Thursday, 18 September 2025
مسلم قیادت ہمیشہ قوم کو موردِ الزام ٹھہراتی ہے کہ قوم متحد نہیں ہے،مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ اتحاد کا فقدان سب سے زیادہ قیادت ہی میں پایا جاتا ہے۔جب بھی کسی خطّے میں کوئی مضبوط قیادت اُبھرنے لگتی ہے،وہاں دوسری قیادتیں فوراً ٹانگ کھینچنے اور راستہ روکنے پہنچ جاتی ہیں۔یوں لگتا ہے کہ قیادت کا مقصد قوم کی خدمت نہیں بلکہ اپنی دوکان بچانا اوراپنی چمک دکھانا ہے۔یہی وجہ ہے کہ قوم ایک جھنڈے تلے جمع ہونے کے بجائے مزید ٹکڑوں میں بٹتی جا رہی ہے۔قیادت کی انا پرستی اور ذاتی مفادات نے قوم کو کمزور کر دیا ہے۔اگر قیادت واقعی قوم و ملّت کی خیرخواہ ہوتی تو ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے کے بجائےایک دوسرے کا ہاتھ تھامتی،اپنی ذات کے بجائے ملّت کے مستقبل کو مقدم رکھتی،اور اپنی سیاست کے بجائے قوم کی خدمت کو اصل ہدف بناتی۔جب تک مسلم قیادت خود متحد نہیں ہوگی،قوم سے اتحاد کی توقع محض ایک نعرہ اور فریب ہے۔قیادت اگر ایک صف میں کھڑی ہو جائے تو قوم خود بخود ایک پرچم تلے جمع ہو جائے گی۔آپ سب کی کیا رائے ہے_________عالمی افسانہ میلہ 2023افسانہ نمبر 9دُوسری حَوَّا بُش احمد , آسٹریلیا ’’شروع شروع میں میرے زخمی ہاتھوں پاؤں کی مالش کرنے کے بعد وہ میری ہتھیلیاں اور تلوے چاٹتی تھی۔ تب مُجھے نہیں معلوم تھا وہ ایسا کیوں کرتی ہے۔ اس کی زعفرانی رنگت گٹھیلی ہتھیلیاں نرم اور ریشم کی مانند ملائم تھیں لیکن لمبی نوکیلی زبان کسی بِلّی کی زبان جیسی کُھردری تھی۔ چند دنوں کے اندر اندر اس ریگ مال کی رگڑ سے میرے ہاتھوں پاؤں کی کھال چِھلنے لگی، پھر ان سے ذرا ذرا خون بہنا شروع ہوا۔ خُون چاٹتے اس کے لب رنگین ہو جاتے۔ میڈوسا جیسی بِکھری زُلفوں کے گُنجلک سانپوں سے بھرپُور اپنا بھاری سَر اُٹھا کر وہ میری طرف دیکھتی۔ اس کے عجیب و غریب انسان نما چہرے کے اثرات سے مَیں بتا نہ سکتا کہ وہ مُسکرا رہی ہے یا دانت کچکچا رہی ہے۔ اُس کا مُنہ اور نوکیلے دانت خونخوار لگتے تو سہی لیکن مُجھے کچا چبا جانے کی بجائے اس کی نیت میں کوئی اور فتور لگتا۔ آہستہ آہستہ وہ وقت بھی آیا جب میری ہتھیلیاں، پاؤں کے تلوے اور ایڑیاں اتنی نرم اور زُودحِسّ ہو گئیں کہ مَیں مضبوطی سے نہ کوئی سخت چیز تھام سکتا نہ اپنے پاؤں پر وزن ڈال کر کھڑا ہو سکتا۔‘‘’’آپ مُجھ سے پُوچھ رہے ہیں مَیں کون ہوں اور اس حالت تک کیسے پُہنچا؟ میرا نام مُراد خان ہے۔ میرا باپ بہرام خان آسٹریلیا میں لیجائے گئے افغان اونٹ بانوں کے ساتھ یہیں سے گیا تھا۔ میری ماں آسٹریلین ایبوریجنل تھی۔ بچپن سے ہی میرے باپ نے مُجھے اونٹوں اور گھوڑوں کی تربیت کرنا سکھایا تھا۔ ابھی پچھلے سال کی بات ہے۔ مَیں آسٹریلیا کی ریاست نیو ساؤتھ ویلز میں نو دس مختلف نسلوں کے مخلوطہ گھوڑوں کی افزائشِ نسل اور تربیت میں مصروف تھا ۔ حُکم ملا تو برٹش راج کے لیے مختص کیے گئے ویلر گھوڑوں کے ساتھ جہاز میں کلکتہ پہنچا جہاں ان گھوڑوں کو فوجی مقاصد کے لیے شمال مغربی محاذ پر استعمال کیا جانا تھا۔ انگریزی کے علاوہ ایک دو انڈین زبانیں بھی بول لینے کی وجہ سے مُجھے بنیادی تربیت کے بعد فوج میں بحیثیت پرائیویٹ افسر بھرتی کر دیا گیا۔ میری ذمہ داریوں میں نئے گھوڑوں کو سدھانا اور سپاہیوں کو گُھڑ سواری سکھاناشامل تھا۔ اس کام میں میری مہارت کی وجہ سے انگریز افسروں نے خوش ہو کر مُجھے ’’ہارس وِھسپَرَر‘‘ کا خطاب دے دیا۔ وحشی سرکش گھوڑے کی گردن کے گرد رسّے کا پھندا ڈالنا، اُسے دائروی حصار میں گھمانا، تھپ تھپانا، ورزش کرانے کے بعد اس کے اکڑے عُضلات کی مالش کرنا،اُس کی کھال کا کھریرا کرنا، گردن کے گرد جَپھی ڈال کر سر جوڑ کر سرگوشیاں کرنا، اس کے ماتھے سے ماتھا ٹیک کر اسے بہت جلد رام کر لینا انڈین سپاہیوں کے نزدیک کسی جادو سے کم نہیں تھا۔ مَیں انکی حیرانی نوٹ کرتا، مُسکراتا، اپنا کام جاری رکھتا۔کچھ ہفتوں کے بعد ہمارے دستے کو افغانستان کی سرحد کی طرف بھیج دیا گیا جہاں گھوڑ سواری، باربرادری کے علاوہ توپیں کھینچنے کا کام بھی میرے زیرِ نگرانی گھوڑوں اور اونٹوں کا تھا۔ کوہِ سفید کی برفانی ہواؤں سے ٹھٹھرتی قُرّم وادی سے جنرل رابرٹس کے ساتھ پیوار کوتل گُزرنے کی تفصیل کیا بتاؤں؟ مَیں ایک پرائیویٹ تھا۔ لڑائی میں مَیں نے کیا حصہ لینا تھا!جنرل رابرٹس کی ذاتی کمانڈ میں پہاڑ پر پیچھے سے چڑھ کر افغان مورچوں پر شبخون مارنا میرا نہیں گورکھے اور سِکھ سپاہیوں کا کام تھا۔ گھمسان کا رن پڑا۔ مُجھے نہیں معلوم کون جیتا۔ مَیں نیچےگھاٹی میں اپنے گھوڑے پر سوار تھا۔ بھٹکی ہوئی گولی ران میں لگ جانے سے میرے گھوڑے کا بدکنا، اسکی گردن سے میرابے اختیار لپٹنا، پہاڑی ڈھلوانوں پر اُگے گھنے درختوں سے گزرنا، میرے سَر اور سینے پر زخم لگنا، میلوں میل بے تاب گھوڑے کا دوڑنا، میرا بے ہوش ہو کر گر جانا، پتھریلی زمین پر بِکھری نرم برف میں نیم بےہوشی کا عالم، ہوش آنا کچھ کچھ یاد ہے۔ اگلے چند ہفتوں میں برف باری سےبوجھل پہاڑی گھاٹیوں پر اترنا چڑھنا، بیابان میں میلوں چلنا، جنگلی پھلوں سے بُھوک بہلانا، میری اُنگلیوں کے ناخن اور میرے پاؤں کی انگلیاں یخ اور سُن ہو کر جھڑ جانا پھر تھک کر میرا بار بار گِر جانا مُجھے کسی خواب کی طرح یادہے۔ کہ ایک رات شفاف اوبسیڈین آسمان میں ان گنت تاروں تلے برفیلی رات کسی نے مُجھے بہت آسانی سے اُٹھا کر بھری بوری کی طرح اپنے کندھے پر لادا تھا۔ کہ میرے زخموں سے شدید ٹیسیں اور مُنہ سے سسکیاں نکلی تھیں۔ لیکن رات کے اندھیرے میں وہ میلوں دُور مُجھے کیسے لے کر آئی اور پھر پہاڑ کی عمودی ڈھلوان پر کیسے چڑھی، یہ یاد نہ تھا۔مُجھے جب ہوش آیا تو اپنے آپ کو چاروں شانے چِت برہنہ حالت میں لیکن اُونی کھالوں سے ڈھکا پایا۔ اوپر کسی سوراخ سے آتی ہلکی روشنی سے غار میں ملگجا اندھیرا تھا۔ غار کے سنگی فرش پر میرے نیچے بھی بدبو دار اُونی کھالیں بِچھی تھیں۔ اِدھر اُدھر نیم تاریکی میں دیکھنے کی کچھ قوت بحال ہوئی۔ ایک طرف غار کے فرش پر اکٹھے ڈھیر کئے چند انسانی ڈھانچوں کی سفید ہڈیاں نمایاں ہوئیں تو میرا خون خُشک ہو گیا۔ مَیں نے ڈرتے ڈرتے اپنی آنکھیں اُٹھائیں۔ زمانۂ قدیم کے بن مانس اور جدید انسان کے درمیان کسی گمشدہ کڑی کی مانند وہ میرے سامنے کھڑی تھی۔ چہرے کے سوا اس کا سارا جسم سُرخی مائل بُھورے بالوں سے ڈھکا تھا۔ چہرے کے گرد پیچ در پیچ گھنے بالوں کا ہالا۔ اس کا قد زیادہ اُونچا نہیں تھا لیکن اس کی رُوئیں دار رانوں اور بازوؤں کی مچھلیوں سے اس کی بے پناہ طاقت اور چوڑی چکلی چھاتی پر نوکیلے تکونی اُبھاروں سے اس کے مادہ ہونے کا اندازہ لگایا جا سکتا تھا۔ مَیں اپنے صیاد کے رحم و کرم پر زندہ تھا۔ کہ وہ مُجھے زندہ رکھنا چاہتی تھی یہ تو مَیں سمجھ گیا جب اس نے میری بغلوں میں اپنے ہاتھ دے کر بآسانی مُجھے اُٹھا کر میرے پیچھے دیوار سے ٹیک لگا کر بٹھایا۔ غار کے اندر بہتے ایک گُنگُناتے چشمے سے لے کر اپنے ہاتھوں کے پیالے کے ذریعے میرے مُنہ میں پانی اُنڈیلا۔ چند جنگلی پھل کھلائے۔ لیکن کیوں مُجھے زندہ رکھ رہی ہے یہ سوال مُجھے بار بار تنگ کرتا۔ جب اس نے میرے زخموں کو چاٹنا شروع کیا تو مَیں سمجھا موت آ گئی، کہ خون پینے کے بعد اب وہ مُجھے کچا کھا جائے گی۔ لیکن اس کے چاٹنے سے جو مُجھے تسکین ملی، درد سے چُھٹکارا ہوا اس سے انکار مشکل تھا۔ میرے زخموں اور جسم کو صاف کرتی، اپنے دبیز ہونٹوں کو حرکت دیتے وہ کچھ نہ کچھ زیرِ لب بولتی جیسے کسی بچے سے بات کر رہی ہو لیکن لفظ آگے پیچھے ہوتے۔توتلا تلفظ ایسا جیسے اس کی مادری زبان غیر مُلکی ہو۔ کبھی ہسپانوی لفظ، کبھی اطالوی، کبھی یونانی، کبھی تُرکی کبھی فارسی لیکن بے ربط۔میرے ساتھ اس کا مجموعی سلوک خاصا مشفقانہ تھا۔ مُجھے اکیلا چھوڑ کر رات کو غار سے وہ نکل جاتی۔ صُبح سے پہلے واپس آتی تو اس کے ساتھ ایک تھیلا نما گٹھڑی میں مختلف پھل، جڑی بُوٹیاں ہوتیں۔ لیکن مُجھے فرار ہونے کا موقع نہ دینے کے علاوہ وہ چاہتی کیا تھی اس راز کی آگہی مُجھے کچھ ہفتوں کی قید کے بعد ہوئی جب میرے سر اور سینے کے زخم مندمل ہونے شروع ہوئے۔ اس نے غار کے سوراخ پر ایک بہت بھاری پتھر رکھا ہوا تھا جسے مَیں ہلا نہ سکتا۔ مُجھے بعد میں معلوم ہوا کہ پہاڑ کی عمودی ڈھلوان سے باہر نکلےایک چٹانی چھجے نے جھاڑیوں کے پیچھے پوشیدہ غار کے تنگ دہانے پر سایہ کیا ہوا تھا۔ اس سوراخ سے صرف رینگ کر گُزرا جا سکتا تھا۔ پتھر نہ بھی رکھتی تو غار سے نکل کر پہاڑ کی عمودی چٹان پر اترنا چڑھنا میرے بس کی بات نہ تھی۔ ٹُنڈ مُنڈ ہاتھوں پَیروں سے اپاہج، ویسے بھی مَیں کھڑا نہ ہو سکتا۔ اندر سے غار خاصا کشادہ تھا۔ غار کے فرش پر گُھٹنوں کُہنیوں کے بل رینگتا مَیں چشمے تک پہنچتا، پانی پیتا، اپنے آپ کو حتی الوسع صاف کرتا پھر واپس آ کر کھالوں کے اُسی بستر پر لیٹ جاتا۔ میری داڑھی مُونچھیں اور سر کے بال بے تحاشا بڑھ گئے۔ غار کے اندر بتدریج کم ہوتی سردی سے مَیں نے اندازہ لگایا کہ باہر بہار کا موسم آ گیا ہو گا۔اُس کی نرم ہتھیلیوں کی مالش اور پھر کھردری زبان سے تلوے چاٹنے سے میرے جسم میں عجیب وغریب سنسنی پیدا ہوتی۔ میرے پٹھے اور اعضا اینٹھتے۔ رگ رگ نس نس میں وحشت کا بارود مچلتا، پھٹنے کے لیے تیار ہو جاتا۔ میرا خودکار رَدِّعمل دیکھ کر اس کی باچھیں کِھلتیں۔ ملگجی تاریکی میں اس کے متوازی متناسب نوکیلے دانت چمکتے۔ آہستہ آہستہ میرے جسم کو چاٹتی وہ میرے سَر کی طرف آتی۔ میرے اوپر چھا جاتی۔ اس کی جلد پر اُگے گھنے رُوئیں میرے برہنہ جسم کا کھریرا کرتے۔ اس کی عجیب اجنبی بُو میرے احساسات کو آمادگی پر برانگیختہ کرتی۔ اس کا سانس تیز تیز چلنے لگتا۔ وہ غُراتی، کسی شکم پُر بِلّی کی طرح خُرخُر کرتی۔ کچھ اُس پر کچھ مُجھ پر وحشت طاری ہوتی۔ اس کے بڑھے ہوئے ناخن مُجھے نوچتے۔ خراشوں سے اُٹھتی ٹِیسیں خارش پیدا کرتیں۔ مَیں اس کُھجلی کو کُھجانا چاہتا مگر میرے بے اختیار ہاتھوں کی ٹُنڈ مُنڈ اُنگلیاں اسکی زُلفوں اور گردن کی پُشت پر اُگی گھنی ایّال میں اُلجھ کر رہ جاتیں۔ مَیں اُسے بھینچتا چاہتا۔ اس کے میڈوسا سَر کے لہراتے ریشمی سانپ کبھی ڈستے کبھی میری انگلیوں کو چُومتے۔اپنے تصور میں مَیں ایک سرکش بے لگام گھوڑا بن جاتا۔ اگلے پاؤں اُٹھا کر نتھنے پھیلا کر بتیسی نکال کر ہنہناتا۔ پچھاڑی مارتا۔ میرے سر اور دونوں گالوں جبڑوں پر بے تحاشہ اُگے بال اکڑ کر ایّال کی صورت کھڑے ہو جاتے۔ وہ میرے سُموں کو ایک ایک کر کے اُٹھاتی، اپنے لبوں کی آتشی میخوں سے ان پر آہنی نعل ٹھوکتی۔ جا بجا میری جِلد کو سُلگتے ہونٹوں سے داغتی۔ گھوڑے کے مُنہ میں اپنی روئیں دار تکونی لگاموں کا باری باری ایک پھر دوسرا نوکیلا بے خار دہانہ ٹھونس کر میری وحشت کو بھڑکاتی۔ اندھیرے میں اس کی آنکھیں انگاروں کی مانند دہکتیں۔ جب مَیں سیدھی سڑک پر سرپٹ دوڑنے کے لیے تیار ہو جاتا تو میری ایّال کو اپنے دونوں ہاتھوں کی گرفت میں باگ کی مانند کھینچ کر چھلانگ لگا کر مُجھ پر حاوی ہو جاتی۔ اُچھلتے کُودتے وحشی گھوڑے پر روڈیو سواری کرتی۔ بے چَین کلبلاتے سرسراتے لہراتے اژدہوں سے پُر اپنا میڈوسا سَر جھکا کر دہانہ چباتے مُنہ سے جھاگ بہاتے گھوڑے کے ماتھے سے ماتھا ٹیک کر اجنبی زبانوں میں سرگوشیاں کرتی۔ میری سرین کی رکابوں میں اپنے پاؤں کے پنجے پھنساتی۔ میری رانوں کے نیچے اپنی ایڑیوں سے میری بے چَینی کو مہمیز لگاتی۔ تیزی سے دھڑکتے میرے دل کے گرد پسلیوں کو اپنے گُھٹنوں کے درمیان زور سے دباتی۔ میری بے صبری کی باگ کو کھینچ کر رکھتی۔ لگام سے منسلک گھوڑا اور سوار دونوں ایک مشترکہ احساس کے دائرے میں گھومتے۔ بے خار دہانے باری باری چباتا ہنہناتا الف گھوڑا آزادی مانگتا، کُھلے میدان میں کُھلے آسمان کے نیچے کُھلی سیدھی دوڑ لگانا چاہتا۔ وہ بار بار ڈھیل دیتی پھر کھینچتی، سدھاتی۔ دُلکی چال چلنے پر رام کرتی۔ گھوڑے کی بے تابی کو اپنی ذات کے حصار میں محدود رکھتی۔ بالآخر اس دائروی دوڑ میں وحشت کا بارود پھٹ کر چنگاریوں کی صُورت پُھس ہو جاتا۔ پٹھا پٹھا مضطرب پھڑکتا ماس شانت ہو جاتا۔ پسینہ پسینہ پسلیاں ہانپتا گھوڑا اور پسینہ پسینہ سوار دونوں اکٹھے جیت جاتے!