اسرائیل کی پارلیمنٹ میں وزیراعظم مودی کا خطاب، کہا: ’ہندوستان اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے‘
PM Modi’s Israel Visit : وزیراعظم نریندر مودی اسرائیل کے دو روزہ دورے پر تل ابیب پہنچ چکے ہیں ۔ اپنے دورے کے دوران وزیر اعظم مودی نے اسرائیلی پارلیمنٹ Knesset میں خطاب کیا ۔ پی ایم مودی نے کہا کہ میں اسی دن پیدا ہوا تھا جب ہندوستان نے اسرائیل کو تسلیم کیا تھا۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ہندوستان پوری شدت کے ساتھ اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے حماس کے حملہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ معصوموں کا قتل کبھی جائز نہیں ہو سکتا۔
وزیراعظم مودی نے کہا کہ بھارت نے بھی دہشت گردی کا سامنا کیا ہے اور طویل عرصے سے کر رہا ہے۔ 26/11 میں کئی معصوم جانیں گئیں، جن میں کئی اسرائیلی بھی شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف ہماری پالیسی زیرو ٹالیرنس (Zero-Tolerance) ہے۔ انہوں نے ابراہم اکارڈ کی بھی تعریف کی اور کہا کہ ہندوستان امن کی کوششوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ امن کا راستہ آسان نہیں ہے، لیکن ہندوستان یہاں امن لانے کے لیے آپ کا ساتھ دے گا۔وزیر اعظم مودی نے کہا کہ “عالمی جنگ میں 4 ہزار ہندوستانی فوجیوں نے اسرائیل کے لیے جان دی۔” انہوں نے “ہائفہ کے ہیرو” میجر دلپت سنگھ کا بھی ذکر کیا، جنہوں نے پہلی عالمی جنگ (World War I) کے دوران اسرائیل کے لیے لڑائی لڑی۔اپنے خطاب میں وزیر اعظم مودی نے اعلان کیا کہ جلد ہی ہندوستان دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بننے والا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان دنیا کے کئی ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدے کر رہا ہے اور ہندوستان کی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔
جموں و کشمیر میں دہشت گردی کو بڑا جھٹکا : سات خطرناک دہشت گرد ہلاک، فوج کا دعویٰ
فوج نے پیر کے روز کہا کہ اس نے Jammu and Kashmir میں دہشت گرد نیٹ ورک کو بڑا نقصان پہنچایا ہے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب سیکیورٹی فورسز نے ضلع کشتواڑ میں ایک انکاؤنٹر کے دوران پاکستان میں قائم دہشت گرد تنظیم Jaish-e-Mohammed کے تین دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، جن میں انتہائی مطلوب کمانڈر سیف اللہ بھی شامل تھا۔
فوج کے مطابق یہ کارروائی چترو (Chatroo) کے پاس پاسرکٹ علاقے میں ’’ٹراشی۔I‘‘ آپریشن کے دوران انجام دی گئی، جہاں دہشت گردوں کے قبضے سے دو اے کے-47 رائفلیں اور بڑی مقدار میں گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔
326 دن جاری رہنے والا ہائی آلٹیٹیوڈ مشترکہ آپریشن
White Knight Corps نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر جاری بیان میں کہا کہ کشتواڑ کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں 326 دن تک مسلسل مشترکہ آپریشن چلایا گیا۔ اس کارروائی میں Jammu and Kashmir Police اور Central Reserve Police Force نے بھی حصہ لیا۔
فوج کے مطابق دہشت گردوں کو شدید سردی، برفباری اور مشکل جغرافیائی حالات میں مسلسل ٹریک کیا گیا، جس کے نتیجے میں کئی بار فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان رابطہ ہوا اور بالآخر تمام سات دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ ان کارروائیوں میں جدید ٹیکنالوجی جیسے FPV ڈرونز، سیٹلائٹ تصاویر اور UAVs کا استعمال کیا گیا، جس سے دہشت گردوں کی نقل و حرکت پر مؤثر نگرانی ممکن ہو سکی۔
