Friday, 27 June 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*





ہندوستان-بنگلہ دیش سرحدی کشیدگی میں اضافہ
India-Bangladesh Border Dispute Escalates Over Illegal Immigration:

ہندوستان۔بنگلہ دیش سرحدی تنازع: غیر قانونی ہجرت پر سیاسی اور سفارتی بحران شدت اختیار کرگیا

ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان غیر قانونی مہاجرین کے مسئلے پر پائی جانے والی بے چینی حالیہ ہفتوں میں شدت اختیار کر گئی ہے، کیونکہ نئی دہلی نے سرحد کے ساتھ غیر مجاز افراد کی شناخت اور ان کی ملک بدری کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ہندوستان ان کارروائیوں کو سلامتی اور آبادی کے توازن کے تحفظ کے لیے ضروری اقدام قرار دے رہا ہے، جب کہ ڈھاکہ ان اقدامات کو جبر اور انسانی مسئلے کی سیاست کاری کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
 
ہندوستان کے حالیہ ’پُش بیک‘ اقدامات صرف غیر قانونی تارکین وطن کی ملک بدری نہیں، بلکہ ایک سخت گیر سرحدی پالیسی کی نشاندہی کرتے ہیں، جو داخلی عدم تحفظ، انتخابی مجبوریوں اور قومی سلامتی کے مفادات سے جڑی ہوئی ہے۔ دوسری جانب، بنگلہ دیش کے لیے یہ صورتحال نہایت پریشان کن ہے، اور ڈھاکہ میں یہ بیانیہ ابھر رہا ہے کہ ہندوستان یہ اقدامات زبردستی اور سفارتی روایات کے منافی انداز میں کر رہا ہے۔

اس وقت جب دونوں ملکوں کے درمیان کوئی باقاعدہ، شفاف اور قابل تصدیق واپسی کا نظام موجود نہیں، اس تناؤ میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔

ہجرت اور بداعتمادی کی تاریخی بنیاد:
1947 میں تقسیم ہند کے بعد، مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) سے ہندوستان کی شمال مشرقی ریاستوں، خصوصاً آسام اور مغربی بنگال میں غیر قانونی ہجرت کے مختلف ادوار نے ان علاقوں کی آبادیاتی ساخت کو بدل کر رکھ دیا۔ 1971 کی جنگِ آزادی بنگلہ دیش کے بعد، مہاجرین کی ایک بڑی تعداد ہندوستان میںداخل ہوئی، جن میں سے کئی کے پاس شناختی دستاویزات نہیں تھیں۔ یہ مسئلہ آج بھی حل طلب ہے، اور ہندوستان میں غیر قانونی بنگلہ دیشی مہاجرین کی تعداد لاکھوں سے کروڑوں تک بتائی جاتی ہے،اگرچہ یہ اعداد و شمار متنازع اور اختلافی ہیں۔

 آسام کا NRC اور شہریت کامسئلہ:
2019 میں آسام میں نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (NRC) کے اپڈیٹ کے نتیجے میں 19 لاکھ سے زائد افراد کو شہری فہرست سے باہر کر دیا گیا۔ ان میں اکثریت وہ لوگ تھے جو اپنی شہریت ثابت کرنے کے لیے مناسب دستاویزات فراہم نہ کر سکے، اور ان میں بڑی تعداد غیر قانونی بنگلہ دیشی مہاجرین کی بتائی جاتی ہے۔ NRC کی اس کارروائی نے نہ صرف داخلی سطح پر کشیدگی بڑھائی بلکہ بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات بھی متاثر ہوئے۔

بھارت کی نئی سرحدی پالیسی: سلامتی، خودمختاری اور جذبات:
مئی 2025 سے ہندوستان کی بارڈر سیکیورٹی فورس (BSF) نے ریاستی انٹیلیجنس اداروں کی مدد سے 1,413 غیر قانونی غیر ملکیوں کو بڑے سرحدی مقامات لال مونی ہاٹ، سلہٹ اور صنم گنج،کے ذریعے واپس بھیجا۔ یہ کارروائیاں 1946 کے “غیر ملکیوں کے ایکٹ” اور 1920 کے “پاسپورٹ ایکٹ” کے تحت کی جا رہی ہیں، جو غیر قانونی داخلے پر ملک بدرکرنے کی اجازت دیتے ہیں۔

ان اقدامات کی بنیادی وجوہات تین ہیں:
آبادیاتی سلامتی ۔ شمال مشرقی ریاستوں میں وسائل پر دباؤ اور معاشرتی تناؤ میں اضافہ؛

قومی سلامتی۔ غیر قانونی مہاجرین کو شدت پسندی یا جرائم پیشہ گروہوں سے جوڑنے کا خدشہ؛

سیاسی دباؤ ۔ 2026 کے ریاستی انتخابات کے پیش نظر عوامی مطالبات کہ غیر قانونی ہجرت کے خلاف سخت رویہ اختیار کیا جائے۔

ہندوستان کا موقف ہے کہ صرف وہی افراد واپس بھیجے جاتے ہیں جن کی بنگلہ دیشی شہریت کی تصدیق ہو چکی ہو۔یعنی جن کے پاس کوئی شناختی دستاویز، جائیداد، یا نسب کا ثبوت نہ ہو۔ ان کی بایومیٹرک معلومات محفوظ کی جاتی ہیں تاکہ کسی بے گناہ کی غلط ملک بدری نہ ہو۔

