نیند پوری نہ ہونے سے بچوں کی ذہنی صحت کیسے متاثر ہوتی ہے؟
سائنسدان اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ بچپن میں بھرپور نیند لینے سے دماغ کی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
ویب سائٹ این آئی ایچ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ 6 سال سے 12 سال کی عمر کے بچوں کو ہر روز 9 گھنٹوں تک سونا چاہیے تاہم ابھی تک یہ بات سامنے نہیں آ سکی تھی کہ کم سونے سے دماغ پر کیا منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
اس سوال کے جواب کے لیے یونیورسٹی آف میری لینڈ کے ڈاکٹر زی وینگ اور اُن کی ریسرچ ٹیم نے کم نیند کی وجہ سے دماغ پر پڑنے والے منفی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے تحقیق کی۔یہ تحقیق این آئی ایچ کی اڈولسنٹ برین کوگنیٹیوو ڈیلوپمنٹ (اے بی سی ڈی) پروگرام کے تحت کی گئی جس میں 9 سے 10 سال کی عمر کے 12000 بچوں نے حصہ لیا۔
ریسرچرز نے چار ہزار ایسے بچوں پر تحقیق کی جو دن میں 9 گھنٹے نیند پوری کرتے ہیں۔
اسی طرح اس گروپ کا موازنہ چار ہزار ایسے بچوں سے کیا گیا جو کے 9 گھنٹوں سے کم سوتے ہیں۔
یہ تحقیق دو سال کے عرصے تک جاری رہی جس کے بعد نتیجہ یہ نکلا کہ جو بچے کم سوتے ہیں اُن کی ذہنی صحت اور رویے میں 9 گھنٹے نیند کرنے والے بچوں کی نسبت کافی مسائل سامنے آئے۔
ان مسائل میں ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی، جارحانہ رویہ اور سوچنے کی قابلیت پر پڑنے والے منفی اثرات شامل ہیں۔
ایسے بچے فیصلہ کرنے، معاملات کو سلجھانے، یاداشت رکھنے اور سیکھنے کے عمل میں بھی پیچھے ہیں۔
اس تحقیق سے یہ بات معلوم ہوئی کہ دماغ میں ہونے والی تبدیلیوں کی وجہ سے نیند نہ پوری کرنے والے بچے سیکھنے میں پیچھے رہ جاتے ہیں اور اُن کے رویوں میں تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔
یہ اے بی سی ڈی تحقیق ابھی جاری ہے اور ریسرچرز سمجھتے ہیں کہ آگے آنے والے نتائج مزید ایسے مواقعے پیدا کریں گے جس سے نیند نہ پوری ہونے سے دماغ پر پڑنے والے اثرات کو دیکھا جائے گا۔
گاندھی سے سونم وانگچک تک، انڈیا میں بھوک ہڑتال سیاسی ہتھیار کیسے بنا؟
یہ تحقیق این آئی ایچ کی اڈولسنٹ برین کوگنیٹیوو ڈیلوپمنٹ (اے بی سی ڈی) پروگرام کے تحت کی گئی جس میں 9 سے 10 سال کی عمر کے 12000 بچوں نے حصہ لیا۔
ریسرچرز نے چار ہزار ایسے بچوں پر تحقیق کی جو دن میں 9 گھنٹے نیند پوری کرتے ہیں۔
اسی طرح اس گروپ کا موازنہ چار ہزار ایسے بچوں سے کیا گیا جو کے 9 گھنٹوں سے کم سوتے ہیں۔
یہ تحقیق دو سال کے عرصے تک جاری رہی جس کے بعد نتیجہ یہ نکلا کہ جو بچے کم سوتے ہیں اُن کی ذہنی صحت اور رویے میں 9 گھنٹے نیند کرنے والے بچوں کی نسبت کافی مسائل سامنے آئے۔
ان مسائل میں ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی، جارحانہ رویہ اور سوچنے کی قابلیت پر پڑنے والے منفی اثرات شامل ہیں۔
ایسے بچے فیصلہ کرنے، معاملات کو سلجھانے، یاداشت رکھنے اور سیکھنے کے عمل میں بھی پیچھے ہیں۔
