Friday, 29 August 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*

صحافی کبھی آنسو نہیں بہاتا۔۔۔ وہ مضمون لکھتا ہے۔۔ 
بزرگ صحافی معصوم مراد آبادی کا یہ مضمون محض ایک مضمون نہیں ہے۔۔ یہ ایک کہنہ مشق صحافی کی اس تڑپ' اضطراب اور آتشی کسک کا اظہار ہے جو صحافی کے اندر انتہائی حالات میں پیدا ہوتی ہے اور جو اس کے اندر کے انسان کو جھلسا دیتی ہے۔۔ موقع ملے تو انقلاب کی آج کی اشاعت میں آپ بھی پڑھئے۔۔۔ Masoom Moradabadi

آئیے ’سیکولرازم‘کی یاد تازہ کریں
معصوم مرادآبادی

ایک ایسے وقت میں جب ہرطرف ہندوازم اور ہندتو اکے چرچے ہوں، سیکولرازم کی بات کرنا خطرے سے خالی نہیں۔یوں بھی آج کل سیکولرازم پر جوکچھ گزررہی ہے، وہ خود سیکولر ازم اور اس کے پسماندگان کو ہی معلوم ہے۔ میں بھی خود کو اس ملک میں سیکولر ازم کے پسماندگان میں شمار کرتا ہوں، کیونکہ میں نے جس زمانے میں شعور کی زندگی میں قدم رکھا تھا،یہاں سیکولرازم کی کچھ ایسی نشانیاں باقی تھیں، جنھیں دیکھ کر یوں لگتا تھا کہ واقعی ہم ایک سیکولر ملک کے باشندے ہیں۔ حالانکہ اس ملک کی اکثریت اس وقت بھی ہندوؤں پر مشتمل تھی، لیکن ملک کی سیاست میں ایسے لوگ بڑی تعداد میں موجود تھے جو سر سے پاؤں تک سیکولر نظر آتے تھے۔ ان کے وجود میں فرقہ پرستی کا کوئی شائبہ تک نہیں تھا، لیکن میں آج جس آلودہ ہندوستان میں سانس لے رہاہوں، وہاں میرا دم گھٹ رہا ہے، کیونکہ اب یہاں فیشن کے طورپر بھی کوئی سیکولرازم کی بات نہیں کرتا۔ سب ہندوازم اور ہندتو کی ہی باتیں کررہے ہیں۔میں اپنے آس پاس سیکولرازم کو تلاش کررہا ہوں، لیکن اس تک میری رسائی نہیں ہوپارہی ہے۔مجھے نہیں معلوم کہ یہ قصور میری اپنی اپروچ کا ہے یا اس سیکولرازم کا جس کی چھترچھایا میں اس ملک نے اب تک کا سفر خوش اسلوبی کے ساتھ طے کیا ہے۔
 اب یہی دیکھئے نا کہ ملک کی سب سے بڑی سیکولر جماعت کانگریس کے لیڈر راہل گاندھی نے بھی یہ کہہ دیا کہ ’’یہ ملک ہندوؤں کا ہے اور میں ہندو ہوں۔‘‘ اگر یہ بیان موہن بھاگوت،نریندر مودی یا امت شاہ دیتے تو مجھے اس پر ہرگزکوئی اعتراض نہیں ہوتا کیونکہ ان کی سیاست کا محور یہی ہے، لیکن یہ بیان کیونکہ ایک ایسی پارٹی کے اہم لیڈر نے دیا ہے جس نے آزادی کی جنگ لڑی اور جس کی قیادت حکیم اجمل خاں، مولانا ابوالکلام آزاد، ڈاکٹر مختار احمد انصاری، مولانا محمدعلی جوہراور طیب جی جیسے لوگوں نے بھی کی ہے۔ ایسے میں مجھے کیونکر اس بیان پر یقین آئے اور میں اسے ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرلوں؟یقین مانئے جب سے میں نے راہل گاندھی کا یہ بیان پڑھا ہے،میں خاصا پریشان ہوںاور کانگریس کے سیکولر نظرئیے میں خود کو ڈھونڈھنے اور پہچاننے کی کوشش کررہا ہوں۔اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ میں ہندو نہیں ہوںاور نہ ہی میرے آباواجداد ہندو تھے۔میں آرایس ایس کے اس نظرئیے کی نفی کرتا رہا ہوں کہ اس ملک کا ہر باشندہ خواہ اس کا مذہب کوئی بھی وہ ’ہندو‘ہے۔
