Tuesday, 26 November 2024

کیا ہوتا ہے کورٹ کمشنر سروے ؟ جس کو لے کر سنبھل میں ہوا جم کر ہنگامہ؟ جانئے سب کچھ


سنبھل : اترپردیش کے سنبھل میں شاہی جامع مسجد کے کورٹ کمشنر سروے کے دوران ہنگامہ آرائی کے بعد ملک کا ہر فرد جاننا چاہتا ہے کہ کورٹ کمشنر سروے کیا ہوتا ہے۔ کورٹ کمشنر کون بنتا ہے؟ یہ کوئی انتظامی افسر ہوتا ہے یا پولیس افسر ہوتا ہے۔ یا پھر دنوں ہی نہیں ۔ کیا کورٹ کمشنر وکیل ہوتا ہے؟ آخر یہ سروے کیا ہوتا ہے، جس پر اعتراض نے سنبھل میں پرتشدد کی شکل اختیار کر لی۔ اس سے پہلے گیانواپی معاملہ میں بھی کورٹ کمشنر کا سروے کرایا جا چکا ہے۔ وارانسی کے مندر فریق کے کے وکیل اور دیگر وکلاء کے ساتھ چوپال کے ذریعے نیوز 18 نے کورٹ کمشنر کی کارروائی کے پورے عمل کو جانا۔ وارانسی میں گیانواپی کیس سے وابستہ مندر فریق کے وکیل سبھاش نندن چترویدی نے کہا کہ وارانسی اور سنبھل دونوں میں کورٹ کمشنر کچہری کے ہی وکیل کو بنایا گیا ہے۔

زیادہ تر معاملات میں ایسا ہوتا ہے۔ کورٹ عدالت کے کسی بھی وکیل کو کورٹ کمشنر مقرر کرتا ہے۔ ان کے ساتھ ایک یا دو اسسٹنٹ کورٹ کمشنر بھی ہوتے ہیں۔ جن دو یا دو سے زیادہ افراد اور اداروں کے درمیان قانونی تنازعہ ہوتا ہے یعنی مدعی اور مدعا علیہ کے وکیل کے علاوہ کسی بھی وکیل کو بناجا سکتا ہے تاکہ غیر جانبداری برقرار رہے۔
یہ کورٹ کمشنر ایک طرح سے عدالت کی آنکھیں ہوتی ہیں، جو جائے وقوعہ پر جا کر قانون کی بنیاد پر کیس کے دعوؤں کا جائزہ لیتا ہے۔ سینئر وکیل امیش پاٹھک نے بتایا کہ اس کے لیے کورٹ کمشنر ویڈیو گرافی اور فوٹو گرافی بھی کرواتے ہیں۔ اس کے بعد وہ مقررہ وقت میں جو کچھ اس نے دیکھا اور سمجھا ہے، اس کی رپورٹ تیار کرکے عدالت میں جمع کراتا ہے۔ اس کے بعد عدالت اس کیس کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کرتی ہے۔

سینئر ایڈوکیٹ جے شنکر سریواستو نے کہا کہ یہاں ایک بات یہ بھی قابل غور ہے کہ اگر عدالت چاہے تو اس ریونیو کیس میں کسی بھی ریونیو ملازم جیسے امین یا اس سے بڑے کسی ملازم کو کورٹ کمشنر بنایا سکتی ہے۔ بعض اوقات ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ کورٹ کمشنر کے طور پر مقرر کردہ وکیل کی رپورٹ کے بعد عدالت کسی ریونیو ملازم کو کورٹ کمشنر مقرر کر کے اس کی کراس چیک کرنے کے لیے دوسری رپورٹ طلب کر سکتی ہے تاکہ دو رپورٹوں کے درمیان فرق کو سمجھنے کے بعد فیصلہ کیا جا سکے ۔
سینئر وکیل سنجے سریواستو-پروین سریواستو نے بتایا کہ پولیس اور انتظامیہ کا کام یا کردار صرف کورٹ کمشنر کی کارروائی کو بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل کرانا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مجموعی طور پر کورٹ کمشنر سروے میں حکومت کا کوئی کردار نہیں ہے۔ سینئر ایڈوکیٹ رنوجے ترپاٹھی نے بتایا کہ اگر کوئی بھی فریق حکومت پر ہراساں یا متعصب ہونے کا الزام لگاتا ہے تو وہ قانونی منطق کے لحاظ سے درست ثابت نہیں ہوتا ہے، کیونکہ یہ مکمل طور پر عدالتی کارروائی ہے۔

