Tuesday, 7 October 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*

*مفت آنکھوں کا معائنہ و جآ نچ کیمپ*
*شہریان مالیگاؤں و خاص اسلامپورہ کما ل پورا کسمبا روڈ سلیم نگر ھڈکو کالونی و اطراف کی عوام کی سہولت کے لئے آنکھوں کا مفت جانچ کا کیمپ جے -اے-ٹی ھای اسکول کے پاس نمیرہ ھایٹس کے شاپنگ کامپلیکس نمبر ۲۵ میں لللہ فاؤنڈیشن کی جانب سے فری چیک اپ کیمپ کل بروز منگل 7 اکتوبر 2025 کو رکھا گیا ہے*
*اس کیمپ میں دیا آی کیئر کی میڈیکل ٹیم ابهیجیت سر و امجد سر کی رہنمائی میں اپنی خدمات انجام دے گی*
*اس کیمپ میں موتیا بندو موتیا بیند کا بغیرٹانکے کا آپریشن ۔کانچ بندو ۔آنکھوں کا ترچھا پن۔ و دیگر آپریشن میں سہولیات دستیاب ہوگی*مریضوں کو لگنے والے چشموں پر خصوصی رعیایت دی جائے گی*
*کیمپ کی تاریخ و وقت:-7اکتوبر بروز منگل صبح 11بجے سے 4 بجے تک* 
*کیمپ کا پتہ* :*لللہ فاؤنڈیشن* *نمیرہ ھآ یٹس شاپ نمبر 25*۔مالیگاؤں
پاکستان کی جعفرایکسپریس میں دھماکہ، کوئٹہ میں ٹرین پٹری سے اتر گئی، متعدد زخمی

پاکستان میں کوئٹہ جانے والی جعفر ایکسپریس ٹرین پر ایک بار پھر حملہ ہوا ہے۔ واقعہ سلطان کوٹ کے قریب اس وقت پیش آیا جب ایک دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) پٹریوں پر پھٹ گیا۔ دھماکا اتنا زوردار تھا کہ ٹرین کی پانچ بوگیاں پٹری سے اتر گئیں جس سے بڑے پیمانے پر خوف و ہراس پھیل گیا۔ متعدد مسافروں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے، اور عینی شاہدین نے دھماکے کے بعد فائرنگ کی آوازیں سنی ہیں۔

راحت اور بچاؤ ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں داخل کرایا گیا۔ اس روٹ پر ریل خدمات کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور جائے وقوعہ اور دھماکہ خیز ڈیوائس کیسے نصب کی گئی اس کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملہ پہلے سے نصب بم سے کیا گیا۔

جعفر ایکسپریس پر حملہ پہلی بار نہیں ہوا ہے۔ یہ ٹرین پہلے بھی بلوچستان کے علاقے میں دہشت گردانہ حملوں کا نشانہ بنتی رہی ہے۔ رواں سال اگست میں بلوچستان کے ضلع مستونگ میں ایک آئی ای ڈی دھماکے میں ٹرین کی چھ بوگیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ کچھ مسافروں کو معمولی چوٹیں آئیں اور کچھ دیر کے لیے ریل کے راستے میں خلل پڑا۔ مارچ 2025 میں بلوچ لبریشن آرمی نے بولان پاس کے قریب جعفر ایکسپریس کو ہائی جیک کر لیا۔ ٹرین، جس میں کل 400 مسافر سوار تھے، پاکستان کی تاریخ کا ایک بڑا حادثہ تھا۔ پٹڑیوں کو اڑانے کے لیے دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا اور کھلی فائرنگ کی گئی۔ ٹرین میں موجود یرغمالیوں اور سیکیورٹی فورسز پر بھی گولیاں چلائی گئیں، جس کے نتیجے میں متعدد ہلاکتیں ہوئیں۔
واضح رہے کہ بلوچستان پاکستان کا وہ خطہ ہے جہاں حکومت کے خلاف شورشیں اکثر ہوتی رہتی ہیں۔ وہ انفراسٹرکچر، سیکورٹی فورسز اور نقل و حمل کے راستوں پر حملہ کرتے ہیں اور انہیں نقصان پہنچاتے ہیں۔ جہاں پاکستانی فوج پر بلوچ حملے عام ہیں، وہیں جعفر ایکسپریس کو بار بار نشانہ بنانے سے مسافروں کی حفاظت کو بھی خطرہ ہے۔
دہلی۔این سی آرمیں بارش ، کئی ریاستوں میں الرٹ جاری ، ہماچل،جموں کشمیراوراتراکھنڈ میں برف وباراں کی پیش گوئی

دہلی۔این سی آر میں آج علی الصبح سے موسلادھار بارش ہو رہی ہے۔ محکمہ موسمیات نے یلو الرٹ جاری کیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے آج دن بھر وقفے وقفے سے بارش کی پیش گوئی کی ہے۔ محکمہ موسمیات نے، بالائی اور میدانی علاقوں کے لیے بھی بارش اوربرف باری کا الرٹ جاری کیا ہے۔

قومی راجدھانی دہلی اورآس پاس کے علاقوں میں پیرکی صبح سے ہی وقفے وقفے سے بارش کا دور جاری ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق،ویسٹرن ڈسٹربنس ،دہلی۔این سی آر میں بارش کا سبب ہے۔بارش کے سلسلے کے سبب کئی علاقوں میں پانی جمع ہوسکتا ہے جس سے ٹریفک میں رخنہ پڑسکتا ہے۔لہذا،موسم کی صورتحال پرنظر رکھیں اور دفتر یاکسی کام کے لیے گھر سے نکلنے سے قبل، پہلے دہلی۔این سی آر ٹریفک اپڈیٹس چیک کرلیں۔

محکمہ موسمیات نے اگلے 24 گھنٹوں کے لیے پنجاب، ہریانہ اور چنڈی گڑھ میں شدید بارش کی پیش گوئی کی ہے۔ بہار، بنگال، جھارکھنڈ اور اڈیشہ میں گرج چمک کے ساتھ تیز بارش کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق،دہلی میں آئندہ دنوں میں درجہ حرارت میں کمی کے ساتھ سردی پڑنے کی امید ہے۔ ویسٹرن ڈسٹربنس کے زیراثر دہلی۔این سی آر میں بارش ہو رہی ہے۔ محکمہ موسمیات نے آئندہ 36 گھنٹوں کے لیے اورنج الرٹ جاری کیا ہے۔ بالائی علاقوں میں تازہ برف باری سے دہلی۔این سی آر میں درجہ حرارت میں مزید کمی کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات نے بتایا کہ ابر آلود موسم کی وجہ سے پیر کو زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 26.5 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا جو معمول سے 7.7 ڈگری کم ہے جب کہ کم سے کم درجہ حرارت 20.6 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا جو معمول سے 1.7 ڈگری کم ہے۔

بالائی علاقوں میں برف و باراں
محکمہ موسمیات نے اگلے 24 گھنٹوں کے دوران اتراکھنڈ میں 30 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیش گوئی کی ہے۔ محکمہ موسمیات نے منگل کو شدید بارش کا اورنج الرٹ جاری کر دیا ہے۔ اتراکھنڈ، ہماچل پردیش اور جموں و کشمیر میں موسلادھار بارش کا امکان ہے۔ میدانی علاقوں میں بارش اور پہاڑوں پر برفباری کا امکان ہے۔

ہریانہ ۔ پنجاب میں موسلادھار بارش کا الرٹ
محکمہ موسمیات نے پیر کو پنجاب اور ہریانہ کے لیے اورنج الرٹ جاری کرتے ہوئے اگلے 24 گھنٹوں تک مسلسل بارش کی پیش گوئی کی ہے۔ محکمے کے ڈائریکٹر سریندر پال نے بتایا کہ، پنجاب کے 8 اضلاع میں اورنج الرٹ ہے ۔ اے این آئی سے بات کرتے ہوئے پال نے کہاکہ بارش اگلے 36 گھنٹوں تک جاری رہے گی۔ پنجاب کے آٹھ اضلاع اورنج الرٹ پر ہیں۔ اس کے علاوہ، امبالہ، پنچکولہ، کیتھل، کرنال، اور ہسار سمیت ہریانہ کے کئی علاقوں میں شدید بارش کا الرٹ جاری کیا گیا ہ

بنگال اور بہار کے لیے الرٹ
دارجلنگ میں بارش اورلینڈسلائڈنگ سے تباہی کے بعد مغربی بنگال کے لیے کچھ راحت کی خبر ہے۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ ، بنگال میں اگلے 24 گھنٹوں تک موسلادھار بارش کا کوئی امکان نہیں ہے۔ تاہم بعض علاقوں میں ہلکی سے درمیانی بارش متوقع ہے۔ محکمہ موسمیات نے بہار میں اگلے دو تین دنوں تک موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی ہے۔

Monday, 6 October 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*

بہاراسمبلی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان ، دو مرحلوں میں ہوگی ووٹنگ

پٹنہ۔ بہار اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان ہو چکا ہے۔ الیکشن کمیشن نے آج شام 4 بجے ایک پریس کانفرنس میں 2025 کے بہار اسمبلی انتخابات کے مکمل شیڈول کا اعلان کیا۔ بہار میں کُل 243 سیٹوں کے لیے دو مرحلوں میں چناؤ کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

دو مرحلوں میں ہوگی ووٹنگ
بہار کی کُل 243 سیٹوں کے لئے ووٹنگ دومرحلوں میں ہوگی ، پہلے مرحلے کے تحت 6 نومبر کو 121 سیٹوں پر ووٹ ڈالے جائیں گے ۔جبکہ دوسرے مرحلے کےتحت 11 نومبر کو 122 سیٹوں پر ووٹنگ ہوگی۔ ووٹوں کی گنتی 14 نومبر کو ہوگی۔

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ “بہار میں اس بار ایس آئی آر کا عمل مکمل ہوا، اور حتمی ووٹر لسٹ 30 ستمبر کو شائع کی گئی۔” گیانیش کمار نے کہا کہ اس بار انتخابات نہ صرف بہار کے ووٹروں کے لیے آسان ہوں گے بلکہ پرامن اور مکمل طور پر شفاف طریقے سے کرائے جائیں گے۔ اس مقصد کے لیے الیکشن کمیشن نے تمام سیاسی جماعتوں اور انتظامی حکام سے ملاقات کرکے اہم تجاویز اکٹھی کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہار میں کل 243 اسمبلی سیٹیں ہیں جن میں 203 جنرل سیٹیں، 2 ایس ٹی سیٹیں اور 38 ایس سی سیٹیں ہیں۔

ووٹروں کی تعداد 7 کروڑ 40 لاکھ سے زیادہ
بہار میں ووٹروں کی کل تعداد 74.3 ملین ہے۔ بہار میں پہلی بار ووٹ دینے والے ووٹر 1.4 ملین ہیں۔ اس بار ووٹروں کی سہولت کے لیے الیکشن کمیشن نے فیصلہ کیا ہے کہ فی بوتھ 1200 سے زیادہ ووٹر نہ ہوں۔ نتیجتاً پولنگ ا سٹیشنوں کی تعداد میں اضافہ ہو گا۔ ہر پولنگ سٹیشن پر ویب کاسٹنگ فراہم کی جائے گی، جس سے اہلکار پورے عمل کی نگرانی کر سکیں گے۔

بہار انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کرنے سے پہلے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے تمام بی ایل اوز کو مبارکباد دی اور تالی بجاکر ان کی حوصلہ افزائی کی ۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح ویشالی نے دنیا کو جمہوریت کا راستہ دکھایا، اسی طرح ملک بھر میں بی ایل او صاف پانی کا راستہ دکھا رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی ٹیم نے تمام بی ایل اوز کے ساتھ گروپ فوٹو بھی بنوایا۔ اپنے خطاب میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے بھوجپوری میں ووٹروں کو مبارکباد دی اور شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے میتھلی کے تمام ووٹروں کو بھی مبارکباد دی۔

گیانیش کمار نے کہا کہ بہار میں پہلی بار الیکشن کمیشن نے اتنے بڑے پیمانے پر بوتھ لیول آفیسر کی ٹریننگ کرائی ہے۔ تمام ووٹرز کے تعاون سے SIR کا کام کامیابی سے مکمل کیا گیا ہے۔ اب پولنگ اسٹیشن پہنچنے پر ہر کوئی اپنے موبائل فونز جمع کرائے گا اور ووٹ ڈالنے کے بعد ہی واپس لے سکے گا۔ تمام ووٹرز کو پہلے کی طرح پرچی دی جائے گی۔ الیکشن کمیشن نے ڈیجیٹل نیٹ ورک ون پلیٹ فارم تیار کیا ہے، جو ٹیکنالوجی کا بہتر استعمال کرتا ہے۔ تمام ایپس کو ایک ساتھ لایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب کسی بھی پولنگ اسٹیشن پر 1200 سے زیادہ ووٹرز نہیں ہوں گے۔ بہار سے شروع ہونے والے اس اصول کو پورے ملک میں نافذ کیا جائے گا۔ اب ہر امیدوار پولنگ سٹیشن سے 100 میٹر کے فاصلے پر اپنا ہیلپ سنٹر قائم کرے گا۔ وہ اندر نصب کیا جا سکتا ہے. ہر پولنگ اسٹیشن پر 100 فیصد ویب کاسٹنگ کی جائے گی۔ امیدواروں کی تصاویر اب کلر میں ہوں گی اور فونٹ بڑا ہوگا۔ دوسرے راؤنڈ کے آغاز سے قبل پوسٹل بیلٹ کی گنتی مکمل کر لی جائے گی۔
بھارت اپنے ہی طیارے کے ملبے تلے دب جائے گا"، آرمی چیف کی باتوں سے بوکھلائے پاکستان کے وزیردفاع، دینے لگے دھمکی

آرمی چیف جنرل اوپیندر دویدی کے’ پاکستان کو نقشے سے مٹادیں گے‘ والے بیان سے پاکستان کے وزیردفاع خواجہ آصف اس قدر برہم ہوئے کہ وہ بھارت کو گیدر بھبکی دینے لگے ۔ خواجہ آصف نے بھارت کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ بھارت اپنے ہی طیارے کے ملبے تلے دب جائے گا! یہ آپریشن سندور کے پرانے زخموں کو کرید رہا ہے، جہاں پاکستان نے 6 بھارتی لڑاکا طیاروں کو مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے، جب کہ بھارت کا دعویٰ ہے کہ اس کے حملے نے 12 سے زیادہ پاکستانی طیارے تباہ کیے ہیں۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے بھی خبردار کیا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ کسی بھی سرحد کو عبور کریں گے۔ اب خواجہ آصف اس کو اشتعال انگیزی قرار دے رہے ہیں اور دھمکی دے رہے ہیں کہ اگلی جنگ ہولناک تباہی لائے گی۔