اس تحقیق سے یہ بات معلوم ہوئی کہ دماغ میں ہونے والی تبدیلیوں کی وجہ سے نیند نہ پوری کرنے والے بچے سیکھنے میں پیچھے رہ جاتے ہیں اور اُن کے رویوں میں تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔
یہ اے بی سی ڈی تحقیق ابھی جاری ہے اور ریسرچرز سمجھتے ہیں کہ آگے آنے والے نتائج مزید ایسے مواقعے پیدا کریں گے جس سے نیند نہ پوری ہونے سے دماغ پر پڑنے والے اثرات کو دیکھا جائے گا۔انڈیا کا نقشہ بدلنے کے لیے ایک شخص کو 58 دن بغیر کھانا کھائے گزارنا پڑے تھے۔
جب پوٹی سری رامولو نے اکتوبر 1952 میں بھوک ہڑتال شروع کی تو وہ ایک ایسے مطالبے کے لیے جدوجہد کر رہے تھے جس کی اُس وقت کے وزیرِ اعظم جواہر لعل نہرو بار بار مخالفت کر چکے تھے: تیلگو بولنے والوں کے لیے ایک الگ ریاست۔
سری رامولو ایک خاموش مزاج گاندھی کے ماننے والے تھے جو اس سے پہلے سماجی مقاصد کے لیے کئی بھوک ہڑتالیں کر چکے تھے۔ وہ یقین رکھتے تھے کہ صرف ان کی قربانی ہی دہلی کو سننے پر مجبور کر سکتی ہے۔ اور ایسا ہی ہوا۔
58ویں دن سری رامولو وفات پا گئے۔تیلگو بولنے والے علاقوں میں لوگ بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے۔ سرکاری عمارتوں پر حملے کیے گئے، ریلوے لائنیں بند کر دی گئیں اور اس کے بعد ہونے والے ہنگاموں میں متعدد افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ملیں۔
چند ہی دن بعد نہرو نے ریاست آندھرا کے قیام کا اعلان کر دیا۔
کچھ ہی برسوں میں ریاستوں کی تنظیمِ نو کا کمیشن وجود میں آیا اور انڈیا کی نئی تشکیل لسانی بنیادوں پر ہوئی۔
انفرادی احتجاج کی بہت کم مثالیں ہیں جنھوں نے کسی ملک پر اتنا گہرا اثر چھوڑا ہو۔
مؤرخ رام چندر گہا نے لکھا ہے کہ ’سری رامولو آج ایک فراموش شدہ شخصیت ہیں۔ یہ افسوس ناک بات ہے کیونکہ انھوں نے اپنے ملک کی تاریخ ہی نہیں بلکہ جغرافیے پر بھی کہیں زیادہ اثر ڈالا تھا۔‘
ایک شخص کا خالی پیٹ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی سرحدیں نئے سرے سے متعین کرنے میں مددگار ثابت ہوا تھا۔
شاید یہی وجہ ہے کہ سات دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے بعد بھی انڈیا میں لوگ فطری طور پر بھوک ہڑتال کا سہارا لیتے ہیں۔
اس کی تازہ مثال ماہرِ تعلیم اور ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک ہیں، جن کی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال نے ان کی تیزی سے بگڑتی صحت کے بارے میں تشویش بڑھا دی ہے۔
59 سالہ وانگچک صرف نمک والے پانی پر 19 دن گزار چکے ہیں۔ اس دوران ان کا وزن نو کلوگرام سے زیادہ کم ہو چکا ہے۔ وہ آن لائن طنزیہ تحریک کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی حمایت میں احتجاج کر رہے ہیں، جو تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کر رہی ہے۔
ان کی بھوک ہڑتال ختم کرنے کے مطالبات بڑھنے کے ساتھ دہلی ہائی کورٹ نے حکومت کو وانگچک کی صحت کی نگرانی کرنے اور ضرورت پڑنے پر علاج فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔
کسی بھی ملک نے بھوک ہڑتال کو اپنی سیاست کا اس انداز میں حصہ نہیں بنایا جس طرح انڈیا نے بنایا ہے۔
