Thursday, 27 February 2025

*🔴سیف نیوز اردو*





47 سال سے جیل، 75 کی عمر، خوف کا دوسرا نام عبداللہ اوکلان کیا بدلے گا چال؟
 : عبداللہ اوکلان، عمر 75 سال، کردستان ورکرز پارٹی کا لیڈر، کرد عوام میں کافی مقبول ، دوسری طرف ترک آقا کے لئے خطرہ ہے۔ اوکلان کا مطالبہ ہے کہ ترکی کے کرد اکثریتی علاقوں کو خود مختاری دی جائے۔ یعنی خود کی حکومت چلانے کی ضمانت۔ یہ لڑائی طویل ہے۔ 1978 میں ورکرز پارٹی بنانے کے بعد اوکلان نے فیصلہ کیا کہ اگر مذاکرات کامیاب نہیں ہوئے تو وہ ہتھیار اٹھائیں گے اور پھر ترکی میں تشدد کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اوکلان کو 1999 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ تب سے وہ جیل میں ہے۔ لیکن گزشتہ 47 سالوں سے ترک لیڈروں کے لیے دہشت کا باعث نے اس شخص کی ایک اپیل پر لوگ مارنے اور مرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ اب امن کی امید پیدا ہوئی ہے۔ یہ ترک صدر رجب طیب اردوغان کے لئے ایک بڑی کامیابی ہوگی۔
حال ہی میں کرد حامی ایکوالیٹی اینڈ ڈیموکریسی پارٹی (DEM) کے لوگوں نے جمعرات کو عبداللہ اوکلان سے ملاقات کی۔ پارٹی کے لوگ اوکلان کا پیغام لے کر آئیں گے۔ یہ پیغام کرد لڑاکوں سے اپنے ہتھیار پھینکنے کے لیے کہہ سکتا ہے۔ اس سے ترکی اور کرد عوام کے درمیان 40 سال سے جاری جنگ ختم ہو سکتی ہے۔ اس لڑائی میں کئی لوگ مارے جا چکے ہیں۔

اوکلان 1999 سے جیل میں ہیں۔ ان کی عمر 75 سال ہے۔ اوکلان کو غداری کا مرتکب پایا گیا تھا۔ وہ اب بھی کرد لڑاکوں کے لیے اہم ہے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ لڑاکے اوکلان کی بات سنیں گے، ترک صدر کے ایک معاون نے کہا کہ اگر کرد لڑاکے ہتھیار ڈال دیں تو اوکلان کو جیل سے رہا کیا جا سکتا ہے۔

ترک صدر کو نئے قوانین کے لیے اس جماعت کی حمایت درکار ہے۔ یہ قوانین انہیں زیادہ دیر تک اقتدار میں رکھ سکتے ہیں۔ یہ جماعت ایک عرصے سے ترکی میں کرد عوام کے حقوق کے لئے لڑ رہی ہے۔ وہ اوکلان کی جیل سے رہائی کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔ترکی اور دیگر ممالک اوکلان کے گروپ کو دہشت گرد سمجھتے ہیں۔ امن کی کوششیں پہلے بھی ہوئیں لیکن ناکام رہیں۔ حالانکہ قیام امن کے لئے کوششیں جاری ہیں لیکن ترک حکومت اپنے مخالفین کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے۔ کئی صحافیوں اور رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ تیسری بار ہے کہ پارٹی کے لوگ اوکلان سے ملنے گئے ہیں۔ وہ عراق میں کرد رہنماؤں سے بھی ملاقات کرچکے ہیں۔






چیمپئنز ٹرافی سے باہر ہوسکتے ہیں محمد سمیع، سیمی فائنل سے پہلے ٹیم انڈیا کے خیمہ میں کھلبلی، یہ ہے بڑی وجہ
نئی دہلی : دو دن کے آرام کے بعد ٹیم انڈیا کام پر واپس لوٹ چکی ہے، یعنی نیوزی لینڈ کے خلاف تیاریاں شروع ہوگئی ہیں۔ نیٹ میں سب کچھ ٹھیک لگ رہا تھا لیکن جیسے ہی نظر ٹیم کے تیز گیند باز محمد سمیع پر پڑی تو ایسا لگا کہ کچھ گڑبڑ ہے کیونکہ سمیع نہ تو نیٹ میں گیند بازی کر رہے تھے اور نہ ہی فیلڈنگ سیشن میں حصہ لے رہے تھے۔

ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ سمیع کا نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلنا مشکل ہے اور امکان ہے کہ وہ پورے ٹورنامنٹ سے باہر ہو سکتے ہیں۔ اب ہر کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ کیا سمیع کو صرف اپنی پنڈلی میں کوئی پریشانی ہے یا ان کے گھٹنے کی چوٹ بھی دوبارہ سامنے آگئی ہے۔ جس طرح سے سمیع کو پریکٹس سیشن کے دوران اپنے دونوں گھٹنوں پر پٹی باندھتے ہوئے دیکھا گیا وہ اچھا اشارہ نہیں ہے۔
محمد سمیع نے پاکستان کے خلاف جس طرح کی آؤٹ آف کنٹرول گیند بازی کا آغاز کیا اور پھر وہ تھوڑی ہی دیر میں میدان چھوڑ کر چلے گئے، تب یہ قیاس آرئی کی جارہی تھی کہ سمیع مکمل طور پر فٹ نہیں ہیں اور اب دو دن بعد ہونے والے پریکٹس سیشن نے تقریباً اس بات کی تصدیق کر دی کہ سمیع شاید ہی نیوزی لینڈ کے خلاف کھیل سکیں گے۔ ذرائع سے موصول ہونے والی معلومات کے مطابق ؎ سمیع پنڈلی کی انجری میں مبتلا ہیں کہ جس پیر پر گیند بازی کرتے ہوئے لینڈ کرتے ہیں، اس میں ان کو پریشانی ہورہی ہے ۔بتادیں کہ محمد سمیع نے پاکستان کے خلاف پہلے اوور میں 5 وائیڈ گیندیں پیھینکی تھیں اور اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ گیند بازی کریز پر ٹھیک سے نہیں لینڈ ہوپا رہے تھے۔





پارلیمنٹ میں وقف بل لانے کی راہ ہموار، بجٹ سیشن کے دوسرے مرحلہ میں ہوگا پیش، کابینہ نے دی منظوری
نئی دہلی: وقف ترمیمی بل کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔ اب اسے بجٹ اجلاس کے دوسرے مرحلے میں پیش کیا جائے گا۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں مرکزی کابینہ نے اس سلسلے میں ایک اہم میٹنگ کی۔ اس میٹنگ میں وقف ترمیمی بل 2024 کو منظوری دیدی گئی ہے۔ پارلیمنٹ میں پیش کی گئی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کی رپورٹ میں تجویز کردہ مختلف ترامیم شامل کی گئی ہیں۔ اس کے بعد ترمیم شدہ وقف بل کو منظوری دی گئی۔ مرکزی حکومت پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے دوسرے حصے میں اس کی منظوری کے لیے ایوان میں بل پیش کر سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق 19 فروری کے کابینہ اجلاس میں مجوزہ ترامیم کو منظوری دیدی گئی ہے۔ ان ترامیم کی بنیاد پر یہ بل منظور کیا گیا ہے۔ جے پی سی نے وقف بل میں کئی ترامیم تجویز کی ہیں۔ حالانکہ حزب اختلاف کے اراکین نے اختلاف رائے ظاہر کیا ہے کہ حزب اختلاف کے اراکین پارلیمنٹ کی طرف سے پیش کردہ تمام ترامیم کو مسترد کر دیا گیا، جب کہ بی جے پی اور این ڈی اے کے دیگر اراکین کی طرف سے تجویز کردہ ترامیم کو قبول کر لیا گیا ہے۔اسلامی روایت میں، وقف ایک خیراتی یا مذہبی وقف ہے جسے مسلمانوں نے کمیونٹی کے فائدے کے لئے بنایا ہے۔ ایسی جائیدادیں کسی اور مقصد کے لیے فروخت یا استعمال نہیں کی جا سکتی ہیں ۔ ان املاک کی ایک بڑی تعداد مساجد، مدرسوں، قبرستانوں اور یتیم خانوں کے لئے استعمال ہوتی ہے۔اقلیتی امور کی وزارت کے مطابق اس بل کا مقصد وقف ایکٹ 1995 میں ترمیم کرنا ہے تاکہ وقف املاک کے ضابطے اور انتظام میں درپیش مسائل اور چیلنجوں سے نمٹا جاسکے۔ مودی حکومت نے وقف ترمیمی بل 2024 کا نام تبدیل کر کے مجوزہ نام یونیفائیڈ وقف مینجمنٹ، امپاورمنٹ، ایفیشینسی اینڈ ڈیولپمنٹ (UMEED) بل رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

*🔴سیف نیوز اردو*




🔴 مدرسہ اہلسنت انوارِ صوفیہ کے تیسرے عظیم الشان سالانہ جلسۂ عام میں مسابقۂ عمّ پارہ حفظ و تقسیمِ انعامات کا انعقاد 
🔺مدرسہ اہلسنت انوارِ صوفیہ کے طلبہ کا شاندار تعلیمی مظاہرہ و مسابقہ ، اہلیانِ محلہ و عمائدینِ شہر کی خصوصی شرکت
♻️🌀♻️🌀♻️🌀♻️🌀♻️ 🌀♻️ 
قاضیِ اہلسنت مفتی واجد علی یار علوی صاحب (شیخ الحدیث جامعہ حنفیہ سنیہ) کی سرپرستی اور حاجی ریاض احمد اشرفی و ماسٹر قربان احمد صاحبان کی نگرانی میں قلبِ شہر نیا اسلام پورہ میں جاری مدرسہ اہلسنت انوارِ صوفیہ کے طلبہ کا تیسرا سالانہ جلسۂ عام بعنوان تکمیلِ ناظرہ قرآنِ کریم ، مظاہرہ ، مسابقہ و تقسیمِ انعامات کا انعقاد 23 فروری 2025ء بروز اتوار کو بعد نمازِ عصر فوراً مسجد اہلسنت انوارِ صوفیہ میں ہوا ۔

