Saturday, 29 August 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑دہلی والوں کی جیب پرپھروار،امریکہ-ایران جنگ کے بعدCNGکی قیمت میں پانچویں مرتبہ اضافہ*
نئی دہلی: دہلی اور آس پاس کے علاقوں میں سی این جی کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اندرپرستھ گیس لمیٹڈ (IGL) نے ہفتہ کی صبح 6 بجے سے سی این جی کے نرخ میں 3.89 روپے فی کلو کا اضافہ نافذ کر دیا ہے۔ اس فیصلے کا براہ راست اثر دہلی-این سی آر میں سی این جی سے چلنے والی گاڑیوں کے لاکھوں مالکان، آٹو رکشا، ٹیکسی ڈرائیوروں اور مال بردار گاڑیوں پر پڑے گا۔

درآمد شدہ گیس بنی قیمت بڑھنے کی وجہ

آئی جی ایل کے مطابق سی این جی کی تیاری میں استعمال ہونے والی گیس کا ایک بڑا حصہ بیرون ملک سے درآمد کیا جاتا ہے۔ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں ایل این جی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں کمپنی کی ان پٹ لاگت بڑھ گئی ہے، جس کا کچھ بوجھ اب صارفین پر منتقل کیا گیا ہے۔

اس سال پانچویں بار مہنگی ہوئی سی این جی

سی این جی کی قیمتوں میں اضافے کا یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ رواں سال اب تک سی این جی کی قیمت میں پانچ مرتبہ اضافہ کیا جا چکا ہے۔ مئی میں صرف 10 دن کے اندر چار مرتبہ نرخ بڑھائے گئے تھے، جس کے بعد مجموعی طور پر 6 روپے فی کلو کا اضافہ ہوا تھا۔ اب اگست کے آخر میں ایک مرتبہ پھر قیمت بڑھنے سے صارفین کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔ نئے نرخ کے بعد نوئیڈا اور غازی آباد میں سی این جی 95.59 روپے فی کلو ہو گئی ہے۔ میرٹھ میں اس کی قیمت 95.47 روپے فی کلو جبکہ گڑگاؤں میں 92.01 روپے فی کلو پہنچ گئی ہے۔ مختلف ریاستوں میں VAT کی شرح الگ ہونے کی وجہ سے سی این جی کی قیمتوں میں بھی فرق برقرار ہے۔آٹو، ٹیکسی اور مال برداری مہنگی ہونے کا خدشہ

دہلی-این سی آر میں بڑی تعداد میں آٹو رکشا اور ٹیکسیاں سی این جی پر چلتی ہیں۔ اس کے علاوہ چھوٹے مال بردار ٹرک بھی اسی ایندھن پر انحصار کرتے ہیں۔ ایسے میں سی این جی کی قیمت بڑھنے سے ڈرائیوروں کے اخراجات میں اضافہ ہوگا اور اس کا اثر مسافروں کے کرایوں اور مال برداری کی لاگت پر بھی پڑ سکتا ہے۔ بالآخر اس کا بوجھ عام صارفین اور تاجروں کو برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جولائی سے اب تک عالمی سطح پر ایل این جی کی قیمتیں تقریباً دوگنی ہو چکی ہیں۔ مغربی ایشیا میں کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے مال برداری متاثر ہوئی ہے، جس سے عالمی سپلائی چین پر دباؤ بڑھا ہے۔ اس کے نتیجے میں ایشیا اور یورپ دونوں میں گیس کی قیمتیں تیزی سے بڑھی ہیں۔

