*بیاضِ عشق ”جناں بکف“ اور صاحبِ کلام مولانا محمد یونس مالیگ*
فاروق اختر مالیگ
(سبکدوش معلم اے ٹی ٹی ہائی اسکول مالیگاؤں)
عنوان کے علی الرغم پہلے بیان صاحبِ مجموعہ کلام کا ہو جائے۔ مہاراشٹر کے ایک اردوزار مالیگاؤں سے تعلق رکھنے والے اور گجرات جیسی غیر اردو ریاست میں خدمتِ دین اور خدمتِ شعر و ادب میں عمرِ عزیز صرف کرنے کے بعد وہیں مدفون ہونے والے شاعرِ اسلام حضرت مولانا محمد یونس مالیگ نور اللہ مرقدہ کا مجموعہ کلام ”جناں بکف“ رضا ریسرچ اینڈ پبلشنگ بورڈ مانچسٹر سے شائع ہو کر مقبولِ خاص و عام ہوا۔ یہ طویل جملہ جس قدر عجیب لگتا ہے، مرحوم کی حیاتِ با صفات بھی اسی قدر متحیر کن ہے۔
مولانا محمد یونس مرحوم مثالی وجیہ و شکیل انسان تھے اور ظاہری حسن سے زیادہ جمالِ باطنی سے بخوبی مزین و منور۔ اور یہ دعویٰ بے دلیل نہیں، بلکہ آپ کی زندگی کے نشیب و فراز اور آپ کا کلام اس کے شاہدینِ عادل ہیں۔ جب عشقِ مجازی میں مبتلا شاعر رنگینی بکھیر سکتا ہے تو عشقِ حقیقی اور محبوبِ حقیقی کے ذکر پر مبنی شاعری کس قدر حسن نہیں بکھیر سکتی!
مولانا مرحوم کے حسنِ کلام پر بلند و مترنم آواز سونے پر سہاگے کا کام کرتی تھی۔ اب بھی سوزِ عشقِ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) میں ڈوبی ہوئی دلکش آواز کبھی یاد آتی ہے تو ایک کمی سی محسوس ہوتی ہے۔ وہ نوائے بلند جس پر غم و آلامِ دنیا کا ہلکا سا بھی اثر نہ ہوا۔ مرحوم صبح صادق کے وقت نماز سے متعلق اپنی نظم خوش الحانی سے پڑھا کرتے تھے، جسے سننے کے لیے لوگ وقت پر اٹھ جایا کرتے تھے۔
اے بندگانِ الٰہی اٹھو نماز پڑھو
کہ صبح ہوگئی بیدار ہو نماز پڑھو
آپ کی طبیعت کی نرمی اور بردباری کا بین ثبوت یہ ہے کہ پاور لوم کے شہر مالیگاؤں میں جہاں سوت کے تاجر امیر ترین اشخاص میں شمار ہوتے تھے، آپ نے ایسا معزز و منفعت بخش پیشہ بھی اپنی مرنجاں مرنج طبیعت کے سبب گنوادیا۔ پھر وہ دن بھی آئے کہ ع
ہے مشقِ سخن جاری، لکڑی کی تجارت بھی
پاور لوم صنعت کے تانے بانے بھی آپ کے لئے سلجھاؤ پیدا نہ کر سکے اور آپ
عزت ملی اسے جو وطن سے نکل گیا
وہ پھول سر چڑھا جو چمن سے نکل گیا
کے مصداق سعدی شیرازی رحمتہ اللہ علیہ کی طرح بیرونِ ملک نہ سہی، بیرونِ ریاست چل پڑے (اس وقت مہاراشٹر اور گجرات الگ نہیں ہوئے تھے)۔ ان کے صاحبزادگانِ با خلف و اولو العزم نہ صرف ملک بلکہ برصغیر اور ایشیاء کو پھلانگ کر دیارِ فرنگ جا پہنچے۔ انھوں نے والدِ ماجد کو بھی اپنے مستقرِ بعید پر بلایا اور سال بھر ان کی خاطر مدارات کی اور پھر مولانا یونس مرحوم نے اپنے اس شعر کو بھی ”مجسم“ دیکھا کہ