دنیا کے دیگر حصوں میں مظاہرین سڑکیں بند کرتے ہیں یا جلوس نکالتے ہیں۔
انڈیا میں بھی ایسا ہوتا ہے۔ لیکن یہاں لوگ کھانا بھی ترک کر دیتے ہیں۔
یہ روایت انڈیا کے قیام سے کئی صدیوں پہلے کی ہے۔
ہندو مت، بدھ مت اور جین مت سب رضاکارانہ ضبطِ نفس کو اخلاقی اہمیت دیتے ہیں۔
انڈیا کی تحریکِ آزادی کے رہنما مہاتما گاندھی نے اس قدیم روایت کو جدید سیاست میں بدل دیا۔
ان کا اصرار تھا کہ بھوک ہڑتال بلیک میلنگ نہیں بلکہ تکلیف برداشت کرنے کا ایسا عمل ہے جس کا مقصد کسی کو مجبور کرنا نہیں بلکہ بیدار کرنا ہے۔
1918 سے لے کر 1948 میں اپنے قتل تک گاندھی نے مذہبی تشدد، ذات پات کی بنیاد پر امتیاز اور سیاسی اختلافات کے خلاف بارہا بھوک ہڑتالیں کیں اور اسے انڈیا میں آزادی کی جدوجہدِ کی بڑی نشانیوں میں شامل کر دیا۔
ایک اندازے کے مطابق گاندھی نے کم از کم 15 بڑی بھوک ہڑتالیں کیں۔
ان کی طویل ترین بھوک ہڑتال 21 دن جاری رہی جبکہ جنوری 1948 میں ان کی آخری بھوک ہڑتال پانچ دن جاری رہی اور اس نے دہلی میں فرقہ وارانہ امن بحال کرنے میں مدد دی۔
گاندھی نے 1948 میں اپنی آخری بھوک ہڑتال سے قبل لکھا تھا کہ ’بھوک ہڑتال تلوار کی جگہ آخری ہتھیار ہے۔‘
جب 1947 میں مذہبی فسادات روکنے کے لیے گاندھی نے کلکتہ (موجودہ کولکتہ) میں بھوک ہڑتال کی تو برطانوی ملکیت کے اخبار سٹیٹس مین نے لکھا کہ ’سیاسی ہتھیار کے طور پر بھوک ہڑتال کی اخلاقیات کے بارے میں ہم کئی برسوں سے انڈیا کے اس سب سے معروف عمل کرنے والے شخص سے اتفاق نہیں کر سکے۔۔
’لیکن ہمارے نزدیک اپنے طویل کیریئر میں مہاتما گاندھی نے کبھی بھی اس سے زیادہ سادہ اور زیادہ باوقار مقصد کے لیے بھوک ہڑتال نہیں کی۔ نہ ہی کسی ایسے مقصد کے لیے جس کا فوری اور مؤثر انداز میں عوامی ضمیر پر اثر ڈالنے کا حساب لگایا گیا ہو۔‘
آزاد انڈیا نے یہ روایت ورثے میں پائی ہے۔ کسانوں کے حقوق، مثبت امتیازی اقدامات، ماحولیاتی تحفظ، انسدادِ بدعنوانی قوانین اور متنازع سکیورٹی قانون سازی کے خاتمے کے مطالبات کے لیے بھوک ہڑتالیں کی جا چکی ہیں۔
2011 میں سماجی کارکن انا ہزارے کی 13 روزہ بھوک ہڑتال نے ملک میں انسدادِ بدعنوانی کی ایک مہم شروع کی۔
اروم شرمیلا نے انڈیا کے شمال مشرق میں آرمڈ فورسز (سپیشل پاورز) ایکٹ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے 16 برس تک کھانا کھانے سے انکار کیا۔ وہ صرف اس لیے زندہ رہ سکیں کیونکہ حکام زبردستی ناک کی نالی کے ذریعے انھیں خوراک دیتے رہے۔
نمایاں سماجی کارکن میدھا پاٹکر نے بڑے ڈیم منصوبوں سے بے گھر ہونے والے لوگوں کے لیے مناسب معاوضے اور بحالی کا مطالبہ کرنے کی خاطر بارہا طویل بھوک ہڑتالیں کی ہیں۔
یونیورسٹی آف کنیکٹیکٹ کے ماہرِ بشریات ساینتن ساہا رائے کی حالیہ تحقیق بھوک ہڑتال کی سیاست کا جائزہ لیتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’بھوک ہڑتال احتجاج کی ایک عالمی شکل ہے۔ یہ صرف انڈیا تک محدود نہیں۔‘
یقیناً برطانوی سلطنت بھر میں بھوک ہڑتال نوآبادیاتی نظام کے خلاف مزاحمت کی ایک مشترکہ زبان بن کر ابھری۔ اسے برطانیہ میں حقِ رائے دہی کی حامی خواتین اور آئرلینڈ و انڈیا کے قوم پرستوں نے اپنایا۔