2 اکتوبر کو گجرات کے بھج میں وجے دشمی کے موقع پر وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے واضح طور پر کہا تھا کہ “کراچی جانے والی سڑک سر کریک سے گزرتی ہے، اگر ہندوستان کے اتحاد اور سالمیت کو خطرہ ہوا تو ہم کسی بھی سرحد کو عبور کر سکتے ہیں”۔ پاکستان نے سر کریک، گجرات اور سندھ، پاکستان کے درمیان 96 کلومیٹر طویل سمندری سرحد پر اپنی فوجی تعیناتی میں اضافہ کیا تھا، جسے بھارت نے بدنیتی پر مبنی قرار دیا تھا۔ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ ’’ہم نے آپریشن سندور کے دوران تحمل کا مظاہرہ کیا تھا ، لیکن اب ایسا نہیں ہوگا‘
آرمی چیف نے کیا کہا؟
اس کے بعد 3 اکتوبر کو راجستھان کے انوپ گڑھ میں آرمی چیف جنرل اوپیندر دویدی نے فوجیوں سے کہا، “پاکستان کو ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کو ختم کرنا چاہیے، ورنہ دنیا کے نقشے پر اپنا مقام برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ ہم نے آپریشن سندورکے دوران تحمل کا مظاہرہ کیا تھا ، لیکن ایسا وقت نہیں آئے گا۔ ہم ایسا جواب دیں گے کہ پاکستان اپنی تاریخ اور جغرافیہ بھول جائے گا۔” اسی دن، فضائیہ کے سربراہ اے پی سنگھ نے دہلی میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ آپریشن سندور میں امریکہ سے خریدے گئے F-16 سمیت 12 سے زیادہ پاکستانی فوجی طیارے تباہ ہو گئے ہیں۔ پاکستان کا چھ بھارتی طیاروں کو مار گرانے کا دعویٰ غلط ہے۔

خواجہ آصف ہوئے برہم
اس کے بعد پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایکس پر لکھا، “ہندوستان کے فوجی اور سیاسی رہنماؤں کے بیانات ان کی داغدار ساکھ کو بچانے کی ناکام کوشش ہے۔ آپریشن سندور میں اسکور 0-6 تھا۔ اگر انہوں نے دوبارہ کوشش کی تو انشاء اللہ ہمیں اور بھی بہتر نتائج ملیں گے۔” انہوں نے پاکستانی فوج کو “اللہ کے سپاہی” کہا اور دھمکی دی، “پاکستان اللہ کے نام پر بنا تھا، اس بار ہندوستان اپنے ہی طیاروں کے ملبے تلے دب جائے گا، اللہ اکبر!” آصف نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے آپریشن سندور میں 6 بھارتی طیارے مار گرائے، جس کی بھارت بار بار تردید کرتا ہے۔ انہوں نے بھارت پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ملکی سیاسی دباؤ کی وجہ سے سرحدی کشیدگی بڑھا رہا ہے۔
اوڈیشہ کے شہر کٹک میں کشیدگی ، دفعہ 144نافذ ، انٹرنیٹ خدمات معطل، وسرجن جلوس کے دوران دوگروپوں کے بیچ ہوئی تھی جھڑپ

اوڈیشہ کے شہر کٹک میں کشیدگی ہے۔ درگاپوجا وسرجن جلوس کے دوران دوگروپوں کے بیچ جھڑپ اورتشددکے بعد انتظامیہ نے حالات پرقابوپانے کے لیے امتناعی احکام نافذ کردیئے ہیں۔شہر کے 13 تھانہ علاقوں میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے۔اس کے ساتھ انٹرنیٹ خدمات بھی معطل کردی گئی ہیں۔

بھونیشور۔کٹک کے پولیس کمشنر ڈاکٹر سریش دیو دتہ سنگھ نے کہا کہ امتناعی احکامات کا نفاذ اتوار رات 10 بجے سے منگل کی صبح تک رہے گا۔ انٹرنیٹ خدمات 5 اکتوبر شام 7 بجے سے 6اکتوبرشام۷ بجے تک معطل رہیں گی تاکہ سوشل میڈیا پر افواہیں نہ پھیل سکیں-

پولیس کمشنر نے مزید کہا کہ جن پولیس اسٹیشن کے علاقوں میں دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے ان میں درگاہ بازار، منگل باغ، کنٹونمنٹ، پوری گھاٹ، لال باغ، بِدناسی، مارکیٹ نگر، سی ڈی اے فیز 2، مال گودام ، بادام واڑی، جگت پور، 42 موضع اور صدر تھانے کے علاقے شامل ہیں
وسرجن جلوس کے دوران تشدد
اتوارکواعلی الصبح 1:30 سے 2 بجے کے بیچ درگاہ بازار کے ہاتھی پوکھری علاقے میں تشدد کا واقعہ اس وقت ہوا جب مورتی وسرجن جلوس کتھا جوڑی ندی کے دیبی گھاٹ کی طرف بڑھ رہا تھا۔پولیس کے مطابق ،تیز آوازمیں ڈی جے کو لے کرتنازع شروع ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نے پُرتشددروپ اختیار کرلیا۔جس میں کی افراد زخمی ہوگئے۔ان میں کٹک کے ڈی سی پی کھلاری رشی کیش بھی شامل ہیں۔پولیس نے ہجوم کو منتشرکرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا۔اس دوران سڑک کے کنارے کھڑی گاڑیوں اور دکانوں کوبھی نقصان پہنچا۔جس کی وجہ سے وسرجن میں تاخیر ہوئی۔

بائیک ریلی پروبال، 8 پولیس اہلکار زخمی
کشیدگی میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب ایک تنظیم نے شہر میں بائیک ریلی نکالنے کی اجازت کی درخواست کی جسے پولیس نے مسترد کر دیا۔ پولیس نے اطلاع دی کہ کچھ لوگوں نے پتھراؤ شروع کر دیا جس کے نتیجے میں 8 پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔

آتش زنی اور توڑ پھوڑ کے واقعات
گوری شنکر پارک کے قریب، نامعلوم افراد نے8-10 مقامات پر آگ لگا دی۔ اسسٹنٹ فائر افسر سنجیب کمار بہیرا نے بتایا کہ فائر بریگیڈ نے آگ بجھائی لیکن پتھراؤ جاری رہا۔ صورتحال پر نظر رکھنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔
پولیس اب تک چھ افراد کو گرفتار کر چکی ہے اور سی سی ٹی وی اور ڈرون فوٹیج کا استعمال کرتے ہوئے باقی ملزمان کی تلاش کر رہی ہے۔ سینئر افسران صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
وی ایچ پی نے دی بند کی کال 
وشو ہندو پریشد نے آج 12 گھنٹے کے بند کی کال دی ہے۔ اس نے انتظامیہ پر امن و امان برقرار رکھنے میں ناکام ہونے کا الزام لگایا اور ڈی سی پی اور کلکٹر کے تبادلے کا مطالبہ کیا۔ اس دوران، پنڈال کمیٹیوں کے ارکان نے بھی احتجاج کرتے ہوئے ملزمین کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
بیجو جنتا دل (BJD) نے تشدد کی مذمت کرتے ہوئے اسے شہر کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو خراب کرنے کی کوشش قرار دیا۔ وزیر اعلیٰ موہن چرن ماجھی نے زخمیوں کے مفت علاج کا حکم دیا ہے۔امن وبرقراررکھنے کی وزیراعلیٰ نےکی اپیل
وزیر اعلیٰ موہن چرن ماجھی نے تشدد پر دکھ کا اظہار کیا اور عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ کٹک شہر بھائی چارے کی مثال رہا ہے، لیکن کچھ شرپسندوں نے امن کو درہم برہم کیا ہے۔ حکومت ایسے لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔

*🔴سیف نیوز بلاگر*

مالیگاؤں کی نقد ریلیف سیلاب متاثرہ پنجاب کی سرحدی بستی کمالی پور میں تقسیم 

صوفی نورالعین صابری و رفقائے کار کا سِکھ مسلم سانجھا فاؤنڈیشن نے خیرمقدم کیا 

مالیگاؤں ( نامہ نگار ) : آل انڈیا سنی جمعیتہ الاسلام ریلیف کمیٹی کے زیرِ اہتمام سیلاب زدہ پنجاب کے سرحدی خطے میں حضرت سید محمد ثاقب میاں نقشبندی ابن حضرت سید صادق رضا نقشبندی مجددی کے دست مبارک سے نقد ریلیف تقسیم کاری کا سلسلہ جاری ہے ۔ اس سلسلے میں صوفی نورالعین صابری نے بتایا کہ سرہند شریف میں واقع آستانہ عالیہ ، خانقاہ و بارگاہ حضرت شیخ احمد فاروقی حنفی سرہندی المعروف حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ کے سجادہ نشین حضرت سید محمد صادق رضا نقشبندی مجددی سے الحاج عبدالمجید نوری بکھار والے کے توسط سے رابطہ ہوا اور یہ طے پایا کہ ریلیف تقسیم کاری کا عمل بارگاہِ مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ سے ہوگا۔ صوفی نورالعین صابری نے کہا کہ پنجاب کے امرتسر میں واقع کمالی پور سرحدی بستی ہے ۔ یہاں درجنوں خاندان سکونت رکھتے ہیں ۔ انڈیا پاکستان بارڈر پر انڈیا کی سرحد میں بسے کمالی پور کی فوجی چھاونی میں آل انڈیا سنی جمعیتہ الاسلام ریلیف کمیٹی کے وفد نے حاضری لگائی ۔ انتہائی سخت حفاظتی انتظامات نظر آئے ۔ مقامی افراد میں سِکھوں کی کثرت ہے جبکہ گوجر برادری بھی آباد ہے ۔ سیلابی پانی میں کھیتوں میں لگی فصل تباہ ہو گئی ۔ جھوپڑے مکانات پھُوس کے جھپر بہہ گئے ۔ مویشی ، انسان اور زراعت کے سامان نذرِ سیلاب ہوگئے ۔ آل انڈیا سنی جمعیتہ الاسلام ریلیف کمیٹی مالیگاؤں کی جانب سے متاثرہ درجنوں خاندانوں میں نقد ریلیف بانٹی گئی ۔ اس اہم کام میں سِکھ مسلم سانجھا فاؤنڈیشن پنجاب کے ڈاکٹر نصیر عالم اور فاؤنڈیشن کے کارکنان ڈاکٹر اسماعیل اور محمد عثمان نے آل انڈیا سنی جمعیتہ الاسلام ریلیف کمیٹی کی پوری مدد کی ۔ آل انڈیا سنی جمعیتہ الاسلام ریلیف کمیٹی کے کارکنان حافظ عرفان رضا اور محمد رمضان محمد عباس وغیرہ سِکھ مسلم سانجھا فاؤنڈیشن کے کارکنان کے ساتھ سروے اور تقسیم کاری کے عمل میں پوری طرح شریک رہے ۔ آل انڈیا سنی جمعیتہ الاسلام ریلیف کمیٹی مالیگاؤں کے مددگار درگاہ حضرت معصوم شاہ کٹی ٹرسٹ صوفی جمیل احمد قادری، صوفی بلال احمد صابری،نوجوانانِ رمضان پورہ دیانہ مولانا امتیاز قدیری، کارپوریٹر شاہد ریشم والا ، آئی ایم گروپ مچھلی بازار کے ہاشم رضا و گروپ ، نوجوانان شہید عبد الحمید روڈ گروپ و فاروق بھائی ، فیض رضا گروپ ، ایس کے جمخانہ گروپ جمیل بھائی ، ریڈی میڈ گروپ سیلانی چوک ، مساجد کے ٹرسٹیان اور امام صاحبان کیلئے سیلاب متاثرین سے دعائیں کرنے کی درخواست کی گئی ۔
سی جے آئی پرجوتا پھینکنے کی کوشش،سکیورٹی اہلکاوں نے ملزم کوپکڑا، سی جے آئی نے کہاان باتوں کامجھ پرنہیں پڑتا اثر

سریم کورٹ میں آج اچانک افراتفری مچ گئی۔دراصل ایک وکیل نے سی جے آئی بی آر گوئی پر جوتا پھینکنے کی کوشش کی لیکن وہاں موجودسکیورٹی اہلکاروں نےاسے دبوچ لیا۔ذرائع کے مطابق، ملزم نے کہا کہ ہم سناتن کی توہن برداشت نہیں کریں گے۔

ملزم کی شناخت راکیش کشور کی حیثیت سے کی گئی ہے ۔ سپریم کورٹ میں موجود پولیس نے انہیں فوری طور پر حراست میں لے لیا اور تفتیش کی جارہی ہے۔ نئی دہلی ضلع کے ڈی سی پی اور سپریم کورٹ کے ڈی سی پی بھی جائے وقوع پرپہنچ گئے ہیں ۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب سی جے آئی کی سربراہی والی بنچ وکلاء کے مقدمات کی سماعت کر رہی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ، وکیل راکیش کشور ،جج کے ڈائس کے قریب پہنچ کر جوتا پھینکنے کی کوشش کی لیکن سیکورٹی اہلکاروں نے اسے بروقت روک لیا۔ جیسے ہی سیکورٹی اہلکار ملزم وکیل کو باہر لے گئے، وہ’ہم سناتن دھرم کی توہین برداشت نہیں کریں گے کے نعرے لگارہے تھے
اس پورے واقعے کے دوران،سی جے آئی گوئی پرسکون رہے اور عدالتی کارروائی جاری رکھنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی باتوں کا ان پر اثرنہیں پڑتا۔

واقعے کو 16 ستمبر کو سی جے آئی گوئی کے تبصروں سے جڑا مانا جارہا ہے، جب سپریم کورٹ نے مدھیہ پردیش کے کھجوراہو کے جواری مندر میں بھگوان وشنو کی سات فٹ اونچی مورتی کو دوبارہ نصب کرنے کی عرضی کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’پبلسٹی لٹیگیشن انٹرسٹ‘ قراردیا تھا۔
ٹھنڈ کے موسم میں ضرور کھائیں یہ پھل، نزلہ-زکام اور کھانسی میں فائدہ مند، قوت مدافعت بڑھانے میں بھی مددگار


صحت مند زندگی گزارنے کے لیے سردی کے موسم میں سنگترے کا استعمال بہت فائدہ مند سمجھا جاتا ہے۔ ڈائیٹشین نشا ٹنڈن کا کہنا ہے کہ سردیوں کے موسم میں نارنجی کھانے سے وزن کم کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ اس کے استعمال سے قوت مدافعت میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اس سے سردیوں کے موسم میں انفیکشن، سردی اور وائرل بیماریوں کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔


شکرقندی میں وٹامن اے، وٹامن سی، وٹامن بی اور وٹامن ڈی اچھی مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ اس لیے سردی کے دنوں میں اس پھل کو خوراک میں شامل کرنا بہت فائدہ مند ہوگا۔ شکرقندی کھانے سے آپ دل کی کئی بیماریوں سے خود کو دور رکھ سکتے ہیں۔ شکر قندی آئرن کی کمی کو بھی دور کرتا ہے۔ اس سے نظام ہاضمہ بھی مضبوط ہوتا ہے۔

بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ امرود کھانے سے سردی ٹھیک ہو جاتی ہے۔ جبکہ امرود وٹامن سی، اے، ای، فائبر، آئرن، کیلشیم، مینگنیز اور دیگر کئی معدنیات کا ذخیرہ ہے۔ اگر آپ روزانہ ایک امرود کھاتے ہیں۔ تو یہ آپ کی قوت مدافعت کو مضبوط کرے گا۔ ایسا کرنے سے آپ اپنے جسم کو سردی اور کھانسی کے اثرات سے بچا سکتے ہیں۔