مجھ پہ بھی آپ کا ہو گا کرم ان شاء اللہ
دیکھنا جاؤں گا سوئے حرم ان شاء اللہ
ذرا محسوس کیجئے اس جوہرِ قابل کے محسوساتِ قلبی جو حسنِ سیرت اور حسنِ صورت کا مرقع ہو اور ناقدریِ ہم وطناں سے دل برداشتہ ہو کر اپنے اس وطن کو چھوڑ کر چل پڑا ہو جہاں دور دراز سے لوگ آکر روزگار پاتے ہوں لیکن جیسا کہ بعد میں ثابت ہوا کہ اس غریب الدیار نے اپنے دینی و دنیوی مشاغل میں وہ تناسب و امتزاج برتا کہ آخر کار چھوٹا ہوا وطن ان کے تذکروں سے گونج اٹھا۔ رمضان المبارک کے اخیر دنوں میں پڑھی جانے والی آپ کی نظم ”الوداع“ جیسی مقبولیت مالیگاؤں میں شاید ہی کسی اور نظم کو حاصل ہوئی ہو۔ آج مالیگاؤں میں ”مولانا یونس ہال“ اور ”مولانا محمد یونس مالیگ مسجد“ آپ کی یادگاریں ہیں۔
آپ واعظِ خوش بیان بلکہ واعظِ شعلہ نوا تھے۔ آپ کے صاحبزادے مولانا محمد ایوب اشرفی نے بھی آپ سے یہ ملکہ وراثت میں پایا تھا۔ برطانیہ میں مقیم مولانا نیاز احمد مالیگ اور جناب حافظ قاری محمد میاں مالیگ نے والدِ مرحوم کا مجموعہ شائع کروا کر مالیگاؤں کے اس قادر الکلام شاعر کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے جسے مالیگاؤں کی اولین شعری انجمن ”بزمِ سخن“ کے صدر ہونے کا شرف حاصل تھا۔ اس بات کا ذکر اس لیے ضروری ہے کہ شعری انجمن کے اس صدر نے غزلیہ شاعری نہیں کی بلکہ نعتیہ و منقبتی شاعری کا حق ادا کیا۔
مالیگاؤں کے علاوہ گجرات کے اضلاع بھروچ، سورت، بڑودہ، احمد آباد میں اور ایک سالہ قیامِ برطانیہ کے دوران، نیز بمبئی میں عشرۂ محرم میں لا تعداد مواعظِ حسنہ کے ذریعے آپ نے خدمتِ دین و سنیت کی ہے۔ اہلسنت و جماعت کے بیشتر علماء اور مشائخِ عظام سے آپ کے عقیدت مندانہ اور برادرانہ تعلقات رہے ہیں۔ مجاہدِ ملت مولانا حبیب الرحمن صاحب، خطیبِ مشرق علامہ مشتاق احمد نظامی، حضور مفتی اعظم ہند اور حضور محدثِ اعظم ہند کے جلسوں میں آپ نے خیر مقدمی اور عقیدت مندانہ نظمیں پیش کی ہیں۔ آپ نے اپنے مواعظ میں نعتیہ و منقبتی کلام سے تاثیر و تقدیس پیدا کی ہے، مساجد میں امامت و خطابت کرنے کے ساتھ ساتھ مدارس میں علمِ دین کا درس دیا ہے۔ غرض ایک عالمِ با عمل ہونے کی بناء پر آپ کی شاعری لفاظی نہیں بلکہ کیفیتِ دل کی آئینہ دار تھی اور عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور دردِ قوم و ملت سے معمور تھی۔ آپ کے برادرِ بزرگ حضرت مولانا محمد الیاس مشتاق مرحوم بھی خالص نعت گو شاعر تھے اور ”مداحِ رسول“ کے لقب سے ملقب تھے۔ دونوں برادران مالیگاؤں کے اس دورِ اولین میں دینی حلقوں میں انتہائی عزت و احترام کے حامل تھے کیوں کہ جب کسی بھی تبلیغی جماعت کا کہیں کوئی وجود نہیں تھا، انھوں نے خلوصِ دل سے اور نام و نمود کی چاہ کے بغیر دین کی تبلیغ کا بیڑہ اٹھایا تھا۔ یہ اخلاق و کردار کی پختگی ہی تھی جس نے مولانا محمد یونس مرحوم کو ہر قسم کے حالات میں خوش اسلوبی سے جینے کی ہمت اور سلیقہ دیا، اور اپنے علاوہ دوسروں کی دین و دنیا سنوارنے کی توفیق دی۔ آپ کے صاحب زادے جناب حافظ قاری محمد میاں مالیگ (مولانا! اندھے کی لاٹھی، جن کا مشہور کارنامہ ہے) اور آپ کے نواسے جناب ابوزھرہ رضوی (مصنف ”عرش سے افضل“، ”آیاتِ نور“) دینی تصنیفی میدان میں اپنی اہمیت منوا چکے ہیں۔ جناب ابوزھرہ رضوی مایہ ناز خطیب بھی ہیں۔
حضرت مولانا محمد یونس علیہ الرحمہ کے کلام کے مختصر جائزے سے قبل یہ عرض کردوں کہ آپ کے مجموعہ کلام ”جناں بکف“ کو ترتیب دینے کا شرف اس ناچیز کو حاصل ہوا جس کے لیے میں مرحوم کے صاحبزادگان کا شکر گزار ہوں۔ (کتاب میں میں نے اپنا نام اس لیے ترتیب کار کے طور پر شامل نہیں کیا کہ چہ نسبت خاک را با عالمِ پاک)
کتاب کی ابتداء میں جناب حافظ قاری محمد میاں مالیگ کا لکھا ہوا والدِ بزرگوار کا تعارفی مضمون نہایت جامع ہے۔ علمی اور عملی، دینی و دنیوی، شعری و ادبی تمام پہلوؤں سے آپ کی زندگی کا جائزہ لیا گیا ہے۔
مالیگاؤں کے نامور صحافی اور شاعر و ادیب و نقاد عبد المجید سرور نے مولانا محمد یونس مرحوم کی نعت گوئی پر ایک طویل و بسیط مضمون سپردِ قلم کیا ہے جس میں ”جناں بکف“ سے جابجا شعری حوالے شامل ہیں۔ سرور صاحب کے مضمون سے یہ اقتباس ”قندِ مکرر“ کے طور پر یہاں نقل کرتا ہوں:
”مولانا محمد یونس مالیگ علم و فضل و کمال کے بلند مرتبے پر فائز تھے۔ ان کا علمی قد و قامت کسی سے کم نہ تھا۔ ان کے چہرے اور ان کے گفتار و کردار میں موہنی تھی، سنجیدگی و علمیت کا نور تھا۔ ان کی شخصیت اتنی باوقار اور پر کشش تھی کہ ہر کوئی اس سے متاثر ہوتا تھا۔ اس پر ان کی شاعرانہ وجاہت نے چار چاند لگا دیئے تھے۔ وہ مشاعروں کے شاعر نہ تھے لیکن وعظ کی مجالس میں یا دیگر اہم دینی مواقع پر جب وہ اپنی کہی ہوئی نعت، منقبت، حمد و مناجات سناتے تھے تو ایسا لگتا تھا کہ فرشتوں کے نورانی پروں کی روح پرور ہوا فضاؤں میں بکھر گئی ہو، کائنات دم بخود ہو کر ہمہ تن گوش بن گئی ہو۔ ان کی شاعری نری شاعری نہ تھی بلکہ اس میں اعلائے کلمۃ الحق، عشقِ رسول کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ فکری اور فنی دروبست سے لیکر معانی و مفاہیم تک میں انھوں نے جس طرح اپنے ان جذبات کی ترسیل کی ہے وہ ان کے رموزِ شریعت کے اسرار سے واقف ہونے کا واضح ثبوت ہے۔“
