محترم بنکر بھائیو!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
جیسا کہ آپ سب بخوبی واقف ہیں کہ اس وقت ہماری مالیگاؤں کی تاریخی پاور لوم صنعت انتہائی نازک اور سنگین دور سے گزر رہی ہے۔ حالات دن بدن دیگر گوں اور بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ عالمی سطح پر ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگی ماحول نے خام تیل (Crude Oil)، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچا دیا ہے، جس کی وجہ سے امپورٹ اور ایکسپورٹ (درآمدات و برآمدات) بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
اس کا براہِ راست اور مہلک اثر ہماری ٹیکسٹائل انڈسٹری پر پڑا ہے۔ یارن (سوت) کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ دوسری طرف کپڑے کے دام گرتے جا رہے ہیں۔ لاگت زیادہ اور منافع نہ ہونے کے برابر ہے، جس کی وجہ سے نقصان کا ریشو (تناسب) روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔
انہی پریشان کن حالات کے پیشِ نظر، مالیگاؤں اور بالخصوص **تانبہ کانٹا** کے متعدد بنکر حضرات نے مجھ سے رابطہ کیا اور موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایک اہم رائے پیش کی کہ آنے والے مبارک تہوار **عید الاضحیٰ (بکر عید)** پر جو کاروبار بند رکھا جاتا ہے، اسے اس بار لمبا رکھا جائے تاکہ نقصان سے کچھ راحت مل سکے۔
**میری تمام بنکر حضرات سے مخلصانہ وضاحت اور اپیل ہے:**
> "میں تمام بنکر بھائیوں پر یہ بالکل واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ **بکر عید کے بند کو لمبا کرنے کی یہ رائے میری اپنی ذاتی رائے یا فیصلہ نہیں ہے**، بلکہ یہ شہر اور تانبہ کانٹا کے بہت سارے بنکروں کی جانب سے کثرت سے آئی ہوئی رائے ہے، جسے میں صرف آپ تمام حضرات کے سامنے غور و فکر کے لیے رکھ رہا ہوں۔ آپ تمام بنکر بھائی اس رائے سے **اتفاق کرنے یا اختلاف رکھنے کا پورا اختیار اور آزادی رکھتے ہیں**۔
> چونکہ حالات بہت خراب ہیں، اس لیے عوامی رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے، آپ تمام بنکروں سے گزارش ہے کہ کسی بھی دباؤ کے بغیر، **رضاکارانہ طور پر اور اپنی مرضی سے** (اگر آپ مناسب سمجھیں تو) بکر عید کے اس بند کو اپنے حساب سے لمبا لے جائیں، تاکہ ہم سب مل کر اس بڑے مالی نقصان سے بچ سکیں۔"
>
آئیں، اس کٹھن وقت میں سمجھداری، یکجہتی اور حکمتِ عملی سے کام لیں تاکہ ہم اپنی اس صنعت کو زندہ رکھ سکیں۔ اللہ تعالیٰ ہم تمام بنکروں کے کاروبار میں برکت عطا فرمائے اور اس بحران سے نکلنے کی راہ آسان کرے۔ (آمین)
**آپ کا مخلص،**
**محمد عمیر شمشاد علی (عمیر سر)**
مالیگاؤں، مہاراشٹرا
روزانہ صرف 45 منٹ کی واک سے آپ کیا ’حیرت انگیز‘ فائدے حاصل کر سکتے ہیں؟
پیدل چلنا یا واک انسان کے لیے نہایت بہترین اور قدرتی ورزش ہے جو مجموعی جسمانی اور ذہنی صحت کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق بالغ افراد ہفتے میں کم سے کم 150 سے 300 منٹ کی معتدل جسمانی سرگرمی ضرور کریں۔
