Thursday, 5 December 2024

بڑی خبر: سپریم کورٹ نے دہلی-این سی آر میں نافذ گریپ 4 کو ہٹایا



نئی دہلی : سپریم کورٹ نے دہلی-این سی آر میں نافذ گریپ 4 کو ہٹا دیا ہے۔ دہلی میں فضائی آلودگی کے بارے میں جمعرات کو جاری سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے دہلی-این سی آر سے گریپ 4 کو ہٹانے کا حکم دیا۔ رسپانس ایکشن پلان کے سوال پر ایڈیشنل سالیسٹر جنرل (ASG) نے ایک بریف نوٹ دیا، جس میں ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) کی تفصیلات تھیں۔ اس کے مطابق ہوا کے معیار کی سطح میں بہتری آ رہی ہے اور آلودگی کم ہو رہی ہے۔
اس کے بعد عدالت نے کہا ک کہ GRAP-4 کو ہٹانے کا حکم دیتے ہیں اور گریپ 4 طے کرنے کا ذمہ کمیشن فار ایئر کوالٹی مینجمنٹ (CAQM) پر چھوڑتے ہیں ۔ تاہم سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ صحیح ہوگا کہ کمیشن گریپ-2 کی سطح سے نیچے نہ جائے۔


دیویندر فڑنویس نے مہاراشٹر کے وزیراعلی کے طور پر عہدہ اور رازاداری کا حلف لیا



ممبئی : مہاراشٹر کو نئی حکومت مل گئی ہے ۔ بدھ کو بی جے پی کے سینئر لیڈر دیویندر فڑنویس نے ممبئی کے آزاد میدان میں منعقدہ ایک شاندار تقریب میں وزیراعلی کے طور پر عہدہ اور رازداری کا حلف لیا۔ حلف برداری کی اس تقریب میں وزیراعظم مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، وزیر دفاع راجناتھ سنگھ سمیت متعدد سرکردہ شخصیات موجود تھیں۔


Wednesday, 4 December 2024

وہ سبزیاں جن کا استعمال ہائی بلڈ پریشر کو قدرتی طور پر قابو میں رکھ سکتا ہے



ہائی بلڈ پریشر یا ہائپر ٹینشن ایک عام صحت کا مسئلہ ہے تاہم اگر اسے صحیح طریقے سے قابو نہ پایا جائے تو یہ سنگین قسم کی پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے۔
اگرچہ ہائی بلڈ پریشر کے مسائل شکار لوگوں کے لیے دوا کا استعمال ضروری ہوتا ہے لیکن درست خوراک کا استعمال بھی بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق ایسی سبزیاں جو پوٹاشیم، میگنیشیم اور نائٹریٹس جیسے اجزا سے بھرپور ہوتی ہیں قدرتی طور پر بلڈ پریشر کو کم کرنے میں فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں۔
ان سبزیوں کو روزمرہ کے کھانوں میں شامل کرنے سے بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنا ممکن سکتا ہے وہیں مجموعی طور پر دل کو صحت مند رکھنے میں اہم کرادر ادا کر سکتا ہے۔
آئیے جانتے ہیں کہ ہائی بلڈ پریشر کو قدرتی طور پر قابو پانے کے لیے کون کون سبزیوں کا استعمال موثر ثابت ہو سکتا ہے؟
سبزیوں کا استعمال کیسے بلڈ پریشر کو قابو میں رکھتا ہے
سبزیاں دل کو فراہم کی جانے والی صحت مند غذا کی ایک اہم بنیاد ہیں کیونکہ ان میں ضروری غذائی اجزاء کی مقدار زیادہ اور سوڈیم کی سطح کم ہوتی ہے۔
یہ خون کی نالیوں کو آرام دہ بنا کر، الیکٹرولائٹس کو متوازن کر کے اور سوزش کو کم کر کے بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے میں اہم کرادار ادا کرتی ہیں۔
پالک
پالک پوٹاشیم، میگنیشیم اور کیلشم سے بھرپور ہوتی ہے۔
یہ تینوں اجزاء بلڈ پریشر کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔

پالک میں موجود نائٹریٹس کی زیادہ مقدار خون کی نالیوں کو آرام دے کر اور کشادہ کر کے خون کے بہاؤ کو بہتر بناتی ہے۔
چقندر
چقندر سبزیوں کی ایک ایسی قسم ہے جس میں قدرتی طور پر نائٹریٹس کی وسیع مقدار پائی جاتی ہے۔
چقندر کو جسم نائٹریک آکسائیڈ میں تبدیل کرتا ہے تاکہ بلڈ پریشر کو کم کرنے میں مدد ملے سکے۔
تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ چقندر کا رس پینے سے سسٹولک اور ڈایسٹولک بلڈ پریشر کو کم کرنے پر فوری اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
بروکولی
اینٹی آکسیڈنٹس اور پوٹاشیم سے بھرپور بروکولی دل کی صحت کے لیے بہترین ہے۔

