر مودی جمہوریہ کرغزستان کے بشکیک پہنچیں گے۔ اس سال، 26 ویں ایس سی او سربراہی اجلاس، جس کی میزبانی صدر صدیر جاپاروف نے کی، ایک خاص ہے کیونکہ تنظیم اپنی 25 ویں سالگرہ منا رہی ہے۔ ہندوستان، 2017 سے SCO کا فُل ٹائم رکن رہا ہےہے، ہمیشہ علاقائی استحکام کا حامی رہا ہے۔ اس پلیٹ فارم سے، وزیر اعظم نریندر مودی دنیا کے سامنے اپنی تین اہم ترجیحات: سیکورٹی، کنیکٹیویٹی اور مواقع کا روڈ میپ پیش کریں گے۔

دہشت گردی پر کوئی سمجھوتہ نہیں
شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں سیکورٹی کے حوالے سے ہندوستان کا موقف واضح اور جارحانہ ہوگا۔ خارجہ سکریٹری (مغرب) سی بی جارج نے واضح کیا ہے کہ ہندوستان دہشت گردی اور سرحد پار دہشت گردی پر صفر برداشت کی پالیسی پر عمل پیرا رہے گا۔ ہندوستان کا ماننا ہے کہ دہشت گردی پوری انسانیت کے لیے ایک اہم خطرہ ہے۔ بشکیک کے پلیٹ فارم سے ہندوستان عالمی برادری کو ایک مضبوط پیغام دے گا کہ دہشت گردی کو پناہ دینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔



Wednesday, 26 August 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑چینی کی قیمت کم ہوکر 55 روپے ہوئی ! ذخیرہ اندوزی کو روکنا اور درآمدات کی منظوری کا نظر آیا اثر*
نئی دہلی۔ چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے پریشان مٹھائی کے تاجروں اور عوام کے لیے ریلیف کی خبر ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے چینی کی درآمدات کی منظوری اور ذخیرہ اندوزی اور قیاس آرائیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد مل کی سطح پر چینی کی قیمتیں تیزی سے گر گئی ہیں۔ خوراک کے سکریٹری کے مطابق، ایکس مل کی قیمت اب تقریباً 55 روپے فی کلو ہے۔ پچھلے ہفتے ایکس مل کی قیمت 67 روپے فی کلو گرام کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔ اس کے مقابلے میں موجودہ قیمت تقریباً 18 فیصد کم ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ قیمتیں کچھ ملوں نے بڑھائی تھیں لیکن اب مارکیٹ میں سپلائی اور حکومتی کارروائی کی وجہ سے قیمتیں تیزی سے گر رہی ہیں۔

سیکرٹری خوراک کے مطابق حکومت چینی کی قیمتوں میں اچانک اضافے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ذخیرہ اندوزی کی جانچ کے لیے ملک بھر میں فلائنگ اسکواڈز تعینات کیے گئے ہیں۔ یہ ٹیمیں اس بات کی تحقیقات کر رہی ہیں کہ آیا تاجر ضرورت سے زیادہ اسٹاک جمع کر کے قیمتوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ حکومت نے چینی کی درآمد کی بھی منظوری دے دی ہے۔ اس کا مقصد مقامی مارکیٹ میں سپلائی کو بڑھانا اور قیمتوں پر دباؤ کو کم کرنا ہے۔ حکومت کا خیال ہے کہ اضافی سپلائی اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی سے چینی کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی۔تہواروں سے پہلے مٹھائی کے تاجروں کے لیے ریلیف
تہوار کا سیزن شروع ہوتے ہی چینی کی قیمتوں میں کمی کی خبر نے راحت پہنچا دی ہے۔ رکشا بندھن اور جنم اشٹمی کے بعد، گنیش چترتھی اور دیوالی جیسے بڑے تہوار قریب آرہے ہیں۔ اس عرصہ میں، مٹھائیوں کی مانگ میں کافی اضافہ ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے چینی کا استعمال زیادہ ہوتا ہے۔ حال ہی میں چینی کے ساتھ ساتھ دودھ، کھویا، پنیر اور دیسی گھی جیسے خام مال کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔ اس سے مٹھائی بنانے کی قیمت بڑھ گئی۔ کئی دکانداروں اور بڑے مٹھائی کے برانڈز نے قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے مٹھائی کی قیمتوں میں تقریباً 5 فیصد اضافہ کر دیا، جب کہ کچھ تاجروں نے فروخت میں نقصان کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بوجھ اپنے مارجن پر ڈال دیا۔

اب، چینی کی ایکس مل قیمت میں تقریباً 18 فیصد کی کمی مٹھائی کے تاجروں کو کچھ راحت فراہم کر سکتی ہے۔ تاہم، مٹھائی کی خوردہ قیمتیں فوری طور پر کم ہوں گی یا نہیں اس کا انحصار دیگر اخراجات، جیسے دودھ، گھی، کھویا، پنیر، پیکیجنگ اور نقل و حمل میں ہونے والی تبدیلیوں پر ہوگا۔

