Thursday, 28 August 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*

آر جے ڈی نے پہلی بارSIR ڈرافٹ فہرست پر اعتراضات درج کرائے

ے ڈی نے پہلی بارSIR ڈرافٹ فہرست پر اعتراضات درج کرائے
پٹنہ**:** بہار میں جاری SIR (Special Intensive Revision) یعنی ووٹر لسٹ کے خصوصی جامع تجدید/نظرِثانی پر اب سیاست بھی گرم ہو گئی ہے۔ ریاست کی بڑی حزبِ اختلاف جماعت راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) نے پہلی بار اس عمل پر باضابطہ اعتراضات درج کرائے ہیں۔ ذرائع کے مطابق آر جے ڈی نے مجموعی طور پر 3 اعتراضات اور دعوے جمع کیے ہیں۔ جماعتی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ووٹر فہرست میں متعدد گڑبڑیاں پائی گئی ہیں،کچھ مقامات پر ووٹروں کے نام غائب ہیں تو کہیں ایسے افراد کے نام شامل ہو گئے ہیں جو طویل عرصے سے ریاست میں مقیم نہیں ہیں۔
 جے ڈی کا یہ قدم آنے والے اسمبلی انتخابات سے قبل نہایت اہم مانا جا رہا ہے۔ پارٹی چاہتی ہے کہ ووٹر فہرست پوری طرح شفاف ہو تاکہ کوئی بھی رائے دہندہ اپنے حقِ رائے دہی سے محروم نہ رہ جائے۔

کتنے لوگوں نے دستاویزات جمع کیے؟

انتخابی کمیشن نے پیر کو بتایا کہ بہار میں 7.24 کروڑ رائے دہندگان میں سے **%**99.11 افراد نے اپنے دستاویزات جمع کرا دیے ہیں۔ واضح رہے کہ ریاست میں جاری SIR یعنی ووٹر لسٹ کے خصوصی نظرِثانی کے دوران دستاویز جمع کرانے کی آخری تاریخ 1 ستمبر مقرر ہے۔ اس عمل کے تحت ڈرافٹ ووٹر لسٹ 1 اگست کو شائع کی گئی تھی۔
غلطیاں درست کرانے کا موقع

کمیشن کا کہنا ہے کہ دعوؤں اور اعتراضات کی مدت ووٹروں کو دوہرا موقع فراہم کرتی ہے، نہ صرف مسودہ فہرست (ڈرافٹ) میں موجود خامیوں اور غلطیوں کی اصلاح کے لیے، بلکہ ایسے ضروری دستاویزات جمع کرانے کے لیے بھی جو فارم داخل کرتے وقت فراہم نہ کیے گئے ہوں۔ ریاست میں 24 جون سے 24 اگست تک 60 دنوں میں**%** 98.2 ووٹروں نے اپنے کاغذات جمع کرائے۔ اسی دوران، سپریم کورٹ نے انتخابی حکام کو ہدایت دی ہے کہ جو لوگ ووٹر لسٹ میں نام شامل کروانا چاہتے ہیں اور آدھار فراہم نہیں کرتے، ان کے لیے فہرست میں درج 11 دیگر منظور شدہ شناختی دستاویزات میں سے کوئی ایک بھی قابلِ قبول ہوگا۔
مودی کا چین کا دورہ، شنگھائی اجلاس میں شی سے ممکنہ ملاقات

مودی۔شی ملاقات متوقع: وزیر اعظم کا چین کا اہم دورہ، شنگھائی تعاون تنظیم سربراہی اجلاس میں شرکت
وزیر اعظم نریندر مودی اس ہفتے چین کے شہر تیانجن کا دورہ کریں گے جہاں وہ 31 اگست سے یکم ستمبر تک شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ یہ مودی کا چین کا سات برس بعد پہلا باضابطہ دورہ ہوگا، جس نے بین الاقوامی سطح پر خاصی توجہ حاصل کی ہے۔
اس دورے کے دوران مودی اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان دوطرفہ ملاقات کے امکانات ظاہر کیے جارہے ہیں۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ ممکنہ ملاقات ایسے وقت میں ہورہی ہے جب 2020 میں ہونے والے سرحدی تصادم کے بعد کئی برسوں تک جاری تناؤ میں کچھ حد تک نرمی آئی ہے۔