اس میں موجود فائبر کی زیادہ مقدار اور کمپاؤنڈز جیسے سلفورفین آکسیڈیٹو سٹریس اور سوزش کو کم کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں، جو دونوں ہائی بلڈ پریشر سے جڑے ہوئے ہیں۔
گاجر
گاجریں پوٹاشیم اور بیٹا کیروٹین سے بھرپور ہوتی ہیں جو دل کی صحت کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔
خاص طور پر کچی گاجروں کا استعمال اپنے پوٹاشیم اور سوڈیم کے تناسب کی وجہ سے بلڈ پریشر کو قابو کرنے میں موثر ثابت ہوتی ہیں۔
شکر کندی
شکر کندی میں پوٹاشیم اور میگنیشیم کی مقدار پائی جاتی ہے۔
اس کے استعمال کی وجہ سے جسم میں سوڈیم کی سطح کو متوازن رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

ان میں موجود فائبر کی زیادہ مقدار دل کی صحت کو بہتر بنا کر صحت مند بلڈ پریشر برقرار رکھنے میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے۔
ٹماٹر
ٹماٹر پوٹاشیم اور لائیکوپین کی مقدار سے بھرپور ہوتے ہیں۔
پوٹاشیم اور لائیکوپین ایک اینٹی آکسیڈنٹ ہے اور ہائپرٹینشن کے خطرے کو کم کرنے کے لیے جانا جاتا ہے۔

ٹماٹر پر مبنی کھانے جیسے ساسز اور جوس بھی دل کی صحت کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
سبز پھلیاں
سبز پھلیوں میں سوڈیم کم اور پوٹاشیم زیادہ ہوتی ہیں جس کی وجہ سے یہ صحت مند بلڈ پریشر برقرار رکھنے میں اہم کرادار ادا کرتی ہیں۔
ان میں موجود فائبر اور اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات دل کی صحت کو بہتر بناتی ہیں۔

اب دہلی کی شاہی جامع مسجد کی سیڑھیوں کے نیچے مندر ہونا کا دعوی، ASI کو لکھا گیا خط



نئی دہلی : سنبھل کے بعد اب دہلی کی جامع مسجد کا بھی سروے کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اے ایس آئی کو لکھے خط میں ہندو سینا کے ایک کارکن نے دعویٰ کیا ہے کہ جامع مسجد کی سیڑھیوں کے نیچے ایک مندر ہے، اس لیے اس کا سروے کرایا جانا چاہئے تاکہ حقیقت کا پتہ چل سکے۔ اس سے پہلے سنبھل میں بھی ایسا ہی معاملہ چل رہا تھا، جہاں کچھ دن پہلے شاہی جامع مسجد میں سروے کو لے کر تشدد ہوا تھا۔

ہندو سینا کے قومی صدر وشنو گپتا نے ہندوستان کے محکمہ آثار قدیمہ کے ڈائریکٹر جنرل (اے ایس آئی) کو خط لکھ کر دہلی کی جامع مسجد کے سروے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ اورنگ زیب نے جودھ پور اور ادے پور کے کرشنا مندروں کو منہدم کر دیا تھا، جن کی باقیات دہلی کی جامع مسجد کی سیڑھیوں میں موجود ہیں۔ اس کا ثبوت اورنگزیب نامہ اور اورنگزیب پر ساقی مشتاق خان کی لکھی گئی کتاب ’’ مآثر عالمگیری‘‘ میں موجود ہے۔
وشنو گپتا نے اے ایس آئی کے ڈائریکٹر کو لکھے خط میں کہا کہ کتاب کے مطابق 24-25 مئی 1689 کو خان ​​جہاں بہادر مندروں کو تباہ کرنے کے بعد جودھ پور سے واپس لوٹا تھا۔ اورنگ زیب کی سوانح عمری میں لکھا ہے کہ جب خان جہاں بہادر نے مندروں کو گرایا، انہیں لوٹا اور مجسموں کو توڑا تو شہنشاہ بہت خوش ہوا۔ اس کے بعد ٹوٹی ہوئی مورتیوں کی باقیات کو بیل گاڑیوں میں دہلی بھیج دیا گیا۔
بتادیں کہ کچھ دنوں پہلے اترپردیش کے سنبھل میں بھی وہاں کی شاہی جامع مسجد کے سروے کا حکم دیا گیا تھا۔ سروے کیلئے کورٹ کمشنر کے مسجد پہنچنے کے بعد وہاں پرتشدد واقعات پیش آئے تھے ، جس میں کئی افراد کی جانیں تلف ہوگئی تھیں ۔