حکومت اب ریٹیل مارکیٹ پر توجہ دے رہی ہے
ایکس مل کی قیمتوں میں کمی کے بعد، حکومت اب سپلائی چین کی اگلی سطح پر توجہ مرکوز کرے گی۔ حکومت اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ مل کی سطح پر سستی چینی کے فوائد ہول سیل اور ریٹیل مارکیٹ تک پہنچیں۔ اگر چینی کی قیمتیں موجودہ سطح پر رہیں تو آنے والے تہواروں کے دوران مٹھائیاں بنانے کی لاگت پر دباؤ کم ہو سکتا ہے۔ اس سے تاجروں کو قیمتوں میں مزید اضافہ کرنے کی ضرورت بھی کم ہو سکتی ہے اور تہواروں کے دوران صارفین کو ریلیف ملنے کی امید بڑھ جائے گی۔








*🛑مانسون میں جلد کے مسائل کو نظر انداز نہ کریں، سیلولائٹس کا خطرہ بڑھ سکتا ہے*
مانسون کے موسم میں جلد سے متعلق مسائل کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ زیادہ نمی، پسینہ، بیکٹیریا اور آلودہ پانی جلد کے انفیکشن کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق بارش کے موسم میں خارش، جلن، معمولی زخم اور جلد پر خراشیں عام ہوتی ہیں، تاہم بعض صورتوں میں یہی مسائل سنگین بیکٹیریل انفیکشن کا سبب بن سکتے ہیں، جسے سیلولائٹس کہا جاتا ہے۔

مانسون کے دوران زیادہ نمی کی وجہ سے پسینہ آسانی سے خشک نہیں ہوتا، جس سے جلد کی حفاظتی تہہ کمزور ہو سکتی ہے اور فنگل و بیکٹیریل انفیکشن تیزی سے پھیل سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ آلودہ یا سیلابی پانی میں موجود بیکٹیریا جلد پر موجود معمولی کٹ، خراش، کیڑے کے کاٹنے یا دراڑ کے ذریعے جسم میں داخل ہو سکتے ہیں۔

سیلولائٹس کیا ہے؟

سیلولائٹس ایک سنگین بیکٹیریل انفیکشن ہے جو جلد کی گہری تہوں اور اس کے نیچے موجود بافتوں کو متاثر کرتا ہے۔ یہ جسم کے کسی بھی حصے میں ہو سکتا ہے۔ اگر بروقت تشخیص اور علاج نہ کیا جائے تو انفیکشن خون یا لمف نوڈز تک پھیل سکتا ہے اور بعض صورتوں میں یہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

ابتدائی طور پر سیلولائٹس جلد پر ایک چھوٹے سرخ نشان کی صورت میں ظاہر ہو سکتا ہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ متاثرہ حصے میں سوجن، گرمی اور درد بڑھ سکتا ہے اور لالی آس پاس کے حصوں تک پھیل سکتی ہے۔

سیلولائٹس کی اہم علامات

جلد کے کسی حصے میں لالی

متاثرہ جگہ کا لمس پر گرم محسوس ہونا

سوجن اور درد

جلن کا احساس

جلد میں کھنچاؤ یا جکڑن

لالی کا بتدریج پھیلنا

بخار اور سردی لگنا

کمزوری یا سستی محسوس ہونا

کون زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں؟

ماہرین کے مطابق کسی بھی عمر کے فرد کو سیلولائٹس ہو سکتا ہے، تاہم بعض افراد میں اس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ ان میں:

ذیابیطس کے مریض

کھلے زخم والے افراد

کیڑے یا جانور کے کاٹنے سے متاثرہ افراد

ایگزیما کے مریض

ٹانگوں میں دائمی سوجن والے افراد

کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد

عمر رسیدہ افراد

موٹاپے کا شکار افراد

وہ افراد بھی زیادہ احتیاط کریں جنہیں ماضی میں سیلولائٹس ہو چکا ہو، کیونکہ جلد پر ہونے والی معمولی چوٹ بھی انفیکشن کے دوبارہ پیدا ہونے کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔بارش کے آلودہ پانی سے احتیاط ضروری

اگر بارش کا پانی سیوریج کے پانی میں شامل ہو جائے تو اس میں موجود بیکٹیریا جلد کے انفیکشن کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔ ایسے پانی میں چلنے سے حتی الامکان گریز کرنا چاہیے۔ اگر اس پانی سے گزرنا ناگزیر ہو تو بعد میں پاؤں اور متاثرہ حصے کو صابن اور صاف پانی سے اچھی طرح دھونا چاہیے۔

معمولی زخم یا خراش کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ اسے صاف پانی سے دھو کر مناسب پٹی لگائیں اور گندے ہاتھوں سے زخم کو چھونے یا نوچنے سے گریز کریں۔

