Sunday, 31 August 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*

جنون اور جذبہ... کیسے 52 سالہ ظہیر قریشی نے معمولی پیشے کو بنا دیا غیر معمولی، جیتا لوگوں کا دل

: کھنڈوا کی سرزمین ہمیشہ سے اپنی روایت، ثقافت اور لوگوں کے جذبے کے لیے مشہور رہی ہے۔ یہاں ایک ایسا شخص رہتا ہے جو اپنی محنت کی کمائی سے نہ صرف اپنے خاندان کی پرورش کرتا ہے بلکہ پورے شہر کو اپنے حب الوطنی کے جذبے سے متاثر کرتا ہے۔ یہ کہانی ہے 52 سالہ ظہیر قریشی کی، جن کا نام سنتے ہی کھنڈوا کے لوگوں کے چہرے پر مسکراہٹ آجاتی ہے۔ وجہ ان کا منفرد شوق اور اٹوٹ حب الوطنی ہے۔

ظہیر قریشی پیشے کے لحاظ سے ایک معمولی سائیکل مرمت کرنے والے ہیں ۔ شہر کے بہت سے لوگ اپنی ٹوٹی ہوئی سائیکلوں کے ساتھ ان کے پاس آتے ہیں اور ظہیر انہیں نئی کی طرح مرمت کردیتا ہے۔ یہ ان کا کام ہے اور اس کا خاندان اسی پر زندہ ہے، لیکن ظہیر خود کو صرف اس تک محدود نہیں رکھتے۔ انہیں جب بھی موقع ملتا ہے، وہ عوام کے سامنے اپنا ہنر اور جذبہ دکھانے سے پیچھے نہیں ہٹتے۔
اسٹنٹ اور حب الوطنی کا امتزاج
ظہیر قریشی کی سب سے بڑی کشش ان کے اسٹنٹ ہیں۔ وہ سڑک پر کھڑے ہوکر گھنٹوں ٹائر سر پر گھماتے رہتے ہیں ۔ یہی نہیں بلکہ جیسے ہی کوئی حب الوطنی کا گانا بجتا ہے، اس کا جسم خود ہی جھومنے لگتا ہے۔ وہ ناچتے ہیں ، گاتے ہیں اور سٹنٹ دکھاتے ہیں ۔ سڑک کے دونوں طرف کھڑے لوگ تالیاں بجا کر ان کے جذبے کو سلام کرتے ہیں۔

چار روزہ منفرد شو
ظہیر کا جوش یوم آزادی جیسے بڑے مواقع پر بڑھ جاتا ہے۔ ہر سال وہ چار دن مسلسل روڈ پر شو کرتے ہیں۔ دھوپ ہو یا بارش، ظہیر بغیر رکے اپنا فن دکھاتے رہتے ہیں ۔ وہ یہ سب کچھ کسی ٹکٹ یا فیس کے لیے نہیں کرتے ہیں، بلکہ صرف اس لیے کرتے ہیں کہ لوگوں میں حب الوطنی کا جذبہ پیدا ہو۔ ان کا ماننا ہے کہ آزادی کی اصل خوشی تبھی ہے جب لوگ اسے دل سے محسوس کریں اور ترنگے کو فخر سے سلام کریں
لوگوں کا ہجوم اور تالیاں
ظہیر کے اسٹنٹ دیکھنے کیلئے لوگ دور دور سے آتے ہیں۔ بچے، بوڑھے اور جوان، ہر کوئی ان کے شو سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ ان کے شو میں کوئی اسٹیج یا سجاوٹ نہیں ہوتی ہے۔ ظہیر قریشی جیسے لوگ ثابت کرتے ہیں کہ سچے جذبے اور خلوص کے ساتھ کچھ بھی ممکن ہے – خواہ وہ حب الوطنی کا پیغام ہو یا عوام کے دل جیتنے کا ہنر۔
من کی بات : پی ایم مودی نے بارش سے ہوئی تباہ کاریوں اور پلوامہ میں نائٹ کرکٹ کا کیا ذکر

پی ایم مودی نے آج اپنے پروگرام ’من کی بات’‘کے 125 ویں ایڈیشن کے تحت ہم وطنوں سے خطاب کیا۔ انہوں نے طوفانی بارشوں سے ہونے والی تباہی کا ذکر کیا۔ پی ایم نریندر مودی نے کہا کہ مانسون میں قدرتی آفات ملک کا امتحان لے رہی ہیں۔ پچھلے چند ہفتوں میں، ہم نے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے ہوئی تباہی دیکھی ہے۔

کہیں گھر اجڑ گئے تو کہیں کھیت زیر آب آگیے۔ خاندان برباد ہو گئے۔ پانی کے تیز بہاؤ میں کہیں پل بہہ گئے تو کہیں سڑکیں بہہ گئیں اور لوگوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئیں۔ اس کے علاوہ پی ایم مودی نے من کی بات پروگرام میں پلوامہ میں کھیلے گئے ڈے نائٹ کرکٹ میچ کا بھی ذکر کیا۔
 من کی بات پروگرام کی 10 اہم باتیں

پی ایم مودی نے کہا کہ پچھلے چند ہفتوں میں ہم نے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے تباہی دیکھی ۔ ان حادثات میں اپنے پیاروں کو کھونے والوں کا دکھ ہم سب کا درد ہے۔ جہاں بھی بحران آیا، ہماری NDRF-SDRF اور دیگر سیکورٹی فورسز نے وہاں کے لوگوں کو بچانے کے لیے دن رات کام کیا۔ مقامی لوگ، سماجی کارکن، ڈاکٹر، انتظامیہ، سبھی نے مشکل کی اس گھڑی میں ہر ممکن کوشش کی۔ میں ہر اس شہری کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں جس نے اس مشکل وقت میں انسانیت کو ہر چیز سے بالاتر رکھا۔

پی ایم مودی نے کہا کہ پہلا ڈے نائٹ کرکٹ میچ پلوامہ میں کھیلا گیا تھا۔ پہلے یہ ناممکن تھا لیکن اب میرا ملک بدل رہا ہے۔ یہ میچ ’رائل پریمیئر لیگ‘ کا حصہ ہے، جس میں جموں کشمیر کی مختلف ٹیمیں کھیل رہی ہیں۔ پلوامہ میں رات کو ہزاروں کی تعداد میں لوگ بالخصوص نوجوانوں کو کرکٹ سے لطف اندوز ہوتے دیکھا گیا۔ یہ منظر واقعی قابل دید تھا۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ آج کل آپ نے اکثر گھروں کی چھتوں، بڑی عمارتوں اور سرکاری دفاتر میں سولر پینلز کو چمکتے دیکھا ہوگا۔ لوگ اب اس کی اہمیت کو سمجھ رہے ہیں اور اسے کھلے ذہن کے ساتھ اپنا رہے ہیں۔ ہمارے ملک کو رویہ دیوتا نے بہت نوازا ہے، تو کیوں نہ اس کی دی ہوئی توانائی کا بھرپور استعمال کریں۔

بہار کے دیوکی کے بارے میں بات کرتے ہوئے پی ایم مودی نے کہا کہ انہوں نے سولر پمپ سے گاؤں کی تقدیر بدل دی ہے۔ مظفر پور کے رتن پورہ گاؤں کی رہنے والی دیوکی کو لوگ اب پیار سے سولر دیدی کے نام سے پکارتے ہیں۔ ان کی زندگی آسان نہیں تھی۔ کم عمرمیں ان کی شادی ہو گئی، ایک چھوٹی سی اراضی تھی، چار بچوں کی ذمہ داری تھی اور مستقبل کی کوئی واضح تصویر نہیں تھی لیکن انھوں نے ہمت نہیں ہاری ۔ انھوں نے ایک سیلف ہیلپ گروپ میں شمولیت اختیار کی اور وہاں انھیں سولر پمپ کے بارے میں معلومات حاصل ہوئیں۔

پی ایم مودی نے کہا کہ 15 ستمبر ہندوستان کے عظیم انجینئر موکشگنڈم ویسویشورایا کا یوم پیدائش ہے۔ ہم اس دن کو انجینئرز ڈے کے طور پر مناتے ہیں۔ انجینئر صرف مشینیں نہیں بناتے بلکہ وہ کرمایوگی ہوتے ہیں جو خوابوں کو حقیقت میں بدل دیتے ہیں۔ میں ہندوستان کے ہر انجینئر کی تعریف کرتا ہوں۔ میں ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔

پی ایم مودی نے کہا کہ بھگوان وشوکرما کی پوجا کا موقع بھی ستمبر میں آنے والا ہے۔ وشوکرما جینتی 17 ستمبر کو ہے۔ یہ دن ہمارے وشوکرما بھائیوں کے لیے بھی وقف ہے، جو ایک نسل سے دوسری نسل تک روایتی دست کاری، ہنر اور علم کو مسلسل منتقل کر رہے ہیں۔ ہمارے بڑھئی، لوہار، سنار، کمہار، مجسمہ سازہمیشہ ہندوستان کی خوشحالی کی بنیاد رہے ہیں۔ حکومت نے ان وشوکرما بھائیوں کی مدد کے لیے وشوکرما یوجنا بھی شروع کی ہے۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ رامائن اور ہندوستانی ثقافت سے یہ محبت اب دنیا کے کونے کونے تک پہنچ رہی ہے۔ ولادی ووستوک روس کا ایک مشہور مقام ہے۔ بہت سے لوگ اسے ایک ایسی جگہ کے طور پر جانتے ہیں جہاں سردیوں میں درجہ حرارت منفی20 سے30 ڈگری سیلسیس تک گر جاتا ہے۔ اس ماہ ولادی ووستوک میں ایک منفرد نمائش کا انعقاد کیا گیا۔ اس میں رامائن کی مختلف تھیم پر روسی بچوں کی بنائی ہوئی پینٹنگز کی نمائش بھی کی گئی۔ یہاں ایک مقابلہ بھی منعقد کیا گیا۔

اس ماہ کے شروع میں، میسی ساگا، کینیڈا میں بھگوان شری رام کے 51 فٹ اونچے مجسمے کی نقاب کشائی کی گئی۔ لوگ اس تقریب کو لے کر بہت پرجوش تھے۔ بھگوان رام کے عظیم مجسمے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر کافی شیئر کی گئیں۔

آنے والے دنوں میں بہت سے تہوار ہوں گے۔ آپ کو ان تہواروں میں سودیشی کو کبھی نہیں بھولنا چاہیے۔ تحفے دیسی ساختہ ہونے چاہئیں۔ کپڑے ہندوستان میں بننے چاہئیں، ہندوستان میں بنی اشیاء سے سجاوٹ ہونی چاہئے، ہندوستان میں بنے ہاروں سے روشنیاں بننا چاہئے اور بہت کچھ، زندگی کی ہر ضرورت کی ہر چیز سودیشی ہونی چاہئے۔ فخر کے ساتھ کہو’یہ سودیشی ہے‘، فخر سے کہو’یہ سودیشی ہے‘، فخر سے کہو’یہ سودیشی ہے‘۔ ہمیں اس احساس کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔ ایک منتر ’وکل فار لوکل‘، ایک راستہ’آتمنیر بھر بھارت‘، ایک مقصد ’ترقی یافتہ ہندوستان‘۔

پی ایم مودی نے کہا کہ سورت میں رہنے والے جتیندر سنگھ راٹھور کے بارے میں جان کر آپ کو بہت خوشی ہوگی۔ آپ کا دل فخر سے بھر جائے گا۔ جتیندر سنگھ راٹھور ایک سیکورٹی گارڈ ہیں اور انہوں نے ایسا شاندار کام کیا ہے جو ہر محب وطن کے لیے ایک عظیم ترغیب ہے۔ پچھلے کچھ برسوں سے وہ ان تمام فوجیوں کے بارے میں معلومات اکٹھی کر رہے ہیں جنہوں نے مادر ہند کی حفاظت میں اپنی جانیں قربان کی ہیں۔
پی ایم مودی پہنچے چین، ائیرپورٹ پر ہوا شاندار استقبال، SCO سمٹ میں کریں گے شرکت
PM Modi In China:
وزیر اعظم نریندر مودی جاپان کا دورہ کرنے کے بعد اب چین پہنچ گئے ہیں۔ پی ایم مودی کل 7 سال بعد چین کی سرزمین پر پہنچے ہیں۔ وہ یہاں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ وزیر اعظم کے اس دورے کو اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ اس سے ہندوستان اور چین کے تعلقات پر برف پگھلنے کی پوری امید ہے۔ موجودہ حالات میں چین اور بھارت کے تعلقات میں کافی تبدیلیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ 7 سال بعد دونوں ممالک کے سربراہان آمنے سامنے ہوں گے لیکن مکمل طور پر بدلے ہوئے حالات میں جس کی وجہ سے پوری دنیا کی نظریں اس دورے پر ہیں۔
اب تک ہندوستان اور چین کے درمیان تزویراتی اور حکمت عملی کے حالات مختلف تھے لیکن گزشتہ چند مہینوں میں عالمی سطح پر جو صورتحال پیدا ہوئی ہے وہ دونوں ممالک کو قریب لا رہی ہے۔ خاص طور پر روس کے ساتھ تعلقات اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہٹ دھرمی نے ایشیا کی دونوں سپر پاورز کو ایک ہی راستے پر لا کھڑا کیا ہے۔ امریکہ کی جانب سے چین اور بھارت پر محصولات عائد کرنے کا معاملہ ہو یا روس کے ساتھ اسٹریٹجک پارٹنرشپ کا معاملہ، کہیں نہ کہیں چین اور بھارت ایک ہی حکمت عملی اپنا رہے ہیں۔ امریکہ کی داداگری کے سامنے نہ بھارت جھکنے کو تیار ہے اور نہ ہی چین، چنانچہ روس کی ثالثی کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات کافی حد تک معمول پر آ گئے ہیں۔

پی ایم مودی کا تیانجن ہوائی اڈے پر ہوا شاندار استقبال
وزیر اعظم نریندر مودی جب تیانجن ایئرپورٹ پہنچے توچینی وزیر اعظم لی کیانگ نے ان کا استقبال کیا۔سرخ قالین بچھا کر پی ایم مودی کا شاندار استقبال کیا گیا۔ چین میں فنکاروں نے روایتی انداز میں ہاتھوں میں سرخ رومال لے کر ان کے اعزاز میں رقص کیا۔
مودی کا چین دورہ دو روزہ ہوگا ۔ اس دوران وہ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔

*🔴سیف نیوز بلاگر*

*گرافک ڈیزائننگ کورس* 


🚀 پروفیشنل لیول کی ڈیزائننگ سیکھیں:
✔ بینر ڈیزائن
✔ یوٹیوب تھمب نیل ڈیزائن
✔ سوشل میڈیا پوسٹ ڈیزائن
✔ احادیث و دینی پوسٹر ڈیزائن
✔ بزنس ایڈورٹائزمنٹ ڈیزائن


🎁 🆓 *500 اردو فونٹس مفت* 


⏳ محدود نشستیں — آج ہی رجسٹریشن کرائیں!


