ہندوستان میں پیسے لگائیں گے تو کئی گنا واپس پائیں گے، ٹرمپ ٹیرف تنازعہ کے بیچ جاپان سے پی ایم مودی کا بڑا پیغام
ٹوکیو: وزیر اعظم نریندر مودی جاپان پہنچ گئے ہیں۔ اپنے دو روزہ دورے کے پہلے ہی دن انہوں نے ہندوستانی معیشت کی مضبوطی کو دنیا کے سامنے پیش کیا۔ انہوں نے سرمایہ کاروں سے واضح طور پر کہا، ‘ہندوستان میں سرمایہ صرف بڑھتا ہی نہیں، گنا ہوتاہے۔’ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ نے بھارت سے برآمد ہونے والے کپڑوں، سمندری غذا اور زیورات پر 50 فیصد تک ٹیرف عائد کر دیا ہے۔ ٹیرف کا اثر ہندوستان کے کاروبار پر نظر آرہا ہے۔ لیکن مودی نے جاپانی بزنس فورم کو یقین دلایا کہ ہندوستان سرمایہ کاری کے لیے بہترین جگہ ہے۔
مودی نے کہا کہ ہندوستان سیاسی اور اقتصادی طور پر مستحکم ہے۔ یہاں کی پالیسیاں واضح ہیں۔ شفافیت ہے۔ متوقع فیصلے کیے جاتے ہیں۔ سرمایہ کاروں کو اس یقین دہانی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا، ‘آج ہندوستان سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشت ہے۔ بہت جلد یہ تیسری بڑی معیشت بننے جا رہی ہے۔’
ٹیکنالوجی اور ٹیلنٹ کا امتزاج
مودی نے اسٹیج سے کہا کہ جاپان ٹیکنالوجی پاور ہاؤس ہے اور ہندوستان ٹیلنٹ پاور ہاؤس ہے۔ دونوں مل کر دنیا کے ٹیک انقلاب کی قیادت کر سکتے ہیں۔ ہندوستان نے مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز، کوانٹم کمپیوٹنگ، بائیوٹیک اور خلا میں جرات مندانہ قدم اٹھائے ہیں۔ اب اگر جاپان کی ٹکنالوجی اور ہندوستان کا ہنر ایک ساتھ آجائے تو تصویر بدل جائے گی۔
میٹرو سے مینوفیکچرنگ تک ایک ساتھ
مودی نے ہندوستان جاپان تعلقات کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ میٹرو سے لے کر مینوفیکچرنگ تک، سیمی کنڈکٹرز سے لے کر اسٹارٹ اپس تک، ہر جگہ شراکت مضبوط ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آٹو سیکٹر میں حاصل کی گئی کامیابی کو اب روبوٹکس، جہاز سازی اور نیوکلیئر انرجی میں بھی دہرایا جا سکتا ہے۔
گلوبل ساؤتھ میں ہندوستان۔جاپان کا کردار
مودی نے کہا کہ ہندوستان جاپانی کاروبار کے لیے گلوبل ساؤتھ کا اسپرنگ بورڈ ہے۔ یعنی جاپان ہندوستان کے راستے افریقہ جیسے ممالک تک پہنچ سکتا ہے۔ دونوں ملک مل کر ترقی پذیر ممالک کے لیے نئی امید بن سکتے ہیں۔ مودی نے جاپان کو ہندوستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا، ‘آؤ، ہندوستان میں بنائیں اور دنیا کے لیے بنائیں۔’ انہوں نے سوزوکی اور ڈائکن جیسی کمپنیوں کی مثال دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی آپ کی کہانی بھی بن سکتی ہے۔
ٹرمپ نے سابق نائب صدر کملا ہیرس کی سکیورٹی واپس لی ، ٹرمپ کے فیصلہ سے امریکہ میں کھلبلی
واشنگٹن: امریکہ میں سیاسی ہلچل بڑھ گئی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق نائب صدر کملا ہیرس کی سیکریٹ سروس کی سکیورٹی ہٹا دی ہے۔ یہ جانکاری وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر اہلکار نے سی بی ایس نیوز کو دی۔ امریکہ میں قانون کے مطابق سابق نائب صدر اور ان کے اہل خانہ کو عہدہ چھوڑنے کے بعد زیادہ سے زیادہ چھ ماہ تک سیکریٹ سروس کا تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ کملا ہیرس کی مدت ملازمت سات ماہ قبل ختم ہوئی تھی۔ اس بنیاد پر ٹرمپ انتظامیہ نے ان کا سیکورٹی کور واپس لینے کا فیصلہ کیا۔
