Saturday, 31 January 2026

*🔴سیف نیوز بلاگر*




ایشان کشن کی طوفانی سنچری، India VS NewZealand بھارت نے نیوزی لینڈ کو 46 رنز سے شکست دے کر ٹی20 سیریز 4-1 سے جیت لی
ترووننت پورم: بھارت نے گرین فیلڈ انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے گئے پانچویں ٹی20 میچ میں نیوزی لینڈ کو 46 رنز سے شکست دے دی۔ اس جیت کے ساتھ ہی ٹیم انڈیا نے پانچ میچوں کی ٹی20 سیریز 4-1 سے اپنے نام کر لی۔ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کرتے ہوئے بھارتی ٹیم نے کپتان سوریہ کمار یادو اور ایشان کشن کی شاندار اور جارحانہ اننگز کی بدولت 5 وکٹوں کے نقصان پر 271 رنز بنائے۔ یہ ٹی20 کرکٹ میں بھارت کا تیسرا سب سے بڑا اسکور ہے۔

بھارت نے 48 رنز کے مجموعی اسکور پر اپنے دونوں اوپننگ بلے بازوں کی وکٹیں گنوا دی تھیں۔ اس کے بعد ایشان کشن نے کپتان سوریہ کمار یادو کے ساتھ تیسری وکٹ کے لیے 57 گیندوں پر 137 رنز کی شاندار شراکت قائم کرتے ہوئے ٹیم کو 185 رنز تک پہنچایا۔

سوریہ کمار یادو 30 گیندوں پر 6 چھکوں اور 4 چوکوں کی مدد سے 63 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ اس کے بعد ایشان کشن نے ہاردک پانڈیا کے ساتھ چوتھی وکٹ کے لیے 18 گیندوں پر 48 رنز جوڑے۔ ایشان کشن نے 43 گیندوں پر 10 چھکوں اور 6 چوکوں کی مدد سے 103 رنز بنائے، جو ان کے ٹی20 بین الاقوامی کیریئر کی پہلی سنچری تھی۔

ہاردک پانڈیا نے آخری اوورز میں جارحانہ بلے بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 17 گیندوں پر 4 چھکوں اور ایک چوکے کی مدد سے 42 رنز بنائے۔ نیوزی لینڈ کی جانب سے لاکی فرگوسن نے سب سے زیادہ 2 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ جیکب ڈفی، کائل جیمیسن اور مچل سینٹنر نے ایک، ایک وکٹ لی۔

272 رنز کے بڑے ہدف کے تعاقب میں اتری کیوی ٹیم 19.4 اوورز میں 225 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ مہمان ٹیم نے 17 رنز کے اسکور پر ٹم سیفرٹ (5) کی وکٹ گنوا دی تھی۔ اس کے بعد رچن رویندرا نے فن ایلن کے ساتھ دوسری وکٹ کے لیے 48 گیندوں پر 100 رنز کی شراکت قائم کر کے ٹیم کو سنبھالا۔

یہ شراکت نویں اوور کی آخری گیند پر ٹوٹ گئی، جب فن ایلن 38 گیندوں پر 6 چھکوں اور 8 چوکوں کی مدد سے 80 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ اس کے بعد نیوزی لینڈ کی بیٹنگ لڑکھڑا گئی۔ ڈیرل مچل نے 26 رنز جبکہ ایش سوڑھی نے 33 رنز بنائے، مگر ٹیم کو فتح دلانے میں ناکام رہے۔

ون ڈے سیریز 1-2 سے ہارنے کے بعد بھارت نے ٹی20 سیریز کے پہلے میچ میں نیوزی لینڈ کو 48 رنز سے شکست دی تھی۔ اس کے بعد دوسرے اور تیسرے میچ میں بالترتیب 7 وکٹوں اور 8 وکٹوں سے کامیابی حاصل کی۔ حالانکہ، چوتھے میچ میں نیوزی لینڈ نے 50 رنز سے جیت درج کر کے اپنی ساکھ بچائی۔









کم چکنائی اور نشاستے والی خوراک، طویل عمر کا راز؟

نئی تحقیق کے مطابق کم چکنائی اور کم نشاستے یعنی کاربوہائیڈریٹس والی غذا صحت مند زندگی گزارنے اور عمر درازی میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
ہیلتھ لائن میگزین کے مطابق دل کے امراض، مختلف قسم کے کینسر اور قبل از وقت موت کی ایک وجہ نشاستے اور چکنائی سے بھرپور غذا ہو سکتی ہے۔
بین الاقوامی جریدے جرنل آف انٹرنل میڈیسن میں شائع ہونے والی تحقیق میں کم نشاستے اور کم چکنائی والی غذا کے بیماریوں اور شرح اموات پر اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔اس تحقیق میں ادھیٹر اور بڑی عمر کے افراد کو شامل کیا گیا۔
تحقیق میں شامل افراد کو کم چکنائی والی صحت مند خوراک دی گئی جس میں سیچوریٹڈ فیٹس کی کم سے کم مقدار شامل تھی جبکہ نباتاتی ذرائع سے حاصل کردہ پروٹین اور ہائی کوالٹی کاربوہائیڈریٹس کو استعمال میں لایا گیا۔
اس سے پہلے ہونے والے کلینکل ٹرائلز میں یہ بات سامنے آئی کہ کم چکنائی اور کاربوہائیڈریٹس والی غذا سے وزن میں کمی اور دل کی صحت میں بہتری دیکھی گئی تھی۔
تاہم اس نئی تحقیق سے سامنے آنے والے حقائق زیادہ پیچیدہ ہیں۔
تحقیق کے مصنفین کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہمارے نتائج اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ ادھیڑ اور بڑی عمر کے لوگوں میں موت کی وجہ بننے والی بیماریوں سے بچنے کے لیے کم چکنائی اور کم سیچوریٹڈ فیٹس والی صحت مند غذا لینے کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔‘
امریکی ماہر غذائیت لون بین اشر نے ہیلتھ لائن میگزین کو بتایا کہ کسی بھی انسان کی زندگی میں خوراک کی کوالٹی کا بہت بڑا کردار ہوتا ہے، جس سے اس کی صحت بہتر یا بگڑ سکتی ہے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی شخص باقاعدگی سے کم نشاستے اور چکنائی والی خوراک لیتا ہے جس میں اچھی کوالٹی کے کاربوہائیڈریٹس، نباتاتی ذرائع سے حاصل کردہ پروٹین، وٹامن، منرلز اور فائبر شامل ہو تو بہت ساری دائمی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے جن میں ہائپر ٹینشن، دل کے امراض، شوگر اور کینسر شامل ہیں۔
ماہر غذائیت کے مطابق فائبر سے بھرپور غذاؤں میں تمام سبزیاں بالخصوص مٹر، آلو، پھلیاں یا لوبیا، دالیں، جو کا دلیہ اور تمام اناج شامل ہیں۔
ایک اور ماہر غذائیت کرسٹین کرپاٹرک نے بتایا کہ یہ بہت ضروری ہے کہ چکنائی صحت مند ذرائع سے حاصل کی جائے جیسے ڈرائی فروٹ اور زیتون کا تیل۔
انہوں نے کہا کہ ہر تحقیق میں ڈرائی فروٹ اور زیتون سے حاصل ہونے والی چکنائی کو فائدہ مند سمجھا جاتا ہے۔
’نشاستہ یا چکنائی لینے میں کوئی خرابی نہیں ہے لیکن کس ذرائع سے حاصل کی جا رہی ہے وہ انسانی صحت کا تعین کرتے ہیں۔‘










بجٹ سے پہلے بڑا جھٹکا، اتنے روپئے مہنگا ہوگیا گیس سلینڈر، جانئے مکمل تفصیل
نئی دہلی: بجٹ 2026 پیش ہونے سے پہلے ہی حکومت نے عوام اورتاجروں کو بڑا جھٹکا دے دیا ہے۔ حکومت نے 19 کلوگرام والے کمرشیل ایل پی جی سلینڈرکے دام 50 روپئے دیئے ہیں۔ تاہم, 14 کلوگرام والے گھریلورسوئی گیس سلینڈرکی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ گھریلوسلینڈراب بھی 8 اپریل 2025 کوطے شدہ پرانے ریٹ پرہی مل رہے ہیں۔دہلی سے چنئی تک کمرشیل سلینڈروں کی قیمت میں اضافہ

رسوئی گیس مہنگی ہونے کے بعد دہلی میں اب 19 کلوگرام والے ایل پی جی سلینڈرکی قیمت 1740.50 روپئے ہوگئی ہے۔ کولکاتا میں اس کی قیمت بڑھ کر1844.50 روپئے ہوگئی ہے۔ ممبئی میں یہ اب 1692.00 روپئے میں ملے گا، جوپہلے 1642.50 روپئے تھا۔ چنئی میں اس کی قیمت اب 1899.50 روپئے ہوگئی ہے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ 50 روپئے کا یہ اضافہ کمرشیل سلینڈرپرکی گئی ہے، جن کا استعمال ہوٹل، ریسٹورنٹ، ڈھابہ اور دیگر تجارتی کاموں میں ہوتا ہے۔

گھریلو ایل پی جی سلینڈر کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں

گھروں میں استعمال ہونے والے 14.2 کلوکے ایل پی جی سلینڈرکی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ اس میں آخری بار8 اپریل 2025 میں تبدیلی ہوئی تھی۔ فی الحال الگ الگ شہروں میں 14 کلو والے گھریلوسلینڈرکی قیمتیں الگ الگ ہیں۔ دہلی میں 853 روپئے، کولکاتا 879 روپئے، ممبئی 852.50 روپئے، چنئی 868.50 روپئے، لکھنو میں 890.50 روپئے، احمدآباد میں 860 روپئے، حیدرآباد میں 905 روپئے، وارانسی میں 916.50 روپئے اور پٹنہ میں 591 روپئے کی قیمت ہے۔

ہرماہ کی پہلی تاریخ کو لیا جاتا ہے قیمتوں کا جائزہ

پٹرولیم مارکیٹنگ سے متعلق سرکاری کمپنیاں ہرماہ کی پہلی تاریخ کو ایل پی جی سلینڈروں کی قیمتوں کا جائزہ لیتی ہیں۔ اس سے پہلے جنوری میں 19 کلو والے کمرشیل گیس سلینڈر کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا۔ وہیں، گزشتہ سال نومبراوردسمبرمیں ان سلینڈروں کی قیمتوں میں بالترتیب پانچ اور10 روپئے کی کٹوتی کی گئی تھی۔


*🔴سیف نیوز بلاگر*






ٹکراؤ ٹالنے کی کوشش ، ایران۔امریکہ بات چیت کے فریم ورک پرکررہے ہیں کام
بڑھتی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ایران اورامریکہ بات چیت کے فریم ورک پر کام کررہے ہیں ۔ دونوں ملکوں کی جانب سے اس بات کی تصدیق کی گئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ،ان کا کہنا ہے کہ ممکنہ ٹکراؤ کو ٹالنے کے لیے بات چیت کے فریم ورک پر کام جاری ہے۔

ایران کے قومی سلامتی کے مشیر علی لاریجانی نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ میڈیا کے ذریعہ جنگ کا مصنوعی ماحول بنائے جانے کے برعکس بات چیت کا خاکہ تیار کیا جارہا ہے۔

ٹرمپ نے کہا ایران کررہا ہے بات
ادھرمیڈیا رپورٹس کے مطابق ،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران ،امریکہ سے بات چیت کررہا ہے۔ ایئرفورس ون پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ جوہری ہتھیاروں کو چھوڑ کر ایران کو سمجھوتہ کرنا چاہتے لیکن انھیں نہیں پتہ آیا ایران ایسے کسی معاہدے پر دستخط کرے گا۔تاہم انھوں نے یہ ضرور کہا کہ ایران،امریکہ بات بات چیت کررہا ہے اور سنجیدگی سے بات کررہا ہے۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ وہ ایسی بات چیت کریں گے جو قابل قبول ہو۔
انھوں نے مزید کہا کہ منصوبہ یہ ہے کہ وہ ہم سے بات کر رہے ہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ کیا کوئی حل نکل سکتا ہے۔ بصورت دیگر، ہمیں دیکھنا ہو گا کہ وہاں کیا ہوتا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کا مزید کہنا ہے کہ ، اس موقع پر ارماڈا کا بھی ذکر کیا جویو ایس ایس ابراہم لنکن جنگی طیارہ بردار بحری جہاز کی سربراہی میں ایران کی جانب پیش قدمی کررہا ہے۔انھوں کہا کہ ہمارے پاس بہت بڑے اور طاقت وربحری جہاز ایران کی سمت بڑھ رہے ہیں ۔
دونوں جانب سے بیان بازیوں اور دھمکیوں کے بیچ فی الحال سفارت کاری کو مزید موقع دینے کا اشارہ مل رہا ہے جو ایک مثبت قدم ہے۔












Budget 2026 : سیمی کنڈکٹرز، ایم ایس ایم ای، طبی سیاحت اور انفراسٹرکچر پر بڑا زور
بجٹ 2026 کی جھلکیاں :سیمی کنڈکٹرز، فارما، نایاب معدنیات، انفراسٹرکچر، مینوفیکچرنگ اور پاور ریفارمز پر بڑا زور
مرکزی بجٹ تقریر 2026 کی اہم جھلکیاں اور اعلانات : وزیر خزانہ نرملا سیتارامن نے کہا کہ بھارت کی معاشی سمت استحکام، ترقی اور معتدل مہنگائی سے عبارت رہی ہے۔سیتارامن نے کہا کہ بھارت کی معاشی ترقی کا سفر استحکام، مضبوط نمو اور قابو میں مہنگائی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے کہا :

’’ہم نے دور رس ساختی اصلاحات نافذ کی ہیں۔ حکومت نے بے یقینی کے بجائے فیصلہ کن اقدام اور بیان بازی کے بجائے اصلاحات کو ترجیح دی ہے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں تقریباً 7 فیصد کی بلند شرح نمو حاصل ہوئی ہے۔‘‘

وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر 2026 کی اہم جھلکیاں

#### بجٹ کو ’’یووا شکتی‘‘ سے جڑا قرار دیا
نرملا سیتارامن نے بجٹ کو **’’**یووا شکتی پر مبنی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مرکز غریب، محروم اور پسماندہ طبقات ہیں۔

انہوں نے کہا :

’’عوام کی امنگوں کو پورا کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ اس تین سطحی حکمت عملی کے لیے ایک معاون نظام ضروری ہے۔‘‘

ٹیکسٹائل سیکٹر پر خصوصی توجہ
وزیر خزانہ نے ٹیکسٹائل صنعت میں توسیع اور روزگار بڑھانے کے لیے ایک نئی اسکیم کا اشارہ دیا۔

اہم اعلانات :

