Thursday, 26 February 2026

*🔴سیف نیوز اردو*




جموں کشمیر کانگریس کا ہند-امریکہ تجارتی معاہدے کے خلاف کاشتکاروں تک پہنچنے کا اعلان
جموں (عامر تانترے): جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی (جے کے پی سی سی) نے آج ہند-امریکہ تجارتی معاہدے پر سخت نوٹ لیتے ہوئے کہا کہ یہ جموں و کشمیر کے مفادات کے لیے بہت زیادہ نقصاندہ ہے۔

اس سلسلے میں جمعرات کو انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرز میں کانگریس کے قانون سازوں، سابق وزراء، سینئر لیڈروں، ضلعی صدور اور دیگر کی میٹنگ طلب کی گئی اور اس معاہدے سے جموں و کشمیر کے کاشتکاروں پر پڑنے والے اثرات پر تبادلہ خیال کیا۔

تجارتی معاہدے کے اثرات پر تفصیلی بحث کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر باغبانی والے علاقوں سے تعلق رکھنے والے پارٹی لیڈروں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انھوں نے اس بات کو محسوس کیا کہ اس تجارتی معاہدے کی وجہ سے کاشتکار تباہ ہو جائیں گے۔

میٹنگ کے بارے میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے پی سی سی کے صدر طارق حمید قرہ نے بتایا کہ اس معاہدے کے بعد فروری کو نئی دہلی میں کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے جموں و کشمیر سمیت سات ریاستوں کی میٹنگ بلائی، جس میں اس ڈیل کے اثرات کے اثرات پر روشنی ڈالی گئی۔

قرہ نے مزید کہا کہ، "اس معاہدے کے اثرات کے بارے میں لوگوں، خاص طور پر کاشتکاروں کو آگاہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ ایک تکنیکی چیز ہے جس کے بارے میں عام آدمی نہیں جانتا ہے لیکن کاشتکار اسے اچھی طرح جانتے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ، اس موضوع پر ہم نے یہاں ایک میٹنگ بلائی اور کئی لیڈروں نے اس کے بارے میں بات کی۔"

جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نے کہا کہ "ہم ہر ضلع کا دورہ کریں گے، جہاں مختلف قسمیں اگائی جاتی ہیں جیسے کہ چند ضلعوں میں سیب، کچھ میں اخروٹ، کچھ جگہوں پر زعفران، کچھ علاقوں میں باسمتی اور دیگر چیزیں۔ ہم زراعت، باغبانی اور ماہی پروری کے شعبوں کے کاشتکاروں سے ملنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں تاکہ وہ جان سکیں کہ انہیں کن مشکلات کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تمام معلوماتی ڈیٹا اکٹھا کرنے کے بعد کانگریس پارٹی بھی احتجاج کے موڈ میں آسکتی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کے اسرائیل کے دورے پر تبصرہ کرتے ہوئے، انہوں نے کہا، ہندوستان کی فلسطین حامی پالیسی ہے اور ہندوستان کی اس پالیسی کی چیمپئن سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی تھیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ، کانگریس اس پالیسی کو بدلنے نہیں دے گی اور اگر ایسا ہوتا ہے تو ہندوستان فلسطین کے ساتھ کھڑا رہے گا۔"

"بھارت کی فلپ فلاپ پالیسی ہر پہلو سے نقصان دہ رہی ہے۔ یہ فلپ فلاپ پالیسی صرف فلسطین اور جنوب مشرقی ایشیا تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ سارک کے ساتھ بھی ہے۔ انھوں نے کہا کہ، ہماری خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔

اسرائیل کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات پر جواب دیتے ہوئے، قرہ نے کہا، "ہم اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے بارے میں نہیں بلکہ انسانی حقوق اور ان مسائل پر بات کر رہے ہیں جن پر ہماری فلسطین حامی پالیسی کی بنیاد ہے، اور ان پیرامیٹرز پر جن پر اندرا گاندھی اور یاسر عرفات نے تعلقات کو آگے بڑھایا تھا۔"