لیکن آخر کب تک یہ کھیل جاری رہتا؟ جب اس کے مَن کی مُراد پُوری ہو گئی تو اُس کا جنون بھی ختم ہو گیا۔ تب مُجھے سمجھ آئی کہ غار میں بکھرے انسانی ڈھانچے مجھ سے بھی زیادہ بدقسمت تھے۔ ایک ڈھلتی سہ پہر اس نے غار کے مُنہ سے پتھر ہٹایا اور مُجھے پیچھے آنے کا اشارہ کیا۔ مَیں رینگتا ہوا باہر نکلا۔ نیچے عمودی گہرائی دیکھی تو ڈر کر پیچھے ہٹا۔ اس نے مُجھے پیچھے اپنی کمر پر سوار کیا اورپہاڑ کی ڈھلوان سے نکلے کگر کناروں کنگنیوں کا سہارا لے کر نیچے اترنے لگی۔ چند ایک نشیب و فراز اُترنے چڑھنے کے بعد مُجھے ایک اونچے ٹیلے پر بٹھایا۔ وادی کے دوسری طرف ایک اور پہاڑ کے پیچھے غروب ہوتے سُورج کےبڑھتے سائے کے نیچے تاریک ہوتی جاتی وادی میں کسی بستی کے ٹمٹماتے چراغوں کی طرف اشارہ کیا۔ شفق کی روشنی میں پہلی بار مَیں نے اس کا چہرہ نظر بھر کر دیکھا۔ مَیں نے گھوڑے پالے ہیں۔ جاذب نظر یا خوبصورتی کا معیار کیسے بیان کروں! سُنا تھا کہ آنکھیں رُوح کا آئینہ ہوتی ہیں۔ شاید اُسے میری ذات سے اُنس ہو گیا تھا۔ کیوں کہ گھنی بھنوؤں کے چَھجے تلے غار نما اُن سُنہری آئینوں میں لبریز آنسو ایسے جھلملا رہے تھے جیسے کسی چِتا کی راکھ میں حُزن کے چٹختے کَھنگَر ۔ کیا آپ نے کسی گھوڑے کی آنکھوں پر لمبی خمیدہ پلکیں دیکھی ہیں؟ مَیں نے اس کی بُھوری پلکوں کے نیچے خُفتہ آتش فشانی عنبریں پُتلیوں پر گہری سوچ کےگھنیرے بادل اُمنڈ آئے دیکھے۔اُس نے جُھک کر میرےکندھوں پر اپنے دونوں ہاتھ رکھے۔ میرے ماتھے پر اپنا ماتھا ٹیک کر کسی اجنبی زبان میں الوداعی سرگوشی کی۔ اپنے یخ ہونٹوں سے میری پیشانی کو داغا اور مُڑ کر پہاڑ پر چڑھنا شروع کر دیا۔ جُوں جُوں وہ اوپر چڑھتی گئی، ڈوبتے سورج کی کرنیں اسکے بُھورے سُرخ جسم کا نُور افشاں تعاقب کرتی گئیں۔ مَیں اس کی ذات کے حصار سے نکل تو آیا تھا مگر نہ جانے کیوں میرے اردگرد لمبے ہوتے جاتے سایوں کے ساتھ ساتھ کسی بھاری پتھر سے دبتے جاتے میرے سِینےکے اندر بھی غار جیسی تاریکی پھیلتی گئی۔ کوہِ مُردار کی چوٹی پر پہنچ کر اس نےرُک کر چاروں اور گھوم کر ایک آخری نظر ڈالی۔ وہ اپنی نسل کی آخری مادہ تھی۔ کُجلاتے سورج کی نارنجی کِرنوں سے منور کسی ریگستانی سراب کی مانندلرزتے ہیولے کے پاؤں میرے بچے سے بھاری تھے۔ اس نے ایک لمحہ میری طرف آخری بار رُخ کیا، اپنا بازو اُٹھا کر دُور دراز شمالی اُفق پر برف پوش کوہِ سفید کی چوٹی کی سمت اشارہ کیا اور اُدھر اُتر گئی! شاید وہ مُجھے میرے بچے کے پیچھے آنے کی دعوت دے رہی تھی۔ لیکن مَیں کن پاؤں سے چل کر جاتا؟ کچھ باپ ایسے بدنصیب بھی ہوتے ہیں‘‘کمبل کے نیچے ہاتھوں پاؤں بازوؤں گُھٹنوں ٹانگوں پر بے شمار خون آلود پٹیاں بندھے آسٹریلین افغانی نے فوجی ڈاکٹر کے خَیمے میں ہنگامی کھاٹ پر لیٹے لیٹے ایک لمبی آہ بھری، ’’وہ جنگلی تھی، وحشی تھی لیکن مہربان بھی۔ اسے اپنی نوع کو برقرار رکھنے اور ماں بننے کا جنون تھا۔ مُجھے اُمید ہے، مستقبل کے انسان اُسے مَم کے نام سے یاد رکھیں گے!‘‘________🔴🔴غزل سیماں صوفی امریکہ سے سیف نیوز ادبی پوسٹ مالیگاؤں کے لیے بطور تحفہ _____قابل احترام نقاد حضرات کے نام کہ ہر تخلیق کار کے لیے اُس کی تخلیق اپنے بچے کی طرح پیاری ہوتی ہے مرے بگڑے ہوئے بچے کو بنالیں ناصحنشتر و تیغ و سِناں سے بھی بچالیں ناصحمیرا معصوم سا بچہ ہے بڑا نازک ساسخت لہجہ ،کڑی نظریں بھی ہٹالیں ناصحگر آپ اونچی ، کبھی آواز میں جو بات کریں وہ تو لرزے گا، ذرا پیار سے پالیں ناصحناسمجھ بھی ہے وہ بھولا سا، سراپا غافلنرم گفتار سے اس کو یوں سُدھاریں ناصحکہ سُدھر جائے ، آپ کی چاہت و نرمی سے وہاور زخمی بھی نہ ہو ، ایسے سنبھالیں ناصح *(سیماں صوفی) امریکہ*__________🔴غزل وزیر آغا ہم نے بھی ساری عمر کیا خود کو تار تاراپنے بدن میں صورتِ تلوار ہم بھی تھےدامن دریدہ تم ہی نہیں تھے فقط وہاںبے آبرو کھڑے سرِ بازار ہم بھی تھےاک لفظِ بے صدا کے رہے ہم بھی منتظرہاں اک نئے جنم کے طلبگار ہم بھی تھےکوہِ ندا کے سحر میں گم سارا شہر تھااور شہر کے فسوں میں گرفتار ہم بھی تھےکوزوں کے ساتھ بکھرے پڑے ہم بھی تھے وہاںاس شہرِ بے مثال کے آثار ہم بھی تھےڈاکٹر وزیر آغا
پنجاب کے سیلاب زدگان کے لیۓشہر بھر میں ریلیف کا نظم
*پنجاب کے سیلاب زدگان کے لیۓ
*شہر بھر میں ریلیف کا نظم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*آل انڈیا سنی جمیعتہ الاسلام ریلیف کمیٹی کی عوام الناس سے تعاون کی خصوصی اپیل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*مالیگاؤں (پریس ریلیز) ریاست پنجاب اور اطراف کے علاقوں میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے آپ بخوبی واقف ہیں۔ اس موقع پر انسانیت کی خدمت ہم سب کا فرض اولین ہے۔
چنانچہ آل انڈیا سنی جمیعتہ الاسلام ریلیف کمیٹی کی جانب سے بروز جمعہ مورخہ 19 ،ستمبر 2025 کو شہر بھر کی مساجد نیز شہر کے مرکزی و نمایاں مقامات پر ریلیف کی وصولیابی کے مراکز ہوں گے۔*
*عامتہ المسلمین سے مودبانہ التماس ہے اس ریلیف میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ ایسی اپیل جانشینِ صوفئ ملّت صوفی نورالعین صابری ،الحاج عبد المجید نوری بکھار والا، ایڈوکیٹ خلیل احمد اشرفی کی جانب سے جاری کی گئی ہے۔**
*شہر کے مختلف مقامات پر مراکز ذیل کے مطابق ہوں گے۔*
1۔شبیر نگر سیلانی چوک۔
2۔۔ اگرہ روڈ ۔بس اسٹیشن کے سامنے
3۔۔ حاجی مصطفیٰ چوک ۔ رمضان پورہ
4۔۔ رضا پورہ ۔ مفتی اعظم چوک
5۔۔60 فٹی روڈ انڈین ہوٹل
6۔۔گاندھی نگر کپڑا مارکیٹ
7۔۔کسمباروڈ ، امدادی دواخانہ
Monday, 15 September 2025
Sunday, 14 September 2025
*🔴سیف نیوز بلاگر*
مسجدوں میں سرکاری سولار سسٹم لگا کر سیاسی استقبال کروایا جارہا ہے.
مسجدوں میں سولار کا سیزن آیا ہے
شہر میر سچ میں الیکشن آیا ہے
اب گھر سے ٹوپی پہن کر پھر نکلیں گے
اب ہوگا مسجدوں ممبر کے پاس سیاسی استقبال ( کیا یہ مذہبی سہارا نہیں )
دوسروں پر مذہب کا سہارا اور اسکا الزام لگانے والے خود ایک بار پھر مسجدوں ،مدرسوں میں سیاسی استقبال کروائینگے.