📍 *زیرِ انتظام:میزاب رحمت انسٹیٹیوٹ آف مالیگاؤں* 

مزید معلومات کے لئے بالمشافہ ملاقات کریں


 ⏰ *ملاقات کا وقت:*
 *صبح 9 سے 11*
 *دوپہر 3 سے 5* 
 *رات 9:30 سے 11*

 🏢 *کلاس کا پتہ:* 
میزاب رحمت کوچنگ کلاسیس،مدرسہ نجم العلوم مولانا شوکت علی روڈ/ورلی روڈ مومن پورہ مالیگاؤں


 *فــیــصــل شـکــیـل رحــمـــانــی ســـر*
 *9226786465*
مومن فارحہ محمد یاسین کی MH-SET فزکس مضمون میں نمایاں کامیابی

مالیگاؤں (نامہ نگار) ریاست مہاراشٹر میں اسسٹنٹ پروفیسر اور پی ایچ ڈی کے لیے اہلیتی امتحان مہاراشٹر اسٹیٹ ایلیجیبلٹی ٹیسٹ (MH-SET) رواں سال 9 جون 2025 کو منعقد ہوا تھا، جس میں ایک لاکھ سے زائد امیدواروں نے حصہ لیا۔ اس کے نتائج 30 اگست 2025 بروز سنیچر کو جاری کیے گئے۔

نتائج میں مالیگاؤں کی باصلاحیت طالبہ مومن فارحہ محمد یاسین نے فزکس جیسے نہایت مشکل اور سنجیدہ مضمون میں نمایاں کامیابی حاصل کرکے شہر و ادارے کا نام روشن کیا ہے۔ فزکس کو ہمیشہ سے مشکل ترین شعبوں میں شمار کیا جاتا ہے، مگر مومن فارحہ کی اس کامیابی نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ محنت، لگن اور مستقل مزاجی سے کوئی بھی منزل مشکل نہیں رہتی۔ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ مومن فارحہ محمد یاسین خاتون ایجوکیشن سوسائٹی کے زیراہتمام جاری رائل یونیورسل اسکول (CBSE) عبدالمطلب کیمپس میں درس و تدریس کی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ان کی یہ علمی و پیشہ ورانہ وابستگی بھی ان کی محنت اور قابلیت کی عکاسی کرتی ہے۔

فارحہ یاسین کی یہ کامیابی ان کی تعلیمی جدوجہد کا تسلسل ہے۔ وہ اس سے قبل ایم ایس سی فزکس میں ٹاپ کرچکی ہیں اور بی ایڈ میں بھی نمایاں مقام حاصل کرچکی ہیں۔ ان کی مسلسل کامیابیاں طلبہ و طالبات کے لیے ایک روشن مثال ہیں۔ فارحہ یاسین کی اس شاندار کامیابی پر خاتون ایجوکیشن سوسائٹی کے چیئرمین رضوان عبدالمطلب سر، ڈائریکٹر ریحان عبدالمطلب سر، رائل یونیورسل اسکول کے پرنسپل عرفان عقیل سر کے علاوہ ایڈوکیٹ شاہد ندیم اور ڈاکٹر ساجد نعیم نے مبارکباد پیش کی ہے۔ رضوان عبدالمطلب سر نے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ مستقبل میں بھی کامیابیوں کی نئی منزلیں طے کرتی رہیں گی اور اپنے والدین، اساتذہ و ادارے کا نام مزید روشن کریں گی۔
تیانجن میں مودی۔شی کی ملاقات، پی ایم مودی نے کہا باہمی اعتماد اوراحترام سے تعلقات کوفروغ دینے کے لیے پُرعزم

تیانجن میں پرائم منسٹرنریندر مودی اور چینی صدرشی جن پنگ کی ملاقات ہوئی ۔اس ملاقات میں سرحدی تنازع، راست پروازوں ، مانسروور یاترا اور باہمی تعلقات بڑھانے پر بات چیت ہوئی۔
ملاقات کے دوران پی ایم مودی نے چینی صدر شی جن پنگ سے کہا کہ ہندوستان اور چین ‘باہمی اعتماد، احترام اور حساسیت’ پر مبنی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔

انھوں نے سرحدی علاقوں میں ’پرامن ماحول’کی بھی ستائش کی، جو مشرقی لداخ میں ڈیپسانگ اور ڈیمچوک کے مقام پر فوجیوں کے انخلاء کے بعد پیدا ہوا ہے۔ پی ایم مودی نے شی جن پنگ سے یہ بھی کہا کہ ہم باہمی تعلقات کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔
اس موقع پرپی ایم مودی نے کازان میں ہوئی بات چیت کا تذکرہ بھی کیا۔انھوں نے کازان میں ہوئی بامعنی بات چیت کو مثبت سمت دینے والا قراردیا
راست پرواز اورمانسرووریاترا کا ذکر
ملاقات کے دوران پی ایم مودی نے کہا کہ ہمارے خصوصی نمائندوں کے درمیان سرحدی انتظام کو لے کر ایک معاہدہ ہوا ہے۔ کیلاش مانسروور یاترا پھر شروع ہو گئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان راست پروازیں بھی دوبارہ شروع کی جا رہی ہیں۔ دونوں ممالک کے 2.8 بلین لوگوں کے مفادات ہمارے تعاون سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس سے پوری انسانیت کی فلاح و بہبود کی راہ بھی ہموار ہوگی۔

شی جن پنگ نے باہمی تعاون پردیا زور
چینی صدرشی جن پنگ نے پی ایم مودی سے ملاقات پرخوشی کا اظہار کیا اور شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) سربراہی اجلاس کے لیے چین آمد پر خوش آمدیدکہا ۔ چینی صدر نے بھی کازان میں ہوئی ثمرآور ملاقات کا ذکر کیا۔

اس کے ساتھ انہوں نے کہا کہ دنیا تبدیلی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ چین اور ہندوستان دو قدیم ترین تہذیبیں ہیں۔ ہم دنیا کے دو سب سے زیادہ آبادی والے ملک ہیں اور گلوبل ساؤتھ کا حصہ ہیں… دوست رہنا، اچھے پڑوسی بننا اور ڈریگن ہاتھی کا ایک ساتھ آنا بہت ضروری ہے…‘
چینی صدر نے مزید کہا کہ اس سال چین بھارت سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ ہے۔

دونوں ممالک کو اپنے تعلقات کو اسٹریٹجک اور طویل المدتی نقطہ نظر سے سنبھالنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں بین الاقوامی اداروں میں کثیرالجہتی، کثیر قطبی دنیا اور مزید جمہوریت کو برقرار رکھنے کی اپنی تاریخی ذمہ داریوں کو بھی پورا کرنا ہے اور ایشیا اور دنیا میں امن اور خوشحالی کے لیے مل کر کام کرنا ہے۔
دس ماہ کے بعد پی ایم مودی اور شی جن پنگ کے درمیان یہ پہلی دو طرفہ بات چیت تھی۔ ان دونوں لیڈروں کی آخری ملاقات 2024 میں روس کے کازان میں منعقدہ برکس سربراہی اجلاس کے دوران ہوئی تھی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ پی ایم مودی اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی اس ملاقات کا خصوصی فوکس ہندوستان اور چین کے تعلقات کو مضبوط بنانے اور حالیہ پیش رفت کو آگے بڑھانے پر ہوگا۔نے یہ بھی کہا کہ اس سربراہی اجلاس کے ذریعے شی جن پنگ دنیا کو یہ دکھانے کی کوشش کریں گے کہ وہ امریکہ کی قیادت میں عالمی نظام کا متبادل فراہم کر سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس سے یہ پیغام بھی جائے گا کہ چین، روس، ایران اور اب بھارت کو تنہا کرنے کی امریکی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔
ٹرمپ کی کواڈسمٹ میں شرکت غیریقینی ، امریکی اخبارکا دعویٰ ، امریکی سفارت خانے نے کیاکوئی تبصرہ کرنے سے گریز
ٹیرف پرامریکہ اورانڈیا کے بیچ کشیدگی کا اثرنمایاں ہوتا معلوم ہورہا ہے۔خبرہے کہ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ آئندہ کواڈسربراہی اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے ۔ نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ اب اس سال کے آخر میں کواڈ سمٹ کے لیے ہندوستان کا دورہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

یہ خبر ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ملکوں کے تعلقات گزشتہ چند مہینوں میں کشیدہ ہوگئے ہیں۔ خاص طور پر ٹیرف اور ہند۔پاک کے بیچ سیز فائرکے حوالے سے ٹرمپ کے دعوؤں کے سبب دونوں ملکوں کے بیچ تعلقات میں ترشی درآئی ہے۔کواڈ اجلاس نئی دہلی میں نومبر میں ہوگا۔اس اجلاس میں امریکہ، بھارت، جاپان اور آسٹریلیا ک لیڈران شرکت کریں گے۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ Nobel Prize and a Test Telephone Call: How the Trump-Modi Relationship Unraveled’، میں ٹرمپ کے دورےکے شیڈول سے واقف کاروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ صدر نے پہلے پرائم منسٹر مودی کو Quad Summit کے لیے ہندوستان آنے کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن اب وہ دہلی جانے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ رپورٹ میں دونوں لیڈروں کے بیچ رشتوں میں درآئی تلخیوں کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔

ٹرمپ کی دوسری میعاد جنوری 2025 میں شروع ہو ئی ۔امریکہ میں کواڈ وزرائے خارجہ کا اجلاس ہوا۔ لیکن اب تجارتی کشیدگی اور سفارتی اختلافات کی وجہ سے یہ ہند۔امریکہ پارٹنرشپ میں پہلے کی سی مٹھاس نہیں رہی ۔ رپورٹ کے مطابق تعلقات میں خرابی مئی 2025 میں شروع ہوئی تھی۔ جب ٹرمپ نے ہند۔پاک کے بیچ سیزفائرکرانے کا دعویٰ باربار کیا لیکن ان کے اس دعوے کو بھارت نے سرےسےخارج کر دیا۔

امریکی سفارتخانے کا ردعمل
ہندوستان میں امریکی سفارت خانے نے نیویارک ٹائمز میں شائع رپورٹ پرکوئی واضح جواب نہیں دیا ہے۔ سفارت خانے کے مطابق ،اس کے پاس اس بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔ سفارت خانے نے اس بابت تفصیلی معلومات کے لیے وائٹ ہاؤس سے رابطہ کرنے کا مشورہ دیا۔نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کےمطابق،پی ایم مودی کے صبرکا پیمانہ ، صدر ٹرمپ کی مداخلت سے لبریزہورہا تھا۔
کشیدگی 17 جون کو عروج پر پہنچ گئی، جب دونوں لیڈروں کے درمیان 35 منٹ کی فون کال ہوئی۔ یہ کال کینیڈا میں جی 7 سربراہی اجلاس کے دوران ہوئی، جہاں سے ٹرمپ جلد واشنگٹن واپس لوٹ گئے تھے ۔ فون کال میں ٹرمپ نے ایک بار پھر تنازع ختم کرنے کا کریڈٹ لیا اور بتایا کہ پاکستان انہیں نوبل امن کے لیے نامزد کرنے والا ہے۔

*🔴سیف نیوز بلاگر*

مالیگاؤں کی قدیم اردو لائبریری میں مالیگاؤں سینئر کالج کے اساتذہ و طالبات کا کامیاب تعلیمی دورہ

ریاست مہاراشٹر کی سب سے قدیم اردو لائبریری، مالیگاؤں (ضلع ناسک) میں آج مالیگاؤں سینئر کالج کے اساتذہ، معلمات اور طالبات نے حاضری دی۔ اس موقع پر نہال احمد عبداللہ، وقار احمد افتخار ملک، شعیب انجم اور صفیہ آپا نے مہمانوں کا پُرتپاک استقبال کیا۔

 وقار ملک (لائیبریرین) اور شعیب انجم (معاون لائبریرین)نے لائبریری کا تعارف پیش کرتے ہوئے اس کے مقاصد و خدمات پر روشنی ڈالی۔ بعد ازاں طالبات کو لائبریری میں موجود نادر کتب اور علمی رسائل کے بارے میں تفصیلی آگاہی فراہم کی گئی۔

اساتذہ اور طالبات نے اس علمی ماحول اور قیمتی ذخیرے کو دیکھ کر خوشی و اطمینان کا اظہار کیا۔ پروگرام کے اختتام پر سوال و جواب کا سیشن رکھا گیا، جس میں طالبات نے دلچسپی کے ساتھ سوالات کیے۔ وقار ملک اور شعیب انجم نے نہایت تسلی بخش جوابات دیے۔ بعض طالبات نے اسی موقع پر لائبریری کی رکنیت بھی حاصل کی۔اس موقعہ پر نازیہ میڈم،مریم میڈم،ثنا میڈم،حسنی میڈم،نغمہ میڈم،نوشین میڈم،مسعود سر،مبشر سر ، مصدق سر اور محمد حسن سرحاضر تھے