ساہا رائے کہتے ہیں کہ ’لیکن انڈیا میں حکومتیں بڑی حد تک جواب دہ نہیں ہوتیں۔ یہاں مظاہرین اکثر سمجھتے ہیں کہ اقتدار میں موجود لوگوں کو اقدام پر مجبور کرنے کا واحد طریقہ بھوک ہڑتال ہے۔‘
ان کے مطابق انڈیا میں بھوک ہڑتال کی خاص طور پر مضبوط روایت اس لیے موجود ہے کیونکہ گاندھی نے اسے ایک دیرپا اخلاقی اور سیاسی عمل میں بدل دیا تھا۔
’ذاتی مفاد پر مبنی سیاست کی دنیا میں قربانی کی یہ مثال نمایاں ہے۔ جیسے جیسے احتجاج کرنے والے کا جسم کمزور ہوتا ہے، اقتدار میں موجود لوگوں پر اخلاقی اور سیاسی دباؤ بڑھتا جاتا ہے۔‘
تاہم یہ دباؤ سامعین پر منحصر ہوتا ہے۔
ساہا رائے کہتے ہیں کہ ’اثر پیدا کرنے کے لیے بھوک ہڑتالوں کا نمایشی ہونا ضروری ہے۔ ان کا ہدف صرف ریاست نہیں بلکہ عوام بھی ہوتے ہیں، جن کا غصہ اقتدار میں موجود لوگوں پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔‘
وہ 1970 اور 1980 کی دہائیوں کی آئرش بھوک ہڑتالوں کی مثال دیتے ہیں۔
’یہ مظاہرین (آئرش ریپبلکن، جو مجرموں کے بجائے سیاسی قیدیوں کے طور پر تسلیم کیے جانے کا مطالبہ کر رہے تھے) اپنی تکلیف اور اپنی موت کو قبول کرنے کے ذریعے آئرش عوام کو متحرک کرنا چاہتے تھے۔ اس طرح بھوک ہڑتال کرنے والے کا جسم ریاست کی سختی کا ثبوت بن جاتا ہے۔
’لیکن اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ عوام ردِ عمل دیں گے اور یہی بات بھوک ہڑتال کو احتجاج کی ایک غیر یقینی شکل بناتی ہے۔‘
تاہم اپنی تمام اخلاقی طاقت کے باوجود بھوک ہڑتال تنقید سے کبھی بالاتر نہیں رہی۔
اگر گاندھی نے بھوک ہڑتال کو ایک اخلاقی ہتھیار کا درجہ دیا تو انڈیا کے عظیم رہنماؤں میں شمار ہونے والے بی آر امبیڈکر آزاد انڈیا میں اس کے بارے میں گہرا شکوک رکھتے تھے۔
1949 کی ایک اہم تقریر میں انھوں نے کہا کہ جب آئینی راستے موجود ہوں تو بھوک ہڑتال اور سول نافرمانی جیسے طریقوں کی جگہ جمہوری عمل کو اختیار کرنا چاہیے، ورنہ یہ انارکی میں بدل سکتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’جتنا جلد انھیں ترک کر دیا جائے، ہمارے لیے اتنا ہی بہتر ہے۔‘
یہ بحث کبھی ختم نہیں ہوئی۔
حالیہ برسوں میں ناقدین یہ سوال اٹھاتے رہے ہیں کہ کیا موت کا سبب بننے والی بھوک ہڑتال ایک آئینی جمہوریت میں جائز ہے؟
2011 میں انا ہزارے کی انسدادِ بدعنوانی بھوک ہڑتال کے دوران لکھتے ہوئے سیاسی فلسفی پرتاپ بھانو مہتا نے استدلال کیا کہ ایسے احتجاج ’شدید جبر آمیز‘ بن سکتے ہیں۔
انھوں نے لکھا کہ جب اسے ’بے مثال اخلاقی برتری‘ کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو ایسی بھوک ہڑتال ’بلیک میلنگ کے مترادف‘ ہو جاتی ہے۔
عوامی شکوک و شبہات بھی اسی مناسبت سے بڑھے ہیں۔
سوشل میڈیا ایسے لطیفوں سے بھرا ہوتا ہے جن میں سیاست دانوں کے بند دروازوں کے پیچھے کھانا کھانے یا اپنی ’بھوک ہڑتال‘ کا اختتام پُرتعیش ضیافتوں سے کرنے کا ذکر کیا جاتا ہے۔
کچھ بھوک ہڑتالیں صرف چند گھنٹے جاری رہتی ہیں جبکہ بعض کو بینرز، سٹیج اور براہِ راست ٹی وی کوریج کے ساتھ منصوبہ بندی کے تحت میڈیا کے بڑے مظاہرے کی شکل دی جاتی ہے۔