پہلی نشست مظاہرۂ دینیات (نصابِ تعلیم) و مظاہرۂ نوری قاعدہ کا آغاز بعد نمازِ عصر فوراً حاجی خلیل احمد صاحب (پھنی والے) کی صدارت میں مدرسہ ھٰذا کے طلبہ کی تلاوتِ قرآنِ کریم اور نعت شریف سے ہوا ۔ بعد ازاں یکے بعد دیگرے طلبہ نے کلمہ ، دعائیں ، احادیث اور نوری قاعدہ کی مثالیں نیز آیاتِ قرآنیہ سنا کر اپنی تعلیمی کارکردگیوں کا شاندار مظاہرہ پیش کیا ۔ نمازِ مغرب کی ادائیگی کے فوراً بعد دوسری نشست مظاہرۂ عمّ پارہ و ناظرہ قرآنِ کریم اور مسابقۂ نوری قاعدہ مع اجراء و قواعد کا آغاز طلبہ نے تلاوتِ قرآنِ مجید و حمد کے ذریعے فرید علی انجینئر صاحب کی صدارت میں کیا ۔ بعدہٗ طلبہ نے مظاہرۂ عمّ پارہ و ناظرہ قرآنِ کریم پیش کیا نیز کُل بارہ امیدواران کے مابین مسابقۂ نوری قاعدہ مع اجراء و قواعد بہت ہی شاندار اور دلچسپ و مقابلہ آراء رہا بعد نمازِ عشاء تیسری اور خصوصی نشست مسابقۂ عمّ پارہ حفظ کا آغاز مومن محمد مدثر محمد یاسین کی تلاوتِ قرآن مجید سے مخیرِ قوم و ملت ڈاکٹر حامد اقبال صاحب کی صدارت میں ہوا ۔ محمد حسان محمد مصطفٰے نامی طالبِ علم نے نعتِ سرورِ کونین ﷺ سے سامعین کو محظوظ کیا ۔ بعدہٗ قرعہ اندازی کے ذریعے مسابقۂ عمّ پارہ حفظ میں شریک مدرسہ ھٰذا کے ہی کُل 9 امیدوار طلبہ نے تجوید و قواعد کی رعایت کے ساتھ بہترین لب و لہجہ میں پارۂ عمّ کی تلاوت کرکے ماحول کو کیف آور بنا دیا اور سامعین کے دل جیت لیے ۔ حافظ شاہد اختر اشرفی صاحب (امام مسجد اکبر اشرفی) اور حافظ اُسامہ ضیائی صاحب (امام و خطیب مسجد گلشن امام احمد رضا) نے حَکم کے فرائض انجام دیے ۔

مولانا احمد رضا ازہری صاحب نے خصوصی خطاب میں علمِ دین کی اہمیت و افادیت اور حافظِ قرآن کے فضائل قرآن و حدیث کی روشنی میں اجاگر فرمائے ۔ موصوف نے جہاں طلبہ و اساتذہ کی حوصلہ افزائی فرمائی وہیں ذمہ داران و منتظمینِ مدرسہ کے اس اقدام کی بھی سراہنا کی ۔ ناظمِ اعلیٰ مدرسہ شفاعۃ القرآن حافظ غفران اشرفی سیفی صاحب نے پروگرام سے متعلق بہترین تاثرات پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ موبائل اور انٹرنیٹ کے اس پُر فتن دور میں سرپرست حضرات نے اپنے بچوں کو دین و قرآن سے جوڑنے کے لیے جو وقت مدرسہ میں دیا وہ قابلِ ستائش ہے اُن کی یہ قربانیاں مستقبل میں طلبہ کے لیے کافی کارآمد ثابت ہوں گی نیز موصوف نے تاثرات پیش کرتے ہوئے کہا کہ مکاتب کے لیے مساجد کے دروازے کھولے جائیں ۔ ذمہ دارانِ مسجد طلبہ و اساتذہ کا تعاون کریں اور مکاتب و مدارسِ میں ایسے پروگرامات کا انعقاد کرتے رہیں ۔ سالانہ امتحان اور مسابقات میں کامیاب طلبہ کو علماء ، حفاظ و آئمۂ مساجد نیز مصلیانِ مسجد ھٰذا اور سرپرست حضرات کے ہاتھوں انعامات سے نوازا گیا ساتھ ہی مظاہرہ و مسابقہ میں شریک تمام ہی طلبہ کی بھی تشجیعی و اعزازی انعامات کے ذریعے حوصلہ افزائی کی گئی ۔ ناظمِ جلسہ صدرالمدرس حافظ عمیر اشرف صاحب نے مدرسہ کی تین سالہ کارکردگی بیان کی ۔ پروگرام کی کامیابی میں معلمينِ مدرسہ مولانا شاہد رضا سعدی ، حافظ مدثر حسین رضوی ، مولانا مبین رضا حنفی ، حافظ محمد رضا اشرفی اور حافظ تجمل حسین رضوی صاحبان نے کافی تگ و دَو کی ۔ نیز منتظمینِ مدرسہ مشرف حسین (بابو مقادم) ، ماجد اختر ، اشرف بھائی ، شیخ آصف بھائی نے بھی بہت محنتیں کیٖں ۔ صلوٰۃ و سلام ، دعا اور رسمِ شکریہ کے ساتھ پروگرام بحسن و خوبی اختتام پذیر ہوا ۔
💫💠🌀💫💠♻️💫💠♻️💫💠♻️
المرسلہ : مدرسہ اہلسنت انوارِ صوفیہ شعبۂ نشر و اشاعت







یومِ وصال صوفی ملت علیہ الرحمہ ✳️✳️✳️✳️✳️✳️✳️✳️
مورخہ 27 فروری 2025= 28 شعبان المعظم بروز جمعرات بعد نماز عشاؑ پیر طریقت صوفی ملت حضرت صوفی غلام رسول صاحب قادری علیہ الرحمہ کا سالانہ یومِ وصال منایا جا رہا ہے
زیر سرپرستی جانشین صوفی ملت صوفی نورالعین صابری صاحب
بروز جمعرات بعد نماز عشاؑ صوفی ملت صاحب کے مکان غوث اعظم نگر سے یومِ وصال کے موقع پر چادر شریف مشائخ عظام حفاظ کرام علمائے کرام معززین شہر خلفاء و مریدین کے ہمراہ آستانہ عالیہ صوفی ملت علیہ الرحمہ عائشہ نگر قبرستان پہنچے گی۔ 
لہذا خلفاء مریدین محبین و عقیدت مندوں سے شرکت کی گذارش ہے
آل انڈیا سنی جمعیۃ الاسلام مالیگاؤں مخدوم صابر اکیڈمی مالیگاؤں







راشٹروادی کانگریس پارٹی شردپوار گروپ مہانگر ضلع کی صدارت سلیم رضوی کو سونپی گئ۔
آج مورخہ 24فروری بروز پیر۔ممبئ راشٹروادی کانگریس پارٹی سپریم شردپوار کی ایماء پرممبئ پارٹی آفس پرسلیم رضوی صاحب کو بلا کر جینت پاٹل صاحب کے ہاتھوں صدارت کا مکتوب دیا گیا۔سلیم رضوی صاحب کو صدارت ملنے پر شہر راشٹروادی کانگریس پارٹی کے خیمہ میں جشن کا ماحول ہے۔سلیم رضوی صاحب 2004 سے راشٹروادی کانگریس پارٹی میں شامل ہونے۔اور تب سے وہ پارٹی کے ساتھ کام کاج کررہے ہیں۔اور شہر کے سب سے پرانے پارٹی کے ممبر ہیں۔بھت لوگ پارٹی میں آئے گئے صدارت حاصل کی اپنا مطلب حاصل کیا۔اور پارٹی چھوڑ دی۔مگر سلیم رضوی کی پہچان پارٹی میں کٹر راشٹروادی کے طور پر جانی جاتی ہے۔
اس موقع پر انہیں ہر طرف سے مبارکباد دی جارہی ہے۔صدارت ملنے کے موقع پر ان کے ساتھ جینت پاٹل صاحب ۔گوکل پنگلے صاحب سندیپ پوارصاحب ۔عبداللہ قریشی صاحب ۔رفیق خان مرغا والےصاحب ۔عمران حفیظ صاحب ۔عرفان نادر صاحب ۔شکیل بھائی رکشا والے صاحب ۔توصیف قریشی صاحب۔اس موقعے پر موجود تھے ایسی تحریری۔اطلاع عمران حفیظ نے دی۔۔

Wednesday, 26 February 2025

*🔴سیف نیوز اردو*






آٹھ اقسام کی چائے جو وزن تیزی سے کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں
وزن کم کرنے کے لیے جو چائے اچھی ہوتی ہیں اُن میں فائبر، پروٹین، صحت مند فیٹس بھرپور مقدار میں پائے جاتے ہیں جن سے میٹابولزم ٹھیک کام کرتا ہے، بھوک کم لگتی ہے اور ضرورت سے زیادہ کھانے سے پرہیز بھی کیا جا سکتا ہے۔
انڈین ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی نے ایسی ہی آٹھ اقسام کی چائے کے بارے میں بتایا ہے جنہیں پی کر وزن تیزی سے کم کیا جا سکتا ہے۔
آئیے جانتے ہیں وہ چائے کون سی ہیں۔سبز چائے
سبز چائے میں کیٹیچنز بھرپور مقدار میں پائے جاتے ہیں جو وزن کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں،۔ اِن آکسیڈںٹس کی وجہ سے فیٹ آکسیڈیشن بڑھتی ہے اور میٹابولک ریٹ بھی بڑھتا ہے جس سے جسم سے کیلوریز زیادہ جلدی ختم ہوتی ہیں۔
سبز چائے میں کیفین بھی پائی جاتی ہے جس سے جسم کو توانائی حاصل ہوتی ہے۔
اوولونگ ٹی
گرین اور بلیک ٹی کے امتزاج سے بنی اوولنگ ٹی میں پولی فینولز کی وجہ سے فیٹ آکسیڈنٹس بڑھانے اور میٹابولزم برقرار رکھنے کی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔
بلیک ٹی
بلیک ٹی میں تھیا فلیونز جیسے فلیوونائڈز پائے جاتے ہیں جو چربی کو پگھلاتے ہیں اور سوزش میں کمی لاتے ہیں۔ بلیک ٹی کو دودھ یا چینی کے بغیر پینے سے بلڈ شوگر برقرار رہتی ہے، بھوک کم لگتی ہے اور چربی پگھلتی ہے۔
وائٹ ٹی
وائٹ ٹی میں کیٹیچنز اور پولی فینولز کی بڑی مقدار پائی جاتی ہے جس سے جسم میں فیٹ سیلز نہیں بنتے، اس میں لیپوسس بھی پایا جاتا ہے جس سے جسم کی چربی پگھلتی ہے۔
پیپرمنٹ ٹی
پیپرمنٹ ٹی سے بھوک کم لگتی ہے اور ہاضمہ بہتر ہوتا ہے جس سے ضرورت سے زیادہ کھانے سے پرہیز حاصل ہوتا ہے۔ پیپرمنٹ میں قدرتی مینتھول سے ہاضمے کی نالی اچھی طرح کام کرتی ہے اور گیس کم ہوتی ہے۔ادرک کی چائے
ادرک کی چائے میں تھرموجینک خصوصیات پائی جاتی ہیں جن سے جسم کا درجہ حرارت بڑھتا ہے اور چربی پگھلتی ہے۔ اس سے بلڈ شوگر برقرار رہتی ہے اور بلاوجہ کی بھوک نہیں لگتی۔ ادرک سے ہاضمہ بہتر ہوتا ہے اور سوزش میں کمی آتی ہے۔
رُوئیبس ٹی
رُوئیبس ٹی کیفین فری ہربل چائے ہے جس میں اینٹی آکسیڈنٹس بھرپور مقدار میں پائے جاتے ہیں جن کی وجہ سے کورٹیزول جیسے سٹریس ہارمونز میں کمی ہوتی ہے۔ اگر کورٹیزول لیولز زیادہ ہوں تو جسم میں فیٹ یعنی چربی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔
میچا ٹی
میچا ٹی کو سبز چائے کے پتوں کے پاؤڈر سے تیار کیا جاتا ہے جس میں کیفین اور کیٹیچنز کی بڑی مقدار پائی جاتی ہے۔ اس سے میٹابولزم اچھی طرح بُوسٹ ہوتا ہے، فیٹ آکسیڈیشن بڑھتی ہے اور جسم کو فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ کیونکہ میچا ٹی میں گرین ٹی کی نسبت زیادہ اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں تو اس سے وزن بھی تیزی سے کم ہوتا ہے۔






