Thursday, 26 February 2026

*🔴سیف نیوز اردو*




جموں کشمیر کانگریس کا ہند-امریکہ تجارتی معاہدے کے خلاف کاشتکاروں تک پہنچنے کا اعلان
جموں (عامر تانترے): جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی (جے کے پی سی سی) نے آج ہند-امریکہ تجارتی معاہدے پر سخت نوٹ لیتے ہوئے کہا کہ یہ جموں و کشمیر کے مفادات کے لیے بہت زیادہ نقصاندہ ہے۔

اس سلسلے میں جمعرات کو انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرز میں کانگریس کے قانون سازوں، سابق وزراء، سینئر لیڈروں، ضلعی صدور اور دیگر کی میٹنگ طلب کی گئی اور اس معاہدے سے جموں و کشمیر کے کاشتکاروں پر پڑنے والے اثرات پر تبادلہ خیال کیا۔

تجارتی معاہدے کے اثرات پر تفصیلی بحث کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر باغبانی والے علاقوں سے تعلق رکھنے والے پارٹی لیڈروں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انھوں نے اس بات کو محسوس کیا کہ اس تجارتی معاہدے کی وجہ سے کاشتکار تباہ ہو جائیں گے۔

میٹنگ کے بارے میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے پی سی سی کے صدر طارق حمید قرہ نے بتایا کہ اس معاہدے کے بعد فروری کو نئی دہلی میں کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے جموں و کشمیر سمیت سات ریاستوں کی میٹنگ بلائی، جس میں اس ڈیل کے اثرات کے اثرات پر روشنی ڈالی گئی۔

قرہ نے مزید کہا کہ، "اس معاہدے کے اثرات کے بارے میں لوگوں، خاص طور پر کاشتکاروں کو آگاہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ ایک تکنیکی چیز ہے جس کے بارے میں عام آدمی نہیں جانتا ہے لیکن کاشتکار اسے اچھی طرح جانتے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ، اس موضوع پر ہم نے یہاں ایک میٹنگ بلائی اور کئی لیڈروں نے اس کے بارے میں بات کی۔"

جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نے کہا کہ "ہم ہر ضلع کا دورہ کریں گے، جہاں مختلف قسمیں اگائی جاتی ہیں جیسے کہ چند ضلعوں میں سیب، کچھ میں اخروٹ، کچھ جگہوں پر زعفران، کچھ علاقوں میں باسمتی اور دیگر چیزیں۔ ہم زراعت، باغبانی اور ماہی پروری کے شعبوں کے کاشتکاروں سے ملنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں تاکہ وہ جان سکیں کہ انہیں کن مشکلات کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تمام معلوماتی ڈیٹا اکٹھا کرنے کے بعد کانگریس پارٹی بھی احتجاج کے موڈ میں آسکتی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کے اسرائیل کے دورے پر تبصرہ کرتے ہوئے، انہوں نے کہا، ہندوستان کی فلسطین حامی پالیسی ہے اور ہندوستان کی اس پالیسی کی چیمپئن سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی تھیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ، کانگریس اس پالیسی کو بدلنے نہیں دے گی اور اگر ایسا ہوتا ہے تو ہندوستان فلسطین کے ساتھ کھڑا رہے گا۔"

"بھارت کی فلپ فلاپ پالیسی ہر پہلو سے نقصان دہ رہی ہے۔ یہ فلپ فلاپ پالیسی صرف فلسطین اور جنوب مشرقی ایشیا تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ سارک کے ساتھ بھی ہے۔ انھوں نے کہا کہ، ہماری خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔

اسرائیل کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات پر جواب دیتے ہوئے، قرہ نے کہا، "ہم اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے بارے میں نہیں بلکہ انسانی حقوق اور ان مسائل پر بات کر رہے ہیں جن پر ہماری فلسطین حامی پالیسی کی بنیاد ہے، اور ان پیرامیٹرز پر جن پر اندرا گاندھی اور یاسر عرفات نے تعلقات کو آگے بڑھایا تھا۔"









