این ڈی اے نے بہار کے راجیہ سبھا انتخابات میں کلین سویپ کیا، تمام پانچ سیٹوں پر کامیابی حاصل کی
پٹنہ: بہار میں پانچ سیٹوں کے لیے ہوئے راجیہ سبھا انتخابات میں این ڈی اے نے تمام پانچ سیٹوں پر گرینڈ الائنس کو کلین سویپ کیا۔ گرینڈ الائنس کو اس وقت دھچکا لگا جب کانگریس اور آر جے ڈی کے کل چار ایم ایل ایز نے ووٹ نہیں دیا، جس سے اتحاد کے مجموعی حسابات میں خلل پڑا۔ بہار میں اس جیت نے بنگال کے آئندہ اسمبلی انتخابات کے لیے بی جے پی کو ایک طاقتور پیغام دیا ہے۔
این ڈی اے کا کلین سویپ: بہار میں راجیہ سبھا انتخابات کو لے کر ایک دن کی سیاسی ہنگامہ آرائی کے بعد، آخر کار نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) نے تمام پانچ سیٹوں پر قبضہ کر لیا۔ ایک سنسنی خیز اور قریبی مقابلے میں گرینڈ الائنس کو عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ووٹنگ سے لے کر گنتی تک، دونوں کیمپوں نے مضبوط حکمت عملی اپنائی، لیکن آخر کار، این ڈی اے ہی غالب رہا۔
گرینڈ الائنس کے چار ایم ایل ایز نے ووٹنگ سے پرہیز کیا: دن کی سب سے بڑی بحث کچھ گرینڈ الائنس ایم ایل ایز کی غیر موجودگی پر مرکوز تھی۔ ذرائع کے مطابق گرینڈ الائنس کے تین کانگریس ایم ایل اے اور آر جے ڈی کے ایک ایم ایل اے نے ووٹ نہیں دیا۔ اس سے گرینڈ الائنس کے مجموعی حسابات میں خلل پڑ گیا۔ اپوزیشن کا ابتدائی متوقع ٹرن آؤٹ ووٹنگ کے وقت تک حاصل نہیں ہو سکا۔
تین قومی صدر میدان میں: این ڈی اے کے پانچ امیدواروں میں، بی جے پی کے قومی صدر نتن نوین، جے ڈی یو کے قومی صدر اور وزیر اعلیٰ نتیش کمار، راشٹریہ لوک مورچہ کے قومی صدر اوپیندر کشواہا، مرکزی وزیر رام ناتھ ٹھاکر، اور بی جے پی کے ریاستی جنرل سکریٹری شیویش رام میدان میں تھے۔ این ڈی اے کے تمام امیدوار جیت گئے ہیں، جب کہ آر جے ڈی کے اے ڈی سنگھ کو اپنے ہی لوگوں نے دھوکہ دیا اور الیکشن ہار گئے۔
راجیہ سبھا انتخابات کو لے کر اسمبلی احاطے میں صبح سے ہی سرگرمیاں جاری تھیں۔ این ڈی اے اور گرینڈ الائنس دونوں نے اپنے ایم ایل ایز کو متحد رکھنے کے لیے وہپ جاری کیے تھے۔ اس کے باوجود سیاسی حلقے یہ قیاس آرائیاں کرتے رہے کہ شاید کچھ ایم ایل اے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیں گے یا کراس ووٹنگ ہو سکتی ہے۔ دونوں کیمپوں کے لیڈروں نے ووٹنگ کے دوران ہر ایم ایل اے کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھی۔
