"خون سے کھیلنا بند کرو،" عاصم منیر کو مظاہرین کی سخت وارننگ ، PoK میں ہوگا ہر موت کا حساب
پاکستان مقبوضہ کشمیر میں مظاہروں میں شدت آ گئی ہے۔ مظاہرین نے پاکستانی فوج کو خبردار کیا ہے کہ وہ یہ خونی کھیل بند کرے۔ مظاہرین نے لاشوں کے ڈھیر پر بیٹھے منیر کو جواب دیا، اور مطالبہ کیا کہ پی او کے میں ہونے والی ہر موت کا حساب لیا جائے گا ۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے رہنماؤں نے صاف طور پر کہا ہے کہ جب تک مقتول مظاہرین کی لاشیں ان کے اہل خانہ کے حوالے نہیں کی جاتیں ہڑتال جاری رہے گی۔ گرفتار افراد کو رہا کر نے کی وراننگ بھی دی ہے۔
مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے جے اے اے سی کے رہنما سردار عمر نذیر کشمیری نے پاک فوج اور پی او کے انتظامیہ پر سنگین الزامات لگائے۔ انہوں نے کہا کہ مظاہرین کے ساتھ وحشیانہ سلوک کیا گیا اور اس کارروائی کے ذمہ داروں کا ایک دن احتساب ہوگا۔لاش سونپنے اور رہائی کی مانگ
اب تحریک کا بنیادی مطالبہ ہلاک ہونے والوں کی لاشیں ان کے لواحقین کے حوالے کرنا ہے۔ گرفتار مظاہرین کی فوری رہائی کا بھی مطالبہ ہے۔ پی او کے کے کئی علاقوں میں احتجاج اور مظاہرے جاری ہیں۔
سردار عمر نذیر کشمیری نے کہا کہ ان کے ساتھیوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بہت سے لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے اور ابھی تک ان کا پتہ نہیں چل سکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام مطالبات کی منظوری تک تحریک جاری رہے گی۔
فوج اور انتظامیہ کو وارننگ
JAAC رہنما نے پاکستان آرمی اور PoK انتظامیہ کو خبردار کیا کہ وہ خون سے کھیلنا بند کریں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ طاقت کے ذریعے تحریک کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ان کے بقول یہ لڑائی اب صرف احتجاج نہیں بلکہ ہلاک ہونے والوں کو انصاف دلانے کے لیے ہے۔ یہ حراست میں لیے گئے افراد کی رہائی کی لڑائی بن گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مظاہرین کا خون بہانے والوں کو ایک دن جواب دینا پڑے گا۔
ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان
احتجاجی رہنماؤں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ متحد رہیں اور تحریک کو مضبوط کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ دھرنا اس وقت تک جاری رہے گا جب تک مقتولین کو انصاف نہیں مل جاتا۔ انہوں نے تمام حراست میں لیے گئے افراد کی بحفاظت واپسی کی مانگ کی اور خبردار کیا ہے کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو وہ احتجاج میں شدت پیدا کریں گے۔
سونم وانگچک کو 20 روزہ بھوک ہڑتال کے بعد پولیس لے گئی اسپتال ،مظاہرین سے جبراً جنتر منتر بھی کرایا خالی
قومی دارالحکومت دہلی کے تاریخی احتجاجی مقام جنتر منتر سے ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے۔ نیٹ (NEET) پیپر لیک معاملے میں مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے گزشتہ 20 دنوں سے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر بیٹھے معروف ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کو اتوار کی صبح دہلی پولیس نے احتجاجی مقام سے اسپتال منتقل کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق ان کی طبیعت مسلسل خراب ہونے کے باعث انہیں فوری طور پر اسپتال میں داخل کرانا ضروری ہو گیا تھا۔
