ایران کی میزائلیں، اسرائیل کی ایئراسٹرئیک اور امریکہ کی ڈپلومیسی... 12 دن کی جنگ میں کس نے دکھایا اصلی دم؟
ایران اور اسرائیل نے منگل کو اعلان کیا کہ وہ امن معاہدے پر متفق ہو گئے ہیں اور وہ امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے کی گئی جنگ بندی پر عمل کریں گے۔ یہ اعلان مشرق وسطیٰ کے خطے میں 12 دنوں کی ہنگامہ آرائی کے بعد سامنے آیا ہے، جس نے علاقائی جنگ کا خدشہ پیدا کر دیا تھا۔ قطر نے پیر کی رات اپنی فضائی حدود بند کردی جس کے فوراً بعد ایران نے دوحہ کے قریب العدید ایئر بیس پر حملہ کردیا۔ ایران کا یہ حملہ اس کے تین جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کا بدلہ تھا۔ ہمسایہ ممالک عراق، بحرین، کویت اور متحدہ عرب امارات نے بھی اپنی اپنی فضائی حدود بند کردی تھیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل ایران تنازعہ مزید بھڑک سکتا ہے۔
جموں و کشمیر: بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کو خراج عقیدت پیش کرنے کی غرض سے بی جے پی کے سری نگر یونٹ نے آج ایک تقریب کا انعقاد کیا ۔ تقریب میں شاندار الفاظ میں ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کو ان کی سالگرہ کے موقع پر یاد کیا گیا اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ پروگرام میں موجود بی جے پی کے اشوک کول جو کہ پارٹی کے آرگنائزیشن جنرل سکریٹری ہیں ، نے ان کی سالگرہ کے موقع پر کہا کہ ’’جب ہم ان کی موت کے بارے میں بات کر رہے ہیں، تو ہمیں ان کی خدمات کو کسی بھی صورت میں فراموش نہیں کرنا چاہیے‘‘۔
تینوں فریق کا جیت کا دعویٰحالانکہ ایران کا میزائل حملہ ختم ہونے کے بعد ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ انہوں نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی حاصل کر لی ہے ، جس پر آئندہ 24 گھنٹوں میں عمل درآمد ہو جائے گا۔ اب جنگ بندی کی تصدیق ہو چکی ہے اور نافذ العمل ہو گئی ہے۔ تینوں فریق اسرائیل، ایران اور امریکہ نے اس 12 روزہ جنگ میں جیت کا دعویٰ کیا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو ایک لحاظ سے کامیاب رہے۔ گزشتہ 12 دنوں میں اسرائیل کی سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ امریکہ نے جنگ میں شامل ہو کر ایران پر حملہ کر دیا، ایک ایسا مقصد جسے نیتن یاہو گزشتہ تین دہائیوں سے حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ایران پر امریکی حملے سے چند روز پہلے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا تھا کہ اسرائیل یکطرفہ کارروائی کر رہا ہے اور امریکہ آپریشن رائزنگ لائن میں شامل نہیں ہے۔ ایک ہفتے بعد ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ نے دکھا دیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ کھڑا رہے گا۔
ایران نے اسرائیل میں مچائی تباہی
ادھر ایران نے بھی 12 روزہ جنگ میں جیت کا دعویٰ کیا ہے۔ تہران کو حقیقت میں کچھ زیادہ نقصان نہیں پہنچا ہے، حالانکہ اس کے جوہری مقامات کو نقصان پہنچا اور اس کے جوہری سائنسدانوں کی موت ہوگئی ۔ ایران نے اسرائیل پر اپنے تابڑتوڑ جوابی حملے کئے اور میزائلیں داغیں، جس میں اسرائیل میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ۔
ٹرمپ کا بھی اپنا ہی دعوی
دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی جوہری مقامات خصوصاً فردو جوہری پلانٹ کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ تاہم اب بھی شکوک و شبہات برقرار ہیں کیونکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران نے واشنگٹن کو مات دے کر اپنے یورینیم کو محفوظ رکھا ہے۔ ایران کی جانب سے قطر اور عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے کے بعد بھی امریکہ تنازع کو گہرا کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکا۔حملے کے چند گھنٹے بعد یہ بات سامنے آئی کہ ایران نے قطر کو حملوں کے بارے میں آگاہ کر دیا تھا جس کے باعث فضائی حدود بند کر دی گئی اور امریکی فوجی اہلکاروں کو اڈے سے نکالا گیا۔ اس لیے العدید ایئربیس پر حملہ امریکہ اور ایران دونوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوا۔ ایران اپنی طاقت دکھانے میں کامیاب رہا اور تہران کی پیشگی اطلاع کی وجہ سے امریکہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ اس کے بعد ٹرمپ نے ’’امن میکر‘‘ کا کردار ادا کرتے ہوئے جنگ بندی کا اعلان کیا۔