انار خون کو پتلا کرنے کے لیے جانا جاتا ہے، خون کی کمی کو بھی پھل سے پورا کیا جاتا ہے۔ اس کا استعمال خون کے جمنے کو روکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ پھل فالج کا خطرہ کم کرتا ہے۔ سردیوں کے موسم میں لوگ اکثر بیمار پڑ جاتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں قوت مدافعت کو مضبوط بنانے کے لیے اس پھل کو اپنی خوراک میں شامل کرنا چاہیے۔

ناشپاتی ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔ اس پھل میں فائبر کی وافر مقدار پائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس سے پیٹ زیادہ دیر تک بھرا رہتا ہے۔ اس میں کیلوریز کی مقدار بھی کم ہوتی ہے۔ اس لیے یہ پھل وزن کم کرنے کے سفر میں بھی بہت فائدہ مند ہے۔ یہ پھل وزن کم کرنے میں مددگار ہے۔


سردی کے دنوں میں موسمی بھی بہت فائدہ مند ہوتا ہے۔ سردی کے دنوں میں یہ پھل جسم کو انفیکشن سے لڑنے کی طاقت دیتا ہے۔ موسمی پھلوں میں آئرن، کیلشیم، پوٹاشیم، فاسفورس اور میگنیشیم جیسے غذائی اجزاء موجود ہوتے ہیں۔ اگرچہ موسمی پھلوں کی نوعیت سرد ہوتی ہے لیکن دھوپ میں بیٹھ کر اس پھل کو کھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ایسا کرنے سے سردیوں میں بھی موسمی پھل کھانے سے انفیکشن سے بچا جا سکتا ہے۔

Sunday, 5 October 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*

دراجلنگ اورکالمپونگ میں بارش اورلینڈسلائڈنگ سے تباہی، 14 افراد ہلاک، پی ایم مودی نے کیا دکھ کا اظہار

پرائم منسٹرنریندرمودی نے دارجلنگ اورکالمپونگ میں بارش اورلینڈ لائڈنگ کے نتیجے میں ہوئی تباہی اورہلاکتوں پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے سوشل میڈیا پوسٹ میں مہلوکین کے لواحقین سے یگانگت کا اظہار کیا ۔انھوں نے مزید لکھا کہ دراجلنگ اورآس پاس کے علاقوں میں بارش سے پیدا شدہ صورتحال پرنزدیکی نگاہ رکھی جاری ہے ۔انھوں نے لکھا کہ حکومت متاثرین کو ہرممکن مدد بہم کرانے کے لیے کاربند ہے۔

مغربی بنگال میں دارجلنگ کی پہاڑیوں میں موسلا دھار بارش سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ بارش اورلینڈ سلائڈنگ کے نتیجے میں سے کم از کم 14 افراد ہلاک ہو گئے ہیں اور خطے کے کئی گاؤں کا رابط اہم مقامات سےمنقطع ہو گیا ہے۔

دارجلنگ سب ڈویژن میں میرک۔سوکھیا پوکھری سڑک کے قریب لینڈ سلائڈ کے سبب کئی مکانات زد میں آگئے اور ٹریفک میں خلل پڑا، جس سے ملحقہ بستیوں سے مواصلاتی رابطہ منقطع ہوگیا۔مقامی انتظامیہ، پولیس اور ڈیزاسٹر ریسپانس ٹیموں کی جانب سے ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری ہے۔

قومی شاہراہ 717E پر پیڈونگ اور رشی کھولا کے بیچ لینڈ سلائیڈ کے سبب سلی گوڑی اور سکم کو جوڑنے والا متبادل راستہ بند ہوگیا ہے۔ حسین کھولا اور NH-110 پر بھی لینڈ سلائیڈنگ کی خبر ہے۔ مسلسل بارش کے باعث سڑک سے ملبہ ہٹانا انتہائی مشکل ہو رہا ہے۔

کالمپونگ ضلع میں مسلسل بارش کے نتیجے میں کئی سڑکیں بندہیں ۔ مواصلاتی نظام درہم برہم ہو گیا ہے۔ بار بار لینڈ سلائیڈنگ کے باعث حکام ہائی الرٹ پر ہیں۔اس بیچ ، جلپائی گوڑی کے کئی نشیبی علاقے زیر آب آگئے ہیں۔
رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے ضلعی عہدیداروں کے حوالے سے بتایا کہ بشنولال گاؤں، وارڈ 3 لیک سائڈ اور جسبیر گاؤں سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، اور اس علاقے میں 6 افراد کی ہلاکت ہوئی ہے ۔اطلاعات کے مطابق کئی مکانات اور چائے کے باغات کو نقصان پہنچا یا ملبے تلے دب گئے۔


محکمہ موسمیات نے دارجلنگ، جلپائی گوڑی، کالمپونگ اور کوچ بہار کے لیے اورنج الرٹ جاری کیا ہے۔ علی پور دوار کے لیے ریڈ الرٹ جاری کیا گیا ہے، اور شمالی۔جنوبی دیناج پور اور مالدہ کے لیے یلو وارننگ جاری کی گئی ہے۔ لوگوں کو درختوں اور بجلی کے کھمبوں کے نیچے پناہ نہ لینے اور آبی ذخائر سے دور رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
پاکستان کے 6 سے 7 جیٹ طیاروں کو مار گرایا گیا... پہلی بارIAF چیف اے پی سنگھ کے 10 حقائق کا انکشاف!

بھارتی فضائیہ کے سربراہ امر پریت سنگھ نے آپریشن سندور کے حوالے سے نیا انکشاف کیا ہے۔ پاکستان نے مسلح تصادم کے دوران کئی ہندوستانی لڑاکا طیاروں کو مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف سے لے کر آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر تک سب نے ایسے ہی دعوے کیے ہیں۔ اب بھارتی فضائیہ کے سربراہ اے پی سنگھ نے حقیقت بتا دی ہے۔ انہوں نے پاکستان کے دعوؤں کو پریوں کی کہانی قرار دیا۔ فضائیہ کے سربراہ نے یہ بھی کہا کہ بھارت نے چھ سے سات پاکستانی لڑاکا طیارے مار گرائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان میں J-130 اور F-16 طیارے شامل ہو سکتے ہیں۔

فضائیہ کے سربراہ اے پی سنگھ نے کہا کہ 93 ویں یوم فضائیہ کے موقع پر 8 اکتوبر کو ہندن میں پریڈ کا انعقاد کیا جائے گا۔ پہلی بار فلائی پاسٹ نہیں ہوگا۔
 

آئی اے ایف چیف نے کہا کہ فلائی پاسٹ 9 نومبر کو گوہاٹی میں منعقد کیا جائے گا۔ اس سال کا تھیم ہے – انڈین ایئر فورس: ناقابل تسخیر، ناقابل تسخیر اور درست۔
 

تین سال کے بعد ہندن میں ایئر فورس ڈے پریڈ کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ فلائی پاسٹ میں ایم آئی 17 بھی شامل ہوگا۔
 

اس سال پہلی بار قومی پرچم کے ساتھ آپریشن سندور کا جھنڈا بھی نظر آئے گا۔
 

جامد ڈسپلے میں سخوئی، رافیل، مگ 29، اے ایل ایچ دھرو، اپاچی، ارلی وارننگ سسٹم، C-17 گلوب ماسٹر اور C-130 جیسے طیارے شامل ہوں گے۔
 

پاک فضائیہ کے سربراہ نے کہا کہ بھارتی طیاروں کو مار گرانے کے پاکستان کے دعوے محض کہانیاں ہیں۔ وہ اپنی عوام کو دکھانا چاہتے ہیں۔ میں بھی آج کچھ نہیں کہوں گا۔ وہ سوچتے ہیں کہ انہوں نے میرے 15 جیٹ طیاروں کو مار گرایا… انہیں سوچنے دو

آپریشن سندور کے نتیجے میں کئی پاکستانی ہوائی اڈے اور اثاثے تباہ ہوئے۔ انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق، 6-7 طیارے تباہ ہوئے، جن میں ممکنہ طور پر J-130 اور F-16 شامل ہیں۔
 

فضائیہ کے سربراہ اے پی سنگھ نے کہا کہ خود انحصاری بہت ضروری ہے۔ ہمیں کسی پر انحصار نہیں کرنا چاہیے، تاکہ اگر ہمیں کبھی مدد کی ضرورت ہو تو ہمیں دوسرے ممالک کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہ پڑے۔
 

تیجس مارک-1 اے کا آرڈر دیا گیا ہے اور اسے تیار کیا جا رہا ہے۔ آئی ایم آر ایچ پروگرام جاری ہے۔ مزید برآں، انہوں نے کہا، ایک درمیانے ٹرانسپورٹ طیارے کے ڈیزائن پر کام جاری ہے۔ فضائی دفاعی نظام اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں پر بھی کام جاری ہے۔
 

تینوں خدمات پی ایم مودی کے سدرشن چکر پر مل کر کام کر رہی ہیں۔ اور ہم اس سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ جب بھی ملک کو ہندوستانی فضائیہ کی ضرورت ہوگی وہ اپنا فرض ادا کرے گی
عبیداللہ جلیل کی BHMS میں نمایاں کامیابی 

مالیگاؤں (پریس ریلیز) مالیگاؤں شہر کے ہونہار طالب علم عبیداللہ جلیل احمد نے BHMS (بیچلر آف ہومیوپیتھک میڈیسن اینڈ سرجری) کے امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے شہر و خاندان کا نام روشن کیا ہے۔

عبیداللہ جلیل نے کے بی آباد ہومیوپیتھک میڈیکل کالج، چاندوڑ (ناسک) سے BHMS میں فرسٹ کلاس سے کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے کل 1500 میں سے 901 نمبرات (60.67 فیصد) حاصل کیے۔ عبیداللہ کے والد بیرونِ ملک میں کار ڈرائیونگ کے پیشے سے وابستہ ہیں۔ وہ رضوان اقبال سر (مالیگاؤں ہائی اسکول) کے بھانجے اور مالیگاؤں کے معروف سماجی و تعلیمی شخصیت حاجی اقبال احمد و ڈاکٹر الطاف فیملی کے نواسے ہیں۔ 

ان کی اس کامیابی کو تعلیمی حلقوں میں خوب سراہا جا رہا ہے اور نوجوانوں کے لیے ایک مثالی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔ عبیداللہ نے اپنی کامیابی والدین کی دعاؤں اور اساتذہ کی رہنمائی کا نتیجہ بتایا۔ مقامی سماجی و تعلیمی شخصیات نے انہیں مبارکباد پیش کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ وہ آئندہ طب کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دے کر انسانیت کے لیے باعثِ فخر ثابت ہوں گے۔

*🔴سیف نیوز بلاگر*

مغربی بنگال اورسکم میں بارش سے تباہی، 6 افراد کی موت، محکمہ موسمیات نے جاری کیا الرٹ

شمالی بنگال اور سکم میں موسلادھار بارش سے معمولات زندگی درہم برہم ہو گئے ہیں۔ دارجلنگ اور کالمپونگ اضلاع میں لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب سے اب تک ایک بچے سمیت چھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ حکام نے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
بارش سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقے دارجلنگ، کالمپونگ اور سکم ہیں۔میرک اور سوکیا کے کئی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ ہوئی۔ دارجلنگ ضلع کے جسبیر بستی میں مٹی کا تودہ گرنے سے دو افراد ہلاک ہو گئے۔

دودھیا میں پل کو پہنچا نقصان،آمدورفت متاثر
موسلا دھار بارش نے ددھیا علاقے میں دریائے بالاسن ندی پربنے لوہے کے پل کو نقصان پہنچایا ہے، جس سے سلی گڑی اور میرک کے درمیان رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ پل گرنے سے گاڑیوں کی آمدورفت مکمل طور پر ٹھپ ہوگئی ہے۔ دریا میں پانی کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے جس سے مقامی لوگوں میں خوف و ہراس کا ماحول ہے۔ گاریدھورا پولیس اسٹیشن کی ایک ٹیم جائے وقوع پر پہنچ گئی ہے۔ٹیم صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

قومی شاہراہ 717E پر پیڈونگ اور رشی کھولا کے بیچ لینڈ سلائیڈ کے سبب سلی گوڑی اور سکم کو جوڑنے والا متبادل راستہ بند ہوگیا ہے۔ حسین کھولا اور NH-110 (کرسی وانگ کے نزدیک) پر بھی لینڈ سلائیڈنگ کی خبر ہے۔ مسلسل بارش کے باعث سڑک سے ملبہ ہٹانا انتہائی مشکل ہو رہا ہے۔

کالمپونگ میں صورتحال سنگین
کالمپونگ ضلع میں مسلسل بارش کے نتیجے میں کئی سڑکیں بندہیں ۔ مواصلاتی نظام درہم برہم ہو گیا ہے۔ بار بار لینڈ سلائیڈنگ کے باعث حکام ہائی الرٹ پر ہیں۔اس بیچ ، جلپائی گوڑی کے کئی نشیبی علاقے زیر آب آگئے ہیں۔

محکمہ موسمیات نے جاری کیا بارش کا الرٹ
محکمہ موسمیات نے دارجلنگ، جلپائی گوڑی، کالمپونگ اور کوچ بہار کے لیے اورنج الرٹ جاری کیا ہے۔ علی پور دوار کے لیے ریڈ الرٹ جاری کیا گیا ہے، اور شمالی۔جنوبی دیناج پور اور مالدہ کے لیے یلو وارننگ جاری کی گئی ہے۔ لوگوں کو درختوں اور بجلی کے کھمبوں کے نیچے پناہ نہ لینے اور آبی ذخائر سے دور رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے
دارجلنگ سے بی جے پی کے ایم پی راجو بستا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر لکھا ہے کہ میں دارجلنگ اور کالمپونگ میں شدید بارشں سے ہونے والی تباہی سے بہت دکھی ہوں، جانی نقصان، املاک کی تباہی اور بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ میں صورتحال کی نگرانی کر رہا ہوں اور متعلقہ حکام کے ساتھ رابطے میں ہوں۔ بی جے پی کے تمام کارکنوں کو امدادی کاموں میں ممکنہ مدد فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
سر کریک کو لے کر پاکستان لمبے عرصے سے کرتا رہا ہے سازشیں

وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے تازہ بیان نے ایک بار پھر قوم کی توجہ سر کریک کی طرف مبذول کرائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سر کریک کے تمام علاقوں میں پاکستان کے فوجی انفراسٹرکچر کی حالیہ توسیع پاکستان کے ارادوں کو ظاہر کرتی ہے۔ وزیر دفاع نے خبردار کیا کہ سر کریک کے علاقے میں پاکستان کی طرف سے مزید کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا جس سے تاریخ اور جغرافیہ دونوں بدل جائیں گے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 1965 کی جنگ میں بھارتی فوج نے لاہور تک پہنچنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا اور آج 2025 میں پاکستان کو یاد رکھنا چاہیے کہ کراچی جانے والا ایک راستہ کریک سے گزرتا ہے۔
واضح طور پر راج ناتھ سنگھ نے پاکستان کو سخت اور واضح انتباہ جاری کیا ہے۔ یہ انتباہ گجرات کے کچھ ضلع کے صدر دفتر بھوج میں فوجی چھاؤنی میں دسہرہ کے موقع پر شاستر پوجا کرتے ہوئے دیا گیا۔ واضح رہے کہ سر کریک، کچے کا دلدلی حصہ ہے، وہ نالہ ہے جس پر پاکستان بغیر کسی وجہ کے اپنے حقوق کا دعویٰ کرتا ہے۔ اشارے واضح ہیں: اگر پاکستان سر کریک میں مزید دخل اندازی کرتا ہے یا آگے بڑھتا ہے تو بھارت سخت جواب دے گا۔ یہ جواب مقامی سطح تک محدود نہیں رہے گا۔ مزید اعلیٰ سطح پر کارروائی کی جائے گی۔ اسی لیے وزیر دفاع کے بیان میں کراچی کا ذکر