مہاراشٹرکےاگلے وزیراعلی ٰکے نام پرسسپنس جاری، ایکناتھ شنڈے نےوزیراعلیٰ کےعہدے سے دیااستعفیٰ



شیوسینا کے رہنما ایکناتھ شنڈے نے مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں اسمبلی انتخابات کے نتائج آنے کے بعد وہ راج بھون گئے اور گورنر سی پی رادھا کرشنن کو اپنا استعفیٰ پیش کیا۔ گورنر نے انہیں نئے انتظامات ہونے تک کارگذاروزیراعلیٰ کی حیثیت کا م کرنے کو کہا ہے۔ آج ریاستی اسمبلی کی میعاد ختم ہو رہی ہے۔

شنڈے اپنے دو نائب وزرائے اعلیٰ دیویندر فڑنویس اور اجیت پوار کے ساتھ راج بھون پہنچے اور اپنا استعفیٰ پیش کیا۔ ریاست میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں مہاوتی اتحاد کو شاندار جیت ملی ہے۔ اب یہ اتحاد جلد ہی نئی حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کرنے کا امکان ہے۔ 288 رکنی اسمبلی میں مہاوتی کو 232 سیٹیں ملی ہیں۔
جلد ہی مہاوتی کی طرف قانون ساز پارٹی کے لیڈر کا انتخاب کیا جائے گا۔ بی جے پی کے دیویندر فڑنویس اس دوڑ میں آگے بتائے جا رہے ہیں۔ تاہم، ایکناتھ شنڈے نے ابھی تک وزیراعلیٰ کے عہدے کے لیے اپنا دعویٰ ترک نہیں کیا ہے۔ لیکن بی جے پی سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھرنے کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ وہ اس بار وزیر اعلیٰ کے عہدے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

ریاستی اسمبلی کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔ ایسے میں آج شام تک نئی حکومت بنانا ضروری ہے۔ توقع ہے کہ شام تک اتحاد کی طرف سے قانون ساز پارٹی کے سربراہ کا انتخاب کر لیا جائے گا۔

اس کے بعد دیر شام تک حلف برداری ہو سکتی ہے۔ آپ کو بتا دیں کہ منگل کو بی جے پی لیجسلیچر پارٹی کے لیڈر کا انتخاب کیا جائے گا۔ اس کے لیے منعقد کی گئی میٹنگ میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ بھی شرکت کریں گے۔ ملاقات کے بعد شاہ وزیر اعلیٰ کے نام کا اعلان کریں گے۔

27 کروڑ میں سے ریشبھ پنت کے ہاتھ آئیں گے کتنے پیسے، ٹیکس میں جائے گا کتنا اور اگر زخمی ہوئے تو نقصان ہوگا یا فائدہ



نئی دہلی : انڈین پریمیئر لیگ کے اگلے سیزن سے پہلے میگا نیلامی میں فرنچائز ٹیم نے کھلاڑیوں پر جم کر پیسے خرچ کئے ۔ ریشبھ پنت ٹورنامنٹ کی تاریخ کے سب سے مہنگے کھلاڑی بن گئے ۔ لکھنؤ سپر جائنٹس نے انہیں 27 کروڑ کی بولی کے ساتھ اپنی ٹیم میں شامل کیا۔ اب یہ سوال ہر کسی کے ذہن میں ضرور اٹھ رہا ہوگا کہ اس 27 کروڑ روپے میں سے انہیں کتنی رقم ملے گی۔ ریشبھ پنت کو ٹیکس کے طور پر کتنی رقم ادا کرنی ہوگی اور اگر وہ ٹورنامنٹ کے دوران یا اس سے پہلے زخمی ہوجاتے ہیں تو کتنا نقصان ہوگا۔

ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے اسٹار وکٹ کیپر بلے باز ریشبھ پنت نے نئے سیزن میں دہلی کیپٹلز کی ٹیم چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد سے میگا نیلامی میں ان کی بولی کی بحث ہورہی تھی ۔ 30 کروڑ روپے تک کی بولی لگائی جانے کی امید تھی۔ ایسا ہی ہوا اور لکھنؤ کی ٹیم نے 27 کروڑ روپے کی بھاری رقم دے کر ان کو اپنے ساتھ جوڑا ۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا پوری رقم پنت کی ہوگی یا انہیں اس پر ٹیکس بھی دینا پڑے گا۔ اگر ہاں تو وہ اس کے لیے کتنی رقم ادا کریں گے؟
ریشبھ پنت کو کتنے پیسے ملیں گے؟
انڈین پریمیئر لیگ 2025 کی نیلامی میں کھلاڑیوں کی بولی لگائی گئی اور ٹیم کے ساتھ تین سال کا معاہدہ ہوا۔ فرنچائز ٹیم نے جتنی بولی لگا کر کھلاڑیوں کو خریدا ہے وہ انہیں ایک سیزن کے لیے ادا کرنا ہو گا۔ لکھنؤ نے ریشبھ پنت کو 27 کروڑ میں خریدا لیکن انہیں یہ ساری رقم ایک سیزن میں نہیں ملے گی۔ اس میں سے حکومت ہند 8.1 کروڑ روپے بطور ٹیکس وصول کرے گی۔ انہیں آئی پی ایل ٹیم سے تنخواہ کے طور پر 18.9 کروڑ روپے ملیں گے۔

زخمی ہونے پر کیا ہوگا؟
اگر ریشبھ پنت آئی پی ایل کے دوران زخمی ہو جاتے ہیں تو انہیں پوری رقم مل جائے گی لیکن اگر وہ اس سے پہلے زخمی ہو جاتے ہیں اور ٹورنامنٹ میں نہیں کھیل پاتے ہیں تو فرنچائز کو متبادل ٹیم میں کسی اور کھلاڑی کو شامل کرنے کا حق حاصل ہو گا۔ اگر کوئی کھلاڑی ٹورنامنٹ سے پہلے زخمی ہو جائے تو غیر ملکی کھلاڑیوں کو کوئی رقم نہیں ملتی۔ اگر کوئی ہندوستانی کھلاڑی ٹیم انڈیا کے لیے کھیلتے ہوئے زخمی ہو جاتا ہے اور وہ آئی پی ایل نہیں کھیل پاتا ہے تو بی سی سی آئی نے اس کا بیمہ کرایا ہوا ہے، لہذا پورے سیزن کا پیسہ جاتا ہے ۔

میچ کھیلے بغیر بھی پورے پیسے مل سکتے ہیں؟
اگر کوئی ہندوستانی یا غیر ملکی کھلاڑی آئی پی ایل فرنچائز ٹیم کے ساتھ پورا ٹورنامنٹ کھیلنے کے لیے دستیاب ہے لیکن اسے ایک بھی میچ میں کھیلنے کا موقع نہیں ملتا ہے۔ تو ایسی صورتحال میں ٹیم نے جتنے پیسے میں کھلاڑی کو خریدا ہے، وہ سارے پیسے میچ کھیلے بغیر ہی مل جائیں گے۔ اگر کوئی کھلاڑی ذاتی وجوہات کی بنا پر ٹورنامنٹ سے دستبردار ہوتا ہے تو کھیلے گئے میچوں کی تعداد کے مطابق رقم دی جائے گی۔ اگر وہ ٹورنامنٹ کے وسط میں زخمی ہو جاتا ہے تو بھی ٹیم کو پوری رقم ادا کرنا ہوگی۔

*۶۲ واں عرس شریف صلاۃ مبارك**پیر طریقت قطب الاقطاب و پیر روشن ضمیر حضرت احمد شاہ بہرائچی میاں*



قدوة السالکین قطب الاقطاب و پیر روشن ضمیر پیر طریقت حضرت حاجی احمد شاہ
*(المعروف بہرائچی میاں رحمتہ اللہ )*

قدوة السالکین حضرت حاجی الحرمین بابا

نبی جان میاں رحمتہ اللہ علیہ

قدوة السالکین حضرت حافظ و مولوی شاء اللہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ

( سابق امام حمید یہ مسجد، بڑا قبرستان )

 *مجلس چہارم خاص*

ان تمام بزرگان دین کے مزار اقدس پر صندل مبارک و چادر پوشی

مورخه ۱۳۰ نومبر ۲۰۲۴ ء بمطابق ۲۷ جمادی الاولی ۱۴۴۶ھ بروز سینچر

بعد نماز عشاء محمد گلشن عارفیہ خانقاہ عارفیہ گھڑیال والے مولانا کی خانقاہ سے صندل مبارک براہ راست ساڑھے نو بجے بڑا قبرستان پہنچ کر مزار اقدس پر چڑھایا جائے گا۔
پروگرام کی ترتیب )