سام سنگ گلیکسی ایس 26 سیریز: مکمل سپیکس، نئے فیچرز، پرائیویسی ڈسپلے اور قیمتیں
موبائل ورلڈ کانگریس 2026 سے چند دن پہلے سام سنگ نے نئی گلیکسی ایس 26 سیریز متعارف کرا دی ہے۔ ایک سال تک جاری رہنے والی لیکس اور افواہوں کے بعد گلیکسی ایس 26 پلس ایک بار پھر سامنے آیا ہے، جبکہ بظاہر گلیکسی ایس 26 ایج کے منصوبے کو فی الحال ترک کر دیا گیا ہے۔
ٹیکنالوجی ویب سائٹ جی ایس ایم ارینا کے مطابق حسبِ روایت سب سے زیادہ توجہ گلیکسی ایس 26 الٹرا کو مل رہی ہے۔ اس فون میں چند اپگریڈز ضرور دیے گئے ہیں، مگر واضح ہے کہ اس سال سام سنگ کی توجہ زیادہ ورسٹائل اور فیچر سے بھرپور اے آئی ایکو سسٹم بنانے پر رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی انقلابی ہارڈ ویئر اپگریڈ کی توقع نہ رکھیں۔ سام سنگ نے اس سال بنیادی فارمولہ تبدیل نہیں کیا بلکہ سافٹ ویئر اور اے آئی کے ذریعے اسے بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔ بہتری گلیکسی اے آئی، کارکردگی اور کیمرا آپٹیمائزیشن میں کی گئی ہے۔ اور اس سال کی ہائی لائٹ میں سام سنگ کی جانب سے متعارف کروایا جانے والا پرائویسی ڈسپلے ہے۔
گلیکسی ایس 26 الٹرا
گلیکسی ایس 26 الٹرا میں سنیپ ڈریگن 8 ایلیٹ جن 5 فار گلیکسی کے علاوہ کوئی بڑی ہارڈ ویئر تبدیلی نہیں ہے۔ فار گلیکسی کا مطلب زیادہ سی پی یو اور جی پی یو کلاک سپیڈز ہیں۔ کوالکوم اور سام سنگ نے مل کر سنیپ ڈریگن 8 ایلیٹ جین 5 کا ایک بہتر ورژن تیار کیا ہے جو سام سنگ کے لیے مخصوص ہے۔
دیگر نمایاں تبدیلیوں میں پہلے سے زیادہ باریک اور ہلکی باڈی، تیز وائرڈ چارجنگ، اور مین کیمرے اور 5 ایکس ٹیلی فوٹو کیمروں میں زیادہ وسیع اپرچر شامل ہیں تاکہ کم روشنی میں بہتر کارکردگی حاصل ہو سکے۔گلیکسی ایس 26 اور ایس 26 پلس
گلیکسی ایس 26 اور ایس 26 پلس مجموعی طور پر پچھلے سال جیسے ہی ہیں۔ بیس ایس 26 میں چند معمولی تبدیلیاں کی گئی ہیں جو آسانی سے نظر سے اوجھل ہو سکتی ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بار سام سنگ نے مکمل طور پر سنیپ ڈریگن پر انحصار نہیں کیا۔ شمالی امریکہ، چین اور جاپان کے علاوہ دیگر مارکیٹس میں یہ دونوں ماڈلز سام سنگ کے نئے فلیگ شپ ایگزینوس 2600 کے ساتھ دستیاب ہوں گے۔