ٹیکسٹائل کلسٹرز کو جدید بنانے کے لیے خصوصی منصوبہ

’’چیلنج موڈ‘‘ میں میگا ٹیکسٹائل پارکس کا قیام

مہاتما گاندھی گرام سماج انیشی ایٹو کے تحت کھادی اور ہنڈی کرافٹس کی حمایت

خود کفالت کے لیے نیشنل فائبر اسکیم کی تجویز

انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن 2.0

بھارت میں سیمی کنڈکٹر صنعت کو فروغ دینے کے لیے وزیر خزانہ نے ایک بڑے منصوبے کا اعلان کیا۔
اہم نکات :

صنعت کی قیادت میں تحقیق اور تربیتی مراکز کا قیام

سیمی کنڈکٹر مشن کے لیے بجٹ میں اضافہ کرکے 40,000 کروڑ روپے کرنے کی تجویز

معدنیات سے مالا مال ریاستوں جیسے اوڈیشہ، کیرالہ، آندھرا پردیش اور تمل ناڈو کی خصوصی مدد

آبی راستوں (Waterways) کی ترقی

وزیر خزانہ نے نوجوانوں کے لیے آبی راستوں سے متعلق تربیتی ادارے قائم کرنے کی تجویز دی۔مزید اقدامات :

اوڈیشہ کے معدنی علاقوں کو آبی راستوں سے جوڑنے کی کوشش

اگلے پانچ برسوں میں 20 نئے آبی راستوں کو فعال بنانے کا ہدف

طبی انفراسٹرکچر اور میڈیکل ٹورزم

سیتارامن نے صحت کے شعبے میں بڑے اقدامات کا اعلان کیا۔

اہم اعلانات :

آیوش فارمیسیز اور ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹریز کی اپ گریڈیشن

نجی شعبے کے تعاون سے 5 میڈیکل ٹورزم ریجنل ہبز کا قیام

ان ہبز میں آیوش مراکز شامل ہوں گے

آئندہ برسوں میں 1.5 لاکھ کیئر گیورز کو تربیت دی جائے گی

MSME سیکٹر کے لیے نئی مضبوط پالیسی

بجٹ 2026 میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (MSMEs) کے لیے نئی سرمایہ کاری اور سہولتوں کا اعلان کیا گیا۔

اہم اقدامات :

مالی بحران اور پرانی ٹیکنالوجی سے متاثرہ 200 روایتی صنعتی کلسٹرز کی بحالی

10,000 کروڑ روپے کا SME Growth Fund

Performance-linked incentives کے تحت کمپنیوں کو بڑھانے میں مدد

Self-Reliant India Fund میں مزید 2,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری

پاور سیکٹر اور مالیاتی اداروں کی مضبوطی

وزیر خزانہ نے بجلی اور مالیاتی نظام میں اصلاحات کے لیے کئی اقدامات تجویز کیے۔

اہم نکات :

میونسپل کارپوریشنز کے لیے بڑے بانڈ اجرا پر 100 کروڑ روپے تک مراعات

REC Ltd اور Power Finance Corporation (PFC) کی تنظیم نو

عوامی مالیاتی اداروں کو مضبوط بنانے کا منصوبہ

‘Banking for Viksit Bharat’ کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی کے قیام کا اعلان













اسرائیل نے پھرکی جنگ بندی کی خلاف ورزی،فضائی حملوں میں 6 بچوں سمیت 30 فلسطینی جاں بحق
اسرائیل کے فضائی حملے میں کم سے کم 30فلسطینی جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔اسرائیل نے حماس پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ، خان یونس میں بے گھرافراد کے خیموں پر سنیچر کو اسرائیلی فضائیہ نے حملہ کیا۔اس حملے میں تین بچوں سمیت سات فلسطینی ہلاک ہوگئے۔

خیموں اور پولیس اسٹیشن کوبنایا گیا نشانہغزہ شہر کے مغربی حصے میں رمل علاقے میں کیے گئے حملے میں کیے گئے ایک اور حملے میں تین بچوں سمیت پانچ فلسطینی جاں بحق ہوگئے۔ غزہ شہر کے نزدیک دراج علاقے میں ہوئے اسرائیلی حملے میں آٹھ فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔اسرائیلی حملوں میں رہائشی گاہوں ، خیموں اور ایک پولیس ا سٹیشن کو نشانہ بنایا گیا۔

رفح کراسنگ کھولنے کا اعلان

میڈیا رپورٹس کے مطابق، شیخ رضوان میں پولیس اسٹیشن میں کیے گئے حملے میں کم سے کم 14 افراد ہلاک ہوئے ہیں ان میں چار خاتون پولیس اہلکاراور دیگر شامل ہیں۔
یہ حملے رفح کراسنگ کھلنے سے ایک دن قبل کیے گئے۔ آج (اتوار) رفح کراسنگ کو کھول دیا جائے گا۔

خیال رہے کہ جمعے کے روزاسرائیل نے غزہ اور مصر کے درمیان واحد زمینی راستہ رفح کراسنگ کو یکم فروری سے دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا ہے۔خیال رہے کہ رفح کراسنگ مئی 2024 کے بعد پہلی بار غزہ میں داخلے اور باہر جانے کا مؤثر راستہ بحال ہوگا۔حماس نے اسرائیلی حملوں کی مذمت
اسرائیل کے حملوں کی حماس نے مذمت کی ہے۔اس سے امریکہ اور ثالثی کے عمل میں شامل ممالک سے اسرائیل پر حملہ روکنے کے لیے دباؤ ڈالنے کو کہا ہے۔ مصر اور قطر نے بھی اسرائیل کے تازہ حملوں کی مذمت کی ہے۔دونوں ممالک کا کہنا ہے کہ اس سے غزہ میں جاری امن کوششوں کو دھچکا پہنچے گا۔
غزہ حکومت کے میڈیا دفتر کا کہنا ہے کہ اکتوبر میں جنگ بندی کے نفاذ سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 524 فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں۔

Friday, 30 January 2026

*🔴سیف نیوز بلاگر*






پاکستان نے ایران جانے کے لئے پاسپورٹ اور ویزا لازمی کردیا۔ دہائیوں پرانا نظام ختم:کیاپاکستان اور ایران تعلقات میں کڑواہٹ آرہی ہے؟
ایران کے ساتھ کسی معاہدہ کے بغیرپاکستان نے ایکطرفہ کیا ہےفیصلہ:
منوج گپتاکی رپورٹ:

پاکستان نے ایران کے ساتھ سرحدی آمد و رفت کے لیے کئی دہائیوں سے جاری ون ڈاکومنٹ راہداری (Rahdari) نظام ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس نئے اقدام کے تحت اب پاکستان اور ایران کے درمیان سفر کرنے والے افراد کے لیے پاسپورٹ اور ویزا لازمی ہوگا۔

سرکاری ذرائع کے مطابق اس پالیسی کا نفاذ مرحلہ وار کیا جائے گا، جس کا آغاز 15 مارچ 2026 سے ہوگا جبکہ اس نظام کا باضابطہ افتتاح 31 مارچ 2026 کو متوقع ہے۔

یہ فیصلہ سرحدی علاقوں میں رہنے والی آبادی کے لیے ایک بڑی تبدیلی ہے کیونکہ ماضی میں بلوچستان اور ایران سے متصل علاقوں کے رہائشی صرف ایک مقامی دستاویز کے ذریعے آسانی سے سرحد عبور کر سکتے تھے۔

سرحدی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ
سینئر انٹیلی جنس ذرائع نے CNN-News18 کو بتایا کہ یہ فیصلہ پاکستان کے سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے بڑھتے دباؤ کے تحت کیا گیا ہے تاکہ سرحد پر کنٹرول سخت کیا جا سکے۔

حکام کے مطابق ایران کی سرحد کو طویل عرصے سے ایک حساس اور کمزور سرحد سمجھا جاتا رہا ہے، جسے :

عسکریت پسند گروہوں کی آمد و رفت
اسمگلنگ نیٹ ورکس
غیر رسمی مالی لین دین
کے لیے استعمال کیے جانے کے خدشات موجود ہیں۔

عالمی دباؤ اور جیوپولیٹیکل زاویہ
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کا یہ قدم امریکہ اور خلیجی ممالک کے ساتھ سیکیورٹی ہم آہنگی بڑھانے کی کوشش بھی ہو سکتا ہے، خصوصاً ایران سے جڑی نقل و حرکت کی نگرانی کے حوالے سے۔

پاسپورٹ اور ویزا کی شرط نافذ کر کے اسلام آباد عالمی انسداد دہشت گردی فریم ورک اور بین الاقوامی قوانین سے مطابقت کا اشارہ دے رہا ہے۔

ایران کو اعتماد میں لیے بغیر فیصلہ؟
ایک اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان نے بظاہر یہ فیصلہ ایران کے ساتھ کسی نئی دو طرفہ مفاہمت کے بغیر یکطرفہ طور پر کیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں نئی سمت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

بلوچستان کی سرحدی آبادی متاثر
ماہرین کے مطابق اس فیصلے کا سب سے زیادہ اثر بلوچستان کے ان سرحدی علاقوں پر پڑے گا جہاں ہزاروں افراد کا روزگار اور روزمرہ زندگی سرحد پار تجارت اور آمد و رفت سے وابستہ ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی ترجیحات اب داخلی انسانی اور معاشی مسائل پر غالب دکھائی دے رہی ہیں۔

پاکستان اور ایران کی سرحد تقریباً 900 کلومیٹر طویل ہے اور یہ خطہ طویل عرصے سے اسمگلنگ، عسکریت پسند نقل و حرکت اور غیر رسمی تجارت کے لیے حساس سمجھا جاتا رہا ہے۔

حالیہ برسوں میں بلوچستان میں شورش، ایران میں سیکیورٹی خدشات اور خطے میں امریکہ-ایران کشیدگی نے پاکستان کو سرحدی پالیسی سخت کرنے پر مجبور کیا ہے۔














ایران کے دو دشمنوں کو امریکہ دے رہا خطرناک ہتھیار، ڈونلڈ ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں کیا کھیل کھیل رہے ہیں؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں ایک نیا کھیل کھیلتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ایران پر فوجی حملے کی قیاس آرائیوں کے درمیان ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل اور سعودی عرب کو بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری دے دی ہے۔ اس معاہدے کے تحت، امریکہ اب اسرائیل کو 6.67 بلین ڈالر کے ہتھیار اور فوجی سازوسامان اور تقریباً 9 بلین ڈالر سعودی عرب کو فروخت کرے گا، جو دونوں ایران کے دیرینہ دشمن ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ نے جمعہ کی رات دیر گئے ان سودوں کا اعلان کیا۔ محکمہ خارجہ کے مطابق اسلحے کے ان سودوں کے بارے میں پہلے جمعہ کو امریکی کانگریس کو مطلع کیا گیا تھا جس کے بعد انہیں عام کر دیا گیا تھا۔ یہ معاہدے ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مشرق وسطیٰ کی صورتحال انتہائی حساس ہے اور دنیا ایران کے حوالے سے امریکی حکمت عملی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

اسرائیل کو اپاچی ہیلی کاپٹر اور فوجی گاڑیاں ملیں گیاسرائیل کے لیے منظور کیے گئے ہتھیاروں کے پیکج کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جس کی کل رقم 6.67 بلین ڈالر ہے۔ سب سے بڑا سودا 30 اپاچی اٹیک ہیلی کاپٹروں کا ہے، جس کی لاگت تقریباً 3.8 بلین ڈالر ہے۔ یہ ہیلی کاپٹر راکٹ لانچرز اور انتہائی جدید ہدف سازی کے نظام سے لیس ہوں گے جس سے اسرائیلی فوج کی جارحانہ صلاحیتوں کو مزید تقویت ملے گی۔اس کے علاوہ اسرائیل کو 3,250 لائٹ ٹیکٹیکل گاڑیاں بھی ملیں گی جن کی لاگت 1.98 بلین ڈالر ہے۔ یہ گاڑیاں اسرائیلی ڈیفنس فورسز (IDF) میں فوجیوں اور رسد کو ایک جگہ سے دوسرے مقام تک پہنچانے کے لیے استعمال کی جائیں گی، فوجی مواصلات اور سپلائی لائنوں کو مضبوط بنائیں گی۔

اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق، اسرائیل اپنی بکتر بند فوجی گاڑیوں کے پاور پیک پر اضافی 740 ملین ڈالر خرچ کرے گا، جو وہ 2008 سے استعمال کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ، تقریباً 150 ملین ڈالر ہلکے یوٹیلیٹی ہیلی کاپٹروں کی خریداری پر خرچ کیے جائیں گے، جو اسرائیل کے موجودہ ہیلی کاپٹر بیڑے کو مضبوط بنائے گا۔

امریکی محکمہ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ ان ہتھیاروں کی فروخت سے خطے میں فوجی توازن متاثر نہیں ہوگا۔ محکمہ کا کہنا ہے کہ یہ سودے اسرائیل کو موجودہ اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے اور اپنی سرحدوں، اہم بنیادی ڈھانچے اور شہری آبادی کی حفاظتی صلاحیتوں کو مزید بڑھانے میں مدد کریں گے۔

سعودی عرب کو پیٹریاٹ میزائل ملیں گے
سعودی عرب کو تقریباً 9 بلین ڈالر مالیت کے ہتھیاروں اور فوجی ساز و سامان کی فروخت کی بھی منظوری دی گئی ہے۔ اس معاہدے کے تحت سعودی عرب کو 730 پیٹریاٹ میزائل اور متعلقہ ساز و سامان ملے گا۔ امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ اس معاہدے سے امریکی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے مفادات کو تقویت ملے گی۔

محکمہ خارجہ کے مطابق پیٹریاٹ میزائل سسٹم سعودی عرب کی فضائی اور میزائل دفاعی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کرے گا۔ اس سے نہ صرف سعودی عرب بلکہ امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادیوں کی زمینی افواج کی سلامتی کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس اقدام سے خلیجی خطے میں مربوط فضائی اور میزائل دفاعی نظام مزید مضبوط ہوگا۔

امریکہ نے سعودی عرب کو ایک بڑا نان نیٹو اتحادی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ملک خلیجی خطے میں سیاسی استحکام اور اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

ایران پر حملے کی قیاس آرائیوں کے درمیان ہتھیاروں کے سودے
ہتھیاروں کے ان سودوں کی منظوری ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران پر امریکی فوجی حملے کی قیاس آرائیاں عروج پر ہیں۔ دریں اثناء صدر ڈونلڈ ٹرمپ غزہ میں جنگ بندی کے اپنے منصوبے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ اس منصوبے کا مقصد اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری تنازع کو ختم کرنا اور جنگ سے تباہ حال غزہ کی پٹی کی تعمیر نو اور تعمیر نو کے عمل کو شروع کرنا ہے۔ پچھلے دو سالوں میں اس تنازعے نے ہزاروں جانیں لے لی ہیں اور غزہ میں بڑی تباہی مچائی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ امریکہ اسرائیل کی سلامتی کے لیے پرعزم ہے اور اس کی اپنے دفاع کی صلاحیتوں کو مضبوط کرنا امریکہ کے قومی مفادات کے لیے ضروری ہے۔ محکمہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ مضبوط اور چوکس سیلف ڈیفنس انفراسٹرکچر تیار کرنے میں اسرائیل کی مدد جاری رکھے گا۔ہتھیاروں کے یہ بڑے سودے ایک بار پھر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی سٹریٹجک موجودگی اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ اس کے دفاعی تعلقات مستقبل میں مزید گہرے ہونے کے لیے تیار ہیں۔