ڈاکٹر ویرا ریڈی، سپرنٹنڈنٹ، کریم نگر گورنمنٹ جنرل اسپتال کے مطابق، اگر چوٹ کے اردگرد نمایاں لالی، گرمی، سوجن یا درد محسوس ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ زخم کو دبانے یا چھیڑنے سے بھی گریز کریں۔ بخار، سردی لگنے یا غیر معمولی تھکن جیسی علامات ظاہر ہوں تو فوری طبی مشورہ لینا ضروری ہے۔

ہاتھوں اور پیروں کا خاص خیال رکھیں

ماہرین کے مطابق اگرچہ سیلولائٹس جسم کے کسی بھی حصے کو متاثر کر سکتا ہے، لیکن یہ عموماً ٹانگوں اور بازوؤں میں زیادہ دیکھا جاتا ہے۔ اگر چہرے یا آنکھوں کے اردگرد انفیکشن ظاہر ہو تو فوری طبی توجہ ضروری ہے۔

پاؤں پر خراشیں اور بعض فنگل انفیکشن جلد میں معمولی دراڑیں پیدا کر سکتے ہیں، جن کے ذریعے بیکٹیریا جسم میں داخل ہو سکتے ہیں۔ اس لیے پاؤں سے متعلق معمولی مسائل کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

ذیابیطس کے مریضوں کو خاص طور پر روزانہ اپنے پیروں کا معائنہ کرنا چاہیے اور انگلیوں کے درمیان، تلووں اور ایڑیوں کے قریب کسی بھی زخم، خراش یا دراڑ پر نظر رکھنی چاہیے۔

ضرورت سے زیادہ خشک جلد کے نتیجے میں پیدا ہونے والی دراڑیں بھی بیکٹیریا کے جسم میں داخل ہونے کا راستہ بن سکتی ہیں۔ اسی طرح جن افراد کو اکثر پیروں میں سوجن رہتی ہے، ان میں جلد کے مسائل کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے۔

ذیابیطس کی وجہ سے بعض افراد کے پیروں کی حساسیت کم ہو جاتی ہے، جس کے باعث انہیں معمولی چوٹ یا چھالہ فوری طور پر محسوس نہیں ہوتا۔ نتیجتاً ایسے زخموں کو بھرنے میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ماہرین کا مشورہ ہے کہ مانسون کے دوران جلد کی صفائی کا خاص خیال رکھا جائے، معمولی زخم کو بھی نظر انداز نہ کیا جائے اور انفیکشن کی علامات ظاہر ہونے پر خود علاج کرنے کے بجائے بروقت ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے۔








*🛑اسلام آباد کے سرکاری ہسپتال میں آتشزدگی، 14 نومولود بچے ہلاک*
اسلام آباد کے سرکاری ہسپتال پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں بچوں کے وارڈ کی نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچے ہلاک ہو گئے ہیں۔
سرکاری ٹی وی کے مطابق بدھ کی صبح تقریباً سات بجے آتشزدگی سے 14 بچے مکمل طور پر جھلس گئے ہیں۔ اس واقعے کی تحقیقات کے لیے اعلی سطح کی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جبکہ وفافی سیکریٹری صحت کو معطل کر دیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق آگ ہسپتال کے ایم سی ایچ وارڈ کے تیسری فلور پر لگی اور اس کے نتیجے میں 14 بچے ہلاک ہو گئے۔وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے نجی ٹی وی چینل جیو سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ابتدائی معلومات کے مطابق بچوں کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں نصب ایئر کنڈینشر کے اندر دھماکے کے نتیجے میں آگ لگی۔ 
انھوں نے کہا کہ کیونکہ اس وارڈ میں بچوں کو آکسیجن پر رکھا جاتا ہے تووہاں موجود آکسیجن کے نظام کی وجہ سے آگ تیزی سے پھیلی۔ 
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ جیسے ہی دھماکہ ہوا تو سٹاف مدد کے لیے باہر گیا لیکن آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ ان کی معلومات کے مطابق صرف ایک بچے کو ہی بچایا جا سکا۔خیال رہے کہ پمز اسلام آباد کا سب سے بڑا سرکاری ہسپتال ہے جہاں دارالحکومت کے علاوہ قریبی علاقوں سے روزنہ بڑی تعداد میں مریض آتے ہیں۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پمز میں آتشزدگی کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ بچوں کے ساتھ پیش آنے والا ایسا سانحہ ناقابلِ تلافی ہے۔ اس واقعے کی وجوہات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور ان کے خلاف سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے۔
اس واقعے کے بعد وزیراعظم کی زیر صدارت ایک اجلاس منعقد ہوا ہے جس میں سرکاری ٹی وی کے مطابق ایک اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جبکہ وفاقی سیکریٹری صحت کو عہدے سے ہٹا دیا ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑تعزیتی نشست براۓ ادریس وارثی* آج بروز منگل بعد نماز عشاء خالد بن ولید ہال امن پورہ نانڈیڑی اسکول کے پیچھے ایک ت...