*🛑مڈ ڈے میل میں 14 لاکھ کا گھوٹالہ ، Gen-Z نے گوگل سے DM کا پتہ کھوج کر کی شکایت*
اترپردیش کے بلیہ میں ایک کونسل اور انٹر کالج کے چھوٹے بچوں نے مڈ ڈے میل اسکیم میں گھپلے کا پردہ فاش کیا ہے۔ انہوں نے گوگل پر ضلع مجسٹریٹ کا پتہ تلاش کیا اور اس کی شکایت کی، جس کے بعد تحقیقات میں اسکیم کے تحت بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی کا پردہ فاش ہوا۔ بچوں نے خود ہی انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا پتہ تلاش کیا اور ایک خط لکھا جس میں 14 لاکھ روپے کے گھپلے کا پردہ فاش کیا۔
یہ معاملہ بلیا کے بانسڈیہ میں تاج پور مداری انٹر کالج سے متعلق ہے۔ یہاں 6ویں سے 12ویں تک کی کلاسز ہوتی ہیں ۔ حکومت اسکول کے بچوں کو غذائیت سے بھرپور کھانا فراہم کرنے کے لیے دوپہر کے کھانے کی اسکیم چلاتی ہے۔ تاہم، اس کالج میں حقیقت بالکل مختلف تھی ۔ پچھلے دو سالوں سے طلباء کو ایک بار بھی دوپہر کا کھانا نہیں مل رہا تھا ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ بچوں کی پلیٹوں میں کھانا نہ پہنچنے کے باوجود اس اسکیم کے لیے ہر ماہ لاکھوں روپے نکالے جا رہے تھے۔بچوں نے گوگل پر ڈی ایم کا پتہ تلاش کیا
اسکول میں ہونے والی اس ناانصافی سے طلباء پریشان تھے۔ وہ اس بدعنوانی کی شکایت ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سے کرنا چاہتے تھے، لیکن ان کے پاس براہ راست چینل یا ڈی ایم کا صحیح پتہ نہیں تھا۔ بے خوف، طلباء نے ٹیکنالوجی کا سہارا لیا۔ انہوں نے گوگل پر بلیا ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا پتہ تلاش کیا۔ اس کے بعد انہوں نے ایک خفیہ خط تیار کیا اور اسے ڈی ایم کو بھیج دیا۔ خط میں طلباء نے مطالبہ کیا کہ ان کے نام عام نہ کیے جائیں اور پورے معاملے کی خفیہ تحقیقات کرائی جائیں۔
تحقیقات میں 14 لاکھ روپے کے گھپلے کا انکشاف ہوا
جب ضلع مجسٹریٹ منگلا پرساد سنگھ نے بچوں کے خط کو سنجیدگی سے لیا تو انہوں نے فوری طور پر اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دیا۔ ڈی ایم کی ہدایات کے بعد بلیا کے بنیادی تعلیم افسر منیش کمار سنگھ اور ضلع ترقیاتی افسر پر مشتمل ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دی گئی۔ اس ٹیم نے جب کالج کی مالی حالت کا جائزہ لیا تو انتظامی اہلکار بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر رہ گئے۔ تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسکول میں گزشتہ دو سالوں سے مڈ ڈے میل تیار نہیں کیا گیا تھا، اور اس فرضی اسکیم سے تقریباً 14 لاکھ روپے کا گھپلہ ہوا تھا۔
بی ایس اے منیش کمار سنگھ نے بتایا کہ ضلع مجسٹریٹ کی ہدایات کے مطابق اب اس پورے گھوٹالے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اگر ان معصوم بچوں نے پہل نہ کی ہوتی اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو خط نہ لکھا ہوتا تو یہ بہت بڑا گھپلہ فائلوں میں دھنستا رہتا۔ بچوں کے اس جرات مندانہ عمل کی اب ضلع بھر میں ستائش ہو رہی ہے۔
*🛑تبت میں ٹوٹ گیا ڈیم ، چین نے روکا ریسکیو آپریشن، نیپال میں ہائی الرٹ*
نیپال۔ تبت سرحد پر بدھ کے اچانک سیلاب کے بعد، ایک اور بڑا خطرہ سامنے آیا ہے۔ گلیشیئر کی وجہ سے پہاڑو ں سے آئے ملبے نے دریا کا راستہ رو ک دیا تھا جس سے ایک جھیل بن گئی تھی ۔ پانی کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے اور اب اس کے بہہ جانے کی اطلاع ہے۔ تبت کی جانب ملبے سے بننے والا ڈیم بھی ٹوٹ گیا ہے۔ خطرہ اس قدر شدید ہو گیا ہے کہ چین نے تبت میں امدادی کارروائیاں روک دی ہیں اور اپنے امدادی کارکنوں اور گاڑیوں کو متاثرہ علاقے سے محفوظ مقام پر منتقل کر دیا ہے۔ پانی اگلے کچھ گھنٹوں کے اندر نیپال پہنچ جائے گا، جس سے نیپال میں دریا کے کنارے والے علاقوں کو بھی خالی کر دیا جائے گا۔ چند گھنٹے قبل صوبہ سیچوان میں 5.1 شدت کا زلزلہ آیا تھا۔ نیپال پولیس نے تبت کی جانب ایک اور ڈیم کے ٹوٹنے کی اطلاع ملنے کے بعد رہائشیوں اور امدادی ٹیموں سے فوری طور پر انخلاء کی اپیل کی ہے۔