بنگلہ دیش کے اعتراضات اور سفارتی ردِعمل:
بنگلہ دیش کا موقف ہے کہ یہ اقدامات یکطرفہ ہیں اور “پش ان” یعنی زبردستی دھکیلا جا رہا ہے، جس میں کسی تصدیق یا مشاورت کا عمل شامل نہیں۔ ڈھاکہ کا یہ بھی الزام ہے کہ ہندوستان دراصل “مسلمان اقلیتوں” کو زبردستی بنگلہ دیش میں داخل کر رہا ہے۔جسے بھارت نے سختی سے مسترد کیا ہے۔

بنگلہ دیش نے کئی ایسے افراد کی واپسی سے بھی انکار کر دیا ہے جن کی شہریت ہندوستان کے مطابق تصدیق شدہ ہے۔ اس انکار نے BSF اور BGB (بارڈر گارڈ بنگلہ دیش) کے درمیان سرحدی تعاون کو متاثر کیا ہے۔ اس کی وجہ سیاسی دباؤ بھی ہے، جس نے 1972 کے دو طرفہ معاہدے، انڈیا۔بنگلہ دیش پروٹوکول کے تحت طے شدہ واپسی کے اصولوں کو معطل کر رکھا ہے۔

پس منظر**:**

1971 کے بعد کی بڑی ہجرتیں: ہندوستان کے کئی علاقوں میں مقامی و مہاجر آبادی کے درمیان تناؤ کا باعث بنیں؛

NRC جیسے اقدامات : غیر قانونی ہجرت سے نمٹنے کے لیے لیکن سماجی و سیاسی کشیدگی کا سبب بنے؛

سرحد پر سیاسی ہنگامہ : اب سفارتی رشتوں کو بھی خطرے میں ڈال رہا ہے۔









چین سے 750 کلومیٹر دور پھیلی خطرناک بیماری ، ایک لاکھ افراد کی ہوئی تھی موت ، 10 ہزار سے زیادہ کو پھر بنایا شکار
Mongolia Measles News: منگولیا میں خسرہ کی وباء بڑھ رہی ہے۔ نیشنل سینٹر فار کمیونیکیبل ڈیزیز (این سی سی ڈی) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں خسرہ کے 232 نئے کیسز سامنے آئے ہیں جس سے ملک میں کیسز کی کل تعداد 10,065 ہوگئی ہے۔ اسی وقت، مزید 260 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں، جس سے صحت یاب ہونے والوں کی کل تعداد 8,405 ہو گئی ہے۔

این سی سی ڈی نے کہا کہ زیادہ تر نئے کیسز اسکول جانے والے بچے ہیں، جنہیں خسرہ کی ویکسین کی صرف ایک خوراک ملی تھی۔ اس صورتحال کے پیش نظر این سی سی ڈی نے خاندانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اس سنگین بیماری سے بچانے کے لیے خسرہ کی ویکسین کی دونوں خوراکیں لگائیں۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے مطابق خسرہ ایک متعدی وائرل بیماری ہے، جو سانس، کھانسی یا چھینک کے ذریعے آسانی سے پھیلتی ہے۔ یہ موت کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

خسرہ بنیادی طور پر بچوں کو متاثر کرتا ہے لیکن جو بھی ویکسین نہیں لیتا یا جس کا مدافعتی نظام کمزور ہے وہ اس بیماری کا شکار ہو سکتا ہے۔ اس کی علامات میں تیز بخار، کھانسی، ناک بہنا اور پورے جسم میں دھبے شامل ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق خسرہ سے بچاؤ اور اس کے پھیلاؤ کو روکنے کا سب سے مؤثر طریقہ ویکسینیشن ہے۔ یہ نہ صرف محفوظ ہے بلکہ وائرس سے لڑنے میں بھی مدد کرتا ہے۔

1963 میں خسرہ کی ویکسین متعارف ہونے سے پہلے ہر 2 سے 3 سال بعد بڑے پیمانے پر وبا پھیلتی تھی جس سے ہر سال تقریباً 26 لاکھ افراد ہلاک ہو جاتے تھے۔ ایک محفوظ اور سستی ویکسین کی دستیابی کے باوجود، خسرہ کی وجہ سے 2023 میں تقریباً 1,07,500 اموات ہوئیں، جن میں سے زیادہ تر پانچ سال سے کم عمر کے بچے تھے۔ منگولیا میں خسرہ کے کیسز خاص طور پر ان علاقوں میں زیادہ ہیں جہاں طبی نگہداشت کی سہولتیں کم ہیں ۔این سی سی ڈی نے خبردار کیا ہے کہ جن بچوں اور حاملہ خواتین کو اس بیماری کے خلاف ویکسین نہیں لگائی گئی ہے ان کے اس سے متاثر ہونے کا سب سے زیادہ امکان ہے۔ ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ ویکسینیشن مہم کو تیزی سے پھیلانا ہوگا۔














امریکی صدرکے دعوے حقیقت سے پرے،ایران نے کردی تردید
تہران:ایران نے امریکی صدر ٹرمپ کے ایران سے آئندہ ہفتے مذاکرات کے دعوے کی سختی کے ساتھ تردید کی ہے۔۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایران کے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتےہوئے ٹرمپ کے آئندہ ہفتے ایران سے مذاکرات کے دعوے کو مسترد کردیا۔عباس عراقچی نے کہا کہ واضح کردوں نئے مذاکرات شروع کرنے کے لیے کوئی معاہدہ، انتظام یا گفتگو نہیں ہوئی۔مذاکرات شروع کرنے کے لیے کوئی منصوبہ طے نہیں کیا گیا ہے۔

