*احمد آباد سیریل بلاسٹ کیس: 21 بم دھماکے، 56 اموات... سپریم کورٹ نے محمد تنویر کی پھانسی پر لگائی روک*
سپریم کورٹ نے 2008 کے احمد آباد سلسلہ وار بم دھماکوں میں قصوروار قرار دیے گئے انڈین مجاہدین کے رکن محمد تنویر کی سزائے موت پر روک لگا دی ہے۔ ان دھماکوں میں 56 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے تھے ۔
جسٹس وکرم ناتھ، سندیپ مہتا اور اپریش کمار سنگھ کی بنچ نے تنویر کی درخواست پر سماعت کرنے پر اتفاق کیا۔ تنویر نے گجرات ہائی کورٹ کے 7 جولائی کے فیصلے کو چیلنج کیا، جس نے احمد آباد سلسلہ وار دھماکوں کے کیس میں انڈین مجاہدین کے 38 مجرموں کی سزائے موت کو برقرار رکھا تھا۔
جولائی 2008 کو احمد آباد کے مختلف علاقوں میں صرف 70 منٹ کے اندر اندر 21 بم دھماکے ہوئے تھے۔ ان دھماکوں میں 56 افراد ہلاک اور 200 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ گجرات ہائی کورٹ نے بڑی تعداد میں ہلاکتوں، سازش کے پیمانے، اور بڑے پیمانے پر دہشت پھیلانے کے ارادے کو فیصلے کی بنیادی وجوہات قرار دیتے ہوئے مجرموں کی سزائے موت کو برقرار رکھا۔
9 اکتوبر کے اپنے حکم میں سپریم کورٹ نے کہا کہ محمد تنویر کو سنائی گئی سزائے موت پر روک برقرار رہے گی۔ عدالت نے نچلی عدالت اور گجرات ہائی کورٹ سے کیس سے متعلق اصل ریکارڈ بھی طلب کیا۔
*پنجاب کے سنگرور میں منریگا مزدوروں کو تیز رفتار کار نے کچلا، 8 کی موت، کئی سنگین طور پر زخمی*
پنجاب کے سنگرور ضلع کے لہراگاگا میں ایک بھیانک سڑک حادثے نے کئی غریب خاندانوں کو اجاڑ کر رکھ دیا۔ یہاں منریگا کے تحت سڑک پر کام کر رہے مزدوروں کو ایک تیز رفتار کار نے زور دار ٹکر مار دی۔ اس حادثے میں آٹھ مزدوروں کی موت ہو گئی، جبکہ کئی مزدور زخمی ہو گئے۔ واقعے کے وقت تقریباً 25 مزدور سڑک پر کام کر رہے تھے۔ اچانک ہوئی اس ٹکر کے بعد جائے حادثہ پر افراتفری مچ گئی۔ زخمیوں کو علاج کے لیے اسپتال پہنچایا گیا، جہاں کچھ کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق، حادثے میں جان گنوانے والے مزدور سنگرور ضلع میں لہراگاگا کے قریب واقع علی شیر گاؤں کے رہنے والے تھے۔ حادثے کے بعد پولیس معاملے کی جانچ میں مصروف ہو گئی ہے۔ سنگرور کے ایس پی پلوِندر چیما نے بتایا کہ ملزم کا پتہ لگا لیا گیا ہے اور اسے جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔ پولیس نے کار ڈرائیور کا نام پرگٹ سنگھ کالا بتایا ہے۔ حادثے میں استعمال ہوئی کار کا رجسٹریشن نمبر PB11 CP 0080 بتایا جا رہا ہے۔
کانگریس لیڈر نے مناسب علاج اور معاوضے کا مطالبہ کیا
کانگریس لیڈر امرندر سنگھ وڑنگ نے اس دردناک حادثے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’لہرا میں پیش آئے اس افسوسناک واقعے سے مجھے گہرا صدمہ پہنچا ہے، جہاں ایک تیز رفتار کار نے منریگا کے 8 مزدوروں کو کچل دیا، جس کے نتیجے میں کئی لوگ زخمی ہو گئے۔
یہ دل توڑ دینے والا واقعہ ہے۔ یہ سب سے غریب مزدور ہیں، جو اپنے روزگار کا انتظام کرنے کے لیے سخت محنت کرتے ہیں۔ میں انتظامیہ سے اپیل کرتا ہوں کہ زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد فراہم کی جائے، قصورواروں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے اور مرنے والوں کے اہل خانہ کو مناسب معاوضہ دیا جائے۔ خدا مرحومین کی روحوں کو سکون عطا کرے۔‘‘
*گوالیار حادثہ : ڈرائیور کو نہیں معلوم تھا راستہ، گوگل میپ کے سہارے چلا رہا تھا ٹرک، 15 افراد کی موت*