غرض عبدالمجید سرور صاحب کا تبصراتی مضمون پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے اور صاحبِ کلام کے کلام اور شخصیت سے نہ صرف انصاف کرتا ہے بلکہ ”زیبِ داستاں“ سے بھی پاک ہے اور اردوئے معلیٰ کے نمونے پیش کرتا معلوم ہوتا ہے۔
مجموعہ کلام کی ابتداء حمد اور مناجات سے کی گئی ہے۔ پھر محفلِ میلاد کا باب ہے۔ پھر نعتِ پاک نامی باب میں مختلف عنوانات کے تحت (جو نعتِ پاک سے ماخوذ ہیں) زبان و بیان کی رعنائیوں سے معمور اور عشقِ رسول میں ڈوبی ہوئی نعتیں ہیں، جن میں سے اکثر غزل کے فارم میں ہیں، چند نعتیں گیت کی شکل میں بھی ہیں، بعد ازاں اہل بیتِ کرام، شہدائے کربلا، غوثِ پاک، خواجہ غریب نواز اور دیگر بزرگانِ دین (رضی اللہ عنہم اجمعین) کی منقبتیں ہیں۔ ”باب الریان“ کے تحت رمضان شریف سے متعلق کلام ہے اور ”باب الحرمین“ میں حج سے متعلق۔ اس کے علاوہ نماز، شبِ برات، تعمیرِ مساجد، عزمِ محکم، آہنگِ خودی، رحمت جھوم جھوم اٹھی، اسلام کا جوہر، جماعتِ رضائے مصطفیٰ، مقامِ علم، اردو، قومی ترانہ وغیرہ عنوانات کے تحت نظمیں ہیں۔
محترم قارئین! مذکورہ تفصیلات سے یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ صاحبِ جناں بکف ایک با مقصد شاعر ہیں۔ آپ نے صرف وہ شاعری فرمائی ہے جس میں اللہ پاک اور اس کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و بزرگی کے ترانے ہیں، قال اللہ و قال الرسول کی بازگشت ہے۔ قرآنی آیات کے ٹکڑے جابجا نگینوں کی طرح مثبت ہیں۔ اس کے علاوہ آپ نے اہلسنت و جماعت کے مطابق جابجا اپنے عقیدے کا برملا اظہار فرمایا ہے بلکہ اس کے لیے قرآن و حدیث کے حوالے بھی دیئے ہیں۔ باطل فرقوں کی آپ نے نہ صرف تردید فرمائی ہے بلکہ انھیں توبہ کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔ غرض سنی صحیح العقیدہ مسلمانوں کو ایک ایسا مکمل منظوم نصاب عطا فرمایا ہے جسے وہ حرزِ جاں بنا سکیں۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی، مولانا حسن رضا خاں بریلوی اور مفتی اعظم ہند علیہم الرحمۃ والرضوان کی شاعری ہر سنی مسلمان کے وردِ زبان ہے۔ کیوں کہ وہ عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے معمور ہے۔ اسی طرح ”جناں بکف“ کے شاعر حضرت مولانا محمد یونس مالیگ نے بھی عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ڈوبی ہوئی نعتیں لکھی ہیں۔ آپ ملاحظہ فرمائیں، کلام کی ندرت و پاکیزگی کی داد دیئے بغیر نہ رہ سکیں گے۔
کس جانِ مسیحا کے قدم آئے بھلا آج