بھارت-چین تعلقات اور موجودہ تناظر

2020 کے گلوان وادی تصادم نے دونوں ملکوں کے تعلقات کو سب سے نچلی سطح پر پہنچا دیا تھا۔ پانچ برس تک فوجی تعطل، سفارتی تناؤ اور معاشی کشیدگی جاری رہی۔ لیکن حالیہ مہینوں میں سرحدی کشیدگی میں کچھ کمی آئی ہے اور دونوں جانب سے بات چیت کو آگے بڑھانے کی کوششیں نظر آرہی ہیں۔ اسی پس منظر میں مودی کا یہ دورہ نہایت اہم سمجھا جارہا ہے۔
مزید یہ کہ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارت پر دوبارہ تجارتی دباؤ ڈالنے کے بعد یہ توقع کی جارہی ہے کہ نئی دہلی اور بیجنگ اپنے اقتصادی اور علاقائی تعلقات کو بہتر بنانے پر توجہ دیں گے۔

اجلاس میں بھارت کے ترجیحی نکات

بھارتی وزارت خارجہ کے سینئر اہلکار تنمیا لال کے مطابق، اس اجلاس میں بھارت کے بنیادی ایجنڈے میں تجارت، رابطہ کاری (connectivity) اور خودمختاری و علاقائی سالمیت کے اصول شامل ہوں گے۔

شنگھائی تعاون تنظیم: عالمی منظرنامے میں اہمیت

اس سال کا اجلاس شنگھائی تعاون تنظیم کی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع قرار دیا جارہا ہے۔ چین کے صدر شی جن پنگ 20 سے زائد عالمی رہنماؤں کی میزبانی کریں گے۔ اس اجتماع کو بیجنگ ’’گلوبل ساؤتھ‘‘ (Global South) کے اتحاد کے طور پر پیش کررہا ہے تاکہ امریکہ کی غیر متوقع تجارتی پالیسیوں کے مقابلے میں ایک متبادل پلیٹ فارم دکھایا جاسکے۔

اس اجلاس میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے علاوہ وسطی ایشیا، مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کے رہنما بھی شریک ہوں گے۔ خاص طور پر روس، جو مغربی پابندیوں کا شکار ہے، اس پلیٹ فارم کے ذریعے سفارتی رابطے بڑھانے کا ایک اور موقع حاصل کرے گا۔

شنگھائی تعاون تنظیم کا ارتقاء

SCO کی بنیاد 2001 میں چھ ممالک پر مشتمل ایک محدود علاقائی گروپ کے طور پر رکھی گئی تھی، لیکن آج یہ تنظیم 10 مستقل ارکان اور 16 مبصر و ڈائیلاگ شراکت داروں تک پھیل چکی ہے۔ اس کی سرگرمیاں صرف انسداد دہشت گردی اور سلامتی تک محدود نہیں رہیں بلکہ اقتصادی، تزویراتی اور عسکری تعاون تک وسعت اختیار کرچکی ہیں۔
وزیر اعظم مودی کا یہ دورہ اور شی جن پنگ سے ممکنہ ملاقات نہ صرف بھارت-چین تعلقات میں نیا باب کھول سکتی ہے بلکہ شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر عالمی توازن اور سفارت کاری کے نئے امکانات بھی پیدا کرسکتی ہے۔

مودی-شی تعلقات کی تاریخ: مودی اور شی جن پنگ کی آخری باضابطہ ملاقات 2019 میں ہوئی تھی۔ اس کے بعد سرحدی کشیدگی نے تعلقات کو شدید متاثر کیا۔