سیف اللہ : کئی حملوں کا ماسٹر مائنڈ
فوج کے مطابق ہلاک ہونے والا دہشت گرد کمانڈر سیف اللہ تقریباً پانچ سال قبل دراندازی کر کے جموں و کشمیر میں داخل ہوا تھا اور تب سے علاقے میں سرگرم تھا۔
اطلاعات کے مطابق وہ سیکیورٹی فورسز پر کئی مہلک حملوں میں ملوث تھا، جن میں جولائی 2024 کا وہ حملہ بھی شامل ہے جس میں چار فوجی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ سیف اللہ اس سے قبل متعدد انکاؤنٹرز میں فرار ہونے میں کامیاب رہا تھا۔اعلیٰ فوجی حکام کی جانب سے فورسز کو خراجِ تحسین
شمالی کمان کے کمانڈر Pratik Sharma نے وائٹ نائٹ کور کے اہلکاروں کی ’’تیز اور درست‘‘ کارروائی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی سیکیورٹی فورسز اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے درمیان مضبوط تال میل کا نتیجہ ہے۔
فوج کے مطابق رواں سال جموں خطے میں مختلف انکاؤنٹرز میں اب تک جیشِ محمد کے سات دہشت گرد مارے جا چکے ہیں، جن میں :
4 فروری کو ادھم پور کے رام نگر جنگلات میں دو دہشت گرد
23 جنوری کو کٹھوعہ کے پارہتار گاؤں میں ایک دہشت گرد
اور حالیہ کشتواڑ آپریشن میں تین دہشت گرد شامل ہیں۔
اب سرکاری دفاتر میں نماز ادا کرنا بھی جرم؟ نماز کی ویڈیو وائرل ہوتے ہی سیاسی بیانات میں شدت، معاملہ وزیراعلیٰ تک پہنچا
مہاراشٹر کے مالیگاؤں میں سرکاری دفتر کے اندر نماز ادا کرنا بھی شاید اب جرم بن گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق مالے گاؤں میونسپل کارپوریشن کے بجلی شعبے کے دفتر میں اجتماعی طور پر نماز ادا کرنے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس کے بعد سیاسی بیانات میں شدت آ گئی ہے۔دفتر میں نماز پڑھنے کا معاملہ
معلومات کے مطابق، متعلقہ وارڈ میں بجلی کی فراہمی متاثر ہونے کے باعث کئی افراد شکایت لے کر بجلی شعبے کے دفتر پہنچے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ شام تک بجلی بحال نہ ہونے پر ناراض لوگوں نے دفتر کے احاطے میں اثر کی نماز پڑھنا شروع کر دی۔ اس واقعے کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد معاملہ بڑھ گیا۔
حکومت میں وزیر نے اٹھائے سنگین سوالات
اس مسئلے پر مہاراشٹر حکومت میں وزیر اور بی جے پی لیڈر نتیش رانے نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن یا کسی بھی سرکاری دفتر میں نماز پڑھنے کا کوئی آئینی جواز نہیں ہے۔ ان کے مطابق، سرکاری ادارے عوام کی خدمت اور ترقیاتی کاموں کے لیے ہوتے ہیں، نہ کہ مذہبی سرگرمیوں کے لیے۔ رانے نے کہا کہ اگر کسی سرکاری دفتر میں مذہبی پروگرام منعقد ہوتے ہیں تو متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ رانے نے انتظامی نظم و ضبط پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے واقعات انتظامیہ کی سنجیدگی پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے مدارس کے حوالے سے بھی بیان دیا اور کہا کہ ریاست میں ان کی ضرورت اور کام کرنے کے طریقہ کار کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔
سی ایم فڈنویس کو شکایت نامہ
بی جے پی لیڈر کریت سومیا نے الزام لگایا کہ کچھ میونسپل ملازمین اور دیگر افراد نے کھلے عام بجلی شعبے کے دفتر میں نماز ادا کی۔ انہوں نے اس معاملے کی شکایت وزیراعلیٰ دیوینڈر فڈنویس سے کی۔ سومیا نے متعلقہ افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے اور ملازمین کو معطل کرنے کی درخواست کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کو خط بھی بھیجا ہے۔