یہ خود مسجدوں ،مدرسوں سے سولار کے نام پر پھر ایکبار سیاست کرینگے۔حالانکہ اسمبلی کی تاریخ رقم کرنے والی ہار کے بعد مساجدوں سے سولار نکلواکر واپس کروایا گیا تھا۔ مگر صحیح میں پھر سے الیکشن کی آمد آمد ہے اسی لئے سولار کے نام پر مسجدوں ،مدرسوں سے سیاست کی جائے گی۔ کیا یہ سیاست میں مذہبی سہارا نہیں ؟
ایکبار پھر سولار کے نام پر مسجدوں میں ممبر کے پاس دعائیہ مجلس ہوگی۔
اب بات آتی ہے جمعیت علماء سید ارشد مدنی کی ایماء پر وہ وقت یاد کرو کہ ماہ مبارک کے ایام میں شہریان سے اپیل کررہے تھے کہ چندہ جمعیت کو نہ دیں۔ یہاں دیں وہاں دیں مگر مدنی روڈ کو نہ دیں۔ مگر ایک بات یاد رکھیں جس شخص یا جس ادارہ کی جتنی مخالفت ہوتی ہے۔ حقیقت میں اسکی رقابت عوام میں بڑھتی ہے۔
ابھی تاریخی دن جو گذشتہ جمعہ 12ستمبر کا وہ دن جو سید ارشد مدنی کی ایماء پر جمعیت علماء مدنی روڈ کی جانب سے پنجاب ہریانہ کے بھیانک سیلاب کے متاثرین کی مالی امداد کیلئے مفتی صاحب کی آواز پر جمعیت علماء مدنی روڈ کی جانب سے پورے شہر بھر کی اکثریت مساجد میں اور دیگر سماجی گروپ ادارہ و نوجوانوں کی دلچشپی سے شہر بھر سے ریکارڈ توڑ ریلیف جمع ہوئی۔ جو پچھلے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ اور یہ بھی ایسے وقت میں ہوا جب سیاسی مخالفین جمعیت علماء کا کھل کر بائیکاٹ اور چندہ نہ دینے کی اپیل کرچکے ہیں۔ انہیں شہری جمعیت مدنی روڈ سے بیر ہے مگر آئے دن جمعیت کے خبری بن کر ممبئی جمعیت کے دفتر پر حاضری بھی لگاتے ہیں۔
اور آج اسی جمعیت پر بوگس ووٹ کا الزام اور جمعیت مدنی روڈ کے صدر پر بوگس ووٹ کا الزام لگاکر FIR درج کرانے کی مانگ کررہے ہیں جس جمعیت کے ممبئی کے صدر دفتر پر خبری بن کر ماتھا رگڑنے گئے ۔
انہیں شائد جمعیت کی تاریخی کارکردگی کا مطالعہ نہیں ہے۔ اسی لئے وہ نیند سے اٹھتے ہی روزآنہ ہار تازہ ہوجاتی اور اسے برداشت نہ کرنے کیلئے یہ کند ذہن بن جاتے ہیں ۔
مسجد و مدرسوں میں سرکاری سولار لگواکر کہہ رہے ہیں کہ ہم سیاست میں مذہب استعمال نہیں کررہے ہیں
بلکہ مذہب میں سیاست کا استعمال کررہے ہیں
یاد رکھنا جس شخص نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے 2014 میں اسمبلی الیکشن سے پہلے مسلم ریزرویشن کے نام پر ملک کے مایا ناز علماء کا استعمال کیا
یہ بول کر کہ یہ غیر سیاسی تحریک ہے
اسمبلی الیکشن کے وقت مسلم ریزرویشن کی پد یاترا کی خوب ویڈیو اور تصویریں بتاکر ووٹ بٹوری گئی
یاد رکھنا دوستوں 2014 سے پہلے جن لوگوں نے سابق آم۔۔۔ کو دیکھا ہونگا
کہ پھولے ہوئے گال
باہر نکلا ہوا پیٹ اور توند
بھاری بھرکم جسم
موٹے موٹے ہاتھ پیر
اب وہ جسم کہاں گیا ؟
ہم بتاتے ہیں آپ لوگوں کو !
موٹاپا کم کرنے لئے ڈاکٹروں نے زیادہ سے زیادہ پیدل چلنے کے لئے کہا
پھر کیا ہوگیا ڈرامہ شروع
ملک کے اکابر علماء کرام کو مسلم ریزرویشن کے نام پر مالیگاؤں شہر بلایا گیا
کہا گیا کہ یہ غیر سیاسی تحریک ہے ( یہ الگ بات ہے اسمبلی الیکشن کے وقت اپنی اوقات بتادی )
ڈاکٹروں کے مشورے سے موٹاپا کم کرنے کے لیے
مالیگاؤں سے ممبئی پیدل یاترا نکالی گئی
تھوڑا موٹاپا کم
پھر مالیگاؤں سے ناشک تک
اور کم
پھر اسکے بعد جامعتہ الصالحات سے شہیدوں کی یاد گار تک
پورا کم
۔۔۔۔
مسجدوں مدرسوں کا بی جے پی سرکار سے سودا کرنے والے سابق آم۔۔۔ کو اسمبلی کے جیسا بتایا جائے گا۔ انشاء اللہ۔ وقت تو آنے دو عوام اب اولڈ ورجن میں نہیں جی رہی ہے۔ بلکہ نئی جنریشن نئی نسل نئے ورجن میں جی رہی ہے۔
انشا اللہ کارپوریشن الیکشن میں بھی عوام تمہیں سبق سکھائے گی ۔
کیا پاکستان بنے گا اسرائیل کا اگلا نشانہ؟ یو این میں ایسا کیا ہوا، عاصم منیر کے ملک کی بڑھ گئی پریشانی، جانئے
کیا اسرائیل اب پاکستان کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے؟ یہ سوال اس لیے اٹھایا جا رہا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں دونوں ممالک کے نمائندوں کے درمیان گرما گرم بحث ہوئی۔ اگرچہ اسرائیل اور پاکستان دونوں امریکہ کے قریب ہیں اور عام طور پر براہ راست محاذ آرائی سے گریز کرتے ہیں لیکن اس بار پاکستان نے خود ہی ایک تنازع کھڑا کر دیا۔ یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب قطر میں حماس کے رہنماؤں پر اسرائیلی حملے پر اقوام متحدہ میں بحث ہو رہی تھی۔
پاکستان کے نمائندے عاصم افتخار احمد نے اسرائیل پر “غیر قانونی اور جارحانہ اقدام” کا الزام لگایا اور کہا کہ یہ اس کے “ہمیشہ جارحانہ رویہ” کا حصہ ہے۔ انہوں نے اسرائیل پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی، غزہ میں وحشیانہ حملے اور شام، لبنان، ایران اور یمن میں حملے کرنے کا الزام لگایا۔
اسرائیل نے بھی دیا جواب
اس پر اسرائیلی نمائندے ڈینی ڈینن نے پاکستان کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ میرا مقصد آپ کو تکلیف پہنچانا نہیں بلکہ حقیقت بتانا ہے۔ مت بھولئے کہ القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن پاکستانی سرزمین پر چھپا تھا اور وہیں مارا گیا تھا ۔ سوال یہ نہیں تھا کہ امریکہ نے بیرونی سرزمین پر حملہ کیوں کیا بلکہ سوال یہ تھا کہ ایک دہشت گرد کو پناہ کیوں دی گئی؟
ڈینن نے مزید کہا کہ پاکستان تاریخ نہیں بدل سکتا۔ نائن الیون پاکستان میں نہیں ہوا لیکن اسامہ وہاں چھپا ہوا پایا گیا۔ جب امریکہ نے اسے مارا تو کسی نے احتجاج نہیں کیا۔ پھر اسرائیل پر الزام کیوں لگایا جاتا ہے
پھر پاکستان نے اسرائیل کو ‘قابض’ اور ‘جارح ملک’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم کا غلط استعمال کر رہا ہے۔ احمد نے کہا کہ “اسرائیل اپنی غیر قانونی سرگرمیوں کو چھپانے کے لیے دوسروں پر انگلیاں اٹھاتا ہے۔” اقوام متحدہ میں اس طرح کی بحث کے بعد پاکستان پر سفارتی دباؤ ضرور بڑھ گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اسرائیل براہ راست پاکستان کو نشانہ بنا سکتا ہے؟ ابھی اس کا امکان کافی کم ہے لیکن کبھی کسی نے قطر پر اسرائیل کے حملے کا سوچا بھی نہیں تھا۔
جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی اسٹوڈنٹ یونین کے سابق لیڈر عمر خالد کی گرفتاری کو پانچ برس پورے ہوگئے ہیں۔ انھیں 13ستمبر2020 کو دہلی فساد کے معاملے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ان کی گرفتاری انسداد دہشت گردی قانون(UAPA) کے تحت عمل میں آئی تھی۔
عمرخالدپر آئی پی سی کی مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کئے گئے ہیں ۔ ان کی ضمانت کی عرضی کو ٹرائل اور اپیل عدالتوں نے کم از کم چار بار مسترد کیا۔ ان میں حالیہ سماعت2 ستمبر کو تھی۔
سپریم کورٹ میں عمرخالد کی عرضی کو14بار ملتوی کیا گیاہے جس کے بعدانھوں نے اپنی عرضی واپس لے لی۔گزشتہ جمعے کے روز، سپریم کورٹ نے عمر خالد، شرجیل امام، گل فشاں فاطمہ، اور میران حیدر کی ضمانت کی درخواستوں کی سماعت19 ستمبر تک ملتوی کر دی