امریکی صدر نے کیا کہا تھا؟
نیٹو سمٹ کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران اسرائیل تنازع اب ختم ہوچکا ہے، اب دونوں تھک چکے ہیں، دونوں جنگ کے خاتمے سے بہت مطمئن ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی جوہری تنصیبات کی تباہی کےجائزے میں صرف اسرائیلی انٹیلی جنس پر انحصار نہیں کر رہے ہیں۔ ایران کے خلاف دباؤ کی پالیسی جاری رکھیں گے۔امریکی صدر نے دعو ی کیا تھا کہ اگلے ہفتے ایران سے بات ہوگی اور معاہدے پر دستخط بھی ہوسکتے ہیں، میرے لیے معاہدہ ضروری نہیں، انہوں نے جنگ لڑ لی، اب واپس اپنی دنیا میں جا رہے ہیں، مجھے فرق نہیں پڑتا کہ معاہدہ ہو یا نہ ہو۔
دوسری جانب ایران کےوزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ساتھ معاہدے کی معطلی کا بل شوریٰ نگہبان سے منظوری کے بعد ہم پر لازم ہوگیا ہے۔ عباس عراقچی نے کہا کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے ساتھ ہمارا تعلق اور تعاون ایک نئی شکل اختیار کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئی اے ای اے کے ساتھ معاہدے کی معطلی کابل شوریٰ نگہبان سے منظوری کے بعد ہم پر لازم ہوگیا، ہم اس بل کے پابند ہیں اور اس کے نفاذ میں کوئی شک نہیں ہے۔

واضح رہے کہ ایرانی پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد گزشتہ روز ایرانی شوریٰ نگہبان (Guardian Council) نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے ساتھ ایران کے تعاون کو معطل کرنے کے پارلیمانی بل کی توثیق کردی تھی۔

*🔴سیف نیوز بلاگر*









گیارہ جولائی کو بی جے پی اور فرقہ پرست طاقتوں کیخلاف آصف شیخ کا جوابی جلسہ عام 


ریاستی بلدیاتی انتخابات میں انڈین سیکولر پارٹی کی شراکت داری کا لائحہ عمل اور اپوزیشن کے چہرے سے اچھائی کا نقاب اتارا جائے گا 



مالیگاؤں : 25 جون (بیباک نیوز اپڈیٹ) اورنگ زیب رحمتہ اللہ علیہ کی تعریف کرنے کی پاداش میں فرقہ پرستوں کی جانب سے ہنگامہ کھڑا کرنا اور اس کے بعد آصف شیخ کیخلاف سوموار پیٹھ پونہ کے ساکن دتہ گائیکواڑ کی شکایت پر تعلقہ پولس اسٹیشن میں گناہ رجسٹر نمبر 483/2025 کے مطابق بھارتیہ نیائے ساہتہ 2023 کی دفعہ 299اور 302 کے تحت مقدمہ در ہونا ۔اس بات کی علامت ہے کہ فرقہ پرست جماعتیں اظہار رائے کی آزادی پر بھی لگام لگانے کی کوشش کررہی ہے ۔اسی طرح اس معاملے میں فرقہ پرستی کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے قانونی لڑائی اور دستور ہند نے دیئے گئے اظہار رائے کی آزادی کے حقوق کی روشنی میں مستقبل کا لائحہ عمل طئے کرنے کیلئے ایک ہنگامی جلسہ عام کا انعقاد مورخہ 11 جولائی، بروز جمعہ کو شام 7 بجے سے رات 10 بجے تک، ڈائمنڈ لانس آگرہ روڈ ،مالیگاؤں میں منعقد کیا جارہا ہے ۔اس طرح کی اطلاع نوید خطیب احمد نے دی ۔انہوں نے ایک پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس جلسہ عام سے بی جے پی اور فرقہ پرست پارٹیوں کو منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ مہاراشٹر کے لوکل باڈیز چناؤ میں انڈین سیکولر لارجیسٹ اسمبلی آف مہاراشٹرا I.S.L.A.M پارٹی کی سیاسی پالیسی اور مہاراشٹر لوکل باڈیز چناؤ میں پارٹی کی شراکت دری کے تعلق سے لائحہ عمل طئے کیا جائے گا۔اسی طرح اس جلسہ عام میں اپوزیشن سیاسی جماعتوں کے قائدین کے کارناموں کا پول بھی کھولی جائے گی ۔اچھائی اور برائی کا لبادہ اوڑھ کر عوام کو بیوقوف بنانے والوں کے چہرے سے نقاب کھنیچا جائے گا ۔نوید خطیب نے مزید بتایا کہ اس جلس عام میں آصف شیخ رشید کی سنسنی خیز تقریر سے کئی اہم خلاصے بھی ہونگے ۔موصوف نے شہریان مالیگاؤں کیساتھ ہی تمام ورکروں، عہدیداروں اور خواہش مند امیدواروں سے درخواست ہے کہ وہ اس پروگرام میں شرکت کرتے ہوئے اپنی سیاسی بیداری کا ثبوت دیں ۔











