Wednesday, 21 October 2026

🛑*سیف نیوز بلاگر *



_*ایک ہی دن میں تنظیم علماء کے دو اصلاحی پروگرام، معاشرتی برائیوں کے خاتمے اور دینی بیداری پر زور.....!*_

مالیگاؤں، 20 اکتوبر: *تنظیم علماء، ائمہ و حفاظ شہر مالیگاؤں* کے زیرِ اہتمام *بروز منگل* شہر کے دو مختلف مقامات پر اصلاحِ معاشرہ کی مجالس منعقد ہوئیں، جن میں *حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی،* صدر تنظیم علماء، ائمہ و حفاظ شہر مالیگاؤں نے خصوصی خطاب فرمایا۔

*بعد نمازِ مغرب* رونق آباد کی *"رابعہ مسجد"* میں منعقدہ مجلس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا نے کہا کہ سب سے خطرناک بیماری یہ ہے کہ انسان بیمار ہو، لیکن اسے اپنی بیماری کا احساس ہی نہ ہو۔ جب انسان اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں سے بے خبر ہو جائے تو اصلاح کی راہیں مسدود ہونے لگتی ہیں؛ اس لیے معاشرتی بگاڑ کے خاتمے کے لیے خود احتسابی اور اپنے اعمال کی اصلاح ضروری ہے۔ موصوف نے تین چیزوں کو اصلاح کےلیے ضروری قرار دیا ذکر اللہ کی کثرت؛ قرآن پاک کی تلاوت؛ اہل اللہ کی صحبت۔ 

*بعد نمازِ عشاء* *"مسجد چشمۂ گلاب"* پوارواڑی میں منعقدہ سترھویں جلسۂ اصلاحِ معاشرہ و مجلسِ ذکر سے خطاب کرتے ہوئے مولانا نے مساجد سے دوری اور نمازیوں کی کمی پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسجدوں سے تعلق کمزور ہونے کے نتیجے میں معاشرے میں برائیاں اور بے حیائیاں فروغ پاتی ہیں۔ نشہ آور اشیا کے بڑھتے ہوئے استعمال پر متنبہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نشہ چند لمحوں کا مزہ، لیکن عمر بھر کی سزا ہے۔ مولانا نے واضح کیا کہ اصلاحِ معاشرہ صرف علماء، مشائخ اور اہلِ تبلیغ کی نہیں، بلکہ ہر مسلمان کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اس موقع پر انہوں نے قرآن و حدیث کی روشنی میں ذکرِ الٰہی کی فضیلت بھی بیان کی۔

رابعہ مسجد کی مجلس کا آغاز مدرسہ امام غزالی کے طالب علم *محمد حذیفہ بن قاری شفیق احمد* کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ جبکہ اس پروگرام کی صدارت *حافظ عبدالخالق*، ناظمِ اعلیٰ مدرسہ امام غزالی و امام و خطیب مسجد رابعہ نے فرمائی، اور نظامت کے فرائض مدرسے کے استاذ *مولانا فضیل الرحمن غزالی* نے انجام دیے۔ 

اسی طرح *مسجد چشمۂ گلاب* کے جلسے میں مدرسہ چشمۂ گلاب کے ایک طالبعلم *شرجیل عبداللہ* نے تلاوت اور دوسرے طالبعلم *محمد سعدین سہیل احمد* نے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ کا نذرانہ پیش کیا۔ حالانکہ پروگرام کی صدارت *مولانا عمران اسجد ندوی،* نائب صدر تنظیم علماء، ائمہ و حفاظ شہر مالیگاؤں وامام مسجد ھذا نے فرمائی، نظامت کے فرائض مع تمہیدی گفتگو کے مدرسہ ھذا کے استاذ *مولانا فرحان ندوی* نے انجام دیے۔ اخیر میں ذکر ہوا، اور 
مذکورہ ہر دو پروگرام کا اختتام *حضرت والا* کی رقت آمیز دعا پر ہوا۔

دونوں پروگراموں میں متعلقہ علاقوں کے سرکردہ افراد، نوجوانان محلہ، دونوں مساجد میں چل رہے مکاتب کے طلبہ و اساتذہ نے شرکت کی۔ پوارواڑی کے پروگرام میں وفاق المکاتب اور تنظیم علماء کے ذمہ داران *مولانا نعیم الظفر نعمانی، مولانا امین الجبار ملی، مولانا عبدالرحمن، مفتی اشفاق، حافظ ساجد اشاعتی، قاری ریحان، مولانا عقیل، مفتی عطاء الرحمن، مفتی محمد خالد ملی، مولانا ساجد خان، قاری حفیظ الرحمٰن شمسی* اور *قاری سلمان* کے علاوہ خواتینِ اسلام کی بڑی تعداد بھی شریک رہی۔

