*اقتدار کے نشے میں چور اختر آباد 80 فٹی روڈ عوام کی چِیخ و پُکار پر بھی خاموشی*
مالیگاؤں شہر کی مشہور اختر آباد 80 فٹی روڈ آج عوام کے لیے زحمت بن چکی ہے "قوم کا درد" اور "وکاس" کے بڑے بڑے نعرے لگانے والے نمائندے اقتدار کے نشے میں مَست ہیں مگر عوام بارش کے گھڑوں اور کیچڑ میں ڈُوب رہی ہے بارش ہوتے ہی پوری سڑک تالاب بن جاتی ہے جگہ جگہ بڑے بڑے گھڑے ہیں ٹووہیلر، رکشا ،گاڑی والے روز گر کر زخمی ہو رہے ہیں کیچڑ اور پِھسلن کی وجہ سے روزانہ چھوٹے بڑے حادثات ہو رہے ہیں اسکول جانے والے بچے، بوڑھے اور خواتین سب سے زیادہ پریشان ہیں کارپوریشن پر اقتدار ہونے کے باوجود ایک مہینے سے اختر آباد کی عوام اخبارات اور سوشل میڈیا پر گزارش کررہی ہے مگر کوئی سننے والا نہیں کم از کم عارضی طور پر گھڑوں میں مٹی یا مورم ہی ڈلوا دیں تاکہ لوگوں کو راحت ملے مگر "وِکاس" کا نعرہ لگانے والوں نے اس طرف پَلٹ کر بھی نہیں دیکھا جن کو عوام نے خِدمت کے لیے چُنا تھا وہ آج فوٹو سیشن اور جَلسوں میں مصروف ہیں زمینی حقائق سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں ہم ہر سال پراپرٹی ٹیکس، پانی کا بل دیتے ہیں بدلے میں ہمیں ٹوٹی پھوٹی سڑک اور کیچڑ ملتا ہے؟ جب ووٹ مانگنے آئیں گے تو بڑے بڑے وعدے ہوں گے آج جب ضرورت ہے تو نمائندے غائب ہیں کیا کارپوریشن کے افسران اور منتخب نمائندوں کو اس روڈ پر چلنے والے عوام کی تکلیف نظر نہیں آ رہی؟ اختر آباد کی عوام کا کارپوریشن اور کارپوریٹر اور لیڈران سے مطالبہ ہے کہ انتظامیہ سے فوری طور پر روڈ کے گھڑوں کو مورم وغیرہ سے بھرا جائے روڈ کی جلد سے جلد تعمیر کی جائے جائے۔
چناب اور جہلم کا پانی ہو جائے سرخ ، منیر نے PoK میں کرلی قتل عام کی تیاری ، خفیہ رپورٹ میں دعویٰ
پاکستان مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری عوامی احتجاج اب بے قابو ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ اس نے پاکستانی حکومت بالخصوص فیلڈ مارشل عاصم منیر کو بے چین کر دیا ہے۔ 5 جون سے پاکستانی فوج ان مظاہروں کو کچلنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار دکھائی دیتی ہے۔ پولیس اور فوج کی بربریت سے اب تک 24 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں اور اب فوج کا منصوبہ انتہائی خطرناک ہے۔ منیر کی ایکشن بریگیڈ نے دریائے چناب اور جہلم کو خون سے سرخ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔
خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس کے ذریعے حاصل کردہ انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق عاصم منیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کے رہنماؤں کو اپنے لیے کانٹا سمجھتے ہیں۔ چنانچہ وہ تحریک کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے اس اعلیٰ قیادت کو ختم کرنے کی حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں ۔ JAAC پاکستانی نظام کے خلاف PoK کے لوگوں کی جانب سے سڑکوں پر نکل آیا ہے۔ مہنگائی، سیاسی امتیاز، اقلیتوں کے خلاف مظالم اور انتظامی نظر اندازی جیسے مسائل کو حل کرنے والی یہ تحریک مسلسل زور پکڑ رہی ہے اور بین الاقوامی سرخیاں حاصل کرنے لگی ہے۔ یہی بات عاصم منیر کے درد کی وجہ بن رہی ہے۔منیر احتجاج سے پریشان
JAAC رہنما بار بار کی وارننگ اور دھمکیوں کے باوجود پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی آرمی چیف عاصم منیر کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے۔ وہ پاکستانی حکومت پر بھی دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ JAAC کے کسی بھی مطالبے کو تسلیم نہ کرے۔ منیر خود بھی اس معاملے سے کافی پریشان ہیں، کیونکہ یہ بین الاقوامی بحث کا موضوع بن چکا ہے۔ جب کہ وہ دنیا کو دکھانا چاہتے ہیں کہ PoK میں سب کچھ نارمل ہے۔
JAAC کی اعلیٰ قیادت کو ختم کرنے کا منصوبہ
گزشتہ ملاقاتوں میں منیر نے سیکورٹی فورسز کو تحریک کو کچلنے کے لیے طاقت کا وحشیانہ استعمال کرنے کی سخت ہدایات دی تھیں۔ اب، انٹیلی جنس یہ بھی بتارہی ہیں کہ پورے معاملے کو ختم کرنے کے لیے JAAC کے سرکردہ رہنماؤں کو نشانہ بنانے اور مارنے کی تیاریاں جاری ہیں۔ پاکستانی فوج پہلے بھی ایسا کر چکی ہے اور اس بار بھی کشمیریوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگنے کی کوشش کر رہی ہے۔ JAAC لیڈر اس خطرے سے بخوبی واقف ہیں۔ ایسے میں انہوں نے عوام سے جذباتی اپیل کی ہے کہ تمام رہنما مارے جائیں تب بھی تحریک نہیں رکنی چاہیے۔
برطانیہ کے ساتھ ہندوستان کا بڑا داو! پاکستان کے 38 ملین ڈالر کے ایکسپورٹ پر چھایا خطرہ
برطانیہ اور ہندوستان کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ (FTA) آج 15 جولائی سے نافذ ہو گیا ہے۔ اس سے ہندوستانی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو بڑا فائدہ ملنے کی امید ہے۔ اس معاہدے کے تحت ہندوستان کی 1,143 ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی مصنوعات اب برطانیہ کی مارکیٹ میں بغیر کسی ڈیوٹی کے پہنچ سکیں گی۔ پہلے ہندوستانی برآمد کنندگان کو 12 فیصد تک ڈیوٹی ادا کرنی پڑتی تھی، جبکہ پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے ممالک کو پہلے ہی ڈیوٹی فری سہولت حاصل تھی۔ اب ہندوستان کو بھی یہی فائدہ ملنے سے مارکیٹ میں مقابلے کی صورتحال بدل سکتی ہے۔
کئی مارکیٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کا اثر صرف ہندوستان تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے ممالک کی برآمدات پر بھی پڑ سکتا ہے۔ خاص طور پر ٹیکسٹائل، ہوم ٹیکسٹائل اور چاول جیسے شعبوں میں ہندوستان کی پوزیشن پہلے سے زیادہ مضبوط ہونے کا امکان ہے۔برطانیہ کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی مارکیٹ تقریباً 28.8 ارب ڈالر کی ہے، جبکہ ہندوستان کی عالمی ٹیکسٹائل برآمدات تقریباً 37 ارب ڈالر ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ہندوستانی کمپنیاں بہتر معیار، بروقت سپلائی اور مسابقتی قیمت برقرار رکھتی ہیں تو ہندوستان برطانیہ کی مارکیٹ میں اپنا حصہ تیزی سے بڑھا سکتا ہے۔