Saturday, 19 August 2023

مسلم معاشرے کی بیماریاں

وہ کون سی بیماریاں ہیں جن سے مسلمانوں کی نئی پود دوچار ہے ؟ اس سوال کا جواب آسان نہیں ہے ۔ لیکن کوئی نہ کوئی جواب ، اور جواب پا جانے کے بعد مناسب حل تو تلاش کرنا پڑے گا ، کیونکہ اگر جواب اور حل نہ ملا تو مسلمانوں کی اکثریت والی آبادیاں اور بستیاں معمول کے مطابق ’ بدنام ‘ کی ، اور ان کی ساکھ بگاڑی جاتی رہیں گی ۔ اکثر رات گئے آفس سے گھر جاتے ہوئے مسلم آبادیوں میں ، بات شہر کی ہو رہی ہے ، مسلم نوجوان ’ شب بیداری ‘ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ اکثر میں سوچتا تھا کہ یہ نوجوان کیوں راتوں کو جاگتے ہیں ، تو چند حقائق سامنے آئے ۔ مثلاً یہ کہ ’ شب بیداری ‘ کچھ نوجوانوں کے لیے مجبوری ہے ، لیکن اکثر کے لیے ایک تفریح ۔ مسلم علاقوں میں گھروں کے کمرے حجم میں چھوٹے ہیں ، اور فیمیلی بڑی ہونے کے سبب کچھ نوجوان مجبوری میں رات باہر بتاتے ہیں ، صبح جب بستر خالی ہوتے ہیں ، کام کرنے والے اپنے دفاتر یا کام کرنے کی جگہوں پر چلے جاتے ہیں ، تب یہ نوجوان سونے کی جگہ پاتے ہیں ۔ یہ ہے تو مجبوری لیکن یہ مجبوری عادت میں بدل جاتی ہے ، جاگنے کی عادت جو اپنے ساتھ کئی طرح کے آذار لاتی ہے ، اور اکثر نوجوان غلط صحبت پیں پڑ کر بگڑ بھی جاتے ہیں ، اس طرح وہ نوجوان جو سماج اور معاشرے اور گھر کے لیے ایک ’ نعمت ‘ ثابت ہو سکتے تھے ’ اذیت ‘ بن جاتے ہیں ۔ یہ ایک خطرناک بیماری ہے ، اس کا کوئی حل نکالنا ہی ہوگا ۔ ایک حل یہ ہوسکتا ہے کہ گھر بھلے چھوٹا ہو ، اسی میں گنجائش نکالی جائے ، یا چال میں یا ٹیریس پر ، سب کے مشورے سے کوئی ایسا نظم بنایا جائے کہ نوجوان ’ شب بیداری ‘ پر مجبور نہ ہوں ۔ اور کسی کو یہ کہہ کر پوری قوم کو بدنام کرنے ، اور لوگوں کو قوم سے متنفر کرنے کا موقعہ نہ مل سکے کہ یہ راتوں کو جاگنے اور جاگ کر جرم کرنے والی قوم ہے ۔ پہلے دوسرے مذاہب کے نوجوان بھی ایسی ہی مجبوری کے سبب ’ شب بیداری ‘ کرتے نظر آتے تھے ، لیکن ان کے بزرگوں نے اس کا علاج تلاش لیا ہے ، اب وہ نوجوان بیدار رہ کر وقت ضائع نہیں کرتے ۔ ویسے دیکھا یہ بھی جا رہا ہے کہ بڑے مسلم گھرانوں کے بچے بھی ، مکان بڑے اور کئی کمرے ہونے کے بوجود ’ شب بیداری ‘ کے شکار ہیں ، سب نہ سہی لیکن ایک اچھی خاصی تعداد جاگنے والوں کی ان میں ہے ، یہ تفریح کے لیے راتیں جاگ کر گزارتے ہیں ۔ اور مسٔلہ اُن کا ہی زیادہ تشویش ناک ہے جو محض تفریح کے لیے ، یا غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے لیے ’ شب بیداری ‘ کرتے ہیں ۔ ایسے نوجوان خود بھی مکمل طور پر تباہ ہو جاتے ہیں ، اور اپنا گھر بھی تباہ کر دیتے ہیں ۔ انہیں راہِ راست پر لانے کے لیے سرجوڑ کر بیٹھنا ہوگا ، مہم کے انداز میں ان کی اصلاح کی تحریک شروع کرنا ہوگی ، اور یہ ضروری بھی ہے کیونکہ ’ شب بیداری ‘ اپنے ساتھ جرائم لاتی ہے ، چوری چکاری سے لے کر عیاشی اور منشیات فروشی و منشیات خوری تک ۔ اور ایک بڑا نقصان یہ ہو رہا ہے کہ ایسے نوجوان تعلیم کی روشنی سےمحروم ہوتے ہیں ! ابھی حال ہی میں ایک خبر کشمیر کے متعلق پڑھی کہ وہاں منشیات خوری / نوشی کی وبا بہت تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے ؟ کیا انتظامیہ اور پولیس دانشتہ ایسا ہونے دے رہی ہے تاکہ کشمیری بے عمل ہو جائیں یا کشمیری نوجوان واقعی منشئی ہو رہے ہیں ، اس میں انتظامیہ اور پولیس کا کوئی رول نہیں ہے ؟ بہرحال جو بھی ہو ذمہ دار تو مسلمان ہی ہیں ۔ منشیات یہی بیچتے ہیں ، چاہے جہاں سے لاتے ہوں ، منشیات فروشی کے سبب یہ پولیس کے رحم کرم پر ہوتے ہیں ، مخبر بنتے ہیں ، اور بے قصوروں کو پھنساتے ہیں ۔ یہ بیماری اب عام ہو گئی ہے ، اس کا علاج تلاش نہ کیا گیا تو قوم کا بیڑا جو ویسے ہی غرق ہو رہا ہے ، تیزی سے غرق ہو جائے گا ۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

وہ تین غذائیں جو خون میں شوگر کی مقدار کو متوازن رکھ کہ آپ کو صحت مند بنا سکتی ہیں صحیح اور متوازن غذا مجموعی صحت پ...