15 اپریل 2021 کودہلی کی ایک عدالت نے خالد کی ضمانت منظور کی تھی لیکن چونکہ ان پر دیگرالزامات ہیں لہذا وہ جیل میں ہی ہیں ۔12دسمبر2022کو، دہلی کی ایک عدالت نے خالد کو ان کی بہن کی شادی میں شرکت کے لیے23 دسمبر سے30 دسمبر تک عارضی ضمانت دی گئی تھی۔
خالد کی گرفتاری کی پانچ سال مکمل ہونے پر مشترکہ بیان میں، ایمنسٹی انٹرنیشنل، CIVICUS، انٹرنیشنل کمیشن آف جسٹس، انٹرنیشنل فیڈریشن فار ہیومن رائٹس، فورم ایشیا، فرنٹ لائن ڈیفنڈرز اور ورلڈ آرگنائزیشن اگینسٹ ٹارچر نے کہا کہ عمر خالد کی حراست ہندوستان میں انصاف کے پٹری سے اترنے کی ایک مثال ہے۔اس سے قبل، عمر خالد کی والدہ ڈاکٹر صبیحہ خانم نے کہا تھا کہ ان کا بیٹا اپنے لیے نہیں بلکہ قوم کے لیے جیل میں ہے۔
عمرخالد کی گرفتاری کے پانچ سال مکمل ہونے پر جے این یو اسٹوڈنٹس یونین کی طرف سے منعقدہ تقریب میں قاسم رسول الیاس نے شرکت کی۔اس موقع پرانھوں نے کہا کہ طویل قید نے ان کے بیٹے کی روح کو نہیں توڑا ہے۔انھوں نے کہا کہ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ عمر کو کوئی پچھتاوا نہیں ہے اور نہ ہی برسوں کی جیل نے اس کی روح کو توڑا ہے۔
*🔴سیف نیوز بلاگر*
میناکشی کا سفر سخت جدوجہد سے بھرا ہوا ہے
ہریانہ کے روہتک ضلع کے راورکی گاؤں کی۲۴؍ سالہ میناکشی چار بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی ہے۔ اس کے والد آٹو رکشا چلاتے ہیں اور ماں گھریلو خاتون ہیں۔ ان کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کرنا پڑی۔ ذاتی کوچ وجے ہڈا نے ابتدائی طور پر خوراک، کٹ اور سفر کے اخراجات میں مدد کی۔ وہ اپنی اکیڈمی میں مفت تربیت دیتے ہیں۔ یہ میناکشی کے لیے پہلی عالمی چمپئن شپ ہے، جنہوں نے۲۰۲۲ء میں ایشیائی چمپئن شپ میں چاندی کا تمغہ جیتا تھا۔
۱۲؍برسوں میں پہلی بار مردوں کے زمرے میں ہاتھ خالی
۱۲؍برسوں میں یہ پہلا موقع ہے جب ہندوستانی مکے بازوں کو مردوں کے زمرے میں خالی ہاتھ لوٹنا پڑے گا۔ جادومنی سنگھ کا مقابلہ دفاعی عالمی چمپئن قزاخستان کے سنجیر تاشکنبے سے تھا، جس کے خلاف وہ۰۔۴؍ سے ہار گئے۔ جادومنی کی شکست کے ساتھ ہی یہ طے ہوگیا کہ ہندوستان کی۱۰؍ رکنی مردوں کی ٹیم کو اس بار کوئی تمغہ نہیں ملے گا۔ ایسا۲۰۱۳ء کے بعد پہلی بار ہوگا۔ لپ ٠ نے۲۰۲۳ء میں تاشقند میں ۳؍ کانسہ کے تمغے جیتے تھے۔
ہریانہ کے روہتک ضلع کے راورکی گاؤں کی۲۴؍ سالہ میناکشی چار بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی ہے۔ اس کے والد آٹو رکشا چلاتے ہیں اور ماں گھریلو خاتون ہیں۔ ان کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کرنا پڑی۔ ذاتی کوچ وجے ہڈا نے ابتدائی طور پر خوراک، کٹ اور سفر کے اخراجات میں مدد کی۔ وہ اپنی اکیڈمی میں مفت تربیت دیتے ہیں۔ یہ میناکشی کے لیے پہلی عالمی چمپئن شپ ہے، جنہوں نے۲۰۲۲ء میں ایشیائی چمپئن شپ میں چاندی کا تمغہ جیتا تھا۔
۱۲؍برسوں میں پہلی بار مردوں کے زمرے میں ہاتھ خالی
۱۲؍برسوں میں یہ پہلا موقع ہے جب ہندوستانی مکے بازوں کو مردوں کے زمرے میں خالی ہاتھ لوٹنا پڑے گا۔ جادومنی سنگھ کا مقابلہ دفاعی عالمی چمپئن قزاخستان کے سنجیر تاشکنبے سے تھا، جس کے خلاف وہ۰۔۴؍ سے ہار گئے۔ جادومنی کی شکست کے ساتھ ہی یہ طے ہوگیا کہ ہندوستان کی۱۰؍ رکنی مردوں کی ٹیم کو اس بار کوئی تمغہ نہیں ملے گا۔ ایسا۲۰۱۳ء کے بعد پہلی بار ہوگا۔ ہندوستان نے۲۰۲۳ء میں تاشقند میں ۳؍ کانسہ کے تمغے جیتے تھے۔
________:::🔴🔴
ساگر سرحدی ملک اور اردو کے قابل ڈرامہ نگار تھے:جاوید صدیقی
انھوں نے اِپٹا کے لیے ’بھگت سنگھ دی واپسی‘ اور’تنہائی‘جیسے ڈرامے لکھے
ممبئی ۲۳ مارچ:(فرحان حنیف وارثی)ادب اور فلموں کے معروف قلمکار ساگر سرحدی کے سانحہ ارتحال پر ادبی اور فلمی حلقہ سوگوار ہے۔پرنٹ اور سوشل میڈیا میں انھیں تعزیت پیش کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔بالی ووڈ کے کامیاب مصنف،مکالمہ ،ڈرامہ اور خاکہ نویس جاوید صدیقی نے ساگر سرحدی سے وابستہ یادوں کو بیان کرتے ہوئے کہا:’ساگر سرحدی سے میں 1960ء میں ملا تھا ۔ہم دنوں میں ایک بات مشترک تھی ،وہ یہ کہ ہم دونوں کی فلموں اور ڈراموں سے وابستگی تھی۔دونوں ہی فلموں کی کہانیوں کے ساتھ ساتھ مکالمہ اور ڈرامہ نویسی میں متحرک تھے۔ بلاشبہ وہ ملک اور اردوزبان کے ایک بہترین اور قابل ڈرامہ نگار تھے۔میں اور وہ انڈین پیوپلس تھیئٹرایسوسی ایشن ( اِپٹا) سے بھی منسلک تھے۔‘
جاویدصدیقی بتاتے ہیں:’ سال 2008 ءمیں انھیں ڈراموں کے لیے ’غالب ایوارڈ‘ تفویض کیا گیا تھا۔’تنہائی‘ اور ’ بھگت سنگھ دی واپسی‘کا شمار اِپٹا کے کلاسیک ڈراموں میں ہوتا ہے۔جوہو میں واقع کیفی اعظمی صاحب کی رہائش گاہ جانکی کٹیر میں ساگر صاحب،میں اور فلم اندسٹری میں قدم جمانے کی کوششوں میں مصروف دیگر قلمکارجمع ہوتے تھے۔کیفی صاحب اور شوکت(اعظمی) آپاایک طرح سے ہمارے استاد تھے اور اپنے قیمتی مشوروں سے نواز کرتے تھے۔ان محفلوں میں ساگر صاحب کے بھانجےرمیش تلوار،بھرت کپور،میک موہن اور شمع زیدی بھی شریک ہوتی تھیں۔ادب اور شاعری پر گفتگو ہوتی تھی۔ساگر صاحب سے میں آخری مرتبہ
لاک ڈاؤن سے پہلے ملا تھا۔وہ ڈپریشن میں تھے۔ان کی بینائی کمزور ہوگئی تھی۔‘
ساگر سرحدی نے اتوار21مارچ کوخاموشی سے اس دارِفانی کو الوداع کہا تھا۔وہ11مئی 1933ء کو پاکستان کے صوبے پختونخواہ(سابقہ صوبہ سرحد)کے شہر ایبٹ آباد کے بفا نامی قصبے میں تولد ہوئے تھے۔ملک کے بٹوارے کے بعدانھوں نے 12سال کی عمر میں اپنے خاندان کے ساتھ ہجرت کی اور دہلی میں سکونت اختیار کی۔بعد ازاں اپنے بڑے بھائی کے ساتھ ممبئی منتقل ہوگئے اورسائن کولی واڑہ کے سردار رفیوجی کیمپ میں پناہ گزیں ہوئے۔ان کا پیدائشی نام گنگا ساگر تلوار تھا۔وہ خالصہ کالج اور سینٹ زیویئرس کالج میں زیر تعلیم رہے۔پیر کی صبح انھیں سائن کی شمشان بھومی میں سپرد آتش کیا گیا۔ان کی پہچان افسانہ نگار،ڈرامہ نویس ،فلم ساز،ہدایت کار،مکالمہ نویس اور اسکرین پلے رائٹر کی تھی۔انھوں نے کبھی کبھی(1976)انکار( 1977)،دوسرا آدمی(1977)،نوری(1979)،سلسلہ(1981)،بازار(1982)،چاندنی(1989)،رنگ(11 1993)،فاصلے
(1995)،زندگی(1996)،کرم یوگی(1998)،دیوانہ(1992)،کہو نا پیار ہے(2000)، ’کاروبار‘(2000) اورچوسر(2018)جیسی فلمیں لکھی ہیں۔وہ ’ بازار‘ (1982)اور ’ تیرے شہر میں ‘(1986)نامی فلموں کے ہدایت کار بھی تھے۔ان کے افسانوں کا مجموعہ’جیون جانور‘ کے نام سے چھپ چکا ہے۔ان کے تحریر کرددہ ڈراموں:بھگت سنگھ دی واپسی،بھوکا بھجن نہ ہوئے گوپالا،خیال کی دستک اور’راج دربار‘ کو کافی مقبولیت ملی تھی۔
___________🔴🔴🔴
“گھر اور مکان “
مالک کامکان ہو
یابھاڑےکامکان
گھرنہ ہوتاسائیں
مٹی گارےکامکان
لوگ جہاں
بس جائیں سائیں
رشتے، پیار
نبھائیں سائیں
محل ہو یا جھونپڑا
یا خالی مکان
گھر نہ ہوتا سائیں
مٹی گارے کا مکان
گھر ہوتا ہے سائیں
گھر میں بسنے