سام سنگ گلیکسی ایس 26 سیریز: مکمل سپیکس، نئے فیچرز، پرائیویسی ڈسپلے اور قیمتیں
موبائل ورلڈ کانگریس 2026 سے چند دن پہلے سام سنگ نے نئی گلیکسی ایس 26 سیریز متعارف کرا دی ہے۔ ایک سال تک جاری رہنے والی لیکس اور افواہوں کے بعد گلیکسی ایس 26 پلس ایک بار پھر سامنے آیا ہے، جبکہ بظاہر گلیکسی ایس 26 ایج کے منصوبے کو فی الحال ترک کر دیا گیا ہے۔
ٹیکنالوجی ویب سائٹ جی ایس ایم ارینا کے مطابق حسبِ روایت سب سے زیادہ توجہ گلیکسی ایس 26 الٹرا کو مل رہی ہے۔ اس فون میں چند اپگریڈز ضرور دیے گئے ہیں، مگر واضح ہے کہ اس سال سام سنگ کی توجہ زیادہ ورسٹائل اور فیچر سے بھرپور اے آئی ایکو سسٹم بنانے پر رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی انقلابی ہارڈ ویئر اپگریڈ کی توقع نہ رکھیں۔ سام سنگ نے اس سال بنیادی فارمولہ تبدیل نہیں کیا بلکہ سافٹ ویئر اور اے آئی کے ذریعے اسے بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔ بہتری گلیکسی اے آئی، کارکردگی اور کیمرا آپٹیمائزیشن میں کی گئی ہے۔ اور اس سال کی ہائی لائٹ میں سام سنگ کی جانب سے متعارف کروایا جانے والا پرائویسی ڈسپلے ہے۔
گلیکسی ایس 26 الٹرا
گلیکسی ایس 26 الٹرا میں سنیپ ڈریگن 8 ایلیٹ جن 5 فار گلیکسی کے علاوہ کوئی بڑی ہارڈ ویئر تبدیلی نہیں ہے۔ فار گلیکسی کا مطلب زیادہ سی پی یو اور جی پی یو کلاک سپیڈز ہیں۔ کوالکوم اور سام سنگ نے مل کر سنیپ ڈریگن 8 ایلیٹ جین 5 کا ایک بہتر ورژن تیار کیا ہے جو سام سنگ کے لیے مخصوص ہے۔
دیگر نمایاں تبدیلیوں میں پہلے سے زیادہ باریک اور ہلکی باڈی، تیز وائرڈ چارجنگ، اور مین کیمرے اور 5 ایکس ٹیلی فوٹو کیمروں میں زیادہ وسیع اپرچر شامل ہیں تاکہ کم روشنی میں بہتر کارکردگی حاصل ہو سکے۔گلیکسی ایس 26 اور ایس 26 پلس
گلیکسی ایس 26 اور ایس 26 پلس مجموعی طور پر پچھلے سال جیسے ہی ہیں۔ بیس ایس 26 میں چند معمولی تبدیلیاں کی گئی ہیں جو آسانی سے نظر سے اوجھل ہو سکتی ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بار سام سنگ نے مکمل طور پر سنیپ ڈریگن پر انحصار نہیں کیا۔ شمالی امریکہ، چین اور جاپان کے علاوہ دیگر مارکیٹس میں یہ دونوں ماڈلز سام سنگ کے نئے فلیگ شپ ایگزینوس 2600 کے ساتھ دستیاب ہوں گے۔
ایگزینوس 2600 دو نینو میٹر ٹیکنالوجی پر تیار کیا گیا جدید چِپ سیٹ ہے جس کا فوکس اے آئی ٹاسکس کو تیز اور مؤثر بنانا ہے۔ اس میں جدید آرم سی پی یو کورز استعمال کیے گئے ہیں۔ روایتی بڑے، درمیانے اور چھوٹے کور کلسٹر کے بجائے چھوٹے کورز کو درمیانے درجے کے کورز میں اپگریڈ کیا گیا ہے تاکہ ہائی ایفیشنسی ٹاسکس بہتر انجام دیے جا سکیں۔
کمپنی کے مطابق سی پی یو کارکردگی میں 39 فیصد تک اضافہ، این پی یو میں 113 فیصد زیادہ اے آئی پرفارمنس، کم پاور کنزمپشن اور کم لیٹنسی حاصل ہوگی۔
ایکس کلپس 960 جی پی یو میں دو گنا کمپیوٹنگ پرفارمنس اور 50 فیصد بہتر رے ٹریسنگ کی صلاحیت بتائی گئی ہے۔
اے آئی بیسڈ ویژول پرسیپشن سسٹم (وی پی ایس) آئی ایس پی کو تصاویر اور ویڈیوز میں تفصیلات حتیٰ کہ پلک جھپکنا بھی پہچاننے اور انہیں حقیقی وقت میں پراسیس کرنے کی اجازت دیتا ہے جبکہ پاور کنزمپشن میں 50 فیصد تک کمی لاتا ہے۔ ڈیپ لرننگ ویڈیو نوائز ریڈکشن (ڈی وی این آر) کم روشنی میں ویڈیو کو بہتر بناتی ہے اور کم توانائی استعمال کرتی ہے۔
بیس ماڈل گلیکسی ایس 26
چِپ سیٹ کے علاوہ، بیس گلیکسی ایس 26 میں اس سال 6.3 انچ ڈسپلے (پہلے 6.2 انچ)، 4300 ملی ایمپیئر آور بیٹری، اور اہم طور پر 256 جی بی بیس سٹوریج دی گئی ہے۔ تاہم اس کی قیمت گلیکسی ایس 25 کے 256 جی بی ورژن سے زیادہ ہے۔
سام سنگ نے اس سال تینوں ڈیوائسز کے ڈیزائن اور رنگوں کو یکساں کر دیا ہے۔ اب گلیکسی ایس 26 بھی منی سائز ایس 26 الٹرا جیسا لگتا ہے، جبکہ الٹرا کے کونے پچھلے سال سے زیادہ گول ہو گئے ہیں۔
گلیکسی ایس 26 الٹرا کے فیچرزڈیزائن کے لحاظ سے گلیکسی ایس 26 الٹرا، ایس 25 الٹرا سے بہت مختلف نہیں۔ فلیٹ فرنٹ اور بیک گلاس پینلز، قدرے گول کونے اور فلیٹ میٹل فریم برقرار ہیں۔
البتہ کیمرا آئی لینڈ اب کچھ ابھرا ہوا ہے اور پچھلے سال کے ایس 25 ایج جیسا دکھائی دیتا ہے۔ سابقہ ڈیزائن زیادہ صاف ستھرا محسوس ہوتا تھا۔
فرنٹ پر کورننگ گوریلا آرمر 2 گلاس اور آرمر ایلومینیم 2 فریم استعمال کیا گیا ہے۔ پچھلے سال ٹائٹینیم فریم تھا، مگر سام سنگ کے مطابق ایلومینیم زیادہ لچکدار ہونے کی وجہ سے جھٹکوں کو بہتر جذب کرتا ہے، خاص طور پر باریک باڈی میں۔ ممکن ہے اس کا تعلق پتلے چیسیس سے ہو، یا اس حقیقت سے کہ آئی فونز بھی اب ٹائٹینیم استعمال نہیں کر رہے۔
فون آئی پی 68 سرٹیفکیشن کے ساتھ پانی اور گردوغبار سے محفوظ ہے، اگرچہ کچھ چینی ہائی اینڈ فونز آئی پی 69 بھی پیش کر رہے ہیں۔نئے ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر کے امتزاج سے سکرین پرائیویسی ڈسپلے موڈ میں جا سکتی ہے، جو سائیڈ اینگل سے نظر محدود کر دیتی ہے، تاکہ صرف سامنے سے دیکھنے والا ہی مواد دیکھ سکے۔رنگوں میں کوبالٹ وائیلٹ (مرکزی رنگ)، سکائی بلیو، بلیک اور وائٹ شامل ہیں۔ آن لائن خصوصی رنگوں میں سلور شیڈو اور پنک گولڈ بھی دستیاب ہیں۔
فون کی موٹائی 8.2 ملی میٹر سے کم ہو کر 7.9 ملی میٹر ہو گئی ہے۔ وزن صرف 4 گرام کم ہوا ہے، مگر باریکی واضح محسوس ہوتی ہے۔
اندرونی تبدیلیاں محدود ہیں۔ سنیپ ڈریگن 8 ایلیٹ جن 5 ایس او سی نمایاں اپگریڈ ہے۔ سپر فاسٹ چارجنگ 3.0 اب 60 واٹ کی ہے اور 30 منٹ میں 70 فیصد چارج کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
بیٹری اب بھی 5000 ملی ایمپیئر آور ہے، حالانکہ مارکیٹ میں سلیکن کاربن (ایس آئی/سی) بیٹریز کے ساتھ 7000 ملی ایمپیئر آور تک کی صلاحیت والے فونز دستیاب ہیں۔
گلیکسی ایس 26 اور ایس 26 پلس کے فیچرزتینوں ماڈلز کا ڈیزائن تقریباً ایک جیسا ہے۔ فلیٹ فرنٹ، فلیٹ سائیڈز اور آئی پی 68 پروٹیکشن برقرار ہے۔
ایس 26 اور ایس 26 پلس میں گوریلا گلاس وکٹَس 2 فرنٹ گلاس استعمال کیا گیا ہے، جبکہ الٹرا میں گوریلا آرمر 2 ہے۔
ایس 26 قدرے چوڑا ہے مگر عملی طور پر فرق محسوس نہیں ہوتا۔ وزن میں اضافہ بیٹری بڑھنے کی وجہ سے ہے، جو اب 4300 ملی ایمپیئر آور ہے۔
ان ماڈلز کی بیس سٹوریج 256 جی بی کر دی گئی ہے۔
ایس 26 پلس کو اس سال تقریباً کوئی اپگریڈ نہیں ملا۔ وہی ڈسپلے، وہی بیٹری، وہی چارجنگ، وہی کیمرا۔ چوتھے سال بھی کیمرا ہارڈ ویئر تبدیل نہیں ہوا، اور الٹرا وائیڈ میں اب بھی آٹو فوکس موجود نہیں۔
ون یو آئی 8.5 اور بہتر گلیکسی اے آئی
ون یو آئی 8.5 اینڈرائیڈ 16 پر مبنی ہے۔ انٹرفیس میں بڑی تبدیلی نہیں، مگر موجودہ اے آئی فیچرز بہتر کیے گئے ہیں۔
نئے اے پی میں پرو سکیلر اور ایم ڈی این آئی ای شامل ہیں۔ پرو سکیلر تصاویر اور متن میں شارپنس اور کانٹراسٹ بہتر کرتا ہے، جبکہ ایم ڈی این آئی ای کلر گریڈینٹس کو ہموار بناتا ہے۔
پرائیویسی ڈسپلے صرف الٹرا میں دستیاب ہے۔ او ایل ای ڈی پینل نیرو اور وائیڈ پکسلز کو آن یا آف کر کے زاویہ محدود کرتا ہے۔ اسے مخصوص ایپس یا صرف نوٹیفکیشنز کے لیے بھی فعال کیا جا سکتا ہے۔
فوٹو اسسٹ اب نیچرل لینگویج کے ذریعے ایڈیٹنگ کی اجازت دیتا ہے۔ کری ایٹو سٹوڈیو سے ڈرائنگ اور سٹیکرز بنائے جا سکتے ہیں۔ گیلری میں ڈاکیومنٹ سکینر شامل ہے۔ سکرین شاٹ سرچ مواد کے مطابق تلاش ممکن بناتا ہے۔آڈیو ایریزر اب یوٹیوب، انسٹاگرام، نیٹ فلکس سمیت تھرڈ پارٹی ایپس میں بھی کام کرے گا۔ ناؤ نج کانٹیکسچوئل تجاویز دیتا ہے۔ ناؤ بریف مزید ذاتی معلومات فراہم کرتا ہے۔
سرکل ٹو سرچ بیک وقت متعدد اشیاء پہچان سکتا ہے۔
بکسبی کو زیادہ ذہین بنایا گیا ہے۔ پرپلیکسیٹی کے ساتھ گہرا انٹیگریشن شامل ہے، جسے ہیے پلیکس کہہ کر بلایا جا سکتا ہے۔ دونوں سسٹم ملٹی سٹیپ ورک فلو انجام دے سکتے ہیں۔
حساس فیچرز آن بورڈ اے آئی کمپیوٹنگ پر چلتے ہیں تاکہ ڈیٹا سام سنگ کے سرورز پر اپ لوڈ نہ ہو۔
کارکردگی
ایگزینوس 2600 (یورپی ورژن) اور سنیپ ڈریگن 8 ایلیٹ جن 5 فار گلیکسی (امریکی ورژن) کے ابتدائی بینچ مارک نتائج کے مطابق ایگزینوس سنگل کور میں کمزور مگر ملٹی کور میں تقریباً برابر ہے۔ سنیپ ڈریگن ورژن مجموعی طور پر بہتر کارکردگی دکھاتا ہے۔
کیمرا فیچرزایس 26 الٹرا میں 200 میگا پکسل مین کیمرا ایف 1.4 اپرچر کے ساتھ ہے (پہلے ایف 1.7 تھا)۔ 5 ایکس ٹیلی فوٹو اب ایف 2.9 ہے (پہلے ایف 3.4 تھا)۔ کمپنی کے مطابق مین کیمرا 47 فیصد اور ٹیلی فوٹو 37 فیصد زیادہ روشن نتائج دے گا۔
کم روشنی میں بہتر ویڈیو کے لیے امیج پراسیسنگ کو بہتر بنایا گیا ہے۔
سپر سٹیڈی ویڈیو میں 360 ڈگری سٹیبلائزیشن اور ہورائزن لاک شامل ہے۔ پہلی بار اے پی وی (ایڈوانسڈ پروفیشنل ویڈیو) سٹینڈرڈ شامل کیا گیا ہے، جو 8k ریزولوشن پر 30 فریم فی سیکنڈ تک لاس لیس کوالٹی فراہم کرتا ہے۔ ویڈیو براہ راست ایکسٹرنل سٹوریج پر ریکارڈ کی جا سکتی ہے۔
سیلفی کے لیے نیا آبجیکٹ اویئر انجن اور بہتر اے آئی آئی ایس پی شامل کیا گیا ہے۔
ایس 26 اور ایس 26 پلس میں چوتھے سال بھی وہی کیمرا ہارڈ ویئر برقرار ہے، صرف پراسیسنگ میں معمولی بہتری کی توقع کی جا سکتی ہے۔
پاکستان میں قیمتوں کا اعلان
گلیکسی ایس 26، گلیکسی ایس 26 پلس اور پریمیم گلیکسی ایس 26 کی عالمی سطح پر قیمتوں میں معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، اور اب پاکستان کے لیے بھی سرکاری قیمتیں جاری کر دی گئی ہیں جبکہ پری آرڈرز کا آغاز ہو چکا ہے۔










غذا میں فائبر کا زیادہ استعمال آپ کے معدے کو کیسے متاثر کر سکتا ہے؟
فائبر کو طویل عرصے سے نظامِ ہاضمہ سے متعلق کئی مسائل کا حل سمجھا جاتا رہا ہے۔ طبی ماہرین اور غذائی ماہرین اکثر ایک ہی مشورہ دہراتے رہے ہیں: ریشے دار غذا میں اضافہ کریں، زیادہ سبزیاں کھائیں اور فائبر کی مقدار بڑھائیں۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق فائبر کو آنتوں کی صحت بہتر بنانے، قبض سے بچاؤ اور ہاضمے میں مدد کے لیے مؤثر مانا جاتا ہے۔ تاہم غذائی ماہر راشی چودھری کا کہنا ہے کہ فائبر کی مقدار بڑھانا ہر صورت میں ہاضمے کے مسائل کا بہترین حل نہیں ہوتا۔
انسٹاگرام پر ایک حالیہ پوسٹ میں راشی چودھری نے نشاندہی کی کہ لوگ عموماً یہ اندازہ زیادہ لگا لیتے ہیں کہ انہیں صرف سلاد سے ہی کافی فائبر مل رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر کوئی شخص 30 گرام فائبر حاصل کرنا چاہے تو اسے 15 سے زیادہ پیالے سلاد کے کھانے ہوں گے۔اس کے برعکس، اتنی ہی مقدار میں فائبر صرف ایک ایووکاڈو، دو چائے کے چمچ السی کے بیج اور دو کھانے کے چمچ چیا سیڈز سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اگر روزانہ ایووکاڈو کھانا ممکن نہ ہو تو وہ ناشپاتی یا امرود کے ساتھ چنے کھانے کا مشورہ دیتی ہیں۔
زیادہ فائبر الٹا نقصان کیوں پہنچا سکتا ہے
راشی چودھری کا کہنا ہے کہ پروٹین کی طرح فائبر بھی ہر وقت فائدہ مند نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق یہ بات نئی نہیں ہے، مگر آنتوں سے متعلق یہ ’پرانا دانائی بھرا اصول‘ اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اپھارہ، گیس، قبض اور بھاری پن جیسے عام ہاضمے کے مسائل کے لیے برسوں سے زیادہ فائبر، سبزیاں اور ریشے دار غذا کو بنیادی علاج سمجھا جاتا رہا ہے۔
تاہم اس مشورے پر عمل کے باوجود بہت سے لوگ بدستور مسائل کا شکار رہتے ہیں۔ ان کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ معدہ مقدار سے نہیں بلکہ ترتیب سے صحت یاب ہوتا ہے۔ ان کے الفاظ میں ’معدہ حجم سے نہیں، ترتیب سے ٹھیک ہوتا ہے۔‘غذائی ماہر کے مطابق زیادہ مقدار میں ناقابلِ حل فائبر (انسولیوبل فائبر) بعض صورتوں میں نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایس آئی بی او (چھوٹی آنت میں بیکٹیریا کی زیادتی)، مستقل قبض، یا سست اور حساس نظامِ ہاضمہ کی صورت میں۔ یہ درد اور اپھارہ بڑھا سکتا ہے، آنتوں کی حرکت کو سست کر سکتا ہے، معدے میں خمیر بننے کے عمل میں اضافہ کر سکتا ہے اور ہاضمے میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے۔ اسی لیے آنتوں کی صحت بہتر بنانے کے لیے فائبر کی بڑی مقدار شامل کرنا پہلا قدم نہیں ہونا چاہیے۔

