🚀 پروفیشنل لیول کی ڈیزائننگ سیکھیں:
✔ بینر ڈیزائن
✔ یوٹیوب تھمب نیل ڈیزائن
✔ سوشل میڈیا پوسٹ ڈیزائن
✔ احادیث و دینی پوسٹر ڈیزائن
✔ بزنس ایڈورٹائزمنٹ ڈیزائن
🎁 🆓 *500 اردو فونٹس مفت*
⏳ محدود نشستیں — آج ہی رجسٹریشن کرائیں!
📍 *زیرِ انتظام:میزاب رحمت انسٹیٹیوٹ آف مالیگاؤں*
مزید معلومات کے لئے بالمشافہ ملاقات کریں
⏰ *ملاقات کا وقت:*
*صبح 9 سے 11*
*دوپہر 3 سے 5*
*رات 9:30 سے 11*
🏢 *کلاس کا پتہ:*
میزاب رحمت کوچنگ کلاسیس،مدرسہ نجم العلوم مولانا شوکت علی روڈ/ورلی روڈ مومن پورہ مالیگاؤں
*فــیــصــل شـکــیـل رحــمـــانــی ســـر*
*9226786465*
مالیگاؤں (نامہ نگار) ریاست مہاراشٹر میں اسسٹنٹ پروفیسر اور پی ایچ ڈی کے لیے اہلیتی امتحان مہاراشٹر اسٹیٹ ایلیجیبلٹی ٹیسٹ (MH-SET) رواں سال 9 جون 2025 کو منعقد ہوا تھا، جس میں ایک لاکھ سے زائد امیدواروں نے حصہ لیا۔ اس کے نتائج 30 اگست 2025 بروز سنیچر کو جاری کیے گئے۔
نتائج میں مالیگاؤں کی باصلاحیت طالبہ مومن فارحہ محمد یاسین نے فزکس جیسے نہایت مشکل اور سنجیدہ مضمون میں نمایاں کامیابی حاصل کرکے شہر و ادارے کا نام روشن کیا ہے۔ فزکس کو ہمیشہ سے مشکل ترین شعبوں میں شمار کیا جاتا ہے، مگر مومن فارحہ کی اس کامیابی نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ محنت، لگن اور مستقل مزاجی سے کوئی بھی منزل مشکل نہیں رہتی۔ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ مومن فارحہ محمد یاسین خاتون ایجوکیشن سوسائٹی کے زیراہتمام جاری رائل یونیورسل اسکول (CBSE) عبدالمطلب کیمپس میں درس و تدریس کی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ان کی یہ علمی و پیشہ ورانہ وابستگی بھی ان کی محنت اور قابلیت کی عکاسی کرتی ہے۔
فارحہ یاسین کی یہ کامیابی ان کی تعلیمی جدوجہد کا تسلسل ہے۔ وہ اس سے قبل ایم ایس سی فزکس میں ٹاپ کرچکی ہیں اور بی ایڈ میں بھی نمایاں مقام حاصل کرچکی ہیں۔ ان کی مسلسل کامیابیاں طلبہ و طالبات کے لیے ایک روشن مثال ہیں۔ فارحہ یاسین کی اس شاندار کامیابی پر خاتون ایجوکیشن سوسائٹی کے چیئرمین رضوان عبدالمطلب سر، ڈائریکٹر ریحان عبدالمطلب سر، رائل یونیورسل اسکول کے پرنسپل عرفان عقیل سر کے علاوہ ایڈوکیٹ شاہد ندیم اور ڈاکٹر ساجد نعیم نے مبارکباد پیش کی ہے۔ رضوان عبدالمطلب سر نے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ مستقبل میں بھی کامیابیوں کی نئی منزلیں طے کرتی رہیں گی اور اپنے والدین، اساتذہ و ادارے کا نام مزید روشن کریں گی۔
تیانجن میں مودی۔شی کی ملاقات، پی ایم مودی نے کہا باہمی اعتماد اوراحترام سے تعلقات کوفروغ دینے کے لیے پُرعزم
تیانجن میں پرائم منسٹرنریندر مودی اور چینی صدرشی جن پنگ کی ملاقات ہوئی ۔اس ملاقات میں سرحدی تنازع، راست پروازوں ، مانسروور یاترا اور باہمی تعلقات بڑھانے پر بات چیت ہوئی۔
ملاقات کے دوران پی ایم مودی نے چینی صدر شی جن پنگ سے کہا کہ ہندوستان اور چین ‘باہمی اعتماد، احترام اور حساسیت’ پر مبنی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔
انھوں نے سرحدی علاقوں میں ’پرامن ماحول’کی بھی ستائش کی، جو مشرقی لداخ میں ڈیپسانگ اور ڈیمچوک کے مقام پر فوجیوں کے انخلاء کے بعد پیدا ہوا ہے۔ پی ایم مودی نے شی جن پنگ سے یہ بھی کہا کہ ہم باہمی تعلقات کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔
اس موقع پرپی ایم مودی نے کازان میں ہوئی بات چیت کا تذکرہ بھی کیا۔انھوں نے کازان میں ہوئی بامعنی بات چیت کو مثبت سمت دینے والا قراردیا
راست پرواز اورمانسرووریاترا کا ذکر
ملاقات کے دوران پی ایم مودی نے کہا کہ ہمارے خصوصی نمائندوں کے درمیان سرحدی انتظام کو لے کر ایک معاہدہ ہوا ہے۔ کیلاش مانسروور یاترا پھر شروع ہو گئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان راست پروازیں بھی دوبارہ شروع کی جا رہی ہیں۔ دونوں ممالک کے 2.8 بلین لوگوں کے مفادات ہمارے تعاون سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس سے پوری انسانیت کی فلاح و بہبود کی راہ بھی ہموار ہوگی۔
شی جن پنگ نے باہمی تعاون پردیا زور
چینی صدرشی جن پنگ نے پی ایم مودی سے ملاقات پرخوشی کا اظہار کیا اور شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) سربراہی اجلاس کے لیے چین آمد پر خوش آمدیدکہا ۔ چینی صدر نے بھی کازان میں ہوئی ثمرآور ملاقات کا ذکر کیا۔
اس کے ساتھ انہوں نے کہا کہ دنیا تبدیلی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ چین اور ہندوستان دو قدیم ترین تہذیبیں ہیں۔ ہم دنیا کے دو سب سے زیادہ آبادی والے ملک ہیں اور گلوبل ساؤتھ کا حصہ ہیں… دوست رہنا، اچھے پڑوسی بننا اور ڈریگن ہاتھی کا ایک ساتھ آنا بہت ضروری ہے…‘
چینی صدر نے مزید کہا کہ اس سال چین بھارت سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ ہے۔
دونوں ممالک کو اپنے تعلقات کو اسٹریٹجک اور طویل المدتی نقطہ نظر سے سنبھالنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں بین الاقوامی اداروں میں کثیرالجہتی، کثیر قطبی دنیا اور مزید جمہوریت کو برقرار رکھنے کی اپنی تاریخی ذمہ داریوں کو بھی پورا کرنا ہے اور ایشیا اور دنیا میں امن اور خوشحالی کے لیے مل کر کام کرنا ہے۔
دس ماہ کے بعد پی ایم مودی اور شی جن پنگ کے درمیان یہ پہلی دو طرفہ بات چیت تھی۔ ان دونوں لیڈروں کی آخری ملاقات 2024 میں روس کے کازان میں منعقدہ برکس سربراہی اجلاس کے دوران ہوئی تھی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ پی ایم مودی اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی اس ملاقات کا خصوصی فوکس ہندوستان اور چین کے تعلقات کو مضبوط بنانے اور حالیہ پیش رفت کو آگے بڑھانے پر ہوگا۔نے یہ بھی کہا کہ اس سربراہی اجلاس کے ذریعے شی جن پنگ دنیا کو یہ دکھانے کی کوشش کریں گے کہ وہ امریکہ کی قیادت میں عالمی نظام کا متبادل فراہم کر سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس سے یہ پیغام بھی جائے گا کہ چین، روس، ایران اور اب بھارت کو تنہا کرنے کی امریکی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔
ٹرمپ کی کواڈسمٹ میں شرکت غیریقینی ، امریکی اخبارکا دعویٰ ، امریکی سفارت خانے نے کیاکوئی تبصرہ کرنے سے گریز
ٹیرف پرامریکہ اورانڈیا کے بیچ کشیدگی کا اثرنمایاں ہوتا معلوم ہورہا ہے۔خبرہے کہ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ آئندہ کواڈسربراہی اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے ۔ نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ اب اس سال کے آخر میں کواڈ سمٹ کے لیے ہندوستان کا دورہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔
یہ خبر ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ملکوں کے تعلقات گزشتہ چند مہینوں میں کشیدہ ہوگئے ہیں۔ خاص طور پر ٹیرف اور ہند۔پاک کے بیچ سیز فائرکے حوالے سے ٹرمپ کے دعوؤں کے سبب دونوں ملکوں کے بیچ تعلقات میں ترشی درآئی ہے۔کواڈ اجلاس نئی دہلی میں نومبر میں ہوگا۔اس اجلاس میں امریکہ، بھارت، جاپان اور آسٹریلیا ک لیڈران شرکت کریں گے۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ Nobel Prize and a Test Telephone Call: How the Trump-Modi Relationship Unraveled’، میں ٹرمپ کے دورےکے شیڈول سے واقف کاروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ صدر نے پہلے پرائم منسٹر مودی کو Quad Summit کے لیے ہندوستان آنے کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن اب وہ دہلی جانے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ رپورٹ میں دونوں لیڈروں کے بیچ رشتوں میں درآئی تلخیوں کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔
ٹرمپ کی دوسری میعاد جنوری 2025 میں شروع ہو ئی ۔امریکہ میں کواڈ وزرائے خارجہ کا اجلاس ہوا۔ لیکن اب تجارتی کشیدگی اور سفارتی اختلافات کی وجہ سے یہ ہند۔امریکہ پارٹنرشپ میں پہلے کی سی مٹھاس نہیں رہی ۔ رپورٹ کے مطابق تعلقات میں خرابی مئی 2025 میں شروع ہوئی تھی۔ جب ٹرمپ نے ہند۔پاک کے بیچ سیزفائرکرانے کا دعویٰ باربار کیا لیکن ان کے اس دعوے کو بھارت نے سرےسےخارج کر دیا۔
امریکی سفارتخانے کا ردعمل
ہندوستان میں امریکی سفارت خانے نے نیویارک ٹائمز میں شائع رپورٹ پرکوئی واضح جواب نہیں دیا ہے۔ سفارت خانے کے مطابق ،اس کے پاس اس بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔ سفارت خانے نے اس بابت تفصیلی معلومات کے لیے وائٹ ہاؤس سے رابطہ کرنے کا مشورہ دیا۔نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کےمطابق،پی ایم مودی کے صبرکا پیمانہ ، صدر ٹرمپ کی مداخلت سے لبریزہورہا تھا۔
کشیدگی 17 جون کو عروج پر پہنچ گئی، جب دونوں لیڈروں کے درمیان 35 منٹ کی فون کال ہوئی۔ یہ کال کینیڈا میں جی 7 سربراہی اجلاس کے دوران ہوئی، جہاں سے ٹرمپ جلد واشنگٹن واپس لوٹ گئے تھے ۔ فون کال میں ٹرمپ نے ایک بار پھر تنازع ختم کرنے کا کریڈٹ لیا اور بتایا کہ پاکستان انہیں نوبل امن کے لیے نامزد کرنے والا ہے۔