Monday, 31 August 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*


*🛑تصویروں کا سیاہ کھیل اور ٹھپ ہوتا ترقیاتی کام*
*آخر کب جاگے گی مالیگاؤں کی عوام؟*
✍️ *وسیم رضا خان*

مالیگاؤں کی تاریخ صرف کپڑے کے تانے بانے تک محدود نہیں رہی ہے، بلکہ یہ شہر جدوجہد اور صبر کی علامت رہا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے، آج یہ شہر سیاست کے اس خوفناک چوراہے پر کھڑا ہے جہاں اصل مسائل پر دھول جم چکی ہے اور فضول کے تنازعات کو چمکایا جا رہا ہے۔ ایک شہری اور صحافی ہونے کے ناطے میرا مقصد کسی سیاسی جماعت، رہنما، اقتدار میں شامل افراد یا اپوزیشن پر ذاتی حملہ کرنا بالکل نہیں ہے۔ میری دشمنی کسی سیاسی شخص یا لیڈر سے نہیں، بلکہ اس ناکارہ انتظامی نظام اور ان غلط پالیسیوں سے ہے جنہوں نے شہر کی ترقی راستے بند کر رکھے ہیں. جب جب سسٹم اپنی ذمہ داریوں سے بھٹکتا ہے، تب تب ایک غیر جانبدار آواز کا اٹھنا بے حد ضروری ہو جاتا ہے تاکہ عوام کو ان کے سوئے ہوئے شعور کا احساس دلایا جا سکے۔ آج مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن اور یہاں کی سیاست کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ عوامی سہولیات کی جگہ علامتی لڑائیوں نے لے لی ہے۔ دفاتر میں ٹیپو سلطان کی تصویر لگانے یا ہٹانے کا معاملہ نہ تو شہر کی ترقی کر سکتا ہے اور نہ ہی اس سے کسی غریب کے گھر کا چولہا جل سکتا ہے۔ صرف ایک تصویر کے ارد گرد پورے شہر کی ترقی کو روک دینا کسی دور اندیش عوامی نمائندے کی نشانی نہیں ہو سکتی۔ سچا رہنما وہ ہوتا ہے جو نفرت اور تقسیم کی بھدی سیاست کو بالائے طاق رکھ کر صرف سڑک، پانی، صحت، تعلیم اور انتظامی امور جیسے بنیادی مسائل پر بات کرتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس طرح کے کھوکھلے تنازعات کے ذریعے مالیگاؤں کے عکس کو خراب کرنے اور ایک مخصوص برادری کو اوروں کی نظر میں نشانہ بنانے کا راستہ اپنایا جا رہا ہے۔ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ اگر خود کو کسی فکر یا برادری کا رہبر کہتے ہیں، تو انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ دوسروں کے جذبات کو مجروح کر کے سیاست کرنا ہرگز قیادت نہیں ہے۔ کرسی ملنے کے بعد رہنما پورے شہر کا نمائندہ ہوتا ہے، نہ کہ کسی خاص گروہ کا۔ ایک بہترین منتظم اور سچا نمائندہ وہی ہے جو اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلے یا اس کے جائز اعتراضات کا مثبت جواب دے۔ اگر اپوزیشن تقسیم اور جذبات سے کھیلنے والی پالیسیوں پر سوال اٹھا رہی ہے، تو اقتدار میں بیٹھے لوگوں کو خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ اقتدار اور اپوزیشن کے درمیان بحث کا دائرہ اس بات پر ہونا چاہیے کہ میونسپل کارپوریشن کے نظام میں بہتری کیسے لائی جائے، ٹوٹاہوا انفراسٹرکچر کیسے ٹھیک ہو اور پینے کا صاف پانی ہر گھر تک کیسے پہنچے—نہ کہ اس بات پر کہ دفتر کی دیواروں پر کس کی تصویر رہے گی اور کس کی نہیں۔ گدی نشین نمائندے اگر اپنے مخالف گروہ کو سنبھال نہیں سکتے تو یقینا وہ انتظامی امور کے بھی لایق نہیں ہو سکتے. 
مالیگاؤں کی عوام کو اب یہ تلخ سچائی سمجھنی ہوگی۔ جب تک آپ اپنے رہنماؤں سے ترقی کا حساب نہیں مانگیں گے، تب تک وہ آپ کو جذبات کے جال میں الجھا کر اپنی کرسیاں بچاتے رہیں گے۔ میونسپل کارپوریشن آپ کی ہے، یہ شہر آپ کا ہے اور اس کی ترقی پر پہلا حق آپ کا ہے۔ تصویروں اور علامتوں کے فریب سے باہر نکلئے اور اپنے بنیادی حقوق کے لیے متحد ہو کر نظام اور انتظامیہ سے سوال کیجیے، کیونکہ جب عوام بیدار ہوتی ہے، تبھی نظام سدھرتا ہے۔








