بروز جمعہ 18 اگست سرپرست جناب ہاشم انصاری صاحب کی سر پرستی میں مومن انصار سبھا کے وفد نے ملاقات کی شکریہ نامہ پیش کیا اور ساتھ ہی تحصیلدار آفس میں انصاری سماج کو مومن ،جولاہا سرٹیفکیٹ کے لئے کے لئے جو تکلیفات درپیش ہیں اسے آنے والے ناگپور اسمبلی میں اٹھانے کی پیش کش کی ہے، اور اقلیتی طبقہ کے ہر مسائل کو اسمبلی میں اٹھانے کی پیش کش کی ہے، اس طرح کی معلومات نائب صدر جناب صادق حسین اشرفی صاحب نے میڈیا کو دی ہے وفد میں سکریٹری محمد عمار اشرف کمپیوٹرس صاحب، نائب صدر جناب مجاہدالقادری صاحب شامل تھے.
Saturday, 19 August 2023
مسلم معاشرے کی بیماریاں
وہ کون سی بیماریاں ہیں جن سے مسلمانوں کی نئی پود دوچار ہے ؟ اس سوال کا جواب آسان نہیں ہے ۔ لیکن کوئی نہ کوئی جواب ، اور جواب پا جانے کے بعد مناسب حل تو تلاش کرنا پڑے گا ، کیونکہ اگر جواب اور حل نہ ملا تو مسلمانوں کی اکثریت والی آبادیاں اور بستیاں معمول کے مطابق ’ بدنام ‘ کی ، اور ان کی ساکھ بگاڑی جاتی رہیں گی ۔ اکثر رات گئے آفس سے گھر جاتے ہوئے مسلم آبادیوں میں ، بات شہر کی ہو رہی ہے ، مسلم نوجوان ’ شب بیداری ‘ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ اکثر میں سوچتا تھا کہ یہ نوجوان کیوں راتوں کو جاگتے ہیں ، تو چند حقائق سامنے آئے ۔ مثلاً یہ کہ ’ شب بیداری ‘ کچھ نوجوانوں کے لیے مجبوری ہے ، لیکن اکثر کے لیے ایک تفریح ۔ مسلم علاقوں میں گھروں کے کمرے حجم میں چھوٹے ہیں ، اور فیمیلی بڑی ہونے کے سبب کچھ نوجوان مجبوری میں رات باہر بتاتے ہیں ، صبح جب بستر خالی ہوتے ہیں ، کام کرنے والے اپنے دفاتر یا کام کرنے کی جگہوں پر چلے جاتے ہیں ، تب یہ نوجوان سونے کی جگہ پاتے ہیں ۔ یہ ہے تو مجبوری لیکن یہ مجبوری عادت میں بدل جاتی ہے ، جاگنے کی عادت جو اپنے ساتھ کئی طرح کے آذار لاتی ہے ، اور اکثر نوجوان غلط صحبت پیں پڑ کر بگڑ بھی جاتے ہیں ، اس طرح وہ نوجوان جو سماج اور معاشرے اور گھر کے لیے ایک ’ نعمت ‘ ثابت ہو سکتے تھے ’ اذیت ‘ بن جاتے ہیں ۔ یہ ایک خطرناک بیماری ہے ، اس کا کوئی حل نکالنا ہی ہوگا ۔ ایک حل یہ ہوسکتا ہے کہ گھر بھلے چھوٹا ہو ، اسی میں گنجائش نکالی جائے ، یا چال میں یا ٹیریس پر ، سب کے مشورے سے کوئی ایسا نظم بنایا جائے کہ نوجوان ’ شب بیداری ‘ پر مجبور نہ ہوں ۔ اور کسی کو یہ کہہ کر پوری قوم کو بدنام کرنے ، اور لوگوں کو قوم سے متنفر کرنے کا موقعہ نہ مل سکے کہ یہ راتوں کو جاگنے اور جاگ کر جرم کرنے والی قوم ہے ۔ پہلے دوسرے مذاہب کے نوجوان بھی ایسی ہی مجبوری کے سبب ’ شب بیداری ‘ کرتے نظر آتے تھے ، لیکن ان کے بزرگوں نے اس کا علاج تلاش لیا ہے ، اب وہ نوجوان بیدار رہ کر وقت ضائع نہیں کرتے ۔ ویسے دیکھا یہ بھی جا رہا ہے کہ بڑے مسلم گھرانوں کے بچے بھی ، مکان بڑے اور کئی کمرے ہونے کے بوجود ’ شب بیداری ‘ کے شکار ہیں ، سب نہ سہی لیکن ایک اچھی خاصی تعداد جاگنے والوں کی ان میں ہے ، یہ تفریح کے لیے راتیں جاگ کر گزارتے ہیں ۔ اور مسٔلہ اُن کا ہی زیادہ تشویش ناک ہے جو محض تفریح کے لیے ، یا غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے لیے ’ شب بیداری ‘ کرتے ہیں ۔ ایسے نوجوان خود بھی مکمل طور پر تباہ ہو جاتے ہیں ، اور اپنا گھر بھی تباہ کر دیتے ہیں ۔ انہیں راہِ راست پر لانے کے لیے سرجوڑ کر بیٹھنا ہوگا ، مہم کے انداز میں ان کی اصلاح کی تحریک شروع کرنا ہوگی ، اور یہ ضروری بھی ہے کیونکہ ’ شب بیداری ‘ اپنے ساتھ جرائم لاتی ہے ، چوری چکاری سے لے کر عیاشی اور منشیات فروشی و منشیات خوری تک ۔ اور ایک بڑا نقصان یہ ہو رہا ہے کہ ایسے نوجوان تعلیم کی روشنی سےمحروم ہوتے ہیں ! ابھی حال ہی میں ایک خبر کشمیر کے متعلق پڑھی کہ وہاں منشیات خوری / نوشی کی وبا بہت تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے ؟ کیا انتظامیہ اور پولیس دانشتہ ایسا ہونے دے رہی ہے تاکہ کشمیری بے عمل ہو جائیں یا کشمیری نوجوان واقعی منشئی ہو رہے ہیں ، اس میں انتظامیہ اور پولیس کا کوئی رول نہیں ہے ؟ بہرحال جو بھی ہو ذمہ دار تو مسلمان ہی ہیں ۔ منشیات یہی بیچتے ہیں ، چاہے جہاں سے لاتے ہوں ، منشیات فروشی کے سبب یہ پولیس کے رحم کرم پر ہوتے ہیں ، مخبر بنتے ہیں ، اور بے قصوروں کو پھنساتے ہیں ۔ یہ بیماری اب عام ہو گئی ہے ، اس کا علاج تلاش نہ کیا گیا تو قوم کا بیڑا جو ویسے ہی غرق ہو رہا ہے ، تیزی سے غرق ہو جائے گا ۔
تکمیل حفظ قرآن و دعاۓ استسقاء ......