ہیرس کے سینئر مشیر کرسٹن ایلن نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ‘سابق نائب صدر سیکریٹ سروس کی پیشہ ورانہ مہارت، لگن اور سیکیورٹی کے عزم کے لیے شکر گزار ہیں۔’ تاہم اس اقدام نے امریکی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ سی این این نے سب سے پہلے یہ اطلاع دی کہ ٹرمپ انتظامیہ نے کملا ہیرس کی سکیورٹی ہٹا دی ہے
ٹرمپ کا ایسا پہلا فیصلہ نہیں
یہ پہلا کیس نہیں ہے۔ ٹرمپ نے اپنے دوسرے دور اقتدار میں واپس آنے کے بعد کئی اعلیٰ شخصیات کی سکیورٹی ہٹا دی ہے۔ ان میں جان بولٹن (سابق قومی سلامتی کے مشیر) اور ہنٹر بائیڈن اور ایشلے بائیڈن (جو بائیڈن کے بچے) شامل ہیں۔
امریکی قوانین کے مطابق سابق صدور اور ان کی بیویوں کو تاحیات تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ لیکن ان کے بچوں کے لیے یہ صرف 16 سال کی عمر تک لاگو ہوتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بائیڈن نے اپنے دور اقتدار کے آخری مہینوں میں ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے، جس سے ان کے بالغ بچوں کی سکیورٹی میں اضافہ ہوا۔
ٹرمپ نے سی ڈی سی کی ڈائریکٹر سوسن مونریز کو خود ہٹا دیا: وائٹ ہاؤس
امریکہ کے اعلیٰ صحت کے ادارے - سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (CDC) کی ڈائریکٹر سوسن مونریز کو رات گئے خود صدر ٹرمپ نے عہدے سے برطرف کر دیا۔ وائٹ ہاؤس کے پریس سیکرٹری کے مطابق موناریز صدر کے مشن سے میل نہیں کھاتی تھیں اور انہوں نے استعفیٰ دینے سے انکار کر دیا تھا۔
مونریز کے وکلاء کا کہنا ہے کہ اسے سائنس کی حمایت میں کھڑے ہونے کی سزا دی گئی۔ اس دوران ایجنسی کے چار دیگر اعلیٰ عہدیداروں نے بھی استعفیٰ دے دیا۔ ایک اہلکار نے اے پی کو بتایا، ‘ہمیں معلوم تھا کہ اگر وہ چلی گئی تو سائنسی قیادت ختم ہو جائے گی۔ جب وہ ٹک نہیں پائیں تو ہم نے بھی جانے کا فیصلہ کیا۔’
دہلی کے کالکاجی مندر میں ایک سیوادار(خدمت گار) کوپیٹ پیٹ کرہلاک کردیا گیا۔ 29 اگست 2025 کی رات تقریباً 9:30 بجے یہ واقعہ پیش آیا۔اطلاعات کے مطابق،دہلی کے کالکاجی مندر میں ایک سیوادار کو لاٹھیوں سے پیٹ کر ہلاک کر دیا گیا۔
درشن کے بعد چنی پرساد پر جھگڑا ہوا۔بتایا جاتا ہے کہ سیوادارکالکاجی مندر میں پچھلے 14-15 برسوں سے خدمت انجام دے رہا تھا۔ مندر کے احاطے میں لڑائی کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی ٹیم موقع پر پہنچی اور ضروری کارروائی شروع کر دی۔
چنی پرساد پر بحث، مارپیٹ
پولیس کے مطابق کچھ لوگ کالکاجی مندر میں درشن کے لیے پہنچے تھے۔ درشن کے بعد، انہوں نے سیوادار سے ’چُنی پرساد‘ مانگا۔ اس پرتوتومیں میں شروع ہوئی جو جلد ہی لڑائی میں تبدل ہوگئی۔ الزام ہے کہ ان لوگوں نے سیوادار پر لاٹھیوں سے حملہ کیا۔ زخمی سیوادار کو فوری طور پر ایمس ٹراما سینٹر لے جایا گیا، جہاں علاج کے دوران اس کی موت ہوگئی
ملزم گرفتار
متوفی کی شناخت یوگیندر سنگھ کی حیثیت سے ہوئی ہے۔وہ 35 سال کا تھا۔اس کا تعلق اتر پردیش کے ہردوئی ضلع کے فتے پور گاؤں سے تھا۔ وہ لمبے عرصے سے کالکاجی مندر میں سیوادار کے طور پر کام کر رہے تھا۔ واقعہ کے فوری بعد موقع پر موجود لوگوں نے ایک ملزم کو پکڑ لیا۔
ملزم کی شناخت اتل پانڈے کے طور پر ہوئی ہے جسے پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ فی الحال پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔ دیگر ملزمین فرار ہیں جن کی شناخت کی جارہی ہے۔ ان کی گرفتاری کے لیے مہم بھی شروع کر دی گئی ہے۔