اجمیر درگاہ کے بعد اب ڈھائی دن کا جھونپڑا کو لے کر ہنگامہ، ڈپٹی میئر نے کیا یہ بڑا مطالبہ



اجمیر : خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ کو لے کر کیا گیا دعویٰ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ ادھر اجمیر کے ڈپٹی میئر نیرج جین نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈھائی دن کا جھونپڑا سنسکرت اسکول اور مندر کو گرا کر بنایا گیا تھا ۔ مرکزی حکومت سے مطالبہ ہے کہ اسے اس کی اصلی شکل میں واپس کیا جائے، اسے نالندہ یونیورسٹی کی طرح محفوظ کیا جائے اور اسے بہتر بنایا جائے۔ ان کے اس بیان کے بعد ایک نیا تنازع پیدا ہوگیا ہے۔ ایک فریق اس کی حمایت میں ہے جبکہ دوسرا فریق اسے سازش قرار دے رہا ہے۔

دراصل اجمیر میں خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ کے قریب تارا گڑھ کی پہاڑی کے نیچے ایک خوبصورت عمارت ہے۔ یہ عمارت ڈھائی دن کا جھونپڑا کے نام سے مشہور ہے۔ اے ایس آئی کی طرف سے محفوظ یہ عمارت اجمیر کا ایک اہم سیاحتی مقام ہے لیکن اب یہ تنازعات میں گھر گئی ہے۔ اجمیر کے ڈپٹی میئر نیرج جین کا دعویٰ ہے کہ ڈھائی دن کا جھونپڑا کی عمارت سرسوتی کانتھا بھرنا ودیالیہ نام کا سنسکرت اسکول تھا۔ اسے اجمیر کے حکمران ویگراہ راج چوہان چہارم نے تعمیر کروایا تھا۔
ڈپٹی میئر نیرج جین کا دعویٰ ہے کہ 1194 میں محمد غوری کے گورنر قطب الدین ایبک نے اسے گرا کر مسجد تعمیر کروائی تھی۔ پوری عمارت 16 ستونوں پر قائم ہے۔ جین کا دعویٰ ہے کہ ڈھائی دن کا جھونپڑا میں کمل اور سواستیکا کی علامتیں اب بھی موجود ہیں۔ جین نے کہا کہ وہ مرکزی اور ریاستی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ نالندہ یونیورسٹی کی طرح اسے بھی محفوظ اور بہتر بنایا جائے اور پھر اسے سنسکرت اسکول کی شکل دی جائے۔

ادھر اجمیر درگاہ کے خادمین کی تنظیم انجمن کے سکریٹری سرور چشتی نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ چشتی نے کہا کہ ترائن کی جنگ میں محمد غوری کی جیت کے بعد غوری نے اجمیر میں ہندوؤں کی کوئی عمارت نہیں گرائی۔ اس وقت کے کئی مندر آج بھی موجود ہیں۔ پرتھوی راج چوہان کو ہندوستان کا آخری ہندو شہنشاہ سمجھا جاتا ہے۔
جب ترائن کی پہلی اور دوسری جنگ محمد غوری کے ساتھ ہوئی تو چوہان کی سلطنت اجمیر سے دہلی اور پنجاب تک پھیل گئی۔ اجمیر میں تارا گڑھ کی پہاڑی پر پرتھوی راج چوہان کا قلعہ اور پہاڑی کے نیچے خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ اور ڈھائی دن کا جھونپڑا ہے۔

مہاراشٹر:دیویندرفڑنویس، وزیراعلیٰ کی حیثیت سے لیں گےحلف، حلف برداری تقریب میں پی ایم مودی کریں گےشرکت



ممبئی: مہاراشٹر کو اپنا اگلا وزیر اعلیٰ 5 دسمبر کو ملے گا۔ آزاد میدان میں وزیر اعلیٰ کی تقریب حلف برداری کی تیاریاں جاری ہیں۔ وہیں،دیویندر فڑنویس کو بی جے پی لیجسلیچر پارٹی میٹنگ میں لیڈر منتخب کیا گیا ہے۔ دیویندر فڑنویس کو قانون ساز پارٹی کا لیڈر منتخب کیے جانے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ وہ مہاراشٹر کے اگلے وزیر اعلیٰ بنیں گے۔ کور کمیٹی کی میٹنگ میں فڑنویس کے نام کو منظوری دی گئی۔ سدھیر منگنٹیوار اور چندرکانت پاٹل نے دیویندر فڑنویس کانام تجویز کیاتھا۔