محمد حسن سر کےشکریہ کی رسم کے ساتھ یہ کامیاب تعلیمی دورہ اختتام پذیر ہوا۔
آر۔سی۔ماہم کالج میںممبئی کے مختلف کالجوں میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبا ٔ و طالبات کے اعزاز میںکامیابی پروگرام کا انعقاد
خان سوہا94.80%اور انصاری طوبیٰ ارم محمدیوسف94.50% مارکس لے کرنمایاںکامیابی حاصل کیں
ممبئی:۔(یوسف رانا) عروس البلادممبئی میں واقع ماہم کے آر۔سی۔ماہم کالج میں ایک منفرد پروگرام کا انعقاد ہوا۔ جس میں پورے ممبئی میں ڈی۔ایل۔ایڈ۔ میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبائ و طالبات کی حوصلہ افزائی کی گئیں۔تفصیلات کے مطابق آر۔ سی۔ماہم کے ہال میں ممبئی اردو نیوز کے ایڈیٹر شکیل رشید کی صدارت میں ہونے والے اس پروگرام میں حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے حصول تعلیم کی اہمیت کواجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ صرف اعلیٰ قابلیت ہی حصول تعلیم کی تکمیل نہیں ہوتی بلکہ انسان ماںگود سے لے کر قبر تک ’طالب علم‘ ہی رہتا ہے۔ اگر آپ اچھی تعلیم کےزیور سے آراستہ رہیں گے تو اپنے گھر،اپنے خاندان اور اپنی نسلوں کو تعلیم یافتہ بنا سکتے ہیں۔ ان سے قبل پروگرام کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئےسید نادرہ (لیکچرر آر-سی ماہم ڈی-ایل-ایڈ کالج) نے بتایا کہ ممبئی اور بھیونڈی کے کالجوں میںڈی۔ایل۔ڈی۔ میں زیر تعلیم سال اول اور سال دوم میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبا ٔ و طالبات کو انعامات دے کر ان کی حوصلہ افزائی کرنے کا مقصد ان کے بعد آنے والے طلبأو طالبات میں بھی نمایاں کامیابی حاصل کرنے کی لگن پیدا ہو۔ آر۔سی۔ ماہم کالج کی اہمیت بتاتے ہوئے کہا کہ آج اس محفل میں بہت سارے ایسے اساتذہ کرام موجود ہیں جو اسی کالج سے تعلیم حاصل کیے ہیں اورآج ان کے بچوں کی حوصلہ افزائی کے پروگرام میں شامل ہیں۔ کالج کے منتظم اعلی ڈاکٹر خالد احمد خان (پرنسپل آر-سی ماہم ڈی-ایل-ایڈ کالج) کی سرپرستی میں ہم لوگ بہت کچھ سیکھ رہے ہیںوہ ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔فاروق سید (مدیر گل بوٹے) نے اپنی مخاطبت میں حاضرین سے کہا کہ بچوں کو آپ اعلیٰ عہدوں کی سرفرازی میں مدد کریں مگر اس بات کا بھی خیال رکھا جائے آپ لوگ سورہ فاتحہ کے ساتھ ساتھ گائتری منت کو بھی یاد کر لیں کیونکہ دونوں ایک ہی اللہ کی حمدو ثنأ کرنے کی ترغیب دیتے ہیں فرق صرف زبان کا ہے ۔اسی کالج کے سابق طالب علممرزا ندیم بیگ (مینیجنگ ڈائریکٹر ایف-ایم گلوبل لاجسٹکس) نے طلبہ ،اساتذہ کرام اور سرپرست حضرات کے روبرو اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح میں ایک کمپنی کا مالک ہوں اسی طرح آپ لوگ بھی ایک ایک کمپنی کے مالک ہیں اورآپ کے ملازمین آپ کے ہاتھ، کان،آنکھ اور پیر ہیں۔ آپ کو روزآنہ ۲۴؍گھنٹے ملتے ہیں۔آپ ان ملازمین سے صحیح وقت پر صحیح کام لے کر اپنےاساتذہ اور والدین کے ساتھ ساتھ اپنا مقام آپ پیدا کر سکتے ہیں۔واضح رہے سال دوم میںڈی۔ ایل۔ڈی۔ میں کرلااے۔کے۔ایل۔جونیئر کالج کی خان سوہا94.80%مارکس حاصل کرکےممبئی میںسب نمایاں کامیابی حاصل کرنے والی جبکہ آر۔ سی۔ ماہم کالج میں سال اول میںسب سے نمایاں کامیاب رہنے والی طالبہ انصاری طوبیٰ ارم محمد یوسف 94.50%فیصد مارکس حاصل کیں۔ ان دونوں کو خصوصی طور پرحاضرین نے مبارکباد دیتے ہوئے اپنی دعاؤں سے نوازہ۔اسی کے علاوہ مہمانان کے ہاتھوںکم و بیش۲۷؍بچوں کو حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں اسناد،کتابیں،فولڈرس،پین کے علاوہ مفید مشوروں سے نوازہ گیا۔ اس پروگرام میں نسرین آرزو (سبکدوش اے-او، بی-ایم-سی)، وشنو ببن دیسلے (لیکچرر سیوا سدن کالج، ممبئی)، سائرہ خان (پرنسپل آر-سی ڈی-ایل-ایڈ کالج، امام باڑہ)، شبانہ ونو (پرنسپل آل انڈیا خلافت کمیٹی ڈی-ایل-ایڈ کالج) ،کہکشاں مومن (پرنسپل صلاح الدین ایوبی ڈی-ایل-ایڈ کالج، بھیونڈی)،ڈاکٹر شبانہ خان (لیکچرر انجمن اسلام معین الدین حارث ڈی-ایل-ایڈ کالج، ماہم)، انصاری حنا یاسمین (لیکچرر انجمن خیر الاسلام ڈی-ایل-ایڈ کالج، کرلا)،احمد شاہ سر (ہیڈ ماسٹر امام باڑہ اردو سیکنڈری اسکول)، محمد احمد شاہ (ریسرچ اسکالر، یونیورسٹی آف ممبئی)اورپترکار یوسف راناوغیرہ مہمانان کے طور پر حاضر رہے اس خوبصورت اور منفرد پروگرام کی خوبصورت نظامت عارف مہمطولے (گلشن اسلام اردو اسکول، ساکی ناکہ) نے انجام دیے جبکہ بہت ہی سلیس اور شیریں زبان میںمختلف اشعار کو بروئے کار لاتے ہوئے مہمانوںاور حاضرین کا شکریہ اداکرتے ہوئے مومن منصفہ (لیکچرر آر-سی ماہم ڈی-ایل-ایڈ کالج) نے کہا کہ میں صرف رسم شکریہ ادا نہیں کر رہی ہوں بلکہ ایک فرض بھی ادا کر رہی ہوں۔حاضرین کی ایک کثیر تعداد نے پروگرام کو کامیابی سے ہمکنار کیا جبکہ پروفیسر ڈاکٹر خالد خان کی جانب سے تمام لوگوں کو پر تکلف ظہرانہ پیش کیا گیا۔
*سماجوادی پارٹی سے اتحاد کا فیصلہ، کور کمیٹی اور پارٹی ورکروں نے آصف شیخ رشید کو مکمل اختیار دے دیا*

*ایوب نگر کے ایک ہی گھر میں 53 ووٹ، خواہش مند امیدواروں کیساتھ ہی بی ایل او کی ذمہ داری کا امتحان* 

*مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن پر انڈین سیکولر لارجیسٹ اسمبلی آف مہاراشٹر کا جھنڈا لہرانے کیلئے مرحبا فنکشن ہال میں ورکروں کا جوش و خروش*

*مالیگاؤں (احرار نیوز نیٹ ورک) 31 ، اگست :* انڈین سیکولر لارجیسٹ اسمبلی آف مہاراشٹر (ا. س. ل. ا. م) پارٹی کے مقامی صدر اعجاز احمد محمد عمر صاحب کی صدارت میں 30، اگست بروز سنیچر کو درے گاؤں مرحبا فنکشن ہال میں منعقدہ میٹنگ سے سابق رکن اسمبلی آصف شیخ رشید نے میونسپل کارپوریشن الیکشن کا بگل بجا دیا ہے۔ آئندہ الیکشن میں سماج وادی پارٹی یا دیگر ہم خیال سیاسی پارٹیوں سے اتحاد کرنے کیلئے آصف شیخ رشید کو مکمل اختیار ایک رائے سے دیا گیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اس الیکشن میں ہم ایسے لوگوں کو امیدواری دیں گے جو سوشل ورکر ہوں، جو عوام کے دکھ درد کو سمجھتے ہوں، جن کا عوامی رابطہ ہو، جو جنم داخلہ بنانا جانتے ہوں، جو راشن کارڈ بنا سکتے ہوں، جو کارپوریشن کے کام کاج سمجھتے ہوں، انہیں موقع دیا جائے گا۔ آصف شیخ رشید نے انکشاف کیا کہ موجودہ وارڈ نمبر 18، ایوب نگر کے ایک گھر میں 53، ووٹ ہیں۔ اس گھر کی سائز کیا ہے؟ اس کی تعمیر کیسی ہے؟ جھوپڑا ہے، پکی عمارت ہے، ڈبل منزلہ ہے، الگ الگ کھولیاں بنی ہیں یا ہال نما کمرے ہیں اس گھر میں 53، لوگ کس طرح رہائش رکھتے ہیں؟ یہ اس علاقہ کے خواہش مند امیدواروں کے ساتھ ہی BLO کیلئے بھی امتحان ہے۔ اگر اس گھر میں بوگس ووٹ ہے تو الیکشن سے پہلے اس کو ڈیلیٹ کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح دیگر علاقوں اور پورے شہر کی ووٹرلسٹ پر نظرثانی کرتے ہوئے بوگس، ڈبل، ٹریپل، اور فیک آئی ڈی والی ووٹ درست کرنے کا سنہری موقع ہے۔ انہوں نے مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن پر انڈین سیکولر لارجیسٹ اسمبلی آف مہاراشٹر (ا. س. ل. ا. م.) پارٹی کا جھنڈا لہرانے کے عزم کیساتھ انتخابی بگل بجانے کا اشارہ دیا۔ 

اس ضمن میں ملی تفصیلات کے مطابق مرحبا فنکشن ہال میں پارٹی ذمہ داران، عہدیداران، سابق کارپوریٹرس، خواہش مند امیدواروں کے علاوہ مرحوم شیخ رشید صاحب کے وہ ساتھی جن سے شیخ صاحب مشورہ کیا کرتے تھے ایسے مخصوص افراد کی میٹنگ میں صابر گوہر نے اغراض و مقاصد پیش کرتے ہوئے بتلایا کہ 22، جون 2025 کو آصف شیخ رشید اور مستقیم ڈگنیٹی کی سرپرستی میں مائناریٹی ڈیفینس کمیٹی کے زیر اہتمام پانچ اضلاع پر مشتمل مائناریٹی کانفرنس کا انعقاد ہوا اس کے فوراً بعد 23، جون کو ہی آصف شیخ رشید اور محترمہ طاہرہ شیخ رشید صاحبہ کی رہنمائی میں ایک 25،رکنی جائزہ کمیٹی تشکیل دی گئی اس کمیٹی کو شہر بھر کے سیاسی حالات کا جائزہ لینے کی ذمہ داری دی گئی۔ اسی میٹنگ میں آصف شیخ رشید نے کہا کہ مقامی سماجوادی پارٹی کی جانب سے گٹھ بندھن کرنے کا آفر آیا ہے۔ جائزہ کمیٹی میں اتفاق رائے سے سات رکنی کور کمیٹی بنائی گئی۔ اس کمیٹی نے سماجوادی پارٹی کے ذمہ داران سے مختلف مواقع پر میٹنگوں کا انعقاد کرتے ہوئے گفتگو کا سلسلہ دراز رکھا اور اپنی رپورٹ تحریری طور پر اسلام پارٹی کے مقامی صدر اعجاز احمد محمد عمر کے ذریعہ اسی میٹنگ ہال میں ورکروں کے درمیان خواندگی کے بعد آصف شیخ رشید صاحب کو سماجوادی پارٹی سمیت دیگر ہم خیال سیکولر سیاسی پارٹیوں سے اتحاد کرنے کا مکمل اختیار وہاں موجود حاضرین کی تائید سے دیا گیا۔ 

آصف شیخ رشید نے کہا کہ آج کی اس میٹنگ میں سماج وادی پارٹی سے اتحاد کرنے کیلئے عام لوگوں سے جو مشورے طلب کئے گئے ان میں کچھ لوگوں نے کہا گٹھ بندھن کرنا چاہیئے، کچھ نے کہا نہیں کرنا چاہیئے، کسی نے کہا اپنے 29، کارپوریٹر ہیں انہیں دھکا نہیں لگنا چاہیئے، کوئی کہہ رہا تھا ہر پینل میں اپنی پارٹی کے امیدوار ہونا چاہیئے غرض کہ پارٹی کارکنوں نے مجھے جو اختیار دیا ہے وہ مجھ پر بہت بڑی ذمہ داری ہے میں دوچار دنوں تک اس پر غور فکر کرکے اپنے ساتھیوں سے مزید مشورہ کرتے ہوئے کوئی بھی فیصلہ لیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات کا عندیہ بھی دیا کہ ابھی سماجوادی پارٹی بھی ان کے اپنے ورکروں کی پارٹی میٹنگ میں اس اتحاد کے تعلق سے مشورہ کریں گے اس کے بعد ہی حتمی فیصلہ کیا سکے گا۔ بہرحال انڈین سیکولر لارجیسٹ اسمبلی آف مہاراشٹر نے اپنے ورکروں، ہمدردوں، خیر خواہوں کی میٹنگ میں ان کے جوش و خروش کو دیکھتے ہوئے میونسپل کارپوریشن پر اپنی پارٹی کا جھنڈا لہرانے کے عزم کا اظہار کردیا ہے۔

Saturday, 30 August 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*

*مفتی محمد اسلم جامعی کو شہری جوائنٹ سیکریٹری اوّل کا عہدہ مبارک ہو*

وہی ہے صاحبِ امروز جس نے اپنی ہمت سے 

زمانہ کے سمندر سے نکالا گوہرِ فردا 

جمعیتِ علماء ہند، ملک کے مسلمانوں کی ایک باوقار جماعت ہے، 106 سال پُرانی اس تنظیم کو ہمارے بڑوں اور بزرگوں نے اپنے خون و جگر سے پروان چڑھایا ہے، اس سے جُڑنا اور وابستہ ہونا کارِ ثواب ہے، اس جماعت کو اپنی تاسیس سے ہی نابغۂ روز گار اور دانشورانِ ملت کی سرپرستی حاصل رہی، جو اپنے اپنے مقام پر یکتائے روزگار اور اپنی اپنی ذات میں ایک انجمن تھے، چنانچہ مولانا محمد میاں صاحب دیوبندی رح نے علمائے حق اور ان کے مجاہدانہ کارنامے میں لکھا ہے کہ حضرت مولانا علامہ انور شاہ کشمیری رح صاحب (سابق شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند و جامعہ ڈابھیل ) جمعیتِ علماء ہند کے مجلسِ عاملہ کے رکنِ اعلیٰ اور جمعیتِ علماء کے ہمدرد تھے، حضرت مولانا حبیب الرحمن صاحب عثمانی (برادرِ بزرگ علامہ شبیر عثمانی رح و مفتی عزیز الرحمن صاحب عثمانی رح صاحبِ فتاویٰ دارالعلوم دیوبند و سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند) بھی جمعیتِ علماء کے رکن اور ذمہ دار تھے، ان کے علاوہ دیگر جبال العلم حضرات بھی جمعیتِ علماء ہند کے رکنِ رکین رہے اور موجودہ زمانے میں بھی دارالعلوم دیوبند کے بیشتر اساتذۂ کرام و اکابر اہلِ علم حضرات جمعیتِ علماء ہند سے جُڑے ہوئے ہیں غرض اس جماعت سے جُڑنا اور مربوط ہونا سعادتمندی ہے، مورخہ 29 اگست 2025 بروز جمعہ بعدِ نمازِ مغرب سلیمانی مسجد کے فوقانی ہال میں جمعیتِ علماء سلیمانی چوک کی شہری و ضلعی انتخابی مجلس منعقد ہوئی اس انتخابی مجلس میں *ہمارے رفیقِ محترم مفتی محمد اسلم جامعی کو شہری جمعیتِ علماء میں جوائنٹ سیکریٹری اوّل کا اہم و کلیدی عہدہ تفویض کیا گیا ،* میں، اس حُسنِ انتخاب پر *رفیقِ محترم مفتی محمد اسلم جامعی* کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں اور نیک تمناؤں و پاکیزہ جذبات کا اظہار کرتا ہوں 

پرواز ہو تیری شاہین کی پرواز سے آگے 
رکھنا ہے قدم وقت کی آواز کے آگے 

*فقط مفتی محمد اظہر جامعی*
نہ کوئی مستقل دوست، نہ کوئی دشمن''... امریکہ کے ساتھ ٹیرف جنگ کے درمیان راج ناتھ سنگھ کا بڑا بیان

ایک طرف امریکہ اور بھارت کے درمیان ٹیرف کی جنگ جاری ہے تو دوسری طرف چین کے ساتھ تعلقات میں کچھ نرمی آ رہی ہے۔ اس درمیان وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کا بڑا بیان سامنے آیا ہے۔ ہفتہ کو انہوں نے یہ باتیں این ڈی ٹی وی ڈیفنس سمٹ 2025 میں کہیں۔راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ہندوستان اب مکمل خود انحصاری کی طرف بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بحریہ نے فیصلہ کیا ہے کہ اب کسی ملک سے جنگی جہاز نہیں خریدے جائیں گے۔ آنے والے تمام جنگی جہاز بھارت میں ہی بنائے جائیں گے۔ اس سمت میں، دو ‘نیل گیری کلاس’ دیسی اسٹیلتھ فریگیٹس، آئی این ایس ہمگیری اور آئی این ایس ادے گیری کو بحریہ میں شامل کیا گیا ہے۔
بھارت کا اپنا دفاعی نظام تقریباً تیار ہے
رجناتھ سنگھ نے اعلان کیا کہ بھارت کا اپنا دفاعی نظام ‘سدرشن چکر’ بھی جلد ہی حقیقت بننے والا ہے۔ یہ نظام آنے والے وقت میں ملکی سلامتی کے لیے ایک بڑی قوت بنے گا۔

سنگھ نے کہا کہ دنیا اس وقت تجارتی جنگ کی صورتحال سے گزر رہی ہے۔ امریکہ نے ہندوستانی درآمدات پر 50 فیصد ٹیکس لگا دیا ہے۔ ایسے میں اگر ترقی یافتہ ممالک بھی سیکورٹی کے نام پر تحفظ پسندانہ پالیسیاں اپنا رہے ہیں تو ہندوستان اپنے مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی کو دشمن نہیں سمجھتے لیکن اپنے عوام کے مفادات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