والوں سے ، پیار
اور ،سلوک سے ناکہ
دولت والوں سے
سونے ، چاندی کے
دروازے ہوں یا
ہیرے موتی کے
شیشےاور فانوس
نلکے،ہینڈل باہر کے
کھڑکیاں ، چھت اور
دیواریں ،اونچی
قسموں کی
پر بسنے والے موم ، مٹی
اور گارے کے ہوں
اونچے ، اونچے محل ہوں
یا گارے ، مٹی کے مکان
گھر نئی بنتے سائیں
مٹی ، گاڑے کے مکان
کھڑکیوں ، درو ازوں سے
شور، اور شرابوں ، سے
چیخوں اور آوازوں سے
پیار بناء گھر نہ ہوتا سائیں
وہ تو ہوتا ہے مکان
گھر نہ ہوتا سائیں
مٹی گارے کا مکان
🌷 سیماں صوفی امریکہ 🌷
__________
🌼غزل 🌼ورن آنند
چاند، ستارے، پھول، پرندے، شام، سویرا ایک طرف
ساری دنیا اُس کا چربہ اُس کا چہرہ ایک طرف
وہ لڑ کر بھی سو جائے تو اُس کا ماتھا چوموں میں
اُس سے محبت ایک طرف ہے اُس سے جھگڑا ایک طرف
جس شے پر وہ اُنگلی رکھ دے اُس کو وہ دِلوانی ہے
اُس کی خوشیاں سب سے اوّل سستہ مہنگا ایک طرف
زخموں پر مرہم لگواؤ لیکن اُس کے ہاتھوں سے
چارہ سازی ایک طرف ہے اُس کا چُھونا ایک طرف
ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابہ ہے
سب کا کہنا ایک طرف ہے اُس کا کہنا ایک طرف
اُس نے ساری دنیا مانگی میں نے اُس کو مانگا ہے
اُس کے سپنے ایک طرف ہیں میرا سپنا ایک طرف
وَرُن آنند
*🔴سیف نیوز بلاگر*
دبئی اسٹیڈیم چھاونی میں تبدیل، ہند-پاک میچ میں ہائی سیکورٹی الرٹ، کس بات کا ہے اندیشہ، چپے چپے پر لگائی گئی ہائی ٹیک مشینیں
نئی دہلی : یہ پہلا موقع ہوگا جب شائقین کو ہندوستان – پاکستان میچ کے دوران اسٹیڈیم میں پوسٹر یا جھنڈے لے جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ سیلفی اسٹکس، بڑے کیمرے یا کسی بھی قسم کی آتش بازی کے بارے میں تو بھول ہی جائیے ۔ پولیس اور سیکورٹی اہلکار جانتے ہیں کہ کچھ بھی ہو سکتا ہے اور وہ کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتے۔ صبح سے ہی اسٹیڈیم کے اطراف میں سیکورٹی چوکیاں فعال کر دی گئی ہیں۔ تعینات سیکورٹی اہلکاروں کی تعداد کسی بھی دوسرے کھیل کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہوگی اور کوئی بھی خطرہ مول لینے کو تیار نہیں ہے۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک مقامی شخص نے اس کی وضاحت میں مدد کی، “دبئی کھیلوں کا ایک بین الاقوامی مقام ہے، ہم نے بہت سے ہائی پروفائل ایونٹس کی میزبانی کی ہے اور ہر تماشائی اور ہر کھلاڑی کی حفاظت کو یقینی بنانا ہمارا فرض ہے اور ہم ایسا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔”
جرمانہ بھی اور ضمانت بھی نہیں
پولیس نے پہلے ہی سیکورٹی بڑھا دی ہے۔ جرمانہ 5000 سے 30000 AED تک ہو سکتا ہے اور کسی بھی خلاف ورزی پر ملک بدری یا ایک سے تین ماہ تک قید ہو سکتی ہے۔ مختصراً، دبئی اسٹیڈیم کو آج رات کے میچ کے لیے ایک چھاونی میں تبدیل کر دیا جائے گا جس میں اضافی چیکنگ اور چھان بین کی جائے گی۔ تعینات پولیس علاقے میں گشت کرے گی اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی سے سختی سے نمٹا جائے گا۔
ہر طرف صرف سوال ہی سوال
میڈیا کے لیے بھی بہت سخت قوانین ہیں۔ کئی چیزیں نہیں کر سکتے ہیں اور خلاف ورزیوں کے نتیجے میں منظوری کی منسوخی ہو سکتی ہے۔ کئی سالوں سے ہندوستان اور پاکستان میچ ہوتے رہے ہیں، لیکن اس بار ماحول ایسا نہیں ہے کیونکہ تقریباً ہر کوئی تناؤ کا شکار ہے۔ کوئی کھل کر بات کرنے کو تیار نہیں اور یہی پریشانی اور تناؤ کی وجہ ہے
کھلاڑی جانتے ہیں کہ یہ ایک ایسا کھیل ہے جس میں کوئی شکست قبول نہیں کرے گا اور وہ اب تک خاموشی سے اپنا کام کرتے رہے ہیں۔ بس امید ہے کہ وہ آج رات بغیر کسی جذبات کے اپنا کام مکمل کر لیں گے۔ یہ کرکٹ میچ نہیں ہے، اس میں اور بھی بہت کچھ ہے اور یہ ہم میں سے ہر کوئی جانتا ہے۔
پاکستان میں سیلاب نے مچائی بھاری تباہی 97 لوگوں کی موت، 44 لاکھ سے زائد افراد متاثر
اسلام آباد: پاکستان کے مشرقی پنجاب صوبے میں سیلاب سے تقریباً 97 افراد ہلاک اور 44 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں ۔صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) نے یہ اطلاع دی ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے راوی، ستلج اور چناب میں پانی کی سطح بلند ہونے سے آنے والے سیلاب نے صوبے بھر کے ساڑھے چار ہزار سے زائد دیہات کو نقصان پہنچایا ہے۔ اتھارٹی نے کہا کہ جاری بچاؤ اور ریلیف آپریشنز کے تحت اب تک تقریباً 24.5 لاکھ لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ ژنہوا خبر رساں ایجنسی نے پی ڈی ایم اے کے حوالے سے بتایا کہ متاثرہ اضلاع میں کل 396 ریلیف کیمپ قائم کیے گئے ہیں، جبکہ تقریباً 1.9 ملین مویشیوں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 26 جون سے ملک بھر میں موسمی بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے کم از کم 956 افراد ہلاک اور 1,060 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ ملک بھر میں 8,400 سے زیادہ مکانات تباہ ہوئے ہیں یا انہیں نقصان پہنچا ہے۔ ساتھ ہی 6,500 سے زیادہ مویشی مر چکے ہیں۔ امدادی کارروائیاں جاری ہیں ۔حکام بے گھر کمیونٹیز کو پناہ گاہ، خوراک اور طبی امداد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ مزید نقصانات کو روکنے کے لیے کام کررہے ہیں۔
شہباز حکومت کا کیا ہے آنکڑا؟
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے جمعہ کو کہا کہ اس سال 26 جون سے شروع ہونے والی طوفانی بارشوں اور سیلاب سے کم از کم 884 افراد ہلاک، 1182 زخمی، 9،363 مکانات تباہ اور 6180 مویشی ہلاک ہو چکے ہیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے سیلاب کے بحران، مواصلاتی نظام میں شدید خلل اور انفراسٹرکچر کو بڑے پیمانے پر نقصان کے باعث پنجاب کے 9 حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات ملتوی کر دیے ہیں۔ حکام نے مزید بارشوں کی وارننگ جاری کر دی ہے جبکہ امدادی ٹیمیں چوکس ہیں اور متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔
ڈوبنے سے 10 افراد جاں بحق ہو گئے
اس سے قبل پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ریسکیو آپریشن کے دوران تین کشتیاں الٹنے سے بچوں سمیت کم از کم 10 سیلاب متاثرین ہلاک ہو گئے تھے۔ ایک عہدیدار نے جمعہ کو یہ اطلاع دی۔ پنجاب ایمرجنسی سروسز ریسکیو 1122 کے اہلکار کے مطابق جنوبی پنجاب میں بڑے پیمانے پر انخلاء کی کارروائیاں جاری ہیں کیونکہ سینکڑوں دیہات سیلابی پانی میں ڈوب گئے ہیں۔
اہلکار نے بتایا، ‘انخلا کے آپریشن کے دوران ملتان اور بہاولنگر کے قریب تین کشتیاں الٹ گئیں، جس کے نتیجے میں بچوں سمیت 10 سیلاب متاثرین ہلاک ہو گئے۔ تاہم، امدادی کارکنوں نے 40 دیگر کو ڈوبنے سے بچا لیا۔’
دہلی کے بعد بامبے ہائی کورٹ کوبھی بم سے اڑانے کی دھمکی، پولیس حرکت میں آئی
Back
وطن نامہ
FOLLOW US
SHARE
INSTALL APP