*🛑جمعیۃ علماء کے تربیتی اجلاس میں ہندو مسلم اتحاد اور باہمی اخوت کے فروغ پر زور*
 ملک کی مسموم فضا کو تبدیل کرنے کے لئے جمعیۃعلماء کے کارکنان آگے آئیں: مولانا سید اسجد مدنی
ممبئی: جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے زیر اہتمام منعقدہ تربیتی اجلاس میں باہمی اخوت، ہندو مسلم اتحاد، سماجی خدمت اور مقامی سطح پر جمعیۃ علماء کی سرگرمیوں کو مؤثر بنانے پر خصوصی زور دیا گیا۔ اجلاس میں ریاست بھر سے جمعیۃ علماء کے ذمہ داران، اراکین اور نمائندہ افراد نے شرکت کی۔
تلاوتِ کلامِ پاک اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ سے اجلاس کا آغاز ہوا۔ بعد ازاں ناظمِ تربیتی اجلاس مفتی محمد یوسف قاسمی، جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء مہاراشٹر، نے اجلاس کے اغراض و مقاصد اور اس کی ضرورت و اہمیت پر روشنی ڈالی۔
اجلاس کی صدارت جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر مولانا حلیم اللہ قاسمی نے کی۔ انہوں نے تربیتی پروگرام کی مزید تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے منعقد کیا جارہا ہے۔ صدرِ محترم مولانا سید ارشد مدنی مدظلہ کی ہدایت پر مرکزی مجلسِ عاملہ کے چار ارکان پر مشتمل کمیٹی برائے ہندو مسلم اتحاد و باہمی اخوت تشکیل دی گئی ہے، جس کے کنوینر مولانا سید اسجد مدنی مدظلہ نائب صدر جمعیۃ علماء ہند ہیں۔
مولاناسید اشہد رشیدی مدظلہ نے کمیٹی کے طریقۂ کار کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس فورم کے تحت منعقد ہونے والے پروگراموں میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کی مؤثر شرکت ضروری ہے۔ اگر کسی پروگرام میں سو افراد ہوں تو کم از کم پچاس افراد دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے بھی شریک ہوں، تاکہ باہمی تعارف، مکالمے اور اخوت کا ماحول پیدا ہو۔
انہوں نے کہا کہ ایسے پروگرام بڑے میدانوں یا وسیع اجتماعات کی شکل میں منعقد کرنے کے بجائے مقامی سطح پر ہندو مسلم اتفاقِ رائے سے منعقد کیے جائیں۔ پروگرام کے اسٹیج پر سیاسی شخصیات کو مدعو نہ کیا جائے، جبکہ برادرانِ وطن میں سنجیدہ، باشعور اور سماجی میدان میں فعال افراد کو خصوصی طور پر شرکت کی دعوت دی جائے۔
کمیٹی کے کنوینر مولانا سید اسجد مدنی مدظلہ نائب صدر جمعیۃعلماء ہند و کنوینر تحریک ہندو مسلم اتحاد نے جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر مولانا حلیم اللہ قاسمی اور جنرل سکریٹری مفتی محمد یوسف قاسمی کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ریاست کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے جمعیۃ علماء کے ذمہ داران اور نمائندہ افراد کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا۔
اپنے خطاب میں مولانا سید اسجد مدنی مدظلہ نے شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کے تاریخی موقف ’’قومیں اوطان سے بنتی ہیں، مذاہب سے نہیں‘‘ کو عصرِ حاضر کی اہم ترین ضرورت قرار دیتے ہوئے اس کی دلنشیں تشریح کی۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کی تمام مخلوق اللہ کا کنبہ ہے، اس لیے بلا تفریقِ مذہب و ملت مظلوموں، مجبوروں اور بے سہارا لوگوں کی مدد کرنا جمعیۃ علماء کا روزِ اول سے بنیادی مشن رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جمعیۃ علماء کے اسی مشن پر اخلاص کے ساتھ عمل کرتے ہوئے دلوں کو جیتا جاسکتا ہے اور ملک کی مسموم فضا کو محبت، اعتماد اور باہمی اخوت میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ اس سلسلے میں مقامی جمعیتوں کو بنیادی کردار ادا کرنا ہوگا، جبکہ ضلعی اور ریاستی سطح کی جمعیتوں کا کام نگرانی، رہنمائی اور سرپرستی فراہم کرنا ہے۔
مولانا مدنی نے جمعیۃ علماء کے دستورِ اساسی کی روشنی میں مقامی جمعیتوں کی اہمیت واضح کرتے ہوئے کہا کہ مقامی جمعیت کے علاوہ دیگر سطحوں کی جمعیتیں ایک مقررہ مدت کے لیے تشکیل دی جاتی ہیں، جبکہ مقامی جمعیۃ کی تشکیل کے لیے کوئی متعین مدت نہیں رکھی گئی۔ دستور میں ہر سال کم از کم دو مقامی جمعیتیں قائم کرنے کی تاکید بھی کی گئی ہے، جس سے مقامی سطح پر تنظیمی و سماجی کام کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
مولانامدنی کی ہدایت پر اجلاس کے صدر مولانا حلیم اللہ قاسمی نے تمام شرکائے اجلاس سے عہد لیا کہ وہ اپنی اپنی مقامی سطح پر جمعیۃ علماء کے بینر تلے برادرانہ اخوت، ہندو مسلم اتحاد، باہمی اعتماد اور خدمتِ خلق کے اس مشن کو آگے بڑھانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔
آخر میں مولانا سید اسجد مدنی مدظلہ کی دعا کے ساتھ تربیتی اجلاس اختتام پذیر ہوا۔ بعد ازاں شرکائے اجلاس نے نمازِ ظہر ادا کی اور ظہرانے میں شرکت کی۔