کراچی پاکستان کا ایک بڑا شہر ہے، جو پاکستان کے قیام کے بعد کئی سالوں تک اس کے دارالحکومت کے طور پر کام کر رہا ہے۔ سر کریک اور کراچی کے درمیان فاصلہ کوئی خاص نہیں، تقریباً دو سو تین سو کلومیٹر ہے۔ اس لیے راج ناتھ سنگھ پاکستان اور اس کے سیاسی اور عسکری لیڈروں کو سر کریک کے راستے کراچی جانے والے راستے کی یاددہانی کرارہے ہیں، تاکہ پاکستان کسی وہم یا غلط فہمی میں نہ رہے۔

درحقیقت یہ انتباہ اس لیے پیدا ہوا ہے کہ گزشتہ چند سالوں سے پاکستان سر کریک کے علاقے میں اپنے فوجی وسائل اور انفراسٹرکچر میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔ یہ فطری ہے کہ پاکستان کی طرف سے ان اقدامات سے شکوک پیدا ہوتے ہیں، اور اسی لیے راج ناتھ سنگھ کی طرف سے انتباہ کی ضرورت ہے۔

درحقیقت سر کریک کے حوالے سے پاکستان کا سازشی اور چالاک رویہ کوئی نئی بات نہیں۔ یہ آزادی کے فوراً بعد شروع ہوا۔ اور یہی وجہ ہے کہ سر کریک ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تنازعات کے اہم مسائل میں سے ایک ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سر کریک اصل میں کیا ہے، جس پر بھارت اور پاکستان گزشتہ چھ دہائیوں سے ایک تنازعہ میں بند ہیں، اور یہ ابھی تک حل طلب ہے۔ درحقیقت کشمیر کی طرح سر کریک بھی ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کوئی اتفاق رائے نہیں ہوسکا ہے۔ جہاں تک سر کریک کا تعلق ہے، یہ ایک ندی ہے جو گجرات کے کچھ ضلع اور پاکستان کے صوبہ سندھ کے درمیان بہتی ہے۔ اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ اس ندی میں کبھی سری نامی مچھلی پائی گئی تھی جس کے بعد اس ندی کا نام سری کریک رکھا گیا۔ بعد میں، اسے سر کریک کے نام سے زیادہ پہچانا گیا۔
سر کریک کی کل لمبائی تقریباً 68 کلومیٹر ہے، جب کہ اس سے آگے کا دلدلی علاقہ، جو بارڈر پلر 1175 پر ختم ہوتا ہے، 36.4 کلومیٹر طویل ہے۔ اس طرح یہ 104.4 کلومیٹر طویل علاقہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تنازع کی جڑ ہے۔ وجہ یہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی اتفاق سے سرحد جموں کے سامبا سیکٹر سے بارڈر پلر 1175 تک پھیلی ہوئی ہے جو کہ کچھ کے رن میں ہے۔ اس سے آگے سر کریک ہے، ایک ایسا نقطہ جس پر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا ہے۔

سر کریک: اس ستون سے آگے 36.4 کلومیٹر کا علاقہ
درحقیقت سر کریک کا تنازعہ پاکستان کے وجود میں آنے سے بھی ایک صدی سے زیادہ پرانا ہے۔ آزادی سے پہلے، کچھ ہندوستان کی ایک بڑی شاہی ریاست تھی، جس کے بادشاہوں کو مہاراؤ کے نام سے خطاب کیا جاتا تھا۔ 20ویں صدی کے اوائل میں، کچھ کے مہاراو اور صوبہ سندھ کی اس وقت کی انتظامیہ کے درمیان سر کریک کے علاقے میں پیش آنے والے ایک مجرمانہ معاملے پر تنازعہ پیدا ہوا۔ اس سے تنازعہ پیدا ہوا کہ آیا یہ مقدمہ کچھ کے مہاراؤ کی عدالت میں سنایا جائے گا یا صوبہ سندھ کی عدالت میں۔ اس تنازعہ کے بعد، 1914 میں دونوں فریقوں کے درمیان کچھ ریاست اور صوبہ سندھ کے درمیان سرحد کی حد بندی کرنے کا معاہدہ ہوا۔ اس معاہدے کی بنیاد پر 1924-25 میں سرحد کو نشان زد کرنے کے لیے پتھروں کو کھڑا کرنے کا کام مکمل ہوا۔ اس کے بعد سے اس علاقے میں دونوں جماعتوں کے درمیان کوئی جھگڑا نہیں ہوا۔

تاہم، ہندوستان کی آزادی کے بعد، کچھ ریاست ہندوستان میں ضم ہوگئی، جب کہ صوبہ سندھ پاکستان میں چلا گیا۔ اس کے بعد، تنازعہ دوبارہ سر اٹھا، جس کا اختتام 1965 میں رن آف کچ میں پاکستان کی دراندازی اور اس کے نتیجے میں ہندوستان اور پاکستان کی جنگ میں ہوا۔

اس وقت، کچھ سرحدی تنازعہ کو حل کرنے کے لیے برطانوی وزیر اعظم ہیرالڈ ولسن کی سربراہی میں بین الاقوامی ٹریبونل نے چھر بیٹ سمیت رن آف کچھ کا تقریباً 10 فیصد حصہ پاکستان کو دینے کا فیصلہ کیا۔

اس کے باوجود سر کریک کا تنازع حل طلب رہا۔ پاکستان نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے ایک نیا تنازعہ کھڑا کر دیا ہے کہ اس کا دائرہ اختیار سر کریک کے مشرقی کنارے پر ہے، جو ہندوستان کی طرف ہے۔ تاہم، بھارت نے پاکستان کے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی اصولوں کے مطابق اگر کوئی دریا یا ندی دو ملکوں کے درمیان بہتی ہے تو اس کی درمیانی لکیر سرحد بنتی ہے، نہ کہ اس کے کنارے۔ پاکستان نے اسے ماننے سے انکار کر دیا اور 1914 کے معاہدے سے منسلک ایک نقشے کا حوالہ دیتے ہوئے دلیل دی کہ نقشے میں پاکستان کی سرحد سر کریک کے مشرقی حصے تک دکھائی گئی ہے جو ہندوستان کی طرف ہے
وطن نامہ
FOLLOW US
SHARE
INSTALL APP
سر کریک کو لے کر پاکستان لمبے عرصے سے کرتا رہا ہے سازشیں
راج ناتھ سنگھ نے بھج میں سر کریک میں پاکستان کو سخت انتباہ جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی مداخلت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ مودی حکومت نے سر کریک کے ارد گرد سیکورٹی کو مضبوط کیا ہے۔
اشتہار
Last Updated : October 4, 2025, 9:33 am IST
Published by : Mudasir Mir
پاکستان کو سخت پیغام: اگر سر کریک کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی تو بھارت فیصلہ کن سبق سکھائے گا۔پاکستان کو سخت پیغام: اگر سر کریک کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی تو بھارت فیصلہ کن سبق سکھائے گا۔
اشتہار
متعلقہ ویڈیو
راجناتھ سنگھ ایران کے شہر تہران پہنچے، ایرانی ہم منصب امیر حاتمی سے کریں گے ملاقات
راجناتھ سنگھ ایران کے شہر تہران پہنچے، ایرانی ہم منصب امیر حاتمی سے کریں گے ملاقات

ہندستانی فضائیہ میں شامل ہوں گے 10 ستمبر کو 5 رافیل جنگی طیارے
ہندستانی فضائیہ میں شامل ہوں گے 10 ستمبر کو 5 رافیل جنگی طیارے

Taliban India Relations: افغانستان بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان سے نجات چاہتا ہے
Taliban India Relations: افغانستان بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان سے نجات چاہتا ہے

Rajnath Singh Visit in J&K: وزیر دفاع راجناتھ سنگھ جموں۔کشمیر کے دو روزہ دورے پر روانہ
Rajnath Singh Visit in J&K: وزیر دفاع راجناتھ سنگھ جموں۔کشمیر کے دو روزہ دورے پر روانہ

مہاتما گاندھی کہنے پر ویر ساورکر نے رحم کی عرضیاں لکھی تھیں: راجناتھ سنگھ
مہاتما گاندھی کہنے پر ویر ساورکر نے رحم کی عرضیاں لکھی تھیں: راجناتھ سنگھ

راجناتھ سنگھ ایران کے شہر تہران پہنچے، ایرانی ہم منصب امیر حاتمی سے کریں گے ملاقات
راجناتھ سنگھ ایران کے شہر تہران پہنچے، ایرانی ہم منصب امیر حاتمی سے کریں گے ملاقات

ہندستانی فضائیہ میں شامل ہوں گے 10 ستمبر کو 5 رافیل جنگی طیارے
ہندستانی فضائیہ میں شامل ہوں گے 10 ستمبر کو 5 رافیل جنگی طیارے

Taliban India Relations: افغانستان بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان سے نجات چاہتا ہے
Taliban India Relations: افغانستان بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان سے نجات چاہتا ہے

Rajnath Singh Visit in J&K: وزیر دفاع راجناتھ سنگھ جموں۔کشمیر کے دو روزہ دورے پر روانہ
Rajnath Singh Visit in J&K: وزیر دفاع راجناتھ سنگھ جموں۔کشمیر کے دو روزہ دورے پر روانہ

Brajesh Kumar Singh
Group Editor - Integration & Convergence

وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے تازہ بیان نے ایک بار پھر قوم کی توجہ سر کریک کی طرف مبذول کرائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سر کریک کے تمام علاقوں میں پاکستان کے فوجی انفراسٹرکچر کی حالیہ توسیع پاکستان کے ارادوں کو ظاہر کرتی ہے۔ وزیر دفاع نے خبردار کیا کہ سر کریک کے علاقے میں پاکستان کی طرف سے مزید کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا جس سے تاریخ اور جغرافیہ دونوں بدل جائیں گے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 1965 کی جنگ میں بھارتی فوج نے لاہور تک پہنچنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا اور آج 2025 میں پاکستان کو یاد رکھنا چاہیے کہ کراچی جانے والا ایک راستہ کریک سے گزرتا ہے۔

متعلقہ خبریں
پاکستان کے 6 سے 7 جیٹ طیاروں کو مار گرایا گیا...IAF چیف اے پی سنگھ کے 10 حقائق کا انکشاف
آپریشن سندور پر اے پی سنگھ کی دھاڑ، پاکستان خوفزدہ، جنگ روکنے کی اپیل
مبارک بادی پیغامات کا پی ایم مودی نے ادا کیا شکریہ، سوشل میڈیا پوسٹ میں کہی دل کی بات
ہندوستان کے سامنے پاکستان کی راکٹ فورس پلک جھپکتے ہی ناکام!
واضح طور پر راج ناتھ سنگھ نے پاکستان کو سخت اور واضح انتباہ جاری کیا ہے۔ یہ انتباہ گجرات کے کچھ ضلع کے صدر دفتر بھوج میں فوجی چھاؤنی میں دسہرہ کے موقع پر شاستر پوجا کرتے ہوئے دیا گیا۔ واضح رہے کہ سر کریک، کچے کا دلدلی حصہ ہے، وہ نالہ ہے جس پر پاکستان بغیر کسی وجہ کے اپنے حقوق کا دعویٰ کرتا ہے۔ اشارے واضح ہیں: اگر پاکستان سر کریک میں مزید دخل اندازی کرتا ہے یا آگے بڑھتا ہے تو بھارت سخت جواب دے گا۔ یہ جواب مقامی سطح تک محدود نہیں رہے گا۔ مزید اعلیٰ سطح پر کارروائی کی جائے گی۔ اسی لیے وزیر دفاع کے بیان میں کراچی کا ذکر ہے۔

اشتہار
کراچی پاکستان کا ایک بڑا شہر ہے، جو پاکستان کے قیام کے بعد کئی سالوں تک اس کے دارالحکومت کے طور پر کام کر رہا ہے۔ سر کریک اور کراچی کے درمیان فاصلہ کوئی خاص نہیں، تقریباً دو سو تین سو کلومیٹر ہے۔ اس لیے راج ناتھ سنگھ پاکستان اور اس کے سیاسی اور عسکری لیڈروں کو سر کریک کے راستے کراچی جانے والے راستے کی یاددہانی کرارہے ہیں، تاکہ پاکستان کسی وہم یا غلط فہمی میں نہ رہے۔

درحقیقت یہ انتباہ اس لیے پیدا ہوا ہے کہ گزشتہ چند سالوں سے پاکستان سر کریک کے علاقے میں اپنے فوجی وسائل اور انفراسٹرکچر میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔ یہ فطری ہے کہ پاکستان کی طرف سے ان اقدامات سے شکوک پیدا ہوتے ہیں، اور اسی لیے راج ناتھ سنگھ کی طرف سے انتباہ کی ضرورت ہے۔

درحقیقت سر کریک کے حوالے سے پاکستان کا سازشی اور چالاک رویہ کوئی نئی بات نہیں۔ یہ آزادی کے فوراً بعد شروع ہوا۔ اور یہی وجہ ہے کہ سر کریک ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تنازعات کے اہم مسائل میں سے ایک ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سر کریک اصل میں کیا ہے، جس پر بھارت اور پاکستان گزشتہ چھ دہائیوں سے ایک تنازعہ میں بند ہیں، اور یہ ابھی تک حل طلب ہے۔ درحقیقت کشمیر کی طرح سر کریک بھی ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کوئی اتفاق رائے نہیں ہوسکا ہے۔ جہاں تک سر کریک کا تعلق ہے، یہ ایک ندی ہے جو گجرات کے کچھ ضلع اور پاکستان کے صوبہ سندھ کے درمیان بہتی ہے۔ اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ اس ندی میں کبھی سری نامی مچھلی پائی گئی تھی جس کے بعد اس ندی کا نام سری کریک رکھا گیا۔ بعد میں، اسے سر کریک کے نام سے زیادہ پہچانا گیا۔

اشتہار
سر کریک کی کل لمبائی تقریباً 68 کلومیٹر ہے، جب کہ اس سے آگے کا دلدلی علاقہ، جو بارڈر پلر 1175 پر ختم ہوتا ہے، 36.4 کلومیٹر طویل ہے۔ اس طرح یہ 104.4 کلومیٹر طویل علاقہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تنازع کی جڑ ہے۔ وجہ یہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی اتفاق سے سرحد جموں کے سامبا سیکٹر سے بارڈر پلر 1175 تک پھیلی ہوئی ہے جو کہ کچھ کے رن میں ہے۔ اس سے آگے سر کریک ہے، ایک ایسا نقطہ جس پر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا ہے۔