ماہرین صحت تجویز کرتے ہیں کہ روزانہ 45 منٹ کی چہل قدمی یا واک انسان کی ذہنی و جسمانی صحت کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔ اسی طرح اُن کا یہ بھی کہنا ہے کہ ذیابیطس اور موٹاپے کو کنٹرول کرنے اور مجموعی صحت کو بہتر بنانے کے لیے روزانہ محض 5 ہزار قدم چلنا انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے۔
پٹھوں کی مضبوطی
پیدل چلنے کی وجہ سے جسم کے پٹھے مضبوط ہوتے ہیں۔ پٹھوں کے مضبوط ہونے سے چلنے پھرنے میں آسانی پیدا ہوتی ہے اور جسمانی اعضا بیماری سے بچے رہتے ہیں۔
نیند میں بہتری
جسمانی سرگرمیوں سے نیند بہتر ہوتی ہے اور تناؤ میں بھی کمی آتی ہے۔ بہترین نیند سے مجموعی طور پر انسانی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
واک سے ذہنی تناؤ میں کمی
واک کے اثرات محض انسان کے جسم پر ہی مرتب نہیں ہوتے بلکہ اس کے نفسیاتی اور سماجی فوائد بھی ہیں۔
وہ افراد جو ذہنی تناؤ اور درمیانے درجے کے ڈپریشن کا شکار رہتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر اپنی مصروفیات میں سے کچھ وقت نکالیں اور روزانہ واک کرنے کی عادت اپنائیں۔
قوت مدافعت میں بہتری
باقاعدگی سے چہل قدم یا واک کرنے سے انسان کی قوتِ مدافعت بہتر ہوتی ہے۔ پیدل چلنے سے بیماریوں کا خطرہ کم ہوتا ہے اور بیماریوں کے خلاف قوتِ مدافعت مضبوط ہوتی ہے۔وزن قابو میں رہتا ہے
واک کرنے سے کیلوریز جلتی ہیں جس کی وجہ سے انسان کا وزن بڑھنے سے رُکا رہتا ہے۔ واک کرنے سے میٹابولزم تیز ہوتا ہے اور انسان کی کیلوریز جلانے کی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوتا ہے، چہل قدمی سے جسم بھاری نہیں ہوتا اور فالتو چربی بھی کم ہوتی ہے۔
عمر طویل ہوتی ہے
باقاعدگی سے چہل قدمی یا واک کی عادت انسان کی صحت پر مثبت اثرات مرتب کرتی ہے اور جوانی میں طبعی موت کا خطرہ بھی کم ہو جاتا ہے۔ اس سے پیچیدہ بیماریوں کا خطرہ بھی ٹل جاتا ہے اور ذہنی صحت بہتر رہتی ہے۔
دل کے دورے کا خطرہ کم
ماہرین صحت کے مطابق باقاعدگی سے ورزش انسان میں خون کی شریانیں کو فعال رکھتی ہے جس سے دل کے دورے (ہارٹ اٹیک) کا خطرہ بھی کم ہو جاتا ہے۔
اروند کیجریوال اوردیگرکوالیکشن لڑنے سے نا اہل قرار دینے کی مفاد عامہ کی عرضی خارج، دہلی ہائی کورٹ نے دیا بڑا فیصلہ
نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے دائرمفاد عامہ کی عرضی (پی ایل آئی) کی سماعت کی، جس میں عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال، منیش سسودیا اوردرگیش پاٹھک کوالیکشن لڑنے سے نااہل قراردینے اورعام آدمی پارٹی کے رجسٹریشن کومنسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ چیف جسٹس دیویندراپادھیائے کی سربراہی والی بنچ نے سماعت کی۔ عدالت نے پی آئی ایل کو یہ کہتے ہوئے خارج کردیا کہ درخواست میں لگائے گئے الزامات میں قانونی میرٹ نہیں ہے۔ اس لئے درخواست پرکوئی حکم جاری کرنے کا کوئی جوازنہیں ہے۔
دہلی ہائی کورٹ نے پوچھا سوال