’’غزنوی غیر ملکی نہیں بلکہ ہندوستانی تھا‘‘؛ سابق نائب صدر جمہوریہجمہوریہ حامد انصاری کے بیان سےمچی سیاسی ہلچل
میں ہمیشہ کہتا آیا ہوں کہ جن لوگوں کو ہم اپنی کتابوں میں غیر ملکی حملہ آور بتاتے ہیں، کوئی لودی ہے، کوئی غازی ہے، وہ سب دراصل ہندوستانی لٹیرے تھے۔ وہ باہر سے نہیں آئے تھے۔ یہ کہنا ہے بھارت کے سابق نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری کا۔ سابق نائب صدر جمہوریہ کے اس بیان کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حملہ آور ہو گئی ہے۔ بی جے پی نے کہا ہے کہ غیر ملکی حملہ آوروں اور لٹیروں کے تئیں سابق نائب صدر جمہوریہ کی ہمدردی ان کی بیمار ذہنیت کو ظاہر کرتی ہے۔دراصل حامد انصاری نے ایک صحافی کو دیے گئے انٹرویو میں تاریخ کی کتابوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بھارتی تاریخ کی کتابوں میں جنہیں غیر ملکی حملہ آور اور لٹیرے بتایا گیا ہے، وہ سب حقیقت میں ہندوستانی لٹیرے تھے۔ اس میں محمود غزنوی بھی شامل ہے۔

محمود غزنوی ہندوستانی تھا—حامد انصاری

انہوں نے کہا کہ سیاسی طور پر یہ کہنا آسان ہوتا ہے کہ انہوں نے یہ تباہ کیا، انہوں نے وہ تباہ کیا، لیکن وہ سب ہندوستانی تھے۔

سابق نائب صدر جمہوریہ کے اس بیان کے بعد بی جے پی نے کانگریس اور حامد انصاری پر زبردست حملہ کیا۔ بی جے پی کے قومی ترجمان سدھانشو تریویدی نے کہا کہ، کانگریس اور اس کا ایکو سسٹم غیر ملکی حملہ آوروں کی تعریف کرتا ہے ۔ یہ افسوسناک ہے کہ ایسا شخص بھارت کے نائب صدر جمہوریہ جیسے اعلیٰ منصب پر فائز رہ چکا ہے۔

پہلے بھی متنازع بیانات دے چکے ہیں حامد انصاری

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ سابق نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری نے سیاسی ہلچل مچا دینے والا بیان دیا ہو۔ اس سے قبل 26 مئی 2016 کو ایران کے دورے کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ بھارت میں اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں میں عدم تحفظ کا احساس پایا جاتا ہے۔ اس بیان پر بھارتی حکومت نے ان پر بین الاقوامی سطح پر بھارت کی شبیہ کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا تھا۔


*🔴سیف نیوز بلاگر*







زیراکس کارپوریٹرس، ہوشیار رہو، نئے ترمیم شدہ قانون کی وجہ سے اب بہت سی پابندیاں ہیں، اس لیے ہوشیار رہیں...... 
امراوتی، جمعرات، 29 جنوری، 2026
بیوی کارپوریٹر ہے، شوہر نگران ہے، اگر وہ اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرے گی تو اپنا عہدہ کھو دے گی!

پتیراج، ہوشیار رہیں: شکایت موصول ہونے پر ڈویژنل کمشنر کے ذریعے جانچ کرائی جائے گی۔

لوک مت نیوز نیٹ ورک

امراوتی: حکومت اور عدلیہ نے بلدیاتی اداروں میں خواتین کے لیے ریزرویشن کے اصل مقصد کو حقیقت بنانے کے لیے فیصلہ کن قدم اٹھائے ہیں۔ اگر کوئی منتخب کارپوریٹر، خاتون سرپنچ، سٹی صدر یا میئر اپنے شوہروں یا قریبی رشتہ داروں کے کام میں بالواسطہ یا بلاواسطہ مداخلت کرتا ہے تو متعلقہ رکن کو نااہل قرار دیا جا سکتا ہے۔

اگرچہ میونسپل کارپوریشنوں میں خواتین کے لیے ریزرویشن ہے، لیکن یہ شکایات بڑھ رہی ہیں کہ کئی جگہوں پر اصل انتظام شوہروں یا رشتہ داروں کے ہاتھ میں ہے۔ اگر کسی کارپوریٹر کے شوہر یا رشتہ دار میونسپل کارپوریشن کے معاملات میں براہ راست مداخلت کرتے ہیں تو کارپوریٹر کی حیثیت خطرے میں پڑ جائے گی۔ حکومت نے اس سلسلے میں واضح احکامات جاری کرتے ہوئے کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔

خواتین کو سیاسی اور سماجی میدانوں میں مردوں کے مساوی مواقع فراہم کرنے اور اقتدار میں ان کی براہ راست شرکت بڑھانے کی نیک نیتی سے مقامی خواتین کے لیے 50 فیصد ریزرویشن نافذ کیا گیا لیکن بلدیاتی سیاست میں شوہروں، بیٹوں یا رشتہ داروں کا عمل دخل بڑھ گیا ہے۔ اس کو روکنے کے لیے حکومت کو سخت قدم اٹھانا چاہیے اور اگر کوئی کارپوریٹر کارپوریٹر کے کام میں مداخلت کرتا ہے تو متعلقہ کارپوریٹر کو اپنا عہدہ کھونا پڑے گا۔

قانون اور حکومتی حکم کیا کہتا ہے؟

میونسپل کارپوریشن ایکٹ اور ریاستی حکومت کے احکامات کے مطابق صرف منتخب نمائندہ ہی تمام اختیارات استعمال کرنے کا حقدار ہے۔ اگر کوئی دوسرا شخص نمائندے کے نام پر کام کرے گا تو اسے قانون کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔

سرکاری کام میں رکاوٹ

اجلاسوں میں شرکت کرنا یا بغیر اجازت فائلوں کو ہینڈل کرنا جرم سمجھا جاتا ہے۔ اگر آپ عوامی نمائندہ ہونے کا دکھاوا کرتے ہیں اور اپنے اختیار کا استعمال کرتے ہیں، چاہے آپ نہ ہوں، آپ پر دھوکہ دہی کا الزام لگایا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں ریاستی حکومت کی طرف سے ایک حکم جاری کیا گیا ہے۔

اصل طاقت شوہروں اور رشتہ داروں کے ہاتھ میں ہے۔

کارپوریٹرس کے نام پر عہدے ہونے کے باوجود بعض کارپوریٹرس کے شوہر اور رشتہ دار انتظامیہ سے خط و کتابت، عہدیداروں سے رابطہ اور ورک آرڈر دینے کے ذمہ دار ہیں۔ ماضی میں بھی اس نوعیت کی شکایات آتی رہی ہیں۔ اب اس میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔

نظام کے ہاتھ مضبوط ہو چکے ہیں۔

اس فیصلے سے کمشنر، محکمہ کے سربراہ اور ویجیلنس کمیٹیوں کو براہ راست تحقیقات اور کارروائی کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ وہ مشکوک کیسز کا از خود نوٹس لے سکیں گے۔ اگر جانچ میں کوئی سچائی سامنے آتی ہے تو متعلقہ کارپوریٹر کی رکنیت خطرے میں پڑنے کا خدشہ ہے۔

'وہ' منتخب ہوئی، لیکن ہار 'اس' کے گلے میں تھا...

انتخابی نتائج کا اعلان

اس کے بعد سے جیتنے والے امیدواروں کے لیے میٹنگز اور تہنیتی پروگرام منعقد کیے گئے ہیں۔ جب ووٹر اور حامی مبارکباد دینے آتے ہیں تو خواتین کارپوریٹرس کے بجائے ان کے شوہر ایوارڈ اور نیک تمناؤں کو قبول کرنے کے لیے آگے آتے نظر آتے ہیں۔

خواتین کے لیے 50 فیصد ریزرویشن

بلدیاتی انتخابات میں 50 فیصد ریزرویشن کے باوجود خواتین نے اوپن کیٹیگری سے جیت کر اس ریزرویشن کو 50 فیصد تک پہنچا دیا ہے۔ اس لیے نتائج بتاتے ہیں کہ اس الیکشن میں خواتین کی نشستوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

اگر مداخلت کی گئی تو پوزیشن کھونے کا خوف

اگر کسی خاتون نمائندے کا شوہر یا رشتہ دار اس کے سرکاری کام میں براہ راست مداخلت کرتا ہے تو اس نمائندے کو نااہل قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ قانون کے تحت بدتمیزی سمجھا جاتا ہے۔ اپنے شوہر کو انتظامی اجلاسوں میں ساتھ لے جانا یا اس کے شوہر کا خود میٹنگز کروانا اختیارات کا غلط استعمال ہے۔

شکایات کی جانچ کی جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اب اگر کوئی باشعور شہری یا اپوزیشن رکن کسی خاتون نمائندے کے شوہر کی مداخلت کی ویڈیوز، تصاویر یا دستاویزی ثبوت پیش کرے گا تو اس کی تحقیقات کی جائیں گی اور اگر حقائق سامنے آئے تو کارروائی کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے۔














لحد میں عشق رخ شہ کا داغ لے کے چلے .......... 
اندھیری رات سنی تھی ، چراغ لے کے چلے ............... 
آہ ......... !!! 
سلیم بھائی غازیانی ........ ،
ازقلم : شکیل احمد سبحانی 
یہ نظام قدرت ہے ..... 
اس دنیا میں 
لوگ آتے ہیں ، 
اور 
اپنی عمر تمام کرکے 
چلے جاتے ہیں ......... 
جو لوگ 
اپنے لیے جیتے ہیں ،
ان کی میتوں کے ساتھ ان کی زندگی کی کہانی بھی ہمیشہ ہمیش کے لیے دفن ہوجاتی ہے ....... 
لیکن 
جو لوگ  
اللہ عزوجل اور اس کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے کی غرض سے ..... 
دوسروں کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں ....... ، 
مریضوں کی تیمار داری کرتے ہیں ...... 
مذہب و ملت کی خدمت کرتے ہیں .......... 
غریبوں کی معاونت کرتے ہیں ....... ، 
بے سہاروں کا سہارا بنتے ہیں ........ ، 
ان کا نام ان کے انتقال کے بعد بھی زندہ رہتا ہے ..... 
ان کا تذکرہ لوگوں کی زبانوں پر جاری رہتا ہے .... 
دنیا خیر کے ساتھ انہیں یاد کرتی ہے ......... ،
ان کے لیے ایصال ثواب اور دعائے مغفرت کا سلسلہ جاری رہتا ہے .......... 
سلیم بھائی غازیانی کا شمار ایسے ہی لوگوں میں ہوتا ہے ، 
جو اپنی بے لوث دینی اور سماجی خدمات کے لیے یاد کیے جاتے رہیں گے ...... 
...........................................
ایک سچے   
عاشق رسول
کی رحلت ..... !!! 