آپریشن سندور کا بھی ذکر
چوٹی کانفرنس کے دوران راج ناتھ سنگھ نے آپریشن سندور کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوستان کی سٹیک اسٹرائیک کو دیسی ہتھیاروں کی طاقت کا ثبوت قرار دیا
انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ 2014 میں ہندوستان کی دفاعی برآمدات 700 کروڑ روپے سے کم تھیں۔ آج یہ بڑھ کر تقریباً 24 ہزار کروڑ روپے ہو گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ بھارت اب صرف ہتھیار خریدنے والا ملک نہیں رہا بلکہ بیچنے والا بھی بنتا جا رہا ہے۔
بھارت نے GDP میں لگائی بڑی چھلانگ، 7.8 فیصد سے بڑھی اکانامی، یہ پچھلی 5 سہ ماہیوں میں سب سے زیادہ

نیا مالی سال ہندوستان کے لیے بڑی خوشی کی خبر لے کر آیا ہے۔ مالی سال کی پہلی ہی سہ ماہی میں، ہندوستان کی جی ڈی پی یا مجموعی گھریلو پیداوار نے ایک بڑی چھلانگ لگائی اور تمام اندازوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔

مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی (اپریل-جون) میں، ہندوستان کی جی ڈی پی کی شرح نمو سالانہ بنیادوں پر 6.5 فیصد سے بڑھ کر 7.8 فیصد ہوگئی ہے۔ یہ گزشتہ 5 سہ ماہیوں میں سب سے زیادہ ہے۔ جی ڈی پی میں یہ اضافہ مینوفیکچرنگ، سروس اور زراعت کے شعبوں کی بہتر کارکردگی کی وجہ سے ہوا ہے۔
اس سے قبل 31 جولائی کو بھارت پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت اور روس کو مردہ معیشت قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا ، ہندوستان اور روس اپنی معیشت کے ساتھ ڈوب جائیں، مجھے کیا پرواہ ہے۔

پہلی سہ ماہی میں جی ڈی پی میں اضافے کی 5 بڑی وجوہات
سروس سیکٹر (جس میں تجارت، ہوٹل، ٹرانسپورٹ، مالیاتی خدمات اور دیگر خدمات شامل ہیں) نے سب سے زیادہ ترقی کی ہے۔ اس کی ترقی 9.3 فیصد تھی۔ مینوفیکچرنگ اور تعمیرات جیسی صنعتوں نے 7.5 فیصد سے زیادہ کی ترقی درج کی ہے، جس سے معیشت مضبوط ہوئی ہے۔

لوگوں نے خریداری پر اپنے اخراجات میں اضافہ کر دیا ہے۔ نجی استعمال کے اخراجات میں 7.0 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ حکومتی اخراجات میں 9.7 فیصد اضافہ ہوا، جو کہ گزشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے 4.0 فیصد سے بہت بہتر ہے۔

اس سہ ماہی میں سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ مجموعی فکسڈ کیپٹل فارمیشن میں 7.8 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

زراعت اور متعلقہ شعبوں کی شرح نمو گزشتہ سال 1.5 فیصد سے بڑھ کر 3.7 فیصد ہو گئی ہے جو کہ معیشت کے لیے ایک مثبت علامت ہے۔

آر بی آئی نے 6.5 فیصد اقتصادی ترقی کا اندازہ لگایا تھا
6 اگست کو، ریزرو بینک (آر بی آئی) نے مالیاتی پالیسی میٹنگ میں مالی سال 26 کے لیے اقتصادی ترقی کی پیشن گوئی کو 6.5 فیصد پر برقرار رکھا۔ آر بی آئی گورنر نے کہا تھا- مانسون کا موسم اچھا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ تہوار کا موسم بھی قریب آ رہا ہے۔

یہ سازگار ماحول، حکومت اور ریزرو بینک کی معاون پالیسیوں کے ساتھ، مستقبل قریب میں ہندوستانی معیشت کے لیے اچھا اشارہ ہے۔ اگرچہ عالمی تجارتی چیلنجز باقی ہیں، جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال کچھ حد تک کم ہوئی ہے۔
ہندوستان نے پچھلی سہ ماہی میں 6.7 فیصد جی ڈی پی کا تخمینہ لگایا تھا لیکن یہ 7.8 فیصد پر آگیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری اقتصادی گاڑی صحیح سمت اور صحیح راستے پر چل رہی ہے۔ یہ جی ڈی پی پچھلی پانچ سہ ماہیوں میں سب سے بہتر ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہماری ترقی کی سمت درست ہے۔

*🔴سیف نیوز بلاگر*

ہندوستان میں پیسے لگائیں گے تو کئی گنا واپس پائیں گے، ٹرمپ ٹیرف تنازعہ کے بیچ جاپان سے پی ایم مودی کا بڑا پیغام
ٹوکیو: وزیر اعظم نریندر مودی جاپان پہنچ گئے ہیں۔ اپنے دو روزہ دورے کے پہلے ہی دن انہوں نے ہندوستانی معیشت کی مضبوطی کو دنیا کے سامنے پیش کیا۔ انہوں نے سرمایہ کاروں سے واضح طور پر کہا، ‘ہندوستان میں سرمایہ صرف بڑھتا ہی نہیں، گنا ہوتاہے۔’ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ نے بھارت سے برآمد ہونے والے کپڑوں، سمندری غذا اور زیورات پر 50 فیصد تک ٹیرف عائد کر دیا ہے۔ ٹیرف کا اثر ہندوستان کے کاروبار پر نظر آرہا ہے۔ لیکن مودی نے جاپانی بزنس فورم کو یقین دلایا کہ ہندوستان سرمایہ کاری کے لیے بہترین جگہ ہے۔
مودی نے کہا کہ ہندوستان سیاسی اور اقتصادی طور پر مستحکم ہے۔ یہاں کی پالیسیاں واضح ہیں۔ شفافیت ہے۔ متوقع فیصلے کیے جاتے ہیں۔ سرمایہ کاروں کو اس یقین دہانی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا، ‘آج ہندوستان سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشت ہے۔ بہت جلد یہ تیسری بڑی معیشت بننے جا رہی ہے۔’

ٹیکنالوجی اور ٹیلنٹ کا امتزاج
مودی نے اسٹیج سے کہا کہ جاپان ٹیکنالوجی پاور ہاؤس ہے اور ہندوستان ٹیلنٹ پاور ہاؤس ہے۔ دونوں مل کر دنیا کے ٹیک انقلاب کی قیادت کر سکتے ہیں۔ ہندوستان نے مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز، کوانٹم کمپیوٹنگ، بائیوٹیک اور خلا میں جرات مندانہ قدم اٹھائے ہیں۔ اب اگر جاپان کی ٹکنالوجی اور ہندوستان کا ہنر ایک ساتھ آجائے تو تصویر بدل جائے گی۔

میٹرو سے مینوفیکچرنگ تک ایک ساتھ
مودی نے ہندوستان جاپان تعلقات کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ میٹرو سے لے کر مینوفیکچرنگ تک، سیمی کنڈکٹرز سے لے کر اسٹارٹ اپس تک، ہر جگہ شراکت مضبوط ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آٹو سیکٹر میں حاصل کی گئی کامیابی کو اب روبوٹکس، جہاز سازی اور نیوکلیئر انرجی میں بھی دہرایا جا سکتا ہے۔
گلوبل ساؤتھ میں ہندوستان۔جاپان کا کردار
مودی نے کہا کہ ہندوستان جاپانی کاروبار کے لیے گلوبل ساؤتھ کا اسپرنگ بورڈ ہے۔ یعنی جاپان ہندوستان کے راستے افریقہ جیسے ممالک تک پہنچ سکتا ہے۔ دونوں ملک مل کر ترقی پذیر ممالک کے لیے نئی امید بن سکتے ہیں۔ مودی نے جاپان کو ہندوستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا، ‘آؤ، ہندوستان میں بنائیں اور دنیا کے لیے بنائیں۔’ انہوں نے سوزوکی اور ڈائکن جیسی کمپنیوں کی مثال دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی آپ کی کہانی بھی بن سکتی ہے۔
ٹرمپ نے سابق نائب صدر کملا ہیرس کی سکیورٹی واپس لی ، ٹرمپ کے فیصلہ سے امریکہ میں کھلبلی
واشنگٹن: امریکہ میں سیاسی ہلچل بڑھ گئی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق نائب صدر کملا ہیرس کی سیکریٹ سروس کی سکیورٹی ہٹا دی ہے۔ یہ جانکاری وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر اہلکار نے سی بی ایس نیوز کو دی۔ امریکہ میں قانون کے مطابق سابق نائب صدر اور ان کے اہل خانہ کو عہدہ چھوڑنے کے بعد زیادہ سے زیادہ چھ ماہ تک سیکریٹ سروس کا تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ کملا ہیرس کی مدت ملازمت سات ماہ قبل ختم ہوئی تھی۔ اس بنیاد پر ٹرمپ انتظامیہ نے ان کا سیکورٹی کور واپس لینے کا فیصلہ کیا۔

ہیرس کے سینئر مشیر کرسٹن ایلن نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ‘سابق نائب صدر سیکریٹ سروس کی پیشہ ورانہ مہارت، لگن اور سیکیورٹی کے عزم کے لیے شکر گزار ہیں۔’ تاہم اس اقدام نے امریکی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ سی این این نے سب سے پہلے یہ اطلاع دی کہ ٹرمپ انتظامیہ نے کملا ہیرس کی سکیورٹی ہٹا دی ہے
ٹرمپ کا ایسا پہلا فیصلہ نہیں
یہ پہلا کیس نہیں ہے۔ ٹرمپ نے اپنے دوسرے دور اقتدار میں واپس آنے کے بعد کئی اعلیٰ شخصیات کی سکیورٹی ہٹا دی ہے۔ ان میں جان بولٹن (سابق قومی سلامتی کے مشیر) اور ہنٹر بائیڈن اور ایشلے بائیڈن (جو بائیڈن کے بچے) شامل ہیں۔

امریکی قوانین کے مطابق سابق صدور اور ان کی بیویوں کو تاحیات تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ لیکن ان کے بچوں کے لیے یہ صرف 16 سال کی عمر تک لاگو ہوتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بائیڈن نے اپنے دور اقتدار کے آخری مہینوں میں ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے، جس سے ان کے بالغ بچوں کی سکیورٹی میں اضافہ ہوا۔

ٹرمپ نے سی ڈی سی کی ڈائریکٹر سوسن مونریز کو خود ہٹا دیا: وائٹ ہاؤس
امریکہ کے اعلیٰ صحت کے ادارے - سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (CDC) کی ڈائریکٹر سوسن مونریز کو رات گئے خود صدر ٹرمپ نے عہدے سے برطرف کر دیا۔ وائٹ ہاؤس کے پریس سیکرٹری کے مطابق موناریز صدر کے مشن سے میل نہیں کھاتی تھیں اور انہوں نے استعفیٰ دینے سے انکار کر دیا تھا۔
مونریز کے وکلاء کا کہنا ہے کہ اسے سائنس کی حمایت میں کھڑے ہونے کی سزا دی گئی۔ اس دوران ایجنسی کے چار دیگر اعلیٰ عہدیداروں نے بھی استعفیٰ دے دیا۔ ایک اہلکار نے اے پی کو بتایا، ‘ہمیں معلوم تھا کہ اگر وہ چلی گئی تو سائنسی قیادت ختم ہو جائے گی۔ جب وہ ٹک نہیں پائیں تو ہم نے بھی جانے کا فیصلہ کیا۔’
دہلی کے کالکاجی مندرمیں سیوادارکا قتل، پرساد پرہوا تنازع، مقدمہ درج ، تحقیقات جاری
دہلی کے کالکاجی مندر میں ایک سیوادار(خدمت گار) کوپیٹ پیٹ کرہلاک کردیا گیا۔ 29 اگست 2025 کی رات تقریباً 9:30 بجے یہ واقعہ پیش آیا۔اطلاعات کے مطابق،دہلی کے کالکاجی مندر میں ایک سیوادار کو لاٹھیوں سے پیٹ کر ہلاک کر دیا گیا۔

درشن کے بعد چنی پرساد پر جھگڑا ہوا۔بتایا جاتا ہے کہ سیوادارکالکاجی مندر میں پچھلے 14-15 برسوں سے خدمت انجام دے رہا تھا۔ مندر کے احاطے میں لڑائی کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی ٹیم موقع پر پہنچی اور ضروری کارروائی شروع کر دی۔

چنی پرساد پر بحث، مارپیٹ
پولیس کے مطابق کچھ لوگ کالکاجی مندر میں درشن کے لیے پہنچے تھے۔ درشن کے بعد، انہوں نے سیوادار سے ’چُنی پرساد‘ مانگا۔ اس پرتوتومیں میں شروع ہوئی جو جلد ہی لڑائی میں تبدل ہوگئی۔ الزام ہے کہ ان لوگوں نے سیوادار پر لاٹھیوں سے حملہ کیا۔ زخمی سیوادار کو فوری طور پر ایمس ٹراما سینٹر لے جایا گیا، جہاں علاج کے دوران اس کی موت ہوگئی
ملزم گرفتار
متوفی کی شناخت یوگیندر سنگھ کی حیثیت سے ہوئی ہے۔وہ 35 سال کا تھا۔اس کا تعلق اتر پردیش کے ہردوئی ضلع کے فتے پور گاؤں سے تھا۔ وہ لمبے عرصے سے کالکاجی مندر میں سیوادار کے طور پر کام کر رہے تھا۔ واقعہ کے فوری بعد موقع پر موجود لوگوں نے ایک ملزم کو پکڑ لیا۔
ملزم کی شناخت اتل پانڈے کے طور پر ہوئی ہے جسے پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ فی الحال پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔ دیگر ملزمین فرار ہیں جن کی شناخت کی جارہی ہے۔ ان کی گرفتاری کے لیے مہم بھی شروع کر دی گئی ہے۔

*🔴سیف نیوز بلاگر*

*آپ کی خدمت میں پیش ہے عبداللہ مسکان ٹورس اینڈ ٹراویلس*

*🛑 کچھ اہم اور خاص باتیں اس پوسٹ کو ضرور پڑھیں*

*السلام وعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*

*🚗 ونڈے پیکنک ٹور*
*🚗 شادی بیاہ کے موقع پر*
*🚗 تہوار کی چھٹیوں کی خوشیاں منانے کیلئے ٹورسٹ پوائنٹ پر گھومنے کیلئے*

*🚗 اور بطور خاص اگر آپ کے پسینٹ کو ممبئی پونہ ناسک دھولیہ چیک اپ کیلئے لیجانے اور پیسنٹ کو ایمبولینس میں گھبراہٹ ہوتی ہے اور اس پیسنٹ کو آکسیجن کی ضرورت ہے تو ہمارے پاس آکسیجن کی سہولت بھی ہے اور گاڑی ایسی کے آپکے پیسنٹ کو پورے آرام و سکون و آکسیجن کے ساتھ بیرون شہر آمد رفت کیلئے آپکا ٹینشن ختم*

*🚗 مزید یہ کہ اگر آپ کے یہاں کوئی زہینی مریض ہے اور وہ بہت زیادہ پریشان کررہا ہے جیسا کہ سڑکوں پر کپڑے اتار دینا راہ چلتے لوگوں کو مارنا گھر والوں کو پریشان کرنا اور طرح طرح کی مصیبت کھڑی کردینا جس سے پورے گھر والے پریشان ہوگئے ہیں اور اس کا علاج کروانا چاہتے ہیں اس کیلئے گورنمنٹ کے مینٹل ہاسپٹل میں علاج ہے ایسے پاگل مریض کو مینٹل ہاسپٹل میں ایڈمٹ کرنے کے لیے ضیاء الرحمن مسکان بلامعاوضہ ہاسپٹل میں ایڈمیشن کرانے کیلئے آپ کی خدمت میں حاضر ہے ایسے مریض کو لیجانے کیلئے ہماری ٹیم تیار ہے*
*ایسے پاگل مریض کو مینٹل ہاسپٹل میں ایڈمیشن کے تعلق سے مزید معلومات کے لیے ضیاء الرحمن مسکان سے رابطہ کریں*