دہلی کے بعد بامبے ہائی کورٹ کوبھی بم سے اڑانے کی دھمکی، پولیس حرکت میں آئی
Bombay High Court Bomb Threat:بامبے ہائی کورٹ کو بھی بم سےاڑانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ جس کے بعد عدالت کےاحاطے کو خالی کرا لیا گیاہے۔
اشتہار
Last Updated : September 12, 2025, 2:11 pm IST
Published by : md abidreyaz
بامبے ہائی کورٹ کو بم سے اڑانے کی دھمکیبامبے ہائی کورٹ کو بم سے اڑانے کی دھمکی
اشتہار
متعلقہ ویڈیو
Maharashtra News: نونیت رانا کی ضمانت عرضی پر 29 اپریل کو ہوگی سماعت
Maharashtra News: نونیت رانا کی ضمانت عرضی پر 29 اپریل کو ہوگی سماعت
Delhi News: جہانگیر پوری میں اسدالدین اویسی کو داخل ہونے سے روکا گیا
Delhi News: جہانگیر پوری میں اسدالدین اویسی کو داخل ہونے سے روکا گیا
دہلی ہائی کورٹ نے ایم پی انجینئر رشید کو پارلیمنٹ میں حاضری کے لیے حراستی پیرول دے دیا
دہلی ہائی کورٹ نے ایم پی انجینئر رشید کو پارلیمنٹ میں حاضری کے لیے حراستی پیرول دے دیا
Delhi-Noida School Bomb Threat : دہلی-نوئیڈا کےاسکولوں کو پھر سے بم سے نشانہ بنانے کی دھمکی
Delhi-Noida School Bomb Threat : دہلی-نوئیڈا کےاسکولوں کو پھر سے بم سے نشانہ بنانے کی دھمکی
Mumbai News: انل دیشمکھ اور نواب ملک کو نہیں ملی راحت، یہاں جانیں پورا معاملہ
Mumbai News: انل دیشمکھ اور نواب ملک کو نہیں ملی راحت، یہاں جانیں پورا معاملہ
Delhi High Court نے نظام الدین مرکز میں بنگلے والی مسجد کو کھولنے کی دی اجازت
Delhi High Court نے نظام الدین مرکز میں بنگلے والی مسجد کو کھولنے کی دی اجازت
Maharashtra News: نونیت رانا کی ضمانت عرضی پر 29 اپریل کو ہوگی سماعت
Maharashtra News: نونیت رانا کی ضمانت عرضی پر 29 اپریل کو ہوگی سماعت
Delhi News: جہانگیر پوری میں اسدالدین اویسی کو داخل ہونے سے روکا گیا
Delhi News: جہانگیر پوری میں اسدالدین اویسی کو داخل ہونے سے روکا گیا
دہلی ہائی کورٹ نے ایم پی انجینئر رشید کو پارلیمنٹ میں حاضری کے لیے حراستی پیرول دے دیا
دہلی ہائی کورٹ نے ایم پی انجینئر رشید کو پارلیمنٹ میں حاضری کے لیے حراستی پیرول دے دیا
Delhi-Noida School Bomb Threat : دہلی-نوئیڈا کےاسکولوں کو پھر سے بم سے نشانہ بنانے کی دھمکی
Delhi-Noida School Bomb Threat : دہلی-نوئیڈا کےاسکولوں کو پھر سے بم سے نشانہ بنانے کی دھمکی
دہلی ہائی کورٹ کے بعد اب بامبے ہائی کورٹ کو بھی بم سے اڑانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ دھمکی آمیز ای میل موصول ہونے کے بعد عدالت کے احاطے کو فوری طور پر خالی کرا لیا گیاہے۔ یہ اطلاع ملنے کے بعد پولیس کے ساتھ ساتھ دیگر سیکورٹی ایجنسیاں بھی الرٹ ہوگئیں۔ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور سرچ آپریشن شروع کردیا گیا۔ اس سے سماعت میں بھی خلل پڑا ہے۔
بامبے ہائی کورٹ کو بم سے اڑانے کی دھمکی بھی ای میل کے ذریعے دی گئی ۔ اس کے بعد احتیاط کے طور پر عدالت کے احاطے کو خالی کرا لیا گیا ۔ ججوں سے لے کر وکلاء اور شکایت کنندگان تک سب کو کورٹ کمپلیکس سے باہر لے جایا گیا ۔ عموماً بامبے ہائی کورٹ کی سیکورٹی بہت سخت ہوتی ہے۔ کسی بھی قسم کی مشکوک سرگرمی پر فوری کارروائی کی جاتی ہے۔ اس بار بھی ایسا ہی کیا گیا۔ پولیس کو ہائی کورٹ میں بم کی اطلاع ملتے ہی عدالت کے احاطے کو حفاظتی گھیرےمیں لے کر تلاشی شروع کر دی گئی
دہلی ہائی کورٹ کوبھی بم سے اڑانے کی دی گئی دھمکی
اس سے پہلے دہلی ہائی کورٹ میں تین بم نصب کیے جانے کے بارے میں دھمکی آمیز ای میل موصول ہوا۔ جس کے بعد سکیورٹی ادارے الرٹ ہوگئے۔ بم اسکواڈ بھی موقع پر پہنچ گیا۔ وہاں موجود ہر فرد کو عدالت کے احاطے کو سینیٹائز کرنے کے لیے نکلنے کی ہدایت کی گئی۔
عدالت کے احاطے میں بم نصب کیے جانے کی دھمکی آمیز ای میل موصول ہونے کے بعد جج، وکلاء، مدعی سبھی عدالتی احاطے سے باہر نکل گئے۔ اس سے سماعت کا عمل بھی متاثر ہوئی۔ اس کے ساتھ ہی عدالت کے اطراف سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ۔
سکیورٹی اہلکار حرکت میں آئے
دہلی ہائی کورٹ کو بم کی دھمکی ملنے کے بعد سیکورٹی ایجنسیاں اور پولیس حرکت میں آگئی۔ بم اسکواڈ اور فائر بریگیڈ کی ٹیم نے عدالت کے احاطے کے ہر کونے کی تلاشی لی۔ تاہم تحقیقات کے دوران دہلی ہائی کورٹ کے اندر کوئی مشکوک چیز یا کوئی دھماکہ خیز مواد نہیں ملا۔ ای میل کے ذریعے دی گئی دھمکی جعلی ثابت ہوئی۔ دہلی پولیس کی کئی ٹیمیں موقع پر موجود تھیں۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ اس سے قبل دہلی۔این سی آر کے کئی اسکولوں کو بم دھماکوں کی دھمکیاں بھی دی گئی تھیں، جو بعد میں فرضی ثابت ہوئیں۔ دہلی ہائی کورٹ کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہوا ہے۔
*🔴سیف نیوز بلاگر*
منیش پاٹل کا اکولہ کے ای سی پی کی حیثیت سے تبادلہ
پرویز خان (پی کے )،طفیل فاروقی اور دوستوں نے مبارکباد پیش کی
بھیونڈی : (ڈیلی نیوز ):۲۰۱۹؍ میں بھیونڈی پولس میں ٹرانسفر ہو کر آئے منیش پاٹل گزشتہ دنوں اے سی پی کے عہدے پر ترقی پاکر اکولہ ٹرانسفر ہوئے۔اس خوشی کے موقع پر ان کے دوست احباب نے ان کو مبارکباد پیش کی اور ان کے بہتر مستقبل کے لئے دعائیں کی ۔
اس موقع پر اے سی پی منیش پاٹل نے کہا کہ ۲۰۱۹ تا ۲۰۲۵ء بھیونڈی کی عوام اور دوستوں سے انھیں جو پیار ملا وہ کبھی بھلایا نہیں جا سکتا ۔انھوں نے طفیل فاروقی اور پرویزخان (پی کے ) اور ان کے ساتھیوں کے پیار اور تعاون کا خصوصی طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کا پیار اور تعاون کبھی بھلایا نہیں جا سکتا ،وہ جہاں بھی ڈیوٹی پر رہیں اپنے دوستوں کو ضرور یا د رکھیں گے۔ساتھ ہی انھوں نے بھیونڈی کی عوام سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ اپنے فرض کی ادائیگی میں ان سے ہوسکتا ہے کہیں کوتاہی ہوئی ہو تو انھیں معاف کریں۔
اس موقع پر طفیل فاروقی اور جناب پرویز خان (پی کے ) نے بھی اے سی پی شری منیش پاٹل کو ان کی ترقی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آپ جہاں بھی جائیں ،ایشور اللہ آپ کے ذریعے لوگوں کو حق اور انصاف دلانے کا کام کروائے اور لوگوں سے پیار اور میل ملاپ کے آپ کے جذبے اور کام کرنے کے طریقے کو مزید تقویت اور زندگی کے ہر مرحلے اور آزمائش میں آپ کامیاب رہیں یہی ہماری دعا ہے۔اس موقع پر پرویز خان (پی کے ) اور طفیل فاروقی نے شال اور گلدستہ پیش کیا ۔
اے سی پی شری منیش پاٹل نے سبھی کا شکریہ ادا کیا
قطرپراسرائیلی حملے ،حماس قیادت کوراہ سے ہٹانے کی کوشش میں ناکامی، عالمی برداری کی مذمت،دوحہ میں موساد کی زمینی کاروائی سے انکارکے انکشافات کے باوجود اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو پرکوئی اثرنہیں ہورہاہے۔ نیتن یاہو اپنے ایجنڈے پرقائم ہیں۔ وہ ہے حماس قیادت کا خاتمہ!