جب تری یاد میں دنیا سے گیا ہے کوئی ....... 
جان لینے کو لہن بن کے قضا آئی ہے ........... 
سلیم بھائی غازیانی کا سب سے بڑا وصف یہی تھا کہ وہ اک اچھے مسلمان اور سچے عاشق رسول تھے ، حضور سید عالم مصطفے جان رحمت صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا عشق ان کی زندگی اور ان کی گفتگو سے ہمیشہ جھلکتا تھا ، اس عظیم ترین نعمت کے حصول پر وہ اپنے رب کا شکر ادا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہی دنیا اور آخرت کا سہارا ہے ، سیدنا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں قادری بریلوی علیہ الرحمہ کے لکھے نعتیہ کلام کو بصد شوق سنا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق و محبت کی جو لذت اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے کلام کو سن کر ملتی ہے ، اس کی بات ہی کچھ اور ہے ..... 
اللہ تعالیٰ نے انہیں بہت عزت اور بڑی شہرت عطا کی تھی ، لیکن اس کے باوجود وہ ہر کسی سے بڑی عاجزی اور انکساری کے ساتھ ملتے تھے ، یہ ان کی شخصیت کی ایسی خوبی تھی جو انہیں دوسروں سے ممتاز کرتی تھی ، ...... 
...........................................
میمن برادری 
کا 
نایاب ہیرا .............. !!! 
شہر مالیگاؤں کی میمن برادری کی نمائندہ شخصیات میں آپ کا شمار ہوتا تھا ، وہ میمن جماعت کی ترقی اور تنظیم سازی کے لیے ہمیشہ کوشاں رہتے تھے ، اگر کہا جائے کہ وہ میمن برادری کا اک ایسا نایاب ہیرا تھا جس نے نہ صرف مسلمانوں کے ہر طبقے میں بلکہ برادران وطن کے حلقوں میں بھی پہنچ کر اپنی برادری کا نام روشن کیا تو کوئی مبالغہ نہیں ہوگا ..........، 
سماجی خدمت کا ایسا عظیم جذبہ ان کے دل میں موجود تھا ، جو انہیں کسی مخصوص قبیلے میں قید نہیں رہنے دیتا تھا ، یہی وجہ تھی کہ کبھی وہ میونسپلٹی اور کارپوریشن میں دکھائی پڑتے تھے، تو کبھی روٹری کلب کے ذریعے انسانیت کی خدمت کرتے نظر آتے تھے ، سرگرم سیاست میں حصہ لینے اور انتخابات میں اپنی کامیابی کا راز بتاتے ہوئے وہ خود کہتے تھے کہ میری اپنی برادری کے ووٹ ہی میرے حلقے میں کتنے تھے ؟ لیکن اس کے باوجود اگر میں الیکشن میں فتحیاب ہوتا رہا تو اس کا سہرا ہر برادری سے وابستہ ماؤں بہنوں، اور بزرگوں ، نوجوانوں کے سر جاتا ہے اور برادران وطن کے سر جاتا ہے ، جنہوں نے مذہب اور ذات برادری سے اوپر اٹھ کر مجھ پر اعتماد کیا ...... ، 
........................................... 
حضرت آمنہ ٹرسٹ 
مالیگاؤں 
اپنے 
شفیق اور مہربان 
سرپرست سے محروم ہوگیا .......
........................................... 
سلیم بھائی غازیانی کا تعلق یوں تو اہل سنت و جماعت سے وابستہ سبھی اداروں اور جماعتوں سے تھا ، لیکن حضرت آمنہ ٹرسٹ مالیگاؤں سے جو آپ کا رشتہ تھا ، وہ خصوصی اہمیت کا حامل تھا ، 
حضرت آمنہ ٹرسٹ مالیگاؤں کی سماجی و طبی خدمات اہلیان شہر کے لیے محتاج تعارف نہیں، شہر میں جاری پانچ اوپی ڈی سینٹرز سے ایک سال میں پچاس ہزار سے زائد مریضوں کو مفت دوائیں فراہم کرنے کی عظیم سعادت اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان سے اس ٹرسٹ کو حاصل ہوچکی ہے ، جب کہ شگر، بلڈ پریشر ، آرتھوپیڈک ، استھما ، کڈنی ڈائیلیسیس اور ہارٹ کے ایک ہزار مریض ایسے ہیں، جنہوں نے حضرت آمنہ ٹرسٹ مالیگاؤں کے دفتر پر پہنچ کر اپنا رجسٹریشن کروایا ہے ، جنہیں ہر ماہ مفت یا پھر انتہائی کم قیمتوں پر دوائیں فراہم کی جارہی ہیں ، یہ ساری خدمات ہوپس انڈیا ممبئی کے تعاؤن سے جاری ہیں ........ 
تقریباً دو سال قبل شہر میں طبی و سماجی خدمات کے لیے حضرت آمنہ ٹرسٹ مالیگاؤں کی تشکیل سلیم بھائی غازیانی اور دیگر اہم شخصیات سے مشاورت کے بعد کی گئی تھی ، 
اس طرح روز اول سے ہی بطور سرپرست وہ حضرت آمنہ ٹرسٹ مالیگاؤں کو میسر رہے ،
اس سے بڑھ کر اور کیا بات ہوگی کہ اپنے بڑے ہی چہیتے اور لاڈلے بیٹے عبدالکریم کے نام کو حضرت آمنہ ٹرسٹ میں نہ صرف بطور رکن شامل کرنے کی انہوں نے اجازت دی بلکہ عبدالکریم کو ساتھ لے کر ٹرسٹ کی اہم نششتوں میں شامل بھی ہوتے رہے اور ٹرسٹ کے نوجوان اراکین کو یہ نصیحت بھی کرتے رہے کہ آپ سب نوجوانوں کو ہی مل کر اس پلیٹ فارم سے غریب اور ضرورت مند مریضوں کی خدمت کرنا ہوگی ....... 
...........................................
آخری ملاقات ........ !!! 
سلیم بھائی غازیانی سے میری آخری ملاقات منگل کو عشاء کی نماز کے بعد مسجد مفتی اعظم میں ہوئی ، درود و سلام پڑھ کر میں جیسے ہی مڑا، انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مسجد کے صحن میں پہنچ کر مجھے بتایا کہ حاجی حبیب الرحمن کلینک کے افتتاح کا دعوت نامہ مجھے ملا تھا لیکن میں اس وجہ سے اس افتتاحی تقریب میں شریک نہیں ہوسکا کہ عامر غازیانی کی والدہ کی طبیعت بہت زیادہ علیل تھی ، نہیں معلوم کتنی زندگی باقی ہے ، بظاہر اب تب لگا ہوا ہے ، یہی وجہ تھی کہ میں آپ کی کال بھی ریسیو نہیں کرسکا ، 
مفتی اعظم مسجد کا وہ منظر میری نظروں کے سامنے اب بھی پھر رہا ہے ، وہ تو ہشاش بشاش تھے ، عامر بھائی غازیانی کی والدہ کی فکر میں ڈوبے تھے ، مسجد سے نکل کر ہم لوگ مسجد سے متصل حضرت آمنہ ٹرسٹ کے دفتر پہنچے ، غلام فرید بھائی سے بھی گفتگو ہوئی ، ہوپس انڈیا ممبئی اور حضرت آمنہ ٹرسٹ مالیگاؤں کے پروجیکٹ روشنی کا بھی تذکرہ ہوا ، حاجی ریحان انور صاحب دھوراجی والا سے بھی انہوں نے فون پر بات کی اور روٹری کلب کے ذمہ داران سے پروجیکٹ روشنی کو لے کر ان کی جو گفتگو ہوئی اس کی تفصیل بیان کی ...... 
اسی دوران بسم اللہ مسجد سے متصل حضرت آمنہ ٹرسٹ کے دفتر ، زچہ بچہ اسکیم کے ہیلتھ سینٹر اور مدرسہ اہل سنت حجن زلیخا زینب کے تعمیری کام کا ذکر نکل گیا ، انہوں نے کہا چار پانچ دن گزر جانے جانے دیجیے ، میں آپ لوگوں کو کال کرتا ہوں ، ہم لوگ ممبئی اور اندور ان دو شہروں میں کچھ خاص لوگوں سے اس تعلق سے ملاقات کریں گے اور اس پروجیکٹ کو مکمل کروانے کی کوشش کریں گے .............، 
زندگی نے ساتھ چھوڑ دیا ، لیکن ان کی نیک تمنائیں ان کے ساتھ رہیں گی ، اور رب عزوجل کے فضل سے انہیں اس کا بھی اجر ملتا رہے گا ، ان شاء اللہ تعالیٰ
...........................................
پروجیکٹ روشنی 
کے لیے 
آخر دم تک کوشش ......!!! 

حاجی ریحان انور صاحب دھوراجی والا کی بس ابھی کال آئی ، انہوں نے بتایا کہ بدھ کو صبح نو بجے میری آخری بار اس وقت سلیم بھائی غازیانی سے پروجیکٹ روشنی کے متعلق گفتگو ہوئی جب وہ ناسک جانے کے لیے چاندوڑ سے گزر رہے تھے ، میں نے امین بھائی غازیانی سے ابھی جب معلومات لی تو انہوں نے بتایا کہ بدھ کو وہ ایک ضروری کام سے ناسک جارہے تھے ، اوجھر کے پاس ان کی طبیعت بگڑی اور جمعرات کو یہی ان کے انتقال کا سبب بنی ...........، 
حاجی ریحان انور صاحب نے سلیم بھائی غازیانی کی رحلت کو ملت اسلامیہ کا عظیم نقصان قرار دیتے ہوئے گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا، 
اور دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ پروجیکٹ روشنی کی نیکیوں میں سلیم بھائی غازیانی کو شامل رکھے ,
آمین 
( واضح رہے کہ ہوپس انڈیا ممبئی نے پروجیکٹ روشنی کے تحت اب تک cataract کے ستائیس سو مریضوں کے آپریشن کروائے ہیں، مالیگاؤں میں روٹری کلب کے اشتراک سے ہوپس انڈیا ممبئی آنکھ کے مریضوں کے آپریشن کی منصوبہ بندی کر رہی تھی ، جس کے تحت سلیم بھائی غازیانی اور ڈاکٹر حامد اقبال نے روٹری کلب کے ذمہ داران رابطے میں تھے ) 
...........................................
تدفین :
ابھی دس بجے جلوس جنازہ ان کی رہائش گاہ واقع مصری خاں کے باڑہ سے نکلے گا ، مالیگاؤں کے بڑے قبرستان میں ان کی تدفین کی جائے گی ، دعا فرمائیں کہ اللہ عزوجل اپنے حبیب کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے 
ان کی قبر پر اپنی رحمتیں نچھاور کرے ........ 
........................................... 
نوری محفل : 
دفتر رضا اکیڈمی پر ہر جمعہ کو شب دس بجے سے گیارہ بجے تک نعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نوری محفل کا انعقاد ہوتا ہے ......... ، 
آج کی نوری محفل مرحوم سلیم بھائی غازیانی سے منسوب ہوگی ، 
نوری محفل کے ساتھ ہی تعزیتی نششت کا بھی انعقاد ہوگا ...... 
آپ سے بھی شرکت کی گزارش ہے .......
............. 
30/1/2026 
بروز جمعہ













صحت کے لیے مفید فائبر اور پروٹین سے بھرپور 10 غذائیں کون سی ہیں؟
جب ہم صحت کے لیے مفید خوراک کی بات کرتے ہیں تو اس میں فائبر اور پروٹین سے بھرپور، کم کاربوہائیڈریٹس اور گلوٹن سے پاک کھانوں کی بات کرتے ہیں۔
اسی طرح یہ دیکھنے کے لیے کہ کوئی کھانے والی چیز صحت کے لیے کتنی مفید ہے، اس کا گلائسیمک انڈیکس بھی دیکھا جاتا ہے۔
گلائسیمک انڈیکس کیا ہے؟
این ڈی ٹی وی کے مطابق گلائسیمک انڈیکس (جی آئی) کاربوہائیڈریٹس سے بھرپور کھانوں کی رینکنگ کے لیے ہوتا ہے جس سے انسانی جسم میں بلڈ گلوکوز لیول پر پڑنے والے اثرات کو دیکھا جاتا ہے۔جن کھانوں میں گلائسیمک انڈیکس کی شرح 55 یا اس سے کم ہوتی ہے، وہ بلڈ گلوکوز میں بتدریج اضافہ کرتے ہیں جبکہ جن کھانوں میں گلائسیمک انڈیکس کی شرح 70 یا اس سے زیادہ ہوتی ہے وہ بلڈ شوگر لیول میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔
آئیے جانتے ہیں کم گلائسیمک انڈیکس والے کھانے کون سے ہیں۔
لال لوبیا
لال لوبیے میں گلائسیمک انڈیکس کی شرح 30 سے بھی کم ہوتی ہے۔ پروٹین سے بھرپور یہ لوبیا شمالی انڈیا کے کھانوں میں زیادہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس کی مشہور ڈِش راجما چاول ہے۔ راجما میں بھی آئرن، فاسفورس، وٹامن وغیرہ ہوتے ہیں۔
چنے
ہمارے کچن میں پکنے والی زیادہ چیزوں میں سے ایک چنے بھی ہیں۔ چنے پروٹین اور فائبر سے بھرپور ہوتے ہیں جن میں گلائسیمک انڈیکس کم ہوتا ہے۔
چنے ہماری ہڈیوں، دماغ اور دل کے لیے بھی مفید ہیں۔چیری
تازہ چیری میں گلائسیمک انڈیکس کی شرح 30 سے بھی کم ہوتی ہے لہذا آپ اسے اپنی خوراک میں شامل کر سکتے ہیں۔ چیری میں کیلوریز تو کم ہوتی ہیں لیکن ان میں وٹامن سی، پوٹاشیم، فائبر اور اینٹی آکسیڈنٹس بھرپور تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ ان سے جلد اور بال صحت مند ہوتے ہیں جبکہ بے خوابی سے بھی راحت ملتی ہے۔
مالٹے
وٹامن سی سے بھرپور مالٹے بھی ایک ایسا پھل ہے جسے ذیابیطس کے مریضوں کے لیے مفید قرار دیا جاتا ہے۔ ان میں گلائسیمک انڈیکس کا سکور 40 کے قریب ہوتا ہے۔ مالٹو میں کیلوریز کم ہوتی ہیں لیکن اینٹی آکسیڈنٹس جن میں سکوربک ایسڈ اور بِیٹا کیروٹین شامل ہیں، وہ پائے جاتے ہیں۔ مالٹے کھانے سے قوت مدافعت بڑھتی ہے اور بلڈ پریشر قابو میں رہتا ہے۔
سیب
پرانے سیبوں میں بھی گلائسیمک انڈیکس کم ہوتا ہے۔ سیب میں فروکٹوس، پولی فینولز اور اینتھوسیانن ہوتے ہیں۔ ان تمام چیزوں سے ذیابیطس ہونے کے خطرات کم ہوتے ہیں۔ سیب کھانا ہماری ہڈیوں، دانتوں، مسوڑوں اور ہاضمے کے لیے مفید ہے۔ سیب کھانے سے غیر صحت مند کولیسٹرول کم ہوتا ہے اور دل کی دھڑکن بہتر ہوتی ہے۔پالک
سبز پتوں والی کئی سبزیوں میں گلائسیمک انڈیکس کم ہوتا ہے۔ پالک غذائیت سے بھرپور سبزیوں میں سے ایک ہے جسے ہم اپنی خوراک میں شامل کر سکتے ہیں۔ آئرن اور فولیٹ سے بھرپور، پالک سے ہمیں طاقت ملتی ہے۔
مولی
ایک مولی کا گلائسیمک لوڈ ایک گرام گلوکوز کھانے کے برابر ہے۔ ہائپر ٹینشن کے شکار افراد کے لیے پوٹاشیئم سے بھرپور مولی کھانا نہایت مفید ہے۔ یہ سبزی ہمارے نظام انہضام اور دل کی دھڑکن کے لیے مفید ہے۔
گاجر
گاجر ایک اور سبزی ہے جسے ہمیں زیادہ کھانا چاہیے۔ گاجروں میں گلائسیمک انڈیکس 40 کے قریب ہوتا ہے اور یہ فائبر سے بھرپور ہوتی ہیں۔ یہ سبزی ہماری جِلد، آنکھوں، دل، دماغ اور ہاضمے کے لیے مفید ہے۔ اس سے بلڈ پریشر کو بھی قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔
سیاہ گندم
سیاہ گندم بھی صحت کے لیے مفید ایک منفرد خوراک ہے۔ اس میں فائبر اور اینٹی آکسیڈنٹس بھرپور تعداد میں ملتے ہیں۔ سیاہ گندم کے آٹے سے مزیدار پراٹھے، بسکٹ اور دیگر کھانے کی چیزیں بنائی جا سکتی ہیں۔جو
جو کا شمار ان کھانے والی چیزوں میں ہوتا ہے جن میں گلائسیمک انڈیکس نہایت کم ہوتا ہے۔ جو بھرپور مقدار میں اینٹی آکسیڈنٹس کے علاوہ مینگانیش، سیلینیئم، کاپر، فاسفورس اور میگنیشیئم پائے جاتے ہیں۔ اس میں بِیٹا گلوکنز پائے جاتے ہیں جو خراب کولیسٹرول کی سطح کو کم کرتے ہیں۔

*🔴سیف نیوز بلاگر*






یومِ جمہوریہ استقبالیہ میں گمچھا نہ پہننے پرامت شاہ نے راہل گاندھی پر کی تنقید۔ آسام کانگریس کی خاموشی پر اُٹھائے سوال
’آسام کانگریس خاموش کیوں ہے؟‘ گمچھا تنازع پر امیت شاہ کا راہل گاندھی پر حملہ
وزیر داخلہ امیت شاہ نے آسام کانگریس کی قیادت کو سخت سوالات کے گھیرے میں لیتے ہوئے کہا ہے کہ جب راہل گاندھی نے صدر جمہوریہ کی یومِ جمہوریہ استقبالیہ تقریب میں آسام کا روایتی گمچھا نہیں پہنا تو کانگریس اس پر خاموش کیوں رہی؟امیت شاہ نے ڈبروگڑھ میں ایک عوامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن پر تنقید مزید تیز کر دی اور کہا کہ گمچھا آسام اور پورے شمال مشرق کی ثقافت میں انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔

امیت شاہ نے کہا :

’’صرف راہل گاندھی نے شمال مشرق کا گمچھا نہیں پہنا۔ آخر ان کی شمال مشرق سے کیا دشمنی ہے؟‘‘