*🛑اف یہ موبائل!*
*ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت* 
*احساسِ مروّت کو کچل دیتے ہیں آلات*
از قلم: شعیب احمد محمدی - 9284434542

وہ زمانہ یاد کیجیے جب شام کو گھروں میں چراغ جلتے ہی قرآن کی تلاوت کی آوازیں آتی تھیں، مائیں بچوں کو سیرت النبی ﷺ کے قصے سناتی تھیں، ناول اور اصلاحی کتابیں پڑھی جاتی تھیں۔ آج اسی گھر میں ہر فرد کے ہاتھ میں ایک چمکتی ہوئی اسکرین ہے، اور ہر فرد تنہا ہے۔

موبائل نے سہولت تو دی، لیکن ہماری زندگی سے برکت، توجہ اور حیاء چھین لی ہے۔

1. تعلیم کی بربادی
آج نہ اسکول کے طالب علم کا دل پڑھائی میں لگتا ہے، نہ مدرسے کے طالب علم کا۔ استاد سبق پڑھا رہا ہے اور طالب علم کا دماغ موبائل کی خرافاتی ریلز میں الجھا ہوا ہے۔

2. نوجوان ہنر سیکھیں، وقت نہ گنوائیں
آج دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، آرٹیفیشل انٹیلیجنس، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، گرافک ڈیزائننگ اور نئے ہنر کا دور ہے۔ افسوس کہ ہمارا نوجوان اپنا قیمتی وقت ٹک ٹاک اور ریلز پر برباد کر رہا ہے، جبکہ دنیا کا نوجوان اسی موبائل سے ہزاروں کما رہا ہے۔ یاد رکھو! جس قوم کے نوجوان ہنر مند ہوتے ہیں وہ قوم ترقی کرتی ہے، اور جس قوم کے نوجوان صرف اسکرین کے غلام بن جائیں وہ پیچھے رہ جاتی ہے۔ اس لیے اے نوجوانو! اپنے وقت کی قدر کرو، کوئی ہنر سیکھو، اپنی تخلیقی صلاحیت کو جگاؤ، تاکہ تم خود بھی کما سکو، اپنے والدین کا سہارا بن سکو اور اس ملک و ملت کے لیے کچھ کر سکو۔

