Wednesday, 26 February 2025

*🔴سیف نیوز اردو*






آٹھ اقسام کی چائے جو وزن تیزی سے کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں
وزن کم کرنے کے لیے جو چائے اچھی ہوتی ہیں اُن میں فائبر، پروٹین، صحت مند فیٹس بھرپور مقدار میں پائے جاتے ہیں جن سے میٹابولزم ٹھیک کام کرتا ہے، بھوک کم لگتی ہے اور ضرورت سے زیادہ کھانے سے پرہیز بھی کیا جا سکتا ہے۔
انڈین ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی نے ایسی ہی آٹھ اقسام کی چائے کے بارے میں بتایا ہے جنہیں پی کر وزن تیزی سے کم کیا جا سکتا ہے۔
آئیے جانتے ہیں وہ چائے کون سی ہیں۔سبز چائے
سبز چائے میں کیٹیچنز بھرپور مقدار میں پائے جاتے ہیں جو وزن کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں،۔ اِن آکسیڈںٹس کی وجہ سے فیٹ آکسیڈیشن بڑھتی ہے اور میٹابولک ریٹ بھی بڑھتا ہے جس سے جسم سے کیلوریز زیادہ جلدی ختم ہوتی ہیں۔
سبز چائے میں کیفین بھی پائی جاتی ہے جس سے جسم کو توانائی حاصل ہوتی ہے۔
اوولونگ ٹی
گرین اور بلیک ٹی کے امتزاج سے بنی اوولنگ ٹی میں پولی فینولز کی وجہ سے فیٹ آکسیڈنٹس بڑھانے اور میٹابولزم برقرار رکھنے کی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔
بلیک ٹی
بلیک ٹی میں تھیا فلیونز جیسے فلیوونائڈز پائے جاتے ہیں جو چربی کو پگھلاتے ہیں اور سوزش میں کمی لاتے ہیں۔ بلیک ٹی کو دودھ یا چینی کے بغیر پینے سے بلڈ شوگر برقرار رہتی ہے، بھوک کم لگتی ہے اور چربی پگھلتی ہے۔
وائٹ ٹی
وائٹ ٹی میں کیٹیچنز اور پولی فینولز کی بڑی مقدار پائی جاتی ہے جس سے جسم میں فیٹ سیلز نہیں بنتے، اس میں لیپوسس بھی پایا جاتا ہے جس سے جسم کی چربی پگھلتی ہے۔
پیپرمنٹ ٹی
پیپرمنٹ ٹی سے بھوک کم لگتی ہے اور ہاضمہ بہتر ہوتا ہے جس سے ضرورت سے زیادہ کھانے سے پرہیز حاصل ہوتا ہے۔ پیپرمنٹ میں قدرتی مینتھول سے ہاضمے کی نالی اچھی طرح کام کرتی ہے اور گیس کم ہوتی ہے۔ادرک کی چائے
ادرک کی چائے میں تھرموجینک خصوصیات پائی جاتی ہیں جن سے جسم کا درجہ حرارت بڑھتا ہے اور چربی پگھلتی ہے۔ اس سے بلڈ شوگر برقرار رہتی ہے اور بلاوجہ کی بھوک نہیں لگتی۔ ادرک سے ہاضمہ بہتر ہوتا ہے اور سوزش میں کمی آتی ہے۔
رُوئیبس ٹی
رُوئیبس ٹی کیفین فری ہربل چائے ہے جس میں اینٹی آکسیڈنٹس بھرپور مقدار میں پائے جاتے ہیں جن کی وجہ سے کورٹیزول جیسے سٹریس ہارمونز میں کمی ہوتی ہے۔ اگر کورٹیزول لیولز زیادہ ہوں تو جسم میں فیٹ یعنی چربی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔
میچا ٹی
میچا ٹی کو سبز چائے کے پتوں کے پاؤڈر سے تیار کیا جاتا ہے جس میں کیفین اور کیٹیچنز کی بڑی مقدار پائی جاتی ہے۔ اس سے میٹابولزم اچھی طرح بُوسٹ ہوتا ہے، فیٹ آکسیڈیشن بڑھتی ہے اور جسم کو فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ کیونکہ میچا ٹی میں گرین ٹی کی نسبت زیادہ اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں تو اس سے وزن بھی تیزی سے کم ہوتا ہے۔