این ڈی اے کی حکمت عملی: این ڈی اے نے اس الیکشن کے لیے پہلے سے ہی مکمل حکمت عملی تیار کر لی تھی۔ این ڈی اے قائدین نے اپنے ایم ایل ایز کو متحد رکھنے کے لئے متواتر میٹنگیں کیں۔ ذرائع کے مطابق ووٹنگ سے پہلے کئی دور کی بات چیت ہوئی اور ووٹنگ کے بارے میں ٹریننگ کے بعد ایم ایل اے کو واضح ہدایات دی گئیں۔ اس حکمت عملی کے نتیجے میں این ڈی اے نے تمام پانچ سیٹیں جیت لیں۔
گرینڈ الائنس کو بڑا جھٹکا: راجیہ سبھا انتخابی نتائج کو گرینڈ الائنس کے لیے ایک بڑا سیاسی جھٹکا مانا جا رہا ہے۔ امریندر دھاری سنگھ آر جے ڈی کے موجودہ راجیہ سبھا ممبر تھے، لیکن ان کی شکست نے انہیں ایوان میں داخل ہونے سے روک دیا۔ ان کی چھ سالہ مدت کا آغاز 10 اپریل 2020 کو ہوا۔ اپوزیشن کو اس الیکشن میں کم از کم ایک سیٹ جیتنے کی امید تھی لیکن نتائج اس کے برعکس تھے۔ گرینڈ الائنس کے اندر اب ان کے غلط حساب کتاب کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے بات چیت شروع ہو گئی ہے۔
نتائج کے بعد این ڈی اے کیمپ میں جشن: نتائج کا اعلان ہوتے ہی این ڈی اے کیمپ کے اندر جشن کی لہر دوڑ گئی۔ رہنماؤں اور حامیوں نے مٹھائیاں بانٹ کر جیت کا جشن منایا۔ این ڈی اے لیڈروں نے اسے وزیر اعظم کی قیادت اور اتحاد کے اتحاد کی جیت قرار دیا۔
مستقبل کی سیاست پر اثر: راجیہ سبھا انتخابات کے نتائج بہار کی مستقبل کی سیاسی حکمت عملیوں پر بھی اثر ڈال سکتے ہیں۔ جب کہ این ڈی اے اس جیت کو اپنی مضبوط تنظیم اور اپنے اتحاد کی طاقت کے ثبوت کے طور پر پیش کر رہا ہے، عظیم اتحاد کے لیے یہ نتیجہ خود پر غور کرنے کا معاملہ بن گیا ہے۔
شوہر سے ناراض گھر بیٹھی بہن بیٹی یا مطلقہ اور یتیم بھتیجے بھتیجیاں
آپ کو حسرت سے دیکھ رہے ہیں.
16/03/2026
_________________________________________
اَب شائد دو چار روزے اور باقی ہیں.. ہم سبھی کی عید کی شاپنگ ہوچکی ہے الحمدللہ ...شاپنگ کے لئے ہم کئی شورومس اور دکانوں کو کھنگالے ہونگے....!
شائد حج و عمرے کے کسی راونڈ میں خریدے گئے بہترین کپڑے بھی ہمارے پاس " سلّک" پڑے ہونگے...!
اپنی نمازوں میں، تلاوت میں، تراویح اور دعاوں میں ہم سبھی نے اپنی توفیق کے مطابق اللہ سے خوب مانگا ہوگا.....
دنیا و آخرت کی بھلائی ہم نے مانگی ہوگی.....
کاروبار میں اور رزق میں برکت کی دعائیں مانگی ہوگی...
بیماریوں اور آزمائشوں سے حفاظت مانگی ہوگی....
بہ حیثیت مومن آخر ہم سبھی یہ ساری دعائیں کیوں نہ مانگیں ..!!
اس مبارک مہینے میں اللہ کے بڑے بڑے وعدے ہیں....