جموں و کشمیر : بی جے پی لیڈر شیاما پرساد مکھرجی کو سرینگر میں پیش کیا گیا خراج عقیدت
انہوں نے کہا کہ شیاما پرساد مکھرجی ایک بہادر لیڈر تھے اور کشمیر کو لے کر ان کا ایک بڑا ویزن تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے کشمیر میں ہی اپنی جان کو الوداع کہا۔ جموں کشمیر کے ریاستی درجہ کی بحالی کو لے کر پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں اشوک کول نے دعویٰ ہے کہ بی جے پی سمیت تمام سیاسی جماعتیں متفقہ طور پر ریاست کے درجے کی بحالی کا مطالبہ کررہی ہیں ، جبکہ وزیر اعظم مودی نے ریاست کی بحالی کا وعدہ کیا ہے اور یہ صحیح وقت پر وعدہ ضرور پورا ہوگا۔سی ایم عمر عبد اللہ کے اس بیان کہ جموں و کشمیر کے آبی وسائل (نہر کے منصوبے) کو صرف کشمیر کے پانی کے ذریعہ استعمال کیا جانا چاہئے، اشوک کول نے کہا کہ ہم پاکستان کو پانی کیوں دیں گے جبکہ جموں میں ایسے کئی علاقے ہیں جہاں پر پانی کی قلت ہے اور اس پانی کو وہاں پر استعمال کیا جائے گا، جبکہ یہ ہمارا پانی ہے اور جموں و کشمیر کے عوام کو پہلے ان آبی ذخائر کے فوائد حاصل ہونے چاہیے.ایران - امریکی تناؤ پر کول نے کہا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ امریکہ قطعی طور پر نہیں چاہتا ہے کہ ایران ایک ایٹمی طاقت بن جائے۔ انہوں کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی لگاتار امریکی صدر کے رابطے میں ہیں ، جبکہ آپریشن سندھو کے ذریعہ ہم اپنے لوگوں کو وطن واپس لانے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔
وہ غذائیں جن کا استعمال وزن کم کرنے کی کوششوں کے دوران جسم کو متوازن رکھتا ہے
اگر آپ کی روزمرہ خوراک میں شامل ہوں تو بعض غذائیں وزن میں نمایاں طور پر کمی میں مدد کر سکتی ہیں۔ ان کھانوں میں عام طور پر کیلوریز کم ہوتی ہیں لیکن فائبر، پروٹین یا صحت مند چکنائی زیادہ ہوتی ہے، جو آپ کو زیادہ دیر تک پیٹ بھرے رہنے اور مجموعی کیلوری کی مقدار کو کم کرنے میں مدد کرتی ہے۔
این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق ایسی غذائیں خون میں شکر کی سطح کو بھی مستحکم رکتھی ہیں، نظام ہضم کو بہتر بناتی اور میٹابولزم کو بڑھاتی ہیں۔یہ غذائیں اضافی کیلوریز کے بغیر جسم کو ضروری وٹامنز اور منرلز فراہم کرتی ہیں۔ یہ ان کھانوں کی فہرست ہے جو آپ کو وزن کم کرنے کی کوشش میں اپنی روزمرہ کی خوراک میں شامل کرنی چاہییں۔
سبز پتے
ان میں سے پہلے نمبر پر سلاد کے پتے ہیں۔ ان میں کیلوریز کم ہوتی ہیں اور فائبر زیادہ جبکہ وٹامنز اور منرلز سے بھی بھرپور ہوتے ہیں۔
ناشتے میں اوٹس
اوٹس کا استعمال اب عام ہوتا جا رہا ہے اور اگر اس کو ناشتے میں شامل کیا جائے تو معدے کو بھر دیتے ہیں۔ یہ توانائی سے بھرپور ہیں مگر جسم کے لیے نقصان دہ نہیں۔
دن کا آغاز اوٹس کے پیالے سے کریں تو دن بھر بھوک کا احساس میں کم رہے گا۔ اور خون میں شوگر کی مقدار متوازن رہے گی۔
دہی کا استعمال
اسی طرح گریک یوگرٹ یا یونانی دہی کا استعمال بھی وزن میں کمی کرنے والوں کے لیے ضروری ہے کیونکہ یہ اس دوران جسم کے مسلز کو اپنی جگہ برقرار رکھنے میں معاون ہے۔
یہ سینے یا معدے میں جلن کا بھی سدباب کرتا ہے۔اُبلے ہوئے انڈے
اگر آپ اُبلے ہوئے انڈے کھاتے ہیں تو کیا ہی بات ہے۔ انڈوں میں اعلٰی معیار کی پروٹین اور صحت کے اچھی چربی اور ضروری وٹامنز پائے جاتے ہیں۔
چیا سیڈز
اب چیا سیڈز ہر چھوٹے بڑے سٹور سے بآسانی مل جاتے ہیں۔ عموما ان سیاہ دانوں یا بیج کو لوگ تخمِ بالنگوہ کے ساتھ گڈ مڈ کر دیتے ہیں۔ چیا سیڈز الگ ہیں اور تخمِ بالنگوہ الگ۔ ایک گلاس پانی میں شامل کر کے پینے سے یہ بیج آپ کے معدے کو بھرا ہوا محسوس کراتے ہیں۔
اواکاڈو سے چربی میں کمی
اواکاڈو پھل پہلے صرف چند ممالک میں دستیاب تھا مگر اب یہ ہر جگہ مل جاتا ہے۔ اس میں فائبر زیادہ مقدار میں پایا جاتا ہے۔ اور یہ پیٹ کی چربی کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
دیگر جن چیزوں کے استعمال سے وزن میں کمی کی جا سکتی ہے ان میں بیریز اور خشک میوہ جات نمایاں ہیں۔