ایگزینوس 2600 دو نینو میٹر ٹیکنالوجی پر تیار کیا گیا جدید چِپ سیٹ ہے جس کا فوکس اے آئی ٹاسکس کو تیز اور مؤثر بنانا ہے۔ اس میں جدید آرم سی پی یو کورز استعمال کیے گئے ہیں۔ روایتی بڑے، درمیانے اور چھوٹے کور کلسٹر کے بجائے چھوٹے کورز کو درمیانے درجے کے کورز میں اپگریڈ کیا گیا ہے تاکہ ہائی ایفیشنسی ٹاسکس بہتر انجام دیے جا سکیں۔
کمپنی کے مطابق سی پی یو کارکردگی میں 39 فیصد تک اضافہ، این پی یو میں 113 فیصد زیادہ اے آئی پرفارمنس، کم پاور کنزمپشن اور کم لیٹنسی حاصل ہوگی۔
ایکس کلپس 960 جی پی یو میں دو گنا کمپیوٹنگ پرفارمنس اور 50 فیصد بہتر رے ٹریسنگ کی صلاحیت بتائی گئی ہے۔
اے آئی بیسڈ ویژول پرسیپشن سسٹم (وی پی ایس) آئی ایس پی کو تصاویر اور ویڈیوز میں تفصیلات حتیٰ کہ پلک جھپکنا بھی پہچاننے اور انہیں حقیقی وقت میں پراسیس کرنے کی اجازت دیتا ہے جبکہ پاور کنزمپشن میں 50 فیصد تک کمی لاتا ہے۔ ڈیپ لرننگ ویڈیو نوائز ریڈکشن (ڈی وی این آر) کم روشنی میں ویڈیو کو بہتر بناتی ہے اور کم توانائی استعمال کرتی ہے۔
بیس ماڈل گلیکسی ایس 26
چِپ سیٹ کے علاوہ، بیس گلیکسی ایس 26 میں اس سال 6.3 انچ ڈسپلے (پہلے 6.2 انچ)، 4300 ملی ایمپیئر آور بیٹری، اور اہم طور پر 256 جی بی بیس سٹوریج دی گئی ہے۔ تاہم اس کی قیمت گلیکسی ایس 25 کے 256 جی بی ورژن سے زیادہ ہے۔
سام سنگ نے اس سال تینوں ڈیوائسز کے ڈیزائن اور رنگوں کو یکساں کر دیا ہے۔ اب گلیکسی ایس 26 بھی منی سائز ایس 26 الٹرا جیسا لگتا ہے، جبکہ الٹرا کے کونے پچھلے سال سے زیادہ گول ہو گئے ہیں۔
گلیکسی ایس 26 الٹرا کے فیچرزڈیزائن کے لحاظ سے گلیکسی ایس 26 الٹرا، ایس 25 الٹرا سے بہت مختلف نہیں۔ فلیٹ فرنٹ اور بیک گلاس پینلز، قدرے گول کونے اور فلیٹ میٹل فریم برقرار ہیں۔
البتہ کیمرا آئی لینڈ اب کچھ ابھرا ہوا ہے اور پچھلے سال کے ایس 25 ایج جیسا دکھائی دیتا ہے۔ سابقہ ڈیزائن زیادہ صاف ستھرا محسوس ہوتا تھا۔
فرنٹ پر کورننگ گوریلا آرمر 2 گلاس اور آرمر ایلومینیم 2 فریم استعمال کیا گیا ہے۔ پچھلے سال ٹائٹینیم فریم تھا، مگر سام سنگ کے مطابق ایلومینیم زیادہ لچکدار ہونے کی وجہ سے جھٹکوں کو بہتر جذب کرتا ہے، خاص طور پر باریک باڈی میں۔ ممکن ہے اس کا تعلق پتلے چیسیس سے ہو، یا اس حقیقت سے کہ آئی فونز بھی اب ٹائٹینیم استعمال نہیں کر رہے۔