دوسرے لفظوں میں، ہر خالی پیٹ یکساں سیاسی وزن نہیں رکھتا اور تاریخ بھی اس کی تصدیق کرتی دکھائی دیتی ہے۔
سری رامولو کی موت نے خود وفاقی ڈھانچے کو نئی شکل دی۔
ہزارے کے احتجاج نے وقتی طور پر ملک گیر انسدادِ بدعنوانی تحریک کو متحرک کیا لیکن اس کی رفتار جلد ہی کم ہو گئی۔
شرمیلا مزاحمت کی ایک عالمی علامت بن گئیں تاہم جس قانون کی وہ مخالفت کر رہی تھیں، وہ برقرار رہا۔
دوسری جانب ڈاکٹر اکثر ان حالات سے غیر مطمئن ہوتے ہیں۔
دو ہفتے بغیر خوراک کے رہنے کے بعد جسم چربی کے ساتھ ساتھ پٹھوں کو بھی توڑنا شروع کر دیتا ہے۔
الیکٹرولائٹ کے توازن میں خرابی دل کی دھڑکن میں مہلک بے ترتیبی پیدا کر سکتی ہے۔
بہت جلد خوراک دوبارہ شروع کرنے سے بھی خطرات لاحق ہوتے ہیں۔
اس لیے ہر طویل بھوک ہڑتال ایک ہی وقت میں سیاسی احتجاج بھی ہوتی ہے اور طبی ایمرجنسی بھی۔
حکومتیں بھی یہ بات جانتی ہیں۔ بھوک ہڑتال کرنے والوں کو ہسپتال منتقل کر کے زبردستی خوراک دینا ایک عام عمل ہے۔
وانگچک کی جسمانی کمزوری نمایاں ہونے کے بعد اپوزیشن رہنما، کارکن، فنکار اور موسیقار پہلے ہی ان سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کر چکے ہیں۔
اس کے باوجود، شکوک و شبہات کے ماحول میں بھی انڈیا نے کبھی مکمل طور پر یہ خیال ترک نہیں کیا کہ رضاکارانہ تکلیف سیاست کو اس انداز میں متاثر کر سکتی ہے جس طرح تقاریر نہیں کر سکتیں۔
وانگچک کی بھوک ہڑتال بھی اسی روایت کی پیروی کرتی دکھائی دیتی ہے۔
ساہا رائے کہتے ہیں کہ ’اپنی تکلیف کے عوامی اظہار کے ذریعے وانگچک بظاہر گاندھی کے راستے پر چل رہے ہیں۔
’جیسے جیسے ان کی صحت بگڑتی ہے، ان کے احتجاج کو زیادہ توجہ ملتی ہے اور حکومت کے لیے سیاسی خطرات بڑھتے ہیں۔ یہ معاملہ آگے کیسے بڑھتا ہے، یہ ابھی دیکھنا باقی ہے۔‘
وانگچک کا خالی معدہ آخرکار لوگوں کی رائے بدلتا ہے یا محض ان قربانیوں کی طویل فہرست میں شامل ہو جاتا ہے جو اپنا مقصد حاصل نہ کر سکیں، اس سے نہ صرف ان کے احتجاج کا مستقبل بلکہ انڈیا کی قدیم ترین سیاسی رسومات میں سے ایک کی دیرپا طاقت کا بھی تعین ہو سکتا ہے۔
بھارت میں ٹرمپ اور امریکہ پر اعتماد میں کمی، 51 فیصد بھارتیوں نے ولادیمیر پوتن پر سب سے زیادہ بھروسہ ظاہر کیا
نئی دہلی : امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دوسرے صدارتی دور کے آغاز کے بعد بھارت میں امریکہ اور ٹرمپ کے بارے میں عوامی رائے میں نمایاں تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے۔ امریکی تحقیقی ادارے پِیو ریسرچ سینٹر کی تازہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران بھارتیوں کے درمیان امریکہ کے بارے میں مثبت سوچ میں واضح کمی آئی ہے، جبکہ روسی صدر ولادیمیر پوتن عالمی رہنماؤں میں سب سے زیادہ قابل اعتماد شخصیت کے طور پر سامنے آئے ہیں۔پِیو ریسرچ سینٹر کے سروے کے مطابق صرف 45 فیصد بھارتیوں نے امریکہ کے بارے میں مثبت رائے ظاہر کی، جب کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں اس میں نمایاں کمی درج کی گئی۔ دوسری جانب 31 فیصد بھارتیوں نے امریکہ کے بارے میں منفی رائے کا اظہار کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں، خصوصاً ٹیرف سے متعلق فیصلوں نے بھارت میں ان کی مقبولیت کو متاثر کیا ۔ صرف 18 فیصد بھارتیوں نے ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی کی حمایت کی۔