تجھے کھو کر بھی تجھے پاؤں جہاں تک دیکھوں: احمد ندیم قاسمی - urdu poet Ahmad
حیدرآباد: احمد ندیم قاسمی (20 نومبر 1916ء تا 10 جولائی 2006ء) پاکستان کے ایک معروف ادیب، شاعر، افسانہ نگار، صحافی، مدیر اور کالم نگار تھے۔ انہوں نے افسانہ اور شاعری میں شہرت پائی۔ آپ کا شمار ترقی پسند تحریک سے وابستہ نمایاں مصنفین میں ہوتا تھا اور اسی وجہ سے دو مرتبہ گرفتار کیے گئے۔ قاسمی صاحب نے طویل عمر پائی اور لگ بھگ نوّے سال کی عمر میں انھوں نے پچاس سے زائد کتابیں تصنیف کیں۔

قاسمی صاحب کی شاعری کی ابتدا 1931ء میں ہوئی تھی جب مولانا محمد علی جوہر کے انتقال پر ان کی پہلی نظم روزنامہ سیاست لاہور کے سرورق پر شائع ہوئی اور یہ ان کے لیے بہت بڑا اعزاز تھا۔ یہی نہیں بعد میں بھی 1934ء اور 1937ء کے دوران ان کی متعدد نظمیں روزنامہ انقلاب لاہور اور زمیندار لاہور کے سرورق پر شائع ہوتی رہیں اور اس سے انھیں جوانی میں ہی غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی۔
آئیے آج کے شعر و ادب میں ان کی مشہور زمانہ غزل 'تجھے کھو کر بھی تجھے پاؤں جہاں تک دیکھوں' ملاحظہغزل
تجھے کھو کر بھی تجھے پاؤں جہاں تک دیکھوں

حسن یزداں سے تجھے حسن بتاں تک دیکھوں

تو نے یوں دیکھا ہے جیسے کبھی دیکھا ہی نہ تھا

میں تو دل میں ترے قدموں کے نشاں تک دیکھوں

صرف اس شوق میں پوچھی ہیں ہزاروں باتیں

میں ترا حسن ترے حسن بیاں تک دیکھوں

میرے ویرانۂ جاں میں تری یادوں کے طفیل

پھول کھلتے نظر آتے ہیں جہاں تک دیکھوں

وقت نے ذہن میں دھندلا دیئے تیرے خد و خال

یوں تو میں ٹوٹتے تاروں کا دھواں تک دیکھوں

دل گیا تھا تو یہ آنکھیں بھی کوئی لے جاتا

میں فقط ایک ہی تصویر کہاں تک دیکھوں

اک حقیقت سہی فردوس میں حوروں کا وجود

حسن انساں سے نمٹ لوں تو وہاں تک دیکھوں








سیارچے کا 2032 میں زمین سے ٹکرانے کا امکان صفر کے قریب
امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے انکشاف کیا ہے کہ اس سیارچے کے دسمبر 2032 میں زمین سے ٹکرانے کے امکانات 0.0017 فیصد ہوگئے ہیں۔ 

دوسری جانب یورپی خلائی ایجنسی نے بھی اسی طرح کے خطرے کا امکان 0.002 فیصد بتایا ہے۔

ناسا کے مطابق اس بات کا 99.9983 فیصد امکان ہے کہ سیارچہ سات سالوں میں زمین سے محفوظ طریقے سے گزرے گا جو کہ ٹکرانے کے 59,000 امکانات میں سے 1 امکان کے برابر ہے۔
اگرچہ نئے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ سیارچے کا چاند سے ٹکرانے کا 1.7 فیصد امکان ہے لیکن زمین کو اس طرح کے اثرات سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔

ایجنسی نے یہ بھی کہا کہ جب سیارچہ 2024 YR4 پہلی بار دریافت ہوا تھا، اس کے 2032 میں زمین سے ٹکرانے کا امکان قابل ذکر تھا۔

لیکن جیسے جیسے سیارچے کے مشاہدات پیش کیے جاتے رہے، ناسا کے ماہرین اس کی رفتار کے زیادہ درست نمونوں کا حساب لگانے میں کامیاب ہوئے اور اب انہوں نے محسوس کیا ہے کہ اس سیارچے کے ہمارے سیارے سے ٹکرانے کا کوئی خاص خطرہ نہیں ہے۔

*🔴سیف نیوز اردو*









صدر ٹرمپ کی ’دھمکیوں‘ کے بعد معدنیات تک رسائی کے معاہدے پر ’اتفاق‘: یوکرین میں موجود قیمتی ذخائر جنھیں امریکہ ہر حال میں حاصل کرنا چاہتا ہے
یوکرینی دارالحکومت کیئو میں موجود ایک سینیئر عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ یوکرین نے امریکہ کے ساتھ معدنیات کے حصول سے متعلق ایک معاہدہ کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔

اس معاہدے سے متعلق مزید تفصیلات فراہم کیے بغیر یوکرین کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ ’ہم نے (معاہدے میں) کچھ اچھی ترامیم کے بعد اس پر اتفاق کر لیا اور یوکرین اسے ایک مثبت پیش رفت سمجھتا ہے۔‘

ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ امریکہ معدنیات کے حصول کے معاہدے کے حوالے سے اپنی ابتدائی شرط سے دستبردار ہو گیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ امریکہ کو یوکرین سے نکلنے والی معدنیات سے ہونے والے منافع میں سے 500 ارب ڈالر کا حصہ ملے گا۔

یوکرین نے امریکہ سے اس معاہدے کے بدلے میں اپنی سکیورٹی کی ضمانت بھی مانگی تھی لیکن واشنگٹن نے اس حوالے سے کوئی مستند جواب تاحال نہیں دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھیں امید ہے کہ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی رواں ہفتے اس معاہدے پر دستخط کر دیں گے۔

تاہم یوکرین کی نیوز ویب سائٹ ’یوکرینسکا پروڈا‘ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان معدنیات کے معاہدے پر یوکرینی وزیرِ خارجہ اور امریکی سیکریٹری خارجہ دستخط کریں گے۔

رواں ہفتے منگل کو معاہدے کے ہونے یا نہ ہونے کی تصدیق کیے بغیر صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے بدلے میں یوکرین کو ’لڑائی جاری رکھنے کا حق‘ ملے گا۔انھوں نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ ’یوکرینی بہت بہادر ہیں‘ لیکن ’بغیر امریکی پیسے اور عسکری ساز و سامان کے یہ جنگ بہت ہی مختصر وقت میں ختم ہو جانی تھی۔‘

’ہمیں اپنا پیسہ واپس چاہیے۔ ہم ایک بڑے مسئلے سے نمٹنے میں اُن (یوکرین) کی مدد کر رہے ہیں اور امریکی ٹیکس دہندگان کو اُن کا پیسہ واپس ملے گا۔‘

امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ روس اور یوکرین کے درمیان کسی بھی معاہدے کے بعد امن کے قیام کے لیے اقدامات کی ضرورت ہو گی تاہم یہ اقدامات ایسے ہوں گے جو کہ ’سب کے لیے قابلِ قبول ہوں۔‘

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے ہی صدر ٹرمپ نے یوکرینی صدر زیلنسکی کو ’آمر‘ قرار دیا تھا اور بظاہر انھوں نے یوکرین پر روس کے ساتھ جنگ شروع کرنے کا الزام بھی عائد کیا تھا۔ اس سے قبل یوکرینی صدر نے معدنیات کے حصول سے متعلق معاہدے پر دستخط کرنے کرنے سے انکار کر دیا تھا اور کہا تھا کہ امریکی صدر روس کی طرف سے پھیلائی جانے والی ’غلط معلومات کی دنیا‘ میں رہ رہے ہیں۔

گذشتہ روز یوکرین کی وزیر اولگا ستيفانيشينا نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ امریکہ اور یوکرین کے درمیان ’مذاکرات بہت تعمیری رہے ہیں اور (اس سے متعلق) تقریباً تمام ہی اہم تفصیلات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم جلد ہی اس معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔‘

خیال رہے گذشتہ کئی ہفتوں سے امریکی انتظامیہ کی جانب سے یوکرین پر اس معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے اور اسی سبب دونوں ممالک کے صدور کے درمیان تعلقات میں تناؤ بھی دیکھا گیا تھا۔

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسلی نے پہلی مرتبہ ڈونلڈ ٹرمپ کو یوکرین میں موجود معدنیات تک رسائی دینے کی پیشکش گذشتہ برس ستمبر میں کی گئی تھی جو کہ اُن کے نام نہاد ’فتح کے منصوبے‘ کا حصہ تھی۔

اُس وقت ان کا خیال تھا کہ ایک مضبوط صدارتی امیدوار (ٹرمپ) کو یوکرین کی حمایت جاری رکھنے کے لیے ایک پُرکشش پیشکش دینا ضروری ہے۔

روس کی بھی امریکہ کو نایاب معدنیات تک رسائی دینے کی پیشکشدوسری جانب روسی صدر ولادیمیر پوتن نے بھی امریکہ کو روس اور یوکرین کے مقبوضہ علاقوں میں موجود معدنیات تک رسائی دینے کی پیشکش کر دی ہے۔