سیلاب کا ملبہ نیا خطرہ
26 اگست کو، پانی، برف، چٹانوں اور ملبے کا ایک اچانک، طاقتور طوفان نیپال-چین سرحد سے گزرا۔ اس عمل میں سڑکیں، پل، عمارتیں اور بستیاں بہہ گئیں۔ سینکڑوں لوگ مارے گئے، اور بڑی تعداد لاپتہ ہے۔ سیلاب کے بعد، بڑے پیمانے پر پہاڑی ملبہ دریا کے راستے میں جمع ہو گیا، جس سے پانی کے پیچھے ایک بڑی جھیل بن گئی۔ یہ جھیل اب ایک نئی تشویش کا باعث بن گئی ہے۔ چینی انجینئرنگ ٹیم کے مطابق جمعرات کو جھیل میں تقریباً 1.5 سے 2 ملین کیوبک میٹر پانی موجود تھا۔ اب، یہ 2.5 ملین کیوبک میٹر سے زیادہ بڑھ گیا ہے، اور پانی اوور فلو ہونے لگا ہے۔چین نے ریسکیو ٹیم کو واپس بلا لیا
جھیل پر بڑھتے ہوئے دباؤ نے حکام میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ اگر ملبے کا قدرتی بند اچانک ٹوٹ گیا تو جمع پانی نیچے کی طرف بہہ جائے گا۔ مزید یہ کہ آس پاس کی پہاڑیوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودے گرنے کا خطرہ ہے۔ اس لیے چین نے اپنے تمام ریسکیو اہلکاروں اور گاڑیوں کو خطرے کے علاقے سے نکال کر محفوظ مقام پر اسٹینڈ بائی پر رکھ دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو ٹیمیں پہلے سیلاب میں پھنسے لوگوں کو بچانا چاہتی تھیں اب انہیں خود سیلاب سے بچنے کے لیے پیچھے ہٹنا پڑا ہے۔
جھیل کی نکاسی کی تیاریاں
چین نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے آٹھ رکنی انجینئرنگ ٹیم تعینات کی ہے۔ ٹیم یہ سمجھنے کے لیے فضائی سروے اور 3D ماڈلنگ کا استعمال کر رہی ہے کہ جھیل کتنی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور قدرتی ملبے کی دیوار کتنی مضبوط ہے۔ انجینئرز کا اس وقت سب سے اہم آپشن پانی کی نکاسی کے لیے ایک ڈرینیج چینل بنانا ہے۔ اس سے جھیل کا پانی آہستہ آہستہ نکل جائے گا اور اچانک سیلاب کا خطرہ کم ہو جائے گا۔
نیپال ایک بار پھر علاقہ خالی کر رہا ہے
تبت کی طرف ڈیم کی خلاف ورزی کی اطلاعات کے بعد، نیپال پولیس نے جمعہ کو ترشولی کے علاقے میں لوگوں کو نکالنا شروع کیا۔ پولیس نے سیکورٹی اہلکاروں، کارکنوں اور راحت اور بچاؤ کاموں میں مصروف عوام کو بھی چوکس رہنے کا مشورہ دیا۔ ایک پولیس افسر کے مطابق پانی کی سطح بڑھنے کے امکان کے پیش نظر علاقے میں جاری کام روک دیا گیا اور گاڑیوں کو واپس بھیج دیا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سڑک کی تعمیر سے لے کر امدادی کارروائیوں تک بہت سی سرگرمیاں روک دی گئی ہیں۔
سیچوان میں زلزلے کے بعد تشویش میں اضافہ
دریں اثنا، چین کے جنوب مغربی صوبہ سیچوان کے لونگ چانگ شہر میں 5.1 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے بعد نیپال میں بھی الرٹ جاری کر دیا گیا۔ اگرچہ زلزلہ سیلاب زدہ علاقے میں آیا، لیکن پہلے سے ہی غیر مستحکم پہاڑی علاقے اور پانی کی بڑھتی ہوئی سطح نے خدشات کو جنم دیا ہے۔
*🛑پی ایم مودی اور پوتن پھر آئیں گے ساتھ ...شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر نظر آئے گی ہندوستان روس کی اٹوٹ دوستی ، MEA کا اعلان*
