وزیر اعظم نریندر مودی کا اسرائیل پہنچنے پر شاندار استقبال ۔ وزیراعظم کے اسرائیل دورے نے بھارت۔اسرائیل تعلقات کو نئی جہت دی
وزیر اعظم نریندر مودی بدھ کے روز دو روزہ سرکاری دورے پر Israel پہنچے، جہاں Benjamin Netanyahu اور ان کی اہلیہ Sara Netanyahu نے Ben Gurion Airport پر ان کا پرتپاک اور شاندار سرکاری استقبال کیا۔
وزیر اعظم مودی تقریباً نو برس بعد اسرائیل کے دورے پر پہنچے ہیں۔ ان کا طیارہ Tel Aviv کے بن گوریون ایئرپورٹ پر اترا جہاں اسرائیلی فوج کے دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کو گلے لگا کر خیرمقدم کیا، جو دونوں ممالک کے درمیان مضبوط ہوتے تعلقات کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔اس دورے کو بھارت اور اسرائیل کے درمیان دفاعی، تکنیکی اور اسٹریٹجک تعاون کے مزید فروغ کے تناظر میں انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔
دفاع، مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی پر اہم مذاکرات
ذرائع کے مطابق وزیر اعظم مودی اپنے دورے کے دوران اسرائیلی قیادت کے ساتھ مصنوعی ذہانت (AI)، دفاعی ٹیکنالوجی، سائبر سکیورٹی، خلائی تحقیق، زرعی ٹیکنالوجی اور آبی انتظام جیسے اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات چیت کریں گے۔
اسرائیل اس وقت اپنی دفاعی برآمدات میں اضافہ کرنا چاہتا ہے جبکہ بھارت جدید دفاعی ٹیکنالوجی کے حصول پر خاص توجہ دے رہا ہے، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت مزید مضبوط ہونے کا امکان ہے۔
وزیر اعظم مودی شام کو اسرائیلی پارلیمنٹ Knesset سے خطاب کریں گے اور بعد میں ایک ٹیکنالوجی و انوویشن نمائش کا دورہ بھی کریں گے۔ اس کے بعد وزیر اعظم نیتن یاہو ان کے اعزاز میں خصوصی عشائیہ دیں گے۔
یاد واشیم میموریل کا دورہ اور تاریخی اہمیت
دورے کے دوسرے دن وزیر اعظم مودی Yad Vashem جائیں گے، جو ہولوکاسٹ میں قتل کیے گئے تقریباً ساٹھ لاکھ یہودیوں کی یاد میں قائم اسرائیل کی سرکاری یادگار ہے۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی اور انسانی ہمدردی کے تعلقات کو بھی اجاگر کرتا ہے۔بھارت۔اسرائیل تعلقات کا پس منظر
بھارت اور اسرائیل کے تعلقات گزشتہ ایک دہائی کے دوران نمایاں طور پر مضبوط ہوئے ہیں، خاص طور پر وزیر اعظم مودی کے دور حکومت میں دونوں ممالک کے درمیان دفاع، ٹیکنالوجی اور انوویشن کے شعبوں میں تیزی سے تعاون بڑھا ہے۔
سال 2017 میں وزیر اعظم مودی کا تاریخی اسرائیل دورہ اس حوالے سے ایک اہم سنگ میل سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ کسی بھی بھارتی وزیر اعظم کا اسرائیل کا پہلا دورہ تھا۔ اس کے بعد 2018 میں وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے نئی دہلی کا دورہ کیا جس سے اسٹریٹجک شراکت مزید مستحکم ہوئی۔
مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے درمیان دورے کی اہمیت
وزیر اعظم مودی کا یہ دورہ ایسے وقت ہو رہا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ خاص طور پر امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کی دھمکیوں کے باعث خطے میں غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے۔
تاہم بھارتی حکام کے مطابق یہ دورہ مکمل طور پر دوطرفہ تعاون پر مرکوز ہے اور اس کا مقصد بھارت اور اسرائیل کے درمیان اسٹریٹجک شراکت کو مزید وسعت دینا ہے۔
پھلوں پر چوہے مار دوا لگانے کے الزام میں مہاراشٹر میں دو پھل فروش منوج کمار اور بپن گرفتار، دکان سیل
مہاراشٹر کے ممبئی کے شمالی نواحی علاقے ملاڈ میں پھلوں کی فروخت سے متعلق ایک سنگین اور چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے۔ الزام ہے کہ ملزمین منوج کمار کیسروانی اور بپن کیسروانی پھلوں پر چوہے مار دوا لگا کر انہیں بازار میں فروخت کر رہے تھے۔ اس واقعے کی شکایت موصول ہونے کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کی اور فروخت کنندگان کی دکان سیل کر دی۔ پولیس نے ملزمین منوج کمار کیسروانی اور بپن کیسروانی کو حراست میں لے لیا ہے۔منوج کمار کیسروانی اور بپن کیسروانی پھلوں پر ریٹینول نامی دوا لگا رہے تھے