گذشتہ روز روس کے سرکاری ٹی وی چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں پوتن کا کہنا تھا کہ وہ مشترکہ منصوبوں میں امریکی شراکت داروں کو اپنے وسائل تک رسائی دینے کے لیے تیار ہیں، بشمول اُن معدنی ذخائر تک جو کہ ’نئے علاقوں‘ میں موجود ہیں۔ یاد رہے کہ یہاں ’نئے علاقوں‘ سے مراد وہ یوکرینی علاقے ہیں جن پر روس نے گذشتہ تین سال کی جنگ کے دوران قبضہ کیا ہے۔

پوتن کا یہ بھی کہنا تھا کہ انھیں امریکہ اور یوکرین کے درمیان ہونے والے متوقع معاہدے پر تشویش نہیں ہے تاہم ’بِنا کسی شک کے ہمارے پاس اس قسم کے وسائل یوکرین سے زیادہ بڑی تعداد میں موجود ہیں۔‘

یوکرین کے پاس کون سی معدنیات ہیں؟
یوکرین کے سرکاری اندازوں کے مطابق دنیا بھر میں پائی جانے والی نایات معدنیات کا بڑا ذخیرہ یوکرین میں موجود ہے جس میں گریفائٹ کے 19 ملین ٹن کے ذخائر بھی موجود ہیں۔ یوکرین کی جیولوجیکل سروے ایجنسی کے مطابق اُن کا ملک یہ معدنیات سپلائی کرنے والے ’دنیا کے پانچ بڑے ممالک میں سے ایک ہے۔‘واضح رہے گریفائٹ کا استعمال الیکٹرک گاڑیوں کی بیٹریاں بنانے کے لیے ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ یوکرین کے پاس لیتھیئم کے ذخائر بھی موجود ہیں جس سے کرنٹ بیٹریاں بنتی ہیں۔ اس سے قبل روس کے حملے سے پہلے دنیا بھر میں استعمال ہونے والی اہم معدنیات ٹائٹینیم کا سات فیصد حصہ بھی یوکرین سے آ رہا تھا۔

ٹائٹینیم ایک ایسی دھات ہے جس کا استعمال ہوائی جہاز بنانے سے لے کر پاور سٹیشنز کی تعمیر تک میں ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ یوکرین میں ایسی 17 نایاب معدنیات اور بھی موجود ہیں جن کا استعمال ہتھیار، پن چکیاں اور متعدد برقی مصنوعات بنانے میں ہوتا ہے۔

تاہم یوکرین کے کچھ معدنی ذخائر پر روس نے بھی قبضہ کیا ہوا ہے۔ یوکرین کی وزیرِ معیشت یولیا سوریدینکو کے مطابق معدنیات کے 350 ارب ڈالر کے ذخائر اُن مقامات پر ہیں جہاں روس کا قبضہ ہے۔

سنہ 2022 میں کینیڈا کی ایک کمپنی ’سیکوڈیو‘ نے حساب لگایا تھا کہ روس یوکرین کی 63 فیصد کوئلہ کانوں، آدھے سے زیادہ مینگنیز، سیزیئم اور ٹینٹلم کے معدنی ذخائر پر قابض ہے۔سیکوڈیو‘ کے پرنسپل ڈاکٹر رابرٹ مُگاہ کا کہنا ہے کہ ایسے معدنی ذخائر کی موجودگی بھی یوکرین کے خلاف روسی جارحیت کی ’سٹریٹجک اور اقتصادی‘ وجوہات میں شامل ہیں۔

اُن کا کہنا ہے کہ اِن ذخائر پر قبضہ کر کے روس نے یوکرین کی مزید منافع کمانے کی صلاحیت کو سلب کر لیا ہے، اپنے ذخائر میں اضافہ کیا ہے اور دنیا کی سپلائی چین پر اپنا اثر و رسوخ بڑھایا ہے۔

امریکہ کو یوکرین میں موجود اِن معدنی ذخائر کی کیوں ضرورت ہے؟
ڈاکٹر رابرٹ کہتے ہیں کہ نایاب معدنیات ہی ’21ویں صدی میں معیشت کی بنیاد‘ ہیں۔ اُن کے مطابق تجدید شدہ توانائی، عسکری ساز و سامان، انڈسٹریل انفراسٹرکچر کا دارومدار انہی معدنیات پر ہے اور یہ کسی بھی ملک کا ’سٹریٹجک، معاشی اور علاقائی کردار‘ بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

جیولوجیکل انویسٹمنٹ گروپ کے مطابق امریکہ یوکرین کے ساتھ معدنی معاہدے کرنے میں اس لیے بھی زیادہ دلچسپی لے رہا ہے کیونکہ وہ چین پر اپنا انحصار کم کرنا چاہتا ہے جس کے پاس دنیا کے 75 فیصد معدنی ذخائر کا کنٹرول ہے۔

گذشتہ برس دسمبر میں چین نے کچھ نایات معدنیات کی امریکہ برآمد پر پابندی عائد کر دی تھی جبکہ اس سے قبل ان معدنیات کی دنیا بھر میں برآمد کو محدود کر دیا گیا تھا۔پیر کو فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں کے دورے سے قبل وائٹ ہاؤس مائیک والٹز نے ’نیوز نیشن‘ کو بتایا تھا کہ یہ معدنیات کا معاہدہ ’اقتصادی منافعے کو بڑھائے گا اور امریکہ اور یوکرین کو مستقبل میں جوڑ کر رکھے گا۔‘

معاہدے سے متعلق مذاکرات کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟
یوکرینی وزیر اولگا ستيفانيشينا کے معاہدے کے حوالے سے بیان سے قبل دونوں ممالک کے درمیان اسے لے کر کافی تناؤ پایا جا رہا تھا۔

گذشتہ بدھ کو اطلاعات کے مطابق زیلنسکی نے یوکرین کے معدنی ذخائر کے 50 فیصد حصے تک رسائی دینے کے امریکی مطالبے کو مسترد کر دیا تھا۔

انھوں نے کہا تھا کہ ’میں اپنی ریاست فروخت نہیں کر سکتا۔‘

اتوار کو اس مجوزے معاہدے کا دوسرا ڈرافٹ دیکھ کر ایسا لگا تھا کہ اس معاہدے پر اتفاق ہونا مشکل ہو گا۔

زیلنسکی نے ایک نیوز کانفرنس کے دوران صحافیوں کا بتایا تھا کہ امریکہ اُن کے معدنی ذخائر کا 100 فیصد کنٹرول چاہتا ہے۔

رواں مہینے کے شروع میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ عسکری اور معاشی مدد کی مد میں اب تک یوکرین کو 500 ارب ڈالر دے کی امداد دی جا چکی ہے اور یہ کہ وہ چاہتے ہیں کہ امریکہ کو اس کے بدلے یوکرین میں معدنیات کے ذخائر تک رسائی دی جائے۔تاہم صدر زیلنسکی نے اُن سے اختلاف کرتے ہوئے کہا تھا کہ کہ اُن کے ملک کو ملنے والی امریکی امداد کی مالیت تقریباً 100 ارب ڈالر بنتی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ یوکرین کو ملنے والی امداد کوئی قرض نہیں تھا اسی لیے وہ اسے واپس کرنے کے پابند نہیں ہیں۔

صدر زیلنسکی نے اس معاہدے کے بدلے امریکہ سے اپنے ملک کی سکیورٹی کی ضمانت بھی مانگی تھی۔

کچھ تجزیہ کاروں نے اس معاہدے کو ’نوآبادیاتی امریکہ منصوبہ‘ قرار دیا ہے تاہم یوکرین کا کہنا ہے کہ وہ اِن ذخائر کو ڈھونڈنے کے لیے مشترکہ کاوشوں میں دلچپسپی رکھتا ہے۔

یوکرین میں موجود جیولوجیکل انویسٹمنٹ گروپ سے منسلک ارینا سپرن کا کہنا ہے کہ اِن معدنیات کی افزائش کرنا ایک مشکل اور مہنگا مرحلہ ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ اِن معدنی ذخائر کی افزائش میں امریکی سرمایہ داروں کی دلچسپی ملکی معیشت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو گی۔

ارینا کے مطابق ’اس کے ذریعے ہمیں وہ ٹیکنالوجی ملے گی جس کی ہماری انڈسٹری میں کمی محسوس ہوتی ہے۔ ہمیں منافع ملے گا، ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے اور ٹیکس کی مد میں مزید پیسے ملیں گے۔‘







انڈیاز گوٹ لیٹنٹ کیس: رنویر الہ آبادیہ نے پولیس کے سامنے حقیقت بتا دی
شو انڈیاز گاٹ لیٹنٹ کیس میں کامیڈین سمے رائنا کے ساتھ رنویر الہ آبادیہ کی مشکلات کم نہیں ہو رہی ہیں۔ ان کے غیر مہذب سوال پر جھگڑا اتنا بڑھ گیا کہ معاملہ پولیس سے لے کر عدالت تک جا پہنچا۔ دریں اثنا، رنویر الہ آبادیہ نے مہاراشٹر سائبر کے حکام کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔ اس نے تفتیشی افسر کے سامنے اپنی غلطی کا اعتراف کر لیا ہے۔

معلومات کے مطابق رنویر الہ آبادیہ نے اپنے بیان میں اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ وہ یوٹیوب شو میں اس لیے گئے کیونکہ سمے رائنا ان کے دوست ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ لائن کہنا ان کی غلطی تھی جس سے تنازعہ پیدا ہوا ہے۔میں نے سمے رائنا کا شو مفت میں کیا۔ رنویر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہوں نے شو میں جانے کے لیے کوئی رقم نہیں لی۔ رنویر نے پولیس کو بتایا کہ ہم یوٹیوبرز ہیں اور اسی لیے دوستی کی وجہ سے ایک دوسرے کے شوز میں آتے رہتے ہیں۔
رنویر الہ آبادیہ کو نازیبا سوال پوچھنے پر ٹرول کیا گیا۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ رنویر، جو بیئر بائیسپس کے نام سے مشہور ہیں، نے سمے رائنا کے شو ‘انڈیاز گاٹ ٹیلنٹ’ کے ایک ایپی سوڈ میں ایک مقابلہ کنندہ سے والدین کے بارے میں بہت ہی نازیبا سوال پوچھا تھا۔ جس کے بعد یہ تنازع کھڑا ہوا جس میں انہیں عام لوگوں سے لے کر سیاستدانوں تک آن لائن ٹرولنگ اور تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے ساتھ اشیش چنچلانی، جسپریت سنگھ اور اپوروا مکھیجا جیسے مواد تخلیق کار بھی شو میں موجود تھے۔

تاہم ٹرولنگ کے بعد رنویر نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پوسٹ کرکے معافی بھی مانگ لی۔ انہوں نے کہا تھا کہ کامیڈی میرا پیشہ نہیں ہے اور میرا تبصرہ بالکل درست نہیں، مجھے ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا۔رنویر کے معافی مانگنے کے بعد ملک کی کئی ریاستوں میں ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی گئیں۔ ان کو کلب کرنے کے لیے رنویر نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ عدالت نے الہ آبادیہ کو ہدایت کی تھی کہ وہ اس کے خلاف جاری تحقیقات میں تعاون کرے اور اس کا پاسپورٹ تھانے پولیس کو جمع کرائے تاکہ اسے اجازت کے بغیر ملک چھوڑنے سے روکا جا سکے۔