_*جاری کردہ: شعبۂ نشر و اشاعت*_
_*تنظیم علماء، ائمہ و حفاظ شہر مالیگاؤں*_




_*محلے کے سلگتے مسائل پر نوجوانان بسم اللہ باغ کی کارنر میٹنگ*_

_*مرکزی جلسۂ اصلاحِ معاشرہ سمیت متعدد تجاویز منظور*_

شہر مالیگاؤں میں بڑھتی ہوئی سماجی برائیوں کے سدباب اور اصلاحِ معاشرہ کی مؤثر کوششوں کے سلسلے مخلتف تنظیمیں اور تحریکیں اپنے طور پر نمایاں کام کررہی ہے، علماء کرام کا متحدہ پلیٹ فارم تنظیم علماء ائمہ وحفاظ شہر نے بھی ان دنوں سلسلہ وار اصلاحی جلسوں اور کارنر میٹنگوں کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے، 
چنانچہ تنظیم علماء کے اس مشن کو تقویت پہنچانے کےلیے *16 اکتوبر 2026ء بروز جمعہ،* بعد نمازِ مغرب، محلہ بسم اللہ باغ میں *نثار سیٹھ پھلکے والے کے مکان* کے قریب *نوجوانانِ بسم اللہ باغ و نظام پورہ* کی جانب سے ایک کل جماعتی کارنر میٹنگ منعقد ہوئی، جس کی صدارت *مولانا شکیل احمد صاحب،* امام و خطیب مسجد ہدایت الاسلام نے کی۔ یہ میٹنگ خانقاہ رحمانیہ کے سجادہ نشین اور تنظیم علماء، ائمہ و حفاظ شہر مالیگاؤں کے صدر *حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی* کی سرپرستی اور اجازت سے منعقد کی گئی، جس میں مختلف مکاتبِ فکر کے افراد نے شرکت کی۔

مجلس کا آغاز *حافظ عمران احمد ملی،* امام مسجد میزاب رحمت کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ ابتدائی گفتگو میں *حافظ عبدالمالک اشاعتی* نے بچوں کے اخلاقی بگاڑ میں موبائل فون اور ہوٹلوں میں مفت وائی فائی کی سہولتوں کے منفی اثرات کی نشان دہی کرتے ہوئے ان کے تدارک کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ تنظیم علماء کے رکن *مولانا محمد عمران کفلیتوی* نے میٹنگ کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے نشہ اور نوجوانوں کی بے راہ روی سمیت علاقے میں بڑھتی ہوئی برائیوں کے مستقل حل کی ضرورت اجاگر کی، جب کہ *مولانا عقیل احمد صاحب،* امام و خطیب رضا مسجد نے فریضۂ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی اہمیت بیان کرتے ہوئے نوجوانوں کی اس کوشش کو سراہا اور ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

اصلاحِ معاشرہ کمیٹی کے کنوینر *مفتی محمد خالد شاہد ملی* نے، جو میٹنگ کے منتظم اور ناظم بھی تھے، اپنے خطاب میں نشہ، بے حیائی، سودی لین دین اور بیٹیوں کو میراث سے محروم رکھنے جیسی معاشرتی برائیوں پر روشنی ڈالی اور توبہ و رجوع الی اللہ کو اصلاحِ احوال کا بنیادی ذریعہ قرار دیا۔ موصوف نے اصلاحی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے متعدد تجاویز پیش کیں، جن میں *ایک ماہ کے اندر مسجد ہدایت الاسلام کے قریب مرکزی جلسۂ اصلاحِ معاشرہ کا انعقاد، اطراف کے علاقوں نعمت باغ، سلاٹر، پوارواڑی، اقراء نگر، نورانی نگر، باغ عائشہ، سروے 104 اور مولانا الیاس نگر کے باشندوں کی شرکت کو یقینی بنانا، مرکزی جلسے کے مقام کے اطراف کم از کم دس مساجد میں مستورات کے پردے کے انتظام کے ساتھ ایک گھنٹے کے اصلاحی پروگرام منعقد کرنا اور خواتین کے خصوصی اجتماعات کا اہتمام* شامل ہے۔
اسی طرح *نوجوانوں کی اصلاح و رہنمائی کے لیے مختلف چوک چوراہوں، کارنروں اور ہوٹلوں میں کارنر میٹنگیں منعقد کرنے اور محلے کے سماجی و اصلاحی مسائل کے حل کے لیے علماء کرام اور ذمہ دارانِ محلہ کی نگرانی میں ایک مرکزی تنظیم تشکیل دینے کی تجویز بھی پیش کی گئی،* جو علاقے کے مسائل کی نشان دہی اور ان کے مستقل حل کے لیے سرگرم رہے گی۔ حاضرین نے ہاتھ اٹھاکر اور بطور سند نام اور دستخط فرماکر تمام تجاویز کو اتفاقِ رائے سے منظوری دی۔