*مالیگاؤں سماج سدھار کمیٹی کی اہم میٹنگ*
تاریخ:25 جون 2025
حال ہی میں مالیگاؤں میں ایک نہایت اہم اور دور رس نتائج رکھنے والی سماج سدھار میٹنگ کا انعقاد عمل میں آیا، جس کا مقصد شہر میں روز بہ روز بڑھتی ہوئی سماجی اور اخلاقی برائیوں کا سد باب کرنا تھا۔ یہ میٹنگ بلا تفریق مسلک و جماعت منعقد کی گئی، تاکہ شہر کے ہر طبقے اور مکتب فکر کو شامل کر کے ایک مضبوط اور متحد پیغام دیا جا سکے۔
جگہ:
یہ خصوصی اجلاس جماعت اسلامی ہند کے دفتر، مشاورت چوک مالیگاؤں میں منعقد کیا گیا۔
اہم موضوعات اور پس منظر:

گزشتہ کچھ عرصے سے شہر مالیگاؤں میں

خودکشی کے بڑھتے واقعات

نوجوانوں اور کم عمر بچوں میں نشے کی لت

بلیک میلنگ کے کیسز

سود خوری جیسے مہلک امراض

فحاشی، بداخلاقی، اور دیگر غیر شرعی و غیر اخلاقی رجحانات
بڑھتے جا رہے ہیں۔ ان نازک حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے عوام، سوشل ورکرس، دینی و تعلیمی شخصیات اور میڈیا حضرات نے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر اس بگاڑ کے خلاف عملی قدم اٹھانے کا ارادہ ظاہر کیا۔
شرکائے اجلاس:

اس میٹنگ کی صدارت اور رہنمائی درج ذیل معزز شخصیات نے فرمائی:

حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب

حافظ محمد غفران اشرفی (سنی دعوت اسلامی)

حضرت مولانا مفتی حسنین محفوظ رحمانی صاحب

الحاج محمد اطہر حسین اشرفی صاحب

حاجی یوسف سیٹھ (نیشنل)

شفیق (اینٹی کرپشن)

شکیل تیراک

نیز شہر کی نامور سماجی، تعلیمی، اصلاحی شخصیات، مختلف NGOs، میڈیا نمائندگان، اور نوجوان کارکنان کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

مباحثے اور تجاویز:

اس اجلاس میں جن امور پر خاص طور پر توجہ دی گئی، ان میں شامل ہیں:

✅ نوجوانوں کو نشہ، جرائم، فحاشی اور سوشل میڈیا بلیک میلنگ سے بچانے کے لیے فوری اصلاحی اقدامات۔
✅ کارنر میٹنگز، محلہ سطح پر اصلاحی حلقے اور اصلاح معاشرہ جلسے منظم کرنے کی تجویز۔
✅ عوامی شعور بیداری مہمات کا آغاز۔
✅ سود کے کاروبار اور خودکشی جیسے مسائل پر علماء کرام کے بیانات اور شرعی رہنمائی۔
✅ محلہ وار سماج سدھار کمیٹیاں تشکیل دینے کی سفارش تاکہ نچلی سطح پر کام کیا جا سکے۔
فیصلے اور لائحہ عمل:

تمام شرکاء نے مکمل اتفاق رائے سے فیصلہ کیا کہ:

فوری طور پر علاقہ وار ذیلی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی۔

نوجوان نسل کو مصروف رکھنے کے لیے سماجی، تعلیمی و تربیتی سرگرمیوں کا اہتمام کیا جائے گا۔

اصلاحی مواد کی سوشل میڈیا پر بھرپور مہم چلائی جائے گی۔

علماء، دانشوران، سوشل ورکرس کے ذریعے ہر طبقے میں بیداری کی لہر پیدا کی جائے گی۔

آئندہ ہر مہینے ایک جماعتی مشاورتی اجلاس رکھا جائے گا تاکہ کام کی پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکے۔
آخر میں:

یہ میٹنگ نہ صرف موجودہ سماجی بگاڑ کے خلاف ایک مضبوط اجتماعی قدم ہے بلکہ مالیگاؤں کے شہریوں کو ایک نئی امید بھی فراہم کرتی ہے کہ اگر ہم سب متحد ہو کر عملی اقدامات کریں تو ان مسائل کا خاتمہ یقینی ہے۔
✍️ رپورٹ مرتب کنندہ:
شعیب اشرف مشتاق احمد اشرفی
فیمس واٹس ایپ ایڈورٹائزنگ ایجنسی
















نیا اسلامی سال کیا کریں

*السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ*

تمام اہلِ اسلام کو *محرم الحرام 1447ھ* اور اسلامی نئے سال کی آمد پر دلی دعائیں اور مبارکباد!