بدھ کو مہاراشٹر اسمبلی میں بی جے پی قانون ساز پارٹی کی میٹنگ ہوئی۔ اس میٹنگ کی صدارت وزیر خزانہ نرملا سیتارامن نے کی، جو مرکزی مبصر کے طور پر آئی تھیں، اور گجرات کے سابق وزیر اعلیٰ وجے روپانی۔ لیجسلیچر پارٹی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کے تمام ممبران اسمبلی نے ایک ساتھ کہا کہ وہ سبھی دیویندر فڑنویس کے ساتھ ہیں۔
تمام ارکان اسمبلی نے فڑنویس کے نام پر رضامند ی کااظہارکیا
بی جے پی سے نومنتخب ایم ایل اے پروین وسنت راؤ تایدے نے کہا کہ ہم نے دیویندر فڑنویس کو وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے منتخب کیا ہے۔ وہ ایک ایسے لیڈر ہیں جو مہاراشٹر میں مثبت تبدیلی اور بہتری لا سکتے ہیں۔ وہ سب کو ساتھ لے کر چلتے ہیں ۔ تمام ارکان اسمبلی نے انہیں منتخب کیا ہے۔ انہیں پانچ سال حکومت چلانے کا تجربہ ہے۔ ایکناتھ شندے ناراض نہیں ہیں۔ میں ان کے بارے میں بات نہیں کر سکتا۔ لیکن، وہ بیمار ہے۔

مہاراشٹر:دیویندرفڑنویس، وزیراعلیٰ کی حیثیت سے لیں گےحلف، حلف برداری تقریب میں پی ایم مودی کریں گےشرکت
اشتہار
ممبئی: مہاراشٹر کو اپنا اگلا وزیر اعلیٰ 5 دسمبر کو ملے گا۔ آزاد میدان میں وزیر اعلیٰ کی تقریب حلف برداری کی تیاریاں جاری ہیں۔ وہیں،دیویندر فڑنویس کو بی جے پی لیجسلیچر پارٹی میٹنگ میں لیڈر منتخب کیا گیا ہے۔ دیویندر فڑنویس کو قانون ساز پارٹی کا لیڈر منتخب کیے جانے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ وہ مہاراشٹر کے اگلے وزیر اعلیٰ بنیں گے۔ کور کمیٹی کی میٹنگ میں فڑنویس کے نام کو منظوری دی گئی۔ سدھیر منگنٹیوار اور چندرکانت پاٹل نے دیویندر فڑنویس کانام تجویز کیاتھا۔

بدھ کو مہاراشٹر اسمبلی میں بی جے پی قانون ساز پارٹی کی میٹنگ ہوئی۔ اس میٹنگ کی صدارت وزیر خزانہ نرملا سیتارامن نے کی، جو مرکزی مبصر کے طور پر آئی تھیں، اور گجرات کے سابق وزیر اعلیٰ وجے روپانی۔ لیجسلیچر پارٹی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کے تمام ممبران اسمبلی نے ایک ساتھ کہا کہ وہ سبھی دیویندر فڑنویس کے ساتھ ہیں۔

تمام ارکان اسمبلی نے فڑنویس کے نام پر رضامند ی کااظہارکیا
بی جے پی سے نومنتخب ایم ایل اے پروین وسنت راؤ تایدے نے کہا کہ ہم نے دیویندر فڑنویس کو وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے منتخب کیا ہے۔ وہ ایک ایسے لیڈر ہیں جو مہاراشٹر میں مثبت تبدیلی اور بہتری لا سکتے ہیں۔ وہ سب کو ساتھ لے کر چلتے ہیں ۔ تمام ارکان اسمبلی نے انہیں منتخب کیا ہے۔ انہیں پانچ سال حکومت چلانے کا تجربہ ہے۔ ایکناتھ شندے ناراض نہیں ہیں۔ میں ان کے بارے میں بات نہیں کر سکتا۔ لیکن، وہ بیمار ہے۔
بی جے پی ارکان ِ اسمبلی نے فڑنویس کی تعریف کی
بی جے پی کے نو ارکان اسمبلی روی راجہ نے کہا کہ دیویندر فڑنویس مہاراشٹر کے اگلے وزیر اعلیٰ ہوں گے۔ پوری پارٹی نے اس فیصلے کی حمایت کی ہے۔ مہاراشٹر کو مزید ترقی کے لیے دیویندر فڑنویس کی قیادت کی ضرورت ہے۔ ایکناتھ شندے اور اجیت پوار ڈپٹی سی ایم کے طور پر کام کریں گے۔ جب دیویندر فڑنویس نے وزیر اعلیٰ ہوتے ہوئے مہاراشٹر کے لوگوں کے مفاد کے لیے پچھلی حکومت میں نائب وزیر اعلیٰ کا عہدہ قبول کیا تھا۔

