اجمیر : خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ کو لے کر کیا گیا دعویٰ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ ادھر اجمیر کے ڈپٹی میئر نیرج جین نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈھائی دن کا جھونپڑا سنسکرت اسکول اور مندر کو گرا کر بنایا گیا تھا ۔ مرکزی حکومت سے مطالبہ ہے کہ اسے اس کی اصلی شکل میں واپس کیا جائے، اسے نالندہ یونیورسٹی کی طرح محفوظ کیا جائے اور اسے بہتر بنایا جائے۔ ان کے اس بیان کے بعد ایک نیا تنازع پیدا ہوگیا ہے۔ ایک فریق اس کی حمایت میں ہے جبکہ دوسرا فریق اسے سازش قرار دے رہا ہے۔
دراصل اجمیر میں خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ کے قریب تارا گڑھ کی پہاڑی کے نیچے ایک خوبصورت عمارت ہے۔ یہ عمارت ڈھائی دن کا جھونپڑا کے نام سے مشہور ہے۔ اے ایس آئی کی طرف سے محفوظ یہ عمارت اجمیر کا ایک اہم سیاحتی مقام ہے لیکن اب یہ تنازعات میں گھر گئی ہے۔ اجمیر کے ڈپٹی میئر نیرج جین کا دعویٰ ہے کہ ڈھائی دن کا جھونپڑا کی عمارت سرسوتی کانتھا بھرنا ودیالیہ نام کا سنسکرت اسکول تھا۔ اسے اجمیر کے حکمران ویگراہ راج چوہان چہارم نے تعمیر کروایا تھا۔
ڈپٹی میئر نیرج جین کا دعویٰ ہے کہ 1194 میں محمد غوری کے گورنر قطب الدین ایبک نے اسے گرا کر مسجد تعمیر کروائی تھی۔ پوری عمارت 16 ستونوں پر قائم ہے۔ جین کا دعویٰ ہے کہ ڈھائی دن کا جھونپڑا میں کمل اور سواستیکا کی علامتیں اب بھی موجود ہیں۔ جین نے کہا کہ وہ مرکزی اور ریاستی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ نالندہ یونیورسٹی کی طرح اسے بھی محفوظ اور بہتر بنایا جائے اور پھر اسے سنسکرت اسکول کی شکل دی جائے۔
ادھر اجمیر درگاہ کے خادمین کی تنظیم انجمن کے سکریٹری سرور چشتی نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ چشتی نے کہا کہ ترائن کی جنگ میں محمد غوری کی جیت کے بعد غوری نے اجمیر میں ہندوؤں کی کوئی عمارت نہیں گرائی۔ اس وقت کے کئی مندر آج بھی موجود ہیں۔ پرتھوی راج چوہان کو ہندوستان کا آخری ہندو شہنشاہ سمجھا جاتا ہے۔
جب ترائن کی پہلی اور دوسری جنگ محمد غوری کے ساتھ ہوئی تو چوہان کی سلطنت اجمیر سے دہلی اور پنجاب تک پھیل گئی۔ اجمیر میں تارا گڑھ کی پہاڑی پر پرتھوی راج چوہان کا قلعہ اور پہاڑی کے نیچے خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ اور ڈھائی دن کا جھونپڑا ہے۔