’تنازعے کی وجہ سے انسانیت کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے‘:وزیراعظم مودی نے غزہ امن منصوبہ کی حمایت کی نتین یاہو کے ساتھ پریس کانفرنس
وزیراعظم نریندر مودی نے جمعرات کو کہا کہ دنیا میں کسی بھی تنازعے کی وجہ سے انسانیت کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔ انہوں نے یہ بات Jerusalem میں اسرائیلی وزیراعظم Benjamin Netanyahu کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہی۔
غزہ کی موجودہ صورتحال پر بھارت کے مؤقف کو واضح کرتے ہوئے وزیراعظم مودی نے کہا کہ غزہ امن منصوبے کے ذریعے خطے میں امن کی ایک نئی راہ ہموار ہوئی ہے اور بھارت نے ہمیشہ ایسی کوششوں کی مکمل حمایت کی ہے۔وزیراعظم نریندر مودی نے کہا :
’’بھارت کا وژن بالکل واضح ہے کہ انسانیت کو کبھی بھی تنازعات کا شکار نہیں بننا چاہیے۔ غزہ امن منصوبے نے امن کی سمت ایک راستہ کھولا ہے اور بھارت نے اس طرح کی تمام کوششوں کی حمایت کی ہے۔ مستقبل میں بھی بھارت تمام ممالک کے ساتھ تعاون اور مکالمہ جاری رکھے گا۔‘‘
پریس کانفرنس کے دوران وزیراعظم مودی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بھارت اور اسرائیل دہشت گردی کے خلاف اپنے مؤقف میں مکمل طور پر متحد ہیں۔وزیراعظم نے کہا :
’’بھارت اور اسرائیل دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ دنیا میں دہشت گردی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ دہشت گردی کسی بھی شکل میں قابل قبول نہیں۔ ہم دہشت گردی اور اس کی حمایت کرنے والوں کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔‘‘
وزیراعظم مودی نے امریکہ کی قیادت میں جاری غزہ امن اقدام کی بھی حمایت کا اعادہ کیا۔ بدھ کے روز اسرائیلی پارلیمنٹ Knesset سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس منصوبے کو خطے میں ’’منصفانہ اور پائیدار امن‘‘ کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔
یہ 2014 میں وزارت عظمیٰ سنبھالنے کے بعد وزیراعظم مودی کا اسرائیل کا دوسرا دورہ ہے۔ اس سے قبل وہ 2017 میں اسرائیل گئے تھے، جبکہ اس کے اگلے سال وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھارت کا دورہ کیا تھا۔ بھارت اور اسرائیل کے درمیان اسٹریٹجک، دفاعی اور تکنیکی تعاون مسلسل مضبوط ہو رہا ہے، جبکہ غزہ کی صورتحال پر دونوں ممالک سفارتی رابطوں کے ذریعے امن کی کوششوں کو آگے بڑھانے پر زور دے رہے ہیں۔
دھمکیوں،پابندیوں اور جنگ کے خدشات کے بیچ جنیوا میں مذاکرات ، سفارت کاری کا امتحان!
مشرق وسطیٰ میں آنے والے دنوں میں کیا ہوگا یہ جنیوا میں ہونے والی بات چیت کے نتائج پر منحصر ہے ۔ جوہری مذاکرات کا تیسرا دور ہے۔ ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی بات چیت کے لیے جنیوا پہنچ چکے ہیں ۔ میڈیارپورٹس کے مطابق ،عباس عراقچی نے جنیوا میں اپنے عمانی ہم منصب بدر البوسیدی سے ملاقات کی۔عمان کی ثالثی میں بالواسطہ مذاکرات ہورہے ہیں ۔دوسری جانب امریکی ٹیم میں خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور امریکی نمائندہ جیرڈ کشنر شریک ہوں گے۔
دھمکیوں،پابندیوں اور ممکنہ فوج کشی کی تیاریوں کے درمیان ہورہی اس بات چیت پر دنیا بھر کی نگاہیں ٹکی ہیں ۔مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام، یورینیم افزودگی اور نگرانی کے نظام جیسے حساس معاملات زیر بحث آئیں گے۔بات چیت سے مثبت نتائج کی اُمید
جنیوا روانہ ہونے سے قبل عباس عراقچی نے کہا کہ منصفانہ، متوازن اور مساوی معاہدہ نگاہ میں ہے اور اس تک پہنچا جاسکتا ہے۔انھوں نے ایک بار پھردہرایا کہ ایران جوہری بم نہیں بنا چاہتا اور نہ ہی پُرامن مقاصد کے لیے نیوکلیئر ٹیکنالوجی سے دستبردارےہونے کو تیار ہے۔
امریکہ سفارت کاری کو ترجیح تو دے رہا ہے لیکن وہ ساتھ ہی ساتھ ممکنہ فوجی کارروائی کی تیاری میں مصروف ہے ۔یعنی امریکہ کے مطابق اگر مسئلہ بات چیت سے حل نہیں ہوتا ہے تو ا س پاس دیگر آپشنز موجودہیں ۔
ایران پرامریکہ کا الزام
امریکی صدر ٹرمپ نے کل یہ دعویٰ کیا تھا کہ ایران لمبی دوری تک مار کرنے والی میزائل بنا رہ ہے جوامریکہ تک پہنچ سکتی ہیں۔انھوں نے ایرانی میزائل کو یورپ اور امریکی اڈوں کے لیے خطر ہ بھی قراردیا تھا۔اس کے ساتھ ہی ساتھ ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ ایران جوہری پروگرام پردوبارہ کام کررہا ہے۔انہی خطوط پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی باتیں کررہے ہیں ۔انھوں نےایران پر جوہری پروگرام کو دوبارہ بنانے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا۔وینس نے متنبہ کیا کہ تہران کو واشنگٹن کی فوجی کارروائی کی دھمکیوں کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔امریکی نائب صدر کے مطابق،اصول بہت آسان ہے اور یہ کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہو سکتا۔ اگر وہ دوبارہ جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کرتا ہے تو یہ ہمارے لیے مسائل کا سبب ہوگا۔جے ڈی وینس نے ثبوت ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ، ہم نے ثبوت دیکھا ہے کہ انہوں نے ایسا کرنے کی کوشش کی ہے۔متضاد بیانات