یورپ کر رہا ہے ایل این جی کا ذخیرہ

سردیوں کے موسم سے پہلے یورپ بڑے پیمانے پر ایل این جی کا ذخیرہ کر رہا ہے۔ فروری میں ایشیا کا جے کے ایم بینچ مارک تقریباً 11 ڈالر فی MMBTU تھا، جو اگست میں بڑھ کر 23.4 ڈالر تک پہنچ گیا۔ اسی طرح یورپ کا ٹی ٹی ایف گیس بینچ مارک بھی 11.3 ڈالر سے بڑھ کر 23.3 ڈالر فی MMBTU ہو گیا ہے۔ آئی جی ایل کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی لاگت کا پورا بوجھ کمپنی خود برداشت نہیں کر سکتی، اس لیے قیمتوں میں اضافہ ضروری ہو گیا تھا۔ اب دہلی-این سی آر میں سی این جی استعمال کرنے والے صارفین کو ہر کلو گیس پر تقریباً 4 روپے اضافی ادا کرنا ہوں گے، جس سے روزانہ گاڑی استعمال کرنے والوں کا ماہانہ بجٹ مزید متاثر ہو سکتا ہے۔






*🛑ٹرمپ کی بڑی چال،وینزویلا کے65ارب بیرل تیل کے ذخیرے پرامریکہ کا کنٹرول،کیا پٹرول سستا ہوگا؟*
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 28 اگست کو وینزویلا کے ساتھ ایک تاریخی تیل معاہدے کا اعلان کیا۔ ٹرمپ کے مطابق اس معاہدے سے امریکہ کی خام تیل تک رسائی میں اضافہ ہوگا، سپلائی مزید مضبوط ہوگی اور پٹرول کی قیمتوں میں کمی آئے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت اور نجی کمپنیوں کی شراکت داری کے ذریعے امریکہ نے وینزویلا کے 65 ارب بیرل سے زیادہ تیل کے ذخائر پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

امریکی ٹیکس دہندگان پر نہیں پڑا بوجھ

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر بتایا کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو اور سیکریٹری آف وار پیٹ ہیگستھ نے وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز اور نجی کمپنیوں کے ساتھ مل کر یہ معاہدہ طے کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے لیے امریکی ٹیکس دہندگان کی جیب سے ایک ڈالر بھی خرچ نہیں کیا گیا۔ ٹرمپ نے معاہدے کو امریکہ کے لیے توانائی کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے ملک کو وینزویلا کے بڑے تیل کے ذخائر تک رسائی حاصل ہوگی۔

توانائی کی سپلائی کو ملے گا فروغ

امریکی صدر کا کہنا ہے کہ معاہدے کے نتیجے میں امریکہ کے تیل کے ذخائر میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ ان کے مطابق اس سے ملک کی توانائی سلامتی مزید مضبوط ہوگی اور خام تیل کی سپلائی بہتر ہونے کے باعث صارفین کو پٹرول کی کم قیمتوں کی صورت میں فائدہ مل سکتا ہے۔ تاہم پٹرول کی قیمتوں پر اس معاہدے کا حقیقی اثر عالمی خام تیل کی قیمتوں، پیداوار کی رفتار، ریفائننگ صلاحیت اور مارکیٹ میں سپلائی جیسے عوامل پر بھی منحصر ہوگا۔

وینزویلا کو بھی ہوگا بڑا فائدہ

وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز نے بھی معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان کے مطابق اس معاہدے سے ملکی خزانے کو بڑی آمدنی حاصل ہوگی اور وینزویلا کی تیل کی صنعت کو دوبارہ مضبوط بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری آنے کی امید ہے۔ روڈریگز کے مطابق معاہدے میں 17 بڑے تیل کے شعبوں کی ترقی شامل ہے، جہاں تقریباً 65 ارب بیرل کے مصدقہ تیل کے ذخائر موجود ہیں۔ وینزویلا کی حکومت کو امید ہے کہ ان منصوبوں کے ذریعے 100 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری حاصل ہوگی۔ اس کے علاوہ ان منصوبوں سے حکومت کو 209 ارب ڈالر سے زیادہ ٹیکس آمدنی ہونے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ یہ سرمایہ کاری وینزویلا کی تیل کی پیداوار، بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے شعبے کو دوبارہ فعال کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