بت خانوں میں بت بول رہے ہیں بخدا آج
اللہ رے شرف آئے قدم عرش مکیں کے
افلاک پہ کرتی ہے زمیں فخرِ بجا آج
یہ سلسبیل یہ کوثر ہیں جس کی دو بوندیں
وہی کرم کے یمِ بے کنار آتے ہیں
حق کو منظور تھا محبوب کا سایہ بھی نہ ہو
آپ کا ثانی بھلا کیسے گوارا ہوتا
وما ینطق سے ظاہر آپ کی شانِ تکلم ہے
کہ بیشک قولِ حق ہوتا ہے ہر جملہ محمد کا
گلشنِ اسلام میں لائے وہ کچھ ایسی بہار
غنچہ غنچہ بادۂ توحید کا ساغر ہوا
فرش سے تا عالمِ بالا ہوئے فرماں پذیر
ماہ دو ٹکڑے بحسبِ حکمِ پیغمبر ہوا
اے مزمل اے پیارے مدثر آقا
ہیں کیا نام کیا پیاری پیاری ادائیں
جنت ہے ان کے روضہ و منبر کے درمیان
جانِ بہارِ خلد ہے اس جلوہ گاہ میں
کھڑے کر دیئے آپ نے ایک صف میں
حجازی و حبشی و رومی و شامی
جابجا قرآنی آیات سے استفادہ کرنے کی آپ کی پیاری عادت قرآنِ پاک سے آپ کے قلبی لگاؤ کی غماز ہے اور اس سے آپ کی علمی و ادبی رفعت کا پتہ چلتا ہے۔ چند مثالیں پیشِ خدمت ہیں:
رسولِ مکرم کی محبوبیت کی یہ حجت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
جو مرضی ہے ان کی وہی حق کی مرضی، فترضٰی کا مژدہ ترضا ہوا ہے
اسرارِ الٰہی کے ہر بات سے واقف کیوں نہ ہو جو ہمرازِ فاوحیٰ ہو جائے
مثلِ کفِ دست ہے ان کیلئے کونین کی اعلیٰ ادنیٰ شے
معراج کی شب جن آنکھوں نے مازاغ کا سرمہ لگایا ہو
جب حق نے کہا وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
خود کیا کوئی رفعت مَازَاغَ کی بتائے
سلطانِ مدینہ خدا نے قسم یاد فرمائی اس کی
ہے طیبہ کی یہ بھی دلیلِ بزرگی
بلدِ الامین میں ہے اس کی تعریف آئی باظہارِ عز و وقارِ مدینہ
ہوا دیدارِ حق مگر موسیٰ کو ”ارنی“ کہہ کے
تم نادیدہ نادیدہ مَازَاغَ الْبَصَرِ کے شاہد
جب مآلِ معصیت سے دل مرا مایوس ہو
مژدۂ لَا تَقْنَطُوا سے نشاں پاتا ہوں میں رحمت کا
”والضحیٰ“ اور ”واللیل“ سے بالترتیب روئے پاک اور زلفِ پاک کو تشبیہ اکثر شعراء نے دی ہے، مولانا یونس مرحوم نے بھی دی ہے اور بار بار دی ہے لیکن مزہ تو یہ ہے کہ ہر بار نیا لطف ملتا ہے اور یہ آپ کی مشاقیِ سخن اور قادر الکلامی کے ساتھ ساتھ عشقِ رسالت کی بھی بین دلیل ہے۔
توصیفِ رخ ہے والضحیٰ، واللیل زُلف کی ثنا
تفسیرِ خالِ مصطفیٰ، صلِ علیٰ محمد
دمِ تلاوتِ آیاتِ والضحیٰ واللیل
خیال میں رخ و گیسوئے یار آتے ہیں
ہو جاتی ہے والشمس کی تفسیر مکمل
لکھتا ہوں جو وصفِ رخِ تابانِ محمد
زلف تفسیرِ واللیل ان کی
والضحیٰ شرحِ رخسارِ روشن
زبان پر عبور ہی کی بدولت آپ اکثر نئی تراکیب وضع کرتے ہیں جن میں شوکتِ لسانی بدرجہ اتم موجود ہوتی ہے، مثلاً:
جناں بکف ہیں بعز و وقار آتے ہیں
رسولِ پاک بصد افتخار آتے ہیں
ترکیب ”جناں بکف“ کم از کم میں نے اب تک نہیں سنی تھی اور بلا شبہ آپ کے مجموعہ کلام کی انفرادیت کے پیشِ نظر ایسا منفرد نام ہی شایانِ شان تھا۔
نبی کی الفت ہے میرا ایماں، تصور ان کا مری عبادت
مجھے خیالِ جحیم و جنت، غمِ جزا و سزا نہیں ہے
یہاں جحیم و جنت دوزخ اور جنت کی بجائے استعمال ہوا ہے اور مصرع کو روانی دے رہا ہے۔
سلام اے رحمتِ عالم، متاعِ فضلِ رحمانی
سلام اے سرورِ ذی شان شمعِ نورِ یزدانی
”متاعِ فضلِ رحمانی“، ”شمعِ نورِ یزدانی“ جیسی تراکیب کیسی تقدس مآبی لئے ہوئے ہیں۔
اے ربیعِ پاک تیری بارہویں کے ہم نثار
تجھ میں پیدا مصطفیٰ، اللہ کا دلبر ہوا
”ربیعِ پاک“ کی پاک ترکیب اور ”بارہویں“ کی بلاغت کس قدر کیف پرور ہے۔ دراصل غزل سے دور رہ کر آپ نے اس کا سارا حسن نعت و منقبت میں سمودیا ہے۔
آسمانِ جلال ہیں خواجہ
مرآۃِ صد جمال ہیں خواجہ
”آسمانِ جلال“ جیسی ترکیب آج سے نصف صدی قبل جدید ترین کہی جانے کے لائق تھی۔ آسمان کے ساتھ جلال کا جوڑ مناسب بھی تھا۔ شعر میں جلال اور جمال کا تضاد دونوں مصرعوں کو یک رنگ کئے دے رہا ہے۔ پھر جس طرح آسمان ہر کوئی دیکھ سکتا ہے، خواجہ مخدوم بھی وہ آئینہ ہیں جسے ہر کوئی دیکھ سکتا ہے، اور اگر چہ آپ کے جلال سے حکمرانِ وقت بھی کانپتے تھے، آپ ایسا آئینہ ہیں جس میں جمال ہی جمال نظر آتا ہے۔ ”مرآۃِ صد جمال“ کی ترکیب ”ندرتِ صد جمال“ لیے ہوئے ہے۔ اسے کہتے ہیں شاعری، اسے کہتے ہیں منقبت نگاری، اسے کہتے ہیں خدمتِ شعر و ادب!
مخزنِ علمِ ظاہر و باطن
مصدرِ قیل و قال ہیں خواجہ
پہلے مصرع کی بلاغت اظہر من الشمس ہے۔ مخزن و مصدر اپنا اپنا لطف الگ رکھتے ہیں۔ ظاہر و باطن کا تضاد ظاہر ہے، شریعت اور طریقت کی طرف اشارہ بلیغ ہے۔ ”مصدرِ قیل و قال“ کا جو لطف اہل زبان لے سکتے ہیں اس میں تو قیل و قال کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ ترکیب ”مصدرِ قیل و قال“ کو آپ کی اختراع کہنے میں غالب کا طرفدار ہونے کا الزام بھی ہر گز نہ آئے گا۔
اردو دشمن بہرِ استیصالِ اردو مستعد ہیں
ایسے کچھ ہندی پریمی بے گماں ہیں
”اردو دشمن“ اور ”ہندی پریمی“ کیسی برمحل تراکیب ہیں۔ ”استیصال“ کے معنی ہیں بیخ کنی یا جڑ سے اکھاڑ پھینکنا اور یہاں اس کا ہی محل تھا۔ گویا لفظ کے استعمال کے ساتھ اس کے معنی بھی واضح کئے جارہے ہیں۔