*🔴سیف نیوز اردو*




’تنازعے کی وجہ سے انسانیت کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے‘:وزیراعظم مودی نے غزہ امن منصوبہ کی حمایت کی نتین یاہو کے ساتھ پریس کانفرنس
وزیراعظم نریندر مودی نے جمعرات کو کہا کہ دنیا میں کسی بھی تنازعے کی وجہ سے انسانیت کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔ انہوں نے یہ بات Jerusalem میں اسرائیلی وزیراعظم Benjamin Netanyahu کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہی۔

غزہ کی موجودہ صورتحال پر بھارت کے مؤقف کو واضح کرتے ہوئے وزیراعظم مودی نے کہا کہ غزہ امن منصوبے کے ذریعے خطے میں امن کی ایک نئی راہ ہموار ہوئی ہے اور بھارت نے ہمیشہ ایسی کوششوں کی مکمل حمایت کی ہے۔وزیراعظم نریندر مودی نے کہا :
’’بھارت کا وژن بالکل واضح ہے کہ انسانیت کو کبھی بھی تنازعات کا شکار نہیں بننا چاہیے۔ غزہ امن منصوبے نے امن کی سمت ایک راستہ کھولا ہے اور بھارت نے اس طرح کی تمام کوششوں کی حمایت کی ہے۔ مستقبل میں بھی بھارت تمام ممالک کے ساتھ تعاون اور مکالمہ جاری رکھے گا۔‘‘

پریس کانفرنس کے دوران وزیراعظم مودی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بھارت اور اسرائیل دہشت گردی کے خلاف اپنے مؤقف میں مکمل طور پر متحد ہیں۔وزیراعظم نے کہا :
’’بھارت اور اسرائیل دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ دنیا میں دہشت گردی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ دہشت گردی کسی بھی شکل میں قابل قبول نہیں۔ ہم دہشت گردی اور اس کی حمایت کرنے والوں کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔‘‘

وزیراعظم مودی نے امریکہ کی قیادت میں جاری غزہ امن اقدام کی بھی حمایت کا اعادہ کیا۔ بدھ کے روز اسرائیلی پارلیمنٹ Knesset سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس منصوبے کو خطے میں ’’منصفانہ اور پائیدار امن‘‘ کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔

یہ 2014 میں وزارت عظمیٰ سنبھالنے کے بعد وزیراعظم مودی کا اسرائیل کا دوسرا دورہ ہے۔ اس سے قبل وہ 2017 میں اسرائیل گئے تھے، جبکہ اس کے اگلے سال وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھارت کا دورہ کیا تھا۔ بھارت اور اسرائیل کے درمیان اسٹریٹجک، دفاعی اور تکنیکی تعاون مسلسل مضبوط ہو رہا ہے، جبکہ غزہ کی صورتحال پر دونوں ممالک سفارتی رابطوں کے ذریعے امن کی کوششوں کو آگے بڑھانے پر زور دے رہے ہیں۔









دھمکیوں،پابندیوں اور جنگ کے خدشات کے بیچ جنیوا میں مذاکرات ، سفارت کاری کا امتحان!
مشرق وسطیٰ میں آنے والے دنوں میں کیا ہوگا یہ جنیوا میں ہونے والی بات چیت کے نتائج پر منحصر ہے ۔ جوہری مذاکرات کا تیسرا دور ہے۔ ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی بات چیت کے لیے جنیوا پہنچ چکے ہیں ۔ میڈیارپورٹس کے مطابق ،عباس عراقچی نے جنیوا میں اپنے عمانی ہم منصب بدر البوسیدی سے ملاقات کی۔عمان کی ثالثی میں بالواسطہ مذاکرات ہورہے ہیں ۔دوسری جانب امریکی ٹیم میں خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور امریکی نمائندہ جیرڈ کشنر شریک ہوں گے۔

دھمکیوں،پابندیوں اور ممکنہ فوج کشی کی تیاریوں کے درمیان ہورہی اس بات چیت پر دنیا بھر کی نگاہیں ٹکی ہیں ۔مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام، یورینیم افزودگی اور نگرانی کے نظام جیسے حساس معاملات زیر بحث آئیں گے۔بات چیت سے مثبت نتائج کی اُمید

جنیوا روانہ ہونے سے قبل عباس عراقچی نے کہا کہ منصفانہ، متوازن اور مساوی معاہدہ نگاہ میں ہے اور اس تک پہنچا جاسکتا ہے۔انھوں نے ایک بار پھردہرایا کہ ایران جوہری بم نہیں بنا چاہتا اور نہ ہی پُرامن مقاصد کے لیے نیوکلیئر ٹیکنالوجی سے دستبردارےہونے کو تیار ہے۔
امریکہ سفارت کاری کو ترجیح تو دے رہا ہے لیکن وہ ساتھ ہی ساتھ ممکنہ فوجی کارروائی کی تیاری میں مصروف ہے ۔یعنی امریکہ کے مطابق اگر مسئلہ بات چیت سے حل نہیں ہوتا ہے تو ا س پاس دیگر آپشنز موجودہیں ۔

ایران پرامریکہ کا الزام

امریکی صدر ٹرمپ نے کل یہ دعویٰ کیا تھا کہ ایران لمبی دوری تک مار کرنے والی میزائل بنا رہ ہے جوامریکہ تک پہنچ سکتی ہیں۔انھوں نے ایرانی میزائل کو یورپ اور امریکی اڈوں کے لیے خطر ہ بھی قراردیا تھا۔اس کے ساتھ ہی ساتھ ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ ایران جوہری پروگرام پردوبارہ کام کررہا ہے۔انہی خطوط پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی باتیں کررہے ہیں ۔انھوں نےایران پر جوہری پروگرام کو دوبارہ بنانے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا۔وینس نے متنبہ کیا کہ تہران کو واشنگٹن کی فوجی کارروائی کی دھمکیوں کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔امریکی نائب صدر کے مطابق،اصول بہت آسان ہے اور یہ کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہو سکتا۔ اگر وہ دوبارہ جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کرتا ہے تو یہ ہمارے لیے مسائل کا سبب ہوگا۔جے ڈی وینس نے ثبوت ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ، ہم نے ثبوت دیکھا ہے کہ انہوں نے ایسا کرنے کی کوشش کی ہے۔متضاد بیانات
ایران کے جوہری پروگرام اور جوہری انفراسٹرکچر کے حوالے سے تصویر واضح نہیں۔ گزشتہ سال امریکی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی جوہری تنصیبات کو ناکارہ بنادیا گیاہےلیکن بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو اس بات کی تصدیق کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے کہ فردو، نتانز اور اصفہان میں نشانہ بنائے گئے مقامات پر کیا کچھ باقی ہے۔جنیوا مذاکرات انتہائی اہم ہیں ۔بات چیت میں مثبت پیش رفت خطے پر منڈلاتے جنگ کے خطرےکوٹال سکتی ہے۔ایک طرح سے یہ سفارت کاری کا امتحان ہے۔









پی ٹی آئی لیڈران نے اب چیف جسٹس سے مانگا عمران خان کے لیے انصاف
اسلام آباد: پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کے لیے انصاف کی اپیل ملک کے چیف جسٹس سے کی گئی ہے۔ یہ مطالبہ جیل میں قید پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے لیڈران نے چیف جسٹس جسٹس یحییٰ آفریدی کو ایک خط لکھ کر کیا ہے، جس میں ان سے فوری مداخلت کی درخواست کی گئی ہے۔ مقامی میڈیا نے اس خبر کو رپورٹ کیا ہے۔ یہ پیش رفت اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں عمران خان کو آنکھ کا دوسرا انجیکشن لگنے کے ایک دن بعد سامنے آئی ہے۔جیو نیوز کے مطابق خط میں عمران خان کو طبی اور قانونی سہولیات کی فراہمی میں مبینہ رکاوٹوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور چیف جسٹس سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ علاج کے معاملے میں انصاف کو یقینی بنانے کے لیے کردار ادا کریں۔

وکیل شاہ محمود قریشی کے ذریعے جاری کیے گئے خط میں ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چودھری، عمر سرفراز چیمہ اور محمود الرشید نے ان مسائل کو اجاگر کیا ہے جن کا ذکر عمران خان کے اہلِ خانہ اور پارٹی کے دیگر لیڈران پہلے بھی کرتے رہے ہیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم کو ذاتی معالج تک رسائی کی اجازت نہیں دی جا رہی اور نہ ہی انہیں خاندان کے افراد اور قانونی مشیروں سے مناسب ملاقات کی سہولت دی جا رہی ہے۔