صدرِ مجلس *مولانا شکیل احمد صاحب* نے اپنے صدارتی خطاب میں نوجوانوں کے اس اصلاحی اقدام کو سراہتے ہوئے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا اور علامہ اقبال کا یہ شعر پڑھا:

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے انہیں اپنی منزل آسمانوں میں

آخر میں صدرِ مجلس کی دعا پر میٹنگ اختتام پذیر ہوئی۔ اس موقع پر ذمہ دارانِ محلہ میں *مختار بھائی، جمیل بھائی، عبدالرشید سیٹھ، نثار سیٹھ پھلکے والے، ارشاد مستری، صدیق بھائی (چیف ٹرسٹی، مسجد اہلِ سنت حافظ عبد الکریم) اور خالد بھائی (ادارہ نیو اسٹار)* سمیت نوجوانانِ محلہ نے پرجوش شرکت کی۔

_*منجانب: اراکین تحریک اصلاح معاشرہ گروپ، بسم اللہ باغ ونظام پورہ*_




💌 ایک سر ابھی باقی ہے ۔۔۔!؟
______________________
✒️ ڈاکٹر آصف فیضی ( مالیگاؤں)
______________________
🌷دسہرے کی شام تھی۔ شہر کے سب سے بڑے میدان میں راون کا پُتلا کھڑا تھا۔ دس سروں والا راون، رنگ برنگے کاغذوں سے سجا ہوا، سینے میں بارود بھرے، بانہوں میں بانسوں کی طاقت لیے، آسمان کو چھوتا ہوا۔
میدان میں تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔ بچے اپنے باپ کے کندھوں پر بیٹھے تھے۔ عورتیں بھی موجود تھیں۔ نوجوان موبائل کے کیمروں میں اس منظر کو قید کر رہے تھے۔
اسٹیج پر شہر کے معززین براجمان تھے۔ تقریریں ہو رہی تھیں۔ ہر تقریر میں برائی کے خلاف جنگ کا اعلان تھا۔ ہر مقرر رام کی عظمت اور راون کی بدکرداری پر روشنی ڈال رہا تھا۔
میدان کے ایک کونے میں کھڑا گیارہ سالہ آکاش اپنے والد سے مسلسل سوال کر رہا تھا۔
’’پاپا، راون کو ہر سال کیوں جلاتے ہیں؟‘‘
والد نے نظریں اسٹیج پر جمائے ہوئے جواب دیا، ’’کیونکہ راون برائی کی علامت تھا۔ اس نے سیتا کو اغوا کیا تھا۔ اس میں غرور تھا، تکبر تھا، اس لیے اسے جلایا جاتا ہے ۔‘‘
’’تو کیا راون اب بھی زندہ ہے؟‘‘
والد مسکرائے۔ ’’نہیں بیٹا، راون تو سینکڑوں سال پہلے مر چکا۔‘‘
آکاش نے پُتلے کی طرف دیکھا۔
’’پھر ہم ہر سال کس کو جلاتے ہیں؟‘‘
والد نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ ’’یہ تو صرف ایک روایت ہے۔ اس سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ برائی کا انجام برا ہوتا ہے۔‘‘
آکاش کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر اس نے پوچھا، ’’اگر برائی کا انجام برا ہوتا ہے تو لوگ برائی کرتے کیوں ہیں؟‘‘
والد کے چہرے پر مسکراہٹ تو باقی رہی، مگر جواب کہیں گم ہو گیا۔
اسی وقت اسٹیج سے اعلان ہوا کہ شہر کے مشہور تاجر اور سماجی کارکن سیٹھ دھرم داس راون کو آگ لگانے کے لیے تشریف لا رہے ہیں۔
تالیوں کی گونج میں سیٹھ دھرم داس آگے بڑھے۔ سفید لباس، سونے کی گھڑی، گلے میں موٹی زنجیر ۔ انہوں نے مائیک سنبھالا۔