حضرت مولانا یونس مرحوم مجالسِ وعظ میں اپنے اشعار سے سامعین کی دینی حمیت کو بیدار کرنے کا کام لیتے تھے۔ یتیموں، بیواؤں، غریبوں اور مظلوموں کے حقوق کا احساس دلانے والے اشعار آپ کو ان کی کہی ہوئی نعتِ پاک میں جابجا ملیں گے۔ بلا شبہ آپ لچھے دار تقریر کر کے دل موہ لینے والے واعظ نہیں تھے بلکہ صحیح معنوں میں واعظ تھے۔ کچھ اشعار مثال کے طور پر پیش ہیں:
جو دیں گے درسِ مساوات و رحم و عفو و کرم
وہ سب سے بڑھ کے مروت شعار آتے ہیں
دیا درسِ مساوات و اخوت اہل عالم کو
عمل سے رشتۂ توحید پھیلاتے ہوئے آئے
نہ رو اے یتیم، اے غریب آہ مت کر
ترے ہم نوا آج تشریف لائے
ہاں وہی انساں جو تھا حیواں صفت اولاد کش
پرتوِ فیضِ نبوت سے ملک پیکر ہوا
اہلسنت و جماعت کے مخصوص عقائد و اعمال کے حق ہونے کا ذکر اور کہیں کہیں دلیلیں بھی آپ کے نعتیہ کلام میں ملتی ہیں۔
تصور حبیبِ خدا کا اے زاہد عبادت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
جو نامِ محمد پہ چومیں انگوٹھے محبت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
کرو شوق سے ذکرِ حضرت ولادت، نہیں منکروں کے کہے شرک و بدعت
یہ میلاد کی بزمِ نوری بحسبِ شریعت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
اگر بعدِ ذکرِ صلوٰۃ و سلام اور احترام و عقیدت
بتاؤ تو اے حاملانِ شریعت اطاعت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
اس کو کہتے ہیں عقیدہ اور اس کو کہتے ہیں عقیدے پر جمے رہنا۔ اور یہ بھی عقیدے کی پختگی ہی کی دلیل ہے کہ باطل عقیدے کے بطلان کا ثبوت بھی آپ دیتے جائیں۔
خداوندِ قدوس کو جھوٹا لکھیں، نبی کو بھی مٹی میں ملتا بتائیں
پناہِ خدا! ایسے گندے عقیدے خیانت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
نمازیں خیالِ نبی سے بچائیں، خرو گاؤ کے خیال سے بتائیں بہتر
کہو ایسے لوگوں کو آقا سے یونس! عداوت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
ذیل کے چند اشعار سے واضح ہوگا کہ مولانا یونس مالیگ نے مشکل بحروں میں بھی کتنے اچھے اشعار کہے ہیں:
ابرو کے اک اشارے پر دیتے تھے جان شوق سے
اصحاب و آلِ مصطفیٰ، صلِ علیٰ محمد
عیب پوشی یہاں امت کی ہے ان کے صدقے
حشر میں بھی وہ رکھیں گے بھرم ان شاء اللہ
سیرت نے تو بو جہل کا منہ موہ لیا تھا
قسمت میں نہ تھی الفتِ سلطانِ مدینہ
کریں کیوں نہ ذکر ان کا شب و روز والہانہ
کہ ہمارے غم میں شب بھر انہیں نیند بھی نہ آئی
چوتھے فلک پر پہنچے عیسیٰ، دیکھئے اب کب آتے ہیں
سرورِ عالم کا ہے مسلم عرش سے جا کر آنا بھی
جو آدم و حوا کو عفوِ لغزش کا سہارا ہو جائے
وہ کیوں نہ بنی آدم کے لیے رحمت کا سراپا ہو جائے
قرآن شروع سے ختم تک صفت و ادائے رسول ہے
کہیں حسنِ خلق کا ہے بیاں، تو کہیں ثنائے رسول ہے
روضۂ پاک کا منظر نقش کرلو دلوں پر زائرو