آنکھوں کی سنگین بیماری میں میں مبتلا ہیں عمران

اگست 2023 سے جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان آنکھوں کی ایک سنگین بیماری سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن (سی آر وی او) میں مبتلا ہیں۔ اس ماہ کے آغاز میں سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی ایک طبی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ان کی دائیں آنکھ کی تقریباً 85 فیصد بینائی متاثر ہو چکی ہے۔

خط میں نواز شریف کو ملی طبی سہولیات کا موازنہ

خط میں پی ٹی آئی لیڈران نے 2019 میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو فراہم کی گئی طبی سہولیات کا حوالہ دیتے ہوئے موازنہ بھی کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پلیٹ لیٹس کی کمی کے باعث نواز شریف کو لاہور کے سروسز اسپتال منتقل کیا گیا تھا اور حکومت نے ان کے مکمل طبی علاج کو یقینی بنایا تھا۔

نواز کو علاج کے لیے برطانیہ جانے کی ملی اجازت

لیڈران کے مطابق نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان میڈیکل بورڈ کے تمام اجلاسوں میں شریک ہوتے تھے جبکہ ان کے اہلِ خانہ اور قانونی مشیروں کو بھی مکمل ملاقات کی اجازت حاصل تھی۔ اس کے بعد انہیں دل کے علاج کے لیے برطانیہ جانے کی اجازت بھی دی گئی تھی۔

حکومت کا عمران کے معاملے میں ’پراسرار‘ رویہ

پی ٹی آئی لیڈران نے الزام عائد کیا کہ موجودہ حکومت نے عمران خان کی بیماری کے معاملے میں ’’پراسرار‘‘ رویہ اختیار کیا۔ ابتدا میں بیماری سے انکار کیا گیا اور بعد میں سی آر وی او کی تشخیص سامنے آنے پر بیان جاری کیا گیا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کے علاج سے متعلق بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں، ان کے طبی ماہرین تک رسائی محدود کی جا رہی ہے اور خاندان کے علاوہ نجی وکلا کو ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

لیڈران نے الزام لگایا کہ حکومت سیاسی کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے دانستہ طور پر رکاوٹیں پیدا کر رہی ہے اور عوامی مینڈیٹ کی کمی کے باعث سیاسی عدم استحکام سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے۔ خط کے اختتام پر چیف جسٹس سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ معاملے کا نوٹس لیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ عمران خان کو قانون کے مطابق اپنے ذاتی ڈاکٹروں، قانونی مشیروں اور اہلِ خانہ سے مناسب ملاقات کی مکمل سہولت فراہم کی جائے۔

Wednesday, 25 February 2026

*🔴سیف نیوز اردو*



اسرائیل کی پارلیمنٹ میں وزیراعظم مودی کا خطاب، کہا: ’ہندوستان اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے‘

PM Modi’s Israel Visit : وزیراعظم نریندر مودی اسرائیل کے دو روزہ دورے پر تل ابیب پہنچ چکے ہیں ۔ اپنے دورے کے دوران وزیر اعظم مودی نے اسرائیلی پارلیمنٹ Knesset میں خطاب کیا ۔ پی ایم مودی نے کہا کہ میں اسی دن پیدا ہوا تھا جب ہندوستان نے اسرائیل کو تسلیم کیا تھا۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ہندوستان پوری شدت کے ساتھ اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے حماس کے حملہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ معصوموں کا قتل کبھی جائز نہیں ہو سکتا۔

وزیراعظم مودی نے کہا کہ بھارت نے بھی دہشت گردی کا سامنا کیا ہے اور طویل عرصے سے کر رہا ہے۔ 26/11 میں کئی معصوم جانیں گئیں، جن میں کئی اسرائیلی بھی شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف ہماری پالیسی زیرو ٹالیرنس (Zero-Tolerance) ہے۔ انہوں نے ابراہم اکارڈ کی بھی تعریف کی اور کہا کہ ہندوستان امن کی کوششوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ امن کا راستہ آسان نہیں ہے، لیکن ہندوستان یہاں امن لانے کے لیے آپ کا ساتھ دے گا۔وزیر اعظم مودی نے کہا کہ “عالمی جنگ میں 4 ہزار ہندوستانی فوجیوں نے اسرائیل کے لیے جان دی۔” انہوں نے “ہائفہ کے ہیرو” میجر دلپت سنگھ کا بھی ذکر کیا، جنہوں نے پہلی عالمی جنگ (World War I) کے دوران اسرائیل کے لیے لڑائی لڑی۔اپنے خطاب میں وزیر اعظم مودی نے اعلان کیا کہ جلد ہی ہندوستان دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بننے والا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان دنیا کے کئی ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدے کر رہا ہے اور ہندوستان کی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔








جموں و کشمیر میں دہشت گردی کو بڑا جھٹکا : سات خطرناک دہشت گرد ہلاک، فوج کا دعویٰ
کشتواڑ کے پہاڑی علاقوں میں طویل آپریشن کے بعد بڑی کامیابی
فوج نے پیر کے روز کہا کہ اس نے Jammu and Kashmir میں دہشت گرد نیٹ ورک کو بڑا نقصان پہنچایا ہے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب سیکیورٹی فورسز نے ضلع کشتواڑ میں ایک انکاؤنٹر کے دوران پاکستان میں قائم دہشت گرد تنظیم Jaish-e-Mohammed کے تین دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، جن میں انتہائی مطلوب کمانڈر سیف اللہ بھی شامل تھا۔

فوج کے مطابق یہ کارروائی چترو (Chatroo) کے پاس پاسرکٹ علاقے میں ’’ٹراشی۔I‘‘ آپریشن کے دوران انجام دی گئی، جہاں دہشت گردوں کے قبضے سے دو اے کے-47 رائفلیں اور بڑی مقدار میں گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔
326 دن جاری رہنے والا ہائی آلٹیٹیوڈ مشترکہ آپریشن
White Knight Corps نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر جاری بیان میں کہا کہ کشتواڑ کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں 326 دن تک مسلسل مشترکہ آپریشن چلایا گیا۔ اس کارروائی میں Jammu and Kashmir Police اور Central Reserve Police Force نے بھی حصہ لیا۔

فوج کے مطابق دہشت گردوں کو شدید سردی، برفباری اور مشکل جغرافیائی حالات میں مسلسل ٹریک کیا گیا، جس کے نتیجے میں کئی بار فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان رابطہ ہوا اور بالآخر تمام سات دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ ان کارروائیوں میں جدید ٹیکنالوجی جیسے FPV ڈرونز، سیٹلائٹ تصاویر اور UAVs کا استعمال کیا گیا، جس سے دہشت گردوں کی نقل و حرکت پر مؤثر نگرانی ممکن ہو سکی۔

سیف اللہ : کئی حملوں کا ماسٹر مائنڈ
فوج کے مطابق ہلاک ہونے والا دہشت گرد کمانڈر سیف اللہ تقریباً پانچ سال قبل دراندازی کر کے جموں و کشمیر میں داخل ہوا تھا اور تب سے علاقے میں سرگرم تھا۔

اطلاعات کے مطابق وہ سیکیورٹی فورسز پر کئی مہلک حملوں میں ملوث تھا، جن میں جولائی 2024 کا وہ حملہ بھی شامل ہے جس میں چار فوجی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ سیف اللہ اس سے قبل متعدد انکاؤنٹرز میں فرار ہونے میں کامیاب رہا تھا۔اعلیٰ فوجی حکام کی جانب سے فورسز کو خراجِ تحسین
شمالی کمان کے کمانڈر Pratik Sharma نے وائٹ نائٹ کور کے اہلکاروں کی ’’تیز اور درست‘‘ کارروائی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی سیکیورٹی فورسز اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے درمیان مضبوط تال میل کا نتیجہ ہے۔

فوج کے مطابق رواں سال جموں خطے میں مختلف انکاؤنٹرز میں اب تک جیشِ محمد کے سات دہشت گرد مارے جا چکے ہیں، جن میں :

4 فروری کو ادھم پور کے رام نگر جنگلات میں دو دہشت گرد

23 جنوری کو کٹھوعہ کے پارہتار گاؤں میں ایک دہشت گرد

اور حالیہ کشتواڑ آپریشن میں تین دہشت گرد شامل ہیں۔










اب سرکاری دفاتر میں نماز ادا کرنا بھی جرم؟ نماز کی ویڈیو وائرل ہوتے ہی سیاسی بیانات میں شدت، معاملہ وزیراعلیٰ تک پہنچا
مہاراشٹر کے مالیگاؤں میں سرکاری دفتر کے اندر نماز ادا کرنا بھی شاید اب جرم بن گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق مالے گاؤں میونسپل کارپوریشن کے بجلی شعبے کے دفتر میں اجتماعی طور پر نماز ادا کرنے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس کے بعد سیاسی بیانات میں شدت آ گئی ہے۔دفتر میں نماز پڑھنے کا معاملہ

معلومات کے مطابق، متعلقہ وارڈ میں بجلی کی فراہمی متاثر ہونے کے باعث کئی افراد شکایت لے کر بجلی شعبے کے دفتر پہنچے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ شام تک بجلی بحال نہ ہونے پر ناراض لوگوں نے دفتر کے احاطے میں اثر کی نماز پڑھنا شروع کر دی۔ اس واقعے کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد معاملہ بڑھ گیا۔

حکومت میں وزیر نے اٹھائے سنگین سوالات

اس مسئلے پر مہاراشٹر حکومت میں وزیر اور بی جے پی لیڈر نتیش رانے نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن یا کسی بھی سرکاری دفتر میں نماز پڑھنے کا کوئی آئینی جواز نہیں ہے۔ ان کے مطابق، سرکاری ادارے عوام کی خدمت اور ترقیاتی کاموں کے لیے ہوتے ہیں، نہ کہ مذہبی سرگرمیوں کے لیے۔ رانے نے کہا کہ اگر کسی سرکاری دفتر میں مذہبی پروگرام منعقد ہوتے ہیں تو متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ رانے نے انتظامی نظم و ضبط پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے واقعات انتظامیہ کی سنجیدگی پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے مدارس کے حوالے سے بھی بیان دیا اور کہا کہ ریاست میں ان کی ضرورت اور کام کرنے کے طریقہ کار کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔

سی ایم فڈنویس کو شکایت نامہ

بی جے پی لیڈر کریت سومیا نے الزام لگایا کہ کچھ میونسپل ملازمین اور دیگر افراد نے کھلے عام بجلی شعبے کے دفتر میں نماز ادا کی۔ انہوں نے اس معاملے کی شکایت وزیراعلیٰ دیوینڈر فڈنویس سے کی۔ سومیا نے متعلقہ افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے اور ملازمین کو معطل کرنے کی درخواست کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کو خط بھی بھیجا ہے۔

