حمزہ برہان کو پاک مقبوضہ کشمیر میں نامعلوم حملہ آور نے ماری گولی، موقع پر جاں بحق، پلوامہ دہشت گردانہ حملے کا ماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام
پلوامہ دہشت گردانہ حملے کے ماسٹرمائنڈ میں سے ایک اورپاکستان کے موسٹ وانٹیڈ مشتبہ دہشت گرد حمزہ برہان کا گولی مارکرقتل کردیا گیا ہے۔ میڈیا میں آئی خبروں کے مطابق، پاکستان کے مظفرآباد میں نامعلوم حملہ آورنے حمزہ برہان کوگولی ماردی، جس سے وہ موقع پرہی جاں بحق ہوگیا۔ ذرائع کے مطابق، حمزہ کے قتل کے لئے حملہ آورنے اسے کئی گولیاں ماری ہیں۔
حمزہ البدرکا ٹاپ کمانڈرتھا اوراس کا پورا نام ارجمند گلزارڈارعرف ڈاکٹرتھا۔ سیکورٹی ایجنسیوں کے مطابق وہ لمبے وقت سے ہندوستان مخالف دہشت گردانہ سرگرمیوں میں شامل تھا اور جنوبی کشمیرمیں نوجوانوں کوشدت پسندی کی طرف دھکیلنے والے اہم چہروں میں شمارکیا جاتا تھا۔ وہیں حمزہ کا قتل کرنے والے ملزم شخص کومقامی لوگوں نے پکڑکرپولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ ملزم شخص سے متعلق ابھی کوئی جانکاری سامنے نہیں آئی ہے۔
موسٹ وانٹیڈ فہرست میں شامل تھا حمزہ
ارجمند گلزاربنیادی طورپرجموں وکشمیرکے پلوامہ ضلع کے رتنی پورا علاقے کا رہنے والا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ تقریباً 7 سال پہلے قانونی دستاویزوں کے ذریعہ پاکستان گیا تھا، جہاں اس نے دہشت گرد تنظیم البدرمیں شمولیت اختیارکرلی۔ بعد میں وہ تنظیم کا آپریشنل کمانڈربن گیا اورپاکستان سے بیٹھ کرکشمیرمیں دہشت گردوں کی بھرتی، فنڈنگ اورہتھیاروں کی سپلائی کا نیٹ ورک چلانے لگا۔ بھارتی سیکورٹی ایجنسیوں نے اسے طویل عرصے سے انتہائی مطلوب فہرست میں رکھا ہوا تھا۔ ہندوستانی وزارت داخلہ نے اسے 2022 میں باضابطہ طورپردہشت گرد نامزد کیا۔ وزارت کے مطابق، وہ پلوامہ اورجنوبی کشمیرمیں دہشت پھیلانے، نوجوانوں کودہشت گرد تنظیموں میں بھرتی کرنے اوردہشت گردی کے لئے فنڈزاکٹھا کرنے میں سرگرم تھا۔
ڈیجیٹل ریڈیکلائزیشن ماڈل کا حصہ تھا حمزہ
پلوامہ وادی کشمیرمیں دہشت گردانہ سرگرمیوں کا حساس مرکزرہا ہے۔ اس علاقے سے کئی چہرے دہشت گرد کے طورپر سامنے آئے، جن میں برہان وانی کا نام بھی شامل رہا، جس نے سوشل میڈیا کے ذریعہ نوجوانوں کوشدت پسندی کی طرف سے متاثرکیا تھا۔ ارجمند گلزارکو بھی اسی ڈیجیٹل شدت پسند ماڈل کا حصہ مانا جاتا ہے، جس میں سوشل میڈیا اورمقامی نیٹ ورک کے ذریعہ نوجوانوں کو ہتھیاراٹھانے کے لئے اکسایا جاتا تھا۔ سیکورٹی ایجنسیوں کے مطابق، ارجمند گلزارکا نیٹ ورک پلوامہ، شوپیاں اوراونتی پورہ علاقوں میں سرگرم تھا۔ اس پرالزام تھا کہ وہ پاکستان سے بیٹھ کرمقامی اوورگراونڈ ورکرس کے ذریعہ ہتھیار، فنڈنگ اوردہشت گردانہ احکامات پرپہنچاتا تھا۔ کئی معاملوں میں اس کا نام دھماکہ خیزاشیا کی برآمدگی، گرینیڈ حملوں اوردہشت گردانہ سرگرمیوں سے جڑا پایا گیا۔
گوندیا کے نیو بالاجی اسپتال میں ڈاکٹروں نے نومولود بچوں کی خرید و فروخت کی رچ دی گھناونی سازش، 1001 خواتین کی صحت کے ساتھ کھلواڑ