جس روز راہل گاندھی نے جے پور میں مذکورہ بیان دیا، اس کے اگلے ہی روز ہمارے وزیراعظم نریندرمودی نے’ہر ہر مہادیو‘ کے نعروں کے درمیان وارانسی میں عظیم کاشی وشوناتھ کوریڈور کے پہلے منصوبے کا آغاز کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم ایک حکمراں سے زیادہ ایک ’اوتار‘کے بھیس میں نظر آئے اور انھوں نے سادھوؤں کا لباس زیب تن کرکے گنگا کے ٹھنڈے پانی میں ڈبکیاں بھی لگائیں۔ وزیراعظم کے اس پروگرام کی میڈیا میں ایسی ہی زبردست کوریج ہوئی ہے جیسا کہ پچھلے سال اگست میں رام مندر کا سنگ بنیاد رکھنے کی ہوئی تھی۔سبھی جانتے ہیں کہ اس وقت اترپردیش میں اسمبلی الیکشن کی گہما گہمی ہے۔ الیکشن جیتنے کے لیے اب آپ کو ترقی اورخوشحالی کے گیت نہیں گانے ہوتے بلکہ اپنے آپ کو سب سے بڑا ’ہندو‘ثابت کرنا ہوتا ہے، جو کہ وزیراعظم نے اس موقع پر اپنی تقریر میں کیا بھی۔ ایسا لگتا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی اور کانگریس لیڈر راہل گاندھی کے درمیان خود کو زیادہ بڑا ہندو ثابت کرنے کی مقابلہ آرائی ہورہی ہے۔
راہل گاندھی نے گزشتہ اتوار کو جے پورمیں کانگریس کی ’قومی ریلی‘ میں کہا کہ ’’آج ملک کی سیاست میں دوالفاظ کا مطلب الگ الگ ہے۔میں ہندو ہوں، لیکن ہندو وادی نہیں ہوں، مہاتما گاندھی ہندو تھے اور ناتھو رام گوڈسے ہندتو وادی۔ ہندوکا راستہ ستیا گرہ ہوتا ہے اور ہندتووادی کا ’ستّا گرہ‘ہوتا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ’’یہ دیش ہندوؤں کا ہے، ہندتووادیوں کا نہیں۔‘‘راہل گاندھی جس پارٹی کے لیڈر ہیں، اس میں انھیں ہرگز یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ اس ملک کو ہندوؤں کا دیش کہیں۔ انھیں یہ کہنا چاہئے تھا کہ ’’یہ دیش ہندوؤں، مسلمانوں، سکھوں، عیسائیوں، پارسیوں، اوربودھوں سبھی کا ہے۔ سبھی نے مل کر اس کو انگریزوں سے آزاد کرایا تھا، اس لیے سبھی کا اس پر برابری کا حق ہے۔جو لوگ اس کو ہندوؤں کا ملک قرار دیتے ہیں وہ اس کی روح پر حملہ کرتے ہیں اور میں ایسے لوگوں کو یہ وارننگ دینا چاہتا ہوں کہ وہ اس ملک کے سیکولر آئین کی روح پر حملہ نہ کریں۔‘‘ لیکن ایسا کہنا چونکہ ملک کے موجودہ سیاسی ماحول میںاقتدار کی سیاست کے لیے موزوں نہیں ہے، اس لییراہل گاندھی نے اپنے ’ہندو‘ ہونے کا اعلان کرنا ضروری سمجھا۔مگر وہ اس بات کو بھول گئے کہ ان کے آباء واجداد نے کبھی اس بات کو ضروری خیال نہیں کیا کہ وہ اپنے ہندو ہونے کا اعلان کریں، کیونکہ وہ اس حقیقت کو جانتے تھے کہ مذہب انسان کا ایک نجی معاملہ ہے اور اس ملک کا دستور ایک سیکولر ہے جس میں ہر شہری کو برابری کے حقوق حاصل ہیں۔ اس ملک میں اکثریت کے مذہب کو کوئی خاص رعایت حاصل نہیں ہے بلکہ وہ اس ملک کے دیگر مذاہب کی طرح ایک مذہب ہے۔