’’میرے عزیز ہم وطنو! راون صرف ایک شخص کا نام نہیں، یہ برائی کا نام ہے۔ جب تک ہمارے معاشرے میں جھوٹ، دھوکا، لالچ اور ناانصافی موجود ہے، ہمیں راون کو جلاتے رہنا ہوگا۔ ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ ہم اپنے اندر کی برائیوں کو ختم کریں گے۔‘‘
تالیاں بج اٹھیں۔
آکاش نے اپنے والد کی طرف دیکھا۔ والد بھی تالیاں بجا رہے تھے۔
سیٹھ دھرم داس کو تیر تھمایا گیا۔ انہوں نے اسے روشن کیا اور راون کی طرف چھوڑ دیا۔ تیر پُتلے سے ٹکرایا۔ ایک لمحے کے لیے خاموشی چھائی، پھر شعلے بھڑک اٹھے۔ آتش بازی کی آوازوں کے درمیان راون کے دسوں سر آگ کی لپیٹ میں آ گئے۔
لوگ خوشی سے چیخنے لگے۔
آکاش بھی شعلوں کو دیکھ رہا تھا۔ اسے محسوس ہوا جیسے راون کے سر ایک ایک کرکے جل نہیں رہے، بلکہ اس کے دس سوال آگ میں بدل رہے ہیں۔
میدان سے واپسی پر آکاش نے دیکھا کہ سیٹھ دھرم داس کی گاڑی سڑک کے کنارے کھڑی تھی۔ ایک بوڑھا رکشہ چلانے والا ان کے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑا تھا۔
’’صاحب، میری بیٹی کی شادی ہے۔ تین مہینے آپ کی دکان پر مزدوری کی ہے۔ میری اجرت کے بارہ ہزار روپے دے دیجیے۔ گھر میں راشن بھی نہیں ہے۔‘‘
سیٹھ دھرم داس نے غصے سے کہا، ’’کتنی بار بتایا ہے کہ حساب مکمل ہونے پر پیسے ملیں گے! تم جیسے لوگ روز کوئی نہ کوئی بہانہ لے کر آ جاتے ہو۔ جاؤ، کل آنا۔‘‘
بوڑھے نے پھر ہاتھ جوڑے۔ ’’صاحب، کل گھر میں چولہا نہیں جلے گا۔‘‘
سیٹھ نے اپنے محافظ کو اشارہ کیا۔ محافظ نے بوڑھے کو بازو سے پکڑ کر سڑک کے کنارے کر دیا۔
گاڑی آگے بڑھ گئی۔
آکاش کی نگاہیں گاڑی کی پچھلی کھڑکی پر جمی رہیں۔ اسے ابھی ابھی اسٹیج پر سنی ہوئی تقریر یاد آ رہی تھی۔
’’ہمیں اپنے اندر کی برائیوں کو ختم کرنا ہوگا۔‘‘
اس نے والد سے پوچھا، ’’پاپا، کیا سیٹھ انکل نے بھی راون جلایا ہے؟‘‘
’’ہاں، بیٹا۔ تم نے دیکھا نہیں؟ انھوں نے ہی تو آگ کا تیر چلایا تھا۔‘‘
’’لیکن انہوں نے اس بوڑھے کے پیسے کیوں نہیں دیے؟‘‘
’’بیٹا، یہ بڑوں کے معاملات ہیں۔ تم ابھی نہیں سمجھو گے۔‘‘
آکاش کوبپہلی بار محسوس ہوا کہ کچھ سوالوں کے جواب عمر بڑھنے سے نہیں، شاید ضمیر جاگنے سے ملتے ہیں۔
اگلی صبح اسکول میں دسہرے کے موضوع پر مضمون نویسی کا مقابلہ تھا۔
استاد نے تختۂ سیاہ پر لکھا:
’’دسہرہ کا پیغام‘‘
بچے لکھنے لگے۔ کسی نے رام کی بہادری بیان کی، کسی نے سیتا کی پاکیزگی، کسی نے راون کے غرور کا ذکر کیا۔ آکاش اپنی کاپی پر قلم رکھے دیر تک بیٹھا رہا۔