الحمد للہ، محرم الحرام *اسلامی سال 1447ھ* کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس موقع پر ہم سب کو اپنی زندگیوں کا جائزہ لینے، توبہ و استغفار کرنے اور نئی نیتوں کے ساتھ آگے بڑھنے کی سخت ضرورت ہے۔

*تم دنیا کی ساری کامیابیاں حاصل کر لو اگر ہدایت نہ ملی تو سب بیکار ہے، کیونکہ اصل خسارہ وہ نہیں جو دنیا میں ہو بلکہ وہ ہے جو آخرت میں ہو گا💦*
جب نیا سال شروع ہوتا ہے تو دنیا والے دنیاوی منصوبے بناتے ہیں، ہم مسلمان اپنی *آخرت کی تیاری* کے منصوبے بنائیں۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ پچھلا سال کیسا گزرا؟ کیا وہ اللہ کی رضا کے مطابق تھا؟ کیا ہم نے واقعی اپنی زندگی کو دین کے مطابق ڈھالا؟

اکثر دل یہی گواہی دیتا ہے کہ سال غفلت میں، نافرمانی میں اور دنیا کی دوڑ میں گزر گیا۔ لیکن اللہ کریم ہمیں موقع پر موقع دیتا ہے کہ ہم لوٹ آئیں، معافی مانگیں، نیا آغاز کریں۔

اب وقت ہے کہ ہم:
- پچھلے گناہوں پر سچے دل سے توبہ کریں  
- نمازوں کی پابندی کریں  
- قرآن سے تعلق جوڑیں  
- دین کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں  
- دنیا اور آخرت کے توازن کے ساتھ آگے بڑھیں

آئیے اس نئے اسلامی سال کے آغاز پر عہد کریں کہ ہم *ہدایت، اعمال صالحہ، اور اللہ کی رضا* کو اپنی زندگی کا مقصد بنائیں گے۔

*خادم القران بندہ ذاکر فیضی**معلم و مدرس، مدرسہ فیض القران، معصوم شاہ کٹی*














دریگاؤں گٹ نمبر 60، 61، اور دیانے اور مالدھے کے کئی علاقوں میں پینے کے پانی کی پائپ لائن نہ ہونے سے پانی کا بحران۔ امرت یوجنا فنڈز کی ممکنہ خرد برد، بدانتظامی اور سیاسی ملی بھگت پر شہریانِ مالیگاؤں کی تشویش شدید


مالیگاؤں: درےگاؤں (سروے نمبر 60، 61) اور اس کے علاوہ دیانے و مالدھے علاقوں میں رہنے والی عوام کو آج بھی بنیادی حق، یعنی پینے کے صاف پانی تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ یہ صورتِ حال اس وقت انتہائی تشویشناک ہو جاتی ہے جب یہ علم ہو کہ مذکورہ علاقے مرکز اور ریاست کی جانب سے منظور شدہ "امرت یوجنا" (Atal Mission for Rejuvenation and Urban Transformation - AMRUT) میں شامل ہونے کے باوجود آج بھی پینے کے پانی کی معیاری پائپ لائن کی سہولت سے محروم ہیں۔

سماجی کارکن کلیم اختر محمد یوسف عبداللہ (گرین مالیگاؤں ڈرائیو) نے اس علاقے کے لوگوں کی جانب سے 27 جنوری 2025 کو مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کو جو ایک تفصیلی خط دیا گیا تھا، اس کا حوالہ دیتے ہوئے ایم ایم سی (MMC) کی مشتبہ کارکردگی، منظور شدہ فنڈز کے غلط استعمال اور ٹھیکیداروں، افسران و مقامی سیاسی افراد کے مبینہ گٹھ جوڑ پر سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں۔

اس شکایتی مکتوب میں درج اہم نکات حسب ذیل ہیں:

- امرت یوجنا کے تحت مہاراشٹر کیلئے تقریباً ₹77,640 کروڑ کے منصوبے منظور ہوئے، جن میں سے ₹35,990 کروڑ مرکزی امداد کے تحت دیے گئے۔  
- مالیگاؤں کو ایک "ترجیحی شہر" کے طور پر اس اسکیم میں شامل کیا گیا تھا تاکہ ہر گھر کو نل کے ذریعے پانی کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔  
- "سٹی واٹر بیلنس پلان" جیسے اقدامات کے باوجود، دریگاؤں، دیانے، مالدھے اور شہر کے دیگر کئی علاقوں کو مسلسل نظر انداز کیا گیا، جو بدانتظامی اور شہری حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے اور بڑے گھوٹالے کی طرف اشارہ ہے۔

کلیم یوسف عبداللہ نے مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن سے مطالبہ کیا ہے کہ:

1. امرت یوجنا فنڈز کے استعمال کی مکمل تحقیقات کی جائے اور مالیگاؤں شہر بھر کے پائپ لائن منصوبوں کا حساب عوام کے سامنے لایا جائے۔  
2. سروے نمبر 60-61 درےگاؤں اور دیگر علاقوں میں آن دی اسپاٹ معائنہ کرکے عوامی رپورٹ جاری کی جائے۔  
3. عوام کی جانب سے پہلے سے داخل کیے گئے شکایتی خطوط بھی تحقیقات کے ریکارڈ میں شامل کیے جائیں۔ 
4. منصوبے کی تکمیل کا بروقت شیڈول جاری کر کے شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔

کلیم یوسف عبداللہ نے واضح طور پر کہا ہے کہ اگر اس معاملے پر جلد کارروائی نہیں کی گئی تو وہ اور شہریانِ مالیگاؤں اس مسئلہ کو لوک آیوکت، اسٹیٹ ویجیلنس کمیشن، اینٹی کرپشن بیورو (ACB)، اور اربن ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ وغیرہ تک لے جانے پر مجبور ہوں گے، ساتھ ہی آر ٹی آئی درخواستیں اور پبلک آڈٹ کے اقدامات بھی کیے جائیں گے۔