فڑنویس کو وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کے طور پر بحال کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ نئے وزیراعلیٰ 5 دسمبر کو آزاد میدان میں حلف اٹھائیں گے۔

اس فیصلے کو فڑنویس کی مقبولیت اور انتظامی صلاحیتوں کی منظوری کے طور پر دیکھا جارہا ہے، جس کے بارے میں پارٹی کا خیال ہے کہ انتخابات میں مہاوتی کی شاندار کارکردگی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ایکناتھ شندے نے نئی عظیم اتحاد حکومت میں نائب وزیر اعلیٰ کے طور پر کام کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

ایک ہی کار میں راج بھون پہنچے فڑنویس، شندے اور پوار، گورنر کے سامنے پیش کیا حکومت سازی کا دعوی



ممبئی: دیویندر فڑنویس مہاراشٹر کے نئے وزیر اعلیٰ ہوں گے۔ مہاراشٹر کے وزیر اعلی پر 12 دن کا سسپنس اب ختم ہو گیا ہے۔ بی جے پی لیجسلیچر پارٹی میٹنگ میں دیویندر فڑنویس کے نام پر مہر لگ گئی۔ اس کے بعد دیویندر فڑنویس، ایکناتھ شندے اور اجیت پوار ایک ساتھ ایک ہی کار میں راج بھون پہنچے ۔ یہاں انہوں نے گورنر رادھا کرشنن کے سامنے حکومت سازی کا دعوی پیش کیا ۔ اس موقع پر مبصر نرملا سیتارمن بھی موجود تھیں ۔

بتادیں کہ مہاراشٹر بی جے پی لیجسلیچر پارٹی کی میٹنگ بدھ کو ممبئی میں ہوئی۔ اس میٹنگ میں دیویندر فڑنویس کو متفقہ طور پر قانون ساز پارٹی کا لیڈر منتخب کیا گیا۔ اس طرح دیویندر فڑنویس کے وزیر اعلیٰ بننے کا راستہ صاف ہو گیا۔ بی جے پی کی مرکزی قیادت نے مرکزی وزرائے خزانہ نرملا سیتارامن اور وجے روپانی کو بطور مبصر بھیجا تھا۔ دیویندر فڑنویس کو ان کی موجودگی میں قانون ساز پارٹی کا لیڈر منتخب کیا گیا۔لیجسلیچر پارٹی میٹنگ میں چندرکانت پاٹل اور سدھیر منگنٹیوار نے دیویندر فڑنویس کے نام کی تجویز پیش کی۔ پنکجا منڈے نے اس کی حمایت کی۔
قانون ساز پارٹی کا لیڈر منتخب ہونے کے بعد نرملا سیتارامن اور وجے روپانی نے دیویندر فڑنویس کو گلدستہ دے کر مبارکباد دی۔ دیویندر فڑنویس کو اسمبلی انتخابات کے 11 دن بعد قانون ساز پارٹی کا لیڈر منتخب کیا گیا ہے۔ دراصل مہاراشٹرا اسمبلی انتخابات کے مکمل ہونے کے بعد وزیراعلیٰ کے لیے دو ناموں کو لے کر بحث عروج پر تھی۔ ان میں پہلا دیویندر فڑنویس کا تھا اور دوسرا ایکناتھ شندے کا۔ اب لیجسلیچر پارٹی کے لیڈر کے طور پر دیویندر فڑنویس کے نام کو منظوری دے دی گئی ہے۔

حلف برداری 5 دسمبر کو آزاد میدان میں ہوگی۔ تاہم دیویندر فڑنویس کے ساتھ کتنے وزراء حلف اٹھائیں گے یا نہیں، اس حوالے سے ابھی تک صورتحال واضح نہیں ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑ناگالینڈ میں زہریلی شراب پینے سے 19 افراد ہلاک، تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل* موکوکچنگ،ناگالینڈ: ناگالینڈ میں م...