*🚗 مزید معلومات و رابطہ کیلئے*

 *انصاری ضیاء الرحمن مسکان*
*موبائل 📱 نمبر 9270021180*

*زیر اہتمام: گلشن عکرمہ فاؤنڈیشن، مالیگاؤں* 

*عظیم الشان جلسۂ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم*
*💫〰️✨〰️✨〰️✨〰️✨〰️💫*

بتاریخ :- 30 اگست 2025ء بروز سنیچر بعد نماز عشاء فوراً 

بمقام :- مسجد و مدرسہ حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ، ہنگلاج نگر ،شہید عبدالحمید کسمبا روڈ مالیگاؤں 

*<><> زیر سرپرستی <><>*

*حضرت قاری محمد ریحان صاحب فردوسی*
(بانی و ناظم مدرسہ حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ) 

*<><> زیر صدارت <><>*

*🌹چیف ٹرسٹی حاجی عبداللطیف صاحب🌹* 
(مزمل سائزنگ) 

  *<><> مقرر خصوصی <><>*
مقرر شعلہ بیاں ثانی قاری حنیف ملتانی
*🌹حضرت حافظ وقاری شبیر احمد صاحب دامت برکاتہم🌹*

*نوٹ: عشاء کی نماز مسجد حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ میں سوا 8 بجے ادا کی جائے گی ان شاءاللہ*

*الملتمسین :- قاری ریحان فردوسی،نوجوانان محلہ، اراکین اساتذہ کرام و طلباء مدرسہ حضرت عکرمہ رضی اللہ تعالٰی عنہ مالیگاٶں*
*______________*
رامبن اور ریاسی میں بادل پھٹنے اورلینڈسلائڈ سے تباہی ، 10 افراد ہلاک ، ریسکیو آپریشن جاری

رامبن میں بادل پھٹنے سے تباہی اورہلاکتیں ہوئی ہیں۔راج گڑھ کے گدگرام علاقے میں بادل پھٹنے کے ساتھ ساتھ ہوی موسلادھاربارش کےنتیجے میں تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔جبکہ دو افراد لاپتہ ہیں ۔ دونوں کی تلاش کی جارہی ہے۔

سینئرانتظامی افسران موقع پر موجود ہیں اور ریسکیو آپریشن کی نگرانی کررہے ہیں۔مقامی لوگ بھی امدادی کاموں میں انتظامیہ کی مدد کر رہے ہیں۔شدید بارش کے بعد اچانک سیلاب اور ملبے سے کئی مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔اس بیچ،وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے راج گڑھ میں ہوئی جانی نقصان پرگہرے رنج وغم کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے متعلقہ حکام سے متاثرین کو فوری مددبہم کرانے کی ہدایت دی ہے ۔
ریاسی میں لینڈ سلائڈ
ادھرریاسی میں بھاری بارش کے نتیجے میں لینڈ سلائڈنگ ہوئی ہے۔ ماہو ر میں لینڈسلائڈ کی زد میں گھر کے آنے سے ایک ہی خاندان کے سات افراد ہلاک ہوگئے ہیں ۔

محکمہ موسمیات کا الرٹ
اس بیچ، محکمہ موسمیات نے پونچھ، ریاسی، راجوری، کشتواڑ اور ادھم پور اضلاع میں موسلادھار بارش کا الرٹ جاری کیا ہے۔ پونچھ، کشتواڑ، جموں، رامبن اور ادھم پور می آج اور کل یعنی اتوار کے لیے اورنج الرٹ جاری کیا گیا ہے ۔

جموں میں تعلیمی ادارے بند
جموں کشمیر میں گزشتہ چند دنوں سے مسلسل موسلادھار بارش ہو رہی ہے۔ اس کی وجہ سے جموں سری نگر قومی شاہراہ (NH-44) سمیت کئی اہم راستوں کو سیلاب کی وجہ سے نقصان پہنچا ہے جس کی وجہ سے ٹریفک ٹھپ ہو کر رہ گئی ہے۔
دوسری جانب جموں ڈویژن میں تمام سرکاری اور پرائیویٹ اسکول 30 اگست تک بند رہیں گے۔عہدیداروں نے بتایا کہ یہ فیصلہ مختلف اضلاع سے موصول ہونے والی تشویشناک اطلاعات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
محکمہ موسمیات نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران پہاڑی علاقوں میں مزید بارش کی پیش گوئی کی ہے جس کے باعث انتظامیہ نے لوگوں سے الرٹ رہنے کی اپیل کی ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطینی لیڈران نہیں کرسکیں شرکت، امریکہ کا ویزا دینے سے انکار،امن عمل کونقصان پہنچانے کا الزام


اقوام متحدہ کااجلاس عام ستمبرمیں ہونے جارہا ہے۔فلسطین کے حوالے سے یہ اجلاس اہم ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فرانس،کینیڈا اوردیگرملکوں نے آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی بات کہی ہے لیکن اس بیچ امریکہ نے اپنا اصلی چہرہ دکھا دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے فلسطینی اتھارٹی کے نمائندوں کو ویزا نہیں دے گا۔امریکہ نے اس حوالے سے بیان جاری کیا ہے جس میں فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (PLO) اور فلسطینی اتھارٹی (PA) کے ارکان کے ویزے منسوخ یا مسترد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق،جو افراد اقوام متحدہ کے مستقل مشن میں شامل ہیں انہیں ویزا مراعات مل جائے گی لیکن صدر محمود عباس جنرل اسمبلی میں شرکت نہیں کر سکیں گے۔
۔امریکہ کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کے پیش نظر فلسطینی لیڈروں کوویزا نہیں دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

امریکہ نے بیان میں کہا ہے کہ یہ ہمارے قومی سلامتی کے مفاد میں ہے کہ ہم فلسطینی اتھارٹی اور بعض عہدیداروں کو ان کے وعدوں کی خلاف ورزی اور امن کے امکانات کو نقصان پہنچانے پر جوابدہ ٹھہرائیں

امریکی وزارت خارجہ نے فلسطینی قیادت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت اور عالمی عدالتِ انصاف کا سہارا لے کر ’قانونی جنگ‘ کر رہی ہے ۔اس نے مزید کہا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کو فلسطینی ریاست کو یکطرفہ طور پر تسلیم کرانے کی کوششیں ترک کرنی چاہئیں۔

فلسطینی وفا نیوز ایجنسی کے مطابق فلسطینی اتھارٹی نے امریکہ کے اس فیصلے پر حیرت اورافسوس کا اظہار کیا ہے۔اس نے امریکی انتظامیہ سے فیصلے پر نظرثانی اور اسے پلٹنے کی اپیل کی ہے

واضح رہے کہ جولائی میں امریکا نے فلسطینی اتھارٹی اور کے بعض عہدیداروں پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ اس دوران جب یورپ سمیت دیگر مغربی ممالک فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت میں پیش رفت کر رہے ہیں، امریکہ کا یہ سخت رویہ کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔

امریکہ پہلے بھی ویزے مسترد کر چکا ہے۔ 1988 میں پی ایل او کے اس وقت کے سربراہ یاسر عرفات کو اقوام متحدہ کے سرکاری عوامل پر نیویارک آنے کے لیے ویزا دینے سے انکار کر دیا گیا تھا۔2013 میں امریکہ نے سوڈان کے اس وقت کے صدر عمر البشیر کو ویزا جاری کرنے سے بھی انکار کر دیا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ وہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کو مطلوب تھے۔
پھراسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہوکے لیے سرخ قالین استقبال کی تیاری کیوں؟ اسرائیل کے وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو بھی بین الاقوامی فوجداری عدالت کو مطلوب ہیں لیکن اجلاس میں ان کی شرکت متوقع ہے۔سوال اب یہ ہے کہ کیا امریکہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کوویزا جاری کرنے سے انکارکرے گا؟

Friday, 29 August 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*

صحافی کبھی آنسو نہیں بہاتا۔۔۔ وہ مضمون لکھتا ہے۔۔ 
بزرگ صحافی معصوم مراد آبادی کا یہ مضمون محض ایک مضمون نہیں ہے۔۔ یہ ایک کہنہ مشق صحافی کی اس تڑپ' اضطراب اور آتشی کسک کا اظہار ہے جو صحافی کے اندر انتہائی حالات میں پیدا ہوتی ہے اور جو اس کے اندر کے انسان کو جھلسا دیتی ہے۔۔ موقع ملے تو انقلاب کی آج کی اشاعت میں آپ بھی پڑھئے۔۔۔ Masoom Moradabadi

آئیے ’سیکولرازم‘کی یاد تازہ کریں
معصوم مرادآبادی

ایک ایسے وقت میں جب ہرطرف ہندوازم اور ہندتو اکے چرچے ہوں، سیکولرازم کی بات کرنا خطرے سے خالی نہیں۔یوں بھی آج کل سیکولرازم پر جوکچھ گزررہی ہے، وہ خود سیکولر ازم اور اس کے پسماندگان کو ہی معلوم ہے۔ میں بھی خود کو اس ملک میں سیکولر ازم کے پسماندگان میں شمار کرتا ہوں، کیونکہ میں نے جس زمانے میں شعور کی زندگی میں قدم رکھا تھا،یہاں سیکولرازم کی کچھ ایسی نشانیاں باقی تھیں، جنھیں دیکھ کر یوں لگتا تھا کہ واقعی ہم ایک سیکولر ملک کے باشندے ہیں۔ حالانکہ اس ملک کی اکثریت اس وقت بھی ہندوؤں پر مشتمل تھی، لیکن ملک کی سیاست میں ایسے لوگ بڑی تعداد میں موجود تھے جو سر سے پاؤں تک سیکولر نظر آتے تھے۔ ان کے وجود میں فرقہ پرستی کا کوئی شائبہ تک نہیں تھا، لیکن میں آج جس آلودہ ہندوستان میں سانس لے رہاہوں، وہاں میرا دم گھٹ رہا ہے، کیونکہ اب یہاں فیشن کے طورپر بھی کوئی سیکولرازم کی بات نہیں کرتا۔ سب ہندوازم اور ہندتو کی ہی باتیں کررہے ہیں۔میں اپنے آس پاس سیکولرازم کو تلاش کررہا ہوں، لیکن اس تک میری رسائی نہیں ہوپارہی ہے۔مجھے نہیں معلوم کہ یہ قصور میری اپنی اپروچ کا ہے یا اس سیکولرازم کا جس کی چھترچھایا میں اس ملک نے اب تک کا سفر خوش اسلوبی کے ساتھ طے کیا ہے۔
 اب یہی دیکھئے نا کہ ملک کی سب سے بڑی سیکولر جماعت کانگریس کے لیڈر راہل گاندھی نے بھی یہ کہہ دیا کہ ’’یہ ملک ہندوؤں کا ہے اور میں ہندو ہوں۔‘‘ اگر یہ بیان موہن بھاگوت،نریندر مودی یا امت شاہ دیتے تو مجھے اس پر ہرگزکوئی اعتراض نہیں ہوتا کیونکہ ان کی سیاست کا محور یہی ہے، لیکن یہ بیان کیونکہ ایک ایسی پارٹی کے اہم لیڈر نے دیا ہے جس نے آزادی کی جنگ لڑی اور جس کی قیادت حکیم اجمل خاں، مولانا ابوالکلام آزاد، ڈاکٹر مختار احمد انصاری، مولانا محمدعلی جوہراور طیب جی جیسے لوگوں نے بھی کی ہے۔ ایسے میں مجھے کیونکر اس بیان پر یقین آئے اور میں اسے ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرلوں؟یقین مانئے جب سے میں نے راہل گاندھی کا یہ بیان پڑھا ہے،میں خاصا پریشان ہوںاور کانگریس کے سیکولر نظرئیے میں خود کو ڈھونڈھنے اور پہچاننے کی کوشش کررہا ہوں۔اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ میں ہندو نہیں ہوںاور نہ ہی میرے آباواجداد ہندو تھے۔میں آرایس ایس کے اس نظرئیے کی نفی کرتا رہا ہوں کہ اس ملک کا ہر باشندہ خواہ اس کا مذہب کوئی بھی وہ ’ہندو‘ہے۔
جس روز راہل گاندھی نے جے پور میں مذکورہ بیان دیا، اس کے اگلے ہی روز ہمارے وزیراعظم نریندرمودی نے’ہر ہر مہادیو‘ کے نعروں کے درمیان وارانسی میں عظیم کاشی وشوناتھ کوریڈور کے پہلے منصوبے کا آغاز کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم ایک حکمراں سے زیادہ ایک ’اوتار‘کے بھیس میں نظر آئے اور انھوں نے سادھوؤں کا لباس زیب تن کرکے گنگا کے ٹھنڈے پانی میں ڈبکیاں بھی لگائیں۔ وزیراعظم کے اس پروگرام کی میڈیا میں ایسی ہی زبردست کوریج ہوئی ہے جیسا کہ پچھلے سال اگست میں رام مندر کا سنگ بنیاد رکھنے کی ہوئی تھی۔سبھی جانتے ہیں کہ اس وقت اترپردیش میں اسمبلی الیکشن کی گہما گہمی ہے۔ الیکشن جیتنے کے لیے اب آپ کو ترقی اورخوشحالی کے گیت نہیں گانے ہوتے بلکہ اپنے آپ کو سب سے بڑا ’ہندو‘ثابت کرنا ہوتا ہے، جو کہ وزیراعظم نے اس موقع پر اپنی تقریر میں کیا بھی۔ ایسا لگتا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی اور کانگریس لیڈر راہل گاندھی کے درمیان خود کو زیادہ بڑا ہندو ثابت کرنے کی مقابلہ آرائی ہورہی ہے۔
راہل گاندھی نے گزشتہ اتوار کو جے پورمیں کانگریس کی ’قومی ریلی‘ میں کہا کہ ’’آج ملک کی سیاست میں دوالفاظ کا مطلب الگ الگ ہے۔میں ہندو ہوں، لیکن ہندو وادی نہیں ہوں، مہاتما گاندھی ہندو تھے اور ناتھو رام گوڈسے ہندتو وادی۔ ہندوکا راستہ ستیا گرہ ہوتا ہے اور ہندتووادی کا ’ستّا گرہ‘ہوتا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ’’یہ دیش ہندوؤں کا ہے، ہندتووادیوں کا نہیں۔‘‘راہل گاندھی جس پارٹی کے لیڈر ہیں، اس میں انھیں ہرگز یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ اس ملک کو ہندوؤں کا دیش کہیں۔ انھیں یہ کہنا چاہئے تھا کہ ’’یہ دیش ہندوؤں، مسلمانوں، سکھوں، عیسائیوں، پارسیوں، اوربودھوں سبھی کا ہے۔ سبھی نے مل کر اس کو انگریزوں سے آزاد کرایا تھا، اس لیے سبھی کا اس پر برابری کا حق ہے۔جو لوگ اس کو ہندوؤں کا ملک قرار دیتے ہیں وہ اس کی روح پر حملہ کرتے ہیں اور میں ایسے لوگوں کو یہ وارننگ دینا چاہتا ہوں کہ وہ اس ملک کے سیکولر آئین کی روح پر حملہ نہ کریں۔‘‘ لیکن ایسا کہنا چونکہ ملک کے موجودہ سیاسی ماحول میںاقتدار کی سیاست کے لیے موزوں نہیں ہے، اس لییراہل گاندھی نے اپنے ’ہندو‘ ہونے کا اعلان کرنا ضروری سمجھا۔مگر وہ اس بات کو بھول گئے کہ ان کے آباء واجداد نے کبھی اس بات کو ضروری خیال نہیں کیا کہ وہ اپنے ہندو ہونے کا اعلان کریں، کیونکہ وہ اس حقیقت کو جانتے تھے کہ مذہب انسان کا ایک نجی معاملہ ہے اور اس ملک کا دستور ایک سیکولر ہے جس میں ہر شہری کو برابری کے حقوق حاصل ہیں۔ اس ملک میں اکثریت کے مذہب کو کوئی خاص رعایت حاصل نہیں ہے بلکہ وہ اس ملک کے دیگر مذاہب کی طرح ایک مذہب ہے۔
سبھی جانتے ہیں کہ جب سے بی جے پی نے مکمل اکثریت کے ساتھ اقتدار سنبھالا ہے، اس ملک کی سیاست ’یک رخی‘ ہوگئیہے۔ اب یہاں اکثریتی طبقے کو ذہن میں رکھ کر ہی سب کچھ ہورہا ہے اور اس کا سب سے منفی اثر ان مسلمانوں پر پڑا ہے جو اس وقت ملک کی سب سے پسماندہ قوم ہیں۔آج انھیں سیاسی طورپر اچھوت بنادیا گیا ہے۔ اب وہ سیاسی پارٹیاں بھی مسلمانوں کا نام لینے سے ڈرتی ہیں، جنھوں نے اپنی ساری طاقت مسلمانوں کے ووٹوں سے حاصل کی ہے۔مسلمانوں کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ انھوں نے سیکولرازم کے نام پر جن سیاسی پارٹیوں کے ہاتھوں کو مضبوط کیا، اب وہ پوری طرح ہندتو کی سیاست کررہی ہیں۔ یعنی ہندوہی اس وقت سیاست کا محور ہیں۔بی جے پی نے اپنی شاطرانہ چالوں سے ملک میں ایسا ماحول پیدا کردیا ہے کہ اس وقت مسلمان کا مطلب پاکستان اور جناح کو قرار دے دیا گیا ہے اور اس حوالے سے کسی پر بھی ’ملک دشمن‘ ہونے کا الزام لگادینا سب سے آسان کام ہے۔ماضی میں سیاسی پارٹیاں مسلمانوں کے بارے میں ’اقلیتوں‘ کا نام لے کر گفتگو کرتی تھیں۔ لیکن اب کوئی زیب داستاں کے لیے بھی مسلمانوں یا اقلیتوں کا نام نہیں لیتا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب مسلمان ’اپنی سیاست اور اپنی قیادت‘ کے نعرے لگانے لگے ہیں، جنھیں دور اندیش لوگ مسلمانوں کے حق میں مضر سمجھتے ہیں۔
سبھی جانتے ہیں کہ ہمارے ملک میں سیکولرازم کا مطلب مذہب بیزاری یا لامذہبیت بالکل نہیں ہے بلکہ اس کا مفہوم سبھی مذاہب کا احترام اور انھیں پھلنے پھولنے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ سیکولرازم کے اسی تصور پر گامزن ہوکر ہم نے اب تک کا سفر طے کیا ہے، لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ اس سفر کی منزل آپہنچی ہے اوراس تصور کو ملیا میٹ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ایسے میں صحیح سوچ رکھنے والے تمام ہندستانیوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ’جیو اور جینے دو‘ کے اصول کو باقی رکھنے کے لیے ایک بار پھر سیکولرازم کے سبق کو دوہرائیں اور ان طاقتوں کو منہ توڑ جواب دیں جو اس ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ملیا میٹ کرنے کے درپہ ہیں۔ اگر اس کام کو وقت رہتے انجام نہیں دیا گیا تو کل بہت دیر ہوجائے گی۔
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں
masoom.moradabadi@gmail.com
_______________