سر کریک: اس ستون سے آگے 36.4 کلومیٹر کا علاقہ
درحقیقت سر کریک کا تنازعہ پاکستان کے وجود میں آنے سے بھی ایک صدی سے زیادہ پرانا ہے۔ آزادی سے پہلے، کچھ ہندوستان کی ایک بڑی شاہی ریاست تھی، جس کے بادشاہوں کو مہاراؤ کے نام سے خطاب کیا جاتا تھا۔ 20ویں صدی کے اوائل میں، کچھ کے مہاراو اور صوبہ سندھ کی اس وقت کی انتظامیہ کے درمیان سر کریک کے علاقے میں پیش آنے والے ایک مجرمانہ معاملے پر تنازعہ پیدا ہوا۔ اس سے تنازعہ پیدا ہوا کہ آیا یہ مقدمہ کچھ کے مہاراؤ کی عدالت میں سنایا جائے گا یا صوبہ سندھ کی عدالت میں۔ اس تنازعہ کے بعد، 1914 میں دونوں فریقوں کے درمیان کچھ ریاست اور صوبہ سندھ کے درمیان سرحد کی حد بندی کرنے کا معاہدہ ہوا۔ اس معاہدے کی بنیاد پر 1924-25 میں سرحد کو نشان زد کرنے کے لیے پتھروں کو کھڑا کرنے کا کام مکمل ہوا۔ اس کے بعد سے اس علاقے میں دونوں جماعتوں کے درمیان کوئی جھگڑا نہیں ہوا۔

تاہم، ہندوستان کی آزادی کے بعد، کچھ ریاست ہندوستان میں ضم ہوگئی، جب کہ صوبہ سندھ پاکستان میں چلا گیا۔ اس کے بعد، تنازعہ دوبارہ سر اٹھا، جس کا اختتام 1965 میں رن آف کچ میں پاکستان کی دراندازی اور اس کے نتیجے میں ہندوستان اور پاکستان کی جنگ میں ہوا۔

اشتہار
اس وقت، کچھ سرحدی تنازعہ کو حل کرنے کے لیے برطانوی وزیر اعظم ہیرالڈ ولسن کی سربراہی میں بین الاقوامی ٹریبونل نے چھر بیٹ سمیت رن آف کچھ کا تقریباً 10 فیصد حصہ پاکستان کو دینے کا فیصلہ کیا۔

اس کے باوجود سر کریک کا تنازع حل طلب رہا۔ پاکستان نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے ایک نیا تنازعہ کھڑا کر دیا ہے کہ اس کا دائرہ اختیار سر کریک کے مشرقی کنارے پر ہے، جو ہندوستان کی طرف ہے۔ تاہم، بھارت نے پاکستان کے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی اصولوں کے مطابق اگر کوئی دریا یا ندی دو ملکوں کے درمیان بہتی ہے تو اس کی درمیانی لکیر سرحد بنتی ہے، نہ کہ اس کے کنارے۔ پاکستان نے اسے ماننے سے انکار کر دیا اور 1914 کے معاہدے سے منسلک ایک نقشے کا حوالہ دیتے ہوئے دلیل دی کہ نقشے میں پاکستان کی سرحد سر کریک کے مشرقی حصے تک دکھائی گئی ہے جو ہندوستان کی طرف ہے۔

اشتہار
تاہم، بھارت نے پاکستان کے اس دعوے کو غیر منطقی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا کہ سرحدی ستون 1914 کے معاہدے کے بعد 1925 تک بنائے گئے تھے اور نقشے پر دکھائے گئے نکات بے معنی ہیں۔

اس تنازع کو حل کرنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان 1969 سے 1992 کے درمیان پانچ ملاقاتیں ہوئیں۔ اس کے بعد، واجپائی حکومت کے دوران 1998 میں شروع ہونے والے جامع مذاکراتی عمل میں، اعتماد سازی کے اقدام کے طور پر سر کریک کو حل کرنے کا مسئلہ شامل تھا۔ تاہم، 1999 میں کارگل میں پاکستانی دراندازی نے ایک بار پھر اس عمل کو پٹری سے اتار دیا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔ جنگ چھڑ گئی، اور بھارتی فوج نے مئی سے جولائی 1999 تک جاری رہنے والے آپریشن کے دوران پاکستانی دراندازوں کو کارگل کے علاقے سے باہر نکال دیا۔ پاکستان کو گھٹنے ٹیکنے اور اس کے تمام مقاصد حاصل ہونے کے بعد بھارت نے کارگل میں جنگ بندی کا اعلان کر دیا۔ تاہم، صرف ایک ماہ بعد، کچھ میں کارگل کشیدگی کے سائے نظر آنے لگے۔ پاکستان مسلسل کچھ کے علاقے میں جاسوس طیارے بھیج رہا تھا۔ بھارتی فوج بھی الرٹ تھی۔ جیسے ہی پاکستانی جاسوس طیارہ، بحر اوقیانوس، بھارتی حدود میں داخل ہوا، 10 اگست 1999 کو کچ کے نالیہ اڈے سے اڑنے والے بھارتی طیارے نے اسے مار گرایا۔

اشتہار
بحر اوقیانوس کا ملبہ سر کریک کے علاقے میں گرا، جس علاقے پر پاکستان قبضہ کرنے کی سازش کر رہا ہے۔ جہاز میں سوار تمام 16 پاکستانی فوجی مارے گئے۔

لیکن اس کے باوجود پاکستان نے سبق نہیں سیکھا۔ اس واقعے کے بعد پاکستان نے سر کریک کے علاقے میں پاکستان رینجرز کی جگہ پاکستان میرینز کو تعینات کر دیا۔ پاکستان میرینز پاکستانی بحریہ کا ایک خصوصی کمانڈو یونٹ ہے، جو پانی کے اندر اور دلدلی دونوں جگہوں پر کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور اس مقصد کے لیے خصوصی طور پر تربیت یافتہ ہے۔

پاکستانی میرینز کی تعیناتی تک، BSF سر کریک کے ہندوستانی حصے پر تعینات تھی، جب کہ پاکستان رینجرز، جو کہ BSF سے ملتی جلتی پیرا ملٹری فورس ہے، پاکستان کی طرف تعینات تھی۔ تاہم، پاکستان نے ایک سازش کے تحت خفیہ طور پر پاکستانی میرینز کو تعینات کیا۔ جیسے ہی بھارت کو اس کا علم ہوا، اس نے سر کریک کے علاقے میں چوکسی بڑھانے کے لیے تیرتی سرحدی چوکیاں قائم کیں۔ یہ تیرتے ہوئے BOPs خصوصی واٹر کرافٹ ہیں جن پر BSF اہلکار مسلح ہوتے ہوئے نگرانی کر سکتے ہیں۔
فوجی سر کریک کی حفاظت کے لیے چوکس رہتے ہیں۔

پاکستان کے خلاف سر کریک میں ہندوستان کی تیاریوں کے درمیان، مرکز میں کانگریس کی قیادت والی یو پی اے حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد، سر کریک کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ بات چیت کے کئی دور ہوئے۔ ان مذاکرات کے دوران طے پانے والے اتفاق رائے کی بنیاد پر دونوں ممالک نے 2005-07 میں سر کریک کا مشترکہ سروے کیا تھا۔

مشترکہ سروے کے بعد ایک رپورٹ تیار کی گئی تاہم مزید کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ اس عرصے کے دوران اقوام متحدہ کی طرف سے بھارت اور پاکستان کے لیے سر کریک کے تنازع کو حل کرنے کے لیے مقرر کردہ ڈیڈ لائن بھی ختم ہو گئی۔ 2004 میں، اقوام متحدہ نے اس دیرینہ متنازعہ مسئلے کو حل کرنے کے لیے پانچ سال کی آخری تاریخ مقرر کی، جس کے تحت دونوں ممالک کو 2009 تک سر کریک کے مسئلے کو حل کرنے کی ضرورت ہے، اس طرح اپنے بین الاقوامی پانیوں اور خصوصی اقتصادی زون (EXZ) کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ اگر اس ڈیڈ لائن تک کوئی معاہدہ نہیں ہوا تو اقوام متحدہ نے سر کریک کے آس پاس کے سمندری علاقے کو بین الاقوامی پانی قرار دینے کی دھمکی دی۔ یہ کسی بھی تیسرے ملک کو ساحل سے 200 ناٹیکل میل کے فاصلے کے اندر کان کنی یا دیگر استحصال میں ملوث ہونے کی اجازت دے گا۔ عام حالات میں، ساحل سے 200 ناٹیکل میل کو ملک کا خصوصی اقتصادی زون سمجھا جاتا ہے جس میں ساحلی پٹی ہوتی ہے۔

26 نومبر 2008 کو پاکستان کے زیر اہتمام ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے بعد، سر کریک کے حوالے سے بات چیت میں پیش رفت نہیں ہوئی، اور یہ تنازع حل نہیں ہوا۔ درحقیقت، بھارت سر کریک کے تنازعے میں کسی قسم کی نرمی کا متحمل نہیں ہو سکتا، کیونکہ بھارت اور پاکستان کے درمیان سمندری حدود کا تعین سر کریک سے ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ سر کریک کا دو انچ پاکستان کو دینے سے بھی سینکڑوں ناٹیکل میل کے وسائل پر اثر پڑ سکتا ہے۔

 کریک کے علاقے میں تیل اور گیس کے اہم ذخائر کا امکان طویل عرصے سے متوقع تھا۔ اس لیے اس کی نہ صرف اسٹریٹجک بلکہ اقتصادی اہمیت بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت اس معاملے پر کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں اور پاکستان اپنی پوری سازشیں کرتا رہتا ہے۔

دسمبر 2012 میں ملک کے اندر ایک بڑا سیاسی تنازعہ چھڑ گیا۔ اس وقت کے گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کو یہ اشارے ملے تھے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے اس وقت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ پوری سر کریک کو پاکستان کے حوالے کرنے پر غور کر رہے تھے اور اس معاملے پر فیصلہ 15 دسمبر کو متوقع تھا۔ اس خدشے کی روشنی میں، مودی نے 12 دسمبر 2012 کو منموہن سنگھ کو ایک خط لکھا، جس میں ان پر زور دیا گیا کہ اگر بھارتی حکومت پوری سر کریک کو پاکستان کے حوالے کرنے کی تیاری کر رہی ہے تو وہ باز آ جائیں۔

چونکہ گجرات اسمبلی انتخابات ہو رہے تھے، منموہن سنگھ نے فوراً اس کی تردید کی اور مودی کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔ تاہم، مودی غیر مطمئن رہے، یہ کہتے ہوئے کہ وزیر اعظم کا ردعمل واضح نہیں تھا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم واضح کریں کہ کیا سر کریک کے حوالے سے کوئی اعلان ہونے والا ہے۔

اس وقت کی کانگریس صدر سونیا گاندھی بھی سر کریک کے اس اندرونی تنازعہ میں الجھ گئیں۔ کلول، گاندھی نگر میں ایک انتخابی ریلی کے دوران، انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے ملک کے مفادات، اتحاد اور سالمیت پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا، لیکن یہ کہ کچھ لوگ اشتعال انگیز بیانات دے کر لوگوں کو اکسانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

تاہم اس اندرونی تنازعہ کا بڑا اثر یہ ہوا کہ سر کریک کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ جاری مذاکرات مکمل طور پر رک گئے، جس سے بھارتی حکومت کے موقف میں کسی قسم کی لچک کا امکان ختم ہو گیا۔ ملک اور خاص طور پر گجرات کے لوگ سر کریک میں کچھ کھونے کے متحمل نہیں ہو سکتے تھے اور وہ 1965 میں چاڈ بیٹ کے علاقے کو پاکستان سے کھونے کا درد کبھی نہیں بھول سکے۔ 2014 میں جب مودی نے خود وزیر اعظم کے طور پر اقتدار کی باگ ڈور سنبھالی تو سر کریک کے علاقے میں سیکورٹی کو تیزی سے مضبوط کیا گیا۔ بی ایس ایف، جو سر کریک کے علاقے کی حفاظت کرتی ہے، کو مسلسل جدید ہتھیار، سازوسامان، تیز دستکاری اور جہاز فراہم کیے گئے۔ سر کریک کے علاقے میں ایک نہیں بلکہ تین مستقل سیکورٹی چوکیاں قائم کی گئیں۔ سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے اور پاکستان کی جانب سے کسی بھی مذموم کارروائی کا بھرپور جواب دینے کے لیے امریکی ساختہ ایک تیز گشتی جہاز بھی تعینات کیا گیا تھا۔ بی ایس ایف کے علاوہ، فوج نے حالیہ برسوں میں احتیاطی اقدام کے طور پر اس علاقے میں اپنی تیاریوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ سر کریک کے حوالے سے ہندوستانی حکومت کے پختہ عزم کا اشارہ دینے کے لیے، وزیر اعظم مودی، وزیر داخلہ امیت شاہ، اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ وقتاً فوقتاً سر کریک کا دورہ کر رہے ہیں، اور وقتاً فوقتاً سیکورٹی کی تیاریوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ بی ایس ایف اور فوج نے بھی یہاں اپنی چوکسی بڑھا دی ہے۔
بھارت کے سنگین انتباہات کے باوجود پاکستان نے سر کریک کے علاقے میں اپنی سرگرمیاں بند نہیں کیں۔ حالیہ برسوں میں، اس نے سر کریک کے قریب اقبال باجوہ پوسٹ قائم کی ہے۔ اسے اس کی مذموم کوششوں کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ مزید برآں، اس نے اس علاقے میں اپنے فوجیوں کی تعیناتی میں اضافہ کر دیا ہے۔

درحقیقت پاکستان، کشمیر میں اپنے مقاصد حاصل کرنے سے قاصر ہے، سر کریک میں مذموم کارروائیاں کرنے کی سازش کر رہا ہے۔ PoJK میں پاکستانی فوج اور حکومت کے خلاف احتجاج جاری ہے۔ ان مظاہروں سے توجہ ہٹانے کے لیے، پاکستان سر کریک میں کسی بھی جرات مندانہ اقدام کا سہارا لے سکتا ہے، خاص طور پر عالم دین جنرل عاصم منیر کے آرمی چیف کے دور میں، جنہوں نے آپریشن سندھ کے دوران ذلت آمیز شکست کے باوجود خود کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دے دی۔ اس کی روشنی میں راج ناتھ سنگھ نے کچھ کا دورہ کیا ہے اور پاکستان کو سر کریک کے حوالے سے وارننگ جاری کی ہے۔ بہتر ہو گا کہ پاکستان کے عسکری رہنما ہوش میں آجائیں ورنہ بھارتی سکیورٹی فورسز انہیں سبق سکھانے کے لیے تیار ہیں۔ وزیر اعظم مودی پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ آپریشن سندھور جاری ہے۔
بیماریوں کی دشمن ہے یہ پانچ چیزیں، روزانہ استعمال کرنے کے ہیں بے شمار فائدے؟ جانئے طریقہ

شہتوت کا پھل جو کہ معمولی نظر آتا ہے اپنے اندر بہت سی خوبیاں رکھتا ہے۔ یہ اینٹی آکسیڈنٹس، وٹامنز اور منرلز سے بھرپور ہوتا ہے۔ اینٹی آکسیڈنٹس جسم کو فری ریڈیکلز کی وجہ سے ہونے والے نقصان سے بچانے میں مدد کرتے ہیں جو کینسر، دل کی بیماری اور ذیابیطس جیسی بیماریوں کا باعث بنتے ہیں۔