فی الحال یہ مکتوب بطور ریمائنڈر مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کمشنر، ضلع کلیکٹر، محکمہ شہری ترقیات ممبئی منترالیہ اور ہوم ڈیپارٹمنٹ وغیرہ کو دیا گیا ہے۔ اور قوی امید ہے کہ اس خط کے موصول ہوتے ہی آئندہ چند ہفتوں یا مہینوں میں ان کاموں کو انجام دیا جائے گا، جس کی جھوٹی کریڈٹ لینے کے لیے عنقریب ناکارہ، بدعنوان، خودغرض اور قوم فروش لیڈران اور انکے حواری مواری برساتی مینڈک کی طرح منظر عام پر آئیں گے اور ظاہر کریں گے کہ یہ کام ہم نے ہی کروایا ہے۔

حقیقتاً یہ ایک عوامی مسئلہ ہے جو نہ صرف بنیادی سہولیات سے محرومی کی عکاسی کرتا ہے بلکہ عوام کے اعتماد، ان کے حقوق، اور آئینی فرائض سے روگردانی کا ثبوت بھی ہے۔
عوام، مقامی تنظیمیں اور میڈیا سے اپیل ہے کہ وہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں، آواز بلند کریں، اور اس قانونی و جمہوری جدوجہد میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں۔

رابطہ برائے مزید معلومات:  
کلیم اختر محمد یوسف عبداللہ  
(گرین مالیگاؤں ڈرائیو)  
پتہ: سروے نمبر 97، پلاٹ نمبر 5, 6، طیب آباد، مالیگاؤں – 423203  
ای میل:  
kaleemyusufabdullahmlg@gmail.com  
kaleemabdullahms@outlook.com  
kaleemabdullahandroid@gmail.com  
موبائل: 9422778897 / 7020123958

Kaleem Akhtar Mohammad Yusuf
(Green Malegaon Drive)
S. No.97, P.No.5,6,
Tayyababad, Malegaon.
District Nashik,
Maharashtra. 423203

Email:
kaleemyusufabdullahmlg@gmail.com
kaleemabdullahms@outlook.com

Mobile:
9422778897
7020123958

*🔴سیف نیوز بلاگر*

سنگرام جگتاپ کی مسلم مخالف بد زبانی پر پارٹی میں ناراضگی این سی پی کے سلیم سارنگ کا پارٹی صدر سے سخت کارروائی کا مطالبہ

ممبئی : این سی پی ( اجیت پوار گروپ) کے ریاستی نائب صدر سلیم سارنگ نے احمد نگر کے رکن اسمبلی سنگرام جکتاب کی جانب سے مسلم مخالف بیانات پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی صدرا جیت پوار اور ریاستی صدر سنیل جمکرے سے ان کے خلاف تادیبی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ سارنگ نے اس سلسلے میں اجیت پوار اور سنیل تلکرے کو ایک تفصیلی شکایتی مکتوب ارسال کیا ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی نے ہمیشہ سیکولر نظریات کو اپنایا ہے اور سیاسی اتحاد خواہ کسی کے ساتھ بھی ہو، پارٹی نے اپنا سکول تشخص برقرار رکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سیکولر ازم اور تمام مذاہب کے احترام پر مبنی نظریہ ہی این سی پی کی بنیاد ہے، جس کی وجہ سے وہ اور مسلم کمیونٹی کے کئی دیگر نمایندے پارٹی کے ساتھ مضبوطی سے وابستہ ہیں۔ سارنگ نے واضح کیا کہ پارٹی نے اقلیتی طبقے کے ساتھ ہمیشہ انصاف کیا ہے اور مہاو کاس اکھاڑی حکومت کے دوران مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے قابل ذکر کام کیے گئے ہیں۔ انہوں نے اپنے مکتوب میں کہا کہ یہ افسوسناک ہے کہ سنگرام جنتاپ جیسا رکن اسمبلی، جو پارٹی کا حصہ ہے، اپنی تقاریر میں بار بار مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جملوں جیسے جہاں آئے گا انڈا، وہاں آئے گا ڈانڈا اور جہاں آئے گا ملی، وہاں آئے گا بجرنگ بلی" جیسے اشتعال انگیز فقروں کا استعمال کرتا ہے، جو پارٹی کی پالیسیوں کے منافی ہے۔ سارنگ نے متنبہ کیا کہ اگر فوری طور پر ایسے لیڈروں کو روکا نہ گیا تومسلم کمیونٹی میں پارٹی کے خلاف ناراضگی پیدا ہوگی ، اور وہ کارکنان جو دل سے پارٹی سے وابستہ ہیں، کنارہ کشی اختیار کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ محرم کا مہینہ قریب ہے، ایسے وقت میں اگر جگتاپ کا رویہ یہی رہا تو احمد نگر کا سماجی ماحول بگڑ سکتا ہے اور اس کا منفی اثر بلدیاتی انتخابات پر بھی پڑے گا۔ سارنگ نے پارٹی صدر سے اپیل کی کہ وہ سنگرام جلتاپ کی باز پرس کریں اور ان کے خلاف سخت کارروائی کر کے مسلم برادری کو ایک مثبت پیغام دیں کہ پارٹی ایسے رویے کی حمایت نہیں کرتی۔

