مسلم ممالک کے رویہ سے خفا ایران، علی لاریجانی نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے نام لکھا خط، یہاں پڑھئے
Iran - America War : امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران مسلم ممالک سے جس طرح کے تعاون کی امید کر رہا تھا، شاید اسے وہ نہیں مل رہا ہے۔ نہ تو کوئی ملک کھل کر اس کی حمایت میں بول رہا ہے اور نہ ہی امریکہ اور اسرائیل کی کھل کر تنقید کر رہا ہے۔ یہاں تک کہ کئی ممالک اس کے خلاف بھی ہو گئے ہیں۔ ان سب کے درمیان ایران کی سیکورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے اب پوری دنیا کے مسلمانوں کو براہِ راست ایک خط لکھا ہے۔خط کا متن
اللہ کے نام سے، جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔
دنیا بھر کے مسلمانوں اور اسلامی ممالک کی حکومتوں کے نام۔
ایران کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے کا سامنا کرنا پڑا، جو مذاکرات کے دوران ایک دھوکے کے طور پر ہوا اور جس کا مقصد ایران کو کمزور کرنا تھا۔ اس حملے میں اسلامی انقلاب کے ایک بڑے رہنما اور کئی شہریوں اور فوجی کمانڈروں کی شہادت ہوئی۔ لیکن حملہ آوروں کو ایرانی عوام کی مضبوط ثابت قومی اور اسلامی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔
آپ جانتے ہیں کہ چند استثناؤں کو چھوڑ کر زیادہ تر اسلامی ممالک نے صرف سیاسی بیانات دیے اور ایرانی عوام کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے نہیں ہوئے۔ اس کے باوجود ایرانی عوام نے اپنی مضبوط قوتِ ارادی کے ساتھ حملہ آور دشمن کا مقابلہ کیا، یہاں تک کہ آج وہ اس اسٹریٹجک بحران سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنے میں ناکام ہو گیا ہے۔
ایران “بڑے شیطان” اور “چھوٹے شیطان” کے خلاف مزاحمت کے راستے پر آگے بڑھ رہا ہے، یعنی امریکہ اور اسرائیل کے خلاف۔ لیکن کچھ اسلامی حکومتوں کا رویہ پیغمبر اسلام کی اس تعلیم کے خلاف ہے جس میں کہا گیا ہے:
“جو شخص کسی کو پکارتے سنے کہ ‘اے مسلمانوں!’ اور اس کی مدد نہ کرے، وہ مسلمان نہیں ہے۔”
تو یہ کیسا اسلام ہے؟
کچھ ممالک اس سے بھی آگے بڑھ گئے اور کہنے لگے کہ ایران ان کا دشمن بن گیا ہے، کیونکہ اس نے ان کے ممالک میں موجود امریکی اڈوں اور امریکی-اسرائیلی مفادات کو نشانہ بنایا۔ کیا ایران سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھا رہے، جبکہ آپ کے ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو اس پر حملے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے؟ یہ محض ایک ظاہری بہانہ ہے۔ آج مقابلہ ایک طرف امریکہ اور اسرائیل کا ہے اور دوسری طرف ایران اور مزاحمتی قوتوں کا۔ آپ کس کے ساتھ کھڑے ہوں گے؟
اسلامی دنیا کے مستقبل کے بارے میں سوچیں۔ آپ جانتے ہیں کہ امریکہ آپ کا وفادار نہیں ہے اور اسرائیل آپ کا دشمن ہے۔ ایک لمحہ رک کر سوچیں اور اپنے اور اپنے خطے کے مستقبل پر غور کریں۔ ایران آپ کا خیرخواہ ہے اور وہ آپ پر غلبہ قائم کرنا نہیں چاہتا۔
اگر اسلامی امت کی وحدت پوری طاقت کے ساتھ قائم ہو جائے تو وہ تمام ممالک کے لیے سلامتی، ترقی اور آزادی کو یقینی بنا سکتی ہے۔آپ سب پر سلامتی ہو۔
اللہ کے بندوں میں سے ایک
علی لاریجانی
’یہ تو پرانے پٹاخے ہیں، نئے جھیل نہیں پاؤگے تم‘، 4 تھاڈ سسٹم اڑانے کے بعد ایران کا بڑا بیان، ابھی بھرا ہے ہمارا ذخیرہ
: مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی اور جنگ کے درمیان ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ابھی تک اپنے سب سے جدید ہتھیار استعمال نہیں کیے ہیں۔ یہ بات ایران اس وقت کہہ رہا ہے جب آپریشن ٹرو پرومس-4 کی ہر لہر میں وہ ایسی میزائلیں داغ رہا ہے جو اسرائیل اور امریکہ کے ایئر ڈیفنس سسٹم کو تھکا رہی ہیں۔ ایران کے ریولوشنری گارڈز کے کمانڈر اِن چیف کے مشیر ابراہیم جباری کے مطابق تہران کے پاس میزائلوں کی نئی اور زیادہ جدید نسل موجود ہے جنہیں ابھی تک جنگ میں استعمال نہیں کیا گیا۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ جن میزائلوں سے تہران تباہی مچا چکا ہے وہ نسبتاً پرانی ٹیکنالوجی کے ہیں۔ خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے اور آبنائے ہرمز تک سنسنی پھیلانے کے بعد ایران کا کہنا ہے کہ یہ تو صرف پرانے ہتھیار تھے، تو پھر نئے کتنے خطرناک ہوں گے؟ جباری نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران طویل عرصے تک جنگ لڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق خطے میں موجود امریکی فوجی ڈھانچوں پر حملوں میں تقریباً 70 فیصد امریکی اڈوں اور ہیڈکوارٹرز کو نقصان پہنچایا جا چکا ہے۔اب تک جنگ میں استعمال ہونے والی میزائلیں
سیجل - 2 میزائل: تقریباً 2000 کلومیٹر رینج، دو مرحلوں والی ٹھوس ایندھن کی بیلسٹک میزائل۔
فتاح - 1 میزائل: ایران کی ہائپر سونک بیلسٹک میزائل، تقریباً 1400 کلومیٹر رینج اور ایئر ڈیفنس سے بچنے کی صلاحیت۔
خیبر شکن میزائل : تقریباً 1450 کلومیٹر رینج، ٹھوس ایندھن والی درمیانی فاصلے کی بیلسٹک میزائل جو آخری مرحلے میں دفاعی نظام سے بچنے کے لیے راستہ بدل سکتی ہے۔
حاج قاسم: تقریباً 1400 کلومیٹر رینج، زیادہ درستگی کے لیے تیار کی گئی نئی نسل کی میزائل۔
Dezful: تقریباً 1000 کلومیٹر رینج، فتح خاندان کی طویل فاصلے تک مار کرنے والی میزائل۔
Zolfaghar: تقریباً 700 کلومیٹر رینج، تیز ردِعمل اور کم وارننگ ٹائم والی میزائل۔
Qiam-1: تقریباً 800 کلومیٹر رینج، مائع ایندھن والی قلیل فاصلے کی بیلسٹک میزائل۔
شہاب میزائل: پرانے مگر اب بھی استعمال ہونے والے بیلسٹک نظام۔
عماد / غدر میزائل: درمیانی فاصلے کی طویل رینج بیلسٹک میزائلیں۔
پرویہ کروز میزائل: زمین سے داغی جانے والی کروز میزائلیں۔
ایران اب کن ہتھیاروں کی بات کر رہا ہے؟
ایران تکنیکی میدان میں کتنا آگے بڑھ چکا ہے، یہ دنیا دیکھ چکی ہے اور وہ اپنی صلاحیت کو مسلسل بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایران کی اہم فوجی فورس آئی آر جی سی کے مطابق انہوں نے اپنی میزائل حملوں کی اسی لہر سے امریکہ کے طاقتور تھاڈ ایئر ڈیفنس سسٹم کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔
سال 2025 میں ہونے والی بارہ دن کی لڑائی اور اس کے بعد 2026 کے تنازع کے دوران کئی امریکی اور مغربی ہتھیاروں کے ملبے ایران کے ہاتھ لگے۔ اب ایران ان ہتھیاروں کی ریورس انجینئرنگ کر رہا ہے، یعنی ان کی ٹیکنالوجی کو سمجھ کر اسی جیسی یا اس سے ملتی جلتی ٹیکنالوجی تیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکہ کے طاقتور بنکر بسٹر بموں میں سے ایک GBU-57 Massive Ordnance Penetrator کے کچھ حصے ایران کے جوہری مقامات پر بغیر پھٹے ملے۔ ایرانی ماہرین ان بموں کا مطالعہ کر رہے ہیں تاکہ اگلی نسل کے وارہیڈ کی ٹیکنالوجی کو سمجھ سکیں اور مستقبل میں ایسے حملوں سے بچاؤ کی حکمت عملی بنا سکیں۔
اس کے علاوہ GBU-39B Small Diameter Bomb کے کچھ حصے بھی ایران تک پہنچے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ دسمبر 2025 میں لبنان کی تنظیم حزب اللہ نے اسرائیل کے گرائے گئے اس بم کے حصوں اور تصاویر کو ایران تک پہنچایا۔ اس سے ایرانی سائنس دانوں کو اس جدید ہتھیار کی ٹیکنالوجی سمجھنے کا موقع ملا۔ایران کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اسے امریکہ کے جدید ریڈار سسٹم سے جڑے کچھ حصے بھی ملے ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ ان میں THAAD میزائل ڈیفنس سسٹم سے متعلق آلات بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ ان نظاموں کا مطالعہ کر کے ایران اپنے میزائل اور ریڈار سسٹم کو مزید بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