مجلس اول

مورخه ۲۷ نومبر ۲۰۲۴، بمطابق ۲۴ جمادی الاولی ۱۴۴۶اهد بروز بدھ بعد نماز عشاء پیر طریقت قطب الاقطاب و پیر روشن ضمیر حضرت احمد شاہ بہرائچی میاں کی

مزار اقدس پر ذکر کی مجلس منعقد ہوگی۔
مجلس دوم

*مورخه ۲۸ نومبر ۲۰۲۴ء بمطابق ۲۵ جمادی الاولی ۴۴۶ اه بروز جمعرات*

*بعد نماز عشاء خانقاہ عارفیہ میں سوالاکھ مرتبہ لا الہ الا اللہ کے ذکر کی مجلس ہوگی۔*

 *الداعيان الخیر*

سجاد نشین خانقاہ عارفیہ پیر طریقت صوفی سعید احمد عارفی المعروف روشن شاه

قادری چشتی صابری مرحوم شمس الضحی المعروف نورانی شاه قادری ، الحاج صوفی شکیل احمد المعروف سیف اللہ شاہ ، قادری چشتی صابری ، الحاج صوفی محمد ایوب المعروف شکر اللہ شاہ
قادری چشتی صابری و جمله مریدین و معتقدین

گذارش ہے کہ ہمیشہ کی طرح محبان و عقیدت مندان اولیا کرام صندل مبارک میں شرکت فرما کر فیوض و برکات و ثواب دارین حاصل کریں۔
اس طرح کی اطلاع مالیگاؤں سیف نیوز کو عبدالکریم اشرفی صاحب نے دی ہے

معذوروں اور ضعیف حضرات کا فری میڈیکل کیمپ




مالیگاؤں (پریس ریلیز) شہر مالیگاؤں اور اطراف کے علاقوں میں بسنے والے تمام ہی معذوروں اور ضعیف حضرات کو یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ مالیگاؤں میں دیویانگ سوسائٹی کے زیر اہتمام ایک فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا ہے جس کی سرپرستی : ایڈوکیٹ مومن مجیب احمد صاحب، اور ایڈووکیٹ مومن مصدق صاحب فرما رہے ہیں تو وہی صدارت : الحاج ضیاء حکیم صاحب فرما رہے ہیں اس کیمپ کے مہمان خصوصی ایڈیشنل کلکٹر ، ایڈیشنل ایس پی، پرانت آفیسر ،میونسپل کارپوریشن کمشنر، تحصیلدار آفیسر صاحبان ہونگےبتاریخ : 25 /26 نومبر بروز پیر، منگل صبح دس بجے سے شام پانچ بجے تک بمقام : رحیم کمپاونڈ، اولڈ آگرہ روڈ دیوی کا ملہ، ضیاء حکیم کے بنگلے کے بازو میں 
اس کیمپ میں ملنے والے لوازمات : تین چاک کی سائیکل، وہیل چیئر، بیٹری سے چلنے والی سائیکل، بیساکھی، پاوں کا جوتا، نقلی ہاتھ، کان کی مشین، ہاتھ کی لکڑی، واکر، کمر کا پٹہ، نابینا حضرات کی اسٹک فری میں دستیاب کرائی جائے گی. 

لہٰذا مالیگاؤں اور اطراف کے تمام ہی معذوروں اور ضعیف حضرات سے گزارش ہے کہ وقت کا خاص خیال رکھتے ہوئے میڈیکل کیمپ میں شرکت کریں 
معذور کیلئے درکار کاغذات : آدھار کارڈ ،راشن کارڈ ،یو ڈی آئے ڈی کارڈ چھوٹا بڑا دونوں، پاسپورٹ سائز دو فوٹو ان کاغذات کی اوریجنل اور زیراکس کاپی دونوں ساتھ میں لائیں 

ضعیف حضرات کے درکار کاغذات : آدھار کارڈ ،راشن کارڈ ،شناختی کارڈ، دو فوٹو ان کاغذات کی اوریجنل اور زیراکس کاپی دونوں ساتھ میں لائیں

Tuesday, 19 November 2024

انجمن ترقی فلاح و بہبود دیانہ کمیٹی کی مہا وکاس اگھاڑی کے نامزد امیدوار ادوے ابا ہیرے کو تائید و حمایت