مدھیہ پردیش کے گوالیار میں پیش آئے دردناک سڑک حادثے نے ہر کسی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی سے لے کر لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی تک اس حادثے پر تعزیت کا اظہار کر چکے ہیں۔ شیتلا ماتا مندر کے قریب ایک بے قابو ٹرک نے درجنوں عقیدت مندوں کو کچل دیا۔ حادثے میں اب تک 15 افراد کی موت ہو چکی ہے۔ تقریباً دو درجن عقیدت مند زخمی ہوئے ہیں، جن کا اسپتال میں علاج جاری ہے۔ چار افراد کی حالت تشویش ناک بنی ہوئی ہے۔ ٹرک کے مالک اور ڈرائیور کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس کی ابتدائی تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ ٹرک ڈرائیور کو راستے کی معلومات نہیں تھیں۔ وہ گوگل میپ کے سہارے سفر کر رہا تھا۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق، یہ واقعہ گزشتہ رات تقریباً ڈیڑھ بجے پیش آیا۔ دو ٹرک تھے، جنہیں راستے کا علم نہیں تھا اور وہ گوگل میپس کے سہارے ایک دوسرے کے آگے پیچھے چل رہے تھے۔ ایک ٹرک گھاٹی پر ہی رک گیا تھا، جبکہ آگے چلنے والا ٹرک بے قابو ہو گیا اور چار رکاوٹیں توڑتے ہوئے مندر کے احاطے میں جا گھسا۔ شیتلا ماتا مندر میں نوراتری تہوار کے موقع پر درشن کے لیے بڑی تعداد میں عقیدت مند موجود تھے۔ اچانک اناج سے بھرا ایک ٹرک پہاڑی سے بے قابو ہو گیا۔ ڈرائیور ٹرک پر سے اپنا کنٹرول کھو بیٹھا تھا۔ اس کے بعد ٹرک ڈھلوان سے سیدھا مندر کے باہر لگی دکانوں اور وہاں کھڑے عقیدت مندوں کو کچلتا چلا گیا۔ موقع پر افراتفری مچ گئی
مقامی لوگوں نے اطلاع دی
مقامی لوگوں نے فوراً پولیس اور ایمبولینس کو اطلاع دی۔ زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال پہنچایا گیا۔ حادثے میں اب تک 15 عقیدت مندوں کی موت ہو چکی ہے، جبکہ دو درجن سے زیادہ لوگ زخمی ہیں۔ چار زخمیوں کی حالت سنگین ہے۔ اموات میں اضافے کا خدشہ ہے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی کلکٹر روچیکا سنگھ چوہان اور ایس ایس پی دھرم ویر سنگھ یادو موقع پر پہنچے اور بچاؤ کا کام شروع کروایا۔
وزیر اعلیٰ موہن یادو کا ایکشن
بھیانک سڑک حادثے پر وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے سخت کارروائی کی ہے۔ لاپروائی پر سی ایس پی کو فوری طور پر ہٹانے اور آٹھ پولیس اہلکاروں کو معطل کرنے کی ہدایات دی ہیں۔ تین تھانوں کے انچارج، ایک ٹریفک انسپکٹر، ایک ہیڈ کانسٹیبل اور تین کانسٹیبلوں کو معطل کردیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے واقعے کی تفصیلی تحقیقات کے احکامات دیے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تحقیقات میں ذمہ داری طے کرکے قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی یقینی بنائی جائے گی۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے تعزیت کا اظہار کیا
وزیر اعظم نریندر مودی نے حادثے پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مہلوکین کے اہل خانہ کے لیے دو دو لاکھ روپے اور زخمیوں کے لیے 50-50 ہزار روپے کی مالی امداد دینے کا اعلان کیا۔ وہیں مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے بھی واقعے پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مرنے والوں کے اہل خانہ کو چار چار لاکھ روپے، شدید زخمیوں کو دو دو لاکھ روپے اور دیگر زخمیوں کو 50-50 ہزار روپے کی مالی امداد دینے کا اعلان کیا۔