Tuesday, 24 June 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*





ایران کی میزائلیں، اسرائیل کی ایئراسٹرئیک اور امریکہ کی ڈپلومیسی... 12 دن کی جنگ میں کس نے دکھایا اصلی دم؟
ایران اور اسرائیل نے منگل کو اعلان کیا کہ وہ امن معاہدے پر متفق ہو گئے ہیں اور وہ امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے کی گئی جنگ بندی پر عمل کریں گے۔ یہ اعلان مشرق وسطیٰ کے خطے میں 12 دنوں کی ہنگامہ آرائی کے بعد سامنے آیا ہے، جس نے علاقائی جنگ کا خدشہ پیدا کر دیا تھا۔ قطر نے پیر کی رات اپنی فضائی حدود بند کردی جس کے فوراً بعد ایران نے دوحہ کے قریب العدید ایئر بیس پر حملہ کردیا۔ ایران کا یہ حملہ اس کے تین جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کا بدلہ تھا۔ ہمسایہ ممالک عراق، بحرین، کویت اور متحدہ عرب امارات نے بھی اپنی اپنی فضائی حدود بند کردی تھیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل ایران تنازعہ مزید بھڑک سکتا ہے۔

تینوں فریق کا جیت کا دعویٰحالانکہ ایران کا میزائل حملہ ختم ہونے کے بعد ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ انہوں نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی حاصل کر لی ہے ، جس پر آئندہ 24 گھنٹوں میں عمل درآمد ہو جائے گا۔ اب جنگ بندی کی تصدیق ہو چکی ہے اور نافذ العمل ہو گئی ہے۔ تینوں فریق اسرائیل، ایران اور امریکہ نے اس 12 روزہ جنگ میں جیت کا دعویٰ کیا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو ایک لحاظ سے کامیاب رہے۔ گزشتہ 12 دنوں میں اسرائیل کی سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ امریکہ نے جنگ میں شامل ہو کر ایران پر حملہ کر دیا، ایک ایسا مقصد جسے نیتن یاہو گزشتہ تین دہائیوں سے حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ایران پر امریکی حملے سے چند روز پہلے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا تھا کہ اسرائیل یکطرفہ کارروائی کر رہا ہے اور امریکہ آپریشن رائزنگ لائن میں شامل نہیں ہے۔ ایک ہفتے بعد ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ نے دکھا دیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ کھڑا رہے گا۔

ایران نے اسرائیل میں مچائی تباہی
ادھر ایران نے بھی 12 روزہ جنگ میں جیت کا دعویٰ کیا ہے۔ تہران کو حقیقت میں کچھ زیادہ نقصان نہیں پہنچا ہے، حالانکہ اس کے جوہری مقامات کو نقصان پہنچا اور اس کے جوہری سائنسدانوں کی موت ہوگئی ۔ ایران نے اسرائیل پر اپنے تابڑتوڑ جوابی حملے کئے اور میزائلیں داغیں، جس میں اسرائیل میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ۔

ٹرمپ کا بھی اپنا ہی دعوی
دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی جوہری مقامات خصوصاً فردو جوہری پلانٹ کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ تاہم اب بھی شکوک و شبہات برقرار ہیں کیونکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران نے واشنگٹن کو مات دے کر اپنے یورینیم کو محفوظ رکھا ہے۔ ایران کی جانب سے قطر اور عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے کے بعد بھی امریکہ تنازع کو گہرا کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکا۔حملے کے چند گھنٹے بعد یہ بات سامنے آئی کہ ایران نے قطر کو حملوں کے بارے میں آگاہ کر دیا تھا جس کے باعث فضائی حدود بند کر دی گئی اور امریکی فوجی اہلکاروں کو اڈے سے نکالا گیا۔ اس لیے العدید ایئربیس پر حملہ امریکہ اور ایران دونوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوا۔ ایران اپنی طاقت دکھانے میں کامیاب رہا اور تہران کی پیشگی اطلاع کی وجہ سے امریکہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ اس کے بعد ٹرمپ نے ’’امن میکر‘‘ کا کردار ادا کرتے ہوئے جنگ بندی کا اعلان کیا۔










