زیراکس کارپوریٹرس، ہوشیار رہو، نئے ترمیم شدہ قانون کی وجہ سے اب بہت سی پابندیاں ہیں، اس لیے ہوشیار رہیں......
امراوتی، جمعرات، 29 جنوری، 2026
بیوی کارپوریٹر ہے، شوہر نگران ہے، اگر وہ اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرے گی تو اپنا عہدہ کھو دے گی!
پتیراج، ہوشیار رہیں: شکایت موصول ہونے پر ڈویژنل کمشنر کے ذریعے جانچ کرائی جائے گی۔
لوک مت نیوز نیٹ ورک
امراوتی: حکومت اور عدلیہ نے بلدیاتی اداروں میں خواتین کے لیے ریزرویشن کے اصل مقصد کو حقیقت بنانے کے لیے فیصلہ کن قدم اٹھائے ہیں۔ اگر کوئی منتخب کارپوریٹر، خاتون سرپنچ، سٹی صدر یا میئر اپنے شوہروں یا قریبی رشتہ داروں کے کام میں بالواسطہ یا بلاواسطہ مداخلت کرتا ہے تو متعلقہ رکن کو نااہل قرار دیا جا سکتا ہے۔
اگرچہ میونسپل کارپوریشنوں میں خواتین کے لیے ریزرویشن ہے، لیکن یہ شکایات بڑھ رہی ہیں کہ کئی جگہوں پر اصل انتظام شوہروں یا رشتہ داروں کے ہاتھ میں ہے۔ اگر کسی کارپوریٹر کے شوہر یا رشتہ دار میونسپل کارپوریشن کے معاملات میں براہ راست مداخلت کرتے ہیں تو کارپوریٹر کی حیثیت خطرے میں پڑ جائے گی۔ حکومت نے اس سلسلے میں واضح احکامات جاری کرتے ہوئے کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔
خواتین کو سیاسی اور سماجی میدانوں میں مردوں کے مساوی مواقع فراہم کرنے اور اقتدار میں ان کی براہ راست شرکت بڑھانے کی نیک نیتی سے مقامی خواتین کے لیے 50 فیصد ریزرویشن نافذ کیا گیا لیکن بلدیاتی سیاست میں شوہروں، بیٹوں یا رشتہ داروں کا عمل دخل بڑھ گیا ہے۔ اس کو روکنے کے لیے حکومت کو سخت قدم اٹھانا چاہیے اور اگر کوئی کارپوریٹر کارپوریٹر کے کام میں مداخلت کرتا ہے تو متعلقہ کارپوریٹر کو اپنا عہدہ کھونا پڑے گا۔
قانون اور حکومتی حکم کیا کہتا ہے؟
میونسپل کارپوریشن ایکٹ اور ریاستی حکومت کے احکامات کے مطابق صرف منتخب نمائندہ ہی تمام اختیارات استعمال کرنے کا حقدار ہے۔ اگر کوئی دوسرا شخص نمائندے کے نام پر کام کرے گا تو اسے قانون کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔
سرکاری کام میں رکاوٹ
اجلاسوں میں شرکت کرنا یا بغیر اجازت فائلوں کو ہینڈل کرنا جرم سمجھا جاتا ہے۔ اگر آپ عوامی نمائندہ ہونے کا دکھاوا کرتے ہیں اور اپنے اختیار کا استعمال کرتے ہیں، چاہے آپ نہ ہوں، آپ پر دھوکہ دہی کا الزام لگایا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں ریاستی حکومت کی طرف سے ایک حکم جاری کیا گیا ہے۔
اصل طاقت شوہروں اور رشتہ داروں کے ہاتھ میں ہے۔
کارپوریٹرس کے نام پر عہدے ہونے کے باوجود بعض کارپوریٹرس کے شوہر اور رشتہ دار انتظامیہ سے خط و کتابت، عہدیداروں سے رابطہ اور ورک آرڈر دینے کے ذمہ دار ہیں۔ ماضی میں بھی اس نوعیت کی شکایات آتی رہی ہیں۔ اب اس میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔
نظام کے ہاتھ مضبوط ہو چکے ہیں۔
اس فیصلے سے کمشنر، محکمہ کے سربراہ اور ویجیلنس کمیٹیوں کو براہ راست تحقیقات اور کارروائی کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ وہ مشکوک کیسز کا از خود نوٹس لے سکیں گے۔ اگر جانچ میں کوئی سچائی سامنے آتی ہے تو متعلقہ کارپوریٹر کی رکنیت خطرے میں پڑنے کا خدشہ ہے۔
'وہ' منتخب ہوئی، لیکن ہار 'اس' کے گلے میں تھا...