سبھی جانتے ہیں کہ جب سے بی جے پی نے مکمل اکثریت کے ساتھ اقتدار سنبھالا ہے، اس ملک کی سیاست ’یک رخی‘ ہوگئیہے۔ اب یہاں اکثریتی طبقے کو ذہن میں رکھ کر ہی سب کچھ ہورہا ہے اور اس کا سب سے منفی اثر ان مسلمانوں پر پڑا ہے جو اس وقت ملک کی سب سے پسماندہ قوم ہیں۔آج انھیں سیاسی طورپر اچھوت بنادیا گیا ہے۔ اب وہ سیاسی پارٹیاں بھی مسلمانوں کا نام لینے سے ڈرتی ہیں، جنھوں نے اپنی ساری طاقت مسلمانوں کے ووٹوں سے حاصل کی ہے۔مسلمانوں کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ انھوں نے سیکولرازم کے نام پر جن سیاسی پارٹیوں کے ہاتھوں کو مضبوط کیا، اب وہ پوری طرح ہندتو کی سیاست کررہی ہیں۔ یعنی ہندوہی اس وقت سیاست کا محور ہیں۔بی جے پی نے اپنی شاطرانہ چالوں سے ملک میں ایسا ماحول پیدا کردیا ہے کہ اس وقت مسلمان کا مطلب پاکستان اور جناح کو قرار دے دیا گیا ہے اور اس حوالے سے کسی پر بھی ’ملک دشمن‘ ہونے کا الزام لگادینا سب سے آسان کام ہے۔ماضی میں سیاسی پارٹیاں مسلمانوں کے بارے میں ’اقلیتوں‘ کا نام لے کر گفتگو کرتی تھیں۔ لیکن اب کوئی زیب داستاں کے لیے بھی مسلمانوں یا اقلیتوں کا نام نہیں لیتا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب مسلمان ’اپنی سیاست اور اپنی قیادت‘ کے نعرے لگانے لگے ہیں، جنھیں دور اندیش لوگ مسلمانوں کے حق میں مضر سمجھتے ہیں۔
سبھی جانتے ہیں کہ ہمارے ملک میں سیکولرازم کا مطلب مذہب بیزاری یا لامذہبیت بالکل نہیں ہے بلکہ اس کا مفہوم سبھی مذاہب کا احترام اور انھیں پھلنے پھولنے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ سیکولرازم کے اسی تصور پر گامزن ہوکر ہم نے اب تک کا سفر طے کیا ہے، لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ اس سفر کی منزل آپہنچی ہے اوراس تصور کو ملیا میٹ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ایسے میں صحیح سوچ رکھنے والے تمام ہندستانیوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ’جیو اور جینے دو‘ کے اصول کو باقی رکھنے کے لیے ایک بار پھر سیکولرازم کے سبق کو دوہرائیں اور ان طاقتوں کو منہ توڑ جواب دیں جو اس ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ملیا میٹ کرنے کے درپہ ہیں۔ اگر اس کام کو وقت رہتے انجام نہیں دیا گیا تو کل بہت دیر ہوجائے گی۔
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں
masoom.moradabadi@gmail.com
_______________