دبئی ایئرپورٹ کے قریب تیل ٹینکر پر ڈرون حملہ، فلائٹ آپریشن عارضی طور پر معطل، سیکیورٹی اقدامات سخت
دبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ڈرون کے ایک تیل ٹینکر سے ٹکرانے کے بعد پیش آنے والے واقعے کے باعث تمام پروازوں کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ فیصلہ مسافروں اور عملے کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے احتیاطی اقدام کے طور پر لیا گیا۔ واقعے کے بعد ہوائی اڈے پر سیکیورٹی اقدامات سخت کر دیے گئے ہیں اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ دبئی ایئرپورٹ انتظامیہ نے پیر کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا کہ دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ (ڈی ایکس بی) پر تمام پروازوں کو عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ مسافروں اور عملے کی حفاظت کو اولین ترجیح دیتے ہوئے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی پروازوں کی تازہ ترین معلومات کے لیے متعلقہ ایئرلائنز سے براہ راست رابطہ کریں۔دبئی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بھی مسافروں کے لیے ایک ایڈوائزری جاری کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ مسافر اپنی پروازوں کے شیڈول کے بارے میں تازہ اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے اپنی ایئرلائن سے رابطے میں رہیں۔ حکام کے مطابق صورتحال معمول پر آنے تک حفاظتی اقدامات برقرار رکھے جائیں گے۔ دبئی میڈیا آفس نے بھی سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ جیسے ہی مزید معلومات دستیاب ہوں گی، انہیں سرکاری ذرائع کے ذریعے عوام کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔ حکام نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر مصدقہ خبروں پر توجہ نہ دیں اور صرف سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی اطلاعات پر اعتماد کریں۔
اطلاعات کے مطابق دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ایک ڈرون ایک تیل کے ٹینکر سے ٹکرا گیا تھا جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایمرجنسی سروسز کو فوری طور پر متحرک کر دیا گیا۔ فائر بریگیڈ اور دیگر امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور مختصر وقت میں آگ پر قابو پا لیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ دبئی سول ڈیفنس کی ٹیموں کو فوری طور پر تعینات کیا گیا تھا تاکہ آگ کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔ حفاظتی اقدامات کے باعث قریبی علاقوں میں سیکیورٹی الرٹ بھی جاری کیا گیا۔ خوش قسمتی سے اس واقعے میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
ادھر اس واقعے کے اثرات بین الاقوامی پروازوں پر بھی دیکھنے کو ملے۔ بھارت کے شہر کوچی سے دبئی جانے والی امارات ایئرلائن کی ایک پرواز کو راستے ہی سے واپس لوٹنا پڑا۔ اطلاعات کے مطابق پرواز کو دبئی ایئرپورٹ کی اچانک بندش کی اطلاع ملنے کے بعد واپس آنے کی ہدایت دی گئی۔ کوچین انٹرنیشنل ایئرپورٹ لمیٹڈ کے ترجمان نے بتایا کہ امارات کی پرواز ای کے 533 صبح تقریباً ساڑھے چار بجے 325 مسافروں کو لے کر کوچی سے روانہ ہوئی تھی۔ تاہم راستے میں ہی اسے واپس لوٹنے کی ہدایت دی گئی جس کے بعد طیارہ بحفاظت کوچی واپس آ گیا۔ دریں اثنا متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے بتایا ہے کہ حالیہ کشیدگی کے دوران اب تک چھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں چار عام شہری اور دو فوجی اہلکار شامل ہیں۔ وزارت کے مطابق دو فوجیوں کی موت ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں ہوئی جو تکنیکی خرابی کے باعث پیش آیا تھا۔ حکام نے صورتحال پر گہری نظر رکھنے کا اعلان کیا ہے۔