گوندیا کے رام نگر علاقے میں واقع ’نیو بالاجی اسپتال‘ سے جڑا ایک سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے۔ خدا کا درجہ پانے والے ڈاکٹروں نے چند پیسوں کی خاطر نومولود بچوں کی خرید و فروخت کی اور نابالغ لڑکیوں کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کیا۔ بھنڈارا پولیس کی تحقیقات کے مطابق، اس اسپتال کی آڑ میں غیر قانونی اسقاطِ حمل، نابالغ لڑکیوں کی ڈلیوری اور پھر ان نومولود بچوں کو لاکھوں روپے میں فروخت کرنے کا ایک گھناونا ریکیٹ چلایا جا رہا تھا۔ پولیس نے فروخت کیے گئے دو معصوم بچوں کو ریسکیو کرکے چائلڈ ویلفیئر کمیٹی کے حوالے کر دیا ہے۔
غریب خواتین کو ایسے بنایا جاتا تھا شکار
اس گینگ کے حوصلے اس قدر بلند تھے کہ ’بائی گنگابائی سرکاری خواتین اسپتال‘ میں آنے والی غریب خواتین کو نشانہ بنایا جاتا تھا۔ دلال اور ملزم ڈاکٹر ان خواتین کو بہلا پھسلا کر نیو بالاجی اسپتال لے آتے تھے۔انہیں ڈرایا جاتا تھا کہ ان کے پیٹ میں پل رہے بچے کی حالت سنگین ہے اور کم خرچ میں اس نجی اسپتال میں ڈلیوری کرا دی جائے گی۔کچھ خواتین کی کمزور معاشی حالت دیکھ کر ان سے کہا جاتا تھا کہ ان کا بچہ کمزور ہے، اس لیے اسے کسی این جی او (NGO) کے حوالے کر دیا جائے۔ بعد میں انہی بچوں کو بھاری قیمتوں پر فروخت کر دیا جاتا تھا۔
1001 خواتین کی صحت کے ساتھ کھلواڑ
تحقیقات آگے بڑھنے پر اسپتال کے ایک اور بڑے گھپلے کا انکشاف ہوا، جو غیر قانونی سونوگرافی سینٹر سے متعلق تھا۔ ستمبر 2025 میں مرکزی ملزم ڈاکٹر نتیش باجپئی نے ریڈیولوجسٹ ڈاکٹر خوشال گھوڈیسوار کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا تاکہ سرکاری اسکیم کے تحت حاملہ خواتین کی سونوگرافی کی جا سکے۔ قواعد کے مطابق سونوگرافی صرف ڈاکٹر خوشال ہی کر سکتے تھے، جس کی اجازت ضلع سرجن ڈاکٹر پروشوتم پاٹل نے دی تھی۔لیکن ڈاکٹر نتیش باجپئی نے بڑی جعلسازی کرتے ہوئے ڈاکٹر خوشال کے سرٹیفکیٹ پر ڈاکٹر وویک ییلے کا نام شامل کر دیا۔ اس کے بعد ڈاکٹر خوشال کو بلائے بغیر ہی گزشتہ 8 مہینوں میں سرکاری اسپتال سے بھیجی گئی 1001 حاملہ خواتین کی سونوگرافی خود ڈاکٹر نتیش باجپئی اور ڈاکٹر وویک ییلے نے انجام دی۔ طبی اصولوں کے مطابق ایک ماہرِ امراضِ نسواں تکنیکی طور پر پیچیدہ سونوگرافی نہیں کر سکتا۔ معاملہ سامنے آنے کے بعد 15 اپریل 2026 کو اس سونوگرافی سینٹر کا لائسنس منسوخ کر دیا گیا۔
انسٹاگرام سے ملے پختہ ثبوت
ڈاکٹر وویک ییلے ’بائی گنگابائی سرکاری خواتین اسپتال‘ میں کنٹریکٹ بنیاد پر گائناکولوجسٹ کے طور پر تعینات تھے۔ سرکاری قوانین کے مطابق کنٹریکٹ پر کام کرنے والے ڈاکٹر کسی نجی اسپتال میں پریکٹس یا خدمات نہیں دے سکتے، لیکن وہ نیو بالاجی اسپتال کے اس کالے دھندے میں شریک تھے۔رام نگر پولیس کی جانچ میں سامنے آیا کہ ایک نابالغ لڑکی کی ڈلیوری کے وقت مرکزی ملزم ڈاکٹر نتیش باجپئی، ڈاکٹر وویک ییلے اور راجےگاؤں اسپتال سے ریٹائرڈ ڈاکٹر آشا اگروال موجود تھیں۔ ان لوگوں نے نہ صرف ڈلیوری کرائی بلکہ بچے کی فروخت میں بھی مدد کی اور پولیس سے یہ بات چھپائی۔ اس کے پختہ ڈیجیٹل ثبوت خود مرکزی ملزم ڈاکٹر نتیش باجپئی نے اپنے انسٹاگرام پیج پر ڈال رکھے تھے، جہاں یہ ڈاکٹر اسپتال میں ڈلیوری کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔
انتظامیہ کی سخت کارروائی
معاملہ بے نقاب ہونے کے بعد انتظامیہ نے سخت قدم اٹھائے ہیں۔ گوندیا میڈیکل کالج کے ڈین ڈاکٹر کُسماکر گھورپڑے نے ڈاکٹر وویک ییلے کو ملازمت سے معطل کر دیا ہے۔ ضلع سرجن ڈاکٹر پروشوتم پاٹل نے ’نیو بالاجی اسپتال‘ کا لائسنس ہمیشہ کے لیے منسوخ کر دیا ہے۔گرفتاری کے خوف سے ڈاکٹر باجپئی نے اسپتال کی سونوگرافی اور ڈلیوری سے متعلق تمام ریکارڈ تباہ کر دیے تھے۔ فی الحال پولیس نے اس معاملے میں مرکزی ملزم ڈاکٹر نتیش باجپئی سمیت 10 ملزمان کے خلاف عدالت میں چارج شیٹ داخل کر دی ہے۔
ایران اور پاکستان کے بیچ ہوئی 'انڈر دی ٹیبل ڈیل' ، اس بار دھکہ جھیل نہیں پائیں گے ٹرمپ
اسلام آباد: پاکستان کے حکمرانوں نے اپنے ملک کی تذلیل میں تمام حدیں پار کر دیں۔ شہباز اور منیر اور اب محسن نقوی نے اپنا ضمیر بیچنے کا سہارا لیا ہے۔ اس ملک نے اب اپنی غربت کو دور کرنے کے لیے دو ملکوں کے درمیان ایک ‘مڈل مین’ کے کردار کو کاروبار میں تبدیل کر دیا ہے۔ گزشتہ چند دنوں میں پوری دنیا نے دیکھا کہ کس طرح بار بار کی دھتکار کے باوجود پاکستان، ایران اور امریکہ کے معاملات میں کتنی دلچسپی لے رہا ہے۔ اس بے چینی کے پیچھے ایک خفیہ معاہدہ ہے جو پاکستان نے ایران کے ساتھ “پیس ٹیبل کے نیچے” سے کرلیا ہے۔ اس انکشاف کے بعد پاکستان کو ایک بار پھر عالمی سطح پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
پاکستان ۔ ایران کے درمیان کون سی خفیہ ڈیل ہوئی؟اسرائیلی میڈیا “C14” کا دعویٰ ہے کہ پاکستان اس امن معاہدے کو جلد از جلد حاصل کرنا چاہتا ہے، عالمی امن کے کسی احساس سے نہیں بلکہ اپنے لالچ سے۔
پاکستان اس وقت شدید معاشی مشکلات سے دوچار ہے۔ ایران اور پاکستان کے درمیان “انڈر دی ٹیبل” معاہدہ یہ ہے کہ پاکستان ایران کو امریکہ کے ساتھ سازگار جنگ بندی معاہدے کو حاصل کرنے میں مدد کرے گا۔ بدلے میں، جیسے ہی امریکہ کی طرف سے عائد کردہ معاہدے کے تحت ایران کے خلاف سخت بین الاقوامی پابندیاں ہٹائی جائیں گی اور اربوں ڈالر کے منجمد ایرانی فنڈز جاری کیے جائیں گے، ایران اس خطیر رقم کا ایک اہم حصہ پاکستان کو اپنے غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی میں مدد کے لیے فراہم کرے گا۔
امریکہ۔ ایران امن معاہدہ ہائی وولٹیج ڈرامہ نہیں
یہ بات قابل غور ہے کہ مغربی ایشیا اس وقت ایک ہائی وولٹیج ڈرامے کا مشاہدہ کر رہا ہے، امن معاہدے کا نہیں۔ ایران اور امریکہ دونوں بار بار امن کی نئی تجاویز مرتب کر رہے ہیں اور پھر انہیں مسترد کر رہے ہیں۔ کسی نہ کسی بہانے جنگ بندی میں توسیع کی جا رہی ہے لیکن انا کی جنگ بدستور جاری ہے۔ دریں اثناء آبنائے ہرمز بدستور بند ہے اور پوری دنیا کو تیل کی قلت کا سامنا ہے۔ جنگ سے کوئی تعلق نہ ہونے کے باوجود دنیا بھر میں عام لوگ تیل کی بے تحاشا قیمتیں ادا کر رہے ہیں۔ ان سب کے اوپر سے پاکستان جیسا ناکام ملک ایران اور امریکہ کے بیچ امن معاہدے کروا نے کی کوشش کررہا ہے اور اس میں بار بار ناکام ہو رہا ہے۔