*ادارہ نثری ادب کی 227 ویں ماہانہ ادبی نشست* 

*ادارہء نثری ادب کی 227 ویں ماہانہ ادبی نشست 30 اگست 2025ء بروز سنیچر کی شب، ٹھیک دس بجے اے ٹی ٹی کیمپس میں منعقد ہوگی- صدارت کے فرائض رضوان ربانی سر (معلم، ناظم و رکن ادارہ کثیرا) انجام دیں گے- قلمکاران میں ڈاکٹر اقبال برکی (ادیب الاطفال) ہارون اختر (افسانہ نگار) ڈاکٹر مختار انصاری (افسانہ نگار) اور عزیز اعجاز (معلم و ڈرامہ نویس) صاحبان حاضرین کے روبرو اپنی تخلیقات پیش کریں گے* جُملہ تخلیقات پر تنقید و تبصرے کی اجازت ہوگی- *نظامت کے فرائض عتیق شعبان سر انجام دیں گے-*
   *اردو زبان و ادب سے محبت رکھنے والے، اساتذہ، زیرِ تربیت معلمین و طلباء سے شرکت کی گذارش صدر و اراکین ادارہ نثری ادب نے کی ہے.*
_________

*زندہ دلان مالیگاؤں کی "محفل طنزو مزاح" سلسلہ نمبر 13*

 *زنده دلان مالیگاؤں، کے زیراہتمام اسکس لائبریری اور مالیگاؤں آرئس اینڈ کلچرل ایسوی ایشن کے اشتراک سے بتاریخ 2 ستمبر 2025ء بروز منگل شب ٹھیک دس بج کر دس منٹ (10.10) پر "محفل طنز و مزاح سلسلہ نمبر 13" اسکس لائبریری ہال میں منعقد ہوگا- جسکی تفصیل ذیل کے مطابق ہے۔ قرآت، رضوان ربانی، صدارت، محترم خان انعام الرحمن سر (سابق پرنسپل) نظامت، رضوان ربانی، اسٹارٹر:- منصور اکبر (سیف نیوز)، تبرک: مرحوم سلطان سبحانی( تعارف و پیشکش:- طارق اسلم) ہرل گوئی:- سندر مالیگانؤی(تقی حیدر) مرحوم مالیگانوی (شکیل بھارتی) مضامین:- عارف حسین (منصورہ) نعیم سلیم(اے ٹی ٹی) صاحبان شکریہ:- ظہیر قدسی، پروگرام ہر حال میں وقت مقررہ پر شروع کر دیا جائے گا- منتظمین نے شرکت کی گزارش کی ہے۔*
_________
🎻غزل 🎸
مخصوص کہیں ملنے ملانے کے نہیں ہم
خوشبو کی طرح ایک ٹھکانے کے نہیں ہم

بنیاد سے چھت تک یہ بدن خرچ ہوا ہے
لکھ لو کہ یہ گھر چھوڑ کے جانے کے نہیں ہم

ہاں ٹھیک ہے ملنے کے تمنائی ہیں لیکن
آواز نہیں دو گے تو آنے کے نہیں ہم

پوچھے گا جو قیمت تو ترے بس کے نہیں ہیں
اور پیار سے " تولے،" تو اک آنے کے نہیں ہم 

بچھڑے ہیں بہت لوگ مرے یار مگر تُو
جس طرح سے بھولا ہے بھلانے کے نہیں ہم

🎻راشد ثاقب مالیگاؤں🎸 
__________
غزل

نوشی گیلانی کی ایک خوبصورت غزل 

رُکتا بھی نہیں ٹھیک سے ، چلتا بھی نہیں ھے
یہ دل کہ تیرے بعد ، سنبھلتا بھی نہیں ھے

اک عمر سے ھم اُس کی تمنا میں ھیں بے خواب
وہ چاند جو آنگن میں ، اُترتا بھی نہیں ھے

پھر دل میں تیری یاد کے ، منظر ھیں فروزاں
ایسے میں کوئی ، دیکھنے والا بھی نہیں ھے

ھمراہ بھی خواھش سے ، نہیں رھتا ھمارے
اور بامِ رفاقت سے ، اُترتا بھی نہیں ھے

اِس عمر کے صحرا سے ، تری یاد کا بادل
ٹلتا بھی نہیں ، اور برستا بھی نہیں ھے

نوشی گیلانی
Admin: #SyedUsamaHamdani

*🛑سیف نیوز اُردو*

’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...