نوئیڈا کے چھجارسی میں 11 کے وی بجلی کا تار ٹوٹ کر گرنے سے پانچ افراد جھلسے، ایک کی حالت تشویشناک
نئی دہلی: اتر پردیش کے نوئیڈا کے چھجارسی گاؤں میں جمعرات کو ایک بڑا حادثہ پیش آیا، جہاں سڑک کے اوپر سے گزرنے والی 11 کے وی ہائی ٹینشن بجلی لائن کا تار اچانک ٹوٹ کر نیچے گر گیا۔ اس حادثے میں پانچ افراد بری طرح جھلس گئے، جن میں ایک کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جبکہ ایک اسکوٹی مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گئی۔یہ واقعہ نوئیڈا کے سیکٹر-63 تھانہ علاقے میں پیش آیا۔ عینی شاہدین کے مطابق لوگ معمول کے مطابق سڑک سے گزر رہے تھے کہ اچانک ہائی ٹینشن لائن کا تار ٹوٹ کر زمین پر آ گرا۔ تار کے زمین پر گرتے ہی اس میں دوڑنے والے کرنٹ کی زد میں آ کر کئی افراد شدید زخمی ہو گئے، جب کہ علاقے میں بھگدڑ مچ گئی۔ مقامی لوگوں نے فوری طور پر زخمیوں کو محفوظ مقام پر منتقل
کیا اور پولیس و ایمبولینس کو اطلاع دی، جس کے بعد زخمیوں کو اسپتال پہنچایا گیا، جہاں ایک شخص کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔حادثے کے بعد مقامی باشندوں نے بجلی محکمہ پر سنگین لاپرواہی کا الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ علاقے میں بجلی کی لائنوں کی مناسب دیکھ بھال اور وقتاً فوقتاً معائنہ نہیں کیا جاتا، جس کے باعث اس طرح کے حادثات پیش آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر بروقت مرمت اور بڑھتے ہوئے بوجھ کے مطابق نظام کو مضبوط بنایا جاتا تو اس حادثے سے بچا جا سکتا تھا۔مقامی رہائشیوں نے بتایا کہ جب یہ بجلی کی لائنیں نصب کی گئی تھیں، اس وقت علاقے کی آبادی بہت کم تھی، لیکن اب آبادی میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے، جبکہ بجلی کے نظام اور تاروں کی گنجائش میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ مقامی شہری سونو نے کہا کہ اس سے قبل بھی اس نوعیت کے کئی واقعات پیش آ چکے ہیں، لیکن مستقل حل کی جانب کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا گیا۔
لوگوں کا کہنا ہے کہ ہر بار شکایات کے باوجود محکمہ صرف عارضی مرمت کر کے معاملہ ختم کر دیتا ہے۔ اس واقعے کے بعد ایک بار پھر سوال اٹھ رہے ہیں کہ آخر 11 کے وی جیسی ہائی ٹینشن لائن کا تار اچانک کیسے ٹوٹ گیا؟ کیا بجلی کی لائنوں کے معائنے اور دیکھ بھال میں غفلت برتی گئی؟فی الحال پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہے، جبکہ مقامی باشندوں نے ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی اور بجلی کے نظام میں مستقل اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک حادثات سے بچا جا سکے۔
ایران نے بحرین میں امریکی اڈوں پر اب تک کا سب سے بڑا حملہ کیا، مزید کارروائی کی دھمکی
نئی دہلی:ایران کے حملے نے پوری دنیا میں ایک نئی اور انتہائی خطرناک جنگ جیسی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ ایران نے یہ سخت قدم بدھ کو امریکہ کی طرف سے کیے گئے دو بڑے، بیک ٹو بیک فضائی حملوں کے جواب میں اٹھایا۔ جمعرات کو ایران نے بحرین میں واقع بڑے امریکی فوجی اڈوں پر اب تک کا سب سے خوفناک حملہ کیا۔ اس خوفناک اور اچانک انتقامی حملے نے پورے مشرق وسطیٰ کو ہلا کر رکھ دیا ہے، تناؤ کو ابلتے ہوئے مقام پر دھکیل دیا ہے۔ایران کی سب سے طاقتور فوجی تنظیم IRGC کے ترجمان نے امریکہ کو ایک سخت، کھلا انتباہ جاری کیا ہے۔ بریگیڈیئر جنرل محبی نے واضح کیا کہ یہ ان کی جوابی فوجی مہم کا محض ابتدائی مرحلہ ہے۔ ان کا بنیادی مقصد خلیجی خطے میں امریکی جارحانہ فوجی انفراسٹرکچر کو مستقل طور پر ختم کرنا ہے۔
