Wednesday, 4 December 2024

اب دہلی کی شاہی جامع مسجد کی سیڑھیوں کے نیچے مندر ہونا کا دعوی، ASI کو لکھا گیا خط



نئی دہلی : سنبھل کے بعد اب دہلی کی جامع مسجد کا بھی سروے کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اے ایس آئی کو لکھے خط میں ہندو سینا کے ایک کارکن نے دعویٰ کیا ہے کہ جامع مسجد کی سیڑھیوں کے نیچے ایک مندر ہے، اس لیے اس کا سروے کرایا جانا چاہئے تاکہ حقیقت کا پتہ چل سکے۔ اس سے پہلے سنبھل میں بھی ایسا ہی معاملہ چل رہا تھا، جہاں کچھ دن پہلے شاہی جامع مسجد میں سروے کو لے کر تشدد ہوا تھا۔

ہندو سینا کے قومی صدر وشنو گپتا نے ہندوستان کے محکمہ آثار قدیمہ کے ڈائریکٹر جنرل (اے ایس آئی) کو خط لکھ کر دہلی کی جامع مسجد کے سروے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ اورنگ زیب نے جودھ پور اور ادے پور کے کرشنا مندروں کو منہدم کر دیا تھا، جن کی باقیات دہلی کی جامع مسجد کی سیڑھیوں میں موجود ہیں۔ اس کا ثبوت اورنگزیب نامہ اور اورنگزیب پر ساقی مشتاق خان کی لکھی گئی کتاب ’’ مآثر عالمگیری‘‘ میں موجود ہے۔
وشنو گپتا نے اے ایس آئی کے ڈائریکٹر کو لکھے خط میں کہا کہ کتاب کے مطابق 24-25 مئی 1689 کو خان ​​جہاں بہادر مندروں کو تباہ کرنے کے بعد جودھ پور سے واپس لوٹا تھا۔ اورنگ زیب کی سوانح عمری میں لکھا ہے کہ جب خان جہاں بہادر نے مندروں کو گرایا، انہیں لوٹا اور مجسموں کو توڑا تو شہنشاہ بہت خوش ہوا۔ اس کے بعد ٹوٹی ہوئی مورتیوں کی باقیات کو بیل گاڑیوں میں دہلی بھیج دیا گیا۔
بتادیں کہ کچھ دنوں پہلے اترپردیش کے سنبھل میں بھی وہاں کی شاہی جامع مسجد کے سروے کا حکم دیا گیا تھا۔ سروے کیلئے کورٹ کمشنر کے مسجد پہنچنے کے بعد وہاں پرتشدد واقعات پیش آئے تھے ، جس میں کئی افراد کی جانیں تلف ہوگئی تھیں ۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...