پھر نہ معلوم کب ایسے پیارے خلد ساماں نظارے ملیں گے
میلادِ پاک کے وقت جو معجزات رونما ہوئے ان کا بیان جابجا آپ نے فرمایا ہے اور یہ ضروری بھی ہے کہ نام نہاد سیرت نگار ان کے بھی منکر ہو جاتے ہیں۔
کنگرے گر گئے کسریٰ کا محل کانپ اٹھا
واہ کیا ہیبتِ سرکار تھی میلاد کی رات
آتے ہی قدم آپ کے بت اوندھے گرے ہیں
آتش کدۂ ایران کا یک لخت بجھا آج
بصرہ و شام کے محل دیکھے تھے آمنہ نے
جو چمکا تھا نور آپ کا صلِ علیٰ محمد
گیا سوکھ یک لخت دریائے ساوا
ہوئی نہر جاری بدشتِ سماوا
تھے اعجازِ وقتِ ولادت نمایاں
رسولِ مکرم کی میلاد آئی
حضورِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم دین اور دنیا دونوں میں ہمارے حامی و ناصر ہیں، اس عقیدے کا اظہار آپ اس طرح فرماتے ہیں:
وہ آئے تو ساتھ ان کے رحمت بھی آئی، گنہگارو اپنی شفاعت بھی آئی
بفیضِ نبی ہاتھ جنت بھی آئی، انہیں کا ہے صدقہ جو ہم پا رہے ہیں
ان کے ہی وسیلے سے اب بر آئیں گے سب کے مطلب
اب ہوں گی قبول دعائیں سرکار کی میلاد آئی
وہی یونس رفو کرتے ہیں چاکِ دامنِ قسمت
وہ ہیں تو کارگر ہے سوزنِ تدبیر سینے میں
”سوزنِ تدبیر“، ”سینا“، ”چاکِ دامنِ قسمت“ اور ”رفو کرنا“ میں صنعتِ مراعاۃ النظیر پائی جاتی ہے۔ تدبیر اور تقدیر کا معاملہ کس خوبی سے بیان فرمایا ہے!
مضمون کی طوالت کے پیشِ نظر گیتوں کے بند نقل نہیں کر رہا ہوں۔ قارئین ”جناں بکف“ میں خود ملاحظہ فرمائیں کہ اگر ایسے مترنم نغمے عوامِ اہلِ سنت کے لبوں پر ہوں تو کیا ہی بہتر ہوگا! میلاد شریف پر مبنی کلام میلاد خواں حضرات کے لیے ایک گراں قدر تحفہ ہے۔
رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمدِ پاک کی برکت سے عورتوں کی درگت، قدر و منزلت میں تبدیل ہوئی اس کا بیان بھی آپ نے کئی جگہ فرمایا ہے۔ علم کی اہمیت پر نظم ”مقامِ علم“ اپنا ایک مقام رکھتی ہے۔ دیگر نظموں میں مسلمانوں کو عزم و حوصلہ، بھائی چارہ، مہر و مروت اور اپنی حالت آپ بدلنے، جہالت کو دور کرنے کی تلقین بڑے دل نشیں انداز میں پیش کی گئی ہے۔ غرض ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قوم و ملت کی اصلاح کا ایک واضح اور جامع منصوبہ آپ کے تصورِ عالی میں موجود تھا جسے آپ اپنی بساط بھر عملی جامہ پہنا بھی چکے ہیں جس کے شاہد وہ مقامات ہیں جہاں آپ نے دینی خدمات انجام دی ہیں۔
کلام کی دیگر خوبیوں کا علم آپ کو ”جناں بکف“ کے مطالعہ سے بخوبی ہو سکتا ہے۔ ادبی تنقید میرا منصب نہیں۔ نقادانِ فن اپنا کام کریں گے۔ میں نے دو اور دو چار کے انداز میں اپنا نقطۂ نظر پیش کیا ہے۔