پچھلے دنوں ہم نے سوشل میڈیا کے ذریعے یہ اعلان کیا تھا کہ جو امیدوار ہم مسلمانوں کے حقوق کی بات کرے گا ہمیں پسماندگی سے ترقی کی طرف گامزن کرے گا ہم اسے تائید و حمایت دے گے۔
ہمارے اسمبلی حلقے میں دیڑھ درجن کے قریب امیدوار قسمت آزمائی کررہے ہیں لیکن مقابلہ صرف ان تین امیدوار ادوے ابا ہیرے ، دادا بھسے ، اور بنڈو کاکا بچھاو میں ہے۔
جہاں دادا بھسے کھلا ہوا فرقہ پرست ہے وہی بنڈوکاکا بچھاو چھپا ہوا بی جے پی کا امیدوار ہے اور یہ فرقہ پرستوں کا ہی آلہ کار ہے اس لئے دیانہ مالدہ شیوار کی غیور عوام کھلے اور چھپے ہوئے دونوں امیدوار کو پہنچانے اور مسلمانوں کی تعمیر و ترقی کی بات کرنے والے ادوے ابا ہیرے جن کی تائید سفیر امن و محبت ماہر نباض سیاست حضرت مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی نے بھی کی ہے۔
اس لئے دیانہ مالدہ شیوار کی عوام اپنے اور اپنے بچوں کے روشن مستقبل کیلئے 20 نومبر 2024 کو ہونے والے اسمبلی انتخاب میں ادوے ہیرے کی مشعل نشان پر ووٹ دے کر دلواکر بھاری اکثریت سے کامیاب کریں۔

اپیل کردہ : انجمن ترقی فلاح و بہبود دیانہ کمیٹی

انس مسرور انصاری کی کتاب ’’عکس اورامکان ‘‘ کی رسم رونمائیٹانڈہ جیسے علاقے میں رہ کر انس مسرورانصاری نے جو ادبی کام انجام دیئے ہیں وہ لائق تحسین ہیں۔احمد ابراہیم علوی