لیکن کیا ہم نے اپنی نمازوں اور دعاوں کے ساتھ ساتھ نظر گھما کر اپنے ہی گھر میں موجود یتیم بچوں کی طرف، غریب بھائی کی طرف،اور بالخصوص سسرال و شوہر سے ناراض گھر میں بیٹھی ہماری بہن بیٹی کی طرف بھی دھیان سے دیکھا ہے..؟
اپنی مطلقہ بہن بیٹی کی ضرورتوں کی طرف ہمارا خیال بھی گیا ہے...؟
ان سب کی رمضان کی ضرورتیں اور عید کی خوشیوں کا کیا بنے گا...؟
ہماری دعائیں تو جاری رہیں لیکن کیا ہم نے اپنی اُس ناراض بہن بیٹی کی بنیادی ضرورتوں کا خیال بھی کیا...؟؟
اُنہیں ہر ہفتہ پاکٹ منی دیا بھی ہے کہ جس سے وہ بھی ہمارے بیوی بچوں کی طرح اس مہینے میں عبادتوں کے ساتھ کچھ اپنی ذات پر اور اپنے بچوں پر خرچ کرسکے...؟؟
کیا کوئی ایسی دکھیاری بہن، کوئی یتیم کی ماں جب تک ہمارے سامنے ہاتھ نہ پھیلاے تب ہی ہم "کچھ" کریں گے.....؟
کیا ہمیں اُنکی عزتِ نفس کا خیال نہیں رکھنا چاہیئے......؟
آخر ہم ہمارے ایسے متعلقین کی ضرورتیں اُن کے کہنے سے پہلے ہی کیوں نہیں پوری کردیتے....؟
ہمیں اپنی اُس بہن کے چہرے کی طرف دیکھنا چاہیئے جہاں آج بے بسی ہے.. بیچارگی ہے.. ایک اَن دیکھا خوف ہے.... یہ وہی بہن ہے نا جو کبھی سب کی لاڈلی تھی.... جو کل بھی خوددار تھی اور آج بھی خوددار ہے.....
چلئے اُٹھیں..!!! اور گھر بیٹھی بہن سے یا طلاق یافتہ بہن سے، اُسکے بچوں سے اور یتیم بھتیجے بھتیجیوں سے نہ صرف رمضان میں بلکہ پورا سال ایسا احسن سلوک کریں کہ اپنی دنیا اور آخرت کی کامیابی کی اللہ سے ضمانت لے لیں.....
دل میں ذرا بھی تنگی محسوس نہ کرتے ہوئے انکے لئے مارکیٹ سے وہی پسند کریں جو ہم نے اپنی بیوی اور بچوں کے لئے پسند کیا ہے....
یقیناً بہت سے گھرانوں نے ان باتوں کی تکمیل اچھے ڈھنگ سے کی بھی ہوگی... اس سے مجھے انکار نہیں.. میرے مخاطب کس زمرے کے لوگ ہیں.. یہ ہم اور آپ جانتے ہی ہیں..
بہرحال.. دوسروں کے رمضان وعید تو اچھے گذرتے ہی ہونگے.... لیکن اپنی دکھیاری بہن اور مرحوم بھائی کے بیوی بچوں کی خودداری کا خیال رکھتے ہوئے انکی بہترین کفالت کرنے پر عید کی سچی اور دلوں میں سکون بھر دینے والی خوشیوں کے اصل حقدار تو ہم ہونگے.. ان شاءاللہ....