اسے سیٹھ دھرم داس یاد آ رہے تھے۔ وہ بوڑھا مزدور یاد آ رہا تھا۔ اسے وہ دکاندار بھی یاد آیا جس نے میلے میں غبارے کی قیمت بتاتے ہوئے ایک بچے سے دگنے پیسے لیے تھے۔ وہ شخص بھی یاد آیا جو تقریر کے دوران صفِ اول میں بیٹھا تھا اور واپسی پر اپنے ملازم کو سب کے سامنے گالیاں دے رہا تھا۔
اس نے لکھنا شروع کیا:
’’کل رات ہم نے راون جلایا۔ اس کے دس سر جل گئے، اس کی بانہیں جل گئیں، اس کا سینہ جل گیا۔ لیکن آج صبح جب میں اسکول آیا تو مجھے محسوس ہوا کہ راون ابھی زندہ ہے۔
وہ اس شخص کے اندر زندہ ہے جو مزدور کی اجرت روک لیتا ہے۔
وہ اس دکاندار کے اندر زندہ ہے جو مجبوری کا فائدہ اٹھاتا ہے۔
وہ اس افسر کے اندر زندہ ہے جو رشوت لے کر انصاف کا دروازہ بند کر دیتا ہے۔
وہ اس انسان کے اندر زندہ ہے جو دوسروں کے دکھ پر تقریر کرتا ہے، مگر اپنے عمل سے کسی کا دکھ کم نہیں کرتا۔
شاید راون کے دس سر دس الگ الگ برائیاں نہیں، بلکہ ایک ہی برائی کی دس شکلیں ہیں: انسان کا اپنے ضمیر کا قتل کر دینا۔‘‘
آکاش نے قلم روک دیا۔ پھر آخری سطر لکھی:
ہم ہر سال راون کو جلاتے ہیں، لیکن کیا کبھی ایسا دن بھی آئے گا جب ہم اپنے اندر کے راون کو جلائیں گے؟‘‘
اس نے کاپی استاد کے حوالے کر دی۔
دوپہر کو نتائج کا اعلان ہوا۔ آکاش کو پہلا انعام ملا تھا۔
اسٹیج پر بلائے جانے سے پہلے استاد نے اس سے کہا، ’’تم نے بہت اچھا لکھا ہے۔ مگر آخری جملے میں تم نے بڑوں پر کچھ زیادہ ہی تنقید کر دی ہے۔‘‘
آکاش نے معصومیت سے پوچھا، ’’سر، کیا بڑوں کے اندر راون نہیں ہوتا؟‘‘
استاد نے اسے دیکھا۔ پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، ’’ہوتا تو ہے، لیکن ہر بات کہنے کا ایک طریقہ ہوتا ہے۔‘‘
’’سر، راون کو جلانے کا بھی کوئی طریقہ ہوتا ہے؟‘‘
استاد خاموش ہو گئے۔
اسی شام اسکول کے سالانہ پروگرام کی تیاری کے لیے استاد نے چوکیدار کو حکم دیا کہ وہ تمام پرانی کرسیاں اسٹور روم میں رکھ دے۔ چوکیدار نے اضافی مزدوری مانگی تو استاد نے کہا، ’’تمہاری تنخواہ اسی کام کی ملتی ہے۔ زیادہ حساب کتاب مت سکھاؤ۔‘‘
آکاش یہ سب دیکھ رہا تھا۔
اس نے انعام میں ملنے والی اپنی چھوٹی سی ٹرافی کو دیکھا۔ اس پر لکھا تھا:
’’بہترین مضمون — دسہرہ کا پیغام‘‘
اسے لگا جیسے ٹرافی کے اندر کوئی چھوٹا سا راون قہقہے لگا رہا ہو۔
رات کو آکاش نے اپنے والد کو ایک بار پھر سوال کرتے سنا۔
’’بیٹا، تم نے مضمون میں لکھا کہ راون ہمارے اندر ہے۔ تم اسے جلاؤ گے کیسے؟‘‘
آکاش نے کچھ دیر سوچا۔ پھر بولا، ’’پاپا، اگر میں کسی کمزور کا مذاق نہ اڑاؤں، کسی کی چیز نہ چھینوں، کسی سے جھوٹ نہ بولوں، کسی کی مجبوری کا فائدہ نہ اٹھاؤں، تو کیا میرے اندر کا راون تھوڑا سا نہیں جلے گا؟‘‘
والد نے اسے غور سے دیکھا۔
’’اور اگر کوئی بڑا آدمی یہ سب کرے تو؟‘‘ آکاش نے پوچھا۔
والد کے پاس اب بھی کوئی آسان جواب نہیں تھا۔