جہاں پکا ہوا کیلا فائدہ مند ہوتا ہے وہیں کچا کیلا بھی کم فائدہ مند نہیں ہوتا ہے۔ یہ کافی فائدہ مند ہے۔ اس میں پائے جانے والے وٹامن سی، وٹامن اے، وٹامن کے، وٹامن بی 6، منرلز اور غذائی اجزاء کی وجہ سے یہ کولیسٹرول اور پیٹ سے متعلق بیماریوں سے نجات دلاتا ہے۔ یہی نہیں کچے کیلے میں کینسر مخالف خصوصیات پائی جاتی ہیں جس کی وجہ سے اسے صحت کے لیے امرت سمجھا جاتا ہے۔


لال رنگ کے خوبصورت پھل اسٹرابیری کا نام سنتے ہی ہر کسی کے منہ میں پانی آجاتا ہے۔ وٹامنز، منرلز اور اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات سے بھرپور اسٹرابیری قوت مدافعت بڑھاتی ہے۔ اس کا باقاعدگی سے استعمال ہائی بلڈ پریشر، کینسر اور دل کی بیماری جیسی بیماریوں سے نجات دلانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

دنیا کا قدیم ترین غذائی اناج سمجھا جانے والا رامدانہ پروٹین، کاربوہائیڈریٹس، چکنائی، میگنیشیم، کیلشیم اور فولک ایسڈ کا ایک اچھا ذریعہ ہے۔ یہ معدے کی بیماریوں، ہائی بلڈ پریشر، خون کی کمی اور آنکھوں کی صحت کے لیے انتہائی مفید سمجھا جاتا ہے۔ یہی نہیں اس میں کینسر مخالف خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں۔ جس کی وجہ سے یہ صحت کے لیے کافی فائدہ مند ہوتا ہے
سنترے میں وٹامن سی، پوٹاشیم، فاسفورس، زنک، کاپر، میگنیشیم، وٹامن بی 2، وٹامن بی3، وٹامن بی5، وٹامن بی6 اور وٹامن بی9 ہوتا ہے۔ ان کے علاوہ اس میں اینٹی آکسیڈنٹ، اینٹی انفلیمیٹری، اینٹی آرتھرائٹس، اینٹی السر، اینٹی ٹائیفائیڈ، اینٹی اینزائیٹی، اینٹی فنگل، اینٹی بائیوٹک اور اینٹی پیراسٹک خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں۔ اس میں کینسر مخالف خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں۔

Saturday, 4 October 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*

پہلگام دہشت گرد حملے سے چین کا کنکشن؟ پروفیسرسری کانت کونڈاپلی کا سنسنی خیزانکشاف

دہشت گردی سے مقابلے میں چین کے دوہرے معیارپرپروفیسر سری کانت کونڈاپلی نے سوالات اٹھائے ہیں۔انھوں نے پہلگام دہشت گردحملے میں شامل ایک دہشت گردکے پاس چینی ساختہ ہوآوے فون ہونے کواس حملے سے چینی تارکے جڑے ہونے اور پاکستان سے اس کے سازبازکا انکشاف کیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی اے این آئی سے بات کرتے ہوئے پروفیسر کونڈاپلی نے کہا کہ 22 اپریل کو پہلگام دہشت گرد حملہ ہوا تو ایک دہشت گرد کے پاس چینی سیٹلائٹ کنیکٹیویٹی والا ہواوے کا فون تھا۔ اس نے حملے کے بعداسی فون سے پاکستان پیغام بھیجا تھا۔ جس سے حملے میں چین کا کردار ظاہر ہوتا ہے۔

چین نہیں بھروسے کے قابل
پروفیسر سری کانت کا کہنا ہے کہ،پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مباحثوں ،سے دہشت گرد تنظیمTRF کا نام ہٹانے کی کوشش کی۔اسی تنظیم نے شروع میں حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
پروفیسرکونڈاپلی نے کہاکہ چینی سفیر اور پاکستانی سفیر نے TRF کا نام UNSC کے مباحثوں سے ہٹا دیا، جب کہ TRF نے ابتدائی طور پر دو بار حملے کی ذمہ داری قبول کی، تیسری بار اس کی تردید کی، لیکن پہلے دو بار لی گئی ذمہ داری ان کے رول کو ثابت کرتی ہے۔ تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اعلامیے میں پہلگام کا ذکر تھا لیکن پاکستان کے دباؤ میں جعفر ایکسپریس کا ذکر کرکے اسے کمزورکردیا گیا۔اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت دہشت گردی کے معاملے پر چین پر بھروسہ نہیں کر سکتا۔

آپریشن سندورکے دوران بھی چین نے پاکستان کی مدد کی
پروفیسرکونڈاپلی نے چین پر آپریشن سندور کے دوران بھی پاکستان کی مددکرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہاکہ چین نے آپریشن سندور کے دوران پاک فضائیہ کو معلومات فراہم کیں، اس نے انہیں JF-17، J-10 لڑاکا طیارے، اور HQ-9 زمین سے فضا میں مار کرنے والی میزائل بیٹریاں فراہم کیں۔ یہ ایک بہت ہی جارحانہ موقف ہے۔ پہلگام حملے کے بعد، چینی وزیر خارجہ وانگ یی غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا جبکہ چین خود بھی اویغور یا کووڈکی جانچ کے لیے عالمی صحت ادارے کی ٹیم کوجانچ کی اجازت نہیں دیتا۔

کونڈاپلی کا کہنا ہے کہ بھارت کو اب کارروائی کرنی ہوگی، تحقیقات نہیں، کیونکہ دہشت گردی کے بہت سے واقعات کا تعلق سرحد پار پاکستان سے جڑتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن سندور کے دوران چین نے پاکستان کا ساتھ دیا۔ ایک پاکستانی بریگیڈیئر نے چین کی ویسٹرن تھیٹر کمانڈ کے ساتھ راولپنڈی میں رابطہ کیا۔ اس لیے بھارت کو چین پر اعتماد کرنے سے پہلے ٹھوس شواہد کی ضرورت ہے
پاکستان ہائی کمیشن بنا ISI کا 'ریکروٹمنٹ ہب' ، ویزا ڈیسک سے چل رہا ہے جاسوسی نیٹ ورک ، اکرم کی گرفتاری سے پردہ ہوا فاش

نئی دہلی: دارالحکومت میں پاکستانی ہائی کمیشن کا ویزا ڈیسک اب صرف ویزا جاری کرنے والا دفتر نہیں رہا۔ اعلیٰ انٹیلی جنس ایجنسیوں کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق یہ ڈیسک اب آئی ایس آئی کا ‘ریکروٹمنٹ ہب’ بن چکا ہے۔ یہاں سے بھارتی شہریوں کو ٹارگیٹ کرکے انہیں پیسوں اور لالچ کے ذریعہ جاسوسی کے نیٹ ورک میں پھنسایا جا رہا ہے۔ 30 ستمبر کو پلول سے سول انجینئر وسیم اکرم کی گرفتاری نے اس پورے نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اسے آفیشل سیکرٹ ایکٹ (OSA) اور نئے انڈین پینل کوڈ (بھارتیہ نیا سنہتا – BNS) کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ وسیم نے دراصل پاکستان ہائی کمیشن کے اہلکار جعفر عرف مزمل حسین کو ڈیٹا اور دستاویزات فراہم کیں

بھرتی،انعام،استحصال: ویزا سے شروع، غداری پر ختم
وسیم کا کیس اس پورے آپریشن کی بہترین مثال ہے۔ پاکستان ہائی کمیشن کی ‘ریکروٹ-ریوارڈ- ایکسپلائٹ’ حکمت عملی کے تحت، پاکستان میں کمزور مالی حالات والے افراد یا رشتہ داروں کو سب سے پہلے ٹارگیٹ کیا جاتا ہے۔
جب وسیم نے 2022 میں ویزا کے لیے اپلائی کیا تو ابتدا میں ان کا ویزا مسترد کر دیا گیا۔ بعد ازاں اسے صرف 20 ہزار روپے رشوت کے بعد منظور کیا گیا۔ یہ اس کا ‘Compromising Point’ بن گیا۔ اس کے بعد اسے مسلسل رقم کی منتقلی ملنا شروع ہو گئی۔

اس کے بینک اکاؤنٹ میں 4 سے 5 لاکھ روپے بھیجے گئے اور کچھ رقم نقد بھی دی گئی۔ وسیم کو پاکستان میں ‘قصور’ بلایا گیا، جہاں اس نے آئی ایس آئی کے اہلکاروں سے براہ راست ملاقات کی۔واپس آنے کے بعد وہ جعفر کے ساتھ رابطے میں رہا اور ہندوستانی فوجیوں کی نقل و حرکت، فون نمبر اور لوکیشن جیسی معلومات بھیجتا رہا۔ بدلے میں، اسے ڈیجیٹل ادائیگی اور نقد انعامات ملے۔

‘ویزا کرپشن’ کے نام پر جاسوسی نیٹ ورک
رپورٹ کے مطابق پاکستانی ہائی کمیشن کے ملازمین نے ویزا کرپشن کو جاسوسی کے لیے انٹری پوائنٹ بنا رکھا ہے۔ ویزے کے عمل کے دوران رشوت اور لین دین کے ذریعے لوگوں کو آہستہ آہستہ اپنے قبضہ میں لیا جاتا ہے۔

یہ آپریشن خاص طور پر ہریانہ کے نوح اور پلول اور پنجاب میں ملیرکوٹلا جیسے علاقوں میں سرگرم ہے، جہاں، پاکستان اور بھارت کے تعلقات کی وجہ سے، کچھ خاندانوں کے رشتہ دار پاکستان میں رہتے ہیں۔ ان ‘فیملی ویزوں’ کی آڑ میں آئی ایس آئی اپنے ایجنٹوں کو بھرتی کرتی ہے۔

آئی ایس آئی کے ‘ڈیجیٹل ہینڈلرز’، واٹس ایپ اور یو پی آئی کے ذریعہ چل رہا ہے جاسوسی نیٹ ورک
تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پاکستانی افسران اپنے مقامی ایجنٹوں سے رابطہ کرنے کے لیے واٹس ایپ، ڈیجیٹل ادائیگیوں اور فرضی سم کارڈز کا استعمال کرتے ہیں۔ پیسے کا لین دین اب UPI اور ڈیجیٹل والیٹس کے ذریعے کیا جاتا ہے، جس سے انہیں ٹریس کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

اس سے قبل، اسی طرز کی پیروی کرتے ہوئے، پاکستان ہائی کمیشن کے دو اہلکاروں - دانش عرف احسان الرحیم اور جعفر کو ‘Persona Non Grata’ قرار دے کر ہندوستان سے نکال دیا گیا تھا۔ تاہم، نئے حکام نئے چہروں اور ٹیکنالوجی کے ساتھ اسی ماڈیول کو چلا رہے ہیں۔

انٹیلی جنس ایجنسیوں کی بڑی کارروائی
وسیم اکرم کی گرفتاری صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے نیٹ ورک کو ظاہر کرتی ہے۔ انٹیلی جنس ایجنسیوں کا خیال ہے کہ آئی ایس آئی نے پاکستان ہائی کمیشن کے ویزا ڈیسک کو جاسوسی کے مرکز کے طور پر ادارہ بنا دیا ہے۔ اس حکمت عملی کو پاکستان کی ‘ہائبرڈ جاسوسی حکمت عملی’ کہا جا رہا ہے۔ جذباتی تعلق، مالیاتی رغبت، اور ڈیجیٹل ہیرا پھیری سبھی ایک ساتھ استعمال ہوتے ہیں۔

بھارت کی سخت وارننگ: اب نہیں چلے گی ڈپلومیسی کی آڑ میں جاسوسی
بھارتی حکومت اب اس معاملے کو بین الاقوامی سطح پر اٹھانے کی تیاری کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان ہائی کمیشن کے مزید کچھ اہلکاروں کو جلد ہی ملک چھوڑنے کا حکم دیا جا سکتا ہے۔ یہ کیس صرف جاسوسی نیٹ ورک کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ پاکستان کی جانب سے ہندوستانی جمہوریت اور سیکورٹی کے بنیادی ڈھانچے کو کمزور کرنے کی مسلسل کوششوں کا ثبوت ہے۔

QUAD Meet 2025: پہلے ٹرمپ نے ٹیرف سے بڑھائی ٹینشن، اب کواڈ کو ختم کرنے کی تیاریاں؟

امریکہ۔ہندوستان اور امریکہ۔جاپان کے تعلقات میں کشیدگی کے پیش نظر اس سال ہونے والی کواڈ سمٹ کو خطرہ لاحق ہے۔ اس معاملے سے واقف لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سال کواڈ سمٹ کے انعقاد کا امکان نہیں ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ رکن ممالک کے درمیان گھریلو مسائل اور امریکا، بھارت، امریکا اور جاپان کے درمیان تجارتی کشیدگی نئی دہلی میں ہونے والی اس اہم ملاقات کو ملتوی کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔

صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ہندوستانی اشیاء پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیا، جس کے نتیجے میں پہلی بار ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات میں اہم تناؤ پیدا ہوا۔ اس سے قبل، کواڈ کے رکن ممالک — ہندوستان، امریکہ، جاپان اور آسٹریلیا — اس سال نومبر میں سربراہی اجلاس کے امکان پر غور کر رہے تھے۔ اب یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ دہلی میں ہونے والی کواڈ میٹنگ کا امکان نہیں ہے۔ سمٹ ناممکن لگتا ہے۔

اگر کواڈ سے واقف عہدیداروں پر یقین کیا جائے تو، “ایسا بہت کم لگتا ہے کہ اس سال سربراہی اجلاس منعقد ہوگا۔” اس طرح کے اجلاسوں کے لیے ہفتوں کی تیاری درکار ہوتی ہے، اور یہاں تک کہ بنیادی طریقہ کار بھی شروع نہیں ہوا ہے۔

ٹرمپ دہلی نہیں آئیں گے
دریں اثنا، ہندوستان ٹائمز کے حوالے سے ایک اور اہلکار نے کہا، “امریکی صدر ٹرمپ کے لیے نومبر میں دہلی کا دورہ کرنا بہت مشکل ہے، خاص طور پر جب ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی مذاکرات جاری ہیں۔ اس کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ یہ دورہ تب ہی ممکن ہو گا جب تجارتی معاملات پر کچھ ٹھوس پیش رفت ہو”۔

امریکہ میں ملاقات، لیکن…
اگرچہ گزشتہ ماہ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں آسٹریلیا، بھارت، جاپان اور امریکہ کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی تھی۔ بعض رہنماؤں کے درمیان دو طرفہ ملاقاتیں بھی ہوئیں، کواڈ کے معاملے پر بات نہیں ہوئی، کم از کم میڈیا میں تو نہیں۔ دریں اثنا، دو کواڈ ممالک کے حکام نے کہا کہ سمٹ کے لیے ہوٹل کے کمرے بھی ابھی تک بک نہیں کیے گئے ہیں۔