امیت شاہ نے راہل گاندھی کے طرزِ عمل کا موازنہ وزیراعظم نریندر مودی سے کرتے ہوئے کہا کہ مودی نے کئی عالمی مواقع پر، حتیٰ کہ اقوام متحدہ میں بھی گمچھا پہن کر شمال مشرق کے احترام کا اظہار کیا ہے۔

وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ کسی ایک فرد کے عمل سے علاقائی روایات ختم نہیں ہوتیں :

’’راہل گاندھی جو چاہیں کریں، لیکن شمال مشرق کی ثقافت ہمیشہ پھلتی پھولتی رہے گی۔‘‘

سوشل میڈیا تصاویر کے بعد تنازع
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب یومِ جمہوریہ کی تقریب کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگیں۔

بی جے پی کے کئی لیڈروں، جن میں آسام کے چیف منسٹر ہمانتا بسوا سرما بھی شامل ہیں،ہمانتا دعویٰ کیا کہ راہل گاندھی کا یہ عمل ’’شمال مشرق مخالف ذہنیت‘‘ کو ظاہر کرتا ہے۔

کانگریس کا ردعمل

کانگریس پارٹی نے بی جے پی کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے وضاحت دی کہ راہل گاندھی نے ابتدا میں پٹکا پہنا تھا، بعد میں بیٹھنے کے دوران اسے اتار دیا۔

کانگریس نے یہ بھی کہا کہ تقریب میں موجود کئی دیگر لیڈر، جن میں وزیر دفاع راجناتھ سنگھ بھی شامل ہیں، بعض اوقات گمچھا کے بغیر نظر آئے۔

پارٹی کا کہنا تھا کہ بی جے پی ایک رسمی تقریب کو سیاسی رنگ دے رہی ہے۔

امیت شاہ کی امیگریشن پر کانگریس کو تنقید

امیت شاہ نے اپنی تنقید کو صرف ثقافتی مسئلے تک محدود نہیں رکھا بلکہ غیر قانونی امیگریشن کے معاملے پر بھی کانگریس کو نشانہ بنایا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس نے آسام جیسے سرحدی علاقوں میں غیر قانونی تارکین وطن کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا۔

امیت شاہ نے کہا :

’’غیر قانونی امیگریشن کو اجازت دے کر کانگریس نے صرف اپنا ووٹ بینک مضبوط کیا۔‘‘

 ڈبروگڑھ کو دوسرا دارالحکومت بنانے کی تعریف
امیت شاہ نے آسام کی ہمانتا بسوا سرما حکومت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ڈبروگڑھ کو ریاست کا دوسرا دارالحکومت بنانے کا فیصلہ عملی طور پر نافذ کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 250 ایکڑ زمین پر نئی قانون ساز اسمبلی کمپلیکس کی بنیاد رکھی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’’پہلے حکومتیں صرف اعلانات کرتی تھیں، لیکن یہاں فیصلہ لیا گیا تو اسے نافذ بھی کیا گیا۔‘‘

امیت شاہ کے مطابق اس اقدام سے ڈبروگڑھ کی سیاسی اور انتظامی اہمیت میں اضافہ ہوگا اور شہر کو قومی سطح پر شناخت ملے گی۔












امریکہ-ایران جنگ کا خدشہ، ایران کے نزدیک امریکی جنگی جہاز تعینات؛ ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں: ٹرمپ
امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ موجودہ کشیدگی کے درمیان وہ ایران کے ساتھ بات چیت کے خواہاں ہیں۔ کینیڈی سینٹر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکی بحری جنگی جہاز ایران کی جانب بڑھ رہے ہیں اور بہتر یہی ہوگا کہ انہیں استعمال کرنے کی نوبت نہ آئے۔

مشرقِ وسطیٰ میں امریکی طاقت کی نمائش

ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں ایک نیا تباہ کن جنگی جہاز تعینات کیا ہے۔ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران یو ایس ایس ڈیلبرٹ ڈی بلیک اس خطے میں پہنچا ہے، جس کے بعد وہاں امریکی تباہ کن جنگی جہازوں کی تعداد چھ ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ ایک ایئرکرافٹ کیریئر اور تین ساحلی جنگی جہاز بھی علاقے میں موجود ہیں، جو امریکہ کی بڑھتی ہوئی فوجی موجودگی کی نشاندہی کرتے ہیں۔

ایران کی عسکری تیاریاں تیز

دوسری جانب ایران نے بھی اپنی فوجی تیاریاں تیز کر دی ہیں۔ اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کو حال ہی میں ایک ہزار نئے ڈرون فراہم کیے گئے ہیں۔ تہران کا ماننا ہے کہ امریکہ کی شرائط پر کسی معاہدے پر رضامندی ظاہر کرنا جنگ سے بھی زیادہ مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی وجہ سے ایران ممکنہ تصادم کے پیش نظر خود کو ہر سطح پر تیار کر رہا ہے۔

نئے ڈرونز کی خصوصیات

ایران کو ملنے والے یہ ڈرون مختلف زمروں سے تعلق رکھتے ہیں، جن میں لڑاکا، حملہ آور، نگرانی اور الیکٹرانک وارفیئر سے وابستہ ڈرون شامل ہیں۔ انہیں زمین، سمندر اور فضا میں موجود جامد اور متحرک اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے، جس سے ایران کی دفاعی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

امریکہ اور اسرائیل سے ملنے والے تجربات

ایرانی حکام کے مطابق ان ڈرونز کی تیاری میں جون کے مہینے میں امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں سے حاصل ہونے والے تجربات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ وزارتِ دفاع اور فوجی ماہرین نے مشترکہ طور پر ان ڈرونز کو تیار کیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ یہ جدید ڈرون مستقبل میں ابھرتے ہوئے خطرات سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔














بھارت-بنگلہ دیش سرحدی سلامتی پر کلکتہ ہائی کورٹ کا بڑا حکم، 31 مارچ تک ریاستی حکومت بی ایس ایف کو سونپے زمین
کلکتہ ہائی کورٹ نے جمعرات کو ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے مغربی بنگال حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ نو سرحدی اضلاع میں حاصل کی گئی زمین 31 مارچ تک سرحدی سلامتی فورس (بی ایس ایف) کے حوالے کر دے۔ عدالت نے کہا کہ یہ قدم اس لیے ضروری ہے تاکہ بھارت-بنگلہ دیش سرحد پر باڑ لگانے کا ادھورا کام مکمل کیا جا سکے اور سرحدی سلامتی کو مضبوط بنایا جا سکے۔

معاملہ کیوں ہے سنگین ؟

بھارت-بنگلہ دیش سرحد کی کل لمبائی 4,096 کلومیٹر ہے، جس میں سے 2,216 کلومیٹر سے زائد حصہ مغربی بنگال سے جڑا ہوا ہے۔ سال 2016 سے متعدد کابینہ منظوریوں اور زمین کے حصول کے عمل کے مکمل ہو جانے کے باوجود سرحد کا ایک بڑا حصہ اب بھی بغیر باڑ کے ہے۔ عدالت نے کہا کہ اس صورتحال سے دراندازی، اسمگلنگ، جعلی کرنسی اور منشیات سے متعلق جرائم کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ کورٹ نے واضح کیا کہ مرکزی حکومت کے فنڈ سے حاصل کی گئی زمین حوالے کرنے میں تاخیر کا کوئی معقول جواز نہیں ہے۔

’سلامتی سب سے بالا ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں‘

ہائی کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ انتخابی عمل یا ووٹر لسٹ میں ترمیم جیسے انتظامی اسباب قومی سلامتی سے جڑے معاملات میں تاخیر کی بنیاد نہیں بن سکتے۔ عدالت نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ سلامتی سب سے مقدم ہے اور اس پر کسی بھی طرح کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت تک معاملہ کیسے پہنچا؟

یہ معاملہ ایک سابق فوجی افسر کی جانب سے دائر کی گئی عوامی مفاد کی عرضی (پی آئی ایل) کے ذریعے عدالت تک پہنچا۔ عرضی گزار کا کہنا تھا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے زمین بی ایس ایف کو نہ سونپنے کے باعث سرحد پر باڑ بندی کا کام رکا ہوا ہے، جس سے سلامتی کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سماعت کے دوران عدالت نے سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جب زمین کے حصول کا معاوضہ پہلے ہی ادا کیا جا چکا ہے تو زمین کی منتقلی روکنا ناانصافی ہے۔

بی جے پی رکن پارلیمنٹ سدھانشو تریویدی کا ردِعمل

ہائی کورٹ کے حکم پر بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ سدھانشو تریویدی نے ردِعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے اس فیصلے کو قومی سلامتی کے نقطۂ نظر سے درست اور قابلِ ستائش قرار دیا۔ تریویدی نے الزام لگایا کہ ریاستی حکومت دراندازوں کو خوش کرنے کی سیاست کر رہی ہے، جس سے سلامتی کو خطرہ لاحق ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنگال کے عوام مستقبل میں ایسی حکومت کو دوبارہ موقع نہیں دیں گے جو قومی سلامتی سے سمجھوتہ کرے۔

آئندہ کی کارروائی

ہائی کورٹ نے مرکز اور ریاستی حکومت سے یہ بھی پوچھا ہے کہ کیا زمین کے حصول کے عمل کو ’ہنگامی دفعات‘ کے تحت مزید تیز کیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے اس معاملے کی اگلی سماعت 2 اپریل 2026 کو مقرر کی ہے۔

*🔴سیف نیوز بلاگر*





*ادارہ نثری ادب کی232 ویں ماہانہ ادبی نشست* 

*ادارہ نثری ادب کی ماہانہ ادبی نشست نمبر(232) بتاریخ 31جنوری 2026ء بروز سنیچر کی شب ٹھیک دس بجے اے ٹی ٹی کیمپس میں ہوگی- صدارت کے فرائض محترم عمران جمیل سر انجام دیں گے قلمکاران میں ڈاکٹر اقبال برکی(ادیب الاطفال) ڈاکٹر مختار انصاری (افسانہ نگا) ہارون اختر (افسانہ نگار) عتیق شعبان (صدر ادارہ نثری ادب)و رضوان ربانی صاحبان اپنی تخلیقات پیش کریں گے- پیش کی گئی تخلیقات پر تنقید و تبصرے کی اجازت ہو گی- نظامت کے فرائض رضوان ربانی سر انجام دیں گے اردو زبان و ادب سے محبت رکھنے والے اساتذہ، زیر تربیت معلمین، و طلباء سے شرکت کی گزارش صدر و اراکین ادارہ نثری ادب نے کی ہے-*














ڈراؤنے خواب کیوں آتے ہیں، ان سے کیسے بچا جائے؟
پانی میں ڈوبنا، جنگل میں سرپٹ دوڑنا، کسی خونخوار جانور سے جان بچانے کی کوشش یا مافوق الفطرت چیزیں دکھائی دینے کے علاوہ اور بھی بہت سے مناظر ہو سکتے ہیں جو اکثر لوگوں کو خواب میں نظر آتے ہیں اور جاگنے پر بھی انسان بے چینی اور خوف محسوس کرتا ہے اور اکثر لوگ یہ پوچھتے نظر آتے ہیں کہ ایسے خواب آخر آتے ہی کیوں ہیں؟
انڈین این ڈی ٹی وی نے اس حوالے سے تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے جس ان تمام نکات پر بات کی گئی ہے جو عموماً ڈراؤنے خوابوں کی وجہ بنتے ہیں اور ان سے بچنے کے طریقے بھی بتائے گئے ہیں۔ایسے خواب کسی بھی عمر کے فرد کو آ سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ زیادہ تر ’ریپڈ آئی موومنٹ‘ کے دوران آتے ہیں۔
ریپڈ آئی موومنٹ کیا ہے؟
یہ نیند کا وہ مرحلہ ہوتا ہے جس میں زیادہ تر ڈراؤنے خواب دکھائی دیتے ہیں۔ اس مرحلے میں سونے والے کی سانس کی رفتار، دل کی دھڑکن اور فشار خون بڑھ جاتا ہے جبکہ آنکھیں بند ہونے کے باوجود تیزی سے حرکت کرتی ہیں۔ اس دوران پٹھے، بازو اور ٹانگیں عارضی طور پر بے حرکت ہو جاتی ہیں۔
ڈراؤنے خواب عام خوابوں سے ہٹ کر ہوتے ہیں کیونکہ عام خوابوں میں جسمانی اور جذباتی معاملات قدرے معمول پر رہتے ہیں اور یہ زیادہ تر حقیقت اور خیالات پر مبنی ہوتے ہیں۔اگرچہ ڈراؤنے خوابوں کے معاملے کو ابھی پوری طرح سمجھا نہیں جا سکا ہے تاہم زیادہ تر ان کا تعلق نفسیاتی معاملات سے ہوتا ہے جیسے اضطراب، دباؤ، خوف اور ٹراما وغیرہ، جبکہ اس کی وجہ زندگی گزارنے کا انداز بھی بتائی جاتی ہے۔
ڈراؤنے خواب کیوں آتے ہیں؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ عام طور پر ایسے خواب دباؤ اور اضطراب کی وجہ سے آتے ہیں۔ جب دماغ میں کثرت سے منفی خیالات اور تفکرات موجود ہوں تو وہ نیند کے معیار کو متاثر کرتے ہیں اور معاملہ ڈراؤنے خوابوں کی طرف چلا جاتا ہے۔
اسی طرح اعصابی دباؤ جسم میں کورٹیسول اور اینڈرینالائن جیسے ہارمونز بڑھنے کا باعث بنتا ہے اور یہ صورت حال ڈراؤنے خوابوں کی وجہ بن سکتی ہے۔
کوئی سخت صدمہ
وہ لوگ جو کسی شدید صدمے گزرے ہوں ان کو بھی خوفناک خواب زیادہ دکھائی دیتے ہیں۔ صدمے کی کیفیت دماغ کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے جس پر عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوتا ہے اور اکثر اوقات یہ صورت حال گزری تلخ یادوں کے ساتھ مل کر خوفناک خواب بن جایا کرتی ہے۔
علاج کیا ہے؟
ماہرین کہتے ہیں کہ اعصابی دباؤ کو کم کرنے اور فشار خون کو معمول پر رکھنے والی ادویات لینے سے ایسے خوابوں سے بچا جا سکتا ہے۔ یہ ادویات دماغ میں موجود نیورو ٹرانسمیٹرز کو بہتر کر سکتی ہیں جن کا نیند اور خوابوں سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔
کم خوابی، درست نیند نہ آنا اور اپینیا
ڈراؤن خوابوں کی ایک کم خوابی اور معمول کے مطابق نیند نہ آنا بھی بتائی جاتی ہے۔ کم خوابی کے شکار افراد جب سو جاتے ہیں تو ان کو ڈراؤنے خواب آنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
اسی طرح سلیپ ایپینیا یعنی سوتے ہوئے سانس کا رکنا بھی اس کی ایک وجہ ہے کیونکہ اس کے باعث کاربن ڈائی آکسائیڈ کا لیول بڑھ جاتا ہے اور بات ڈراؤنے خواب کی طرف چلی جاتی ہے۔نشہ آور اشیا کا استعمال
الکوحل، نشہ آور اشیا اور نیند آور گولیاں کھانے سے بھی برے خواب دکھائی دے سکتے ہیں کیونکہ ان کی وجہ سے دماغ کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔
نیند کا معمول بار بار بدلنا
اگر نیند ایک وقت پر لی جائے تو بھی برے خواب آ سکتے ہیں جو لوگ مختلف شفٹوں میں کام کرتے ہیں اور کبھی دن، کبھی شام اور کبھی رات کے آخری پہر میں جا کر سوتے ہیں ان کو ڈراؤنے خواب آنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
خراب ماحول
اس میں اس مقام کا بھی بہت عمل دخل ہوتا ہے جہاں ایک انسان سوتا ہے۔ اگر بستر آرام دہ نہیں، جس جگہ پر سویا جا رہا ہے اس کے اردگرد شدید شور ہو رہا ہے۔ بہت شدید گرمی یا سردی ہو تو بھی ڈراؤنے خواب دکھائی دیتے ہیں۔
کم نیند لیناضرورت سے کم نیند لینے والے بھی ڈراؤنے خوابوں کی گرفت میں آتے ہیں اس سے دماغ کی وہ صلاحیت متاثر ہوتی ہے جو عام خوابوں کی وجہ ہوتی ہے اسی طرح کم نیند کے ساتھ جب دیگر دباؤ بھی شامل ہوتے ہیں تو برے خواب آتے ہیں۔
خوراک اور مشروبات
خوراک اور مشروبات کا نامناسب استعمال بھی آپ کو رات کے وقت ڈرانے کا باعث بن سکتا ہے۔ اگر سونے سے چند لمحے قبل بہت زیادہ کھانا کھا لیا جائے تو ہاضمے کے مسائل ہو سکتے ہیں جو ڈراؤنے خوابوں کی صورت میں بھی ظاہر ہو سکتے ہیں۔
طبی مسائل
طبی مسائل جیسے مرگی، پارکنسز اور الزائمر وغیرہ بھی اس کی وجہ ہو سکتے ہیں کیونکہ ان کی وجہ سے دماغ کی صلاحیت اور نیند کے معاملات متاثر ہو سکتے ہیں۔کیسے بچا جائے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مناسب نیند لی جائے، اعصابی دباؤ اور اضطراب کو قابو میں رکھا جائے۔ کیفین پر مشتمل اشیا کے استعمال کو حدود میں رکھا جائے، سونے سے قبل زیادہ کھانے سے گریز کیا جائے اور آرام دہ حالات اور مقام پر سویا جائے تو ڈراؤنے خوابوں سے بچا جا سکتا ہے۔