آکاش نے اپنی ٹرافی میز پر رکھی اور سونے چلا گیا۔
والد دیر تک اس کے مضمون کو پڑھتے رہے۔ اچانک انہیں یاد آیا کہ ان کے دفتر کا ایک غریب ملازم گزشتہ دو ماہ سے اپنی تنخواہ میں کٹوتی کی شکایت کر رہا تھا۔ انہوں نے اس کی بات سنے بغیر اسے ڈانٹ دیا تھا۔ انہیں یہ بھی یاد آیا کہ گھر کے باہر بیٹھا ایک بوڑھا بھکاری کئی دنوں سے ان سے مدد مانگ رہا تھا اور وہ ہر بار اسے جھڑک کر آگے بڑھ جاتے تھے۔
ان کی نگاہ دوبارہ آکاش کے آخری جملے پر پڑی۔
’’کیا کبھی ایسا دن بھی آئے گا جب ہم اپنے اندر کے راون کو جلائیں گے؟‘‘
کمرے میں خاموشی تھی۔ باہر کسی دور دراز محلے سے پٹاخے پھوٹنے کی آواز آ رہی تھی۔
انہوں نے موبائل اٹھایا اور دفتر کے ملازم کو پیغام لکھا:
’’کل دفتر آنے پر مجھ سے ملیے۔ آپ کی تنخواہ کی کٹوتی کا معاملہ دوبارہ دیکھنا ہے۔‘‘
پھر انہوں نے وہ پیغام بھیج دیا۔
یہ کوئی بہت بڑا انقلاب نہیں تھا۔ نہ آسمان سے پھول برسے، نہ کہیں آتش بازی ہوئی، نہ کسی میدان میں لوگوں نے نعرے لگائے۔
بس ایک انسان نے پہلی بار اپنے اندر جھانکنے کی کوشش کی تھی۔
شاید اسی لمحے اس کے اندر کا ایک چھوٹا سا سر جلنے لگا تھا۔
اگلے سال پھر دسہرہ آیا۔
شہر کے اسی میدان میں اس سے بھی بڑا راون کھڑا کیا گیا۔ اسٹیج پر وہی تقریریں تھیں، وہی نعرے، وہی روشنیاں اور وہی ہجوم۔
آکاش اب بارہ سال کا ہو چکا تھا۔ وہ اپنے والد کے ساتھ میدان میں آیا تھا۔
میدان میں راون کا آخری سر بھی جل کر زمین پر گر چکا تھا۔ لوگ اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے۔ مگر آکاش کی نگاہیں ان چہروں کو تلاش کر رہی تھیں جن کے اندر کا راون ابھی زندہ تھا۔
وہ جانتا تھا کہ وہ سب ایک ہی رات میں نہیں جل سکتے۔
اس کے لیے کسی تیر، کسی آتش بازی یا کسی بڑے میدان کی ضرورت نہیں تھی۔
صرف ایک سچے اعتراف کی، ایک درست فیصلے کی، ایک نیکی کی، اور اپنے ضمیر کے سامنے کھڑے ہونے کی ضرورت تھی۔
اس نے جلتے ہوئے راون کی آخری چنگاری کو دیکھا اور دل ہی دل میں کہا:
’’راون، تم ہر سال جلتے ہو، پھر بھی زندہ ہو جاتے ہو۔ شاید اس لیے کہ ہم تمہیں میدان میں جلاتے ہیں، اپنے اندر نہیں۔‘‘
اور اس رات پہلی بار آکاش کو محسوس ہوا کہ راون کا اصل سر کسی پُتلے کے جلنے سے نہیں، بلکہ اس دن شروع ہوگا جب انسان اپنی برائی کو برائی ماننے لگے گا۔
کیونکہ راون کا سب سے مضبوط قلعہ انسان کا دل نہیں، اس کا وہ ضمیر ہے جسے وہ خاموش کر چکا ہے۔
اور جب تک ضمیر خاموش رہے گا، راون جلتا بھی رہے گا اور زندہ بھی رہے گا۔🍁


🛑*سیف نیوز بلاگر *

_*ایک ہی دن میں تنظیم علماء کے دو اصلاحی پروگرام، معاشرتی برائیوں کے خاتمے اور دینی بیداری پر زور.....!*_ مالیگاؤں، 20 اکتوبر: *...