روزگار اور ترقی کا نیا دور؟

روڈریگز نے کہا کہ وینزویلا اپنے وسیع تیل کے ذخائر کو توانائی کی پیداوار بڑھانے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور عوام کی آمدنی میں اضافے کے لیے استعمال کرے گا۔ ان کے مطابق معاہدے سے ملک میں اقتصادی ترقی، سلامتی اور خوشحالی کا ایک نیا دور شروع ہونے کی امید ہے۔ یوں یہ معاہدہ صرف امریکہ کی توانائی ضروریات تک محدود نہیں بلکہ وینزویلا کے لیے بھی اپنی تباہ حال تیل کی صنعت کو دوبارہ کھڑا کرنے اور معیشت کو مضبوط بنانے کا ایک بڑا موقع سمجھا جا رہا ہے۔









*🛑چلتی ٹرین سے ہونے لگی پیسوں کی بارش، 500-500 کے نوٹ دیکھ کر لوٹنے کیلئے دوڑ پڑے لوگ، پھر جو ہوا...*
گورکھپور: اتر پردیش سے اکثر ایسی خبریں سامنے آتی ہیں، جن پر یقین کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اب گورکھپور کے ایک ریلوے اسٹیشن پر اچانک ٹرین سے روپے ہوا میں اڑنے لگے، جنہیں سمیٹنے کے لیے لوگوں میں دوڑ مچ گئی۔ معاملہ گورکھپور سے پنویل (ممبئی) جانے والی ایکسپریس ٹرین کا پیپی گنج ریلوے اسٹیشن سے گزرنے کے دوران پیش آیا۔ یہاں جمعہ کی صبح اچانک لوگوں نے پانچ پانچ سو روپے کے نوٹ ہوا میں اڑتے دیکھے تو پہلے انہیں یقین ہی نہیں ہوا۔ لیکن کچھ ہی دیر بعد نوٹ سمیٹنے کے لیے لوگ دوڑ پڑے۔ جسے جہاں جتنے نوٹ ملے، وہ انہیں لے کر چلتا بنا۔ تاہم رقم کتنی تھی اور اسے کس نے پھینکا، اس کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ صبح تقریباً چھ بجے پیش آیا۔ گورکھپور سے پنویل جانے والی ایکسپریس ٹرین پیپی گنج ریلوے اسٹیشن کی لائن نمبر دو سے گزر رہی تھی۔ اس ٹرین کا پیپی گنج اسٹیشن پر کوئی اسٹاپ نہیں ہے۔ اسی دوران ٹرین میں سوار کسی مسافر نے پانچ پانچ سو روپے کے نوٹوں سے بھری ہوئی ایک پولی تھین نیچے پھینک دی۔ پولی تھین کھل جانے کے باعث نوٹ ہوا میں اڑنے لگے۔ نوٹوں کو ہوا میں اڑتا دیکھ کر اسٹیشن پر موجود درجنوں لوگ انہیں پکڑنے کے لیے دوڑ پڑے۔ کچھ ہی دیر میں لوگوں نے ہوا میں اڑتے ہوئے نوٹ سمیٹ لیے اور وہاں سے چلے گئے۔ریلوے اسٹیشن ذرائع نے بتایا کہ ٹرین کے اسٹیشن پر نہ رکنے کی وجہ سے اندر بیٹھے کسی مسافر نے اپنے کسی جاننے والے کو رقم دینے کے لیے اسے پولی تھین میں باندھ کر چلتی ٹرین سے نیچے پھینکا تھا۔ اسی دوران پیکٹ کھل گیا اور نوٹ ہوا میں اڑنے لگے۔تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ رقم کس کی تھی اور اسے لینے کے لیے کون سا شخص اسٹیشن پر پہنچا تھا۔ پولیس یا ریلوے کی جانب سے بھی اس معاملے کی آفیشیل طور پر تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑ذیابیطس کے مریضوں کو کن پھلوں سے پرہیز کرنا چاہیے* ذیابیطس کا مسئلہ ان دنوں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ وہ دن گئے جب ٹائپ...