SCO کی اہمیت: یہ فورم بنیادی طور پر چین اور روس کے اثرورسوخ کو بڑھانے کے لیے بنایا گیا تھا، لیکن بھارت اور پاکستان کے شامل ہونے کے بعد اس کی تزویراتی اہمیت میں اضافہ ہوا۔

موجودہ حالات: بھارت کے لیے یہ اجلاس اس موقع پر ہورہا ہے جب امریکہ کے ساتھ اس کے تجارتی تعلقات دباؤ میں ہیں اور خطے میں چین کے اثرورسوخ کو توازن میں لانے کی ضرورت ہے۔
پرشاسک راج میں مالیگاوءں کارپوریشن کا سالانہ بجٹ 1 ہزار کروڑ سے زائد، مگر 3 سالہ پرشاسک راج میں سیاسی لیڈران کی بے توجہی اور بے حسی سے شہر کھنڈر تو کھنڈر ہی 

از 🖋️ ۔ محمد آصف بنداس 

9273019740


شہر مالیگاوءں میں تین سالوں سے کارپوریشن میں پرشاسک راج ہے۔ سارا مال پرشاسک کے پاس اب پتہ نہیں وہ کتنا کھارہے ہیں اور انکے ساتھ کارپوریشن انتظامیہ میں اور پورے اسٹاف کے کتنے لوگ کتنا کھا رہے ہیں یہ تو اللہ کو معلوم مگر آج شہر کی جو حالت ہے وہ انتہائی بیان کرنے کے قابل نہیں ہے۔ 2022 میں میں کارپوریشن پر پرشاسک راج قائم ہوا۔ عوام کو ایک امید کی کرن جاگی کہ شہر کے ہر وارڈ میں بے شمار سہولیات مہیا ہوگی۔ جو کام میئر کارپوریٹر و اسٹیڈنگ چئیرمن نہیں کرپاتا تھا ایسے عوامی فلاحی تعمیری کام پرشاسک کریگا۔ یہاں تک 2022 سے لیکر ابھی تک ٹوٹل 1100سے زائد دن ہوگئے ۔ مگر شہر کے ہر متوسط علاقے اور ہر پسماندہ علاقوں میں آج بھی ایک فٹی کوڑی کا عوامی فلاحی تعمیری کام نہیں ہوا۔ جو وارڈ کے نمائندے رہے وہ لوگ کہیں نہ کہیں سے کارپوریشن سے بجٹ لیکر وہاں روڈ گٹر بنارہے ہیں جہاں پہلے سے بنی بنائی ہے اسے لباس اتار دوسرا لباس پہنا رہے ہیں ۔ اور نام دے رہے تعمیر ترقی کا ارے ذرا پسماندہ علاقوں میں خستہ حالی کا شکار محلوں میں دیکھو اور آنکھ کی پٹی کھولو تب نظر آئے گا کہ شہر کھنڈر تو کھنڈر ہی ہے۔ اور کارپوریشن پرشاسک و انتظامیہ بھی ایسے خستہ حال وارڈ پر توجہ دینے سے قاصر ہے۔ پرشاسک کو جو جتنا کمیشن دے پرشاسک اسکو بند آنکھوں سے بجٹ دے رہا ہے۔ جبکہ ہونا یہ چاہئے کہ پرشاسک و کارپوریشن انتظامیہ شہر کے چاروں سمت میں خستہ حالی وارڈ و علاقوں کا دورہ کریں اور خود روڈ ، گٹر، پانی کی پائپ لائن، لائٹ وغیرہ کا کام جلد از جلد کرے۔ مگر ایسا لگتا ہے کہ جو باتیں چار دیواری سے چھن کر باہر آتی ہے کہ پرشاسک کے ہاتھ میں پوری کارپوریشن اور پرشاسک اپنی من مانی کرکے اضافی کمیشن پر چہرہ دیکھ کر کچھ وارڈ میں بجٹ مہیا کررہا ہے ۔ بقیہ خستہ حال محلات آج بھی تعمیر ترقی کیلئے آنسو بہا رہے ہیں ۔ مگر نہ پرشاسک و کارپوریشن انتظامیہ کو کوئی احساس و فکر ہے نہ انکے کانوں تک جوں رینگتی ہے۔ ساتھ ہی ستم ظرفی یہ کہاجائے کہ ان تین سالوں میں جوکہ نہ کہیں کارپوریٹر ہیں نہ میئر ہے، نہ اسٹینڈنگ چئیرمن ہے۔ اور پورے شہر کا تعمیر ترقی کا دارومدار کارپوریشن پرشاسک پر ہے۔ کیونکہ شہر کی عوام گھر پٹی، نل پٹی، سالانہ بن شیتی ٹیکس کارپوریشن کو ادا کرتی ہے۔ ظاہر بات ہے عوام کو ہر سہولیات کیلئے کارپوریشن میں جس کا راج ہو اس سے ہی آس ہوتی ہے۔ مگر کارپوریشن پرشاسک صرف سالانہ 1 ہزار کروڑ سے زائد کے بجٹ میں " انگلی کٹا کر شہیدوں " میں نام لکھانے کے مترادف پکے علاقوں میں ہی عوامی سہولت مہیا کررہا ہے۔ بقیہ خستہ حال محلوں کی کوئی خبر نہیں ۔ اگر کوئی ایسے علاقوں سے پرشاسک سے وقت لیکر ملاقات کرنے جاتے ہیں تو اچانک پرشاسک کی ارجنٹ میٹنگ آجاتی ہے۔ اور عوام افسوس کیساتھ گھر واپس ہوجاتی ہے۔ یہ ہے کارپوریشن کے سالانہ 1 ہزار کروڑ سے زائد کے بجٹ کے مالک کی حقیقت۔ اور کہیں نہ کہیں شہر کے ہر سیاسی لیڈران بھی اس معاملے میں چشم پوشی کرتے ہیں ۔ مثال چند یوں ہیں جیسے ، انڈر گراونڈ ڈرینج جو پورے شہر کو کھود کھود کر یہاں تک کے اچھی بھلی باریک گلیوں کو کھود کر مزید کھنڈر چھوڑ کر بھاگنے والی گجراتی کمپنی اور انکے چیلے چپاٹے سنی ان سنی کرکے بھاگ رہے ہیں ۔ عوام سیاسی لیڈران کو کہتی ہے تو غیر مناسب جواب ملتا ہے اور ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی لیڈران انڈر ڈرینج کمپنی سے اپنا اپنا حصہ لیکر خاموش ہیں۔ انڈر ڈرینج کے بعد نہ پیچ ورک نہ روڈ درست اور بھگتان عوام بھگت رہی ہے۔ ابھی کچھ دنوں پہلے پورے شہر میں سفید LED, لائٹ کا کروڑوں کے پروجیکٹ میں بھی گھوٹالہ اور گھپلہ گرین مالیگاوءں کے نوجوان تعلیم یافتہ کلیم یوسف عبداللہ نے منظر عام لاکر عوام کو بتایا ۔ یقینا" LED لائٹ کے کروڑوں کے پروجیکٹ میں بھی وارڈ ،علاقوں سمیت سیاسی لیڈران بھی کہیں نہ کہیں ملوث ہوسکتے ہیں ۔ یہی ہے پرشاسک کی مان مانی اور سالانہ 1 ہزار کروڑ سے زائد کا بجٹ رکھنے والے کی ہٹلر شاہی اور اسے نہ روکنے والے سیاسی لیڈران کی بے حسی اور بے توجہی جس سے شہر کی خستہ حالی کا شکار کہلانے والی عوام ہی چکی کے دو پاٹوں میں پس رہی ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...