فون آئی پی 68 سرٹیفکیشن کے ساتھ پانی اور گردوغبار سے محفوظ ہے، اگرچہ کچھ چینی ہائی اینڈ فونز آئی پی 69 بھی پیش کر رہے ہیں۔نئے ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر کے امتزاج سے سکرین پرائیویسی ڈسپلے موڈ میں جا سکتی ہے، جو سائیڈ اینگل سے نظر محدود کر دیتی ہے، تاکہ صرف سامنے سے دیکھنے والا ہی مواد دیکھ سکے۔رنگوں میں کوبالٹ وائیلٹ (مرکزی رنگ)، سکائی بلیو، بلیک اور وائٹ شامل ہیں۔ آن لائن خصوصی رنگوں میں سلور شیڈو اور پنک گولڈ بھی دستیاب ہیں۔
فون کی موٹائی 8.2 ملی میٹر سے کم ہو کر 7.9 ملی میٹر ہو گئی ہے۔ وزن صرف 4 گرام کم ہوا ہے، مگر باریکی واضح محسوس ہوتی ہے۔
اندرونی تبدیلیاں محدود ہیں۔ سنیپ ڈریگن 8 ایلیٹ جن 5 ایس او سی نمایاں اپگریڈ ہے۔ سپر فاسٹ چارجنگ 3.0 اب 60 واٹ کی ہے اور 30 منٹ میں 70 فیصد چارج کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
بیٹری اب بھی 5000 ملی ایمپیئر آور ہے، حالانکہ مارکیٹ میں سلیکن کاربن (ایس آئی/سی) بیٹریز کے ساتھ 7000 ملی ایمپیئر آور تک کی صلاحیت والے فونز دستیاب ہیں۔
گلیکسی ایس 26 اور ایس 26 پلس کے فیچرزتینوں ماڈلز کا ڈیزائن تقریباً ایک جیسا ہے۔ فلیٹ فرنٹ، فلیٹ سائیڈز اور آئی پی 68 پروٹیکشن برقرار ہے۔
ایس 26 اور ایس 26 پلس میں گوریلا گلاس وکٹَس 2 فرنٹ گلاس استعمال کیا گیا ہے، جبکہ الٹرا میں گوریلا آرمر 2 ہے۔
ایس 26 قدرے چوڑا ہے مگر عملی طور پر فرق محسوس نہیں ہوتا۔ وزن میں اضافہ بیٹری بڑھنے کی وجہ سے ہے، جو اب 4300 ملی ایمپیئر آور ہے۔
ان ماڈلز کی بیس سٹوریج 256 جی بی کر دی گئی ہے۔
ایس 26 پلس کو اس سال تقریباً کوئی اپگریڈ نہیں ملا۔ وہی ڈسپلے، وہی بیٹری، وہی چارجنگ، وہی کیمرا۔ چوتھے سال بھی کیمرا ہارڈ ویئر تبدیل نہیں ہوا، اور الٹرا وائیڈ میں اب بھی آٹو فوکس موجود نہیں۔
ون یو آئی 8.5 اور بہتر گلیکسی اے آئی
ون یو آئی 8.5 اینڈرائیڈ 16 پر مبنی ہے۔ انٹرفیس میں بڑی تبدیلی نہیں، مگر موجودہ اے آئی فیچرز بہتر کیے گئے ہیں۔
نئے اے پی میں پرو سکیلر اور ایم ڈی این آئی ای شامل ہیں۔ پرو سکیلر تصاویر اور متن میں شارپنس اور کانٹراسٹ بہتر کرتا ہے، جبکہ ایم ڈی این آئی ای کلر گریڈینٹس کو ہموار بناتا ہے۔
پرائیویسی ڈسپلے صرف الٹرا میں دستیاب ہے۔ او ایل ای ڈی پینل نیرو اور وائیڈ پکسلز کو آن یا آف کر کے زاویہ محدود کرتا ہے۔ اسے مخصوص ایپس یا صرف نوٹیفکیشنز کے لیے بھی فعال کیا جا سکتا ہے۔