3. گھروں کا سکون برباد
کل تک جو خواتین پنج وقتہ نماز کے بعد قرآن کی تلاوت کرتی تھیں، آج وہی مائیں اور بہنیں سارا دن ڈراموں، ریلوں اور بے حیاء کلپس میں اپنا وقت ضائع کر رہی ہیں۔ بچے کی تربیت، شوہر کا خیال، گھر کی صفائی، سب اسکرین کی نذر ہو گئی۔

4. تربیت کا جنازہ
آج تربیت کی سب سے بڑی رکاوٹ یہی موبائل بن گیا ہے - نہ لڑکے محفوظ ہیں نہ لڑکیاں، نہ شوہر نہ بیوی۔ لڑکا مدرسے اور اسکول میں ہے تو اس کا ذہن کلاس میں نہیں بلکہ چیٹ میں ہے، لڑکی گھر میں ہے تو اس کی نظریں کتاب پر نہیں اسکرین پر ہیں، شوہر کما کر آتا ہے تو بیوی سے بات کرنے کے بجائے موبائل میں مصروف ہے، اور بیوی شوہر کی خدمت کے بجائے ڈراموں میں الجھی ہے۔ جب تربیت کا یہ رشتہ موبائل کی نظر ہو جائے تو حیا ختم ہو جاتی ہے، اعتماد ٹوٹ جاتا ہے، اور گھر میں رہ کر بھی سب اجنبی بن جاتے ہیں۔

5. بچپن کا قتل
آج ہر گھر میں معاشی تنگی کا رونا ہے، خرچہ پورا نہیں ہوتا، لیکن ہر بچے کے ہاتھ میں 10-15 ہزار کا موبائل اور ہر مہینے اس کا ریچارج وقت پر ہوتا ہے۔ اس موبائل نے بچوں کو ضدی اور چڑچڑا بنا دیا ہے۔ موبائل نہ ملے تو گھر سر پر اٹھا لیتے ہیں، ماں باپ کو آنکھیں دکھاتے ہیں۔

6. عزتوں کا جنازہ
اور اللہ خیر کرے! اس موبائل نے ہماری نوجوان نسل کو عشق بازی اور فحاشی میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہر موبائل پر سات تالے لگے ہوتے ہیں، جیسے اس میں ہیرے موتی چھپے ہوں۔

ہمارے یہاں ایک رسم ہے، شادی میں دلہن والے دولہے کا جوتا چراتے ہیں اور 2000-3000 مانگتے ہیں، لیکن دولہا ہنسی میں 500 روپے دے کر جوتا لے لیتا ہے۔ میں کہتا ہوں، اگر شادی والے دن دولہے کا جوتا نہیں بلکہ اس کا موبائل چھپا لیا جائے تو وہ منہ مانگی قیمت دینے کو تیار ہو جائے گا۔ اب اس سے آگے لکھنے کی ضرورت نہیں کہ وہ ایسا کیوں کرے گا۔!!

لہذا: اپنے اوقات کا سہی استعمال کریں، اسکول مدرسہ میں اچھے نمبرات حاصل کرنے کی اور ہنر مند بننے بنانے کی فکر کریں، رشتوں کو مضبوط کریں ہر ایک کو وقت اور عزت دیں۔

اللہ ہمیں اس فتنے سے محفوظ رکھے اور موبائل کو دین و دنیا کی بھلائی اور علماء کرام کے بیانات، نعت کے لیے استعمال کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑انعام الرحمٰن کی ایک اور نمایاں کامیابی، انگلش میڈیم میں پولیٹیکل سائنس سے نیٹ کوالیفائی کرنے والے شہر عزیز کے پہلے طالب علم*...