درخواست گزارکی نمائندگی کرنے والے وکیل نے دلیل دی کہ اروند کیجریوال اوردیگرعدالتی کارروائی کوبدنام کرنے اورمتنازعہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ عدالت نے سوال کیا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم الیکشن کمیشن کوسیاسی جماعت کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا حکم دیں؟ لیکن کیا سیاسی جماعت کی رجسٹریشن ختم کرنے کی قانون میں کوئی شق موجود ہے؟ اگرایسا ہے تواس کا مکمل قانونی ڈھانچہ کیا ہے؟ عدالت کے اس سوال کے جواب میں وکیل نے کہا کہ عوامی نمائندگی ایکٹ براہ راست سیاسی جماعت کی رجسٹریشن ختم کرنے کی سہولت فراہم نہیں کرتا۔ اس معاملے میں قانون واضح ہے۔ تاہم، سپریم کورٹ کا فیصلہ تین غیرمعمولی حالات کا خاکہ پیش کرتا ہے، جن میں سیاسی جماعت کی رجسٹریشن منسوخ کی جا سکتی ہے۔ وکیل نے ان تین مستثنیات کا حوالہ دیا اورعدالت کوان حالات سے آگاہ کیا۔
یہ کیس پہلی دوشرائط پرپورا نہیں اترتا
اس پرعدالت نے کہا کہ یہ کیس پہلی دوشرائط پرپورا نہیں اترتا۔ تیسری شرط یہ ہے کہ کسی سیاسی پارٹی کا رجسٹریشن صرف اس صورت میں منسوخ کیا جا سکتا ہے، جب اسے یواے پی اے یا اسی طرح کے قانون کے تحت غیرقانونی تنظیم قراردے دیا گیا ہو۔ وکیل نے کہا کہ عوامی نمائندگی ایکٹ کے سیکشن 29 اے (5) کے تحت فریق کوتحریری حلف نامہ دینے کی ضرورت ہے کہ وہ آئین اوراس کے بنیادی اصولوں کی پاسداری کرے گی۔ وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اگرکوئی فریق ان شرائط کی خلاف ورزی کرتا ہے تواس کے خلاف کارروائی یا رجسٹریشن ختم کرنے کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے۔
جسٹس سورن کانتا شرما کے فیصلے کا حوالہ
عرضی گزار کے وکیل نے اس کے بعد جسٹس سورن کانتا شرما کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہی ان کی عرضی کی بنیاد ہے۔ اس پرعدالت نے کہا کہ سب سے پہلے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ کسی عدالت کے حکم کے بعد الیکشن کمیشن کوکسی سیاسی پارٹی کا رجسٹریشن منسوخ کرنے کا اختیارہے؟ عدالت نے واضح کیا کہ صرف کسی فیصلے کا حوالہ دینا کافی نہیں ہے بلکہ یہ بھی دکھانا ضروری ہے کہ قانون کے تحت عدالت کے حکم کے بعد الیکشن کمیشن کسی پارٹی کے خلاف ایسا قدم اٹھاسکتا ہے۔ وکیل نے کہا کہ اگرکسی شخص کوتعزیرات ہند پربھروسہ نہیں ہے تومیری رائے میں وہ الیکشن نہیں لڑسکتا۔ میں اروند کیجریوال، منیش سسودیا وردرگیش پاٹھک کی بات کررہا ہوں۔ عدالت نے کہا کہ اس سے کسی سیاسی پارٹی کا رجسٹریشن منسوخ کیسے ہوگا؟ اس پروکیل نے کہا،”میرا دوسرا مطالبہ بھی ہے کہ اروند کیجریوال اوردیگرکولوک سبھا اوراسمبلی الیکشن لڑنے سے نا اہل قراردیا جائے۔ کسی سیاسی پارٹی کا رکن ہوکرعدالت کی کارروائی کوبدنام نہیں کرسکتا۔”سیاسی پارٹیوں کے رجسٹریشن کا پورا عمل قانون میں طے: عدالت
عدالت نے کہا کہ اگرکسی لیڈرنے عدالت کے خلاف بیان دیا ہے تو اس کے لئے الگ قانونی عمل توہین عدالت کی کارروائی ہے۔ صرف اس بنیاد پرکسی سیاسی پارٹی کو ختم کرنا یا لیڈران کو الیکشن لڑنے سے روکنا مناسب نہیں ہے۔ عدالت نے کہا کہ سیاسی پارٹیوں کے رجسٹریشن کا پورا عمل قانون میں طے ہے اوراس معاملے میں دائرعرضی اسی قانونی نظام کو صحیح طریقے سے سمجھے بغیر داخل کی گئی ہے۔