انتخابی نتائج کا اعلان
اس کے بعد سے جیتنے والے امیدواروں کے لیے میٹنگز اور تہنیتی پروگرام منعقد کیے گئے ہیں۔ جب ووٹر اور حامی مبارکباد دینے آتے ہیں تو خواتین کارپوریٹرس کے بجائے ان کے شوہر ایوارڈ اور نیک تمناؤں کو قبول کرنے کے لیے آگے آتے نظر آتے ہیں۔
خواتین کے لیے 50 فیصد ریزرویشن
بلدیاتی انتخابات میں 50 فیصد ریزرویشن کے باوجود خواتین نے اوپن کیٹیگری سے جیت کر اس ریزرویشن کو 50 فیصد تک پہنچا دیا ہے۔ اس لیے نتائج بتاتے ہیں کہ اس الیکشن میں خواتین کی نشستوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
اگر مداخلت کی گئی تو پوزیشن کھونے کا خوف
اگر کسی خاتون نمائندے کا شوہر یا رشتہ دار اس کے سرکاری کام میں براہ راست مداخلت کرتا ہے تو اس نمائندے کو نااہل قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ قانون کے تحت بدتمیزی سمجھا جاتا ہے۔ اپنے شوہر کو انتظامی اجلاسوں میں ساتھ لے جانا یا اس کے شوہر کا خود میٹنگز کروانا اختیارات کا غلط استعمال ہے۔
شکایات کی جانچ کی جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اب اگر کوئی باشعور شہری یا اپوزیشن رکن کسی خاتون نمائندے کے شوہر کی مداخلت کی ویڈیوز، تصاویر یا دستاویزی ثبوت پیش کرے گا تو اس کی تحقیقات کی جائیں گی اور اگر حقائق سامنے آئے تو کارروائی کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے۔
لحد میں عشق رخ شہ کا داغ لے کے چلے ..........
اندھیری رات سنی تھی ، چراغ لے کے چلے ...............
آہ ......... !!!
سلیم بھائی غازیانی ........ ،
ازقلم : شکیل احمد سبحانی
یہ نظام قدرت ہے .....
اس دنیا میں
لوگ آتے ہیں ،
اور
اپنی عمر تمام کرکے
چلے جاتے ہیں .........
جو لوگ
اپنے لیے جیتے ہیں ،
ان کی میتوں کے ساتھ ان کی زندگی کی کہانی بھی ہمیشہ ہمیش کے لیے دفن ہوجاتی ہے .......
لیکن
جو لوگ
اللہ عزوجل اور اس کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے کی غرض سے .....
دوسروں کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں ....... ،
مریضوں کی تیمار داری کرتے ہیں ......
مذہب و ملت کی خدمت کرتے ہیں ..........
غریبوں کی معاونت کرتے ہیں ....... ،
بے سہاروں کا سہارا بنتے ہیں ........ ،
ان کا نام ان کے انتقال کے بعد بھی زندہ رہتا ہے .....
ان کا تذکرہ لوگوں کی زبانوں پر جاری رہتا ہے ....
دنیا خیر کے ساتھ انہیں یاد کرتی ہے ......... ،
ان کے لیے ایصال ثواب اور دعائے مغفرت کا سلسلہ جاری رہتا ہے ..........
سلیم بھائی غازیانی کا شمار ایسے ہی لوگوں میں ہوتا ہے ،
جو اپنی بے لوث دینی اور سماجی خدمات کے لیے یاد کیے جاتے رہیں گے ......
...........................................
ایک سچے
عاشق رسول
کی رحلت ..... !!!
جب تری یاد میں دنیا سے گیا ہے کوئی .......
جان لینے کو لہن بن کے قضا آئی ہے ...........