پاکستان کا رس نچوڑ یں گے ٹرمپ ! IMF نے دئے 11,032 کروڑ روپے ، کیا ، اسی سے بریانی کی قیمت چکائیں گے عاصم منیر؟
: فیلڈ مارشل کا خطاب حاصل کرنے کے بعد پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر نے امریکہ کا دورہ کیا۔ وہاں انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی اور بریانی اور دیگر پکو ان کے لطف اٹھائے ۔ لیکن اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان اس کی قیمت چکائے۔ بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر پاکستان کی فعالیت کوئی اجنبی نہیں لیکن اس بار اس کے ایک فیصلے نے ملکی سیاست سے لے کر عالمی اقتصادی حلقوں تک سوالات اٹھا دیے ہیں۔

پاکستان کا “بورڈ آف پیس” میں شامل ہونے کا اعلان، ابتدائی طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کے لیے شروع کیا تھا، ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اس کی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے اور ملک بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کی امداد پر منحصر ہے۔ اس کے ساتھ ہی، آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے 1.2 بلین ڈالر (ہندوستانی کرنسی میں 11,032 کروڑ روپے) کی نئی قسط کی منظوری دے دی ہے۔ اس نے اس بحث کو مزید ہوا دی ہے کہ آیا یہ فنڈز بالواسطہ طور پر کسی مہنگے جیو پولیٹیکل پروجیکٹ، خاص طور پر ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کو جا رہے ہیں۔پاکستان کی شہباز شریف حکومت نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا ہے کہ آیا وہ بورڈ آف پیس کے تحت کوئی بڑے مالیاتی وعدے کرے گی، لیکن ٹرمپ کے اقدام کی ایک اہم شق (پہلے سال میں 1 بلین ڈالر فراہم کرنے پر مستقل رکنیت) نے ملک کے اندر تشویش پیدا کر دی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا معاشی بحران سے نبرد آزما پاکستان اس طرح کے اخراجات برداشت کر سکتا ہے اور اگر ایسا کرتا ہے تو کیا یہ آئی ایم ایف کی مدد سے ممکن ہو سکے گا۔ “بورڈ آف پیس” ایک بین الاقوامی پلیٹ فارم ہے جسے صدر ٹرمپ نے ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم (WEF) میں متعارف کرایا تھا، جس کا بیان کردہ مقصد تنازعات والے علاقوں میں امن کی تعمیر، تعمیر نو کو فروغ دینا اور حکمرانی کو مضبوط کرنا ہے۔ اس کی موجودہ ترجیح غزہ جیسے تنازعات والے علاقوں پر مرکوز ہے۔ ٹرمپ بورڈ کے چیئرمین ہیں اور رکنیت اور رہنما اصولوں پر حتمی اختیار رکھتے ہیں۔

بورڈ آف پیس میں کون ۔ کون ہے شامل ؟
بورڈ آف پیس کی نمایاں شخصیات میں سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، ٹرمپ کے داماد اور مشیر جیرڈ کشنر اور ان کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹ کوف شامل ہیں۔ اب تک دو درجن سے زائد ممالک نے شرکت پر رضامندی ظاہر کی ہے جن میں اسرائیل، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکی، مصر، مراکش، انڈونیشیا اور پاکستان شامل ہیں۔ غور طلب ہے کہ امریکہ کے علاوہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا کوئی بھی مستقل رکن اس میں شامل نہیں ہوا۔ کینیڈا، فرانس اور برطانیہ جیسے ممالک نے خود کو فورم سے الگ کر لیا ہے، جبکہ دیگر نے بے چینی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام اقوام متحدہ کے کثیرالجہتی امن کے نظام کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

1 بلین ڈالر کی شق اور پاکستان کے تحفظات
بورڈ کے مسودہ چارٹر میں ایک اہم شق شامل ہے: رکن ممالک کی تقرری تین سال کی مدت کے لیے کی جائے گی، لیکن اگر کوئی ملک پہلے سال میں 1 بلین ڈالر کی نقد رقم دیتا ہے، تو اس کی رکنیت عملی طور پر مستقل ہو سکتی ہے۔ یہ رقم تنازعات کے علاقوں بالخصوص غزہ کی تعمیر نو کے لیے مختص کی گئی ہے۔ یہ شق پاکستان کے اندر بحث کا ایک بڑا مرکز بن گئی ہے۔ اگرچہ اسلام آباد نے باضابطہ طور پر یہ نہیں کہا ہے کہ وہ اس رقم میں حصہ ڈالے گا، لیکن معاشی بحران کے دور میں ایسی شق کا ہونا بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جب حکومت گھریلو اخراجات، سبسڈی، تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال کے لیے وسائل جمع کرنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے تو ایک بین الاقوامی فورم پر اربوں ڈالر دینے سے عام شہریوں میں عدم اطمینان پیدا ہو سکتا ہے۔

آئی ایم ایف نے حال ہی میں پاکستان کے لیے 1.2 بلین ڈالر کی نئی قسط کی منظوری دی، جس میں توسیعی فنڈ سہولت (EFF) کے تحت 1 بلین ڈالر اور لچک اور پائیداری کی سہولت (RSF) کے تحت 200 ملین ڈالر شامل ہیں۔ یہ کل 3.3 بلین ڈالر کے پیکیج کا حصہ ہے جس کا مقصد ملک کی گرتی ہوئی معیشت کو مستحکم کرنا ہے۔

پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کا 7.35 بلین ڈالر سے زائد کا مقروض ہے اور 1950 کی دہائی سے اب تک تقریباً دو درجن مرتبہ آئی ایم ایف کی امداد حاصل کر چکا ہے۔ یہ 2023 میں ڈیفالٹ ہونے کے بہت قریب تھا اور اسے پچھلے سال 7 بلین ڈالر کا بیل آؤٹ پیکج ملا تھا۔ اس نے مارچ میں 1.3 بلین ڈالر کا نیا موسمیاتی لچکدار قرض بھی حاصل کیا۔

ملک معاشی طور پر ICU میں ہے
ان متعدد ریلیف پیکجز کے باوجود پاکستان کی معاشی صورتحال بدستور تشویش ناک ہے۔ اس کا بیرونی قرضہ ستمبر 2025 تک 134 بلین ڈالر تک پہنچ گیا تھا، جب کہ جون 2025 تک کل سرکاری قرضہ تقریباً 286.8 بلین ڈالر تھا، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 13 فیصد زیادہ ہے۔ قرض سے جی ڈی پی کا تناسب 70 فیصد کے قریب ہے۔ اسلام آباد نے دوست ممالک سے قرضوں کی تنظیم نو کا بھی مطالبہ کیا ہے، جس میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے شرح سود کو کم کرنے اور 2.5 بلین ڈالر کی سہولت کی مدت میں توسیع کی درخواست بھی شامل ہے۔ اس سے ملک کی مالی صورتحال واضح طور پر ظاہر ہوتی ہے۔








*🔴سیف نیوز بلاگر*




ایک شام بزرگ شعراء کے نام

بیاد جناب مرحوم ادیب حضرت مالیگانوی صاحب

صدارت : جناب سلیم شہزاد صاحب

دعائیہ کلمات : جناب مولانا عمرین محفوظ رحمانی صاحب

شمع فروزی: جناب محمد رمضان فیمس صاحب، پروفیسر عبد المجید صدیقی صاحب، جناب عبد الرشید آرٹسٹ صاحب

نظامت : جناب غلام مصطفی اثر صدیقی صاحب قرآت : جناب قاری زبیر عثمانی صاحب

نعت پاک: جناب واحد انصاری صاحب جناب خالد انور صاحب اظہار خیال : جناب خیال انصاری صاحب

صاحبان اعزاز شعراء کرام

جناب ڈاکٹر اشفاق انجم صاحب + جناب انيس نئير صاحب

جناب ظہیر قدسی صاحب

جناب قطب الدین ربی صاحب

جناب مختار یوسفى صاحب

جناب اقبال نذیر صاحب

جناب احمد شناور صاحب

جناب پروفیسر سلیم قیصر صاحب

جناب ڈاکٹر نعيم اختر صاحب

جناب متین شہزاد صاحب

جناب عادل فاروقی صاحب

جناب اعظم علی ممنون صاحب

جناب نجمی ابن جاوید صاحب

جناب ادریس وارثی صاحب





 سات فروری بروز سینچر ٹھیک بعد نماز عشاء

زیر اہتمام سيف نيوز اردو

بمقام

اسکس بال اے ٹی ٹی ہائی اسکول، مالیگاؤں
۔مہمانان خصوصی جناب ڈاکٹر سعید احمد فیضی صاحب

، جناب انعام الرحمن سر

. جناب امین فیضی صاحب

جناب عبد العزیز مقادم صاحب

جناب محمد رضا صاحب

جناب فیروز اعظمی صاحب

جناب سرفراز مہدی حسن صاحب

. جناب غفران گے اسٹار صاحب

. جناب مختار قریشی صاحب

. جناب جمیل کرانتی صاحب

. جناب پینٹر جمیل انصاری صاحب

. جناب سراج دلار صاحب

، جناب بارون سراج صاحب ( کارواں )

. جناب سعید پرویز صاحب 

جناب ڈاکٹر عبدالمجید انصاری صاحب کلر

. جناب شیداء میرٹھی صاحب

جناب شکیل صادق صاحب

. جناب احتشام دانش صاحب

 جناب عارف سر (منصورہ)

. جناب ڈاکٹر عقیل شاہ صاحب

. جناب اقبال برکی صاحب

. جناب عمران چوپڑہ صاحب

. جناب پروفیسر رضوان خان سر

جناب عتیق شعبان صاحب

. جناب محمد فاروق سلیمان صاحب

. جناب ڈاکٹر آصف سلیم صاحب

جناب محمد رمضان مکی صاحب

جناب مولانا مسعود اشرف صاحب

. جناب الطاف امین صاحب نوبل 

جناب لئیق انور سر

. جنابشفیق سر صاحب ایم ایس ای

جناب مرزا یوسف بیگ صاحب

. جناب احمد ایوبی صاحب

جناب ڈاکٹر ریاض احمد شامنامه .

. جناب جاوید آفاق صاحب

. جناب ریاض احمد گلش لنگی

. احتشام انصاری صاحب سینئر صحافی ،

. جناب محمد ہارون سر الہدی

. جناب شیخ عتیق سر جناب ظہور اتحاد صاحب

جناب قمر الدین شیخ سابق کار پوریشن آفیسر

. جناب خلیل فریدی صاحب

. جناب اشفاق عمر سر

جناب شاہد رمضان فیمس صاحب .