*ادارہ نثری ادب کی 227 ویں ماہانہ ادبی نشست* 

*ادارہء نثری ادب کی 227 ویں ماہانہ ادبی نشست 30 اگست 2025ء بروز سنیچر کی شب، ٹھیک دس بجے اے ٹی ٹی کیمپس میں منعقد ہوگی- صدارت کے فرائض رضوان ربانی سر (معلم، ناظم و رکن ادارہ کثیرا) انجام دیں گے- قلمکاران میں ڈاکٹر اقبال برکی (ادیب الاطفال) ہارون اختر (افسانہ نگار) ڈاکٹر مختار انصاری (افسانہ نگار) اور عزیز اعجاز (معلم و ڈرامہ نویس) صاحبان حاضرین کے روبرو اپنی تخلیقات پیش کریں گے* جُملہ تخلیقات پر تنقید و تبصرے کی اجازت ہوگی- *نظامت کے فرائض عتیق شعبان سر انجام دیں گے-*
   *اردو زبان و ادب سے محبت رکھنے والے، اساتذہ، زیرِ تربیت معلمین و طلباء سے شرکت کی گذارش صدر و اراکین ادارہ نثری ادب نے کی ہے.*
_________

*زندہ دلان مالیگاؤں کی "محفل طنزو مزاح" سلسلہ نمبر 13*

 *زنده دلان مالیگاؤں، کے زیراہتمام اسکس لائبریری اور مالیگاؤں آرئس اینڈ کلچرل ایسوی ایشن کے اشتراک سے بتاریخ 2 ستمبر 2025ء بروز منگل شب ٹھیک دس بج کر دس منٹ (10.10) پر "محفل طنز و مزاح سلسلہ نمبر 13" اسکس لائبریری ہال میں منعقد ہوگا- جسکی تفصیل ذیل کے مطابق ہے۔ قرآت، رضوان ربانی، صدارت، محترم خان انعام الرحمن سر (سابق پرنسپل) نظامت، رضوان ربانی، اسٹارٹر:- منصور اکبر (سیف نیوز)، تبرک: مرحوم سلطان سبحانی( تعارف و پیشکش:- طارق اسلم) ہرل گوئی:- سندر مالیگانؤی(تقی حیدر) مرحوم مالیگانوی (شکیل بھارتی) مضامین:- عارف حسین (منصورہ) نعیم سلیم(اے ٹی ٹی) صاحبان شکریہ:- ظہیر قدسی، پروگرام ہر حال میں وقت مقررہ پر شروع کر دیا جائے گا- منتظمین نے شرکت کی گزارش کی ہے۔*
_________
🎻غزل 🎸
مخصوص کہیں ملنے ملانے کے نہیں ہم
خوشبو کی طرح ایک ٹھکانے کے نہیں ہم

بنیاد سے چھت تک یہ بدن خرچ ہوا ہے
لکھ لو کہ یہ گھر چھوڑ کے جانے کے نہیں ہم

ہاں ٹھیک ہے ملنے کے تمنائی ہیں لیکن
آواز نہیں دو گے تو آنے کے نہیں ہم

پوچھے گا جو قیمت تو ترے بس کے نہیں ہیں
اور پیار سے " تولے،" تو اک آنے کے نہیں ہم 

بچھڑے ہیں بہت لوگ مرے یار مگر تُو
جس طرح سے بھولا ہے بھلانے کے نہیں ہم

🎻راشد ثاقب مالیگاؤں🎸 
__________
غزل

نوشی گیلانی کی ایک خوبصورت غزل 

رُکتا بھی نہیں ٹھیک سے ، چلتا بھی نہیں ھے
یہ دل کہ تیرے بعد ، سنبھلتا بھی نہیں ھے

اک عمر سے ھم اُس کی تمنا میں ھیں بے خواب
وہ چاند جو آنگن میں ، اُترتا بھی نہیں ھے

پھر دل میں تیری یاد کے ، منظر ھیں فروزاں
ایسے میں کوئی ، دیکھنے والا بھی نہیں ھے

ھمراہ بھی خواھش سے ، نہیں رھتا ھمارے
اور بامِ رفاقت سے ، اُترتا بھی نہیں ھے

اِس عمر کے صحرا سے ، تری یاد کا بادل
ٹلتا بھی نہیں ، اور برستا بھی نہیں ھے

نوشی گیلانی
Admin: #SyedUsamaHamdani

*🔴سیف نیوز اُردو*

*لاڈکی بہن یوجنا اور احتیاطی تدابیر*
ازقلم: اشرف آنلائن شاپی
تاریخ: 28 اگست 2025

لاڈکی بہن یوجنا جب سے 2024 میں شروع ہوئی ہے، تب سے اشرف آنلائن شاپی ہر قدم پر بہنوں کی صحیح رہنمائی کرنے کی کوشش کرتا آ رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں کئی بہنوں کی رقم آنا بند ہو گئی ہے، جس کے بعد وہ کے وائی سی کے نام پر کبھی بینک تو کبھی کسی آنلائن کام کرنے والے شخص کے پیچھے جا رہی ہیں اور کئی جگہوں پر بغیر سوچے سمجھے پیسے بھی خرچ کر رہی ہیں۔ اس پوسٹ کا مقصد آپ کو وقت پر صحیح بات بتانا ہے تاکہ آپ کا وقت، پیسہ اور محنت ضائع نہ ہو۔

جیسا کہ مہاراشٹر سرکار نے 2024 میں ہی اعلان کیا تھا کہ اس اسکیم سے متعلق تمام عمل آنگن واڑی اور آنگن واڑی سیویکاؤں کے ذریعے انجام دیا جائے گا، اس لیے کسی آنلائن سینٹر یا نامعلوم فرد کے پاس جا کر اپنے ڈاکومنٹس دینا یا پیسے خرچ کرنا سراسر نقصان دہ ہے۔ اگر آپ واقعی اسکیم کی مستحق ہیں تو آپ کے علاقے کی آنگن واڑی سیویکا خود آپ کے پاس پہنچے گی، اور اگر وہ نہ آئے تو سرکار کی طرف سے اخباروں اور دیگر ذرائع سے اطلاع دی جائے گی۔ روزنامہ انقلاب میں بھی اس سلسلے میں واضح خبر موجود ہے۔

حکومت مہاراشٹر کی طرف سے ایک بڑی جانچ مہم میں یہ سامنے آیا ہے کہ لاڈکی بہن یوجنا میں 26 لاکھ 34 ہزار خواتین ایسی پائی گئی ہیں جو اس اسکیم کی اہل نہیں تھیں لیکن ہر ماہ 1500 روپے لے رہی تھیں۔ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے کہا ہے کہ اسکیم کو شفاف بنانے کے لیے دوبارہ تصدیق یعنی کے وائی سی کی مہم شروع کی گئی ہے تاکہ صرف مستحق خواتین کو فائدہ پہنچے۔ ریاستی وزیر آشیش جیسوال نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جو خواتین نا اہل پائی گئی ہیں، ان کی امداد بند کر دی گئی ہے، البتہ حکومت کا ان کے خلاف قانونی کارروائی یا رقم واپس لینے کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں ہے۔

اب تک 2 کروڑ 63 لاکھ خواتین نے اس اسکیم میں اندراج کروایا، جن میں سے 2 کروڑ 41 لاکھ خواتین اہل قرار پائیں، جبکہ باقی میں لاکھوں درخواستیں نا اہل ثابت ہوئیں۔ مختلف اضلاع میں جعلی فائدہ اٹھانے والی خواتین کی بڑی تعداد سامنے آئی ہے، مثلاً ناسک میں 1 لاکھ 86 ہزار، احمد نگر میں 1 لاکھ 25 ہزار 753، تھانے میں 1 لاکھ 25 ہزار 300، اورنگ آباد میں 1 لاکھ 4 ہزار 700، کولہاپور میں 1 لاکھ 1 ہزار 400، ناگپور میں 95 ہزار 500، شولاپور میں 1 لاکھ، ستارہ میں 86 ہزار، سانگلی میں 90 ہزار اور ناندیڑ میں 92 ہزار خواتین نا اہل قرار دی گئی ہیں۔ پالگھر، جالنہ، دھولیہ، امراوتی سمیت دیگر اضلاع میں بھی ہزاروں کی تعداد میں نا اہل افراد کی شناخت ہوئی ہے۔

چونکہ تعداد بہت زیادہ ہے، اس لیے حکومت یہ فیصلہ نہیں کر پا رہی کہ کس کس کے خلاف کارروائی کی جائے۔ اس ساری صورت حال کو دیکھتے ہوئے اشرف آنلائن شاپی کی طرف سے سبھی بہنوں سے گزارش ہے کہ وہ ہوشیار رہیں، کسی غیر متعلقہ یا نجی آنلائن فرد کو اپنے کاغذات یا پیسے نہ دیں، اور صرف آنگن واڑی سیویکا سے ہی رابطہ رکھیں۔ اسکیم کا فائدہ صرف انہی لوگوں کو ملے گا جو سچ میں مستحق ہیں، اور یہی سرکار کا مقصد بھی ہے۔
*بسم اللہ الرحمٰن الرحیم*

       *حفظ قرآن مجید واردو تقریری مسابقہ میں تمام ہی شرکاء مبارک کے حقدار ہیں*

       *دعا گو حافظ عقیل احمد ملی قاسمی ترجمان وفاق المدارس والمکاتب مالیگاؤں*

        *الحمدللہ گذشتہ کل ساتواں آل مالیگاؤں مسابقہ حفظ قرآن مجید و اردو تقریر کا انعقاد ادارہ زید بن ثابت کے زیرِ اہتمام منعقد کیا گیا جو دو فروعات پر مشتمل تھا اور الحمدللہ کامیابی سے ہم کنار ہوا*

        *لہذا اس مسابقہ کا انعقاد کروانے والے وہ تمام حضرات جنھوں نے اس میں کسی بھی طرح کی خدمات انجام دیں ہوں اور بطور خاص اس کے روح رواں حضرت مولانا عمران اسجد ندوی صاحب اسی کے ساتھ ساتھ اس مسابقہ میں شرکت کرنے والے وہ تمام طلبہ عزیز جن کے نمبرات آئے اور جن کے نمبرات نہیں بھی آئے اسی طرح اس مسابقہ میں شرکت کرنے والے طلبہ عزیز پر محنت کرنے والے اور ان کی تیاری کروانے والے وہ تمام معلمین کرام اور نظماء وصدور جنھوں نے طلبہ کی تیاری میں انتھک محنت اور کوشش کی اسی طرح اس مسابقہ کو منعقد کرنے اور کامیابی تک پہنچانے کے لئے جن حضرات نے اپنا مالی تعاون کسی بھی صورت میں پیش کیا ہو اسی طرح اس مسابقہ میں شہر عزیز مالیگاؤں کے وہ تمام علمائے کرام جن کا کسی بھی شعبہ میں طویل خدمات کے اعتراف میں اعزاز و استقبال کیا گیا ہے ایسے تمام حضرات کو میں دل کی عمیق گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس مسابقہ کو قبول فرمائے اور ہر ایک کو بہترین بدلہ عطا فرمائے آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم*
مکیش امبانی نے جیو IPO کی تاریخ 2026 کا انکشاف کر کے سب کو چونکا دیا