بھاری پولیس نفری کی تعیناتی
ذرائع کے مطابق اتوار کی علی الصبح دہلی پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بھاری نفری جنتر منتر پہنچی اور پورے علاقے کو اپنے گھیرے میں لے لیا۔ پولیس کی اچانک کارروائی کے باعث احتجاجی مقام پر افراتفری اور کشیدگی کی صورتحال پیدا ہو گئی۔
صحت بگڑنے پر اسپتال منتقل
پولیس حکام کے مطابق سونم وانگچک گزشتہ تقریباً تین ہفتوں سے سخت بھوک ہڑتال پر تھے، جس کی وجہ سے ان کی صحت انتہائی تشویشناک ہو گئی تھی۔ ڈاکٹروں کی نگرانی میں یہ بھی معلوم ہوا کہ طویل بھوک ہڑتال کے سبب ان کا وزن 9 کلوگرام سے زیادہ کم ہو چکا تھا اور جسم کے کئی اہم اعضا متاثر ہونے کے خدشات پیدا ہو گئے تھے۔
طبی ایمرجنسی کا حوالہ
طبی ایمرجنسی اور قانون و انتظام کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے پولیس نے صبح سویرے سونم وانگچک کو ایمبولینس کے ذریعے قریبی سرکاری اسپتال منتقل کر دیا، جہاں ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم ان کا معائنہ اور علاج کر رہی ہے۔
جنتر منتر مکمل طور پر خالی
پولیس کی کارروائی صرف وانگچک کو اسپتال لے جانے تک محدود نہیں رہی۔ جیسے ہی انہیں احتجاجی مقام سے ہٹایا گیا، وہاں موجود لداخ کے سیکڑوں حامیوں اور دیگر مظاہرین نے پولیس کے خلاف شدید احتجاج کیا اور نعرے بازی شروع کر دی۔ حالات کشیدہ ہوتے دیکھ کرپولیس نے سخت کارروائی کرتے ہوئے متعدد مظاہرین کو حراست میں لے لیا جبکہ دیگر کو موقع سے ہٹا کر جنتر منتر کو مکمل طور پر خالی کرا دیا۔
مظاہرین اور پولیس کے دعوے
مظاہرین کا الزام ہے کہ انتظامیہ ایک پرامن اور جمہوری احتجاج کو طاقت کے زور پر ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی صرف عوامی سلامتی اور قانون و انتظام برقرار رکھنے کے لیے کی گئی ہے۔
شوشل میڈیا کے ذریعے فروغ اردو کے امکانات
مہاراشٹر اردو اکادمی کی جانب سے 21 جولائی بروز منگل صبح ساڑھے دس تا شام ساڑھے چار بجے تک
اردو گھر مالیگاؤں میں تین مختلف سیشن میں ایک صوبائی سینمار منعقد کیا گیا ہے جس میں بیرونی و مقامی مقررین سوشل میڈیا کے ذریعے فروغ اردو کے امکانات اِس عنوان پر اظہار خیال فرمائیں گے
اردو اکادمی کے ذریعے ہمیشہ مقامی خادمین اردو کی پذیرائی کتابوں کی اشاعت و انعامات تقریبات کا انعقاد ودیگر سلسلہ جاری رہتا ہے ماضی میں شہر عزیز مالیگاؤں سے ہمیشہ ایک رکن بطور نمائندہ شامل رہا کرتا تھا اکاڈمی شہر میں مزید تقریبات کا انعقاد کرے اور ادباء کی اعانت تو اِس کے لیے اس تقریب میں پرُ جوش شرکت فرما کراس با مقصد پروگرام کا حصہ بنیں - اور فروغ اردو سے متعلق بیداری کا مظاہرہ کریں سینمار کے شرکا کو ریاستی حکومت کا سرٹیفکیٹ بھی دیا جائے گا منتظمین نے شرکت کی پرُ خلوص گزارش کی ہے بالخصوص شعراء قلمکاران، صحافیوں، اردو اساتذہ محققین، طلباء باذوق اردو دانوں سے