سلیم بھائی غازیانی کا سب سے بڑا وصف یہی تھا کہ وہ اک اچھے مسلمان اور سچے عاشق رسول تھے ، حضور سید عالم مصطفے جان رحمت صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا عشق ان کی زندگی اور ان کی گفتگو سے ہمیشہ جھلکتا تھا ، اس عظیم ترین نعمت کے حصول پر وہ اپنے رب کا شکر ادا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہی دنیا اور آخرت کا سہارا ہے ، سیدنا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں قادری بریلوی علیہ الرحمہ کے لکھے نعتیہ کلام کو بصد شوق سنا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق و محبت کی جو لذت اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے کلام کو سن کر ملتی ہے ، اس کی بات ہی کچھ اور ہے .....
اللہ تعالیٰ نے انہیں بہت عزت اور بڑی شہرت عطا کی تھی ، لیکن اس کے باوجود وہ ہر کسی سے بڑی عاجزی اور انکساری کے ساتھ ملتے تھے ، یہ ان کی شخصیت کی ایسی خوبی تھی جو انہیں دوسروں سے ممتاز کرتی تھی ، ......
...........................................
میمن برادری
کا
نایاب ہیرا .............. !!!
شہر مالیگاؤں کی میمن برادری کی نمائندہ شخصیات میں آپ کا شمار ہوتا تھا ، وہ میمن جماعت کی ترقی اور تنظیم سازی کے لیے ہمیشہ کوشاں رہتے تھے ، اگر کہا جائے کہ وہ میمن برادری کا اک ایسا نایاب ہیرا تھا جس نے نہ صرف مسلمانوں کے ہر طبقے میں بلکہ برادران وطن کے حلقوں میں بھی پہنچ کر اپنی برادری کا نام روشن کیا تو کوئی مبالغہ نہیں ہوگا ..........،
سماجی خدمت کا ایسا عظیم جذبہ ان کے دل میں موجود تھا ، جو انہیں کسی مخصوص قبیلے میں قید نہیں رہنے دیتا تھا ، یہی وجہ تھی کہ کبھی وہ میونسپلٹی اور کارپوریشن میں دکھائی پڑتے تھے، تو کبھی روٹری کلب کے ذریعے انسانیت کی خدمت کرتے نظر آتے تھے ، سرگرم سیاست میں حصہ لینے اور انتخابات میں اپنی کامیابی کا راز بتاتے ہوئے وہ خود کہتے تھے کہ میری اپنی برادری کے ووٹ ہی میرے حلقے میں کتنے تھے ؟ لیکن اس کے باوجود اگر میں الیکشن میں فتحیاب ہوتا رہا تو اس کا سہرا ہر برادری سے وابستہ ماؤں بہنوں، اور بزرگوں ، نوجوانوں کے سر جاتا ہے اور برادران وطن کے سر جاتا ہے ، جنہوں نے مذہب اور ذات برادری سے اوپر اٹھ کر مجھ پر اعتماد کیا ...... ،
...........................................
حضرت آمنہ ٹرسٹ
مالیگاؤں
اپنے
شفیق اور مہربان
سرپرست سے محروم ہوگیا .......
...........................................
سلیم بھائی غازیانی کا تعلق یوں تو اہل سنت و جماعت سے وابستہ سبھی اداروں اور جماعتوں سے تھا ، لیکن حضرت آمنہ ٹرسٹ مالیگاؤں سے جو آپ کا رشتہ تھا ، وہ خصوصی اہمیت کا حامل تھا ،
حضرت آمنہ ٹرسٹ مالیگاؤں کی سماجی و طبی خدمات اہلیان شہر کے لیے محتاج تعارف نہیں، شہر میں جاری پانچ اوپی ڈی سینٹرز سے ایک سال میں پچاس ہزار سے زائد مریضوں کو مفت دوائیں فراہم کرنے کی عظیم سعادت اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان سے اس ٹرسٹ کو حاصل ہوچکی ہے ، جب کہ شگر، بلڈ پریشر ، آرتھوپیڈک ، استھما ، کڈنی ڈائیلیسیس اور ہارٹ کے ایک ہزار مریض ایسے ہیں، جنہوں نے حضرت آمنہ ٹرسٹ مالیگاؤں کے دفتر پر پہنچ کر اپنا رجسٹریشن کروایا ہے ، جنہیں ہر ماہ مفت یا پھر انتہائی کم قیمتوں پر دوائیں فراہم کی جارہی ہیں ، یہ ساری خدمات ہوپس انڈیا ممبئی کے تعاؤن سے جاری ہیں ........