*🔴سیف نیوز اردو*


ربانی فیمیلی کے چار درخشاں ستاروں کی شعبہ طب میں بلند پرواز 
گورنمنٹ کوٹے سے فری سیٹ پر ایڈمیشن 
الحمدللہ رب العالمین، شہر عزیز مالیگاؤں کے مشہور و معروف سماجی و علمی خانوادے مرحوم الحاج بقرعیدی سردار و الحاج ریاض الدین ربانی ماسٹر فیمیلی کے چار بچوں نے میڈیکل کی اعلیٰ تعلیم میں فری سیٹ حاصل کر کے ثابت کردیا کہ محنت اور جہد مسلسل ہی کامیابی کی کلید ہے- الحاج ریاض الدین ربانی ماسٹر کے پسرزادے ڈاکٹر راشد ربانی کے صاحبزادے ڈاکٹر محمد کاشف اور ان کی انکی اہلیہ ڈاکٹر لائبہ نے گذشتہ سال ایس ایم بی ٹی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس اینڈ ریسرچ سینٹر (دھامن گاؤں، اگت پوری) کالج سے ایم بی بی ایس میں نمایاں کامیابی حاصل کرکے مالیگاؤں سول ہاسپیٹل اور مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن ہیلتھ سینٹر میں خدمات پیش کرتے ہوئے اپنی اسٹڈی جاری رکھی، ڈاکٹر محمد کاشف ڈاکٹر راشد ربانی نے ایم-ڈی (مائیکرو بایولوجی) کے لئے گورنمنٹ کوٹے سے "فری سیٹ" پر ڈاکٹر وی ایم گورنمنٹ میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل، شولا پور، میں داخلہ حاصل کیا جبکہ ڈاکٹر لائبہ کاشف نے گورنمنٹ میڈیکل کالج، میرج (سانگلی) میں ایم-ڈی (پی ایس ایم) کی پوسٹ پر گورنمنٹ کوٹے سے"فری سیٹ" حاصل کی- اسی طرح الحاج ریاض الدین ربانی ماسٹر کے دوسرے صاحبزادے ایڈوکیٹ رفیق ربانی کی صاحبزادی درخشاں فردوس ایڈوکیٹ رفیق ربانی نے نیٹ میں نمایاں کامیابی حاصل کر کے گورنمنٹ کوٹے سے"فری سیٹ" پر ضلع دھولیہ کی اجمیرا میڈیکل کالج آف آیوروید میں بی اے ایم ایس میں داخلہ حاصل کیا- اسی طرح ربانی ماسٹر کے تیسرے صاحبزادے ریحان ربانی کی صاحبزادی ڈاکٹر عائشہ صدیقہ ریحان ربانی نے گذشتہ سال رائل کالج آف فیزیو تھراپی سے بیچلر میں نمایاں کامیابی حاصل کرکے پی جی کے لئے گورنمنٹ کوٹے سے"فری سیٹ" حاصل کرتے ہوئے اندو تائی گائیکواڑ پاٹل کالج آف فیزیو تھراپی، دھوٹی، ناگپور میں داخلہ حاصل کیا جبکہ دوسری صاحبزادی جویریہ ریحان ربانی بھی فری سیٹ پر احمد غریب یونانی میڈیکل کالج، اکل کنواں سے بی یو ایم ایس کر رہی ہے مزید برآں کہ محمد ناصر ڈاکٹر راشد ربانی و محمد مصدق رضوان ربانی ایم بی بی ایس، کر رہے ہیں ڈاکٹر محمد معظم ایڈوکیٹ رفیق ربانی "رفا ہیلتھ کیئر" میں اپنی خدمات دراز کیے ہوئے ہیں ان تمام کامیابیوں میں ربانی فیمیلی کی مرحومہ حجن رضیہ ربانی و ریاض الدین ربانی ماسٹر کی لافانی دعائیں شاملِ حال ہیں- ربانی فیمیلی کے لیے رضوان ربانی نے مزید دعاؤں کی درخواست کی ہے-












رمضان المبارک: روحانی تربیت، صدقہ و خیرات اور خود احتسابی کی تاکید
رمضان المبارک اسلامی سال کا سب سے بابرکت اور مقدس مہینہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ صرف روزہ رکھنے کا نام نہیں بلکہ روحانی تربیت، اخلاقی اصلاح اور سماجی ذمہ داریوں کو سمجھنے کا بہترین موقع ہے۔ اس مہینے میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کے معمولات کا جائزہ لیں اور خود کو بہتر انسان بنانے کی کوشش کریں۔

رمضان میں سب سے اہم عمل روزہ رکھنا ہے، جو انسان کو صبر، برداشت اور تقویٰ سکھاتا ہے۔ روزے کے ساتھ پانچ وقت کی نماز کی پابندی اور باجماعت نماز کا اہتمام خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ تراویح کی نماز بھی اسی مہینے کا خاص تحفہ ہے، جس میں قرآنِ مجید سننے اور سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ علما کے مطابق رمضان قرآن کا مہینہ ہے، اس لیے تلاوت کے ساتھ اس کے ترجمے اور مفہوم پر غور کرنا بھی ضروری ہے تاکہ اس کی تعلیمات عملی زندگی میں شامل کی جا سکیں۔اس مہینے میں صدقہ و خیرات کی بھی خاص تاکید کی گئی ہے۔ صاحبِ استطاعت افراد کو چاہیے کہ وہ مستحق خاندانوں کی مدد کریں، راشن تقسیم کریں اور افطار کا اہتمام کریں۔ اس سے نہ صرف ضرورت مندوں کی مدد ہوتی ہے بلکہ معاشرے میں ہمدردی اور بھائی چارہ بھی فروغ پاتا ہے۔ اسی طرح دعا اور استغفار کا اہتمام کرنا چاہیے، کیونکہ رمضان رحمت، مغفرت اور جہنم سے نجات کا مہینہ ہے۔

دوسری جانب کچھ امور ایسے ہیں جن سے رمضان میں خاص طور پر بچنے کی ضرورت ہے۔ جھوٹ، غیبت، چغلی، بدزبانی اور لڑائی جھگڑا روزے کی روح کے منافی ہیں۔ ماہرینِ دین کا کہنا ہے کہ اگر انسان برے اخلاق ترک نہیں کرتا تو صرف بھوکا پیاسا رہنا مقصدِ روزہ حاصل نہیں کرتا۔ اسی طرح سحری اور افطار میں اسراف سے گریز کرنا چاہیے اور سادگی کو اختیار کرنا چاہیے۔

جدید دور میں ایک اور اہم پہلو وقت کا درست استعمال ہے۔ سوشل میڈیا اور غیر ضروری مشاغل میں وقت ضائع کرنے کے بجائے عبادت، مطالعہ اور اہلِ خانہ کے ساتھ مثبت وقت گزارنا زیادہ فائدہ مند ہے۔رمضان خود احتسابی اور اصلاح کا مہینہ ہے۔ اگر اس مہینے میں ہم اپنی عادات سنوار لیں اور نیکی کو معمول بنا لیں تو یہی تبدیلی ہماری پوری زندگی پر مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔










"ہاں، میرے روس کی لڑکیوں کے ساتھ افیئر تھا ،" بل گیٹس نے آفس میٹنگ میں کیا اعتراف ، اسٹاف سے مانگی معافی
واشنگٹن: دنیا کے امیر ترین بزنس ٹائیکون بل گیٹس ’ایپسٹین فائلز‘ کی تازہ ترین بیچ میں بری طرح پھنس گئے تھے ۔ ان کو لے کر ایسے راز کھلے کہ سننے والے حیران رہ گئے۔ کئی چونکا دینے والے انکشافات کیے گئے، جن میں روسی خواتین کے ساتھ تعلقات، مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ دوستی اور پھر دشمنی، اور جنسی بیماری شامل ہیں۔ مائیکروسافٹ کے مالک بل گیٹس نے حال ہی میں ان تمام الزامات پر اپنی خاموشی توڑی ہے۔ انہوں نے اپنے ملازمین کے سامنے آفس میٹنگ میں اپنے جرائم کا اعتراف کیا اور سب سے معافی مانگی۔ گیٹس نے کھلے عام روسی خواتین کے ساتھ اپنے تعلقات کا اعتراف کیا۔

بل گیٹس نے ٹاؤن ہال میٹنگ میں اپنے جرم کا اعتراف کیابل گیٹس نے حال ہی میں ٹاؤن ہال میٹنگ کی اور اپنی فاؤنڈیشن کے ملازمین سے کھل کر بات کی، اپنی غلطیوں پر معافی مانگی۔ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق گیٹس نے ملاقات کے دوران اعتراف کیا کہ ان کے روسی خواتین کے ساتھ تعلقات تھے اور جیفری ایپسٹین کے ساتھ وقت گزارنا ان کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی۔

گیٹس نے دو روسی خواتین کے ساتھ تعلقات کا اعتراف کیا۔ ایک پل پلیئر تھا جس سے اس کی ملاقات ایک تقریب میں ہوئی تھی، اور دوسرا جوہری طبیعیات دان تھا جس سے وہ کام پر ملے تھے ۔ تاہم گیٹس کا کہنا ہے کہ یہ خواتین ایپسٹین کے چنگل کا شکار نہیں تھیں۔

گیٹس نے اعتراف کیا کہ ایپسٹین جیسے مجرم سے ملنا اور اسے اپنے فاؤنڈیشن کے عہدیداروں سے ملوانا ایک سنگین غلطی تھی۔ اس کے لیے انہوں نے ہاتھ جوڑ کر معافی بھی مانگی ہے۔

بیوی نے سمجھانے کی کوشش کی
جنسی اسمگلنگ کے سنگین الزامات کے تحت جیل میں انتقال کر جانے والے جیفری ایپسٹین کے ساتھ تعلق کی وجہ سے گیٹس کی شبیہہ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ بل گیٹس نے اعتراف کیا کہ ان کی سابقہ ​​بیوی میلنڈا کو 2013 کے اوائل میں ایپسٹین پر شک ہو گیا تھا۔ انہوں نے گیٹس کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن گیٹس نے اس وقت انہیں نظر انداز کر دیا۔