نیتن یاہونے سوشل میڈیا ایکس پراپنے پوسٹ میں لکھا ہے کہ قطر میں مقیم حماس قیادت کا خاتمہ یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ جنگ روکنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ کو دور کر دے گا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ قطر میں موجود حماس قیادت ،غزہ میں جنگ بندی کی کوششوں میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے۔
حملے کی عالمی برداری اورسلامتی کونسل نے شدید مذمت بھی کی۔حالانکہ سلامتی کونسل نے اسرائیل کا نام نہیں لیا ۔ ادھر، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے دوحہ میں حماس قیادت پرحملے کا موازنہ 11ستمبرحملے کے بعدامریکہ کے ردعمل سے کیا تھا ۔اسرائیل ٹائمز کے مطابق، ایک ویڈیو پیغام میں،نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل حماس کے لیڈروں کے خلاف کارروائی کرے گا وہ چاہے جہاں بھی ہوں۔
واضح رہے کہ 9 ستمبر کو،اسرائیلی فضائیہ نے قطر کی راجدھانی دوحہ میں حماس قیادت کونشانہ بنا کرحملہ کیا تھا۔ اسرائیل کے حملے میں6 افراد ہلاک ہوگئےتھے۔حماس کا دعوی ہے کہ اعلی قیادت محفوظ ہے ۔
موساد اورنیتن یاہو کے بھی اختلاف طشت از بام
اس بیچ امریکی روزنامے نے دعویٰ کیا ہے کہ دوحہ مں اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد نے حماس قیادت پر زمینی کارروائی کی مخالفت کی تھی جس کے بعدنیتن یاہو نے فضائی آپریشن کا فیصلہ کیا۔ رپورٹ میں عویٰ کیا گیا ہے کہ موساد، اسرائیلی آرمی چیف اور دیگر حکام نے دوحہ میں کارروائی کو قطر کے ساتھ تعلقات اور جنگ بندی مذاکرات کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔
موساد کے ڈائریکٹر ڈیوڈ بارنیا کا موقف تھا کہ اس طرح کی کارروائی سے قطر کے ساتھ تعلقات خراب ہو سکتے ہیں کیونکہ وہ حماس قیادت کی میزبانی کرنے کےساتھ ساتھ مصراورامریکہ کے ساتھ ثالث کا کردارادا کررہا ہے ۔جس پراسرائیلی وزیر دفاع یوآو کاٹز نے فضائی حملے کی تائید کیاور شین بیت کے تعاون سے آپریشن کو انجام دیا گیا۔
مارکو روبیو کا اسرائیل دورہ
قطرپرحملے کے بعد امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیواسرائیل دورے پر ہیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق،مارکو روبیو پیر کو یروشلم میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔نیتن یاہو سے ملاقات میں دوحہ پر حملے سے متعلق بات متوقع ہے۔ قطرپر حملے کے معاملے پرامریکی صدرٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے بیچ اختلافا ت پائے جاتے ہیں۔روبیو کایہ دورہ اسرائیل کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تنہائی کے تناظر میں حمایت کا مظہر ہے
امن اولین ترجیح ہے‘‘وزیراعظم مودی نے منی پورکی عوام سےآگے بڑھنے کی اپیل کی
امن اولین ترجیح ہے‘‘: وزیراعظم مودی نے منی پورکی عوام سےآگے بڑھنے کی اپیل کی
وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز منی پور کے لوگوں سے امن اور اتحاد کی اپیل کی اور زور دیا کہ ترقی استحکام، انصاف اور سچائی کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتی۔
بیانات اس موقع پر دیے گئے جب وزیراعظم مودی نے 2023 میں شروع ہونے والی بدامنی کے بعد دو سال کے وقفے کے بعد منی پور کا اپنا پہلا دورہ کیا۔ انہوں نے چُراچند پور میں ایک عوامی تقریب سے خطاب کیا، جہاں انہوں نے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا۔
مودی نے منی پور کے لوگوں کو یقین دلایا کہ مرکز ان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے اور کہاکہ ’’میں تمام تنظیموں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ امن کے ساتھ آگے بڑھیں، اپنے خواب پورے کریں اور اپنے بچوں کے لیے بہتر مستقبل کو یقینی بنائیں۔‘‘ ریاست کے ماضی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا، “منی پور ، یہ سرزمین کبھی امید و آرزو کی علامت تھی، مگر یہاں تشدد نے بھی جگہ لی ہوئی تھی۔ کہیں بھی ترقی کے لیے امن ضروری ہے، ساتھ ہی سچائی اور انصاف بھی ضروری ہیں۔
وزیراعظم نے امپھال میں بھی ایک عوامی ریلی سے خطاب کیا اور کہا کہ منی پور وہ ریاست ہے جہاں مائیں اور بہنیں معاشی سرگرمیوں میں ہمیشہ آگے رہی ہیں۔ “میں خواتین کی طاقت کو بھارت کی ترقی اور خود انحصاری کی محرک قوت سمجھتا ہوں اور یہاں منی پور میں ہمیں اس کی حقیقی مثال ملتی ہے،”۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی حکومت نے خواتین کے لیے خصوصی ہاٹ بازار اور ‘ایما مارکیٹس’ کی تعمیر شروع کی’ اور وہ خوش ہیں کہ آج چار نئے ایما مارکیٹس کا افتتاح ہوا۔
وزیراعظم کا متاثرین سے ملاقات
دورے کے پہلے حصّے میں، انہوں نے چُراچند پور میں نسلی تشدد کے متاثرین سے ملاقات کی۔ متاثرین میں وہ اندرونِ ملک بے گھر خاندان شامل تھے جنہوں نے جھڑپوں میں اپنے گھروں کو کھو دیا تھا۔ چُراچند پور کے ‘پیس گراؤنڈ’ میں اپنی تقریر سے پہلے، انہوں نے بچوں سے ملاقات کی اور بچوں کی طرف سے دیے گئے گلدستے اور ایک پینٹنگ قبول کی۔ اسی ملاقات کے دوران ایک بچے کی طرف سے انہیں بطور تحفہ دی گئی روایتی پروں والی ٹوپی پہنائی بھی گئی۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ جو لوگ ریلیف کیمپوں میں رہ رہے ہیں، اُن سے مل کر انہیں یقین حاصل ہوا کہ منی پور میں امید اور اعتماد کی نئی کرن اب ابھرتی دکھائی دیتی ہے اور ترقی کے لیے امن ناگزیر ہے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا جب مئی 2023 سے شروع ہونے والی نسلی کشیدگی خصوصاً مییتی اور کُکی کمیونٹیز کے درمیان جھڑپوں کے دوران متعدد جانیں ضائع ہو چکی ہیں اور ہزاروں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ بین الاقوامی اور مقامی رپورٹس کے مطابق اس تنازعے میں سیکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں بے گھر ہوئے ہیں۔
وزیراعظم نے سڑکوں، بنیادی ڈھانچے اور خواتین کی فلاح و بہبود کے اسکیموں سمیت کل کروڑوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کے سنگِ بنیاد رکھے اور افتتاح کیے ، جن کی کُل مالیت کہا جا رہا ہے کہ کروڑوں روپے ( 7,300 کروڑ روپے کی بنیادیں اور اضافی منصوبے) کے برابر ہے۔ ان منصوبوں میں علاقائی کنیکٹیویٹی، روزگار اور کمیونٹی فلاح کے پروگرام شامل ہیں۔
منی پور کی موجودہ کشیدگی 3 مئی 2023 کے بعد سے جاری نسلی تصادم کا تسلسل ہے، جس میں بنیادی طور پر ویلی (وادی) کے اکثریتی مییتی برادری اور پہاڑی علاقوں کی کُکی-زو قبائل کے درمیان شدید جھڑپیں دیکھنے میں آئیں۔ تنازعے کی بنیادی وجوہات میں شناختی حقوق، مخصوص سماجی اور سیاسی مطالبات، اور بعض عدالتی فیصلوں کے خلاف ردِ عمل شامل رہے۔ رپورٹس میں یہ بھی شامل ہے کہ بعض مقامی رضاکارانہ یا عسکری گروپوں نے ہتھیار اور تشدد میں ملوث عناصر کے ذریعے تناؤ کو بھڑکانے میں کردار ادا کیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے واقعات کی نوعیت پر تشویش ظاہر کی ہے اور قتل، آتش زنی، جنسی تشدد اور بڑے پیمانے پر تباہی کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ اس بحران کے نتیجے میں سیکڑوں ہلاک اور دس ہزاروں لوگوں کی بے دخلی رپورٹ ہوئی ہے؛ مختلف ذرائع میں متاثرین کی تعداد اور ہلاکتوں کے اعدادشمارمیں تضادہے۔
Subscribe to:
Posts (Atom)
*🛑سیف نیوز اُردو*
*🛑ایم پی ایس ایل (MPSL) کی 7 سالہ نااہلی اور معاہدے کی خلاف ورزیوں پر حکومت سے تحریری جواب کا مطالبہ: محمد عمیر شمشاد علی* ...
-
مالیگاؤں کارپوریشن الیکشن 2017 میں تمام امیدواروں کو اپنے وارڈ میں کتنی ووٹ ملی مکمل تفصیل