Reliance AGM: جیو کا آئی پی او کب آئے گا، مکیش امبانی نے کر دیا انکشاف، آپ بھی تاریخ نوٹ کر لیں
Reliance AGM: ریلائنس انڈسٹریز کی سالانہ جنرل اسمبلی میں چیئرمین اور ایم ڈی مکیش امبانی نے Jio کے آئی پی او کو لے کر بڑا بیان دیا۔ انہوں نے بتایا کہ کمپنیIPO کی تیاری کر رہی ہے اور جلد ہی اس کے پیپر ریگولیٹر کے پاس جمع کرائے جا سکتے ہیں۔
ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ (RIL) کے چیئرمین اور ایم ڈی مکیش امبانی نے لاکھوں سرمایہ کاروں کا انتظار ختم کر دیا ہے۔ انہوں نے جمعہ کو ریلائنس کی 48ویں سالانہ عام میٹنگ (AGM) میں جیو کا آئی پی او لانے کا اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کمپنی کی جانب سے تمام تیاریاں مکمل کی جا رہی ہیں اور اندازہ ہے کہ سال 2026 کے وسط تک اس کا IPO لا دیا جائے گا۔ فی الحال کمپنی اس کے پیپر تیار کر کے جلد ہی مارکیٹ ریگولیٹر سیبی (SEBI) کے پاس جمع کرانے کی پلاننگ کر رہی ہے۔

مکیش امبانی نے کہا کہ:
’’مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے فخر ہو رہا ہے کہ جیو اپنے آئی پی او کے لیے درخواست دینے کی تیاریاں کر رہا ہے۔ ہمارا ہدف 2026 کی پہلی ششماہی تک جیو کو مارکیٹ میں لسٹ کرانا ہے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ جیو ہمارے عالمی حریفوں کے برابر ہی ویلیو (Value) پیدا کرے گا۔ مجھے یقین ہے کہ یہ تمام سرمایہ کاروں کے لیے ایک نہایت پُرکشش موقع ہوگا۔‘‘

جیو نے حاصل کیا بڑا مقام

مکیش امبانی نے کہا کہ ریلائنس جیو نے آج ایک اور سنگ میل عبور کیا ہے، کمپنی کے صارفین کی تعداد 50 کروڑ سے زیادہ ہو گئی ہے۔ شیئر ہولڈرز اور صارفین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مکیش امبانی نے جیو کو زندگی بدلنے والا قرار دیا۔ جیو کی کامیابیاں گنواتے ہوئے انہوں نے کہا:
’’جیو نے کچھ ناقابل یقین کام کیے ہیں۔ جیسے وائس کال مفت کرنا، ڈیجیٹل ادائیگی کے طریقے بدلنا، آدھار، یو پی آئی، جن دھن جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز میں جان ڈالنا اور ساتھ ہی دنیا کے تیسرے سب سے بڑے اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کی ریڑھ کی ہڈی کا کام کرنا۔‘‘
5جی کے کتنے یوزر بنے : آکاش امبانی

ریلائنس جیو کے چیئرمین آکاش امبانی نے بتایا کہ ملک میں 5جی کے سب سے تیز رول آؤٹ کے بعد جیو کے 5جی صارفین کی تعداد بھی تیزی سے بڑھی ہے۔ 22 کروڑ سے زیادہ یوزرز جیو ٹرو 5جی نیٹ ورک سے جڑ چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جلد ہی جیو بین الاقوامی آپریشن شروع کرے گا۔

مکیش امبانی نے بھی کہا کہ:
’’جیو ٹرو 5جی نے ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی کی اسپیڈ، اعتماد اور رسائی کو نئے سرے سے متعین کیا ہے۔ میں نے لوگوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ جیو نے میری زندگی بدل دی یا مجھے جیو پسند ہے۔ لیکن میں دل سے کہتا ہوں کہ دراصل ہر ایک بھارتی نے جیو کو اپنی زندگی کا حصہ بنا کر اسے کھڑا کیا ہے۔‘‘
جیو ہاٹ اسٹار دنیا کا دوسرا بڑا اسٹریمنگ پلیٹ فارم بن گیا۔آکاش امبانی

Reliance Industries AGM 2025: جیو ہاٹ اسٹار کا زبردست کارنامہ! دنیا کا دوسرا سب سے بڑا اسٹریمنگ پلیٹ فارم بنا
آر آئی ایل اے جی ایم 2025 میں ریلائنس جیو کے چیئرمین آکاش امبانی نے بتایا کہ جیو ہاٹ اسٹار دنیا کا دوسرا سب سے بڑا اسٹریمنگ پلیٹ فارم بن گیا ہے اور جیو بھارت کو ایک اے آئی-نیٹو ڈیجیٹل معیشت بنانے کی جانب لے جا رہا ہے۔

جیو ہاٹ اسٹار ایک ارب اسکرینز کی جانب
ریلائنس جیو کے چیئرمین آکاش امبانی نے کہا کہ جیو ہاٹ اسٹار نے بھارت کی میڈیا دنیا کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ صرف چند مہینوں میں اس نے 60 کروڑ سے زیادہ صارفین کو جوڑا ہے، جن میں 7.5 کروڑ کنیکٹڈ ٹی وی بھی شامل ہیں۔
اب جیو ہاٹ اسٹار ایک ارب اسکرینز تک پہنچنے کی راہ پر ہے۔

30 کروڑ پیڈ سبسکرائبرز کے ساتھ جیو ہاٹ اسٹار دنیا کا دوسرا سب سے بڑا اسٹریمنگ پلیٹ فارم بن گیا ہے، اور یہ کامیابی مکمل طور پر بھارت میں حاصل کی گئی۔ اس میں 3.2 لاکھ گھنٹے کا مواد موجود ہے، جو اگلے دو او ٹی ٹی پلیٹ فارمز کے مجموعی مواد سے چھ گنا زیادہ ہے۔ ہر سال 30,000 گھنٹے سے زیادہ نیا مواد جوڑا جاتا ہے۔
جیو ہاٹ اسٹار کی اے آئی اور ٹیکنالوجی نے کہانیاں دیکھنے اور سنانے کا انداز ہی بدل دیا ہے۔ ٹی وی مارکیٹ میں اس کی 34 فیصد حصے داری ہے، جو اگلے تین نیٹ ورکس کے برابر ہے۔
جیو کا سفر
آکاش امبانی نے جیو کے سفر کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ جیو ان کے لیے صرف ایک کمپنی نہیں بلکہ ایک جنون ہے۔ آج جیو 50 کروڑ سے زیادہ صارفین کو خدمات فراہم کر رہا ہے، جو امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی کل آبادی سے بھی زیادہ ہے۔ یہ صرف اعدادوشمار نہیں بلکہ بھارت کے ہر کونے میں جیو پر اعتماد کا ثبوت ہے۔

جیو دنیا میں سب سے زیادہ وائرلیس ڈیٹا ٹریفک کو سنبھالتا ہے۔ اب جیو کا اگلا ہدف چھوٹے اور بڑے بزنس کو ڈیجیٹل بنانا ہے۔ جیو ایم ایس ایم ای اور بڑے اداروں کے لیے ایک ایسا اسکیل ایبل اور محفوظ پلیٹ فارم تیار کر رہا ہے جو ان کو عالمی سطح پر مسابقتی بنانے میں مدد کرے گا۔ چاہے وہ فرنچائز مینجمنٹ ہو یا اے آئی سے چلنے والے سلوشنز، جیو ہر بزنس کو نئی طاقت دے رہا ہے۔ یہ صرف ڈیجیٹائزیشن نہیں بلکہ جدید ہائی ٹیکنالوجی کو سب کے لیے قابل رسائی بنانے کا مشن ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مکیش امبانی نے جیو IPO کی تاریخ 2026 کا انکشاف کر کے سب کو چونکا دیا
دنیا کی سب سے بڑی فکسڈ وائرلیس براڈبینڈ سروس
آکاش امبانی نے کہا کہ جیو اب ایک ڈیپ-ٹیک کمپنی بن چکی ہے۔ اس نے اپنی 5G ٹیکنالوجی (جیو ٹرو 5G) مکمل طور پر بھارت میں تیار کی ہے، جس سے آج 22 کروڑ سے زیادہ صارفین فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

جیو کی UBR براڈبینڈ ٹیکنالوجی دنیا میں اپنی نوعیت کی پہلی ہے، جو گھروں میں گیگا بائٹ اسپیڈ دیتی ہے اور کیبل کٹ جیسی مشکلات کو ختم کرتی ہے۔

جیو ایئر فائبر اب دنیا کی سب سے بڑی فکسڈ وائرلیس براڈبینڈ سروس ہے، جو ہر ماہ 10 لاکھ سے زیادہ گھروں کو جوڑ رہی ہے۔ جیو اب اپنی ہر سروس میں اے آئی شامل کر رہا ہے، چاہے وہ کسٹمر ایکسپیرینس ہو، ڈائگنوسٹکس ہو یا آٹومیشن۔ یہ سب مل کر بھارت کو دنیا کی پہلی اے آئی-نیٹو ڈیجیٹل معیشت بنانے کی بنیاد ڈال رہا ہے۔

آکاش امبانی کا پیغام
آکاش امبانی نے کہا کہ جیو ہمیشہ صارفین کی ضروریات کو ترجیح دیتا ہے۔ یہ کامیابیاں صرف جیو کی نہیں بلکہ ان تمام لوگوں کی ہیں جنہوں نے جیو پر بھروسہ کیا۔
جیو کا مقصد بھارت کو ڈیجیٹل اور ٹیکنالوجی کے میدان میں خود کفیل بنانا ہے اور اس کے لیے وہ مسلسل نئے ریکارڈ قائم کر رہا ہے۔

*🔴سیف نیوز بلاگر*

بہار میں بی جے پی اور کانگریس کارکنوں میں جھڑپ، مودی کی والدہ کے خلاف نازیبا ریمارکس پر ہنگامہ

بہار میں ہنگامہ : مودی اور ان کی والدہ کے خلاف نازیبا ریمارکس پر بی جے پی اور کانگریس کارکنوں میں جھڑپ، پتھراؤ
پٹنہ : جمعہ کے روز بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں بی جے پی اور کانگریس کارکنوں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ یہ ہنگامہ دربھنگہ میںجمعرات(28،اگست) کے دن کانگریس رہنما راہل گاندھی کی ریلی کے دوران وزیرِ اعظم نریندر مودی اور ان کی مرحومہ والدہ کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرنے کے خلاف کیا گیا۔
بی جے پی کارکنوں نے پٹنہ میں کانگریس کے دفتر کے باہر احتجاج کیا، جس دوران پتھراؤ بھی ہوا۔ اس موقع پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور علاقے میں کشیدگی بڑھ گئی۔

دربھنگہ میں بھی جمعرات کو بی جے پی نے بڑے مظاہرے کیے، جہاں پارٹی کارکنوں نے راہل گاندھی اور آر جے ڈی رہنما تیجسوی یادو کے پتلے نذرِ آتش کیے۔ یہ جلوس مقامی رکنِ پارلیمنٹ گوپال جی ٹھاکر کی قیادت میں نکالا گیا۔

جمعہ کی صبح پولیس نے اس شخص کو گرفتار کر لیا جس پر مودی کے خلاف گالی گلوچ کرنے کا الزام تھا۔
بی جے پی کے رہنما اور ریاستی وزیر نیتن نابین نے کہا:

’’بہار کا ہر بیٹا اپنی ماں کی بے عزتی کا جواب کانگریس کو دے گا۔ ہم اس کا بدلہ ضرور لیں گے۔‘‘

وفاقی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی راہل گاندھی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ملک میں ’’نفرت کی سیاست‘‘ شروع کر دی ہے۔

دوسری جانب کانگریس رہنما آشو توش نے حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ سب کچھ وزیراعلیٰ نتیش کمار کی ملی بھگت سے ہوا ہے:

’’یہ واقعہ حکومت کی مرضی سے ہو رہا ہے۔ اس کا جواب ضرور دیا جائے گا۔‘‘

پولیس نے تصدیق کی ہے کہ واقعے پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور جو بھی اس میں ملوث پایا جائے گا اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

بی جے پی نے الزام لگایا کہ راہل گاندھی کی قیادت میں ’’ووٹر ادھیکار یاترا‘‘ نے تمام حدود کو پار کر دیا، اور مودی کی والدہ کے خلاف گالیاں دینا حزب اختلاف کی مایوسی کو ظاہر کرتا ہے۔

ادھر دربھنگہ میں کانگریس کے ایک مقامی رہنما محمد نوشاد نے اعتراف کیا کہ وائرل ویڈیو ان کے لگائے گئے اسٹیج سے ہے، مگر انہوں نے کہا کہ وہ وہاں موجود نہیں تھے۔

’’اگر ایسا کچھ ہوا ہے تو میں معذرت خواہ ہوں۔ یہ ویڈیو اس وقت کی لگتی ہے جب میں وہاں سے نکل چکا تھا۔‘‘

بہار میں اگلے سال اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور بی جے پی و کانگریس کے درمیان سیاسی کشیدگی پہلے ہی بڑھتی جا رہی ہے۔ راہل گاندھی کی یاترا کو بی جے پی مسلسل نشانہ بنا رہی ہے، جبکہ کانگریس بی جے پی پر ’’انتخابی ڈرامہ‘‘ رچانے کا الزام لگا رہی ہے۔ مودی کی والدہ کے خلاف نازیبا ریمارکس نے معاملے کو مزید حساس بنا دیا ہے اور یہ ریاست کی سیاست میں بڑا تنازعہ بن سکتا ہے
سرینگر میں طیارے کی ہنگامی لینڈنگ

بریکنگ نیوز
سرینگر میں طیارے کی ہنگامی لینڈنگ
اسپائس جیٹ کے طیارے نے کی ہنگامہ لینڈنگ
تمام مسافرین محفوظ
کیبن میں ہوا کے دباؤ میں کمی کی وجہ سے کئی مسافر ہوئے بے ہوش
مکیش امبانی کا خطاب ۔ بھارت ترقی کی راہ پر گامزن

ریلائنس اے جی ایم 2025 لائیو: مکیش امبانی کا خطاب ۔ بھارت ترقی کی راہ پر گامزن
ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ (RIL) کی 48ویں سالانہ عام میٹنگ (AGM) سہ پہر 2 بجے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے شروع ہوئی، جس میں چیئرمین اور مینیجنگ ڈائریکٹر مکیش امبانی نے لائیو خطاب کیا۔

اپنے خطاب میں مکیش امبانی نے کہا:
’’اگرچہ دنیا اس وقت جغرافیائی و سیاسی غیر یقینی صورتحال سے گزر رہی ہے، لیکن ایک بات بالکل واضح ہے کہ بھارت اُبھر رہا ہے اور اسے کوئی نہیں روک سکتا۔ بھارت پہلے ہی دنیا کی ٹاپ 4 معیشتوں میں شامل ہو چکا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارت کی جی ڈی پی دنیا کی بڑی معیشتوں کے مقابلے میں سب سے تیز رفتاری سے ترقی کر رہی ہے۔ بھارت کو کسی غیر ملکی ماڈل کی نقل کرنے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ ہمارے پاس اپنا انڈیا فرسٹ ماڈل (India First Model) بنانے کی صلاحیت موجود ہے، جو ڈیپ ٹیکنالوجی (Deep Technology) کا استعمال کرتے ہوئے ملک کی سلامتی کو مضبوط کرے گا، عوام کی زندگی کو بہتر بنائے گا اور ماحولیات کے تحفظ کو یقینی بنائے گا۔‘‘
مکیش امبانی نے مزید کہا:
’’آج کی عالمی معیشت شدید غیر یقینی دور سے گزر رہی ہے۔ جغرافیائی و سیاسی تنازعات بڑھ رہے ہیں، عدم استحکام برقرار ہے اور مستقبل کی پیش گوئی کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔ دنیا یہ سمجھ رہی ہے کہ کسی تنازعے سے کسی کو جیت نہیں ملتی، بلکہ تعاون ہی مشترکہ خوشحالی کو یقینی بناتا ہے۔ جب ممالک مل جل کر کام کرتے ہیں تو تجارت آزادانہ بڑھتی ہے، سرمایہ کاری کو فروغ ملتا ہے اور ہر ایک کو فائدہ پہنچتا ہے