جہاں بڑی طاقتیں عالمی سیاسی نقشے پر اپنی اپنی چالیں چل رہی ہیں، وسطی ایشیا سے آنے والی خبروں نے مغربی کیمپ میں ہلچل مچا دی ہے۔ وزارت خارجہ (MEA) نے اعلان کیا ہے کہ PM نریندر مودی اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان 26ویں SCO چوٹی کانفرنس کے دوران ایک انتہائی اہم دو طرفہ میٹنگ ہوگی۔ ایسے ماحول میں ان دو سرکردہ لیڈروں کے درمیان مصافحہ محض رسمی نہیں بلکہ عالمی طاقت کے توازن کا ایک نیا باب ہے۔ پی ایم مودی 29 اگست سے یکم ستمبر کے درمیان ازبکستان اور کرغز جمہوریہ کا دورہ کریں گے۔
طاقتور کیمسٹری اور جیو پولیٹیکل ماسٹر اسٹروک
اس پورے سفر کی خاص بات پی ایم نریندر مودی اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان دو طرفہ ملاقات ہوگی۔ عالمی دباؤ اور پابندیوں کے درمیان ہندوستان اور روس کے درمیان ہونے والی یہ ملاقات ثابت کرتی ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد اگلی سطح پر پہنچ گیا ہے۔ اس اجلاس میں تجارت، توانائی کی سلامتی، دفاع اور عالمی امن پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ وزیر اعظم نریندر مودی 6 ویں عالمی خانہ بدوش کھیلوں کی افتتاحی تقریب میں بھی شرکت کریں گے جو وسطی ایشیائی ثقافت کا ایک بڑا تہوار ہے۔تاشقند میں سجے گا ہندوستان-ازبکستان شراکت داری کا اسٹیج
پی ایم نریندر مودی کا وسطی ایشیا کا دورہ 29 اگست کو ازبکستان سے شروع ہوگا۔ صدر شوکت مرزیوئیف کی دعوت پر تاشقند پہنچنا، پی ایم مودی کا ازبکستان کا یہ چوتھا دورہ ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، ڈیجیٹل رابطے اور توانائی جیسے اہم موضوعات پر اعلیٰ سطحی بات چیت ہوگی۔ “ترقی یافتہ ہندوستان @ 2047” اور “ازبکستان 2030” کے تصورات کو ہم آہنگ کرتے ہوئے دونوں ممالک اپنے اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے لیے تیار ہیں۔
تاشقند میں شاستری جی اور باپو کو خراج عقیدت
سفارتی ملاقاتوں کے علاوہ تاشقند ہندوستان کی وراثت اور اقدار کو بھی خراج تحسین پیش کرے گا۔ اپنے سرکاری دورے کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی سابق وزیر اعظم لال بہادر شاستری کی یادگار پر جا کر انہیں خراج عقیدت پیش کریں گے۔ مزید برآں، وہ تاشقند اسٹیٹ یونیورسٹی میں مہاتما گاندھی سنٹر کا دورہ کریں گے تاکہ ہندوستان اور ازبکستان کے درمیان عوام سے عوام کے روابط کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔
شنگھائی تعاون تنظیم میں سلامتی اور پیشرفت پر ہندوستان کی توجہ
31 اگست کو، اپنے دورے کے دوسرے مرحلے میں، پی ایم نریندر مودی جمہوریہ کرغزستان کے بشکیک پہنچیں گے۔ اس سال، 26 ویں ایس سی او سربراہی اجلاس، جس کی میزبانی صدر صدیر جاپاروف نے کی، ایک خاص ہے کیونکہ تنظیم اپنی 25 ویں سالگرہ منا رہی ہے۔ ہندوستان، 2017 سے SCO کا فُل ٹائم رکن رہا ہےہے، ہمیشہ علاقائی استحکام کا حامی رہا ہے۔ اس پلیٹ فارم سے، وزیر اعظم نریندر مودی دنیا کے سامنے اپنی تین اہم ترجیحات: سیکورٹی، کنیکٹیویٹی اور مواقع کا روڈ میپ پیش کریں گے۔
دہشت گردی پر کوئی سمجھوتہ نہیں
شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں سیکورٹی کے حوالے سے ہندوستان کا موقف واضح اور جارحانہ ہوگا۔ خارجہ سکریٹری (مغرب) سی بی جارج نے واضح کیا ہے کہ ہندوستان دہشت گردی اور سرحد پار دہشت گردی پر صفر برداشت کی پالیسی پر عمل پیرا رہے گا۔ ہندوستان کا ماننا ہے کہ دہشت گردی پوری انسانیت کے لیے ایک اہم خطرہ ہے۔ بشکیک کے پلیٹ فارم سے ہندوستان عالمی برادری کو ایک مضبوط پیغام دے گا کہ دہشت گردی کو پناہ دینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