گیٹس نے اعتراف کیا کہ انہوں نے ایپسٹین کے ساتھ نجی جیٹ پر سفر کیا اور نیویارک، پیرس اور واشنگٹن میں ان سے ملاقات کی۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے کبھی بھی ایپسٹین کے بدنام زمانہ “پریسٹ آئی لینڈ” کا دورہ نہیں کیا۔ ایپسٹین نے گیٹس کو دنیا بھر کے ارب پتیوں سے اپنی فاؤنڈیشن کے لیے فنڈز دینے کا وعدہ کر کے لالچ دیا تھا۔ گیٹس نے کہا کہ وہاں موجود دیگر اہم شخصیات کو دیکھ کر انہیں لگتا ہے کہ سب کچھ “معمول” ہے۔

جیفری ایپسٹین کا 2019 میں جیل میں انتقال ہو گیا تھا، اس کے بعد سے اب تک کئی نامور عالمی رہنماؤں اور بزنس ٹائیکونز کے نام اس سے جوڑے جا چکے ہیں۔ بل گیٹس کا کہنا ہے کہ اس تنازع نے ان کی فاؤنڈیشن کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

*🔴سیف نیوز اردو*




وزیر اعظم نریندر مودی کا اسرائیل پہنچنے پر شاندار استقبال ۔ وزیراعظم کے اسرائیل دورے نے بھارت۔اسرائیل تعلقات کو نئی جہت دی
 وزیر اعظم نریندر مودی بدھ کے روز دو روزہ سرکاری دورے پر Israel پہنچے، جہاں Benjamin Netanyahu اور ان کی اہلیہ Sara Netanyahu نے Ben Gurion Airport پر ان کا پرتپاک اور شاندار سرکاری استقبال کیا۔

وزیر اعظم مودی تقریباً نو برس بعد اسرائیل کے دورے پر پہنچے ہیں۔ ان کا طیارہ Tel Aviv کے بن گوریون ایئرپورٹ پر اترا جہاں اسرائیلی فوج کے دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کو گلے لگا کر خیرمقدم کیا، جو دونوں ممالک کے درمیان مضبوط ہوتے تعلقات کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔اس دورے کو بھارت اور اسرائیل کے درمیان دفاعی، تکنیکی اور اسٹریٹجک تعاون کے مزید فروغ کے تناظر میں انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔

دفاع، مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی پر اہم مذاکرات
ذرائع کے مطابق وزیر اعظم مودی اپنے دورے کے دوران اسرائیلی قیادت کے ساتھ مصنوعی ذہانت (AI)، دفاعی ٹیکنالوجی، سائبر سکیورٹی، خلائی تحقیق، زرعی ٹیکنالوجی اور آبی انتظام جیسے اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات چیت کریں گے۔

اسرائیل اس وقت اپنی دفاعی برآمدات میں اضافہ کرنا چاہتا ہے جبکہ بھارت جدید دفاعی ٹیکنالوجی کے حصول پر خاص توجہ دے رہا ہے، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت مزید مضبوط ہونے کا امکان ہے۔

وزیر اعظم مودی شام کو اسرائیلی پارلیمنٹ Knesset سے خطاب کریں گے اور بعد میں ایک ٹیکنالوجی و انوویشن نمائش کا دورہ بھی کریں گے۔ اس کے بعد وزیر اعظم نیتن یاہو ان کے اعزاز میں خصوصی عشائیہ دیں گے۔

یاد واشیم میموریل کا دورہ اور تاریخی اہمیت
دورے کے دوسرے دن وزیر اعظم مودی Yad Vashem جائیں گے، جو ہولوکاسٹ میں قتل کیے گئے تقریباً ساٹھ لاکھ یہودیوں کی یاد میں قائم اسرائیل کی سرکاری یادگار ہے۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی اور انسانی ہمدردی کے تعلقات کو بھی اجاگر کرتا ہے۔بھارت۔اسرائیل تعلقات کا پس منظر
بھارت اور اسرائیل کے تعلقات گزشتہ ایک دہائی کے دوران نمایاں طور پر مضبوط ہوئے ہیں، خاص طور پر وزیر اعظم مودی کے دور حکومت میں دونوں ممالک کے درمیان دفاع، ٹیکنالوجی اور انوویشن کے شعبوں میں تیزی سے تعاون بڑھا ہے۔

سال 2017 میں وزیر اعظم مودی کا تاریخی اسرائیل دورہ اس حوالے سے ایک اہم سنگ میل سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ کسی بھی بھارتی وزیر اعظم کا اسرائیل کا پہلا دورہ تھا۔ اس کے بعد 2018 میں وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے نئی دہلی کا دورہ کیا جس سے اسٹریٹجک شراکت مزید مستحکم ہوئی۔

مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے درمیان دورے کی اہمیت
وزیر اعظم مودی کا یہ دورہ ایسے وقت ہو رہا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ خاص طور پر امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کی دھمکیوں کے باعث خطے میں غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے۔

تاہم بھارتی حکام کے مطابق یہ دورہ مکمل طور پر دوطرفہ تعاون پر مرکوز ہے اور اس کا مقصد بھارت اور اسرائیل کے درمیان اسٹریٹجک شراکت کو مزید وسعت دینا ہے۔









پھلوں پر چوہے مار دوا لگانے کے الزام میں مہاراشٹر میں دو پھل فروش منوج کمار اور بپن گرفتار، دکان سیل
مہاراشٹر کے ممبئی کے شمالی نواحی علاقے ملاڈ میں پھلوں کی فروخت سے متعلق ایک سنگین اور چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے۔ الزام ہے کہ ملزمین منوج کمار کیسروانی اور بپن کیسروانی پھلوں پر چوہے مار دوا لگا کر انہیں بازار میں فروخت کر رہے تھے۔ اس واقعے کی شکایت موصول ہونے کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کی اور فروخت کنندگان کی دکان سیل کر دی۔ پولیس نے ملزمین منوج کمار کیسروانی اور بپن کیسروانی کو حراست میں لے لیا ہے۔منوج کمار کیسروانی اور بپن کیسروانی پھلوں پر ریٹینول نامی دوا لگا رہے تھے

بتایا گیا ہے کہ فروخت کنندگان پھلوں پر ریٹینول نامی دوا لگا رہے تھے۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب مقامی شہری کنال سالنکے نے پولیس میں تحریری شکایت درج کرائی۔ شکایت میں کہا گیا کہ دو پھل فروش پھلوں کو چوہوں سے بچانے کے بہانے ان پر زہریلا مادہ لگا رہے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ یہ پورا واقعہ کیمروں میں بھی ریکارڈ ہوا، جسے ثبوت کے طور پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ ملاڈ پولیس اسٹیشن کی ٹیم نے شکایت کو سنجیدگی سے لیا اور فوری طور پر موقع پر پہنچ کر تحقیقات کیں۔ ابتدائی پوچھ گچھ میں ملزمان نے قبول کیا کہ وہ پھلوں کو چوہوں سے بچانے کے لیے ان پر چوہا مار دوا لگاتے تھے۔ پولیس افسران نے کہا کہ اس طرح کا کام نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ عوامی صحت کے لیے انتہائی خطرناک بھی ہے۔

افسران نے کیا کہا؟

بتایا گیا ہے کہ پولیس نے دو ملزمان کو گرفتار کیا ہے، جن کی شناخت منوج کمار کیسروانی اور بپن کیسروانی کے طور پر ہوئی ہے۔ دونوں کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 125، 274، 275 اور 286 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس نے ان کی دکان سیل کر دی ہے اور مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ افسران کا کہنا ہے کہ خوراک کے ساتھ اس قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور اگر تحقیقات میں مزید حقائق سامنے آتے ہیں تو متعلقہ محکموں کو کارروائی کے لیے مطلع کیا جائے گا۔ ایسے میں لوگوں میں اس بات کو لیکر بھی بے چینی دیکھی جا رہی ہے کہ رمضان المبارک جیسے مبارک مہینے میں روزے دار پھلوں کا غذا کے طور پر بڑے پیمانے پر استعمال کرتے ہیں، اب وہ کس طرح پھلوں کی تحقیق کریں؟












لوگ نئے سال پر ’ورزش کرنے کا عہد‘ جلدی کیوں بھول جاتے ہیں؟
ہر سال لاکھوں افراد نئے برس آغاز پر اپنے ساتھ کچھ عہد یا وعدے کرتے ہیں کہ وہ ان کو نبھانے کی کوشش کریں گے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق سال کا آدھ ماہ گزرنے کے بعد بہت کم لوگ خود کو ان وعدوں پر پابند رکھنے میں کامیاب ہو پاتے ہیں۔
سنہ 2024 کے پیو ریسرچ سینٹر کے سروے کے مطابق 28 فیصد لوگ ایسے ہیں جو اپنے ساتھ کیے وعدوں میں سے متعدد کو جنوری کے آخر تک برقرار نہیں رکھ پاتے جبکہ 13 فیصد تمام ’ریزولوشنز‘ کو پسِ پُشت ڈال دیتے ہیں۔
نئے سال کے لیے خود کے ساتھ کیے ان وعدوں میں سب سے زیادہ لوگوں نے صحت برقرار رکھنے کے لیے ورزش پر زور دیا ہوتا ہے۔ایسوسی ایٹڈ پریس کے نارک سینٹر فار پبلک افیئرز ریسرچ کے ایک سروے کے مطابق صحت سے متعلق سالانہ ریزولوشنز میں زیادہ ورزش کرنے کو معمول بنانے کی خواہش دیگر تمام پر حاوی ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ہر شخص جانتا ہے کہ صحت ہی سب کچھ ہے مگر اس کے باوجود زیادہ تر لوگ ورزش کے حوالے سے اپنے عزم کو برقرار نہیں رکھ پاتے۔
حال ہی میں ایک پوڈ کاسٹ میں سی این این کے چیف میڈیکل نمائندے ڈاکٹر سنجے گپتا نے ماہر نفسیات ڈیانا ہل سے پوچھا کہ ’لوگ اپنے جسم کو حرکت کیوں نہیں دیتے جبکہ وہ جانتے ہیں کہ ورزش ان کے لیے اچھی ہے؟‘
انہوں نے جواب میں بتایا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ یہ ہمارے لیے جسمانی طور پر اچھا ہے۔ اموات کی شرح کم ہو رہی ہے، کینسر کی شرح کم ہو رہی ہے۔ لیکن ہم میں سے صرف ایک چوتھائی حقیقت میں ایسا کر رہے ہیں۔‘
ڈیانا ہل کے مطابق ’جب ورزش شروع کرنے کی بات آتی ہے تو بہت سے لوگ نہ کرنے کی کافی وجوہات کے ساتھ سامنے آنے کے قابل ہوتے ہیں۔ ان میں ایک سب سے عام سی وجہ کہ ’میرے پاس کافی وقت نہیں ہے‘ یا پھر یہ کہ ’میں تو ویسے ہی سارا دن چلتا پھرتا رہتا ہوں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہمارے لیے اپنے جسم کو حرکت دینے میں بہت سی اندرونی رکاوٹیں ہیں، نفسیاتی رکاوٹیں ہیں۔‘
ڈیانا ہل کا کہنا تھا کہ ’موٹیویشن ایک مستقل چیز سے زیادہ ایک وقتی لہر ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’جس طرح جو لوگ ہمارا یہ پوڈ کاسٹ اس وقت سُن رہے ہیں وہ ورزش کی کلاس کے لیے سائن اَپ کر دیں گے لیکن جب کلاس شروع ہو جائے گی، تو بہت سے لوگوں کی موٹیویشن آغاز پر ہی ختم ہو چکی ہو گی۔‘
ماہرین نفسیات کے مطابق انسان اپنی عادات کو مشکل سے بدلتا ہے اور عموما ورزشن کرنے کے مناسب موسمی صورتحال کا اتنظار کرتا ہے مگر ایسا کبھی نہیں ہو پاتا۔