ایک بار جب یہ تباہ کن کام مکمل ہو جائے گا، ایران اگلا، کہیں زیادہ خطرناک مرحلہ شروع کر دے گا، جو یقینی طور پر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والا ہے۔دوسری جانب ایرانی بری فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل اکرمی نیا نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اہم بین الاقوامی آبی گزرگاہ اس وقت تک بند رہے گی جب تک امریکہ ایران کی تین بنیادی شرائط تسلیم نہیں کرتا۔ ان شرائط میں دونوں ممالک کے درمیان طے شدہ مفاہمتی یادداشت (MoU) پر عمل درآمد، تمام جارحانہ سرگرمیوں کا خاتمہ اور ایران کے مقرر کردہ ضوابط کی پابندی شامل ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ ان شرائط کی تکمیل تک کسی بھی بحری جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ آبی راستہ دنیا میں تیل کی ترسیل کے اہم ترین راستوں میں شمار ہوتا ہے، اس لیے اس کی بندش نے عالمی توانائی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ادھر امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی بحری اور فوجی صلاحیتوں کو محدود کرنے کے لیے ایرانی اہداف پر حملے جاری ہیں، جب کہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیوں نے پورے خطے میں ایک وسیع تر تصادم کے خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہ ہے کہ موجود صورتحال میں امریکہ کے ساتھ رابطے میں ہیں، امن عمل کی کبھی موت نہیں ہوتی اور پاکستان نے ابھی ایران امریکہ مفاہمت سے ہاتھ نہیں اٹھائے۔
جمعرات کو اسلام آباد میں بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ برگن سٹاخ بات چیت امن عمل کے ایک ٹیمپلیٹ کے طور پر سامنے آیا، جب بھی فریقین تناؤ میں کمی کی ضرورت محسوس کرتے ہیں وہ دوبارہ اس امن عمل کے ٹیمپلیٹ میں شریک ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اسلام آباد مفاہمت ابھی بھی ایک جاری عمل ہے، اور ہمارا موقف واضح ہے کہ مذاکرات ہونے چاہییں اور امن عمل کو ایک موقع ملنا چاہیے، اسلام اباد مفاہمت میں ہم اعلی ترین سطح پر رابطے میں ہے۔‘ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے 8 جولائی کو خطے میں جاری کشیدگی کی مذمت کی، پاکستان یقین رکھتا ہے کہ ڈائیلاگ اور ڈپلومیسی کا کوئی نعمل بدل نہیں۔
ان کے بقول اسلام آباد ایم او کو کو چیلنجز کا سامنا ہے اور پاکستان فریقین کے ساتھ رابطے میں ہے کہ مسائل کا پر امن حل نکلا جائے۔
طاہر اندرابی نے کہا کہ وزیراعظم نے اس بابت امیر قطر سے ٹیلیفونک گفتگو بھی کی، اسی دن وزیراعظم نے ایرانی صدر سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، اور انہوں نے کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا۔
12 جولائی کو اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ رابطہ کیا، اور 13 جولائی کو اسحاق ڈار نے سعودی وزیر خارجہ کے ساتھ رابطہ کیا تھا۔