کرناٹک ہائی کورٹ نے لاڈلے مشائخ درگاہ میں مہاشیو راتری پر پوجا کی اجازت دی، انتظامیہ محتاط، جانئے پورا معاملہ؟

گلبرگہ : کرناٹک کے گلبرگہ کے الند میں واقع تاریخی لاڈلے مشائخ درگاہ کمپلیکس میں موجود شیولنگ کو لے کر کرناٹک ہائی کورٹ نے بڑا فیصلہ سنایا ہے۔ مہاشیو راتری کے دن لوگ اس شیولنگ کی پوجا کر سکیں گے۔ ہائی کورٹ کے اس فیصلے سے ہندو تنظیموں کا مطالبہ پورا ہو گیا ہے جو کافی عرصے سے یہاں پوجا کی اجازت مانگ رہے تھے۔

عدالتی حکم کے مطابق ہندو تنظیموں کے 15 لوگوں کو ‘شری راگھو چیتنیا شیولنگ’ پر خصوصی پوجا کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ یہ شیولنگ ضلع کلبرگی میں واقع درگاہ احاطے کے اندر موجود ہے، جس پر برسوں سے تنازع چل رہا تھا۔چار سال پہلے نامعلوم سماج دشمن عناصر نے مبینہ طور پر شیولنگ کی بے حرمتی کی تھی، جس سے ہندو تنظیموں میں غم و غصہ پایا جاتا تھا۔ تب سے وہ یہاں پوجا ارچنا کا مطالبہ کر رہے تھے۔
سال 2022 میں الند شہر میں اس وقت کشیدگی بڑھ گئی تھی جب ہندو تنظیموں، بی جے پی اور سری رام سینا کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد درگاہ میں داخل ہوگئی تھی اور شیولنگ کی شدھی کرن پوجا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ حالات خراب ہونے کے خدشے کے پیش نظر انتظامیہ کو دفعہ 144 نافذ کرنا پڑی تھی۔ہندو تنظیموں نے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو اپنی جیت بتایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘شری راگھو چیتنیا شیولنگ’ کی پوجا کرنے کا حق ملنا مذہبی عقیدے کی جیت ہے۔ اس کے ساتھ ہی انتظامیہ نے سیکورٹی کے سخت انتظامات کرنے کی ہدایات دی ہیں تاکہ علاقے میں امن و امان برقرار رہے۔

Tuesday, 25 February 2025

*🔴سیف نیوز اردو*






مہاراشٹر بجٹ : اور اقلیتوں کی حصہ داری 
تکلف برطرف : سعید حمید 
اس موضوع پر کبھی بات ہی نہیں ہوتی ہے ، الیکشن سے پہلے بھی نہیں ، 
الیکشن کے بعد بھی نہیں ۔
حالانکہ ، الیکشن پانچ برس میں ایک مرتبہ ہی آتا ہے لیکن اس میں یہی بات ہوا کرتی ہے کہ 
کتنے مسلمانوں کو ٹکٹ دیں گے ؟ کتنے مسلم امیدوار کھڑے کریں گے ؟
اور الیکشن چلا جاتا ہے تو یہی بات ہوتی ہے ، 
ٹھیک ہے ، اس الیکشن میں مسلم امیدواروں کو ٹکٹ نہیں دیا ، آئیندہ الیکشن میں کیا دو گے ؟
اور بھاگتے بھوت کی لنگوٹی کی طرح کسی کی جھولی میں کوئی کمیٹی ، کوئی کونسل ، 
کوئی ممبری ڈال دی جاتی ہے یا پھر پارٹی پوسٹ اور۔۔۔۔ مسلمانوں کا مدعا ٹائیں ٹائیں فش ۔
پانچ برس میں ایک مرتبہ آنے والے الیکشن میں تو اتنا شور شرابہ کیا جاتا ہے ، 
لیکن ، ہر سال جو بجٹ آتا ہے ، اور چلا جاتا ہے ، 
اس پر مسلمانوں میں ، مسلم قیادت میں ، مسلم دانشوروں میں اور مسلم میڈیا میں کوئی بات چیت نہیں ہوتی ؟ 
تو پھر لگتا ہے کہ قوم کو بجٹ ، اور قوم کےڈیولپمنٹ ، ترقی سے زیادہ مسلم سیاست دانوں کے کیرئیر کی فکر 
ہے کہ الیکشن پر شور شرابہ کیا جاتا ہے ۔
کچھ لوگوں کی کوشش ہے کہ ہمارا کرئیر بن جائے ۔۔۔بس ؟ 
ورنہ ، جب جس کی جتنی آبادی ، اس کی اتنی حصہ داری ، اقتدار میں ساجھے داری ، وغیرہ 
جیسے نعرہ ( جو صرف الیکشن کے دوران ہی ) لگائے جاتے ہیں، تو اس کی حقیقی تصویر کیا ہے ؟
اس بات کا پتہ کرنے کیلئے ہمارے سماج میں بجٹ پر چرچا کیوں نہیں ہوتی ہے ؟
بجٹ کا مطالعہ کیوں نہیں کیا جاتا ہے ؟
مسلم میڈیا بجٹ وکو خاطر خواہ کوریج کیوں نہیں دیتا ہے ؟ 
اسے ایک روایتی خبر کیوں بنا دیا جاتا ہے ؟
ایسے کئی سوالات پوچھے جا سکتے ہیں ، اٹھائے جاسکتے ہیں ، 
لیکن پتہ ہے کہ کوئی خاطر خواہ جواب نہیں ملے گا ۔
پھر بجٹ کی جانکاری رکھنا ضروری ہے ،
بجٹ میں اقلیتوں کی ساجھے داری ، شراکت کتنی ہے ؟ اس کی معلومات رکھنا ضروری 
ہے اور اقلیتوں کیلئے وقف بجٹ و اسکیموں کا کیا ہو رہا ہے ؟  
اس پر نظر رکھنا بھی ضروری ہے ۔
اسلئے کہ اقلیتی وزارت ، اقلیتی محکمہ ، بجٹ میں اقلیتوں کیلئے بجٹ کی پرویزن ، اور اقلیتوں 
کی فلاح و بہبود کیلئے اسکیمیں آسانی سے پاس نہیں ہوئی ہیں ، ان کیلئے کئی دہائیوں 
تک کوششیں ہوئیں ، جدوجہد ہوئی ، تب ہم یہاں تک پہنچ سکے ہیں ۔
اگر قوم نے توجہ نہیں دی ، تو پھر خاموشی سے یکے بعد دیگرے ، اقلیتوں کی فلاحی 
اسکیمیں بند ہوتی چلی جائیں گی ۔
فنڈ بھی LAPSE ہوتا چلا جائے گا ، اور ایک دن اقلیتی فلاح کی منسٹری برائے 
نام بن کر رہ جائے گی ، یہ آزاد بھارت میں بھارت کے مسلمانوں کی 
اس جدوجہد کیلئے بھاری نقصان ہو گا ، 
جن کی وجہ سے سچر کمیٹی ، محمود الرحمان کمیٹی ، ڈاکٹر گوپال سنگھ پینل وغیرہ کی رپورٹ مرتب ہوئیں ۔
اور ان کی سفارشات کی روشنی میں اقلیتی وزارتوں کا قیام ہوا ۔
بجٹ میں ان کیلئے پرویزن کی گئی ، اور کئی فلاحی اسکیمیں آج اقلیتوں کی فلاح و بہبود کیلئے جاری ہیں۔
اس پر نظر رکھنا بھی ضروری ہے ، اس کا جائزہ لیتے رہنا بھی ضروری ہے ۔
انہی حقائق کے حوالے سے ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ مہاراشٹر کے بجٹ میں اقلیتوں کی ساجھے داری 
کی کیا حقیقت ہے ؟ اور کیا صورتحال ہے ؟
مہاراشٹر اسمبلی کا بجٹ اجلاس مارچ ۲۰۲۵ ء میں شروع ہو گا ، جس کی تیاری جاری ہے ۔
اس مرتبہ سات تا آٹھ لاکھ کروڑ روپوں کے حجم کا بجٹ پیش ہو سکتا ہے ۔
لیکن ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی یقین ہے کہ اقلیتوں کو جو حصہ ملے گا وہ اونٹ کے منہ میں زیرہ 
کے ہی جیسا ہو گا ، اور ایسا ہر سال ہی ہوا کرتا ہے ۔
یہ بات تو سچ ہے کہ اقلیتوں کا مطلب صرف مسلمان نہیں ہے ، پھر بھی ،
اقلیتی وزارتوں کے ساتھ ، ان کے بجٹ کے ساتھ اور ان کی اسکیموں کے ساتھ ویسا ہی 
سوتیلا سلوک کیا جا تا ہے ، جیسا مسلمانوں کے ساتھ ہوتا ہے !!!
کیوں ؟ اس لئے کہ جو اقلیتی اقوام ہیں ، ان میںسب سے زیادہ پسماندہ مسلمان
ہی ہیں اور کچھ ایسی اقوام بھی اس میں شامل ہیں ، جن کا معاشی ، سماجی ، 
اور تعلیمی پسماندگی سے دور دور کا بھی تعلق نہیں ہے !!
جیسے ، یہودی ، جین ، پارسی ، اور باقی رہے سکھ اور کرسچن ، تو ان میں پسماندہ طبقات 
بہت کم ہیں ، جنہیں کمیونٹی فند بھی دستیاب ہو جاتا ہے ۔
اس اعتبار سے مہاراشٹرمیں سب سے بڑی اقلیت ، اور سب سے زیادہ پسماندہ اقلیت
ہیں : مسلمان ، جن کو بجٹ کا سب سے زیادہ حصہ ملنا چاہئے ، 
لیکن جو سلوک مسلمانوں کے ساتھ کیا جاتا ہے ، ویسا ہی سلوک اقلیتی بجٹ کے ساتھ ہوتا ہے ، 
اس سے یہودی ، جین ، پارسی ، سکھ ، عیسائی طبقے کو کچھ فرق نہیں پڑتا ہے ۔
اب ا س فہرست میں بدھسٹ بھی شامل ہیں ، لیکن ان کیلئے دیگر وزارتوں یعنی سوشل جسٹس، 
ایس ۔ ایس ٹی وکاس وغیرہ میں بھی کافی بجٹ دستیاب ہو جاتا ہے ۔ 
لے دے کر رہ جاتے ہیں ، مسلمان ، جن کیلئے پسماندہ ہونے کے باوجود کوئی فنڈ نہیں ۔
ہم اگر مجموعی اقلیتی طبقات کی بھی بات کرلیں : تو مہاراشٹر میں اقلیتوں کی آبادی ، کل ریاستی 
آبادی کا بیس فیصد 20 % ہوا کرتی ہے لیکن اس کے باوجود ریاستی بجٹ میں 
اقلیتی محکمہ کی اسکیموں کیلئے جو فنڈ فراہم کیا جاتا ہے : وہ بجٹ کا 0.01 % ہی ہوا کرتا ہے ، 
یعنی آج تک اقلیتی محکمہ کا بجٹ ایک ہزار کروڑ روپوں تک بھی نہیں پہنچ سکا ۔
اس مرتبہ بھی وہی ہوگا ۔
اس کے برعکس ، ریاست میں پسماندہ طبقات جیسے ، ایس سی ۔ ایس ٹی ، او بی سی ، 
آدی واسی ، وغیرہ کی آبادی بھی 20 % ہے ، جن کی فلاح کیلئے سوشل جسٹس ، 
آدی واسی وکاس ، بیک وارڈ کلاس وکاس ، محکموں سے ہر سال کے بجٹ میں تقریبا ً
بیس ہزار کروڑ روپوں کا فنڈ ملتا ہے ۔
اور ان پسماندہ طبقات کا فنڈ ہر سال بڑھتا ہی رہتا ہے ، کم نہیں کیا جاتا ہے ۔
ادھر اقلیتی محکمہ کیلئے جو بجٹ اعلان شدہ ہوتا ہے ، اس کی دستیابی میں غیر معمولی تاخیر
کی جاتی ہے ، اس لئے اقلیتی بجٹ کا ایک بڑا حصہ بغیر خرچ کئے ، 
سرکاری خزانے میں لوٹا دیا جاتا ہے ۔
ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ اس پر کبھی قوم نے ، قوم کے دانشوروں نے ، قوم 
کے قائدین و نمائیندوں نے اور قومی میڈیا نے سنجیدگی سے توجہ نہیں دی ہے !!
یہ بات کافی الم ناک ہے کہ ہماری توجہ بنیادی باتوں پر نہیں ہے ، جن میں سے ایک بہت 
ہی اہم ہے : بجٹ ؛
اگر ہم بجٹ میں اقلیتوں کی حصہ داری کے معاملے پر توجہ نہیں دیں گے ، تو ہماری ترقی کیلئے 
اہم ترین ضرورتیں : ( ۱) فائنانس ۔ فنڈ ( ۲) اسکیمیں یہ صرف کاغذی بن کر رہ جائیں گی ، 
اور سچر کمیٹی و دیگر کمیٹیوں کی رپورٹ کا مستقبل ردی کی ٹوکری ہوگا ۔
مستقبل میں کوئی سرکار سچر کمیٹی جیسی کوئی کمیٹی بنائے گی ؟ اس کی سفارشات کو عملی جامہ 
پہنائے گی ؟ ایسا تو دور دور تک نظر نہیں آتا ہے ۔ اسلئے بجٹ میں اقلیتوں کی حصہ داری کے موضوع 
پر سنجیدگی اختیار کرنا ، اور اس پر توجہ دینا ضروری ہے !!
______