فوٹو اسسٹ اب نیچرل لینگویج کے ذریعے ایڈیٹنگ کی اجازت دیتا ہے۔ کری ایٹو سٹوڈیو سے ڈرائنگ اور سٹیکرز بنائے جا سکتے ہیں۔ گیلری میں ڈاکیومنٹ سکینر شامل ہے۔ سکرین شاٹ سرچ مواد کے مطابق تلاش ممکن بناتا ہے۔آڈیو ایریزر اب یوٹیوب، انسٹاگرام، نیٹ فلکس سمیت تھرڈ پارٹی ایپس میں بھی کام کرے گا۔ ناؤ نج کانٹیکسچوئل تجاویز دیتا ہے۔ ناؤ بریف مزید ذاتی معلومات فراہم کرتا ہے۔
سرکل ٹو سرچ بیک وقت متعدد اشیاء پہچان سکتا ہے۔
بکسبی کو زیادہ ذہین بنایا گیا ہے۔ پرپلیکسیٹی کے ساتھ گہرا انٹیگریشن شامل ہے، جسے ہیے پلیکس کہہ کر بلایا جا سکتا ہے۔ دونوں سسٹم ملٹی سٹیپ ورک فلو انجام دے سکتے ہیں۔
حساس فیچرز آن بورڈ اے آئی کمپیوٹنگ پر چلتے ہیں تاکہ ڈیٹا سام سنگ کے سرورز پر اپ لوڈ نہ ہو۔
کارکردگی
ایگزینوس 2600 (یورپی ورژن) اور سنیپ ڈریگن 8 ایلیٹ جن 5 فار گلیکسی (امریکی ورژن) کے ابتدائی بینچ مارک نتائج کے مطابق ایگزینوس سنگل کور میں کمزور مگر ملٹی کور میں تقریباً برابر ہے۔ سنیپ ڈریگن ورژن مجموعی طور پر بہتر کارکردگی دکھاتا ہے۔
کیمرا فیچرزایس 26 الٹرا میں 200 میگا پکسل مین کیمرا ایف 1.4 اپرچر کے ساتھ ہے (پہلے ایف 1.7 تھا)۔ 5 ایکس ٹیلی فوٹو اب ایف 2.9 ہے (پہلے ایف 3.4 تھا)۔ کمپنی کے مطابق مین کیمرا 47 فیصد اور ٹیلی فوٹو 37 فیصد زیادہ روشن نتائج دے گا۔
کم روشنی میں بہتر ویڈیو کے لیے امیج پراسیسنگ کو بہتر بنایا گیا ہے۔
سپر سٹیڈی ویڈیو میں 360 ڈگری سٹیبلائزیشن اور ہورائزن لاک شامل ہے۔ پہلی بار اے پی وی (ایڈوانسڈ پروفیشنل ویڈیو) سٹینڈرڈ شامل کیا گیا ہے، جو 8k ریزولوشن پر 30 فریم فی سیکنڈ تک لاس لیس کوالٹی فراہم کرتا ہے۔ ویڈیو براہ راست ایکسٹرنل سٹوریج پر ریکارڈ کی جا سکتی ہے۔
سیلفی کے لیے نیا آبجیکٹ اویئر انجن اور بہتر اے آئی آئی ایس پی شامل کیا گیا ہے۔
ایس 26 اور ایس 26 پلس میں چوتھے سال بھی وہی کیمرا ہارڈ ویئر برقرار ہے، صرف پراسیسنگ میں معمولی بہتری کی توقع کی جا سکتی ہے۔
پاکستان میں قیمتوں کا اعلان
گلیکسی ایس 26، گلیکسی ایس 26 پلس اور پریمیم گلیکسی ایس 26 کی عالمی سطح پر قیمتوں میں معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، اور اب پاکستان کے لیے بھی سرکاری قیمتیں جاری کر دی گئی ہیں جبکہ پری آرڈرز کا آغاز ہو چکا ہے۔