’ہر سال 70 لاکھ اموات‘، فضائی آلودگی انسان کو کن مہلک بیماریوں کا شکار کر رہی ہے؟
شہروں پر چھائی ہوئی سموگ سے گھروں کے اندر موجود دھوئیں تک، فضائی آلودگی پوری دنیا میں انسان کی صحت اور ماحول کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق آلودہ ہوا میں موجود باریک ذرات کے باعث ہر سال قریباً 70 لاکھ افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
یہ آلودگی فالج، دل کی بیماریوں، پھیپھڑوں کے کینسر، سانس کے انفیکشن اور دمے ایسی مختلف بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔یہ نزلہ، زکام، کھانسی، اور سانس کی نالیوں میں جلن بھی پیدا کرتی ہے۔عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ دنیا کی 90 فیصد سے زیادہ آبادی آلودہ ہوا میں سانس لینے پر مجبور ہے۔ تیل، کوئلہ اور گیس ایسے فاسل فیولز کا جلنا، صنعتی اخراج اور گاڑیوں کا دھواں اس آلودگی کی بڑی وجوہات ہیں۔
اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر اور گھروں میں ٹھوس ایندھن کا استعمال بھی فضائی آلودگی کے بڑے ذرائع ہیں۔
گھروں کے اندر فضائی آلودگی کے بڑے ذرائع میں تمباکو کا دھواں اور ٹھوس ایندھن سے چلنے والے غیر مؤثر اور رسنے والے چولہوں کا دُھواں شامل ہے۔
فضائی آلودگی کے اہم اجزاء میں کاربن مونوآکسائیڈ، اوزون، نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ اور سلفر ڈائی آکسائیڈ شامل ہیں۔ باہر کی ہوا کی آلودگی اور گھروں کے اندر کی آلودگی دونوں ہی انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہا ہے، جن میں پالیسی سازوں اور عوام کو آلودگی کے قابلِ قبول معیار اور اس کے صحت پر اثرات سے آگاہ کرنا اور فضائی معیار کی نگرانی کرنا شامل ہیں۔
تیزی سے بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی معیشت اور انسانوں کے معیارِ زندگی پر منفی اثر ڈال رہی ہے۔
کم عمر بچے، حاملہ خواتین اور بزرگ افراد فضائی آلودگی سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ فضائی آلودگی بچوں اور بڑوں میں صحت کے قلیل المدت اور طویل المدت دونوں طرح کے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔
اس کے علاوہ جینیاتی عوامل، دیگر بیماریوں کی موجودگی، غذائیت اور سماجی و معاشی حالات بھی اس بات پر اثرانداز ہوتے ہیں کہ کوئی شخص فضائی آلودگی سے کتنا متاثر ہوگا۔فضائی آلودگی سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟
فضائی آلودگی سے بچنے اور اس کے اثرات کو کم کرنے کے لیے عالمی ادارہ صحت کی ہدایات پر عمل کرنا ضروری ہے۔
صاف سُتھری ٹرانسپورٹ، توانائی کی بچت والے مکانات، صنعتوں اور بجلی گھروں میں بہتر ایندھن کا استعمال اور کچرے کو بہتر انداز سے ٹھکانے لگا کر فضائی آلودگی کو کم کیا جا سکتا ہے۔
جب آلودگی زیادہ ہو تو گھروں کے اندر رہنے کو ترجیح دیں، ایئر پیوریفائر استعمال کریں اور زیادہ ٹریفک والے علاقوں سے دُور رہنے کی کوشش کریں۔
مصروف سڑکوں یا صنعتی علاقوں کے قریب چلنے پھرنے یا ورزش کرنے سے گریز کریں تاکہ گاڑیوں کے دُھوئیں سے براہِ راست متاثر نہ ہوں۔
گھروں کے اندر آلودگی کو کم کرنے کے لیے تمباکو نوشی سے پرہیز کریں، کیمیائی صفائی کرنے والی اشیاء کا استعمال کم کریں اور کھانا پکاتے وقت مناسب وینٹیلیشن کو یقینی بنائیں۔
آپ پیدل چل کر یا سائیکل استعمال کر کے اور ذاتی گاڑی کے بجائے پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کر کے فضائی آلودگی کے اثرات کو کم کر سکتے ہیں۔
گھروں کے اندر موم بتیاں، اگربتی اور ایروسول سپرے کا استعمال کم سے کم کریں کیونکہ یہ اشیا ہوا کو آلودہ کرتی ہیں۔
پتے، لکڑی یا کچرا جلانے سے گریز کریں کیونکہ ان اشیا کے جلنے سے فضا میں باریک ذرات کی مقدار بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