تقریباً دو سال قبل شہر میں طبی و سماجی خدمات کے لیے حضرت آمنہ ٹرسٹ مالیگاؤں کی تشکیل سلیم بھائی غازیانی اور دیگر اہم شخصیات سے مشاورت کے بعد کی گئی تھی ،
اس طرح روز اول سے ہی بطور سرپرست وہ حضرت آمنہ ٹرسٹ مالیگاؤں کو میسر رہے ،
اس سے بڑھ کر اور کیا بات ہوگی کہ اپنے بڑے ہی چہیتے اور لاڈلے بیٹے عبدالکریم کے نام کو حضرت آمنہ ٹرسٹ میں نہ صرف بطور رکن شامل کرنے کی انہوں نے اجازت دی بلکہ عبدالکریم کو ساتھ لے کر ٹرسٹ کی اہم نششتوں میں شامل بھی ہوتے رہے اور ٹرسٹ کے نوجوان اراکین کو یہ نصیحت بھی کرتے رہے کہ آپ سب نوجوانوں کو ہی مل کر اس پلیٹ فارم سے غریب اور ضرورت مند مریضوں کی خدمت کرنا ہوگی .......
...........................................
آخری ملاقات ........ !!!
سلیم بھائی غازیانی سے میری آخری ملاقات منگل کو عشاء کی نماز کے بعد مسجد مفتی اعظم میں ہوئی ، درود و سلام پڑھ کر میں جیسے ہی مڑا، انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مسجد کے صحن میں پہنچ کر مجھے بتایا کہ حاجی حبیب الرحمن کلینک کے افتتاح کا دعوت نامہ مجھے ملا تھا لیکن میں اس وجہ سے اس افتتاحی تقریب میں شریک نہیں ہوسکا کہ عامر غازیانی کی والدہ کی طبیعت بہت زیادہ علیل تھی ، نہیں معلوم کتنی زندگی باقی ہے ، بظاہر اب تب لگا ہوا ہے ، یہی وجہ تھی کہ میں آپ کی کال بھی ریسیو نہیں کرسکا ،
مفتی اعظم مسجد کا وہ منظر میری نظروں کے سامنے اب بھی پھر رہا ہے ، وہ تو ہشاش بشاش تھے ، عامر بھائی غازیانی کی والدہ کی فکر میں ڈوبے تھے ، مسجد سے نکل کر ہم لوگ مسجد سے متصل حضرت آمنہ ٹرسٹ کے دفتر پہنچے ، غلام فرید بھائی سے بھی گفتگو ہوئی ، ہوپس انڈیا ممبئی اور حضرت آمنہ ٹرسٹ مالیگاؤں کے پروجیکٹ روشنی کا بھی تذکرہ ہوا ، حاجی ریحان انور صاحب دھوراجی والا سے بھی انہوں نے فون پر بات کی اور روٹری کلب کے ذمہ داران سے پروجیکٹ روشنی کو لے کر ان کی جو گفتگو ہوئی اس کی تفصیل بیان کی ......
اسی دوران بسم اللہ مسجد سے متصل حضرت آمنہ ٹرسٹ کے دفتر ، زچہ بچہ اسکیم کے ہیلتھ سینٹر اور مدرسہ اہل سنت حجن زلیخا زینب کے تعمیری کام کا ذکر نکل گیا ، انہوں نے کہا چار پانچ دن گزر جانے جانے دیجیے ، میں آپ لوگوں کو کال کرتا ہوں ، ہم لوگ ممبئی اور اندور ان دو شہروں میں کچھ خاص لوگوں سے اس تعلق سے ملاقات کریں گے اور اس پروجیکٹ کو مکمل کروانے کی کوشش کریں گے .............،
زندگی نے ساتھ چھوڑ دیا ، لیکن ان کی نیک تمنائیں ان کے ساتھ رہیں گی ، اور رب عزوجل کے فضل سے انہیں اس کا بھی اجر ملتا رہے گا ، ان شاء اللہ تعالیٰ
...........................................
پروجیکٹ روشنی
کے لیے
آخر دم تک کوشش ......!!!