غذا میں فائبر کا زیادہ استعمال آپ کے معدے کو کیسے متاثر کر سکتا ہے؟
فائبر کو طویل عرصے سے نظامِ ہاضمہ سے متعلق کئی مسائل کا حل سمجھا جاتا رہا ہے۔ طبی ماہرین اور غذائی ماہرین اکثر ایک ہی مشورہ دہراتے رہے ہیں: ریشے دار غذا میں اضافہ کریں، زیادہ سبزیاں کھائیں اور فائبر کی مقدار بڑھائیں۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق فائبر کو آنتوں کی صحت بہتر بنانے، قبض سے بچاؤ اور ہاضمے میں مدد کے لیے مؤثر مانا جاتا ہے۔ تاہم غذائی ماہر راشی چودھری کا کہنا ہے کہ فائبر کی مقدار بڑھانا ہر صورت میں ہاضمے کے مسائل کا بہترین حل نہیں ہوتا۔
انسٹاگرام پر ایک حالیہ پوسٹ میں راشی چودھری نے نشاندہی کی کہ لوگ عموماً یہ اندازہ زیادہ لگا لیتے ہیں کہ انہیں صرف سلاد سے ہی کافی فائبر مل رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر کوئی شخص 30 گرام فائبر حاصل کرنا چاہے تو اسے 15 سے زیادہ پیالے سلاد کے کھانے ہوں گے۔اس کے برعکس، اتنی ہی مقدار میں فائبر صرف ایک ایووکاڈو، دو چائے کے چمچ السی کے بیج اور دو کھانے کے چمچ چیا سیڈز سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اگر روزانہ ایووکاڈو کھانا ممکن نہ ہو تو وہ ناشپاتی یا امرود کے ساتھ چنے کھانے کا مشورہ دیتی ہیں۔
زیادہ فائبر الٹا نقصان کیوں پہنچا سکتا ہے
راشی چودھری کا کہنا ہے کہ پروٹین کی طرح فائبر بھی ہر وقت فائدہ مند نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق یہ بات نئی نہیں ہے، مگر آنتوں سے متعلق یہ ’پرانا دانائی بھرا اصول‘ اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اپھارہ، گیس، قبض اور بھاری پن جیسے عام ہاضمے کے مسائل کے لیے برسوں سے زیادہ فائبر، سبزیاں اور ریشے دار غذا کو بنیادی علاج سمجھا جاتا رہا ہے۔
تاہم اس مشورے پر عمل کے باوجود بہت سے لوگ بدستور مسائل کا شکار رہتے ہیں۔ ان کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ معدہ مقدار سے نہیں بلکہ ترتیب سے صحت یاب ہوتا ہے۔ ان کے الفاظ میں ’معدہ حجم سے نہیں، ترتیب سے ٹھیک ہوتا ہے۔‘غذائی ماہر کے مطابق زیادہ مقدار میں ناقابلِ حل فائبر (انسولیوبل فائبر) بعض صورتوں میں نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایس آئی بی او (چھوٹی آنت میں بیکٹیریا کی زیادتی)، مستقل قبض، یا سست اور حساس نظامِ ہاضمہ کی صورت میں۔ یہ درد اور اپھارہ بڑھا سکتا ہے، آنتوں کی حرکت کو سست کر سکتا ہے، معدے میں خمیر بننے کے عمل میں اضافہ کر سکتا ہے اور ہاضمے میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے۔ اسی لیے آنتوں کی صحت بہتر بنانے کے لیے فائبر کی بڑی مقدار شامل کرنا پہلا قدم نہیں ہونا چاہیے۔

*🔴سیف نیوز اردو*

چنئی میں جیت، مگر کولکاتہ میں ہوگی ’اگنی پریکشا‘، کیا ویسٹ ونڈیز کا ’قلع‘ فتح کرپائے گی ٹیم انڈیا؟ سیمی فائنل کا ٹکٹ داو پر ...