سروے کے مطابق عالمی معاملات میں درست فیصلے لینے کے حوالے سے بھی بھارتی عوام کا ٹرمپ پر اعتماد کم ہوا ہے۔ گزشتہ سال 52 فیصد بھارتیوں کو ٹرمپ پر اعتماد تھا، جو اس سال گھٹ کر 39 فیصد رہ گیا، جب کہ 36 فیصد افراد نے کہا کہ انہیں عالمی امور پر ٹرمپ کے فیصلوں پر اعتماد نہیں ہے۔اس کے برعکس روسی صدر ولادیمیر پوتن کو بھارتیوں نے سب سے زیادہ قابل اعتماد عالمی رہنما قرار دیا۔ سروے میں شامل 51 فیصد بھارتیوں نے پوتن پر اعتماد کا اظہار کیا۔ دیگر عالمی لیڈرو ں میں اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو پر 34 فیصد، فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون پر 33 فیصد، چین کے صدر شی جن پنگ پر 25 فیصد اور یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی پر 20 فیصد بھارتیوں نے اعتماد ظاہر کیا۔
رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا کہ 47 فیصد بھارتیوں کا ماننا ہے کہ امریکہ دیگر ممالک کے معاملات میں ضرورت سے زیادہ مداخلت کرتا ہے، جب کہ 30 فیصد اس رائے سے متفق نہیں تھے۔ سروے میں شامل کچھ افراد نے کسی سوال کا جواب نہیں دیا، اسی لیے تمام اعداد و شمار کا مجموعہ 100 فیصد نہیں بنتا۔اگرچہ بھارت میں امریکہ کے بارے میں مثبت رائے میں کمی آئی ہے، اس کے باوجود 36 ممالک کے مجموعی اوسط کے مقابلے میں بھارت کا رویہ نسبتاً زیادہ مثبت رہا۔ خاص طور پر چین کے مقابلے میں امریکہ کے لیے بھارتیوں کا رجحان اب بھی بہتر پایا گیا۔پِیو ریسرچ سینٹر کے مطابق دنیا بھر میں بھی امریکہ کی شبیہ کمزور ہوئی ہے۔ 8 فروری سے 13 مئی کے درمیان 36 ممالک میں کیے گئے سروے میں اوسطاً 57 فیصد بالغ افراد نے امریکہ کے بارے میں منفی رائے ظاہر کی، جبکہ امریکہ کے بارے میں مثبت سوچ 49 فیصد سے کم ہو کر 37 فیصد رہ گئی۔سروے میں شامل 36 ممالک میں 76 فیصد افراد نے کہا کہ انہیں ڈونالڈ ٹرمپ پر اعتماد نہیں کہ وہ عالمی معاملات میں درست فیصلے کریں گے، جبکہ صرف 23 فیصد نے ان پر اعتماد ظاہر کیا۔ بھارت میں ٹرمپ کی مختلف پالیسیوں کے حوالے سے منظوری کی شرح بھی محدود رہی۔ امیگریشن پالیسی کو 17 فیصد، ایران سے متعلق پالیسی کو 28 فیصد، یوکرین کے معاملے پر 26 فیصد، غزہ کے حوالے سے 18 فیصد اور گرین لینڈ سے متعلق پالیسی کو 23 فیصد بھارتیوں نے پسند کیا۔
رپورٹ میں پاکستان کا بھی ذکر کیا گیا، جہاں 82 فیصد افراد نے امریکہ کے بارے میں منفی رائے ظاہر کی، جب کہ 90 فیصد پاکستانیوں نے چین کے بارے میں مثبت رائے دی۔ اس کے برعکس بھارت میں چین کے بارے میں مثبت رائے گزشتہ سال کے 21 فیصد سے بڑھ کر 23 فیصد تک پہنچ گئی، لیکن امریکہ کے مقابلے میں چین کے لیے حمایت اب بھی محدود رہی۔