بتایا گیا ہے کہ فروخت کنندگان پھلوں پر ریٹینول نامی دوا لگا رہے تھے۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب مقامی شہری کنال سالنکے نے پولیس میں تحریری شکایت درج کرائی۔ شکایت میں کہا گیا کہ دو پھل فروش پھلوں کو چوہوں سے بچانے کے بہانے ان پر زہریلا مادہ لگا رہے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ یہ پورا واقعہ کیمروں میں بھی ریکارڈ ہوا، جسے ثبوت کے طور پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ ملاڈ پولیس اسٹیشن کی ٹیم نے شکایت کو سنجیدگی سے لیا اور فوری طور پر موقع پر پہنچ کر تحقیقات کیں۔ ابتدائی پوچھ گچھ میں ملزمان نے قبول کیا کہ وہ پھلوں کو چوہوں سے بچانے کے لیے ان پر چوہا مار دوا لگاتے تھے۔ پولیس افسران نے کہا کہ اس طرح کا کام نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ عوامی صحت کے لیے انتہائی خطرناک بھی ہے۔
افسران نے کیا کہا؟
بتایا گیا ہے کہ پولیس نے دو ملزمان کو گرفتار کیا ہے، جن کی شناخت منوج کمار کیسروانی اور بپن کیسروانی کے طور پر ہوئی ہے۔ دونوں کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 125، 274، 275 اور 286 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس نے ان کی دکان سیل کر دی ہے اور مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ افسران کا کہنا ہے کہ خوراک کے ساتھ اس قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور اگر تحقیقات میں مزید حقائق سامنے آتے ہیں تو متعلقہ محکموں کو کارروائی کے لیے مطلع کیا جائے گا۔ ایسے میں لوگوں میں اس بات کو لیکر بھی بے چینی دیکھی جا رہی ہے کہ رمضان المبارک جیسے مبارک مہینے میں روزے دار پھلوں کا غذا کے طور پر بڑے پیمانے پر استعمال کرتے ہیں، اب وہ کس طرح پھلوں کی تحقیق کریں؟
لوگ نئے سال پر ’ورزش کرنے کا عہد‘ جلدی کیوں بھول جاتے ہیں؟
ہر سال لاکھوں افراد نئے برس آغاز پر اپنے ساتھ کچھ عہد یا وعدے کرتے ہیں کہ وہ ان کو نبھانے کی کوشش کریں گے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق سال کا آدھ ماہ گزرنے کے بعد بہت کم لوگ خود کو ان وعدوں پر پابند رکھنے میں کامیاب ہو پاتے ہیں۔
سنہ 2024 کے پیو ریسرچ سینٹر کے سروے کے مطابق 28 فیصد لوگ ایسے ہیں جو اپنے ساتھ کیے وعدوں میں سے متعدد کو جنوری کے آخر تک برقرار نہیں رکھ پاتے جبکہ 13 فیصد تمام ’ریزولوشنز‘ کو پسِ پُشت ڈال دیتے ہیں۔
نئے سال کے لیے خود کے ساتھ کیے ان وعدوں میں سب سے زیادہ لوگوں نے صحت برقرار رکھنے کے لیے ورزش پر زور دیا ہوتا ہے۔ایسوسی ایٹڈ پریس کے نارک سینٹر فار پبلک افیئرز ریسرچ کے ایک سروے کے مطابق صحت سے متعلق سالانہ ریزولوشنز میں زیادہ ورزش کرنے کو معمول بنانے کی خواہش دیگر تمام پر حاوی ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ہر شخص جانتا ہے کہ صحت ہی سب کچھ ہے مگر اس کے باوجود زیادہ تر لوگ ورزش کے حوالے سے اپنے عزم کو برقرار نہیں رکھ پاتے۔
حال ہی میں ایک پوڈ کاسٹ میں سی این این کے چیف میڈیکل نمائندے ڈاکٹر سنجے گپتا نے ماہر نفسیات ڈیانا ہل سے پوچھا کہ ’لوگ اپنے جسم کو حرکت کیوں نہیں دیتے جبکہ وہ جانتے ہیں کہ ورزش ان کے لیے اچھی ہے؟‘
انہوں نے جواب میں بتایا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ یہ ہمارے لیے جسمانی طور پر اچھا ہے۔ اموات کی شرح کم ہو رہی ہے، کینسر کی شرح کم ہو رہی ہے۔ لیکن ہم میں سے صرف ایک چوتھائی حقیقت میں ایسا کر رہے ہیں۔‘
ڈیانا ہل کے مطابق ’جب ورزش شروع کرنے کی بات آتی ہے تو بہت سے لوگ نہ کرنے کی کافی وجوہات کے ساتھ سامنے آنے کے قابل ہوتے ہیں۔ ان میں ایک سب سے عام سی وجہ کہ ’میرے پاس کافی وقت نہیں ہے‘ یا پھر یہ کہ ’میں تو ویسے ہی سارا دن چلتا پھرتا رہتا ہوں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہمارے لیے اپنے جسم کو حرکت دینے میں بہت سی اندرونی رکاوٹیں ہیں، نفسیاتی رکاوٹیں ہیں۔‘
ڈیانا ہل کا کہنا تھا کہ ’موٹیویشن ایک مستقل چیز سے زیادہ ایک وقتی لہر ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’جس طرح جو لوگ ہمارا یہ پوڈ کاسٹ اس وقت سُن رہے ہیں وہ ورزش کی کلاس کے لیے سائن اَپ کر دیں گے لیکن جب کلاس شروع ہو جائے گی، تو بہت سے لوگوں کی موٹیویشن آغاز پر ہی ختم ہو چکی ہو گی۔‘
ماہرین نفسیات کے مطابق انسان اپنی عادات کو مشکل سے بدلتا ہے اور عموما ورزشن کرنے کے مناسب موسمی صورتحال کا اتنظار کرتا ہے مگر ایسا کبھی نہیں ہو پاتا۔