 قومی اردو تحریک فاؤنڈیشن ٹانڈہ کے بانی و صدرانس مسرور انصاری کےتحقیقی و تنقیدی مضامین کا مجموعہ ’’عکس اورامکان ‘‘ کی رسم رونمائی۔۔ادبی نشیمن،،کے دفتر واقع الماس باغ ۔ہردوئی روڈ(لکھنؤ) میں منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت سینئر صحافی و افسانہ نگار احمد ابراہیم علوی نے فرمائی۔ مہمانانِ خصوصی انس مسرور انصاری۔ ڈاکٹر عصمت ملیح آبادی اور ڈاکٹر اکبر علی بلگرامی موجود تھے ۔ نظامت کے فرائض ہر دو ناظم رضوان فاروقی اور ڈاکٹر اسرارالحق نے انجام دیئے۔
 رضوان فاروقی کی تلاوت قرآن پاک اورخلیل اختر شبو کےنعت پاک کا نذرانہ پیش کرنے کے بعدٹانڈہ۔ امبیڈکر نگر سے تشریف لائےفخرِامبیڈکرنگر انس مسرور انصاری کی کتاب ’’عکس اور امکان‘‘ کا اجراء احمد ابراہیم علوی اور ڈاکٹر عصمت ملیح آبادی کے ہاتھوں عمل میں آیا ۔
 پروگرام کی صدارت کر رہے احمد ابراہیم علوی نے انس مسرور انصاری کی ہمہ جہت خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے کہاکہ ایک شخص اکیلے کئی صنفوں پرقلم پیرا ہے،بہت سی قیمتی کتابیں اردو دنیا کو عطا کی ہیں ۔انس مسرور انصاری نے جو نظم پیش کی ہے وہ ایسی نظم ہے جس پر کہنے او ر لکھنے کے لیے بہت کچھ کہا اور لکھا جا سکتا ہے ۔میں نے جب ان کی چالیسویں کتاب۔۔عکس اور امکان،،کا مطالعہ کیا تو مجھے احساس ہواکہ انس مسرور صاحب کی تحریر میں روانی، طاقت ور اسلوب او ران کامطالعہ کافی وسیع ہے۔انھوں نے انس مسرور انصاری کی ادبی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ بڑے شہروں میں تو اس طرح کے کام کرنے کی آسانیاں ہیں لیکن ٹانڈہ جیسےقصباتی علاقے میں رہ کر انس مسرور نے جوعلمی و ادبی کارنامےانجام دیئے ہیں وہ لائق تحسین ہیں انھوں نے کہا کہ میں امید کرتا ہوں کہ انس صاحب کا قلم یوں ہی رواں دواں رہے گا۔ 
 ڈاکٹر عصمت ملیح آبادی نے اپنے تاثرات میں نہ صرف معلومات افزاءاردو دنیا کی نامور ہستیوں کی یاد دلائی بلکہ یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کیا کہ ناقدین نئے لکھنے والوں پر بھی اپنے قلم کو چلانا چاہئے ۔یہ خوش آئند بات ہے کہ نثر لکھنے والے عنقا ضرور ہیں مگر جو لکھ رہے ہیں وہ بہت عمدہ، معیاری اوراعتبار یت سے مملو ہیں۔انھوں نے انس مسرور انصاری کو مبارک با د پیش کرتے ہوئےکہا کہ ان کی علمی و ادبی سرگرمیوں اور مسلسل مطالعہ کا نتیجہ ہے ’عکس اور امکان۔‘ 
   ڈاکٹر اکبر علی بلگرامی نے کہا کہ میں ٹانڈہ کی تین عظیم ادبی شخصیات سے بہت متاثر ہوں پہلی شخصیت استادِ محترم پروفیسر محمود الہٰی صاحب کی،دوسری شخصیت مفتی ولی اللہ صاحب اور تیسری شخصیت انس مسرور انصاری کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ انس مسرور صاحب جہاں ایک اچھے شاعرو نعت گو ہیں وہیں انھوں نے تحقیقی و تنقید ی مضامین کے ساتھ ساتھ بچوں کا بھی خیال رکھا اور بچوں کےادب پر بھی انھوں نےگراں قدر کام کیےہیں۔عکس اور امکان،، میں شامل نعت کے موضوع پر۔۔تعلیقاتِ نعت،، مضمون کو انھوں نے حاصل کتاب قرار دیا اور کہاکہ اچھا ہوتا کہ عربی اشعارکے تراجم کے ساتھ اگر عربی نعت گو شعراء کے کلام کے نمونے بھی اس میں شامل ہوتے۔
 اس کے علاوہ ڈاکٹر امین احسن نے انس مسرور انصاری کا تعار ف کراتے ہوئے کہا کہ انس صاحب ہمہ جہت و ہمہ رنگ موضوعات پر لکھنے والے کثیر التصانیف شاعر ،ادیب ،نقاد ،محقق و مورخ ہیں۔بچو کے لیے بھی انھوں نے کئی اہم کتابیں اور نظمیں تصنیف کیں۔ادب اظفال پر ان کی ایک درجن سے زائد کتابیں ہیں۔جبکہ ڈاکٹرمحمد اشہر سوداگر،صحافی وصیل احمد خان (روزنامہ۔۔اردوٹائمز،،ممبئی)ڈاکٹر اسرار الحق قریشی اوررضوان فاروقی نے مقالے پیش کیے۔روزنامہ راشٹریہ سہارا کے نمائندہ غفران نسیم نےانس مسرور اور ٹانڈہ کی ادبی سرگرمیوںپر روشنی ڈالتے ہوئے تحسین و آفرین کے کلمات پیش کئے۔
   اس موقع پر۔۔ ادبی نشیمن گروپ،،کی جانب سے انس مسرورانصاری کی علمی وادبی اوراردوزبان کی عملی خدمات پرانھیں۔۔ادبی نشیمن ایوارڈ،، اورسندِتوصیف سےسرفرازکیاگیا۔ 
 پروگرام میں ڈاکٹر اسرالحق قریشی نے افسانچہ ’’بریک‘‘ اور ڈاکٹر سلیم احمد نے ’’نوکری ‘‘ پیش کیا ۔پروگرام میں خلیل اختر ،معید رہبر،محسن عظیم انصاری ،عاشق رائے بریلوی ،جلال لکھنوی،ضیاء کاملی ،قمر جیلانی خان نے اپنے اپنےکلام پیش کئے۔پروگرم کےآخیرمیں کنوینراور۔۔ادبی نشیمن،،کے مدیر ڈاکٹر سلیم احمد نےحاضرین کاشکریہ ادا کیا۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑ناگالینڈ میں زہریلی شراب پینے سے 19 افراد ہلاک، تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل* موکوکچنگ،ناگالینڈ: ناگالینڈ میں م...