ایران کے جوہری پروگرام اور جوہری انفراسٹرکچر کے حوالے سے تصویر واضح نہیں۔ گزشتہ سال امریکی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی جوہری تنصیبات کو ناکارہ بنادیا گیاہےلیکن بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو اس بات کی تصدیق کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے کہ فردو، نتانز اور اصفہان میں نشانہ بنائے گئے مقامات پر کیا کچھ باقی ہے۔جنیوا مذاکرات انتہائی اہم ہیں ۔بات چیت میں مثبت پیش رفت خطے پر منڈلاتے جنگ کے خطرےکوٹال سکتی ہے۔ایک طرح سے یہ سفارت کاری کا امتحان ہے۔
پی ٹی آئی لیڈران نے اب چیف جسٹس سے مانگا عمران خان کے لیے انصاف
اسلام آباد: پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کے لیے انصاف کی اپیل ملک کے چیف جسٹس سے کی گئی ہے۔ یہ مطالبہ جیل میں قید پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے لیڈران نے چیف جسٹس جسٹس یحییٰ آفریدی کو ایک خط لکھ کر کیا ہے، جس میں ان سے فوری مداخلت کی درخواست کی گئی ہے۔ مقامی میڈیا نے اس خبر کو رپورٹ کیا ہے۔ یہ پیش رفت اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں عمران خان کو آنکھ کا دوسرا انجیکشن لگنے کے ایک دن بعد سامنے آئی ہے۔جیو نیوز کے مطابق خط میں عمران خان کو طبی اور قانونی سہولیات کی فراہمی میں مبینہ رکاوٹوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور چیف جسٹس سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ علاج کے معاملے میں انصاف کو یقینی بنانے کے لیے کردار ادا کریں۔
وکیل شاہ محمود قریشی کے ذریعے جاری کیے گئے خط میں ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چودھری، عمر سرفراز چیمہ اور محمود الرشید نے ان مسائل کو اجاگر کیا ہے جن کا ذکر عمران خان کے اہلِ خانہ اور پارٹی کے دیگر لیڈران پہلے بھی کرتے رہے ہیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم کو ذاتی معالج تک رسائی کی اجازت نہیں دی جا رہی اور نہ ہی انہیں خاندان کے افراد اور قانونی مشیروں سے مناسب ملاقات کی سہولت دی جا رہی ہے۔
آنکھوں کی سنگین بیماری میں میں مبتلا ہیں عمران
اگست 2023 سے جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان آنکھوں کی ایک سنگین بیماری سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن (سی آر وی او) میں مبتلا ہیں۔ اس ماہ کے آغاز میں سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی ایک طبی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ان کی دائیں آنکھ کی تقریباً 85 فیصد بینائی متاثر ہو چکی ہے۔
خط میں نواز شریف کو ملی طبی سہولیات کا موازنہ
خط میں پی ٹی آئی لیڈران نے 2019 میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو فراہم کی گئی طبی سہولیات کا حوالہ دیتے ہوئے موازنہ بھی کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پلیٹ لیٹس کی کمی کے باعث نواز شریف کو لاہور کے سروسز اسپتال منتقل کیا گیا تھا اور حکومت نے ان کے مکمل طبی علاج کو یقینی بنایا تھا۔
نواز کو علاج کے لیے برطانیہ جانے کی ملی اجازت
لیڈران کے مطابق نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان میڈیکل بورڈ کے تمام اجلاسوں میں شریک ہوتے تھے جبکہ ان کے اہلِ خانہ اور قانونی مشیروں کو بھی مکمل ملاقات کی اجازت حاصل تھی۔ اس کے بعد انہیں دل کے علاج کے لیے برطانیہ جانے کی اجازت بھی دی گئی تھی۔
حکومت کا عمران کے معاملے میں ’پراسرار‘ رویہ
پی ٹی آئی لیڈران نے الزام عائد کیا کہ موجودہ حکومت نے عمران خان کی بیماری کے معاملے میں ’’پراسرار‘‘ رویہ اختیار کیا۔ ابتدا میں بیماری سے انکار کیا گیا اور بعد میں سی آر وی او کی تشخیص سامنے آنے پر بیان جاری کیا گیا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کے علاج سے متعلق بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں، ان کے طبی ماہرین تک رسائی محدود کی جا رہی ہے اور خاندان کے علاوہ نجی وکلا کو ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
لیڈران نے الزام لگایا کہ حکومت سیاسی کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے دانستہ طور پر رکاوٹیں پیدا کر رہی ہے اور عوامی مینڈیٹ کی کمی کے باعث سیاسی عدم استحکام سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے۔ خط کے اختتام پر چیف جسٹس سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ معاملے کا نوٹس لیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ عمران خان کو قانون کے مطابق اپنے ذاتی ڈاکٹروں، قانونی مشیروں اور اہلِ خانہ سے مناسب ملاقات کی مکمل سہولت فراہم کی جائے۔