جموں و کشمیر : بی جے پی لیڈر شیاما پرساد مکھرجی کو سرینگر میں پیش کیا گیا خراج عقیدت 
جموں و کشمیر: بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کو خراج عقیدت پیش کرنے کی غرض سے بی جے پی کے سری نگر یونٹ نے آج ایک تقریب کا انعقاد کیا ۔ تقریب میں شاندار الفاظ میں ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کو ان کی سالگرہ کے موقع پر یاد کیا گیا اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ پروگرام میں موجود بی جے پی کے اشوک کول جو کہ پارٹی کے آرگنائزیشن جنرل سکریٹری ہیں ، نے ان کی سالگرہ کے موقع پر کہا کہ ’’جب ہم ان کی موت کے بارے میں بات کر رہے ہیں، تو ہمیں ان کی خدمات کو کسی بھی صورت میں فراموش نہیں کرنا چاہیے‘‘۔
انہوں نے کہا کہ شیاما پرساد مکھرجی ایک بہادر لیڈر تھے اور کشمیر کو لے کر ان کا ایک بڑا ویزن تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے کشمیر میں ہی اپنی جان کو الوداع کہا۔ جموں کشمیر کے ریاستی درجہ کی بحالی کو لے کر پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں اشوک کول نے دعویٰ ہے کہ بی جے پی سمیت تمام سیاسی جماعتیں متفقہ طور پر ریاست کے درجے کی بحالی کا مطالبہ کررہی ہیں ، جبکہ وزیر اعظم مودی نے ریاست کی بحالی کا وعدہ کیا ہے اور یہ صحیح وقت پر وعدہ ضرور پورا ہوگا۔سی ایم عمر عبد اللہ کے اس بیان کہ جموں و کشمیر کے آبی وسائل (نہر کے منصوبے) کو صرف کشمیر کے پانی کے ذریعہ استعمال کیا جانا چاہئے، اشوک کول نے کہا کہ ہم پاکستان کو پانی کیوں دیں گے جبکہ جموں میں ایسے کئی علاقے ہیں جہاں پر پانی کی قلت ہے اور اس پانی کو وہاں پر استعمال کیا جائے گا، جبکہ یہ ہمارا پانی ہے اور جموں و کشمیر کے عوام کو پہلے ان آبی ذخائر کے فوائد حاصل ہونے چاہیے.ایران - امریکی تناؤ پر کول نے کہا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ امریکہ قطعی طور پر نہیں چاہتا ہے کہ ایران ایک ایٹمی طاقت بن جائے۔ انہوں کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی لگاتار امریکی صدر کے رابطے میں ہیں ، جبکہ آپریشن سندھو کے ذریعہ ہم اپنے لوگوں کو وطن واپس لانے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔












وہ غذائیں جن کا استعمال وزن کم کرنے کی کوششوں کے دوران جسم کو متوازن رکھتا ہے
اگر آپ کی روزمرہ خوراک میں شامل ہوں تو بعض غذائیں وزن میں نمایاں طور پر کمی میں مدد کر سکتی ہیں۔ ان کھانوں میں عام طور پر کیلوریز کم ہوتی ہیں لیکن فائبر، پروٹین یا صحت مند چکنائی زیادہ ہوتی ہے، جو آپ کو زیادہ دیر تک پیٹ بھرے رہنے اور مجموعی کیلوری کی مقدار کو کم کرنے میں مدد کرتی ہے۔
این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق ایسی غذائیں خون میں شکر کی سطح کو بھی مستحکم رکتھی ہیں، نظام ہضم کو بہتر بناتی اور میٹابولزم کو بڑھاتی ہیں۔یہ غذائیں اضافی کیلوریز کے بغیر جسم کو ضروری وٹامنز اور منرلز فراہم کرتی ہیں۔ یہ ان کھانوں کی فہرست ہے جو آپ کو وزن کم کرنے کی کوشش میں اپنی روزمرہ کی خوراک میں شامل کرنی چاہییں۔
سبز پتے
ان میں سے پہلے نمبر پر سلاد کے پتے ہیں۔ ان میں کیلوریز کم ہوتی ہیں اور فائبر زیادہ جبکہ وٹامنز اور منرلز سے بھی بھرپور ہوتے ہیں۔
ناشتے میں اوٹس
اوٹس کا استعمال اب عام ہوتا جا رہا ہے اور اگر اس کو ناشتے میں شامل کیا جائے تو معدے کو بھر دیتے ہیں۔ یہ توانائی سے بھرپور ہیں مگر جسم کے لیے نقصان دہ نہیں۔
دن کا آغاز اوٹس کے پیالے سے کریں تو دن بھر بھوک کا احساس میں کم رہے گا۔ اور خون میں شوگر کی مقدار متوازن رہے گی۔
دہی کا استعمال
اسی طرح گریک یوگرٹ یا یونانی دہی کا استعمال بھی وزن میں کمی کرنے والوں کے لیے ضروری ہے کیونکہ یہ اس دوران جسم کے مسلز کو اپنی جگہ برقرار رکھنے میں معاون ہے۔
یہ سینے یا معدے میں جلن کا بھی سدباب کرتا ہے۔اُبلے ہوئے انڈے
اگر آپ اُبلے ہوئے انڈے کھاتے ہیں تو کیا ہی بات ہے۔ انڈوں میں اعلٰی معیار کی پروٹین اور صحت کے اچھی چربی اور ضروری وٹامنز پائے جاتے ہیں۔
چیا سیڈز
اب چیا سیڈز ہر چھوٹے بڑے سٹور سے بآسانی مل جاتے ہیں۔ عموما ان سیاہ دانوں یا بیج کو لوگ تخمِ بالنگوہ کے ساتھ گڈ مڈ کر دیتے ہیں۔ چیا سیڈز الگ ہیں اور تخمِ بالنگوہ الگ۔ ایک گلاس پانی میں شامل کر کے پینے سے یہ بیج آپ کے معدے کو بھرا ہوا محسوس کراتے ہیں۔
اواکاڈو سے چربی میں کمی
اواکاڈو پھل پہلے صرف چند ممالک میں دستیاب تھا مگر اب یہ ہر جگہ مل جاتا ہے۔ اس میں فائبر زیادہ مقدار میں پایا جاتا ہے۔ اور یہ پیٹ کی چربی کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
دیگر جن چیزوں کے استعمال سے وزن میں کمی کی جا سکتی ہے ان میں بیریز اور خشک میوہ جات نمایاں ہیں۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑جھارکھنڈ پیپر لیک احتجاج: رانچی میں کئی طلباء کو حراست میں لیا گیا، مظاہرین کو روکنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال* ...