الحَمْدُ لله مدرسہ میراث آلنبی ھلال پورہ کی 8 بچیوں نے 3 نشست.میی مکمل حفظ قرآن سنایا
اسی مناسبت سے 21 اگست بروز پیر بعد نمــاز مغرب تا عشاء تکمیلِ حفظ قرآن و دعاۓ استسقاء کی تقریب منعقد ھوگی اس میں رکن شعرا دار العلوم دیوبند حضرت مولانا مفتی محمد اسماعیل صاحب قاسمی حفظ قران کی اھمیت ، بارش نہ ھونے کے اسباب اور حالات حاضرہ کے عنوان سے خطاب فرمائیں گے نیز جلسے کے اختتام پر بارش کے لئیے خصوصی دعا کی جاۓ گی
برادران اسلام سے شرکت کی گزارش ھے مستورات کے لئیے مسجد کے اوپری ھال میں نظم ھوگا
گردوں کی صحت کے لیے بہترین غذائیں
گردوں کا کام خون کو فلٹر کرنا، فضلہ کو ہٹانا، جسم کے فلوئیڈ کے توازن کو کنٹرول کرنا اور الیکٹرولائٹس کے توازن کو منظم کرنا ہے۔ملین سے زائد پاکستانی گردوں کے مرض میں مبتلا ہیں۔ گردے کی بیماری عام طور پر ذیابیطس، دل کی بیماری، ہائی بلڈ پریشر اور 25 سے 60 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں میں زیادہ ہوتی ہے۔
اس بلاگ کا مقصد گردوں کی صحت کے لیے غذاؤں کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرنا ہے۔ اس سے پہلے کہ آپ اپنی روزمرہ کی خوراک میں تبدیلیاں کریں، آپ آن لائن نیفرولوجسٹ اور ماہرِ غذائیت سے مشورہ ضرور کریں تاکہ آپ کو یہ بات معلوم ہو کہ کیا آپ کی خوراک آپ کی غذائیت کی ضروریات کو پورا کررہی ہے؟
گردوں کی بیماری کی وجوہات کیا کیا ہیں؟
۔ 1 گردوں کی بیماری کی وجہ میں سب سے اہم آپ کی خاندانی تاریخ بھی آپ کو خطرے میں ڈال سکتی ہے
۔ 2 حد سے زیادہ موٹاپا ہونا
۔ 3 قوت مدافعت متاثر ہونے کی وجہ سے ہونے والی بیماریاں
۔ 4 پیشاب کی نالی کے انفیکشن
سیرت امام احمد بن حنبل
امام احمد بن حنبل( 164ھ -241) بغداد میں پیدا ہوئے ۔آپ کے والد تیس سال کی عمر میں ہی انتقال کرگئے تھے۔والد محترم کی وفات کے بعد امام صاحب کی پرورش اور نگہداشت اُن کی والدہ کے کندھوں پر آن پڑی۔ امام احمد بن حنبل ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد 179ھ میں علم حدیث کے حصول میں مشغول ہوئے جبکہ اُن کی عمر محض 15 سال تھی۔ 183ھ میں کوفہ کا سفر اختیار کیا اور اپنے استاد ہثیم کی وفات تک وہاں مقیم رہے، اِس کے بعد دیگر شہروں اور ملکوں میں علم حدیث کے حصول کی خاطر سفر کرتے رہے۔ آپ اپنے دور کے بڑے عالم اور فقیہ تھے۔ آپ امام شافعی کے شاگرد ہیں۔ اپنے زمانہ کے مشہور علمائے حدیث میں آپ کا شمار ہوتا تھا۔ انہوں نے مسند کے نام سے حدیث کی کتاب تالیف کی جس میں تقریباً چالیس ہزار احادیث ہیں۔ مسئلہ خلق قرآن میں خلیفہ معتصم کی رائے سے اختلاف کی پاداش میں آپ نے کوڑے کھائے لیکن غلط بات کی طرف رجوع نہ کیا۔ آپ کوڑے کھا کھا کر بے ہوش ہو جاتے لیکن غلط بات کی تصدیق سے انکار کر دیتے۔ انہوں نے حق کی پاداش میں جس طرح صعوبتیں اٹھائیں اُس کی بنا پر اتنی ہردلعزیزی پائی کہ وہ لوگوں کے دلوں کے حکمران بن گئے۔ آپ کی عمر کا ایک طویل حصہ جیل کی تنگ و تاریک کوٹھریوں میں بسر ہوا۔ پاؤں میں بیڑیاں پڑی رہتیں، طرح طرح کی اذیتیں دی جاتیں تاکہ آپ کسی طرح خلق قرآن کے قائل ہو جائیں لیکن وہ عزم و ایمان کا ہمالہ ایک انچ اپنے مقام سے نہ سرکا۔ حق پہ جیا اور حق پہ وفات پائی۔ ان کے انتقال کے وقت آٹھ لاکھ سے زیادہ اشخاص بغداد میں جمع ہوئے اور آپ کی نماز جنازہ پڑھی۔ زیر تبصرہ کتاب’’سیرت امام احمد بن حنبل ‘‘وطن عزیز کے معروف مضمون نگار ، سیرت نگار مصنف کتب کثیرہ محترم جنا ب عبدالرشید عراقی ﷾ کی تصنیف ہے ۔ انہوں نےاس کتاب میں امام احمد بن حنبل کے حالات زندگی ، اساتذہ، وتلامذہ کا تذکرہ ،ان کے دو رابتلاء کی تفصیل ، تصانیف اور ان کی مشہور کتاب مسند احمد بن حنبل کا تعارف اور فقہ حنبلی کے مختلف پہلوؤں پر مختصر اً اظہار کیا ہے ۔(م۔ا)
جلال الدین خلجی
خاندان خلجی کا پہلا بادشاہ۔ تخت نشینی کے وقت اس کی عمر ستر سال تھی۔ فطرتاً رحم دل تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے عہد میں بغاوتیں زور پکڑ گئیں۔ مغلوں نے بھی حملے کیے لیکن انھیں پسپا کر دیا گیا۔ کچھ مغل دہلی کے قریب ہی بس گئے اور اس جگہ کا نام مغلپورہ پڑ گیا۔ اس کے عہد کا سب سے مشہور واقعہ دیوگری پر حملہ ہے۔ اس نے اپنے بھتیجے علاؤ الدین خلجی کو، جو اس کا داماد بھی تھا۔ صوبہ اودھ میں کڑہ کا حاکم مقرر کیا تھا۔ علاؤ الدین نے دکن میں واقع دیوگری کی دولت کا حال سن رکھا تھا۔ اس نے 1294ء میں دیوگری کے راجا رام چندر پر حملہ کر دیا۔ راجا نے شکست کھائی اور بہت سا زر و مال اور ایلچ پور کا علاقہ علاؤ الدین کے حوالے کرنا پڑا۔ علاؤ الدین مال و دولت لے کر کڑہ لوٹ گیا۔ جب جلال الدین اپنے بھتیجے کی فتح کی خبر سن کر ملاقات کے لیے آیا تو علاؤ الدین نے اسے قتل کر دیا اور پھر اس کے تمام خاندان کا خاتمہ کر کے خود بادشاہ بن گیا
Sunday, 2 July 2023
اجیت دادا پوارنے 32مہینوں میں تیسری مرتبہ نائب وزیر اعلئ کا حلف لیا۔۔۔پوار سے بغاوت کہ ملی جوڑ
اجیت دادا پوارنے 32مہینوں میں تیسری مرتبہ نائب وزیر اعلئ کا حلف لیا۔۔۔پوار سے بغاوت کہ ملی جوڑ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
2 جولائی( پریس نوٹ) اجیت دادا پوار نے آج دوپہر ڈھائی بجے مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلئ کا حلف لیا۔دادا کے ساتھ دیگر 8اایم ایلیز نے بھی راج بھون میں وزارت کا حلف لیا ہئے جن کے نام اسطرح ہئیں ۱ چھگن بھجبل ۲ دھننجئے منڈے ۳ انیل پاٹیل۴ دلیپ ولسے پاٹیل ۵دھرم آترم۶ سنیل ولساڑ ۷ ادتیہ تٹکرے ۸ حسن مشرف۔BJPاور شیو سینا ( شندے) کیساتھ جانے کی ان ایم ایلیز نے یہ وجہ بتائی ہئے کہ 23جون کو پٹنہ میں ھونے والے اپوزیشن لیڈروں کی مٹنگ میں شرکت کرکے ۔۔راہول گاندھی کا تعاون کرنے کیلیئے سرد پوار نے یکطرفہ فیصلہ لیا تھا۔مہاراشٹر بھاجپا چیف چندر شیکھر باون کلے نے دعوئ کیا ہے کہ ان کیساتھ NCP کے 40 ممبران اسمبلی ہیں مگر اسکی ابھی تک تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔نائب وزیر اعلئ دیویندر فڈنویس نے کہا کہ مہاراشٹر میں 3انجن کی سرکار ہے ریاست خوب ترقی کریگی۔