*🔴سیف نیوز اردو*



*کارپوریٹر حاجی کلیم دلاور نے ٹوٹے سلیپ کا کام مکمل کروا دیا*
   *قصاب باڑہ مسجد کے سامنے کافی دنوں سے سلیب ٹوٹا ہوا تھا، جس کی وجہ سے نمازیوں اور عام عوام کو آنے جانے میں سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ بزرگ افراد، خواتین اور بچوں کے لیے یہ مسئلہ خاص طور پر تکلیف دہ بن گیا تھا۔*
   *الحمدللہ! کارپوریٹر حاجی کلیم دلاور صاحب کی سرپرستی اور نعیم دلاور کی نگرانی میں اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے سلیب کی مرمت کا کام مکمل کروا دیا گیا۔ اب راستہ ہموار ہو چکا ہے اور عوام کو بڑی راحت نصیب ہوئی ہے۔*
*عوامی خدمت کا یہی جذبہ اصل قیادت کی پہچان ہوتا ہے۔*












خانقاہ رحمانیہ(مسجدہدایت الاسلام،مالیگاؤں) میں اعتکاف
Khanqah E Rahmaniya (Masjid Hidayatul Islam, Malegaon) Mein Etekaf

 _खान्क़ाह ए रहमानीया (मस्जिद हिदायतुल इस्लाम,मालेगाव) मे एतेकाफ

گزشتہ سالوں کی طرح امسال بھی خانقاہ رحمانیہ،مسجد ہدایت الاسلام بسم ﷲباغ میں رمضان المبارک کے آخری عشرے(دس دن) کا مسنون اعتکاف شیخ طریقت حضرت مولانامحمدعمرین محفوظ رحمانی صاحب کی نگرانی میں ہوگا ان شاءﷲ
لہٰذا جو احباب اعتکاف کرنا چاہتے ہوں وہ بعد نماز ظہر مولانا شکیل احمد صاحب(نائب امام مسجد ہدایت الاسلام،بسمﷲباغ) سے ملاقات کر کے اپنا نام لکھوادیں یا درج ذیل نمبرات پر رابطہ قائم فرمائیں۔

(1) محمدیوسف رحمانی 
9326288568                       
(2) مولوی حمیدالرحمان رحمانی
9226844484
3) مولانا ابوبکر رحمانی
 7030320073

 منجانب: متوسلین خانقاہ رحمانیہ،بسمﷲباغ،مالیگاؤں
                            ٭٭٭٭
 Khanqah E Rahmaniya (Masjid Hidayatul Islam, Malegaon) Mein Etekaf

Guzishta saalo ki tarah imsaal bhi khanqah Rahmaniya, Masjid Hidayatul Islam Bismillah baag me Ramzanul Mubarak ke Aakhri Ashre (10 din) ka masnoon Etekaf Shakhe Tareeqat Hazrat Maulana Muhammad Umrain Mahfooz Rahmani Sahab DB ki nigrani me honga Inshaallah.

Lehaza jo ahbab Etekaf karna chahte ho wo baad namaze zohar Maulana Shakeel Ahmad Sahab (Nayab Imaam Masjid Hidayatul Islam, Bismillah baag) se mulaqaat kar ke apna naam likhwa dein ya darja zel numbraat par raabta qayam farmaye.

1) Muhammad Yusuf Rahmani 9326288568
2) Maulana Hamidurrahman Rahmani 9226844484
3) Maulana Abubakar Rahmani 7030320073

                                ٭٭٭٭
 खान्क़ाह ए रहमानीया (मस्जिद हिदायतुल इस्लाम,मालेगाव) मे एतेकाफ

गुज़िश्ता सालों की तरह इम्साल भी खान्क़ाह ए रहमानीया, मस्जिद हिदायतुल इस्लाम बिस्मिल्लाह बाग में रमज़ानुल मुबारक़ की आखरी अशरे (१० दिन) का मसनून एतेकाफ शैखे तरीक़त हज़रत मौलाना मुहम्मद उम्रैन महफुज़ रहमानी साहब की नीगरानि में होगा इंशाअल्लाह

लेहाज़ा जो अह्बाब एतेकाफ करना चाहते हो वो बाद नमाज़े ज़ोहर मौलाना शकील अहमद साहब (नायब इमाम मस्जिद हिदायतुल इस्लाम, बिस्मिल्लाह बाग) से मुलाकात कर के अपना नाम लिखवा दें या दर्जा ज़ेल नंबरात पर राब्ता क़ायम फरमाए।

1) मुहम्म्द युसुफ रहमानी।9326288568
2) मौलवी हमिदुर्रहमान रहमानी। 9226844484
3) मौलाना अबूबकर रहमानी। 7030320073

 मिनजानिब:-मुतवस्सिलीन खानकाह ए रहमानिया, बिस्मिल्लाह बाग, मालेगाव।
                               ••••••••••••••••











سحری کے وقت کی روحانیت، ماہرینِ دین نے عبادت کی اہمیت اجاگر کی
رمضان المبارک میں سحری کا وقت روحانی طور پر نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔ ماہرینِ دین کے مطابق اس وقت اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت نازل ہوتی ہے اور دعائیں قبول ہونے کا خاص موقع ہوتا ہے۔ اسی لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ سحری کے وقت کو صرف کھانے پینے تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے عبادت اور ذکر و اذکار میں بھی گزاریں۔

سب سے پہلے سحری بروقت کرنا سنت ہے۔ حدیث مبارکہ کے مطابق سحری میں برکت ہے، اس لیے اسے چھوڑنا نہیں چاہیے۔ سحری میں ہلکی اور متوازن غذا استعمال کرنی چاہیے تاکہ دن بھر توانائی برقرار رہے اور عبادات میں سستی نہ ہو۔سحری کے وقت تہجد کی نماز ادا کرنا بہت فضیلت رکھتا ہے۔ اگر ممکن ہو تو چند رکعت نفل ادا کر کے اللہ سے گڑگڑا کر دعا مانگنی چاہیے۔ یہ وقت استغفار کا بھی بہترین موقع ہے، اس لیے کثرت سے استغفار پڑھنا چاہیے۔

قرآنِ پاک کی تلاوت بھی سحری کے وقت کرنا انتہائی مفید ہے۔ چند آیات ہی کیوں نہ ہوں، باقاعدگی سے تلاوت دل کو سکون اور روح کو تازگی دیتی ہے۔ اسی طرح درود شریف اور دیگر مسنون اذکار پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔

سحری کے وقت نیت کی تجدید بھی ضروری ہے۔ روزہ صرف بھوکا پیاسا رہنے کا نام نہیں بلکہ اللہ کی رضا کے لیے ہر برائی سے بچنے کا عہد ہے۔ اس لیے دل میں پختہ ارادہ کرنا چاہیے کہ آج کا دن صبر، حسنِ اخلاق اور نیکیوں کے ساتھ گزاریں گے۔سحری کا وقت صرف کھانے کا نہیں بلکہ عبادت، دعا اور خود احتسابی کا بہترین موقع ہے۔ جو لوگ اس وقت کو صحیح طریقے سے استعمال کرتے ہیں، وہ رمضان کی برکتوں سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں۔اسی لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ سحری کے وقت کو صرف کھانے پینے تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے عبادت اور ذکر و اذکار میں بھی گزاریں۔