🚩یاروں کے یار ڈاکٹر عمران امین
Imran Ameen 
🕊️دلی تاثرات :- احمد نعیم  
سچ تو یہ ہے کسی بھی شخصیت کی تعریف میں تفصیل سے خوبیاں لکھ دینا ، صفات بیان کردینا ، اتنا مشکل نہیں جتنا ایک شخصیت کو کام و عمل میں دکھا کر اس کی صفات ظاہر کر دینا۔
 سچے اور اچھے دوست بھی نعمتوں میں ایک نعمت ہیں عمران امین سچے اور دوستوں کے دوست یاروں کے یار ہیں جو شہر عزیز مالیگاؤں سے ہیں لیکن خوابوں کی نگری ممبئی میں کارپوریشن کی اسکول کے ساتھ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی اور یشونت راو چوہان یونیورسٹی میں درس و تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں. موصوف کا شمار ممبئی کارپوریشن کے سب سے زیادہ کوالیفائیڈ ٹیچر میں ہوتا ہے جو ہمارے لئے کسی اعزاز سے کم نہیں. شہر سے قلبی لگاؤ بےپناہ ہے اس لیے جب بھی چھٹیاں ملتی ہیں وہ شہر عزیز مالیگاؤں میں ہی چھٹیاں گزارتے ہیں اور ہر شب بھرپور شرکت سے دوست یاروں سے اپنی شب آباد رکھتے ہیں ان دنوں وہ تمام ہی دوستوں سے ملنے کا جتن خصوصی طور پر کرتے ہیں ادبی دوستوں میں افسانہ نگار و شاعروں سے خلوص سے ملتے ہیں یہی وجہ ہے کہ عمران امین کے دوستوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور ان کے چاہنے والوں کی کمی نہیں (آستین کے دشمن نظر نہیں آتے) اکثر رات مالیگاؤں شہر میں دوستوں کے درمیان گزرتی ہے اور بعد نماز فجر واک کے بعد وہ سونے جاتے ہیں اور پھر ممبئی پہنچ کر وہ اپنی بھاگ دوڑ کی روٹین میں شامل ہوجاتے ہیں لیکن شہر سے محبت کی مثال ایسی ہے کہ ہر دوست کو وہ وقت دیتے ہیں آنے کی اطلاع دیتے ہیں ملتے ہیں نہ اپنے کسی بات کا رعب اور نہ غرور ایسی شخصیت اس زمانے میں خال خال ہی ملتی ہے 

عمران امین سے جب بھی ملاقات ہوئی ایسا محسوس ہوا جیسے رم جھم بارش ہو رہی ہو یہ ان کے خلوص کا ایک جیتا جاگتا احساس ہے کیونکہ ان سے ملاقات میں مصنوعی پن نہیں لفظوں کی فضول خرچی نہیں بس خلوص ہی خلوص کا پیکر
عمران امین سر اگر زندگی میں کوئی افسانہ، کہانی نہ بھی لکھیں تو کوئی بات نہیں کیونکہ جو ادیب اپنے ادب میں رول ماڈل لکھتا ہے ویسی ہی زندگی عمران امین حقیقی لائف میں جیتے ہیں. عمران امین سر ایک ادیب کے طور پر نہیں بلکہ ایک دردمند انسان کے روپ میں ملتے ہیں جو بدرجہ اتم ان میں موجود ہے کسی گروپ بندی کا شکار نہیں کسی کی غیبت نہیں جو ہے منہ پر کہتے اور وہیں اس بات کو دفن کرکے نئے سرے سے رشتہ جوڑ لیتے ہیں یہ ہے وہ صفات جو ایک صحت مند معاشرہ اور ایک انسان میں ہونی چاہیے جو کہ سر میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے 
ممبئی کارپوریشن کے بیسٹ ٹیچر مئیر ایوارڈ یافتہ، اعلیٰ تعلیم یافتہ، خوش مزاج معلم . آپ نے مہاراشٹر کی درسی کتابوں میں دو تین سال تک مسلسل CONCEPT کی سینکڑوں فاش غلطیوں کی نشاندہی کر کے تنقید و تحقیق کے میدان میں اپنا ایک مقام بنایا. ایک معلم ہونے کے باوجود بھی آپ نے کبھی بزدلی کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ ببانگ دہل حق بات کہتے رہے اور اپنے مشن میں ڈٹے رہے. حالانکہ مسلسل انہیں دھمکیاں مل رہی تھیں. سوشل میڈیا پر انہوں نے کہا تھا کہ میں اردو کی بہتر خدمت باہر سے کرسکتا ہوں ادارے میں غلاموں کی طرح رہنا مجھے منظور نہیں. (اس تعلق سے ہمارا موقف یہ ہے کہ آپ کو کمیٹی میں شامل ہوکر اپنی خدمات انجام دینا چاہیے ) 
یونیورسٹی گرانٹ کمیشن کے نیٹ سیٹ اور دیگر مقابلہ جاتی امتحانات کے لیے بے حد کارآمد کتاب اردو انسائیکلوپیڈیا نا صرف بھارت بلکہ پڑوسی ملک میں بھی بہت مقبول ہوئی جس کا پانچ ایڈیشن ختم ہو چکا اور چھٹا ایڈیشن عن قریب منظر عام پر آ رہا ہے. 
آپ کی خدمات میں سے ایک اہم خدمت UGC NET کی مفت کوچنگ کلاس ہے جس سے فیض یاب ہو کر کئی اسٹوڈنٹ NET, SET اور JRF کوالیفائی کرچکے ہیں جن میں سے کچھ کالجوں میں لیکچرار بن گئے ہیں.
غالباً گروپ بندی کا شکار ہو کر ایسے قابل شخص کو دانستہ مہاراشٹر کے اس ادارے سے دور رکھا گیا ہے جہاں سے ریاست کے بچوں کا مستقبل طئے کرنے والی کتابیں شائع ہوتی ہیں جبکہ کئی نا اہل لوگ اس ادارے سے وابستہ ہیں میرے نزدیک یہ بھی شعور کی "موت" ہے.
معلوم ہوا کہ گزشتہ دنوں ان کی بتائی گئی اغلاط کو "بال بھارتی" نے درست کیا لیکن شکریہ تو درکنار اعتراف تک نہیں کیا گیا . جلد ہی ان اغلاط کی نشاندہی اور پھر نئے ایڈیشن میں اس کی اصلاح کو راقم تفصیل سے لکھ کر عوام کے سامنے تحریری شکل میں لائے گا تاکہ سند رہے ایسے باریک بین افراد ہمارے تعلیمی اداروں اور تعلیمی پالیسی کے لیے کتنے فائدہ مند ہیں لیکن ہماری اردو دنیا اور اردو سے شکم سیر ہونے والوں کی ہڈی میں وہ گودا نہیں کہ اپنے پیشے کو حلال کرسکیں اور ایسے افراد کا شکریہ ادا کرسکیں تاکہ قوم میں ایسے باریک بین زبان داں پیدا ہوتے رہیں راقم کی خواہش ہے کہ ان کی اس کاوش اور اغلاط کی نشاندہی اور بال بھارتی کی درستگی پہ عمران سر کے اعزاز میں ایک نشست رکھی جائے تاکہ ایسے افراد کی حوصلہ افزائی ہو یہ ہمارا سماجی و ادبی قرض ہے
_________