تجھے کھو کر بھی تجھے پاؤں جہاں تک دیکھوں: احمد ندیم قاسمی - urdu poet Ahmad
حیدرآباد: احمد ندیم قاسمی (20 نومبر 1916ء تا 10 جولائی 2006ء) پاکستان کے ایک معروف ادیب، شاعر، افسانہ نگار، صحافی، مدیر اور کالم نگار تھے۔ انہوں نے افسانہ اور شاعری میں شہرت پائی۔ آپ کا شمار ترقی پسند تحریک سے وابستہ نمایاں مصنفین میں ہوتا تھا اور اسی وجہ سے دو مرتبہ گرفتار کیے گئے۔ قاسمی صاحب نے طویل عمر پائی اور لگ بھگ نوّے سال کی عمر میں انھوں نے پچاس سے زائد کتابیں تصنیف کیں۔

قاسمی صاحب کی شاعری کی ابتدا 1931ء میں ہوئی تھی جب مولانا محمد علی جوہر کے انتقال پر ان کی پہلی نظم روزنامہ سیاست لاہور کے سرورق پر شائع ہوئی اور یہ ان کے لیے بہت بڑا اعزاز تھا۔ یہی نہیں بعد میں بھی 1934ء اور 1937ء کے دوران ان کی متعدد نظمیں روزنامہ انقلاب لاہور اور زمیندار لاہور کے سرورق پر شائع ہوتی رہیں اور اس سے انھیں جوانی میں ہی غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی۔
آئیے آج کے شعر و ادب میں ان کی مشہور زمانہ غزل 'تجھے کھو کر بھی تجھے پاؤں جہاں تک دیکھوں' ملاحظہغزل
تجھے کھو کر بھی تجھے پاؤں جہاں تک دیکھوں

حسن یزداں سے تجھے حسن بتاں تک دیکھوں

تو نے یوں دیکھا ہے جیسے کبھی دیکھا ہی نہ تھا

میں تو دل میں ترے قدموں کے نشاں تک دیکھوں

صرف اس شوق میں پوچھی ہیں ہزاروں باتیں

میں ترا حسن ترے حسن بیاں تک دیکھوں

میرے ویرانۂ جاں میں تری یادوں کے طفیل

پھول کھلتے نظر آتے ہیں جہاں تک دیکھوں

وقت نے ذہن میں دھندلا دیئے تیرے خد و خال

یوں تو میں ٹوٹتے تاروں کا دھواں تک دیکھوں

دل گیا تھا تو یہ آنکھیں بھی کوئی لے جاتا

میں فقط ایک ہی تصویر کہاں تک دیکھوں

اک حقیقت سہی فردوس میں حوروں کا وجود

حسن انساں سے نمٹ لوں تو وہاں تک دیکھوں








سیارچے کا 2032 میں زمین سے ٹکرانے کا امکان صفر کے قریب
امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے انکشاف کیا ہے کہ اس سیارچے کے دسمبر 2032 میں زمین سے ٹکرانے کے امکانات 0.0017 فیصد ہوگئے ہیں۔ 

دوسری جانب یورپی خلائی ایجنسی نے بھی اسی طرح کے خطرے کا امکان 0.002 فیصد بتایا ہے۔

ناسا کے مطابق اس بات کا 99.9983 فیصد امکان ہے کہ سیارچہ سات سالوں میں زمین سے محفوظ طریقے سے گزرے گا جو کہ ٹکرانے کے 59,000 امکانات میں سے 1 امکان کے برابر ہے۔
اگرچہ نئے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ سیارچے کا چاند سے ٹکرانے کا 1.7 فیصد امکان ہے لیکن زمین کو اس طرح کے اثرات سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔

ایجنسی نے یہ بھی کہا کہ جب سیارچہ 2024 YR4 پہلی بار دریافت ہوا تھا، اس کے 2032 میں زمین سے ٹکرانے کا امکان قابل ذکر تھا۔

لیکن جیسے جیسے سیارچے کے مشاہدات پیش کیے جاتے رہے، ناسا کے ماہرین اس کی رفتار کے زیادہ درست نمونوں کا حساب لگانے میں کامیاب ہوئے اور اب انہوں نے محسوس کیا ہے کہ اس سیارچے کے ہمارے سیارے سے ٹکرانے کا کوئی خاص خطرہ نہیں ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...