حاجی ریحان انور صاحب دھوراجی والا کی بس ابھی کال آئی ، انہوں نے بتایا کہ بدھ کو صبح نو بجے میری آخری بار اس وقت سلیم بھائی غازیانی سے پروجیکٹ روشنی کے متعلق گفتگو ہوئی جب وہ ناسک جانے کے لیے چاندوڑ سے گزر رہے تھے ، میں نے امین بھائی غازیانی سے ابھی جب معلومات لی تو انہوں نے بتایا کہ بدھ کو وہ ایک ضروری کام سے ناسک جارہے تھے ، اوجھر کے پاس ان کی طبیعت بگڑی اور جمعرات کو یہی ان کے انتقال کا سبب بنی ...........،
حاجی ریحان انور صاحب نے سلیم بھائی غازیانی کی رحلت کو ملت اسلامیہ کا عظیم نقصان قرار دیتے ہوئے گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا،
اور دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ پروجیکٹ روشنی کی نیکیوں میں سلیم بھائی غازیانی کو شامل رکھے ,
آمین
( واضح رہے کہ ہوپس انڈیا ممبئی نے پروجیکٹ روشنی کے تحت اب تک cataract کے ستائیس سو مریضوں کے آپریشن کروائے ہیں، مالیگاؤں میں روٹری کلب کے اشتراک سے ہوپس انڈیا ممبئی آنکھ کے مریضوں کے آپریشن کی منصوبہ بندی کر رہی تھی ، جس کے تحت سلیم بھائی غازیانی اور ڈاکٹر حامد اقبال نے روٹری کلب کے ذمہ داران رابطے میں تھے )
...........................................
تدفین :
ابھی دس بجے جلوس جنازہ ان کی رہائش گاہ واقع مصری خاں کے باڑہ سے نکلے گا ، مالیگاؤں کے بڑے قبرستان میں ان کی تدفین کی جائے گی ، دعا فرمائیں کہ اللہ عزوجل اپنے حبیب کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے
ان کی قبر پر اپنی رحمتیں نچھاور کرے ........
...........................................
نوری محفل :
دفتر رضا اکیڈمی پر ہر جمعہ کو شب دس بجے سے گیارہ بجے تک نعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نوری محفل کا انعقاد ہوتا ہے ......... ،
آج کی نوری محفل مرحوم سلیم بھائی غازیانی سے منسوب ہوگی ،
نوری محفل کے ساتھ ہی تعزیتی نششت کا بھی انعقاد ہوگا ......
آپ سے بھی شرکت کی گزارش ہے .......
.............
30/1/2026
بروز جمعہ
صحت کے لیے مفید فائبر اور پروٹین سے بھرپور 10 غذائیں کون سی ہیں؟
جب ہم صحت کے لیے مفید خوراک کی بات کرتے ہیں تو اس میں فائبر اور پروٹین سے بھرپور، کم کاربوہائیڈریٹس اور گلوٹن سے پاک کھانوں کی بات کرتے ہیں۔
اسی طرح یہ دیکھنے کے لیے کہ کوئی کھانے والی چیز صحت کے لیے کتنی مفید ہے، اس کا گلائسیمک انڈیکس بھی دیکھا جاتا ہے۔
گلائسیمک انڈیکس کیا ہے؟
این ڈی ٹی وی کے مطابق گلائسیمک انڈیکس (جی آئی) کاربوہائیڈریٹس سے بھرپور کھانوں کی رینکنگ کے لیے ہوتا ہے جس سے انسانی جسم میں بلڈ گلوکوز لیول پر پڑنے والے اثرات کو دیکھا جاتا ہے۔جن کھانوں میں گلائسیمک انڈیکس کی شرح 55 یا اس سے کم ہوتی ہے، وہ بلڈ گلوکوز میں بتدریج اضافہ کرتے ہیں جبکہ جن کھانوں میں گلائسیمک انڈیکس کی شرح 70 یا اس سے زیادہ ہوتی ہے وہ بلڈ شوگر لیول میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔
آئیے جانتے ہیں کم گلائسیمک انڈیکس والے کھانے کون سے ہیں۔
لال لوبیا