🔴ورن آنند لدھیانہ
            🎬 غزل 
چاند ستارے پھول پرندے شام سویرا ایک طرف 

ساری دنیا اس کا چربہ اس کا چہرا ایک طرف 

وہ لڑ کر بھی سو جائے تو اس کا ماتھا چوموں میں 

اس سے محبت ایک طرف ہے اس سے جھگڑا ایک طرف 

جس شے پر وہ انگلی رکھ دے اس کو وہ دلوانی ہے 

اس کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف 

ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابہ ہے 

سب کا کہنا ایک طرف ہے اس کا کہنا ایک طرف 

زخموں پر مرہم لگواؤ لیکن اس کے ہاتھوں سے 

چارہ سازی ایک طرف ہے اس کا چھونا ایک طرف 

اس نے ساری دنیا مانگی میں نے اس کو مانگا ہے 

اس کے سپنے ایک طرف ہیں میرا سپنا ایک طرف
____________

غزل
دن میں تارے دکھانے والے تھے
اس کے تیور نشانے والے تھے 

تم کہاں راستے پہ آ نکلے؟
تم تو نقشے بنانے والے تھے 

آپ جن مسخروں پہ ہنستے ہیں 
پہلے کرتب دکھانے والے تھے 

کچھ تو بس بھونکتے رہے ہم پر
اور کچھ کاٹ کھانے والے تھے 

ایسی بارش کو بھاڑ میں جھونکیں
آپ تو مسکرانے والے تھے 

علی زیرک

*🔴سیف نیوز اردو*





بنگلہ دیش میں پھر ہوگا تختہ پلٹ؟ آرمی چیف کو نظر آرہا یہ کیسا خطرہ، یونس سرکار کو دی وارننگ
: کیا بنگلہ دیش کے آرمی چیف جنرل وقار الزماں کو تختہ پلٹ کا ڈر ستا رہا ہے؟ ان کے الفاظ یہی اشارہ کررہے ہیں۔ دراصل انہوں نے کہا کہ میں ملک کی آزادی اور خودمختاری کے لئے ممکنہ خطرہ دیکھ سکتا ہوں۔ میری کوئی اور خواہش نہیں ہے لیکن میں ملک کو محفوظ ہاتھوں میں دیکھنا چاہتا ہوں۔ اس کے ساتھ انہوں نے کہا کہ میں نے پچھلے 7-8 مہینوں میں بہت کچھ برداشت کیا ہے۔ میں آپ کو پہلے سے خبردار کر رہا ہوں، تاکہ آپ کل یہ نہ کہیں کہ میں نے آپ کو نہیں بتایا ۔
آرمی چیف کا یونس حکومت کو کیسا اشارہ؟اعلیٰ انٹیلی جنس ذرائع نے CNN-News18 کو بتایا کہ جنرل وقار الزماں موجودہ صورتحال کا اشارہ دے رہے ہیں اور انہیں لگتا ہے کہ ملک کو بیرونی ہاتھوں سے ہیر پھیر کیا جارہا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ وہ سیاسی آقاؤں کو انتخابات کرانے کی ضرورت بتا رہے ہیں تاکہ وہ تیار رہیں۔ اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو فوج کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے سکتی ہے ۔

گزشتہ سال اگست میں شیخ حسینہ کو وزیراعظم کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ اس کے بعد ہندوستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔ شیخ حسینہ کے ہندوستان آنے کے بعد محمد یونس بنگلہ دیش میں برسراقتدار آگئے تھے۔ وہ اس وقت بنگلہ دیش کی حکومت کے چیف ایڈوائزر ہیں۔ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بھی بنگلہ دیشی حکومت پر واضح کر دیا ہے کہ ہندوستان کشیدگی کو کم کرنا چاہتا ہے۔ لیکن ہندوستان بنگلہ دیش کی مسلسل دشمنانہ بیان بازی کو برداشت نہیں کرے گا۔ پچھلے ہفتے جے شنکر نے اپنے بنگلہ دیشی ہم منصب سے ملاقات میں کہا تھا کہ بنگلہ دیش کو دہشت گردی کو نارمل نہیں بنانا چاہئے ۔






چیمپئنز ٹرافی میں بارش نے لگائی آگ، ایک جھٹکے میں بدل گیا سیمی فائنل کا مساوات، جانئے کس کو ہوا فائدہ؟

 : آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی سے میزبان پاکستان کے باہر ہونے کے بعد اب مزید دو ٹیموں کا کام بگڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے درمیان کھیلا جانے والا میچ بارش کے باعث منسوخ کرنا پڑا۔ بارش کی وجہ سے میچ نہیں ہونے کے سبب دونوں ٹیموں کے درمیان پوائنٹس تقسیم ہو گئے۔ بارش نے جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کے لئے ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل کی مساوات کو خراب کر دیا ہے، جس کی وجہ سے گروپ بی میں آگے کے میچز کے مزید دلچسپ ہونے کی امید بڑھ گئی ہے۔ اپنے پہلے میچ ہارنے والے انگلینڈ اور افغانستان کے لیے بھی سیمی فائنل کی دوڑ دلچسپ ہو گئی ہے۔

آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے درمیان 25 فروری کو راولپنڈی میں کھیلے جانے والے میچ کا سبھی کو انتظار تھا۔ گروپ بی کی ان دونوں ٹیموں کے درمیان میچ کو ٹورنامنٹ کا سب سے بڑا میچ بتایا جارہا تھا۔ تاہم بارش کے باعث اس میچ کو ٹاس کے بغیر منسوخ کرنا پڑا۔ جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا نے اپنے پہلے میچ جیتے تھے۔ یہ میچ جیتنے والی ٹیم سیمی فائنل میں اپنی جگہ تقریبا بنا لیتی۔انگلینڈ اور افغانستان کو فائدہ
گروپ بی کی دیگر دو ٹیموں کو جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کے درمیان میچ کی منسوخی کا براہ راست فائدہ ہوگا۔ انگلینڈ اور افغانستان اپنے پہلے میچ ہار چکے ہیں اور ان کے لیے آگے کا راستہ مشکل نظر آرہا ہے۔ اب جب کہ جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا میں ایک ایک پوائنٹ تقسیم ہوگیا ہے تو انگلینڈ اور افغانستان کی مشکلات بھی کم ہو گئی ہیں۔سیمی فائنل کی ریس ہوئی دلچسپ
آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے 1 جیت اور 1 منسوخ میچ سے کل 3 پوائنٹس ہیں۔ دونوں کو ابھی 1-1 میچ کھیلنا باقی ہے۔ اب انگلینڈ اور افغانستان کے درمیان میچ کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ جو بھی جیتے گا اس کے پاس آگے بڑھنے کا موقع ہوگا۔ اگر افغانستان آسٹریلیا کو شکست دیتا ہے اور جنوبی افریقہ انگلینڈ سے ہار جاتا ہے تو معاملہ پیچیدہ ہو جائے گا۔ سب کی نظریں انگلینڈ اور افغانستان کے درمیان ہونے والے میچ پر ہوں گی۔






کون ہیں ریما حسن؟ اسرائیلی زمین پر رکھنے ہی والی تھی قدم، تبھی نتین یاہو نے دیا ایک حکم اور...
تل ابیب : اسرائیل نے پیر کو فرانسیسی شامی فلسطینی سیاست دان ریما حسن کے اسرائیل میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب یوروپی یونین کی رکن پارلیمنٹ فلسطینی حکام سے ملاقات کے لیے اسرائیل پہنچنے والی تھیں۔ پھر انہیں بتایا گیا کہ ان کے اسرائیل میں داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے، اس لئے وہ واپس لوٹ جائیں اور اسرائیل نہ آئیں۔
اسرائیل کے وزیر داخلہ موشے اربل نے باضابطہ طور پر یہ پابندی عائد کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے نئے قانون کے تحت جو بھی حماس کی حمایت کرتا ہے یا اسرائیل پر 7 اکتوبر کے حملے کو نسل کشی نہیں سمجھتا ہے، اسے اسرائیل میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔ وزیر نے کہا کہ ریما حسن حماس کو مزاحمتی تحریک سمجھتی ہیں اور 7 اکتوبر کے قتل عام کو غلط نہیں سمجھتی ہیں۔ اس لیے ان پر اسرائیل میں داخلے پر پابندی ہےسالہ ریما حسن کو قانونی ماہر سمجھا جاتا ہے اور انہوں نے یوروپی پارلیمنٹ کی پہلی فرانسیسی فلسطینی رکن بن کر تاریخ رقم کردی تھی۔ ان کی جماعت بائیں بازو کی فرانس ان بویڈ کو 9.89 فیصد ووٹ ملے تھے۔ اس کے بعد ریما اس وقت سرخیوں میں آئی تھیں جب انہوں نے غزہ پر اسرائیل کے قبضے اور جنگ کی مذمت کی تھی۔ اپنے بیان میں انہوں نے حماس کو دہشت گرد تنظیم نہیں بلکہ ایک مزاحمتی تحریک بتایا، جس کی دنیا بھر میں بحث ہوئی تھا۔

*🔴سیف نیوز اردو*






*جمعہ سے قبل اســتقــبال رمـضــان پر خطاب*
*بتاریخ: 28 فروری 2025ء*

*بروز: جمعہ نماز جمعہ سے قبل*

*بمقام: مسجد حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ مالدہ شیوار مالیگاؤں* 

*مقرر خصوصی: حضرت مولانا افتخار سالک قاسمی صاحب دامت برکاتہم*
(خلیفہ و مجاز حضرت اقدس مولانا قمرالزمان صاحب الہ آبادی دامت برکاتہم)

*آئیے اللہ والوں سے سیکھیں کہ۔۔۔۔۔۔* 
*@ استقبال رمضان کیسے کیا جائے۔۔۔۔۔؟؟؟*

*@ رمضان المبارک کو کیسے گزاریں۔۔۔۔۔؟؟؟*

*@ رمضان المبارک میں حضور اکرم ﷺ کی تعلیمات اور طرز عمل کیا تھا۔۔۔۔؟؟؟*

*@ ہمارے اکابرین اور اللہ والے رمضان کیسے گزارتے تھے۔۔۔۔؟؟؟*

برادران اسلام سے درخواست ہے کہ کثیر تعداد میں شرکت فرمائیں۔

الداعیان: *ذمہ داران و مصلیان مسجد حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ مالدہ شیوار مالیگاؤں*