. جناب انیس لعل خان سر

. جناب رفیق مومن صاحب

جناب عثمان غنی اسکس صاحب

. جناب آصف سبحانی صاحب

. جناب مسعود رمضان پینٹر صاحب

جناب جاوید انصاری صاحب ( آکاش وانی)

. جناب محمد اکرام صاحب

. جناب ظہیر اعجاز صاحب

. جناب مومن آصف بارون بی اے صاحب،

. جناب احسان الرحیم صاحب 

. جناب ڈاکٹر شفیق جمیل حسن صاحب،

جناب ڈاکٹر نخشب مسعود صاحب

. جناب شمش الضحی اسرائیل صاحب

بصد خلوص اشتراک مہمان ادارے

اسكس لائبريرى ٹرست زنده دلان مالیگاوں شعور سراۓ انجمن محبان اردو كتب بك استال يونين اردو لائبریری ٹرسٹ مالیگاؤں كلب مالیگاوں آرٹس اینڈ کلچرل ایسوسی ایشن اداره نثری ادب انجمن محبان ادب اداراک فاونڈیشن ، پرواز ادب بزم خلوص دا وائس آف اردو ارتقاۓادب ستاره ادب انجمن یاران سخن بزم دوستان شعراء مالیگاوں گروپ مومن كانفرس ادبى كتبه كافى باوس نعيم صديقی فرینڈ سرکل، مسنگ فرینڈس گروپ سٹی کالج، ربانی خطاطی مرکز گریٹ انڈیا تھیٹر اکیڈمى گيتا ، سلور انڈیا تھیٹر اكیڈمى سيتا. ہمارا مالیگاوں وہاٹس ایپ گروپ ارباب قلم بزم محور ادب ابو العلاييه نعت و منقبت عاصی گروپ بزم دوستان متین شهزاد سركل مالیگاؤں اردو میڈیا سینٹر مالیگاوں اليكرانك میڈیا مالیگاوں مالی ووڈ گروپ ناسك ضلع اردو پتر کار سنگه مانو فاونڈیشن رفیق سرور گروپ انڈین افسانه ٹرسٹ انٹرنیشنل افسانچه فورم ، فيمس ميوزك كلب، كوه نور ميوزك اکیڈمی، موت ڈاٹ کام مالیگاوں و دیگر سماجی ادبی تنظیمیں

Tuesday, 27 January 2026

*🔴سیف نیوز بلاگر*



’جسم پر بوجھ، آواز نہیں نکلتی‘، سلیپ پیرالیسز آسیب ہے یا طبی عارضہ؟
ابھی کمرے کے باہر سب جاگ رہے تھے، ٹی وی کی آواز آ رہی تھی کہ نیند کھل گئی مگر آنکھ نہیں، کوشش بھی رائیگاں، دل گھبرایا تو آواز لگانے کی کوشش کی جو گلے میں ہی دب گئی۔ بستر سے چھلانگ لگانے کا ارادہ کسی بڑے بوجھ تلے دب گیا۔ سانس تیز ہو گیا۔ ایسا لگا آخری وقت آ گیا ہے اور جسم ڈھیلا چھوڑ دیا۔
تھوڑی دیر بعد ایک انگلی ہلائی تو ہل گئی، پھر بھاگا نانی کے پاس اور انہیں سارا واقعہ سنایا۔ اس کے جواب میں جو انہوں نے بتایا وہ اس کیفیت سے بھی زیادہ خوفناک تھا۔
یہ واقعہ تب کا ہے جب میں آٹھ سال کا تھا۔
بہرحال نانی کے مطابق ’یہ ایک آسیب ہے جو کبھی کبھی سیدھے سوئے انسان پر آ جاتا ہے، مگر اس کے انگوٹھے نہیں ہوتے۔ اس لیے وہ انسان کا گلا نہیں دبا پاتا، اگر اس کے انگوٹھے تو دنیا میں کوئی نہ بچ پاتا۔‘اس کے بعد سوتے وقت اس آسیب کے آنے کا خوف تب تک رہا جب تک یہ علم نہیں ہو گیا کہ اصل میں یہ کیفیت ہے کیا، اس کی وجہ کیا ہے اور کوئی علاج ہے یا نہیں؟
اگر آپ کے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے تو اسے پورا پڑھیے پریشانی دور ہو جائے گی۔
اس کو اردو میں کابوس، پشتو میں خاپسہ اور انگریزی میں سلیپ پیرالیسز کہتے ہیں اسی طرح علاقائی سطح پر اس کے دیگر نام بھی ہیں۔
ہیلتھ ہاروڈ ایجوکیشن اور نیشنل لائبریری آف میڈیسن سمیت کئی دیگر معیاری ویب سائٹس پر اس کے بارے میں کافی معلومات موجود ہیں۔
کیا یہ واقعی آسیب ہے؟
ان ویب سائٹس کے مطابق اس کا سیدھا جواب ہے نہیں بلکہ یہ ایک طبی کیفیت ہے، اس سے بچنے کے طریقے بھی ہیں اور اس کے لیے ماہرین کچھ ادویات بھی تجویز کرتے ہیں۔
اس کی وجہ کیا ہوتی ہے؟
ویب سائٹس کے مطابق جب انسان سوتا ہے تو کچھ دیر بعد دماغ کے خلیے بھی سستانے لگتے ہیں اگرچہ اس کے کچھ خلیے متحرک ہوتے ہیں اور خواب وغیرہ بھی انہی کی وجہ سے آتے ہیں، اسی طرح جب انسان بیدار ہوتا ہے تو دماغ بھی ذرا دھیرے سے بیدار ہو جاتا ہے۔بہرحال انسان خود کو کابوس کے بوجھ تلے اس وقت محسوس کرتا ہے جب دماغ بیداری کی طرف آ رہا ہو اور ایسا وقت بھی آ سکتا ہے جب دماغ جاگ جائے اور جسم سو رہا ہو، یہی وہ کیفیت ہوتی ہے جب ذہنی طور پر تو انسان جاگ جاتا ہے اور اس کو پنکھے یا کسی دوسری چیز کی آوازیں بھی سنائی دینے لگتی ہیں اور وہ یہی سمجھتا ہے کہ وہ پوری طرح بیدار ہو چکا ہے تاہم چونکہ جسم سو رہا ہوتا ہے اس لیے وہ آنکھیں کھول پاتا ہے نہ ہاتھ پاؤں کو حرکت جبکہ منہ سے آواز بھی نہیں نکلتی۔
یہ کب اور کیوں ہوتا ہے؟
چونکہ اس کا تعلق نیند سے ہے اس لیے یہ تو طے ہے کہ سونے کے بعد ہی ہو گا تاہم یہ جاگنے پر بھی ہوتا ہے جبکہ ان دونوں کیفیات کے دوران بھی اس کے اثرات ظاہر ہو سکتے ہیں، جہاں تک اس کی وجوہات کی بات ہے تو اس بارے میں کہا جاتا ہے کہ زیادہ وقت تک مناسب نیند نہ لیے جانے کی صورت میں جب انسان گہری نیند میں جاتا ہے تو اس کے امکانات ہوتے ہیں۔
نارکولیپسی کے علاوہ بھی چند چیزیں ایسی ہیں جو اس کی وجہ بنتی ہیں جن میں نشہ آور اشیا کا استعمال، بالی پولر ڈس آرڈر یا کوئی شدید پریشانی بھی شامل ہے جبکہ یہ موروثی بھی ہو سکتا ہے۔
اس سوال کہ یہ کس عمر کے افراد کو زیادہ ہوتا ہے، کے جواب میں ماہرین کہتے ہیں کہ یہ کسی بھی عمر میں کسی کو بھی ہو سکتا ہے اس میں جنس کی بھی کوئی قید نہیں ہے، تاہم نوعمری میں جن کو کابوس سے پالا پڑتا ہے عمر بڑھنے کے ساتھ اس کا سلسلہ بھی تیز ہو سکتا ہے۔
سلیپ پیرالیسز کی قسمیں
ماہرین اس کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں جن میں پہلے کو آئسولیٹڈ سلیپ پیرالیسز کہا جاتا ہے اور دوسرے کو ری کرنٹ سلیپ پیرالیسز ، پہلی قسم میں انسان نیند کے دوران صرف اپنے اوپر بوجھ محسوس کرتا ہے اور اس کا نارکولپیسی کے دیگر مسائل سے تعلق نہیں ہوتا، نارکولیپسی نیند سے جڑا ایک عارضہ ہے جس میں انسان کو بہت نیند آتی ہے اور کہیں بیٹھتے یا لیٹتے ہی سو جاتا ہے۔ری کرنٹ پیرالیسز کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ کیفیت پہلی کی نسبت قدرے پیچیدہ ہوتی ہے اور اس میں نارکولیپسی کے دیگر عوامل بھی شامل ہوتے ہیں۔
یہ کتنی دیر تک جاری رہ سکتا ہے؟
یہ کفیت چند سیکنڈز یا ایک منٹ تک جاری رہ سکتی ہے جو کہ خود بخود ہی ختم ہو جاتی ہے یا پھر اس وقت ختم ہوتی ہے جب کوئی اور آپ کو تیز آواز دے یا چھوئے جبکہ زیادہ زور لگا کر حرکت کرنے کی کوشش بھی اس کو ختم کر دیتی ہے۔
یہ کسی بھی شخص کے ساتھ زندگی میں ایک بار یا چند بار ہو سکتا ہے جبکہ کچھ لوگوں کو مسلسل بھی ہوتا رہتا ہے۔
اس دوران کیا محسوس ہوتا ہے؟
انسان کو ایک پیچیدہ اور تصوراتی صورت حال کا سامنا ہوتا ہے، اس کیفیت کو ماہرین تین حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔
  ایسا لگتا ہے کہ جیسے کوئی کمرے میں موجود ہے اور بستر میں بھی گھسے جا رہا ہے، سینے پر بہت زیادہ بوجھ محسوس ہوتا ہے اور گھٹن کا احساس بھی ہوتا ہے جبکہ اڑنے کا احساس بھی ہو سکتا ہے۔
اس کی وجہ سے موت واقع ہو سکتی ہے؟
یہ خوفناک ہوتا ہے لیکن کچھ لوگوں کے لیے بہت زیادہ خوفناک اور دباؤ کا باعث بھی بن سکتا ہے تاہم اس میں کوئی ایسی چیز شامل نہیں جو صحت پر بہت زیادہ اثر ڈالے اس لیے اس کو کسی سنجیدہ طبی خطرے کے طور پر نہیں دیکھا جاتا اور اس سے موت واقع ہو جانے کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا ہے۔اس حالت میں کیا کرنا چاہیے؟
ماہرین کہتے ہیں کہ اس صورت حال میں گھبرانا قطعاً نہیں چاہیے کیونکہ یہ ایسی کیفیت ہوتی ہے کہ اس میں انسان کچھ نہیں کر سکتا تاہم اگر وہ اس کو اپنے اوپر بہت زیادہ سوار کر لے تو اسے نفسیاتی مسائل لاحق ہو سکتے ہیں۔
کیا اس کا کوئی علاج ہے؟
تجویز کیا جاتا ہے کہ اگر یہ کیفیت زیادہ ہو رہی ہے تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے جو آپ کی نیند، صحت اور دوسری چیزوں کا جائزہ لے کر ادویات تجویز کر سکتا ہے اور اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
بچنے کا کوئی راستہ ہے؟
اس کے لیے ماہرین بتاتے ہیں کہ مناسب نیند لی جائے کیونکہ لمبی بے خوابی کے بعد سونے کی صورت میں اس کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
اس کے لیے مناسب نیند لینے کے طریقوں کے استعمال کا مشورہ بھی دیا جاتا ہے۔
سات سے نو گھنٹے کی نیند لی جائے، سونے اور جاگنے کے لیے مناسب شیڈول بنایا جائے اور چھٹی کے روز بھی اس پر عمل کیا جائے۔سونے کے لیے آرام دہ ماحول بنائیں، اپنی خواب گاہ کو موسم کی مناسبت سے ایڈجسٹ کریں، اسے شور سے بچائیں اور سوتے وقت اندھیرا کریں۔
اپنے جسم کے حساب سے میٹریس اور تکیے استعمال کریں، ایسا تکیہ لیں جو آپ کے سر اور گردن کو سیدھ میں رکھے۔
سونے سے قبل الیکٹرانکس اشیا کا زیادہ استعمال نہ کریں، سونے سے قبل شاور لیں، کوئی کتاب پڑھیں یا اچھا میوزک سنیں۔
اگر آپ زیادہ پیٹھ کے بل سوتے ہیں تو ماہرین اس کو بدلنے کا مشورہ بھی دیتے ہیں کیونکہ اس طرح سونے کا سلیپ پیرالیسز سے کسی حد تک تعلق پایا جاتا ہے۔
زندگی میں تناؤ کم اور نشہ آور اشیا سے پرہیز کریں، اپنے جسم میں نیکوٹین اور کیفین کی مقدار کو کم کریں اگر انہیں مکمل طور پر نہیں چھوڑ سکتے تو دوپہر دو بجے کے بعد ایسی اشیا کا استعمال نہ کریں جن میں یہ پائی جاتی ہوں۔














 ’’آسام میں مخصوص برادری کو نشانہ بنا رہی ہے حکومت…‘‘، کانگریس لیڈر رقیب الدین احمد کا بی جے پی پر بڑا الزام
گوہاٹی: کانگریس کے رکنِ اسمبلی رقیب الدین احمد نے منگل کے روز بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ برسرِ اقتدار جماعت آسام میں میاں مسلم برادری کو نشانہ بنا کر تقسیم کرنے والی سیاست کو فروغ دے رہی ہے۔ بوکو–چایگاؤں سب ڈویژنل کمشنر کے دفتر میں ووٹر فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں پر سنگین اعتراض درج کراتے ہوئے رقیب الدین احمد نے اسے جمہوری نظام کے لیے خطرناک قرار دیا۔

میڈیا سے گفتگو کے دوران انہوں نے اس سیاسی بیان بازی پر تنقید کی، جسے انہوں نے میاں مسلم برادری کو الگ تھلگ کرنے کے مقصد سے چلایا جا رہا ایک منظم مہم بتایا۔ انہوں نے کہا کہ آسام میں مختلف نسلی، مذہبی اور لسانی برادریوں کے درمیان پرامن بقائے باہمی (Coexistence) کی ایک طویل روایت رہی ہے اور کسی ایک برادری کو نشانہ بنانے کی کوششیں ریاست کے سماجی ہم آہنگی کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

زبان کو قومیت سے جوڑنے کے رجحان کی بھی مخالفت

کانگریس کے اس رکنِ اسمبلی نے زبان کو قومیت سے جوڑنے کے رجحان کی بھی مخالفت کی اور بنگالی زبان بولنے والوں کو بنگلہ دیشی قرار دینے کے دعوؤں کو سراسر بے بنیاد بتایا۔ انہوں نے کہا کہ تریپورہ، مغربی بنگال اور آسام کے کئی حصوں، جن میں ہوجائی بھی شامل ہے، میں بنگالی زبان بولی جاتی ہے، اور صرف زبان کی بنیاد پر کسی فرد کو باہر والا یا غیر ملکی کہنا نہ تو درست ہے اور نہ ہی آئینی اقدار کے مطابق ہے۔

انتخابی فائدے کے لیے سماج کو تقسیم کرنے کا لگایا الزام

رقیب الدین احمد نے الزام لگایا کہ بی جے پی انتخابی فائدے کے لیے جان بوجھ کر ذات، مذہب اور برادری کی بنیاد پر سماج کو تقسیم کرنے کی سیاست کر رہی ہے، جبکہ کانگریس نے کبھی اس طرح کی حکمتِ عملی اختیار نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ بائیکاٹ اور شبہات پر مبنی سیاست نہ صرف جمہوری اقدار بلکہ سماجی اتحاد کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔

سب ڈویژنل کمشنر کے دفتر میں پیش آئے واقعے کا حوالہ

انہوں نے 22 جنوری کی رات کو بوکو–چایگاؤں سب ڈویژنل کمشنر کے دفتر میں پیش آئے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کچھ لیڈر ووٹر فہرستوں میں نام شامل کرنے اور حذف کرنے کی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ احمد نے اس واقعے کو جمہوری اصولوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے انتخابی شفافیت پر گہرے سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔

ووٹوں میں ہیرا پھیری کے لگائے گئے الزامات کی تصدیق

کانگریس کے رکنِ اسمبلی نے اس معاملے کو وسیع تناظر میں رکھتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ سینئر کانگریس لیڈر راہل گاندھی کی جانب سے پہلے لگائے گئے ووٹوں میں ہیرا پھیری کے الزامات کی تصدیق کرتا ہے۔ ان کے مطابق اس طرح کے واقعات انتخابی عمل پر عوامی اعتماد کو کمزور کر سکتے ہیں، جو کسی بھی جمہوریت کے لیے تشویشناک ہے۔