Thursday, 28 August 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*

آر جے ڈی نے پہلی بارSIR ڈرافٹ فہرست پر اعتراضات درج کرائے

ے ڈی نے پہلی بارSIR ڈرافٹ فہرست پر اعتراضات درج کرائے
پٹنہ**:** بہار میں جاری SIR (Special Intensive Revision) یعنی ووٹر لسٹ کے خصوصی جامع تجدید/نظرِثانی پر اب سیاست بھی گرم ہو گئی ہے۔ ریاست کی بڑی حزبِ اختلاف جماعت راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) نے پہلی بار اس عمل پر باضابطہ اعتراضات درج کرائے ہیں۔ ذرائع کے مطابق آر جے ڈی نے مجموعی طور پر 3 اعتراضات اور دعوے جمع کیے ہیں۔ جماعتی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ووٹر فہرست میں متعدد گڑبڑیاں پائی گئی ہیں،کچھ مقامات پر ووٹروں کے نام غائب ہیں تو کہیں ایسے افراد کے نام شامل ہو گئے ہیں جو طویل عرصے سے ریاست میں مقیم نہیں ہیں۔
 جے ڈی کا یہ قدم آنے والے اسمبلی انتخابات سے قبل نہایت اہم مانا جا رہا ہے۔ پارٹی چاہتی ہے کہ ووٹر فہرست پوری طرح شفاف ہو تاکہ کوئی بھی رائے دہندہ اپنے حقِ رائے دہی سے محروم نہ رہ جائے۔

کتنے لوگوں نے دستاویزات جمع کیے؟

انتخابی کمیشن نے پیر کو بتایا کہ بہار میں 7.24 کروڑ رائے دہندگان میں سے **%**99.11 افراد نے اپنے دستاویزات جمع کرا دیے ہیں۔ واضح رہے کہ ریاست میں جاری SIR یعنی ووٹر لسٹ کے خصوصی نظرِثانی کے دوران دستاویز جمع کرانے کی آخری تاریخ 1 ستمبر مقرر ہے۔ اس عمل کے تحت ڈرافٹ ووٹر لسٹ 1 اگست کو شائع کی گئی تھی۔
غلطیاں درست کرانے کا موقع

کمیشن کا کہنا ہے کہ دعوؤں اور اعتراضات کی مدت ووٹروں کو دوہرا موقع فراہم کرتی ہے، نہ صرف مسودہ فہرست (ڈرافٹ) میں موجود خامیوں اور غلطیوں کی اصلاح کے لیے، بلکہ ایسے ضروری دستاویزات جمع کرانے کے لیے بھی جو فارم داخل کرتے وقت فراہم نہ کیے گئے ہوں۔ ریاست میں 24 جون سے 24 اگست تک 60 دنوں میں**%** 98.2 ووٹروں نے اپنے کاغذات جمع کرائے۔ اسی دوران، سپریم کورٹ نے انتخابی حکام کو ہدایت دی ہے کہ جو لوگ ووٹر لسٹ میں نام شامل کروانا چاہتے ہیں اور آدھار فراہم نہیں کرتے، ان کے لیے فہرست میں درج 11 دیگر منظور شدہ شناختی دستاویزات میں سے کوئی ایک بھی قابلِ قبول ہوگا۔
مودی کا چین کا دورہ، شنگھائی اجلاس میں شی سے ممکنہ ملاقات

مودی۔شی ملاقات متوقع: وزیر اعظم کا چین کا اہم دورہ، شنگھائی تعاون تنظیم سربراہی اجلاس میں شرکت
وزیر اعظم نریندر مودی اس ہفتے چین کے شہر تیانجن کا دورہ کریں گے جہاں وہ 31 اگست سے یکم ستمبر تک شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ یہ مودی کا چین کا سات برس بعد پہلا باضابطہ دورہ ہوگا، جس نے بین الاقوامی سطح پر خاصی توجہ حاصل کی ہے۔
اس دورے کے دوران مودی اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان دوطرفہ ملاقات کے امکانات ظاہر کیے جارہے ہیں۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ ممکنہ ملاقات ایسے وقت میں ہورہی ہے جب 2020 میں ہونے والے سرحدی تصادم کے بعد کئی برسوں تک جاری تناؤ میں کچھ حد تک نرمی آئی ہے۔

بھارت-چین تعلقات اور موجودہ تناظر

2020 کے گلوان وادی تصادم نے دونوں ملکوں کے تعلقات کو سب سے نچلی سطح پر پہنچا دیا تھا۔ پانچ برس تک فوجی تعطل، سفارتی تناؤ اور معاشی کشیدگی جاری رہی۔ لیکن حالیہ مہینوں میں سرحدی کشیدگی میں کچھ کمی آئی ہے اور دونوں جانب سے بات چیت کو آگے بڑھانے کی کوششیں نظر آرہی ہیں۔ اسی پس منظر میں مودی کا یہ دورہ نہایت اہم سمجھا جارہا ہے۔
مزید یہ کہ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارت پر دوبارہ تجارتی دباؤ ڈالنے کے بعد یہ توقع کی جارہی ہے کہ نئی دہلی اور بیجنگ اپنے اقتصادی اور علاقائی تعلقات کو بہتر بنانے پر توجہ دیں گے۔

اجلاس میں بھارت کے ترجیحی نکات

بھارتی وزارت خارجہ کے سینئر اہلکار تنمیا لال کے مطابق، اس اجلاس میں بھارت کے بنیادی ایجنڈے میں تجارت، رابطہ کاری (connectivity) اور خودمختاری و علاقائی سالمیت کے اصول شامل ہوں گے۔

شنگھائی تعاون تنظیم: عالمی منظرنامے میں اہمیت

اس سال کا اجلاس شنگھائی تعاون تنظیم کی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع قرار دیا جارہا ہے۔ چین کے صدر شی جن پنگ 20 سے زائد عالمی رہنماؤں کی میزبانی کریں گے۔ اس اجتماع کو بیجنگ ’’گلوبل ساؤتھ‘‘ (Global South) کے اتحاد کے طور پر پیش کررہا ہے تاکہ امریکہ کی غیر متوقع تجارتی پالیسیوں کے مقابلے میں ایک متبادل پلیٹ فارم دکھایا جاسکے۔

اس اجلاس میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے علاوہ وسطی ایشیا، مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کے رہنما بھی شریک ہوں گے۔ خاص طور پر روس، جو مغربی پابندیوں کا شکار ہے، اس پلیٹ فارم کے ذریعے سفارتی رابطے بڑھانے کا ایک اور موقع حاصل کرے گا۔

شنگھائی تعاون تنظیم کا ارتقاء

SCO کی بنیاد 2001 میں چھ ممالک پر مشتمل ایک محدود علاقائی گروپ کے طور پر رکھی گئی تھی، لیکن آج یہ تنظیم 10 مستقل ارکان اور 16 مبصر و ڈائیلاگ شراکت داروں تک پھیل چکی ہے۔ اس کی سرگرمیاں صرف انسداد دہشت گردی اور سلامتی تک محدود نہیں رہیں بلکہ اقتصادی، تزویراتی اور عسکری تعاون تک وسعت اختیار کرچکی ہیں۔
وزیر اعظم مودی کا یہ دورہ اور شی جن پنگ سے ممکنہ ملاقات نہ صرف بھارت-چین تعلقات میں نیا باب کھول سکتی ہے بلکہ شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر عالمی توازن اور سفارت کاری کے نئے امکانات بھی پیدا کرسکتی ہے۔

مودی-شی تعلقات کی تاریخ: مودی اور شی جن پنگ کی آخری باضابطہ ملاقات 2019 میں ہوئی تھی۔ اس کے بعد سرحدی کشیدگی نے تعلقات کو شدید متاثر کیا۔

SCO کی اہمیت: یہ فورم بنیادی طور پر چین اور روس کے اثرورسوخ کو بڑھانے کے لیے بنایا گیا تھا، لیکن بھارت اور پاکستان کے شامل ہونے کے بعد اس کی تزویراتی اہمیت میں اضافہ ہوا۔

موجودہ حالات: بھارت کے لیے یہ اجلاس اس موقع پر ہورہا ہے جب امریکہ کے ساتھ اس کے تجارتی تعلقات دباؤ میں ہیں اور خطے میں چین کے اثرورسوخ کو توازن میں لانے کی ضرورت ہے۔
پرشاسک راج میں مالیگاوءں کارپوریشن کا سالانہ بجٹ 1 ہزار کروڑ سے زائد، مگر 3 سالہ پرشاسک راج میں سیاسی لیڈران کی بے توجہی اور بے حسی سے شہر کھنڈر تو کھنڈر ہی 

از 🖋️ ۔ محمد آصف بنداس 

9273019740


شہر مالیگاوءں میں تین سالوں سے کارپوریشن میں پرشاسک راج ہے۔ سارا مال پرشاسک کے پاس اب پتہ نہیں وہ کتنا کھارہے ہیں اور انکے ساتھ کارپوریشن انتظامیہ میں اور پورے اسٹاف کے کتنے لوگ کتنا کھا رہے ہیں یہ تو اللہ کو معلوم مگر آج شہر کی جو حالت ہے وہ انتہائی بیان کرنے کے قابل نہیں ہے۔ 2022 میں میں کارپوریشن پر پرشاسک راج قائم ہوا۔ عوام کو ایک امید کی کرن جاگی کہ شہر کے ہر وارڈ میں بے شمار سہولیات مہیا ہوگی۔ جو کام میئر کارپوریٹر و اسٹیڈنگ چئیرمن نہیں کرپاتا تھا ایسے عوامی فلاحی تعمیری کام پرشاسک کریگا۔ یہاں تک 2022 سے لیکر ابھی تک ٹوٹل 1100سے زائد دن ہوگئے ۔ مگر شہر کے ہر متوسط علاقے اور ہر پسماندہ علاقوں میں آج بھی ایک فٹی کوڑی کا عوامی فلاحی تعمیری کام نہیں ہوا۔ جو وارڈ کے نمائندے رہے وہ لوگ کہیں نہ کہیں سے کارپوریشن سے بجٹ لیکر وہاں روڈ گٹر بنارہے ہیں جہاں پہلے سے بنی بنائی ہے اسے لباس اتار دوسرا لباس پہنا رہے ہیں ۔ اور نام دے رہے تعمیر ترقی کا ارے ذرا پسماندہ علاقوں میں خستہ حالی کا شکار محلوں میں دیکھو اور آنکھ کی پٹی کھولو تب نظر آئے گا کہ شہر کھنڈر تو کھنڈر ہی ہے۔ اور کارپوریشن پرشاسک و انتظامیہ بھی ایسے خستہ حال وارڈ پر توجہ دینے سے قاصر ہے۔ پرشاسک کو جو جتنا کمیشن دے پرشاسک اسکو بند آنکھوں سے بجٹ دے رہا ہے۔ جبکہ ہونا یہ چاہئے کہ پرشاسک و کارپوریشن انتظامیہ شہر کے چاروں سمت میں خستہ حالی وارڈ و علاقوں کا دورہ کریں اور خود روڈ ، گٹر، پانی کی پائپ لائن، لائٹ وغیرہ کا کام جلد از جلد کرے۔ مگر ایسا لگتا ہے کہ جو باتیں چار دیواری سے چھن کر باہر آتی ہے کہ پرشاسک کے ہاتھ میں پوری کارپوریشن اور پرشاسک اپنی من مانی کرکے اضافی کمیشن پر چہرہ دیکھ کر کچھ وارڈ میں بجٹ مہیا کررہا ہے ۔ بقیہ خستہ حال محلات آج بھی تعمیر ترقی کیلئے آنسو بہا رہے ہیں ۔ مگر نہ پرشاسک و کارپوریشن انتظامیہ کو کوئی احساس و فکر ہے نہ انکے کانوں تک جوں رینگتی ہے۔ ساتھ ہی ستم ظرفی یہ کہاجائے کہ ان تین سالوں میں جوکہ نہ کہیں کارپوریٹر ہیں نہ میئر ہے، نہ اسٹینڈنگ چئیرمن ہے۔ اور پورے شہر کا تعمیر ترقی کا دارومدار کارپوریشن پرشاسک پر ہے۔ کیونکہ شہر کی عوام گھر پٹی، نل پٹی، سالانہ بن شیتی ٹیکس کارپوریشن کو ادا کرتی ہے۔ ظاہر بات ہے عوام کو ہر سہولیات کیلئے کارپوریشن میں جس کا راج ہو اس سے ہی آس ہوتی ہے۔ مگر کارپوریشن پرشاسک صرف سالانہ 1 ہزار کروڑ سے زائد کے بجٹ میں " انگلی کٹا کر شہیدوں " میں نام لکھانے کے مترادف پکے علاقوں میں ہی عوامی سہولت مہیا کررہا ہے۔ بقیہ خستہ حال محلوں کی کوئی خبر نہیں ۔ اگر کوئی ایسے علاقوں سے پرشاسک سے وقت لیکر ملاقات کرنے جاتے ہیں تو اچانک پرشاسک کی ارجنٹ میٹنگ آجاتی ہے۔ اور عوام افسوس کیساتھ گھر واپس ہوجاتی ہے۔ یہ ہے کارپوریشن کے سالانہ 1 ہزار کروڑ سے زائد کے بجٹ کے مالک کی حقیقت۔ اور کہیں نہ کہیں شہر کے ہر سیاسی لیڈران بھی اس معاملے میں چشم پوشی کرتے ہیں ۔ مثال چند یوں ہیں جیسے ، انڈر گراونڈ ڈرینج جو پورے شہر کو کھود کھود کر یہاں تک کے اچھی بھلی باریک گلیوں کو کھود کر مزید کھنڈر چھوڑ کر بھاگنے والی گجراتی کمپنی اور انکے چیلے چپاٹے سنی ان سنی کرکے بھاگ رہے ہیں ۔ عوام سیاسی لیڈران کو کہتی ہے تو غیر مناسب جواب ملتا ہے اور ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی لیڈران انڈر ڈرینج کمپنی سے اپنا اپنا حصہ لیکر خاموش ہیں۔ انڈر ڈرینج کے بعد نہ پیچ ورک نہ روڈ درست اور بھگتان عوام بھگت رہی ہے۔ ابھی کچھ دنوں پہلے پورے شہر میں سفید LED, لائٹ کا کروڑوں کے پروجیکٹ میں بھی گھوٹالہ اور گھپلہ گرین مالیگاوءں کے نوجوان تعلیم یافتہ کلیم یوسف عبداللہ نے منظر عام لاکر عوام کو بتایا ۔ یقینا" LED لائٹ کے کروڑوں کے پروجیکٹ میں بھی وارڈ ،علاقوں سمیت سیاسی لیڈران بھی کہیں نہ کہیں ملوث ہوسکتے ہیں ۔ یہی ہے پرشاسک کی مان مانی اور سالانہ 1 ہزار کروڑ سے زائد کا بجٹ رکھنے والے کی ہٹلر شاہی اور اسے نہ روکنے والے سیاسی لیڈران کی بے حسی اور بے توجہی جس سے شہر کی خستہ حالی کا شکار کہلانے والی عوام ہی چکی کے دو پاٹوں میں پس رہی ہے۔

*🔴سیف نیوز بلاگر*

آنکھوں میں اچانک سرخی آنے کی کیا وجوہات ہو سکتی ہیں؟ آنکھوں کو انسان کی شخصیت کا ہی نہیں بلکہ جسم کا بھی آئینہ کہ...