لال لوبیے میں گلائسیمک انڈیکس کی شرح 30 سے بھی کم ہوتی ہے۔ پروٹین سے بھرپور یہ لوبیا شمالی انڈیا کے کھانوں میں زیادہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس کی مشہور ڈِش راجما چاول ہے۔ راجما میں بھی آئرن، فاسفورس، وٹامن وغیرہ ہوتے ہیں۔
چنے
ہمارے کچن میں پکنے والی زیادہ چیزوں میں سے ایک چنے بھی ہیں۔ چنے پروٹین اور فائبر سے بھرپور ہوتے ہیں جن میں گلائسیمک انڈیکس کم ہوتا ہے۔
چنے ہماری ہڈیوں، دماغ اور دل کے لیے بھی مفید ہیں۔چیری
تازہ چیری میں گلائسیمک انڈیکس کی شرح 30 سے بھی کم ہوتی ہے لہذا آپ اسے اپنی خوراک میں شامل کر سکتے ہیں۔ چیری میں کیلوریز تو کم ہوتی ہیں لیکن ان میں وٹامن سی، پوٹاشیم، فائبر اور اینٹی آکسیڈنٹس بھرپور تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ ان سے جلد اور بال صحت مند ہوتے ہیں جبکہ بے خوابی سے بھی راحت ملتی ہے۔
مالٹے
وٹامن سی سے بھرپور مالٹے بھی ایک ایسا پھل ہے جسے ذیابیطس کے مریضوں کے لیے مفید قرار دیا جاتا ہے۔ ان میں گلائسیمک انڈیکس کا سکور 40 کے قریب ہوتا ہے۔ مالٹو میں کیلوریز کم ہوتی ہیں لیکن اینٹی آکسیڈنٹس جن میں سکوربک ایسڈ اور بِیٹا کیروٹین شامل ہیں، وہ پائے جاتے ہیں۔ مالٹے کھانے سے قوت مدافعت بڑھتی ہے اور بلڈ پریشر قابو میں رہتا ہے۔
سیب
پرانے سیبوں میں بھی گلائسیمک انڈیکس کم ہوتا ہے۔ سیب میں فروکٹوس، پولی فینولز اور اینتھوسیانن ہوتے ہیں۔ ان تمام چیزوں سے ذیابیطس ہونے کے خطرات کم ہوتے ہیں۔ سیب کھانا ہماری ہڈیوں، دانتوں، مسوڑوں اور ہاضمے کے لیے مفید ہے۔ سیب کھانے سے غیر صحت مند کولیسٹرول کم ہوتا ہے اور دل کی دھڑکن بہتر ہوتی ہے۔پالک
سبز پتوں والی کئی سبزیوں میں گلائسیمک انڈیکس کم ہوتا ہے۔ پالک غذائیت سے بھرپور سبزیوں میں سے ایک ہے جسے ہم اپنی خوراک میں شامل کر سکتے ہیں۔ آئرن اور فولیٹ سے بھرپور، پالک سے ہمیں طاقت ملتی ہے۔
مولی
ایک مولی کا گلائسیمک لوڈ ایک گرام گلوکوز کھانے کے برابر ہے۔ ہائپر ٹینشن کے شکار افراد کے لیے پوٹاشیئم سے بھرپور مولی کھانا نہایت مفید ہے۔ یہ سبزی ہمارے نظام انہضام اور دل کی دھڑکن کے لیے مفید ہے۔
گاجر
گاجر ایک اور سبزی ہے جسے ہمیں زیادہ کھانا چاہیے۔ گاجروں میں گلائسیمک انڈیکس 40 کے قریب ہوتا ہے اور یہ فائبر سے بھرپور ہوتی ہیں۔ یہ سبزی ہماری جِلد، آنکھوں، دل، دماغ اور ہاضمے کے لیے مفید ہے۔ اس سے بلڈ پریشر کو بھی قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔
سیاہ گندم
سیاہ گندم بھی صحت کے لیے مفید ایک منفرد خوراک ہے۔ اس میں فائبر اور اینٹی آکسیڈنٹس بھرپور تعداد میں ملتے ہیں۔ سیاہ گندم کے آٹے سے مزیدار پراٹھے، بسکٹ اور دیگر کھانے کی چیزیں بنائی جا سکتی ہیں۔جو
جو کا شمار ان کھانے والی چیزوں میں ہوتا ہے جن میں گلائسیمک انڈیکس نہایت کم ہوتا ہے۔ جو بھرپور مقدار میں اینٹی آکسیڈنٹس کے علاوہ مینگانیش، سیلینیئم، کاپر، فاسفورس اور میگنیشیئم پائے جاتے ہیں۔ اس میں بِیٹا گلوکنز پائے جاتے ہیں جو خراب کولیسٹرول کی سطح کو کم کرتے ہیں۔