کانگریس نے معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ کا کیا مطالبہ

رقیب الدین احمد نے بتایا کہ کانگریس نے اس پورے معاملے کی جامع اور غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ کرتے ہوئے بھارتی الیکشن کمیشن سے رجوع کیا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پارٹی اس مسئلے کو مسلسل اٹھاتی رہے گی اور انتخابات کو غیر منصفانہ یا غیر قانونی طریقوں سے متاثر کرنے کی کسی بھی کوشش کے خلاف خاموش نہیں بیٹھے گی۔














موسلا دھار بارش سے کپکپائی دہلی! یکم فروری کو پھر بدلے گا موسم، آئی ایم ڈی نے جاری کیا الرٹ
نئی دہلی: گزشتہ روز دہلی-این سی آر میں تیز آندھی اور طوفان کے ساتھ ہونے والی زوردار بارش کے بعد درجۂ حرارت میں نمایاں کمی درج کی گئی ہے۔ بھارت کے محکمۂ موسمیات (آئی ایم ڈی) کی جانب سے دو دن قبل جاری کیا گیا یلو الرٹ پوری طرح درست ثابت ہوا۔ دن بھر آسمان پر بادل چھائے رہے اور درجۂ حرارت میں گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔ موسم میں اس تبدیلی کے باعث سردی اور کہر کا اثر بھی بڑھ گیا ہے، جبکہ محکمۂ موسمیات نے آئندہ مزید بارش کی وارننگ دی ہے۔

غازی آباد، نوئیڈا اور قریبی علاقوں میں تیز بارش کے ساتھ ہلکی اولہ باری بھی دیکھنے میں آئی۔ 27 جنوری کی صبح سے ہی موسم نے کروٹ لے لی اور پورا دن اندھیرا چھایا رہا۔ محکمۂ موسمیات کے مطابق 23 اور 27 جنوری کو ہونے والی شدید بارش کے بعد ایک بار پھر بارش کا امکان ہے، جس سے سردی میں مزید اضافہ ہوگا۔

آندھی اور طوفان کے ساتھ پھر ہوگی بارش
بھارت کے محکمۂ موسمیات نے بتایا ہے کہ دہلی-این سی آر میں ایک مرتبہ پھر آندھی اور طوفان کے ساتھ بارش ہونے کا امکان ہے۔ اس دوران 40 سے 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چل سکتی ہیں۔ تیز ہواؤں اور بارش کے باعث درجۂ حرارت میں مزید کمی آئے گی، جس سے سردی کی شدت بڑھ جائے گی۔ محکمۂ موسمیات نے پہلے ہی یلو الرٹ جاری کرتے ہوئے لوگوں کو محتاط رہنے کا مشورہ دیا ہے تاکہ کسی بھی قسم کی پریشانی سے بچا جا سکے۔

 یکم فروری کو پھر بدلے گا موسم کا مزاج
ماہرینِ موسمیات کے مطابق دہلی-این سی آر میں اگلی بار یکم فروری کو بارش ہوگی، جس کی شروعات تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ ہو سکتی ہے۔ بھارت کے محکمۂ موسمیات کے سینئر سائنسدان ڈاکٹر ششی کانت مشرا نے بتایا کہ یکم فروری کے لیے دہلی، نوئیڈا، غازی آباد، گروگرام اور فرید آباد سمیت پورے این سی آر میں یلو الرٹ جاری کیا گیا ہے۔

اس دن 30 سے 40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گرد آلود ہوائیں چلیں گی اور اچھی بارش متوقع ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بھی علاقے میں مناسب بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ 28 سے 31 جنوری کے درمیان کم از کم درجۂ حرارت میں ہلکا سا اضافہ ہو سکتا ہے۔ وہیں، یکم فروری سے ایک بار پھر موسم کروٹ لے گا اور سردی کا اثر برقرار رہے گا۔

*🔴سیف نیوز بلاگر*





مشرق وسطی میں منڈلا رہے ہیں جنگ کے بادل ، امریکہ اورایران کی جنگی مشقیں
مشرق وسطی میں جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں ۔ امریکہ کی جانب سے فوجی تعیناتی سے کشیدگی میں اضافہ ہورہا ہے۔امریکی جنگی بیڑے کے مشرق وسطی میں داخل ہونے کے بعد عسکری اور سفارتی سطح ہلچل بڑھ رہی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ،بحری بیڑے کے مشرق وسطی پہنچنے کے ایک دن بعد،امریکہ نے فوجی مشق کا اعلان کیا ہے۔

جنگی مشیق
امریکہ کے جواب میں ایران نے بھی ابنائے ہرمز میں فوجی مشق کا اعلان کیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق، ایران نے ابنائے ہرمز کے نزدیک فضائی حدود کو محدود کردیا ہے۔ایران نے نوٹیم جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ29 جنوری تک پانچ نوٹیکل میل کے رقبے میں مشق کیا جائیگا۔نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ 29 جنوری تک 25 ہزار فٹ سے نیچے پرواز نہ کی جائیں۔ادھر، امریکی فضائیہ کی طرف س بھی مشق کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ مشق نویں فضائیہ کی جانب سے کی جارہی ہے، جسے ایئر فورسیز سینٹرل (AFCENT) بھی کہا جاتا ہے۔ ایئرفورسز سینٹرل،امریکہ کی سینٹرل کمانڈ کا حصہ ہے جو کئی دنوں تک جاری رہے گا۔
ایئر فورسیز سینٹرل کی جانب جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ مشق اثاثہ جات اور عملے کو منتشر کرنے کی صلاحیت کو بڑھانے، علاقائی شراکت داری کو مضبوط بنانے اور پورے CENTCOM میں لچکدار ردعمل کی تیاری کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے۔

ایئر فورسیز سینٹرل کے مطابق، اس مشق کا استعمال اہلکاروں اور ہوائی جہازوں کی تیز رفتار نقل و حرکت کے طریقہ کار کی توثیق کرنے، ہنگامی مقامات پر منتشر آپریشن کرنے، اور کم سے کم اثرات کے ساتھ رسد کو برقرار رکھنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ یہ آپریشنز کے ایک بڑے علاقے میں مربوط، ملٹی نیشنل کمانڈ اور کنٹرول کی بھی جانچ کرے گا۔

ایران پرحملے کے خدشات کے بیچ ٹرمپ کا حالیہ بیانات اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ بحری بیڑے کی تعیناتی ایران پر دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی ہے۔ انھوں نے پہلے بھی اُمید ظاہر کی ہے کہ بحری بیڑے کے استعمال کی نوبت نہیں آنی چاہیے ۔

’امریکہ کا عمل خطے عدم استحکام لائے گا‘

اس بیچ، ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان سے فون پر بات کی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ،انھوں نے کہا کہ خطے میں امریکی فوج کی تعیناتی سے عدم استحکام کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔انھوں نے مظاہروں کے پس منظر میں امریکہ کی مداخلت کی دھمکیوں اوراقتصادی دباؤ کا حوالہ دیتے ہوئے کہ ان باتوں کا اثرایران کے عوام پرنہیں ہونے والاہے۔

ایرانی صدر کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب ایران کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے اور وہ ایران کے خلاف اپنی زمین اورف فضائی حدوداستعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔سعودی عرب نے مسئلے کو بات چیت کے ذریعہ حل کرنے کی بات بھی کہی ہے۔سعودی عرب کے موقف کی ایران نے ستائش کی ہے اور ساتھ ہی شکریہ بھی ادا کیا ہے۔ابنائے ہرمزاہم تجارتی چیک پوائنٹ

خیال رہے کہ امریکی بحری بیڑے میں ایئرکرافٹ کیریئر یو ایس ایس ابراہم لنکن اور گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز شامل ہیں۔ خیال رہے کہ،امریکہ نے ایران سے کاروبار جاری رکھنے والے ممالک پر25فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان بھی گزشتہ دنوں کیا تھا ۔مشرق وسطی میں امریکہ کے ان اقدامات کا مقصد ان ممالک پر نظر رکھنا بھی ہوگا جو ایران سے تیل درآمد کرتے ہیں۔

ایرانی میڈیا کے حوالے سے توانائی اور جہاز رانی کے اعداد و شمار کے مطابق، آبنائے ہرمز دنیا کے سب سے اہم چیک پوائنٹ میں ایک ہے۔اس آبی گزر گاہ سے روزانہ تقریباً 21 ملین بیرل تیل گزرتا ہے، جو سمندر کے راستےتیل کی تجارت کا تقریباً 37 فیصد ہے۔













جیل میں اندھے ہوسکتے ہیں عمران خان، ڈاکٹروں نے کھڑے کردئے ہاتھ، ’میڈیکل مرڈر‘ بنے گی یہ بیماری؟
اسلام آباد: پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو شہباز شریف اور عاصم منیر کے راج میں زمین پر ہی جہنم جیسی اذیت کا سامنا ہے۔ عدالتی احکامات کے باوجود انہیں اپنے اہلِ خانہ سے ملنے کے لیے ترسایا جا رہا ہے۔ انہیں دنیا سے کاٹنے کے لیے کال کوٹھری میں بند کر دیا گیا ہے۔ عمران کی بہنیں چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں کہ ان کی صحت مزید بگاڑنے کے لیے انہیں مسلسل ٹارچر کیا جا رہا ہے۔ حال ہی میں بہنوں کا یہ خدشہ درست ثابت ہوا ہے۔ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کی آنکھوں میں ایک سنگین بیماری لاحق ہو گئی ہے، جس کے باعث ان کی بینائی جانے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

عمران خان سے متعلق چونکا دینے والی رپورٹمیڈیکل ٹیم کی رپورٹ نے پاکستان میں ہلچل مچا دی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ عمران خان سنٹرل ریٹینل وین اوکلیوژن (CRVO) نامی ایک نہایت سنگین بیماری میں مبتلا ہیں۔ اس بیماری میں آنکھ کی ریٹینا کی رگوں میں خون کا لوتھڑا جم جاتا ہے یا رکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے۔ اگر فوری طور پر علاج فراہم نہ کیا گیا تو عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی ہمیشہ کے لیے جا سکتی ہے۔

راولپنڈی–اسلام آباد کے علاقے میں جاری شدید سردی کی لہر اور جیل کی خشک ٹھنڈ نے ان کی الرجی اور انفیکشن کو مزید خطرناک بنا دیا ہے۔

ڈاکٹروں کی وارننگ: ‘جیل میں علاج ممکن نہیں’
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (PIMS) کے ڈاکٹروں کے ایک وفد نے جیل میں عمران خان کا معائنہ کیا۔ ڈاکٹروں نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ’’عمران خان کو فوری طور پر کسی اسپیشلائزڈ اسپتال اور آپریشن تھیٹر کی ضرورت ہے۔ جیل کے اندر موجود سہولیات سے ان کی آنکھ کو بچانا ناممکن ہے۔‘‘

عمران خان کے ‘میڈیکل مرڈر’ کی سازش
عمران خان کی جماعت پی ٹی آئی اور ان کے حامیوں نے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ سوشل میڈیا پر یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ کیا جان بوجھ کر عمران خان کو علاج سے محروم رکھ کر انہیں جسمانی طور پر معذور بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے؟ ان کی بہنوں نے مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان کو فوری طور پر شوکت خانم اسپتال منتقل کیا جائے۔

31 جنوری کو کیا ہونے والا ہے؟
حکام نے تاحال اس حوالے سے کوئی بیان نہیں دیا، لیکن 31 جنوری 2026 کو ہونے والا اگلا میڈیکل ریویو پاکستان کی سیاست میں بڑا دھماکہ کر سکتا ہے۔ اگر عمران خان کی صحت مزید بگڑی تو پاکستان کی سڑکوں پر خانہ جنگی جیسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔55 دنوں سے دو طرح کا ٹارچر؟
عمران خان 2 دسمبر 2025 سے، یعنی گزشتہ تقریباً 55 دنوں سے، ’سولیٹری کنفائنمنٹ‘ یا یوں کہیے کال کوٹھری میں بند ہیں۔

ٹارچر کی انتہا یہ ہے کہ انہیں کسی بھی بیرونی شخص، حتیٰ کہ اپنے وکلاء اور بہنوں (علیمہ اور عظمیٰ خان) سے بھی ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔











پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس ، صدرجمہوریہ دروپدی مرموکرینگی مشترکہ اجلاس سے خطاب
پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کا آج(بدھ)سےآغاز ہورہا ہے۔صدرجمہوریہ دروپدی مرمو دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گی۔پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس دومرحلوں میں ہوگا ۔ 65دنوں پر مشتمل اس اجلاس کےدوران تیس نشستیں ہوں گی۔

پہلے مرحلے میں13 جبکہ دوسرے مرحلے میں 17نشستیں ہوں گی۔پہلا مرحلہ 28 جنوری سے13 فروری تک جبکہ دوسرا مرحلہ 9 مارچ سے2 اپریل تک ہوگا۔پہلے مرحلے بعد کے چار ہفتوں کی تعطیلات کے بعد دوسرا مرحلہ 9 مارچ سے شروع ہوگا۔

یکم فروری کوبجٹ کی پیشی
بجٹ یکم فروری کو پیش کیا جائیگا۔واضح رہے کہ بجٹ پہلی بار اتوار کے روز پیش کیا جائے گا۔ بہ حیثیت ِ وزیرخزانہ نرملا سیتا رمن نویں بار بجٹ پیش کریں گی۔یکم فروری اتوار ہے اور اتوار کوپہلی بار بجٹ پیش کیا جائیگا۔ بجٹ سے قبل، اقتصادی سروے پیش کیا جائیگا۔شکریہ کی تحریک پربحث
لوک سبھا کے مراسلے کے مطابق ، صدر جمہوریہ کے خطاب پرشکریے کی تحریک پربحث کے لیے عارضی طو رپر2 سے4 فروری تک تین دن مختص کیے گئے ہیں۔ بجٹ اجلاس کو عام طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، جس کے درمیان وقفہ ہوتا ہے تاکہ اسٹینڈنگ کمیٹیاں الگ الگ وزارتوں کی گرانٹس کے مطالبات کی جانچ کر سکیں۔دومرحلوں میں ہوگا بجٹ اجلاس

بجٹ اجلاس کا پہلا مرحلہ بنیادی طور پر مالیاتی کاروبار اور صدر کے خطاب پرشکریے کی تحریک پر بحث کے لیے وقف ہوتا ہے۔دوسرے مرحلے میں قانون سازی اوردیگر امور کے لیے وقف ہوتا ہے۔پارلیمنٹ کےبجٹ سیشن کےدوران کئی قوانین متعارف کرائے جائیں گے۔

*🔴سیف نیوز بلاگر*

آنکھوں میں اچانک سرخی آنے کی کیا وجوہات ہو سکتی ہیں؟ آنکھوں کو انسان کی شخصیت کا ہی نہیں بلکہ جسم کا بھی آئینہ کہ...