گجرات میں اینٹی ریڈیکلائزیشن سیلز کا آغاز، خفیہ ایس او پی پر فرقہ وارانہ پروفائلنگ کے الزامات، حقوق انسانی کے کارکنوں نے کہا مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی ہورہی ہے سازش
احمد آباد: گجرات حکومت نے ریاست بھر کے اضلاع اور پولیس کمشنریٹوں میں اینٹی ریڈیکلائزیشن سیلز (ARC) کو فعال کر دیا ہے۔ ریاستی انٹیلی جنس بیورو (SIB) کی جانب سے جاری ایک خفیہ اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (SOP) کے تحت پولیس کو سوشل میڈیا، انکرپٹڈ میسجنگ ایپس، مذہبی تنظیموں اور بعض رویوں کی نگرانی کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس اقدام پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور سماجی کارکنوں نے شدید اعتراض کرتے ہوئے اسے مسلمانوں کی ’’ادارہ جاتی فرقہ وارانہ پروفائلنگ‘‘ قرار دیا ہے۔ تقریباً دو ماہ قبل جاری کیے گئے خفیہ ایس او پی کے بعد جام نگر پولیس نے سب سے پہلے ضلع میں اینٹی ریڈیکلائزیشن سیل کو باضابطہ طور پر فعال کیا ہے۔ پولیس سب انسپکٹر ایم وی مودھواڈیا کو اس سیل کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر روی موہن سینی اس کی نگرانی کریں گے۔ دستاویز کے مطابق ریاست کے تمام اضلاع میں ایسے سیلز قائم کیے جائیں گے اور ہر ماہ ان کی کارکردگی کی رپورٹ ریاستی انٹیلی جنس بیورو کو ارسال کرنا لازمی ہوگی۔ایس او پی میں نگرانی کے وسیع اختیارات
ایس او پی میں پولیس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، آن لائن فورمز، ٹیلی گرام، سگنل، ایلیمنٹ جیسی انکرپٹڈ ایپس، وی پی این کے استعمال اور بعض مذہبی و سماجی سرگرمیوں پر نظر رکھے۔ دستاویز میں بعض رویوں کو ممکنہ انتہاپسندی کی علامات قرار دیا گیا ہے، جن میں اچانک داڑھی رکھنا، نقاب پہننا، عربی الفاظ کا زیادہ استعمال، خاندان اور دوستوں سے دوری، دنیا بھر میں مسلمانوں سے متعلق واقعات پر شدید ردعمل، شدت پسند تنظیموں کی تعریف اور بیرونِ ملک سفر کے بعد رویوں میں تبدیلی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بعض کیمیکلز کی خریداری، کرپٹو کرنسی کا استعمال، افغانستان یا پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں موجود افراد سے انکرپٹڈ رابطے اور مخصوص مذہبی سرگرمیوں کو بھی نگرانی کے دائرے میں رکھا گیا ہے۔
حقوقِ انسانی تنظیموں کا سخت اعتراض
سماجی کارکن شبنم ہاشمی نے ایس او پی کو آئین کی بنیادی روح کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں عام مسلم مذہبی شناخت اور مذہبی معمولات کو بھی مشتبہ سرگرمیوں سے جوڑ دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق داڑھی، نقاب، عربی سلام، اعتکاف یا مسلمانوں کے مسائل پر اظہارِ رائے کو انتہاپسندی کی علامت قرار دینا آئین میں دی گئی مساوات، مذہبی آزادی، اظہارِ رائے اور رازداری کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر انتہاپسندی کی نگرانی مقصود ہے تو گئو رکشا کے نام پر تشدد، دھرم سنسد میں نفرت انگیز تقاریر اور دیگر شدت پسند سرگرمیوں کا ایس او پی میں کوئی ذکر کیوں نہیں کیا گیا۔
آئینی جانچ اور رول بیک کا مطالبہ
اقلیتی رابطہ کمیٹی (Minority Coordination Committee) کے کنوینر مجاہد نفیس نے بھی حکومت سے اس ایس او پی کو فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’ریڈیکل‘‘ اور ’’ریڈیکل تنظیم‘‘ جیسی اصطلاحات کی کوئی واضح قانونی تعریف موجود نہیں، جس کے باعث ان کا غلط استعمال ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے مناسب جواب نہ دیا تو معاملہ گجرات ہائی کورٹ میں اٹھایا جائے گا۔ دوسری جانب سی پی آئی (ایم) کے راجیہ سبھا رکن جان برٹاس نے بھی گجرات کے وزیراعلیٰ کو خط لکھ کر اس ایس او پی پر عمل درآمد روکنے اور اس کا آزادانہ جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
بی جے پی کے انتخابی وعدے پر عمل
واضح رہے کہ اینٹی ریڈیکلائزیشن سیل کے قیام کا وعدہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے 2022 کے گجرات اسمبلی انتخابات کے منشور میں کیا تھا۔ پارٹی نے اقتدار میں واپسی پر انتہاپسندی، دہشت گردی، سلیپر سیلز اور ملک مخالف سرگرمیوں کے خلاف خصوصی نظام قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ریاستی حکومت نے 2026 میں اس منصوبے کے لیے 139 نئی اسامیوں کی منظوری دی، جبکہ جون 2026 میں خفیہ ایس او پی جاری کرکے اس پر عمل درآمد کا آغاز کر دیا گیا۔ تاہم اس پالیسی نے قومی سلامتی اور شہری آزادیوں کے درمیان توازن کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
بھوک ہڑتال ہوگی ختم یا احتجاج رہے گا جاری؟ کیا راکھی ساونت کی پیشکش پر آمادہ ہوں گے سونم وانگچک؟
مسابقتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف دہلی کے جنتر منتر پر بھوک ہڑتال کرنے والے سماجی کارکن سونم وانگچک کی بگڑتی ہوئی صحت نے تشویش بڑھا دی ہے۔ ایک طرف اس معاملے پر عدالت سے مداخلت کی درخواست کی جا رہی ہے، تو دوسری جانب اداکارہ راکھی ساونت کے بیان نے بھی اس معاملے کو نئی بحث میں لا کھڑا کیا ہے۔ نیٹ (NEET) امتحان تنازع کے خلاف 28 جون سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے سونم وانگچک کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ اسی دوران راکھی ساونت نے ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے ان سے جذباتی انداز میں اپیل کی کہ وہ اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود دہلی جا کر اپنے ہاتھوں سے انہیں آم کا رس یا لیموں پانی پلا کر ان کا انشن ختم کرائیں گی۔
راکھی ساونت کی ویڈیو وائرل
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں راکھی ساونت نے سونم وانگچک کی صحت پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں دوسروں کے لیے اپنی جان خطرے میں نہیں ڈالنی چاہیے کیونکہ ان کی زندگی بے حد قیمتی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ جنتر منتر پہنچ کر ذاتی طور پر ان سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی درخواست کریں گی۔
عدالت میں بھی مداخلت کی درخواست
دوسری جانب سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال کا آج 18واں دن ہے اور میڈیا رپورٹس کے مطابق ان کا وزن تقریباً 8.5 کلوگرام کم ہو چکا ہے۔ ان کی بگڑتی ہوئی صحت کے پیش نظر دہلی ہائی کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ انہیں فوری طور پر سرکاری اسپتال منتقل کیا جائے اور ضرورت پڑنے پر طبی نگرانی میں خوراک دی جائے۔ درخواست گزار نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بروقت مداخلت نہ ہونے کی صورت میں ان کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
مطالبات پر قائم ہیں وانگچک
سونم وانگچک مبینہ امتحانی بے ضابطگیوں کے معاملے میں مرکزی وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور اسی مطالبے کے حق میں بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہیں۔ راکھی ساونت سے قبل اداکار نصیرالدین شاہ اور مصنفہ اروندھتی رائے بھی وانگچک سے صحت کے پیش نظر اپنا انشن ختم کرنے کی اپیل کر چکے ہیں۔
اسپین نے فرانس کو دو-صفر سے شکست دے کر فیفا عالمی کپ کے فائنل میں بنائی جگہ، ایمباپے کا خواب چکنا چور
نئی دہلی: فیفا ورلڈ کپ 2026 کے پہلے سیمی فائنل میں اسپین نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرانس کو دو-صفر سے شکست دے کر فائنل میں اپنی جگہ پکی کر لی۔ اس شکست کے بعد فرانس کی ٹیم اب تیسری پوزیشن کے لیے دوسرے سیمی فائنل میں شکست کھانے والی ٹیم کے خلاف میدان میں اترے گی۔ ورلڈ کپ کی تاریخ میں یہ دوسرا موقع ہے جب اسپین فائنل میں پہنچا ہے۔ اس سے قبل 2010 میں اسپین نے نہ صرف فائنل تک رسائی حاصل کی تھی بلکہ عالمی خطاب بھی اپنے نام کیا تھا۔ اب ایک بار پھر ہسپانوی ٹیم کے پاس عالمی چیمپئن بننے کا سنہری موقع ہے۔
پہلے ہاف میں اویارزابال نے پنالٹی پر دلائی برتری
میچ کے آغاز میں فرانس نے جارحانہ انداز اپنایا اور کِیلیان ایمباپے نے اسپین کے دفاع پر مسلسل دباؤ ڈالنے کی کوشش کی، لیکن پہلا گول اسپین کے حصے میں آیا۔ 19 سالہ لامین یامال کو روکنے کی کوشش میں فرانسیسی مدافع لوکاس ڈینے نے فاؤل کیا، جس پر اسپین کو پنالٹی ملی۔ میچ کے 22ویں منٹ میں میکل اویارزابال نے پنالٹی کو کامیابی سے گول میں تبدیل کرتے ہوئے اسپین کو 1-0 کی برتری دلا دی۔ اس کے بعد فرانس نے برابر کرنے کی بھرپور کوشش کی، مگر اسپین کا مضبوط دفاع اس کے راستے میں دیوار بن گیا۔
دوسرے ہاف میں اسپین کا مکمل غلبہ
وقفے کے بعد اسپین نے کھیل پر اپنی گرفت مزید مضبوط کر لی۔ میچ کے 58ویں منٹ میں پیڈرو پورو نے شاندار گول اسکور کرکے اسپین کی برتری دو-صفر کر دی۔ دو گول سے پیچھے ہونے کے بعد فرانس نے واپسی کی کوشش میں ڈیزائرے دوئے اور ریان چرکی کو میدان میں اتارا، تاہم یہ تبدیلیاں بھی ٹیم کو کوئی فائدہ نہ پہنچا سکیں۔ کیلین ایمباپے نے متعدد مواقع پر اسپین کے دفاع کو توڑنے کی کوشش کی، لیکن ہر بار اسپین کے گول کیپر اونائی سیمون نے عمدہ سیوز کرتے ہوئے فرانس کو گول کرنے سے روک دیا۔ مقررہ 90 منٹ کے اختتام تک فرانس کوئی گول نہ کر سکا اور اسپین نے دو-صفر کی کامیابی کے ساتھ فائنل کا ٹکٹ حاصل کر لیا۔ اسپین اب عالمی اعزاز کے لیے فائنل میں ارجنٹینا اور انگلینڈ کے درمیان کھیلے جانے والے دوسرے سیمی فائنل کے فاتح کا سامنا کرے گا، جبکہ فرانس تیسری پوزیشن کے لیے ایک بار پھراپنی قسمت آزمائے گا۔