کیوں کہا جاتا ہے کہ پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا!!
تحریر: جاوید اختر بھارتی 
javedbharti.blogspot.com
بہت سے ایسے مواقع آتے ہیں کہ تقریر و تحریر میں کہا جاتا ہے کہ پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا ،، اس جملے میں جذبات بھی ہے ، للکار بھی ہے ، چیلنج بھی ہے ، یقین بھی ہے اور پختگی بھی ہے مگر یہ یاد رکھیں کہ یہ جملہ مخصوص موقع کے لئے ہے اور یہ جملہ کہتے ہوئے خود کہنے والا بھی محاسبہ کی زد میں ہوتا ہے ،، ماچس کی تیلی پھونکوں سے بجھ جاتی ، جلتی ہوئی موم بتی پھونکوں سے بجھ جاتی ہے مگر چھوٹے چولہوں میں مختصر لکڑیاں جب سلگتی ہیں تو پھونکوں سے بجھنے کے بجائے جلنے لگتی ہیں اور جلنے کے دوران پھونکوں سے بجھتی بھی نہیں ہیں پھونکوں سے غبارے پھلائے جاتے ہیں مگر پھونکوں سے ٹائر میں ہوا نہیں بھری جاسکتی آئیے پھر چلتے ہیں اس جانب جہاں سے ابتداء کی گئی ہے کہ پھونک سے آگ بجھتی بھی ہے اور بھڑکتی بھی ہے لیکن کبھی کبھی آگ اور دھوئیں سے ہٹ کر بھی جملہ استعمال کیا جاتاہے کہ پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا جبکہ چراغ پھونکوں سے بجھ جاتا ہے مگر اس کے باوجود بھی یہ کہنا کہ پھونکوں سے چراغ بجھایا نہ جائے گا یہی چیلنج ہے دراصل یہ ایک حقیقت کو ڈنکے کی چوٹ پر اجاگر کرنے کے لئے اور سچائی کو عام کرنے کے مقام پر استعمال کیا جاتاہے جیسے کوئی اپنے دائیں اور بائیں ، آگے اور پیچھے تھوک سکتاہے مگر چہرہ اوپر کرکے تھوکے اور چاہے کہ وہ تھوک اوپر ہی چلا جائے تو ناممکن ہے وہ اسی کے چہرے پر واپس آئے گا ،، ایک زمانہ تھا کہ مسلمانوں کی تعداد انتالیس تھی عمر بن خطاب کہتے تھے کہ اب چالیسواں مسلمان کوئی نہیں ہوگا قتل نبی کے ارادے سے عمر چلے مگر رحمۃ للعالمین کی دعا اور رب العالمین کی بارگاہ میں قبولیت نتیجہ یہ ہوا کہ چالیسویں مسلمان خود عمر بن خطاب ہوئے اور عمر سے حضرت عمر ہوگئے ،، کفار سمجھ رہے تھے کہ پھونکوں سے یہ چراغ بجھا دیا جائے گا ،، معرکہ بدر میں مسلمانوں کی تعداد 313 تھی کسی کے پاس تلوار تھی تو ڈھال نہیں ، کسی کے پاس ڈھال تھی تو تلوار نہیں ، کسی کے پاس دونوں تھی تو گھوڑا نہیں اور دوسری طرف کفار کا بھاری بھرکم لشکر تھا اس موقع پر بھی کفار کو بھروسہ تھا کہ دین اسلام کا چراغ تو بجھ ہی جائے گا مگر نبی پاک نے خود لشکر تشکیل دیا میدان جنگ میں قدم رکھا جنگ کے سارے اصول وضوابط مرتب کرنے کے بعد بارگاہ خداوندی میں مسلمانوں کی کامیابی کے لئے اور حق کی بلندی کے لئے اور اسلام کی فتح کے لئے دعائیں کی وہ حق و باطل کا پہلا معرکہ تھا اور اسلامی لشکر کی فتح ہوئی اسلام کا ڈنکا بجا اور ایسا ڈنکا بجا کہ آج تک بج رہا ہے اور قیامت تک بجے گا اور جب بھی کوئی بدبخت کوئی دشمن اسلام دین کو مٹانے کی بات کرے گا تو بے ساختہ ڈنکے کی چوٹ پر یہ جملہ کہا جائے گا کہ پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا ،، حضرت عمر قتل نبی کے ارادے سے چلے اور راستے میں بہن بہنوئی کی خبر ملی تو بہن کے گھر پہنچے اور وہاں سے جب بارگاہ نبی میں پہنچے تو خود اعلان کردیا کہ پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا ،، ہجرت کی شب ہے دشمنان اسلام کاشانہ نبی گھیرے ہوئے ہیں انہیں اس بات کا یقین تھا کہ جیسے ہی محمد گھر سے نکلیں گے تو کام تمام کردیا جائے گا نبی سید الکونین گھر سے نکلتے ہیں مٹی دشمنان اسلام پر پھینکتے ہیں ان کی آنکھوں کی بینائی نے کام کرنا بند کردیا نبی پاک کے دست مبارک سے پھینکی گئی مٹی نے اعلان کردیا کہ دین اسلام وہ روشن چراغ ہے کہ پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا ،، سراقہ نبی پاک کا پیچھا کرنے چلے تو حکم نبی پر عمل کرتے ہوئے زمین نے سراقہ کے گھوڑوں کے پاؤں اپنے اندر دھنسا کر اعلان کیا کہ پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا،،
طفیل طوسی کانوں میں روئی ڈال کر چلا کرتے تھے کہ خاتم الانبیاء کی بات کانوں میں نہ سنائی اور کوئی بھی شخص قرآن پڑھے تو وہ آواز بھی کانوں میں نہ جائے لیکن چھپ چھپ کر دیکھا بھی کرتے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیا پڑھتے ہیں اور کیا کرتے ہیں ایک دن اللہ کے رسول نماز پڑھا رہے تھے اور قرآن کی تلاوت فرمارہے تھے کہ طفیل طوسی کانوں سے روئی نکال کر اور دیواروں سے چپک کر سننے لگے اور نتیجہ یہ ہوا کہ دل کی کیفیت تبدیل ہونے لگی جیسے ہی نماز مکمل ہوئی وہ بارگاہ رسالت میں پہنچے کلمہ حق پڑھا مسلمان ہوگئے اور اعلان کردیا کہ پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا ،، ابو جہل کو بڑا گھمنڈ تھا کہ میری مٹھی میں کنکریاں ہیں محمد سے پوچھوں گا کہ نبی ہوتو بتاؤ میری مٹھی میں کیا ہے وہ بتا نہیں پائیں گے تو میں خوب مذاق اڑاؤں گا،، نبی پاک سے ابو جہل پوچھتا ہے کہ بتاؤ میری مٹھی میں کیا ہے تو نبی نے فرمایا کہ خود اپنی مٹھی سے پوچھ لے ابو جہل جب اپنی مٹھی کان تک لے گیا تو مٹھی سے کلمہ حق کی آواز آرہی تھی مارے غصے کے کنکریاں پھینک دی تو کنکریوں نے اعلان کرنا شروع کردیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دین سچا ہے ائے بدبخت ابو جہل محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ چراغ روشن کیا ہے کہ اب پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا ،، دو چھوٹے چھوٹے بچوں نے ابو جہل لعین کو زمین پر پچھاڑ دیا پھر قتل بھی کردیا گیا ان دو چھوٹے چھوٹے بچوں نے اعلان کردیا کہ پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا ، حضرت سمیہ کے ساتھ ابو جہل ظالم نے وہ ظلم کیا ہے کہ سن کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں شرم گاہ میں نیزہ مارا دونوں پاؤں کو دو جانوروں کے ساتھ باندھ کر دو سمت دوڑا دیا حضرت سمیہ کا جسم چر گیا لیکن اسلام پر قائم رہیں نبی کا کلمہ پڑھتی رہیں اور اعلان کرتی رہیں کہ ائے ظالموں پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا ،، جب قرآن کو ایک بادشاہ نے مخلوق کہا تو حضرت امام احمدبن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ مخلوق کو فنا ہونا ہے اور قرآن مخلوق نہیں ہے قرآن اللہ کا کلام ہے نتیجے میں بادشاہ نے امام احمدبن حنبل کو کوڑوں سے مروایا اور ہر کوڑے پر امام احمدبن حنبل یہی کہتے رہے کہ قرآن اللہ کی مخلوق نہیں ہے بلکہ قرآن اللہ کا کلام ہے اس طرح امام احمدبن حنبل نے بھی چیلنج کردیا کہ پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا ،، معلوم ہوا کہ جب بھی صداقت و حقانیت کو جھٹلانے کے لئے کوئی بدبخت میدان میں آئے گا تو کوئی نہ کوئی اس کا دندان شکن جواب دینے والا بھی ہوگا اور اسی کے درمیان و دوران یہ نعرہ بھی گونجے گا کہ پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا کیونکہ اس چراغ سے مراد دین اسلام ہے ، ضابطہ اسلام ہے ، احکامات و ہدایات اور تعلیمات اسلام ہے جو اللہ کا سب سے پسندیدہ دین ہے جس کو قائم رکھنے اور جس کا بول بالا کرنے کا وعدہ اللہ نے خود اپنے محبوب محسن انسانیت سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ہے ،، جس نے وعدہ کیا ہے وہ ذات رب العالمین کی ہے اور جس سے وعدہ کیا ہے وہ ذات رحمۃ للعالمین کی ہے اسی بنیاد پر دشمنان اسلام کو منہ کی کھانی پڑتی ہے۔ 
javedbharti508@gmail.com
+++++++++++++++++++++++++++++++
جاوید اختر بھارتی ( رکن مجلس شوریٰ جامعہ فیض العلوم) محمدآباد گوہنہ ضلع مئو یو پی







ربانی خطاطی مرکز میں عظمت اقبال سر کی آمد و طلبہ سے خطاب 
٢٢فروری ٢٠٢٥ء بروز اتوار کو ربانی خطاطی مرکز سردار پرائمری اسکول برانچ میں شرڈی اردو ہائی اسکول کے فعال معلم، گوگل اعزاز یافتہ، ادھوری تخلیق(افسانوی مجموعہ) کے مصنف، شامنامہ اخبار کے کالم نویس و بہترین انسان محترم عظمت اقبال صاحب نے نا صرف تشریف لائے بلکہ اپنے تاثرات کا بھی اظہار کیا آپ نے طلباء و طالبات کی خوشنویسی کی مشق کو دیکھتے ہوئے خوشی و مسرت کا اظہار کیا کہ موبائل و ٹیکنالوجی کے دور میں یہ طلبہ اپنا بیش قیمتی وقت صحیح مصرف میں صرف کرکے قابل و باصلاحیت بن رہے ہیں- آپ نے رضوان ربانی سر کی کوششوں کی بھی ستائش کی جو درس و تدریس میں منہمک رہتے ہونے مختلف جہتوں میں اپنی خدمات پیش کرتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں- اس موقعے پر ابرار بھائی کی حوصلہ افزائی بھی کی گئی جو اپنے بچوں سمیت کتابت سیکھنے کا عمل جاری رکھے ہوے ہیں -


*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑جھارکھنڈ پیپر لیک احتجاج: رانچی میں کئی طلباء کو حراست میں لیا گیا، مظاہرین کو روکنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال* ...