اجیت دادا پوار کی 32مہینوں میں یہ تیسری مرتبہ حلف برداری ہے اور راج بھون میں چوتھی مرتبہ حلف برداری کا پروگرام ہوا ہے۔نومبر 2019 کو اجیت دادا پوار نے بھاجپ کیساتھ نائب وزیر اعلئ کا حلف لیا تھا۔یہ سرکار صرف 80 گھنٹوں میں ہی ٹوٹ گئی تھی ۔اسکے بعد مہراشٹر وکاس اگھاڑی سرکار میں اجیت دادا نے نائب وزیر اعلئ کا حلف لیا تھا ۔جبکہ30 جون 2022 کو شیو سینا (شندے) اور بھاجپ سرکار نے راج بھون میں حلف لیا تھا تو آج سینا( شندے) بھاجپ اور باغی این سی پی سرکار نے چوتھی مرتبہ اور اجیت دادا نے تیسری مرتبہ وزارت کا حلف لیا ہے۔
2019 میں اسمبلی چناؤ کے بعد ہاؤس میں پارٹیوں کی پوزیشن اسطرح تھی بھاجپ 106 شیو سینا 56 این سی پی 53 کانگریس44 دیگر 29 اسکے بعد جون 2022 میں بھاجپ 106 شیو سینا ( شندے) 44 شیو سینا ( ادھو) 12 کانگریس44 دیگر 28 اور آج کی پارٹی پوزیشن اسطرح ہے بھاجپ 106 شیوسینا ( شندے ) 44 این سی پی 44 کانگریس44 شیو سینا ادھو 12 اور دیگر 28 یعنی آج شندے سرکار کیساتھ کل 160 ممبران اسمبلی ہیں سرد پوار نے آج ھونے والی سیاسی اتھل پتھل کے تعلق سے کہا کہ ھم بھلے سے اقتدار میں نہ ہوں مگر عوام ھمارے ساتھ ہے 2024 میں یہ ثابت ھوجائیگا ۔اجیت دادا نے پارٹی سے بغاوت کا ارادہ اسی وقت کرلیا تھا جب 2 مئی کو سرد پوار نے استعفیٰ دے کر 4 دنوں بعد واپس لے لیا تھا دادا کو امید تھی کہ پوار صاحب کے استعفیٰ کے بعد اسے ہی صدر بنایا جائیگا مگر پوار کے استعفیٰ واپس لینے اور10 جون کو سپریہ سولے اور پرفل پٹیل کو کارگذار صدر بنا دیا گیا تھا اب دادا کی ناراضگی تھی یا کچھ اور کہ اس نے پارٹی کے خلاف اتنا بڑا فیصلہ لیا ہے۔ویسے ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ آج صبح راج بھون جانے سے پہلے اجیت دادا اور سپریہ سولے کی ملاقات بھی ہوئی تھی اب دادا نے واقعی میں بغاوت کی ہے کہ پارٹی کارگذار صدر کے علم میں لاکر مہاراشٹر سرکار کا تیسرا انجن بننا پسند کیا ابھی کہنا مشکل ہے کیونکہ اسوقت پارٹی سپریمو سرد پوار پونہ میں تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Subscribe to:
Posts (Atom)
*🛑سیف نیوز اُردو*
*🛑جھارکھنڈ پیپر لیک احتجاج: رانچی میں کئی طلباء کو حراست میں لیا گیا، مظاہرین کو روکنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال* ...
-
مالیگاؤں کارپوریشن الیکشن 2017 میں تمام امیدواروں کو اپنے وارڈ میں کتنی ووٹ ملی مکمل تفصیل