ہندوستان اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی کے باوجود، ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان فون پر بات چیت اور سینئر ہندوستانی اور امریکی عہدیداروں کے درمیان ملاقاتوں کے بعد تعلقات پگھل گئے ہیں۔ یوکرین جنگ کو ختم کرنے کی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر، امریکہ ہندوستان پر روسی تیل اور دفاعی ہارڈویئر خریدنے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔ واشنگٹن نے حال ہی میں نئی دہلی کو ایرانی بندرگاہ چابہار کو ترقی دینے کی اجازت دینے والی پابندیوں کی چھوٹ کو منسوخ کر دیا ہے۔ مزید برآں، ٹرمپ انتظامیہ نے H-1B ویزا فیس کو $100,000 تک بڑھا دیا، جس سے ہندوستان کو ایک اہم دھچکا لگا، جس میں H-1B ویزا رکھنے والوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

Thursday, 2 October 2025

2019سے 2022کے درمیان شائع ہونے والی بہترین کتابوں کو ایوارڈ اردو اکادمی کی گولڈن جوبلی تقریبات میں انعام یافتگان کو اعزاز سے نوازا جائے گا ممبئی 2؍ اکتوبر:( اسٹاف رپورٹر) مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکادمی نے اپنے قیام کے 50؍سالہ جشن ( گولڈن جوبلی ) کے موقع پر سال 2019سے سال 2022؍ کے دوران شائع ہونے والی بہترین کتابوں کوایوارڈ کے لیے منتخب کیاہے جس میں کئی اہم اور معروف شاعروں اور ادیبوں کی کتابیں بھی شامل ہیں ۔اس کے علاوہ کئی پاپولر کتابیں بھی ہیں ۔موصولہ اطلاع کے مطابق سال 2019 میں اردو اکادمی کی جانب سے صادقہ نواب سحر کے ناول ’راج دیو کی امرائی‘ اور مرحوم نظام الدین نظام کے شعری مجموعے ’دوسری زمین ‘ کو ایوارڈ تفویض کیا گیاہے ۔ ان کے علاوہ سراج دُلار، ریحان کوثر ، ذکیہ شیخ ،ندیم فاضلی ، نصیر الدین انصار،ارتکاز افضل ، اسود گوہر، مرحوم حیدر بیابانی ،اقبال برقی ، عبدالرزاق دل ، محمد حفظ الرحمٰن ، ملک اکبر،راجا باغبان ،عبدالکلام ، ساجد صدیقی، زبیر امروہی ، سید صفدر، محشر فیض آبادی اور ظہیر قدسی کی کتابیں شامل ہیں ۔سال 2020کے انعام یافتگان میں معروف فلم اسکرپٹ رائٹر جاوید صدیقی کا افسانوی مجموعہ : مٹھی بھر کہانیاں ،ایم مبین کی کتاب :چلڈرنس ہومِ،مرحوم ارتضیٰ نشاط کا شعری مجموعہ :واقعی ، مشہور شاعر اور نغمہ نگار شکیل اعظمی کا شعری مجموعہ :بنواس ، نذیر فتح پوری کی کتاب :بچوں کی نظمیں ،شاہ تاج خان کی کتاب :پکنک ، اور مبارک کاپڑی کی کتا ب:’شاہین مائیں ‘شامل ہیں ۔ان کے علاوہ عبدالرشید صدیقی ، آصف اقبال،نعیم اختر خان ،وسیم اختر،آدم رضا،ایڈوکیٹ حبیب رتپوری ، عبدالسلام اعظمی ، اسماعیل وفا،ہارون رشید ،محمد اشرف ،فوزیہ کمال ،سراج سولاپوری،وجاہت قریشی اور وجاہت عبدالستارکی کتابوں کو ایوارڈ کےلیے منتخب کیا گیاہے ۔سال 2021کے انعام یافتگان میں معروف ناول نگار رحمان عباس کا ناول :زندیق، ڈاکٹر یحییٰ نشیط کی کتاب:ارد و میں معراج نامہ ، فرحان حنیف وارثی کی کتاب : وہ جو خبروں میں تھے ، اور ڈاکٹر سلیم خان کی کتاب ’ للّن اور کلّن کی نوک جھونک‘کو ایوارڈ دینے کا اعلان کیا گیاہے ۔ان کے علاوہ عدنان سرکھوت،عارفہ خالد شیخ ،احمد سوز، صالح ابن تابش ، شاذ رمزی ، ڈاکٹر اسداللہ ، ڈاکٹر اسماءبنت رحمت ، ظہیر قدسی ، نعیم انصاری ،سید بشیر احمد ، خان شمیم ، رفیقہ نواب پالوکر،نصیر الدین انصار ،رفعت النساء قادری ، شائستہ محمدی ، ڈاکٹر مجیب الرحمان اور آصف شیخ کی کتابوں کو ایوارڈ تفویض کیا گیاہے ۔سال 2022کے انعام یافتگان میں ڈاکٹر عبداللہ امتیاز کی کتاب :اردو ہندی ناول ایک مطالعہ ، شمع اختر کاظمی کی کتاب :آدھی دنیا کا مکمل جہان ، وقار قادری کی کتاب :وجے ٹینڈولکرکے مراٹھی ناٹک ، محمد رفیع الدین انصاری کی کتاب :میرا پیام اور ہے ،شجاع الدین شاہد کی کتاب :آؤ چھو لیں چاند ستارے ، بانو سرتاج کی کتاب :’مان نہ مان میں تیرا مہمان‘ شامل ہے ۔ ان کے علاوہ خواجہ غلام سیدین ، ڈاکٹر ساجد علی قادری،اثر صدیقی، ڈاکٹر واصف یار،انس نبیل خان ،زین العابدین ،ڈاکٹر شاہ ایاز ،ڈاکٹر صاحب افسر ،محمد عالم ندوی ، ڈاکٹر رفیع الدین نصیر،عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری،مشتاق رضا ،شیخ عبدالرحمٰن اکولوی ، اقبال مجید اللہ اور پرویز احمد کی کتابوںکو ایوارڈ کےلیے منتخب کیا گیاہے ۔ملحوظ رہے کہ سال 2023کی کتابوں کا ابھی تک اعلان نہیں ہواہے جبکہ دیگر انعام یافتگان کا اعلان ہو چکاہے ۔تمام انعام یافتگان کو ممبئی میں پیر 6؍ اکتوبر سے بدھ 8؍ اکتوبر کے مابین ہونے والی گولڈن جوبلی کی تقریبات کے دوران ایوارڈ سے نوازا جائے گا ۔__________🔴🔴دوسرا گناہانتظار حسیناس دن الیملک دستر خوان سے بھوکا اٹھا، اس نے زمران کے سامنے رکھی ہوئی روٹی پر نظر کی، پھر دسترخوان پر چنی ہوئی روٹیوں کو اور لوگوں کو دیکھا اور اٹھ کھڑا ہوا اور یہ وہ لوگ تھے جو دور کی زمین سے چل کر یہاں پہنچے تھے، ان کی زمین ان پر تنگ ہو گئی تھی، انہوں نے اپنے معبدوں اور مقبروں اور حویلیوں کی طرف پشت کی اور کہا کہ بے شک اللہ کی زمین بہت وسیع ہے۔ پہلے ایک گھرانا آیا اور یہاں پہنچ کر کھلے آسمان میں سخت زمین پر پڑا رہا، پھر دوسرا گھرانا آیا اور زمین کی سختی سے لڑنے لگا، پھر گھرانے آتے چلے گئے اور اونچے درختوں کو سرنگوں کرنے اور سخت زمین کو نرم بنانے پر جت گئے۔ جب وہ سب اکھٹے ہوگئے تو انہوں نے حشاّم سے کہا کہ اے حشّام تو ہم میں بڑا ہے، پس تو ہمارے بیچ بیٹھ اور منصفی کر۔ حشام ان کے بیچ بیٹھا اور خوب منصفی کی۔ اس نے تا عمر ٹاٹ پہنا اور سب کے ساتھ ایک دستر خوان پر بیٹھ کر موٹی روٹی کھائی اور مٹی کے پیالے میں پانی پیا، اس نے ایک سو پچھتر برس کی عمر پائی اور جب وہ مرا تو اس کی کمر سیدھی تھی۔ حشّام کو یاد کرکے لوگ بہت روئے، پھر انہوں نے اس کی پہلی جورو کے پہلوٹھی کے بیٹے زمران کو اپنے بیچ بٹھایا اور کہا کہ اب تو اپنے باپ کی جگہ ہمارے درمیان منصفی کر۔ اس باپ کے بیٹے نے بھی خوب منصفی کی، پھر ایک دن یوں ہوا کہ ابیؔ ملک نے دستر خوان پر بیٹھے ہوئے زمران کے آگے رکھی ہوئی روٹی پر نظر کی اور اس کے اجلے پن کو دیکھ کر حیران ہوا، پھر اس نے دوسروں کے سامنے رکھی ہوئی روٹیوں کو دیکھا کہ اتنی اجلی نہ تھیں۔ پھر وہ زمران سے مخاطب ہوکر بولا کہ اے حشّام کے بیٹے! کیا تو اب چھنے ہوئے آٹے کی روٹی کھائے گا، اور میں نے تیرے باپ سے اور تیرے باپ نے اپنے باپ سے یہ سنا ہے کہ جب گیہوں کی مینگ گیہوں کے چھلکے سے جدا ہو جائے تو گوشت ناخن سے جدا ہوتا ہے۔ اور گیہوں تھوڑا اور بھوک زیادہ ہو جاتی ہے اور ہمیں ہمارا پالنے والا اس دن پناہ میں رکھے کہ ہمارے درمیان گیہوں تھوڑا رہ جائے اور ہماری بھوک بڑھ جائے۔ اس دن الیملک دستر خوان سے بھوکا اٹھا، اور جب وہ دستر خوان سے بھوکا اٹھا تو بستی میں اس کا چرچا بہت ہوا، لوگ پہلے حیران ہوئے اور انہوں نے سرگوشیاں کیں کہ الیملک دسترخوان سے نوالہ توڑے بغیر اٹھ گیااور اس نے زمران سے اپنی روٹی الگ کر لی، پھر وہ ڈرے کہ کیا سچ مچ گیہوں اپنے چھلکے سے جدا ہوگیا ہے۔ زمران نے لوگوں کو دیکھا اور غصّہ کیا اور جس جس نے حیرانی ظاہر کی اور خوف کااعلان کیا اس کا دستر خوان اپنے دستر خوان سے الگ کر دیا۔ سو جہاں ایک دستر خوان تھا وہاں بہت سے دستر خوان ہوگئے، پر زمران کا دسترخوان مختصر ہوجانے پر بھی پھیلا ہوا رہا۔ اس کے آڑی اور حواری دونوں وقت اس کے ساتھ دستر خوان پر بیٹھتے اور چھنے ہوئے آٹے کی روٹی کھاتے۔ زمران کے دستر خوان کے لیے آٹا باریک پیسا جاتا تھا اور ایک بڑی سی چھلنی میں چھانا جاتا تھا اور زمران نے چھنے ہوئے آٹے کی بھوسی کو دیکھ کر تشویش کی، زمران نہیں چاہتا تھا کہ لوگوں کے درمیان گیہوں تھوڑا رہ جائے اور ان کی بھوک بڑھ جائے تو اس نے یوں کیا کہ بچی ہوئی بھوسی کو لوگوں میں تقسیم کر دیا۔ پس جنہیں آٹا کم ملا انہیں بھوسی زیادہ مل گئی، انہوں نے اپنے اپنے بے چھنے آٹے میں بھوسی ملا کر موٹی روٹی پکائی اور سیر ہو کر کھائی اور زمران کے آٹے سے جتنی بھوسی نکلتی تھی لوگوں میں تقسیم ہو جاتی تھی اور ان کے بے چھنے آٹے میں مل جاتی تھی۔ تو یوں زمران کے دستر خوان کی روٹی کی رنگت اور ہوگئی اور خلقت کی روٹی کی رنگت اور ہو گئی۔ زمران کا آٹا پہلے چھلنی میں چھانا گیا مگر پھر زمران کو احساس ہوا کہ آٹا چھلنی میں موٹا چھنتا ہے، اس نے باریک چھنائی کی ترکیب یہ نکالی کہ بہت باریک کپڑا بنوایا اور اس میں چھنے ہوئے آٹے کو مزید چھنوایا، حتیٰ کہ آٹا میدہ بن گیا اور روٹی زیادہ چٹی اور زیادہ ملائم ہوگئی، اس حساب سے بھوسی زیادہ بچی اور زیادہ لوگوں میں تقسیم ہوئی۔ اورزیادہ چھان کے آٹے میں آمیز ہوتی اور زمران کی روٹی کی رنگت اور لوگوں کی روٹی کی رنگت میں زیادہ فرق آگیا۔ زمران نے باریک کپڑا آٹا چھنوانے کے لیے بنوایا تھا، مگر پھر یوں ہوا کہ وہ کپڑا اسے اپنی پوشاک کے لیے بھا گیا اور سدا سے موٹے ناج کی سنگت موٹے کپڑے سے اور باریک ناج کی سنگت باریک کپڑے سے چلی آتی ہے، تو زمران نے ٹاٹ اتار کر باریک کپڑا خود بھی پہنا اور اپنی بیٹی رافہؔ کو بھی پہنایا اور رافہؔ اس ماں کی جنی تھی جس نے عمر بھر ٹاٹ اوڑھا اور چکیّ چلائی، وہ ایک وقت میں ایک من آٹا پیس کر اٹھتی تھی اور بستی کے بڑے من والے کنوئیں پر جا کر سو ڈول پانی کے کھینچتی تھی۔ بدن اس کا تانبے کی طرح تمتماتا تھا، اس تانبا بدن سے زمران بڑے کنوئیں کی من پر ٹکرایا اور گھاس کے گرم بستر پر اس کے سنگ بستر میں گیا، پھر وہ اپنی کھیتی اپنے گھر لایا، نو مہینے دس دن بعد اس نے بیٹی جنی کہ نام اس کا رافہؔ رکھا گیا اور وہ گرم لہو تانبا بدن والی عورت ایک سو پچاس ویں برس میں اپنی تنی ہوئی کھال اور کسی ہوئی کچوں کے ساتھ اللہ کو پیاری ہو گئی۔ الیملک کے بیٹے بختاور کی بھی رافہؔ سے مڈبھڑ بڑے کنویں کی من پر ہوئی تھی اور رافہؔ گندم کے خوشے کی مانند شاداب اور میدے کی لوئی کی مثال نرم اور چٹی تھی۔ گات خوب اور خوش نما اور سینہ جیسے گھی دودھ میں گوندھے میدے کے دو پیڑے، تو بختاور نے بڑے کنویں سے اسے تاکا اور پانی سے چھلکتے ڈول کی طرح اسے کھینچا اور سیراب ہوا، مگر پھر ایسا ہوا کہ وہ کنوئیں پر گیا اور اس نے رافہؔ کو وہاں نہ پایا، تب وہ رافہؔ کو ڈھونڈتا ڈھونڈتا اس کے گھر تک گیا اور وہ یہ دیکھ کر حیران ہوا کہ رافہؔ کے گھر کی ڈیوڑھی اونچی ہو گئی ہے اور اس میں دروازہ لگ گیا ہے۔ اور اس بستی میں یہ پہلی ڈیوڑھی تھی جو اونچی ہوئی اور پہلا دروازہ تھا جو تعمیر ہوا۔ بختاور نے اس دروازے کو کھٹکھٹایا پر وہ دروازہ نہ کھلا۔ بختاور نے رافہؔ کو پکارا پر دروازہ بند رہا اور پکار کا جواب نہ آیا اور بختاور نے پھر دروازہ کھٹکھٹایا اور پھر رافہؔ کو پکارا کہ اے عورت تو جو آرام میں ہے بے آرام کی سن اور دروازے سے باہر آ۔ اس سے پہلے کہ انگوروں کا موسم گزر جائے اور ہم پھل سمیٹنے سے رہ جائیں، اس سے پہلے کہ گندم کی بالیں سوکھ کر مرنڈ ہوجائیں اور ہم فصل کاٹنے سے رہ جائیں۔ بختاور نے رافہؔ کا دروازہ بہت کھٹکھٹایا اور رافہؔ کو بہت پکارا پر وہ دروازہ نہ کھلا۔ اس پکار کا جواب نہ آیا، تب وہ مایوس گھر لوٹا، اور درد سے کہا کہ میری کھیتی مجھ سے دور ہو گئی اور گوشت ناخن سے جدا ہوگیا۔ الیملک نے بختاور کے اندوہ کو دیکھا اور کہا کہ اے میرے بیٹے میں تجھ سے وہ کہتا ہو ں جو میرے باپ نے مجھ سےکہا، اور میرے باپ نے مجھ سے وہ کہا جو اس کے باپ نےاس سے کہا، جو جن میں سے ہے وہ ان کے ساتھ اٹھایا جائے گا، اور جو عورت جس خمیر سے اٹھتی ہے اس خمیر میں واپس جائے گی۔ بختاور نے اس قول کو نہ مانا اور کرب سے کہا کہ میں رافہؔ سے ایسے الگ ہوا جیسے گندم کے دانے سے گندم کا چھلکا ہوتا ہے۔ تب الیملک نے اس سے کہا کہ اے مرے بیٹے اب میں تجھ سے وہ کہتا ہوں جو سلیمان حکیم نے اپنے فرزند سے کہا کہ شکیل عورت اگر پہچان نہ رکھتی ہو تو سور کے نتھنوں میں پڑی ہوئی سونے کی نتھ ہے۔ پھر بیٹے نے اپنے باپ سے کہا عشق موت کی مانند زور آور ہے اور گھر سے نکل گیا۔ بختاور گھر سے نکل کر رافہؔ کے دروازے پر گیا، پھر اسے بند پاکر اس نے چکر کاٹا اور گھر کے عقب میں گیا، پر وہ یہ دیکھ کر حیران ہواکہ اب رافہؔ کے گھر کی دیوار اونچی ہوگئی ہے، اور اس نے اندوہ سے کہا کہ واویلا ہو گندم کے دانے پر جو میرے اور رافہ کے درمیان دیوار بن گیا۔ اور یوں ہوا کہ جب زمران کے گھر کا دروازہ بن گیا اور اس میں کنڈی لگ گئی تو کچھ دیکھنے والوں نے اسے دیکھ کر رعب کھایا اور کچھ دیکھنے والوں نے اسے دیکھ کر اس کے پیچھے کی چیزوں کے بارے میں تجسّس کیا، پھر ایک دن یوں ہوا کہ زمران کی کی بھاری پوشاک چوری ہو گئی۔ اور یہ پہلی چوری تھی کہ اس بستی میں ہوئی، پہلے یوں تھا کہ سونے کی ڈلی بازار میں پھینک جاؤ اور دوسرے دن آکر اٹھا لو۔ پھر یوں ہوا کہ لوگوں نے اپنی اپنی چیزیں سنگھوا کر رکھنی شروع کیں اور ایک آڑی نے زمران کی پوشاک چوری ہو جانے کے بعد زمران سے کہا کہ مرا گھر غیر محفوظ ہے۔ کیا میں دروازہ بنالوں، زمران نے کہا، بنوالے، اور اس نے دروازہ بنوا لیا، پھر دوسرےآڑی نے اجازت لی اور دروازہ بنوالیا، پھر تیسرے آڑی نے اجازت لی اور دروازہ بنوالیا اور پھر بستی میں دروازے بنتے چلے گئے۔ زمران نے اپنی پوشاک کی چوری کے بعد اپنی دیواریں اونچی کر لیں، پھر جب اس کے آڑیوں نے دروازے بنوائے تو انہوں نے بھی اپنی اپنی دیواریں اونچی کیں۔ ان کی اونچی دیواروں کو دیکھ کر زمران نے اپنی دیواروں کو اونچا کر لیا، جاننا چاہئے کہ پیڑ کی بڑھوتری کی ایک حد ہے پر دیوار کے اونچا ہونے کی کوئی حد نہیں ہے۔ زمران نے پہلے اپنی ڈیوڑھی اونچی کی اور دروازہ بنوایا، پھر اس نے اپنی دیواریں اونچی کیں اور دروازے کو مضبوط کیا، پھر اس نے دروازے پر نگہبان بٹھائے، پھر اس نے سواری بنوائی کہ دروازے سے نکل کر اس میں بیٹھتا اور باہر جاتا، پھر اس نے سواری کے لیے شاہراہ بنوائی کہ بستی کے گرد اگرد پھیل گئی اور زمران کی دودھیا گھوڑیوں سے جتی ہوئی سواری اس پر ہوا کی مثال چلتی۔ پر الیملک نے زمران سے یہ کہا کہ میں نے تیرے باپ سے اور تیرے باپ نے اپنے باپ سے یہ سنا کہ جب سواری آجاتی ہے تو مردوں کی ٹانگوں کا زور گھٹ جاتا ہے اور جب شاہراہ بن جاتی ہے تو زمین تنگ ہو جاتی ہے اور فاصلے دراز ہوجاتے ہیں۔ جب دروازے بن گئے اور دیواریں اونچی ہوگئیں اور زمران کے دروازے پر نگہبان بیٹھ گئے اور ڈیوڑھی کے آگے سواری آکھڑی ہوئی اور دودھیا گھوڑیاں ہنہنانے لگیں تو گیہوں پر اسرار طور پر تھوڑا پڑنے لگا اور بھوک بڑھنے لگی، اب زمران کے آٹے کی بھوسی لوگوں میں تقسیم ہونی بند ہوگئی تھی کہ یہ بھوسی اب اسی کی دودھیا گھوڑیاں کھاتی تھیں۔ جب بھوسی کی تقسیم بند ہوئی تو لوگوں نے اپنے اپنے حصّے میں آئے ہوئے آٹے کو تھوڑا جانا اور بھوکا رہ جانے کا گلہ کیا، اور زمران کے آڑیوں نے جب آٹے کو تھوڑا پڑتے دیکھا تو اپنے دروازوں کو غنیمت جانا، اور آئندہ کا دھیان کر گندم گھر میں جمع کیا اور دروازہ لگا لیا۔ تب بستی میں آٹا اور تھوڑا پڑ گیا، اور الیملک نے اس اندیشہ سے کہ مبادا اس کی بھوک بڑھ جائے، گیہوں کا آٹا نہ پاکر جَو ْخریدے اور انہیں پیس کر روٹی پکائی اور پیٹ بھرا، اور اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے یہ کہا کہ اس قریہ میں جاؤ اور اس میں سے جو کچھ تمہارا جی چاہے کھاؤ پیو۔ پھر ظالموں نے اسے جو ان سے کہا گیا تھا بدل کر اس کی جگہ دوسری بات رکھ دی۔ الیملک جَو کی روٹی کھا کر گھر سے نکلا اور زمران کی گھوڑیوں کو بھوسی کا راتب کھاتے دیکھ کر حسرت سے بولا کہ جو رزق میرے حصّے کا تھا وہ زمران کی گھوڑیوں کے پیٹ میں چلا گیا، زمران نے اس کا یہ کلام سنا اور کہا کہ اے الیملک تو ہم میں سے ہے، سو تو ہمارے ساتھ دستر خوان پر بیٹھ اور ہمارے ساتھ روٹی توڑ۔ اس پر الیملک نے کانوں پر ہاتھ رکھے اور کہا کہ میں پناہ مانگتا ہوں اس دن سے جب گیہوں کو گیہوں کے چھلکے سے جدا کر کے کھاؤں اور ظالموں میں شمار کیا جاؤں۔ زمران نے الیملک کے جواب کا برا مانا، اس نے الیملک کے سر پر غصّہ میں ڈنڈا مارا اور کہا کہ تیری ماں تیرے سوگ میں بیٹھے، کیا تو مجھے ظالم کہے گا، کیا تو مجھے ظالم کہے گا، سو تو ہمارے درمیان سے چلا جا اور یاد کرو اس وقت کو جب ہم نے تم سے یہ عہد لیا تھا کہ آپس میں خونریزی مت کرنا اور اپنوں کو اپنے ملک سے مت نکالنا۔ پھر تم نے اقرار کیا اور تم اس کے گواہ ہو، پھر وہی تم ہو کہ اپنوں کو قتل کرتے ہو اور اپنے میں سے ایک گروہ کو اپنے ملک سے نکالتے ہو اور ان کے برخلاف گناہ اور زیادتی کرنے میں ایک دوسرے کی پشت پناہی کرتے ہو۔ الیملک اپنی زوجہ کو ہمراہ لئے بستی سے نکل گیا اور دور کے جنگل میں جا کر ڈیرا ڈالا یہاں وہ بہت دنوں اپنی اکیلی جان کے ساتھ تناور درختوں اور سخت زمین سے لڑتا رہا، جب سو اوپر ساٹھواں سال تھا تو وہ تھک گیا اور مرنے کے قریب ہوا، اس کی زوجہ نے روکر کہا کہ کیا تو مجھے اس ویرانے میں اکیلا چھوڑ کر جائے گا، الیملک نے آنکھیں کھولیں اور کہا کہ میں آنے والوں کا انتظار کروں گا۔ پھر یوں ہوا کہ اس بات کے تیسرے دن ایک قافلہ خراب و خستہ وہاں پہنچا اور الیملک سے پناہ کا طالب ہوا۔ الیملک نے انہیں پناہ دی اور پوچھا کہ اے دوستو کدھر سے آنا ہوا، انہوں نے کہا کہ ہم زمران کی بستی سے آئے ہیں، یہ سن کر الیملک کی زوجہ نے سوال کیا کہ میرے بیٹے بختاور کے بارے میں کچھ کہو، انہوں نے جواب دیا کہ تیرا بیٹا اپنی آگ کا ایندھن بن گیا۔ اس نے رافہ کے لیے زمران کی دیوار پر عقب سے کمند ڈالی، خدا تیرے بیٹے پر اپنی رحمت کرے، یہ ہماری بستی کی پہلی اونچی دیوار پر کمند تھی اور عشق کی پہلی واردات تھی۔ الیملک کی زوجہ نے یہ خبر سن کر اپنے سینے پر دوہتڑ ماری، اور الیملک کا سر جھک گیا اور اس نے یہ کہا کہ بے شک عشق موت کی مانند زور آور ہے، ہر مرد کا زور اپنے گریبان پر چلے گا اور جو عورت جس خمیر سے اٹھی ہے اس خمیر میں واپس جائے گی۔ یہ کہہ کر الیملک نے ٹھنڈا سانس بھرا، آنکھیں بند کیں اور چپ ہوگیا، پھر کہا کہ دوسروں کی کہو۔ قافلہ والوں نے کہا کہ دوسروں کی مت پوچھ، دیوار سے گر کر مرجانا اس سے اچھا ہے کہ آدمی فاقے کر کے مرے، کھیت شاہراہوں اور اصطبلوں کی زد میں آگئے، کھیتوں والے کچھ نگہبان بنے، کچھ سائیس ہوئے، کچھ آوارہ ہوگئے، اور گیہوں ہمارے درمیان تھوڑا رہ گیا اور گراں ہوگیا اور ہم نے زمران کی زمین کو اپنے آپ پر تنگ پایا اور نکل کھڑے ہوئے کہ اللہ کی زمین بہت وسیع ہے۔ الیملک نے اس پر یہ کہا کہ اللہ کی زمین بے شک بہت وسیع ہے پر اللہ کے بندوں پر وہ ہمیشہ تنگ رہی، یہ کہہ کر ا س نے آنکھ بند کرلی اور ہمیشہ کے لیے چپ ہوگیا۔ قافلہ والوں نے الیملک کو عزت سے دفن کیا اور الیملک کی بیوہ کو عزّت سے اپنے درمیان جگہ دی کہ الیملک نے ان کے لیے اس سخت زمین کو بہت نرم کیا تھا اور اونچے درختوں کو بہت سرنگوں کیا تھا۔ پھر وہ خود سخت زمین اور تناور درختوں کو زیر کرنے میں مصروف ہوگئے۔ پھر یوں ہوا کہ تھوڑے دنوں بعد زمران کی بستی سے ایک اور قافلہ چلا اور بھوکا یہاں پہنچا، زمران کی بستی میں قحط پڑ گیا تھا اور و ہاں سے پہلے ایک قافلہ چلا اور یہاں آکر پناہ گیر ہوا، پھر دوسرا قافلہ آیا اور پناہ گیر ہوا، پھر قافلے آتے چلے گئے اور یہاں ڈیرے ڈالتے چلے گئے۔ سب سے آخر میں وہ قافلہ آیا جس کا بزرگ سب کے بیچ بیٹھ کر سب کا بزرگ بنا اور منصف ٹھہرا۔ وہ بزرگ یہاں ان حالوں پہنچا تھا کہ اس کے پاس کچھ ساز و سامان نہ تھا۔ سوا ایک آٹے کی چھلنی کے، اور یہ پہلی آٹے کی چھلنی تھی جو اس بستی میں پہنچی۔_______از کتاب " انتظار حسین کے سترہ افسانے"انتخاب ۔ وحید قمر ____________جب کوئ من پسند،ہمسفر ساتھ ہومنزلیں دور ہوں ، راہ بر ساتھہو دھوپ بھی تیز ہو ،اور راستے، طویل ہوںدل کی راحتیں وہاں ، پیار کی سبیل ہوں دھوپ ایسےلگتی ہو ،جیسے چھائیں جیسی ہےرب کا شُکر کرنے کو روح بھی مچلتی ہےصبردل میں بھرتاہے،اورسُکون اَتا ہے مُشکلوں میں جینے کا اک مزہ بھی ہوتا ہے 🔴سیماں صوفی امریکہ 🔴 ____________::غزلنیند کی گولی تھی کافی ساتھ تھی خواب بھی تھے اور رسی ساتھ تھی تم نہیں تھے ساتھ پر تم ساتھ تھےجل رہا تھا موم بتی ساتھ تھی اشک تھے لیکن ہمارے دل میں تھے تیز بارش تھی سو چھتری ساتھ تھی یہ جو پتے اڑ رہے ہیں پارک میںاس جگہ وہ سبز لڑکی ساتھ تھی رنگ میرے پاس تھا خوشبو بھی تھیکچھ گھڑی پہلے بھی تتلی ساتھ تھی۔نسیم خان

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑ایم پی ایس ایل (MPSL) کی 7 سالہ نااہلی اور معاہدے کی خلاف ورزیوں پر حکومت سے تحریری جواب کا مطالبہ: محمد عمیر شمشاد علی* ...