Tuesday, 24 February 2026

*🔴سیف نیوز اردو*




مالیگاؤں کے ہیرے ناسک میں چمکے، نیم گاؤں میں شاندار استقبالیہ۔ الگ تحصیل کی کوشش کا اعادہ۔ 
مالیگاؤں/ گذشتہ دنوں ہوے عام چناوُ میں مالیگاؤں تعلقہ اور دابھاڑی کے سیاسی خانوادہ نے ناسک کارپوریشن کے چناوُ میں حصہ لیا۔ اور ڈاکٹر یوگیتا (بھابھی) اپورو ہیرے نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔ اس تعلق سے انہیں جہاں شہری استقبالیہ دیا جارہا ہے وہیں ہیرے خاندان کی جنم بھومی نیم گاؤں میں بھی انہیں اور نو منتخب صدر بلدیہ ساگر مدن ہیرے کو شہری استقبالیہ دیا گیا۔ اس تعلق سے منعقدہ تقریب میں تعلقہ کے نوجوان لیڈر ڈاکٹر ادوے پرشانت ہیرے نے کہا کہ نیم گاؤں ان کا آبای' گاؤں ہے اور اس کی ترقی کے لیے ہر ممکن کوشش کی جاے گی وہیں یہاں ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے عظیم الشان پتلے کی تنصیب اور تزئین کاری کی بات کہی۔ اس موقع پر نو منتخب ناسک کی کارپوریٹر ڈاکٹر یوگیتا (بھابھی) اپورو ہیرے نے عوامی استقبالیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہیرے خاندان کی بہو ہونے کے ناطے اس گھرانے کی تعلیمی، سیاسی اور سماجی ترقیاتی کاموں کو مذید آگے بڑھانے کی کوشش کرنے کی باتیں بتایء۔ وہیں۔نو منتخب صدر بلدیہ ساگر مدن ہیرے نے شہر کی ترقیاتی کاموں میں ہمیشہ موجود رہنے کا اعادہ کیا۔ سابق ٹیچرزMLC ڈاکٹر اپورو ہیرے نے نیم گاؤں میں علحیدہ تحصیل کے مطالبے پر کہا کہ اس شہر کی ترقی کے لیے مذید تعلیمی ادارے قائم کر کے یہاں ترقیاتی رجحان کو بڑھاوا دیا جائے گا۔۔ اپنی صدارتی تقریر میں تعلقہ کے لیڈر بنڈو کاکا بچھاو نے ہیرے خاندان کی ضلع بھر میں کی گئی تعلیمی، سیاسی اور سماجی ترقیاتی کاموں کو پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ سابق وزیر پشپا تایء ہیرے کے وقت سے ان کے ہر پروگرام میں تقریر کرنے کا شرف اور خدمات، کی تحریک انہیں سے ملنے کی بات بتایء۔ انہوں نے کرم ویر بھاوء صاحب ہیرے، لوک نیتے وینکٹ راو ہیرے، پشپا تایء ہیرے۔ ڈاکٹر پرشانت دادا ہیرے، اور ڈاکٹر اپورو ہیرے، کے سیاسی و تعلیمی خدمات کو اجاگر کرنے ہوےء شہریان کا شکریہ ادا کیا۔ اس پروگرام میں ڈاکٹر تشار شواڑے، نلیش کچوے، مدن گایکواڑ،پون ٹھاکرے،دیپک گایکواڑ،سندیپ پاٹل،سنجے نکم،اشوک اکھاڑے،منوج ہیرے، JD انا ہیرے وغیرہ موجود تھے۔پروگرام کی نظامت پروفیسر نروڑے سر نے کی۔











جس راستے سے آتا ہے ہندوستان کا تیل، پوتن نے وہاں سیکورٹی بڑھانے کیلئے کیوں کہا؟
ماسکو: روس اور یوکرین کی جنگ کو چار سال مکمل ہو چکے ہیں۔ اس تباہ کن جنگ میں دونوں ممالک کو شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اگرچہ امن مذاکرات کی باتیں ہو رہی ہیں، لیکن امن ابھی دور نظر آتا ہے۔ اسی دوران روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے اس جنگ کے حوالے سے بیان دیا ہے۔ انہوں نے حال ہی میں ٹی وی پر آ کر ایسی بات کہی جس سے عالمی منڈیوں میں ہلچل مچ گئی۔ پوتن نے اچانک اس سمندری راستے کی سیکورٹی بڑھانے کا حکم دیا ہے جہاں سے ہندوستان کے لیے تیل آتا ہے۔ آئیے جانتے ہیں اس بڑے فیصلے کے پیچھے کیا وجہ ہے؟

کیا ہے پوتن کی منصوبہ بندی؟پوتن نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بحیرہ اسود کے نیچے بچھائی گئی روس کی توانائی پائپ لائنوں اور ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے فوری طور پر حکم جاری کیا ہے کہ ان تمام اہم مقامات پر انسدادِ دہشت گردی سیکورٹی کو کئی گنا بڑھا دیا جائے اور اگر ضرورت پڑے تو اضافی حفاظتی آلات بھی نصب کیے جائیں۔

پوتن کو کس بات کا خدشہ ہے؟
پوتن کا اشارہ واضح طور پر یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کی جانب ہے۔ روس کو خدشہ ہے کہ جس طرح پہلے نارڈ اسٹریم پائپ لائن کو نقصان پہنچایا گیا تھا، ویسا ہی کچھ بحیرہ اسود میں بھی ہو سکتا ہے۔ اسی لیے پوتن نے نہ صرف پائپ لائنوں بلکہ عوامی مقامات اور ٹرانسپورٹ مراکز پر بھی زیادہ سے زیادہ سیکورٹی فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔ہندوستان پر کیا اثر ہوگا؟
بحیرہ اسود وہ علاقہ ہے جہاں سے ہندوستان آنے والا روسی تیل اور گیس گزرتے ہیں۔ روس اس وقت ہندوستان کو تیل فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ اگر ان پائپ لائنوں یا جہازوں کے راستوں پر کوئی حملہ ہوتا ہے تو ہندوستان کو تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کا براہِ راست اثر عوام پر پڑے گا، کیونکہ تیل کی کمی ہوتے ہی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ سکتی ہیں۔













ٹرمپ کے جنگی جہازوں کا چورن بنائے گا چین، ایران سے ہوگئی خفیہ ڈیل، امریکہ کے سر پر پھٹے گا 250KG بارود
تہران: ٹرمپ کے پاس دنیا کی سب سے طاقتور فوج ہے اور اسی غرور میں وہ بار بار ایران کو دھمکاتے رہتے ہیں۔ انہوں نے مان لیا ہے کہ ہتھیاروں کے معاملے میں ایران ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا، لیکن یہیں خامنہ ای نے انہیں مات دے دی ہے۔ حال ہی میں ایران نے چین کے ساتھ ایک خطرناک دفاعی معاہدہ طے کر لیا ہے، جس کے تحت امریکہ کے جنگی جہازوں سے نمٹنے کے لیے انتہائی مہلک سپر سونک اینٹی شپ میزائلوں کی کھیپ خریدی جائے گی۔ آئیے جانتے ہیں کہ خامنہ ای، شی جن پنگ سے کون سی میزائل خرید رہے ہیں اور یہ کتنی طاقتور ہیں؟

ایران اور چین کے درمیان کیا ڈیل ہوئی؟مشرق وسطیٰ میں اس وقت جنگ جیسے حالات ہیں۔ ایک طرف ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی ساحل کے قریب جنگی جہاز تعینات کر دیے ہیں، تو دوسری طرف ایران نے چین کے ساتھ مل کر ایک خفیہ معاہدہ فائنل کر لیا ہے جس نے پینٹاگون کی نیند اڑا دی ہے۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایران چین سے CM-302 نامی انتہائی خطرناک سپر سونک اینٹی شپ میزائل خریدنے جا رہا ہے۔

کیا امریکی جنگی جہاز تباہ ہو جائیں گے؟
یہ میزائل اتنی تیز رفتار ہیں کہ دشمن کے ریڈار انہیں پکڑ بھی نہیں پاتے۔ ان کی رینج تقریباً 290 کلومیٹر ہے اور یہ سمندر کی لہروں کے بالکل قریب انتہائی رفتار سے پرواز کرتی ہیں۔ اسرائیل کے ایک سابق انٹیلی جنس افسر کا کہنا ہے کہ اگر یہ میزائل ایران کے پاس آ گئیں تو اس علاقے میں موجود کسی بھی جہاز کو بچانا ناممکن ہو جائے گا۔ یہ میزائل براہ راست امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں کو ڈبونے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

کافی عرصے سے رکی ہوئی تھی اینٹی شپ میزائل ڈیل
بتایا جا رہا ہے کہ ایران اور چین کے درمیان یہ بات چیت گزشتہ دو سال سے جاری تھی، لیکن گزشتہ سال ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ کے بعد اس میں تیزی آ گئی۔ ایران کے نائب وزیر دفاع خود چین گئے تھے تاکہ اس معاہدے کو جلد از جلد مکمل کیا جا سکے۔ تاہم چین نے اب تک اس ڈیل پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ اگر یہ سودا مکمل ہو جاتا ہے تو دہائیوں بعد ایسا ہوگا کہ چین نے ایران کو اتنا جدید ہتھیار فراہم کیا ہوگا جو براہ راست امریکی گھیراؤ کو توڑ سکتا ہے۔

چین کی CM-302 میزائل کتنی خطرناک ہے؟
چین کی CM-302 میزائل کو سمندر کا ’غیر مرئی شکاری‘ کہا جاتا ہے۔ یہ چین کی اپنی مہلک ترین میزائل YJ-12 کا برآمدی ورژن ہے۔ اس کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ دنیا کے جدید ترین جنگی جہازوں اور ایئرکرافٹ کیریئرز کو بھی تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ آئیے جانتے ہیں اس کی خصوصیات:

سپر سونک رفتار
یہ میزائل آواز کی رفتار سے تین گنا زیادہ (Mach 3) رفتار سے پرواز کرتی ہے۔ اتنی تیز رفتاری کے باعث دشمن کے دفاعی نظام کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ جب تک ریڈار اسے پکڑتا ہے، یہ جہاز کے بالکل قریب پہنچ چکی ہوتی ہے۔

سمندر کی سطح کے قریب پرواز
CM-302 کی سب سے بڑی خاصیت اس کی ’سی اسکیمنگ‘ ٹیکنالوجی ہے۔ یہ میزائل پانی کی سطح سے صرف 10 سے 15 میٹر کی بلندی پر پرواز کرتی ہے۔ اس وجہ سے یہ دشمن کے ریڈار کی نظروں سے بچ جاتی ہے کیونکہ ریڈار اتنی کم بلندی پر آنے والی چیزوں کو آسانی سے نہیں دیکھ پاتے۔

ذہین میزائل
چین کا دعویٰ ہے کہ اس میزائل کی درستگی 90 فیصد سے بھی زیادہ ہے، یعنی اگر اسے داغا جائے تو 10 میں سے 9 بار یہ سیدھا ہدف پر لگے گی۔ اس میں جدید گائیڈڈ سسٹم نصب ہے جو اسے دورانِ پرواز بھی اپنا ہدف ایڈجسٹ کرنے میں مدد دیتا ہے۔

طاقتور دھماکہ
اس میں 250 کلوگرام وزنی وار ہیڈ نصب ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف ایک CM-302 میزائل 5,000 ٹن وزنی گائیڈڈ میزائل جنگی جہاز کو مکمل طور پر تباہ یا ناکارہ بنانے کے لیے کافی ہے۔’فائر اینڈ فارگیٹ‘ ٹیکنالوجی
اسے ایک بار لانچ کرنے کے بعد دوبارہ گائیڈ کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ یہ خود اپنا راستہ طے کرتی ہے۔ اسے زمین، بحری جہاز یا فائٹر جیٹ، کہیں سے بھی لانچ کیا جا سکتا ہے۔









*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑جھارکھنڈ پیپر لیک احتجاج: رانچی میں کئی طلباء کو حراست میں لیا گیا، مظاہرین کو روکنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال* ...